8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 8:62–63

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ آپ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کریں تو بیشک اللہ آپ کو کافی ہے، اللہ وہی ہے جس نے اپنی مدد کے ساتھ اور اہل ایمان کے ساتھ آپ کو قوت دی

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا فرمائی۔ اگر آپ سب کچھ خرچ کردیتے جو زمین میں ہے تب بھی آپ ان کے دلوں میں الفت پیدا نہیں کرسکتے تھے، اور لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت پیدا فرمائی، بیشک وہ غلبہ والا ہے

اللہ تعالیٰ کی مدد کا وعدہ : 1۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وان یریدوا ان یخدعوک “ (یعنی اگر وہ آپ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کریں) میں بنوقریظہ کا تذکرہ ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین (62) “ سے انصار مراد ہیں 3:۔ ابن مردویہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ ( یہ آیت) ” ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین (62) “ انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ 4:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین (62) “ سے ا نصار مراد ہیں۔ 5:۔ ابن عساکر نے ابورہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ عرش پر لکھا ہوا ہے۔ لا الہ الا انا وحدی لاشریک لی محمد عبدی ورسولی ایدتہ بعلی : ترجمہ : میرے علاوہ کوئی معبود نہیں میں اکیلا ہوں میرا کوئی شریک نہیں محمد ﷺ میرے بندے اور میرے رسول ہیں۔ میں نے ان کی علی ؓ کے ذریعہ مدد کی، لہذا یہ آیت (آیت) ” ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین (62) “ اسی کے متعلق ہے۔ 6:۔ ابن مبارک وابن ابی شیبہ وابن ابی الدنیا نے کتاب الاخوان میں والنسائی والبزار وابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والحاکم نے (اس کو صحیح کہا) وابن مردویہ نے والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبہم ولکن اللہ الف بینہم “ آپس میں محبت کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ 7:۔ ابوعبیدہ وابن منذر وابوالشیخ والبیہقی نے شعب الا ایمان میں اور الفاظ امام بیہقی کے ہیں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرابت کے رشتے توڑے جاتے ہیں اور منعم (یعنی اللہ تعالیٰ ) کے احسان کی ناشکری کی جاتی ہے اور ہم دلوں کے ایک دوسرے کے قریب ہونے کی مثال نہیں پاتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ” لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبہم ولکن اللہ الف بینہم “ اور یہ بات اس شعر میں موجود ہے شاعر نے کہا : اذا مت ذوالقربی الیک برحمہ فغشک واستغنی فلیس بذی رحم ترجمہ : جب وہ مرے گا تو ذوی القربی اپنے رشتے کے سبب تجھے ڈھانک لیں گے اور مستغنی ہوجائیں گے (گویا وہ رشتہ دار ہی نہیں ہیں) ولکن ذالقربی الذی ان دعوتہ اجاب ومن یرفی العدو والذی ترمی ترجمہ : لیکن قرابت داری ہے اگر تو اس کو بلائے تو وہ تیرے بلانے پر آجائے اور تیرے دشمن کے ساتھ دشمنی کرے۔ اور اسی میں سے ایک کہنے والے کا قول ہے : ولقد صحبت الناس ثم خیرنہم وبلوت ما وصدو من الاسباب ترجمہ : میں نے لوگوں کی معیت اختیار کی پھر ان کو آزمایا اور جن اسباب تک وہ پہنچے ان کی بھی آزمائش کی۔ فاذا القربۃ لاتقرب قاطعا واذا المودۃ اقرب الاسباب ترجمہ : پس قرابت کٹنے کے قریب نہیں ہوتی اور مودت و محبت تو قریب ترین اسباب میں سے ہے۔ امام بیہقی (رح) نے فرمایا میں نے اس روایت کو اس طرح ابن عباس ؓ کے قول سے متصل پایا ہے اور میں ان کے قول کو نہیں جانتا حالانکہ وہ شعر میں موجود ہے آپ کے قول سے یا آپ سے کسی راوی کی جانب سے۔ 8:۔ ابن مبارک وعبد الرزاق وابن ابی حاتم وابو الشیخ والحاکم والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے اور رشتہ داری کو توڑ دی جاتی ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب دلوں کے درمیان قربت کو پیدا فرما دیتے ہیں تو پھر اس کو کوئی چیز انکو ایک دوسرے سے دور نہیں کرسکتی پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ (آیت) ” لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبہم ولکن اللہ الف بینہم ‘۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب کوئی آدمی اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اس سے مصافحہ کرے تو ان کے درمیان گناہ ایسے گرجاتے ہیں جسے ہوا پتوں کو گرا دیتی ہے ایک آدمی نے کہا یہ تو آسان عمل ہے تو انہوں نے فرمایا تو نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ( آیت ) ” لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبہم ولکن اللہ الف بینہم ‘۔ 10:۔ ابوالشیخ نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ حضرت قتادہ (رح) نے میری طرف لکھا اگر زمانہ ہمارے درمیان تفریق کردے بلاشبہ اللہ کی محبت جو انہوں نے مسلمانوں میں ڈال دی وہ انتہائی قریب ہے۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ! آپ کو اللہ کافی ہے اور وہ مومن بندے جنہوں نے آپ کا اتباع کیا

1۔ بزار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب حضرت عمر ؓ نے اسلام قبول کیا تو مشرکین نے کہا آج قوم ہمارے آدھے تک پہنچ گئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین (64) “۔ 2:۔ طبرانی وابو الشیخ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب انتالیس مرد اور عورتیں نبی کریم ﷺ پر ایمان لے آئے پھر حضرت عمر ؓ ایمان لے آئے تو یہ لوگ چالیس ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین (64) “۔ 3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی کریم ﷺ کے ساتھ تینتیس مرد اور چھ عورتیں مسلمان ہوگئیں پھر نبی کریم ﷺ کے ساتھ حضرت عمر ؓ مسلمان ہوگئے تو ( یہ آیت ) ” یایھا النبی حسبک اللہ “ نازل ہوئی۔ 4:۔ ابو الشیخ نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ جب حضرت عمر اسلام لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام لانے کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ” یایھا النبی حسبک اللہ “۔ 5:۔ ابن اسحاق وابن ابی حاتم نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ ( یہ آیت ) ” یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین (64) “۔ انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ 6:۔ بخاری نے اپنی تاریخ میں وابن منذر وابن حاتم وابو الشیخ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین (64) “۔ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے وہ لوگ بھی آپ کے لئے کافی ہیں جنہوں نے آپ کی تابعداری کی۔ 7:۔ ابو محمد اسماعیل بن علی الخطبی نے اپنے اول تحدیث میں طارق کے راستہ سے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ میں چوالیسوان مسلمان ہوا تو (یہ آیت ) ” یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین (64) “ نازل ہوئی۔ 8:۔ مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ آپ کے لئے اللہ تعالیٰ اور ایمان والے کافی ہیں۔
Ayahs 8:65–67

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی آپ مومنین کو جہاد کی ترغیب دیجئے اگر تم میں سے بیس افراد ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب ہوجائیں گے اور اگر تم میں سے سوافراد ہوں گے تو ہزار کافروں پر غالب ہوجائیں گے۔ اس وجہ سے کہ یہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب اللہ تعالیٰ نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا اور اس نے جان لیا کہ بیشک تمہارے اندر کمزوری ہے۔ سو اگر تم میں سے ثابت قدم رہنے والے سوافراد ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے۔ اور تم میں سے ایک ہزار افراد ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب ہوں گے اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

نبی کی شان کے لائق نہیں کہ ان کے پاس قیدی موجود رہیں جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون ریزی نہ کرلے تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے۔ اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے

دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا : 1۔ البخاری وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں سفیان کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ” ان یکن منکم عشرون صبرون یغلبوا مائتین وان یکن منکم مائۃ یغلبوا الفا “۔ نازل ہوئی تو ان پر فرض کردیا گیا کہ ان میں سے کوئی ایک دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے اور بیس دو سو افراد کے مقابلہ سے نہ بھاگیں پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” الئن خفف اللہ عنکم “ تو یہ فرض کردیا گیا کہ سو آدمی دو سو کے مقابلہ میں سے نہ بھاگیں سفیان نے فرمایا اور ابن شبرعہ نے فرمایا کہ میں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اسی طرح دیکھا ہے اگر وہ دو آدمی تو ان دونوں کو حکم کرو اور اگر وہ تین ہیں تو ان کو چھوڑنے کی گنجائش ہے۔ 2:۔ بخاری نے اور نحاس نے اپنی ناسخ میں ابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” ان یکن منکم عشرون صبرون یغلبوا مائتین “۔ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بھاری ہوا جب ان پر فرض کیا گیا کہ ان میں سے ایک آدمی دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے تو تخفیف کا حکم نازل ہوا اور فرمایا (آیت) الئن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفا فان یکن منکم مائۃ صابرۃ یغلبوا مائتین “ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی تعداد میں تخفیف کردی تو صبر میں سے بھی کمی کردی گئی اس کے بعد جو ان سے تخفیف کی گئی۔ 3:۔ اسحاق بن راس نے اپنی مسند میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی نے الاوسط میں ابو الشیخ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر آدمی پر فرض کیا گیا کہ وہ دس سے لڑے تو یہ حکم ان پر انتہائی بھاری اور مشقت آمیز ثابت ہوا تو ان سے (یہ حکم) ہٹا دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ان میں سے ایک آدمی دو آدمیوں سے جنگ کرے تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت ) ” فان یکن منکم مائۃ صابرۃ یغلبوا مائتین “۔ آیات کے آخر تک۔ 4:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان پر فرض کردیا گیا کہ ہر آدمی دس سے لڑے تو یہ حکم ان پر بوجھل ہوا اور ان پر سخت گزرا تو ان سے یہ حکم ہٹا دیا گیا اور دوبارہ یہ حکم دیا گیا کہ ایک آدمی دو آدمیوں سے لڑے اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا (آیت ) ” فان یکن منکم مائۃ صابرۃ یغلبوا مائتین “۔ 5:۔ ابوالشیخ نے ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” یایھا النبی حرض المومنین علی القتال “۔ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بھاری گزرا اور انہوں نے اس حکم کو انتہائی عظیم اور مشکل جانا کہ بیس آدمی دو سو سے لڑیں اور ایک سو ہزار سے (پھر) اللہ تعالیٰ نے ان سے تخفیف فرما دی۔ اور (اس حکم کو) دوسری آیت سے منسوخ فرما دیا اور فرمایا (آیت) ” الئن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفا “۔ تو فرمایا اگر وہ اپنے دشمن سے آدھے ہیں تو ان کو ان سے نہیں بھاگنا چاہئے اور اگر وہ اس سے زیادہ ہیں تو ان سے لڑنا واجب نہیں اور ان کے لئے جائز ہے کہ ان سے اپنا بچاؤ کریں پھر اس کو قیدیوں کے بارے میں مال غنیمت لینے کے بارے میں عتاب فرمایا۔ اور اس سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی کے لئے دشمن سے حاصل ہونے والا مال غنیمت کو کھانا حلال نہیں تھا اور وہ اللہ کے لئے ہوتا تھا۔ 6:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ان یکن منکم عشرون صبرون “ کے بارے میں فرمایا کہ ان پر فرض کردیا گیا کہ کوئی آدمی دس آدمیوں کے مقابلہ سے نہ بھاگے اور کوئی جماعت اپنے دس گنا سے نہ بھاگے اس حکم سے لوگ تکلیف میں پڑگئے اور ان پر (یہ حکم) بھاری گزرا تو پھر یہ دوسری آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” الئن خفف اللہ عنکم “ کے لے کر ” الفین “ تک ان پر فرض کردیا گیا کہ کوئی آدمی دو آدمیوں کے مقابلہ سے نہ بھاگے اور کوئی اپنے سے دوگنا (کے مقابلے) سے نہ بھاگے اور صبر میں بھی کمی کردی گئی اس مقدار سے جتنی تعداد میں کمی کردی گئی۔ 7:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (اس آیت) ” ان یک منکم عشرون صبرون یغلبوا مائتین “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ بدر کا دن تھا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ لازم کردیا کہ ان میں سے ایک آدمی مشرکین میں سے دس سے قتال کرے تاکہ ان کی جڑ کٹ جائے جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی اور ان کی جڑ کاٹ دی تو اس کے بعد مسلمانوں پر (اس حکم کی) تخفیف کردی گئ۔ اور ( یہ آیت) نازل فرمائی ”(آیت) الئن خفف اللہ عنکم “ یعنی بدر کی لڑائی کے بعد (اللہ تعالیٰ تم پر حکم میں تخفیف کردی) 8:۔ ابوالشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ان یکن منکم عشرون صبرون یغلبوا مائتین “۔ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) بدروالوں کے بارے میں نازل ہوئی اور ان پر بہت بھاری اور دشوار ثابت ہوئی۔ اس کے بعد رخصت (کا حکم) نازل ہوا۔ 9:۔ ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا یہ حکم بدر کے دن محمد ﷺ کے اصحاب کے لئے تھا کہ ان میں سے ہر آدمی کو کفار میں سے دس آدمیوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا تو ان پر انہوں نے شورمچایا ان میں سے ہر ایک آدمی دو آدمیوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا یہ تخفیف ہوئی اللہ عزوجل کی طرف سے۔ 10:۔ ابن مردوی نے ابن عمیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ان یکن منکم عشرون صبرون یغلبوا مائتین کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) ہمارے درمیان محمد ﷺ کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ 11:۔ شیرازی نے الانقاب میں وابن عدی والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا (آیت) ” الئن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفا “۔ یعنی ضعفا کو مرفوع پڑھا۔ 12:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یوں پڑھا (آیت) ” وعلم ان فیکم ضعفا “ 13:۔ ابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” وعلم ان فیکم ضعفا “ اور ہر جگہ قرآن میں ضعف پڑھا۔
Ayahs 8:68–69

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے مقدر نہ ہوچکا ہوتا تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تم کو بڑا عذاب پہنچ جاتا

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

سو کھاؤ اس میں سے جو تمہیں بطور غنیمت کے مل گیا حلال پاکیزہ ہونے کی حالت میں اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

1۔ حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یوں پڑھا (آیت) ” ان یکون لہ اسری “۔ اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا۔ بدر کے قیدیوں کا فیصلہ : 2:۔ احمد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں یعنی صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا بدر کے دن قیدیوں کے بارے میں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ان پر قدرت عطا فرمائی ہے تو حضرت عمر بن خطاب ؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا یا رسول اللہ ﷺ ان کو قتل کردیجئے یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے ان سے اعراض فرمایا اور فرمایا اے لوگو ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو ان پر قدرت دی ہے اور بلاشبہ کل تک یہ تمہارے بھائی تھے پھر حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ان کو قتل کردیجئے نبی کریم ﷺ نے پھر ان سے اعراض فرمایا پھر دوبارہ اٹھے اور اس طرح اس کے حضرت ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ آپ ان کو معاف فرما دیں اور ان سے فدیہ قبول کرلیں تو آپ نے ان کو معاف فرما دیا اور ان سے فدیہ کو قبول فرمایا تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت) ” لولا کتب من اللہ سبق “ (الایہ) (الانفال آیت 68) 3:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے مشورہ فرمایا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامیابی عطا فرمائی اور ان پر آپ کی مدد فرمائی تو آپ ان سے فدیہ لے لیں یہ آپ کے صحابہ کے لئے مدد کا باعث ہوگا (پھر) عمر ؓ سے مشورہ فرمایا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ان کی گردنیں مار دیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تم دونوں پر رحم کرے۔ تم دونوں (کامشورہ) مشابہ ہے ان دونوں (پیغمبروں) کے جو تم سے پہلے گزرے یعنی نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” رب لاتذر علی الارض من الکفرین دیارا (26) اور ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” فمن تبعنی فانہ منی، ومن عصانی فانک غفور رحیم (36) “۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدیہ : 4:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والترمذی نے اور آپ نے اس کو حسن کہا وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم نے اور آپ اس کو صحیح کہا وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب بدر کا دن تھا تو قیدیوں کو لایا گیا تو ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! (یہ لوگ) آپ کی قوم ہے اور آپ کے اہل ہیں ان کو باقی رکھئے شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کی توبہ قبول فرمالیں۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کو (وطن سے) نکالا اور آگے بڑھ کر آپ کے ساتھ لڑے لہذا ان کی گردنیں ماردیجئے اور عبداللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیا دیکھو یہ وادی لکڑیوں سے بھری ہوئی ہیں لہذا ان پر آگ کو سلگا دیجئے (یعنی ان کو جلا ڈالئے) عباس ؓ نے عرض کیا اور وہ یہ سب باتیں سن رہے تھے انہوں نے کہا میں نے تیرے ساتھ رشتہ توڑ دیا نبی کریم ﷺ اندر تشریف لے گئے اور ان کو کوئی جواب نہ دیا بعض لوگوں نے کہا کہ آپ ابوبکر ؓ کی بات کو قبول کرلیں گے اور بعض لوگوں نے کہا کہ آپ حضرت عمر ؓ کی رائے پر عمل فرمائیں گے پھر رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا اللہ تعالیٰ ضرور نرم فرما دیتے ہیں لوگوں کے دلوں کو یہاں تک کہ وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہوجاتے ہیں۔ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کو سخت کردیتے ہیں یہاں تک کہ وہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں فرمایا اے ابوبکر ؓ تری مثال ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح ہے انہوں نے فرمایا تھا (آیت) ” فمن تبعنی فانہ منی، ومن عصانی فانک غفور رحیم (36) (ابراہیم آیت 36) اور اے ابوبکر ( ؓ تیری مثال عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ہے انہوں نے کہا تھا (آیت) ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم (118) (المائدہ آیت 118) اور اے عمر ؓ تیری مثال نوح (علیہ السلام) کی طرح ہے۔ جب انہوں نے کہا (آیت) ” ربنا اطمس علی اموالہم واشدد علی قلوبہم فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم (88) “ (یونس آیت 88) تم لوگ محتاج اور ضرورت مند ہو کوئی بھی ان کو رہا نہیں کرے گا مگر فدیہ کے عوض یا قتل کرکے عبداللہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لیکن سہیل بن بیضائ میں نے اس کو سنا کہ وہ اسلام کو یاد کرتا ہے رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے تو اس دن سے بڑھ کر میں نے آپ کو کبھی بھی خوفزدہ نہیں پایا۔ اس بات سے کہ آج مجھ پر کوئی پتھر واقع نہ ہوجائے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوائے سہیل بن بیضاء کے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض “ (دوآیتوں کے آخر تک) 5:۔ طبرانی وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ کی فضیلت لوگوں سے چار باتوں کی وجہ سے ہے بدر کے دن ان کا قیدیوں کے بارے میں ذکر کرنا اور ان کے قتل کا حکم دینا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم (68) “ اور ان کا پردے کا ذکر کرنا رسول اللہ ﷺ کی عورتوں کو اس کا حکم کرنا تو زینب نے فرمایا کہ تو ہم پر چڑھائی کرتا ہے حالانکہ وحی ہمارے گھروں میں نازل ہوتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” واذا سالتموھن متاعا فسئلوھن من ورآء حجاب “ (الاحزاب آیت 53) اور نبی کریم ﷺ کی دعا اے اللہ عمر کے ذریعہ اسلام کی مدد فرما اور ان کی رائے ابوبکر ؓ کے بارے میں اور وہ لوگوں میں سب سے پہلے ان کی بیعت کرنے والے تھے۔ 6:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ابوبکر وعمر ؓ سے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ فرمایا ابوبکر ؓ نے عرض کیا رسول اللہ ﷺ اپنی قوم کو باقی رکھئے اور فدیہ لے لیں عمر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ انکو قتل کردو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم دونوں (رائے میں) اکھٹے ہوجاتے تو میں تم دونوں کے خلاف نہ کرتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” ماکان لنبی ان یکون لہ اسری “ 7:۔ حاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن قیدیوں کے لئے فرمایا اگر تم چاہو ان کو قتل کردو اور اگر تم چاہو تو فدیہ لے لو اور تم فدیہ سے نفع اٹھاؤ اور تم میں سے ان کی تعداد کے برابر شہید ہوں گے۔ ان ستر میں سے آخری صحابی ثابت بن قیس تھے جو یمامہ کے دن شہید ہوئے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا مشورہ : 8:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں وابن ابی شیبہ نے ابو عبیدہ ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل بدر کے دن نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئے اور فرمایا آپ کا رب آپ کو خبر دیتا ہے اگر تم چاہو تو ان قیدیوں کو قتل کردو۔ اور اگر چاہیں تو ان سے فدیہ لے لیں اور آپ کے اصحاب میں سے انکے برابر قتل ہوں گے۔ تو آپ نے اپنے صحابہ سے مشورہ فرمایا تو انہوں نے عرض کیا ہم ان سے فدیہ لے لیں گے اور ہم ان کے ذریعہ طاقت حاصل کریں گے۔ اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے شہادت کے ساتھ عزت دیں گے۔ 9:۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب حضور ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں صحابہ سے مشورہ فرمایا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو فرشتے ہیں ایک شہد سے زیادہ میٹھا اور شیریں ہے۔ اور دوسرا مصر سے زیادہ تلخ اور کڑوا ہے۔ اور انبیاء (علیہم السلام) میں سے دو نبی ہیں جن میں سے ایک اپنی قوم پر شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور دوسرا اپنی قوم پر مصر سے زیادہ کڑوا ہے۔ دو نبیوں میں سے ایک نوح ہے جنہوں نے دعا مانگی (آیت) ” رب لاتذر علی الارض من الکفرین دیارا (26) “ اور دوسرے ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جب انہوں نے عرض کیا (آیت) ” فمن تبعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفور رحیم (36) “ اور دوسرے فرشتے جبرائیل (علیہ السلام) اور میکائل (علیہ السلام) ہیں ان میں سے پہلے انتہائی سخت اور دوسرے انتہائی نرم ہیں اور ان دونوں کی مثال میری امت میں ابوبکر وعمر ؓ سے ہے۔ 10:۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ابوبکر اور عمر سے فرمایا کیا میں تم کو نہ بتاوں کہ تم دونوں کی مثال فرشتوں میں اور تم دونوں کی مثال انبیاء میں کیا ہے ؟ اے ابوبکر تیری مثال فرشتوں میں میکائل کی مثال ہے جو رحمت نازل کرتا ہے۔ اور تیری مثال انبیاء میں ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال ہے جنہوں نے فرمایا تھا (آیت) ” فمن تبعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفور رحیم (36) “ (ابراہیم) اور اے عمر تیری مثال فرشتوں میں جبرائیل (علیہ السلام) کی مثال ہے جنہوں نے فرمایا تھا (آیت) ” رب لاتذر علی الارض من الکفرین دیارا (26) “ 11:۔ ابونعیم نے حلیہ میں مجاہد کے راستے سے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے جب ابوبکر ؓ سے مشورہ لیا تو انہوں نے عرض کیا (یہ لوگ) آپ کی قوم اور آپ کا کنبہ ہے ان کا راستہ چھوڑ دیں (یعنی ان کو رہا کردیں) (پھر) عمر ؓ سے مشورہ طلب فرمایا تو انہوں نے عرض کیا ان کو قتل کردو۔ (مگر) رسول اللہ ﷺ نے ان سے فدیہ لیا۔ (اور رہا کردیا) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ماکان لنبی ان یکون لہ اسری “ (الایہ) پھر رسول اللہ ﷺ عمر سے ملے اور فرمایا قریب تھا کہ آپ کے ساتھ اختلاف کرنے کے سبب ہم کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی۔ 12:۔ حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب بدر کے دن قیدیوں کو قید کیا گیا تو ( آپ کے چچا) عباس ؓ بھی قید ہوئے انصار کے ایک آدمی نے ان کو قید کیا اور انصار نے ان کو یہ دھمکی دی کہ وہ ان کو قتل کردیں گے یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ میں اپنے چچا عباس کی وجہ سے ساری رات نہیں سویا کہ انصار نے ان کے قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے عمر ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ میں ان کے پاس جاوں آپ نے فرمایا ہاں ! عمر ؓ انصار کے پاسآئے اور ان سے عرض کیا عباس ؓ کو چھوڑ دو انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے عمر ؓ نے ان سے فرمایا اگر رسول اللہ ﷺ کی رضا مندی ہو (پھر بھی نہ چھوڑوگے) انہوں نے کہا اگر رسول اللہ ﷺ کی رضا مندی ہے تو اس کو لے جاؤ عمر ؓ نے عباس ؓ کو پکڑ لیا جب وہ ان کے ہاتھ میں آگئے تو ان سے فرمایا اے عباس ؓ مسلمان ہوجاؤ اللہ کی قسم ! اگر آپ مسلمان ہوگئے تو یہ مجھے خطاب کے مسلمان ہونے سے زیادہ پسند ہے اور یہ بات میں نے ایسے نہیں کہی بلکہ جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ آپ کے اسلام کو پسند فرماتے ہیں (تو میں نے یہ بات کہی) انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے مشورہ طلب فرمایا تو ابوبکر ؓ نے عرض کیا یہ آپ کا خاندان ہے ان کو چھوڑ دیں عمر ؓ سے مشورہ طلب فرمایا تو انہوں نے عرض کیا ان کو قتل کردیں (مگر) رسول اللہ ﷺ نے ان سے فدیہ لے لیا (اور ان کو چھوڑ دیا) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ما کان لنبی ان یکون لہ اسری “ (الایہ) 13:۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کے دن کسی کو قتل نہیں کیا مگر تین آدمیوں کو عقبہ بن ابی معیط، نصر بن حرث اور طعمہ بن عدی اور نصر کو مقداد نے قید کیا تھا۔ 14:۔ ابن منذر وابو الشیخ وابن مردویہ نے نافع کے راستے سے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں اختلاف کیا تو نبی کریم ﷺ نے ابوبکر ؓ وعمر ؓ سے مشورہ فرمایا تو ابوبکر ؓ نے عرض کیا ان سے فدیہ لے لیں عمر ؓ نے عرض کیا ان کو قتل کردو ایک کہنے والے نے کہا ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا اور اسلام کو مٹانے کا ارادہ کیا تھا اور ابوبکر ؓ فدیہ (لینے کا حکم دے رہے ہیں) اور ایک کہنے والے نے کہا اگر ان میں عمر ؓ کے باپ اور ان کے بھائی ہوئے تو انکو قتل کا حکم نہ دیتے رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر کے قول کو قبول فرمایا۔ اور ان سے فدیہ ؓ عنہلے لیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت) اتاری ” لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم (68) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قریب تھا کہ عمر ؓ کے خلاف آنے پر ہم کو شدید عذاب آپہنچا اگر عذاب نازل ہوتا تو عمر ؓ کے سوا کوئی نہ بچتا۔ 15:۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور الترمذی اور آپ نے اس کو صحیح کہا والنسائی وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابو صالح کے راستے سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا جب بدر کا دن تھا تو لوگوں نے مال غنیمت کی طرف جلدی کی اور وہ ان کو پہنچ گئے ان کے لئے حلال کئے جانے سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے غنیمت کا مال کسی آدمی کے لئے حلال نہیں تھا رسول اللہ ﷺ اور اس کے اصحاب جب غنیمت پاتے تو اس کو جمع کرلیتے اور آسمان سے آگ نازل ہوئی اور اس کو ختم کردیتی اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ دو آیتیں نازل فرمائیں ( آیت) ” لولا کتب من اللہ سبق “ (الایہ) 16:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” لولا کتب من اللہ سبق “ بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرے علم میں پہلے نہ ہوتا کہ میں عنقریب غنیمت کے مالوں کو حلال کردوں گا۔ اور (آیت) لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم “ کی تفسیر میں فرمایا کہ عباس بن عبدالمطلب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت عطا فرمائی (یعنی) یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من السری “ (الانفال آیت 70) اور مجھ کو وہ (رقم) عطا فرما دی جو مجھ سے لی گئی تھی چالیس اوقیہ اور چالیس غلام۔ 17:۔ اسحاق بن راھویہ وابن جریر، ابن منذر وابن ابی حاتم ولطبرانی نے الاوسط میں وابو الشیخ، ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” لولا کتب من اللہ سبق لمسکم “ کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ بدر کی غنیمتیں ان کے لئے حلال کرنے پہلے فرما رہے ہیں کہ اگر پہلے سے یہ نہ ہوتا کہ اگر میں عذاب اسے دوں گا جو میرا نافرمان ہوگا۔ یہاں تک صرف اس کے لئے سزا کا حکم دوں گا تو پھر آپ کو بہت بڑی سزا ہوجاتی۔ 18۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ماکان لنبی ان یکون لہ اسری “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ بدر کا دن تھا اور مسلمان اس دن تھوڑے تھے جب ان کی تعداد زیادہ ہوگئی اور انکی قوت اور طاقت مضبوط ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد قیدیوں کے بارے میں (یہ حکم) اتار ” (آیت) فاما منا بعد واما بدآء “ (محمد آیت 4) اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور ایمان والوں کو قیدیوں کے بارے میں اختیار دے دیا اگر چاہوتو ان کو قتل کردیں اگر چاہیں تو ان کو غلام بنالیں اور اگر چاہیں تو ان سے فدیہ لے لیں۔ اور ( آیت) ” لولا کتب من اللہ سبق “ کے بارے میں فرمایا یعنی اول کتاب میں یہ ہے کہ غنیمت کا مال اور قیدی تمہارے لئے حلال ہیں اور فرمایا (آیت) ” لمسکم فیما اخذتم “ یعنی تم کو بہت بڑی سزا پہنچی انکے بدلے جو کچھ تم نے قیدیوں سے فدیہ لیا۔ اور (آیت) ” عذاب عظیم (68) فکلوا مما غنیمتم حللا طیبا “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نام ام الکتاب یعنی لوح محفوظ میں یہ لکھ دیا کہ غنیمت کا مال اور قیدی امت محمد ﷺ اور ان کی امت کے لئے حلال ہیں اگرچہ ان سے پہلے کسی امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے انکو حلال نہیں کیا حالانکہ ہو اس بارے میں ان کی طرف کوئی حکم نازل ہونے سے پہلے والے مال غنیمت بھی حاصل کرتے تھے اور جنگی قیدی بھی بناتے تھے۔ 19:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حتی یثخن فی الارض “ کے بارے میں فرمایا یہاں تک کہ وہ غالب آجائیں زمین پر۔ 20:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر ابن منذر (رح) وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” یثخن “ سے مراد ان کا قتل ہے 21:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض “ کے بارے میں فرمایا کہ اس حکم کے بعد رخصت حاصل ہوتی کہ اگر تو چاہے تو (ان پر) احسان کرے (اور ان کو بلامعاوضہ چھوڑ دے) اور اگر تو چاہے تو فدیہ لے لے۔ 22:۔ ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” تریدون عرض الدنیا “ کے بارے میں فرمایا کہ محمد ﷺ کے اصحاب نے بدر کے دن فدیہ لینے کا ارادہ کیا (قیدیوں سے) اور ان سے چار چار ہزار فدیہ لیا گیا۔ 23:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” تریدون عرض الدنیا “ سے مراد خارج ہے۔ 24:۔ ابن ابی حاتم نے جابر بن زید ؓ سے روایت کیا کہ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ کوئی عمل اللہ کی رضا مندی کے لئے کرے اور اس پر کوئی چیز دنیا کے سامان میں سے لے مگر اس میں سے جو حصہ اور حق ہو ( وہ لے سکتا ہے) 25:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اگر ہمارے گناہ نہ ہوتے جن پر ہم اپنی جانوں پر ڈرتے سوائے دانائی کے ساتھ اپنی محبت کے تو ہم یقین طور پر اپنی جانوں کے بارے میں ڈرتے بلاشبہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ “ یعنی تم بھی وہی ارادہ کرو جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا۔ 26:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) لولا کتب من اللہ سبق “ یعنی ان کے لئے مغفرت کا حکم پہلے سے موجود ہے۔ 27:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) روایت کیا کہ (آیت) لولا کتب من اللہ سبق “ یعنی بدر والوں کے لئے اگر اللہ کی جانب سے سعادت ذکر نہ ہوتا تو (آیت) ” لمسکم فیما اخذتم “ یعنی جو تم نے فدیہ لیا ہے تو تم کو پہنچ جاتا (آیت) ” عذاب عظیم “ یعنی درد ناک عذاب۔ 28:۔ نسائی وابن منذر وابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) لولا کتب من اللہ سبق “ یعنی ان کے لئے رحمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی موجود ہے۔ پہلے اس کے کہ وہ کسی گناہ کا عمل کریں۔ 29:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ وابن عساکر نے خثیمہ (رح) روایت کیا کہ سعدؓ ایک دن بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے پاس اپنے اصحاب کی ایک جماعت بھی تھی اچانک ایک آدمی کا ذکر کیا گیا تو وہ لوگ اس کو عیب لگانے لگے۔ انہوں نے فرمایا رسول ﷺ کے اصحاب کے بارے میں نرمی سے بات کرو کیونکہ ہم نے رسول ﷺ کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) لولا کتب من اللہ سبق “ فرمایا ہم دیکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے جو پہلے سے ہمارے لئے مقرر تھی۔ 30:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) لولا کتب من اللہ سبق “ یعنی (یہ آیت) اس بارے میں ہے کہ کسی کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اس کے لئے ظاہر کردے اور اسے اس کا واضح حکم دے۔ 31:۔ مسلم والترمذی وابن منذر والبیہقی نے دلائل میں وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو انبیاء پر چھ چیزوں کے ذریعہ فضیلت دی گئی مجھ کو جامع کلمات دیئے گئے۔ رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی میرے لئے غنیمت کا مال حلال کردیا گیا۔ اور میرے لئے زمین کو پاکیزہ اور سجدہ کی جگہ بنادیا گیا۔ اور ساری مخلوق کی طرف مجھ کو رسول بنا کر بھیجا گیا اور مجھ پر انبیاء (علیہم السلام) کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ 32:۔ احمد وابن منذر نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ کو پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ مجھ کو سرخ اور سیاہ (سب انسانوں کی طرف) بھیجا گیا۔ میرے لئے زمین کو سجدہ کی جگہ اور پاکیزہ بنادیا گیا۔ میرے لئے غنیمت کا مال حلال کردیا گیا۔ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی اس سے دشمن مرعوب ہوجاتا ہے۔ اگرچہ وہ ایک ماہ کی مسافت پر ہو اور مجھ سے فرمایا گیا آپ سوال کیجئے میں عطا کروں گا پس میں نے اپنی ایک دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لئے چھپا رکھا ہے۔ اور وہ تم کو پہنچنے والی ہے اگر اللہ نے چاہا اس کو ملے گی جو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو اور میری امت کے لئے غنیمت کے مال کو حلال کردیا گیا۔ 33:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم سے پہلے کسی ایک کے لئے بھی غنیمت کا مال حلال نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہمارے لئے پاکیزہ بنا دیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اپنی کتاب میں غنیمتوں کے حلال ہونے کے بارے میں پہلے سے حکم نازل فرما دیا اور یہ آیت نازل فرمائی (آیت) لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم (68) “ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم ان (کافروں) سے تھوڑا یا زیادہ مال نہیں لیں گے۔ یہاں تک کہ ہم جان لیں گے کیا وہ حلال ہے یا وہ حرام ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پاکیزہ اور حلال بنا دیا۔ اور یہ حکم نازل فرمایا (آیت) ” فکلوا مما غنمتم حللا طیبا واتقوا اللہ ان اللہ غفور رحیم (69) “ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ان کے فدیہ اور ان کے مالوں کو حلال فرما دیا تو قیدیوں نے کہا اللہ کے نزدیک ہمارے لئے کوئی خیر نہیں تحقیق ہم قتل کئے گئے اور ہم قیدی بھی بنائے گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خوشخبری دیتے ہوئے نازل فرمایا (آیت) ” یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسری “ سے لے کر (آیت) ” واللہ غفور رحیم “ تک (الانفال آیت 70) اگلی امتوں پر مال غنیمت حرام تھا : 34:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے پہلی امتوں میں جب ان کو مال غنیمت ملتا تھا تو اسے قربان گاہ میں رکھ دیتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اس میں سے تھوڑا یا زیادہ کھانا حرام کردیا تھا اور یہ ہر نبی کی امت پر حرام کیا گیا تھا وہ لوگ نہ اس میں سے کھا سکتے تھے نہ اس سے چوری چھپے لے سکتے تھے اور نہ اس میں سے تھوڑا یا زیادہ مال اٹھا سکتے تھے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس پر ان کو عذاب بھیج دیتے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت حرام کیا ہوا تھا اور کسی نبی کے لئے اس کو حلال نہیں فرمایا مگر صرف محمد ﷺ کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے فیصلوں میں یہ بات گزر چکی تھی کہ غنیمت کا مال آپکے لئے اور آپ کی امت کے حلال ہے۔ اسی لئے بدر کے دن قیدی سے فدیہ لینے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا (آیت) لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم (68) “ 35:۔ خطیب نے متفق والمفرق میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب صحابہ کرام ؓ اجمعین فدیہ لینے میں راغب ہوئے تو (یہ آیت) ” ماکان لنبی “ سے لے کر (آیت) لولا کتب من اللہ سبق “ تک نازل ہوئی۔ فرمایا اللہ تعالیٰ کی طرف یہ فیصلہ ہے کہ رحمت ہے اس شخص کے لئے جو بدر میں حاضر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے درگرز فرمایا اور اس (مال غنیمت) کو ان کے لئے حلال کردیا۔
Ayah 8:70

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے نبی جو قیدی آپ کے قبضہ میں ہیں ان سے فرما دیجئے کہ اگر اللہ کو تمہارے دلوں میں ایمان معلوم ہوگا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تم کو عطا فرما دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

1۔ حاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا اور بیہقی نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب مکہ والوں نے اپنے قیدیوں کے فدیہ میں (مال) بھیجا تو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب ؓ نے اپنے شوہر کے فدیہ میں اپنے گلے کا ایک ہار بھیجا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اس (ہار) کو دیکھا تو آپ کو شدید رقت طاری ہوگئی اور فرمایا اگر تم مناسب سمجھو تو یہ اس کے قیدی کے لئے ہی چھوڑ دو اور عباس ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بلاشبہ میں مسلمان ہوں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زیادہ جانتے ہیں تمہارے اسلام کو اگر ایسا ہے جیسے تو کہتا ہے اللہ تعالیٰ تجھ کو ہر چیز عطا فرمائے گا پس تم اپنا اور اپنے بھائیوں کے بیٹوں نوفل بن حارث اور عقیل بن ابی طالب کا اور اپنے حلیف عبد بن عمیر کا فدیہ ادا کرو عباس نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ وہ میرے پاس نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا وہ (مال) کہاں ہے جس کو تو نے اور ام الفضل نے غضب کیا اور تو نے اس سے کہا اگر مجھے موت آجائے تو یہ مال میرے بیٹوں کے لئے ہے تو انہوں نے جواب دیا اللہ کی قسم یا رسول اللہ ﷺ یہ (مال) ایسی چیز تھی کہ جس کو میرے اور اس (میری بیوی) کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ میری جانب سے شمار کرلیجئے جو میرے پاس موجود ہے۔ بیس اوقیہ میرے مال میں سے آپ نے فرمایا ایسا کرلو چناچہ انہوں نے اپنی جان کا اور اپنے بھائی کے بیٹوں کا اور اپنے حلیف کا فدیہ ادا کیا تو (یہ آیت) ” قل لمن فی ایدیکم من الاسری ان یلم اللہ فی قلوبکم خیرا یوتکم خیرا مما اخذمنکم “ نازل ہوئی چناچہ حالت اسلام میں اللہ تعالیٰ نے اس بیس اوقیہ کی جگہ مجھے بیس غلام عطا فرمائے ان میں سے ہر ایک میں مال تھا کہ جس کے ساتھ میں مدد کیا گیا اور اس کے ساتھ میں اللہ کی مغفرت کی بھی امید رکھتا ہوں۔ 2:۔ ابن سعد والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ علائ بن خضرمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی طرف مال بھیجا جو بہت زیادہ تھا چناچہ آپ نے اس کو چٹائی پر بکھیر دیا لوگ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو دینا شروع فرمایا اس دن نہ عدد تھا نہ وزن تھا عباس ؓ تشریف لائے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا بدر کے دن مجھے اس مال میں سے عطا فرمائیے آپ نے فرمایا لے لو تو میں اپنے قمیض میں ایک لب بھرلیا پھر میں چلا تو چلنے کی طاقت نہ رکھتا تھا میں نے اپنا سراٹھایا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اٹھوا دیجئے رسول اللہ ﷺ نے ہنستے ہوئے ارشاد فرمایا لے لو جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے تحقیق وہ پورا ہوگیا اور اس کے علاوہ میں نہیں جانتا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) (آیت) ” قل لمن فی ایدیکم من الاسری ان یلم اللہ فی قلوبکم خیرا یوتکم خیرا مما اخذمنکم ویغفرلکم “ یہ مال اس سے بہتر ہے جو تجھ سے لیا گیا اور میں نہیں جانتا تھا کہ جو کچھ وہ مغفرت کے بارے میں کرے گا۔ 3:۔ ابو نعیم نے دلائل میں سعید بن جبیر کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے قریش میں سے ستر آدمیوں کو قیدی بنایا ان میں حضرت عباس ؓ اور عقیل ؓ بھی تھے ایک نے ان پر چالیس اوقیہ سونا بطور فدیہ لگا دیا عباس نے یہ سواوقیہ عقیل پر اسی اوقیہ کردیا گیا حضرت عباس ؓ نے فرمایا آپ نے مجھ کو قریش کا فقیر بنا کر چھوڑ دیا ہے میرے پاس کچھ بھی باقی نہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت) ” قل لمن فی ایدیکم من الاسری “ جب کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اسلام لانے کا تذکرہ کیا میں نے آپ سے اس کا سوال کرتے ہوئے کہا وہ میرے حصہ میں ڈال دیں جو مجھ سے لئے گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے عوض مجھے بیس غلام عطا فرمائے جو سب کے سب تاجر ہیں اور میرے مال سے کاروبار کرتے ہوئے اور اللہ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی بھی امید رکھتا ہوں۔ 4:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ عباس ؓ بدر کے دن قید ہوگئے انہوں نے اپنی جان کا چالیس اوقیہ سونا فدیہ میں دیا جب یہ آیت آیت) ” قل لمن فی ایدیکم من الاسری “ نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دو خصلتیں عطا فرمائیں میں اس بات کو محبوب نہیں رکھتا کہ ان دونوں کے بدلہ میں مجھے دنیا مل جائے میں بدر کے دن قید ہوا میں نے اپنی جان چالیس اوقیہ فدیہ دیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے چالیس غلام عطا فرمائے بلاشبہ میں مغفرت کی امید رکھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ہم سے وعدہ فرمایا۔ 5:۔ ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” قل لمن فی ایدیکم من الاسری “ کے بارے میں فرمایا کہ عباس اور اس کے ساتھیوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ہم ایمان لے آئے اس دین پر جو آپ لے کر آئے۔ اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو (یہ آیت) ” ان یعلم اللہ فی قلوبکم خیرا “ نازل ہوئی یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں ایمان کو اور تصدیق جان لیا وہ تم کو اس سے بہتر عطا فرمائے گا جو تم نے لیا گیا اور تمہارے شرک کو معاف کریں گے جس پر تم تھے اور حضرت عباس ؓ نے فرمایا کہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل نہیں ہوئی اور میرے لئے (اس کا بدلہ) دنیا میں سے کوئی چیز ہو اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس سے سوگنا بہتر اور اچھا بدل فرمایا جو کچھ مجھ سے لیا گیا اور میں امید کرتا ہوں کہ میری مغفرت بھی ہوگی۔ 6:۔ ابن سعد ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسری “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) بدر کے دن قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی ان میں عباس بن عبدالمطلب نوفل بن حارث اور عقیل بن ابی طالب ؓ تھے۔
Ayah 8:71

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر وہ آپ کی خیانت کا ارادہ کریں سو وہ اس سے پہلے کی خیانت کرچکے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر قابو دے دیا اور اللہ جاننے والا ہے اور حکمت والا ہے

1:۔ ابن منذر وابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان یریدوا خیانتک “ یعنی اگر ان کا قول جھوٹا ہے (تو فرمایا) (آیت) ” فقد خانوا اللہ من قبل “ یعنی انہوں نے کفر کیا اور آپ سے لڑے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے آپ کو محفوظ رکھا۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت نہیں کی تمہارا ان سے میراث کا کوئی تعلق نہیں جب تک کہ ہجرت نہ کریں اور اگر وہ تم سے دین میں مدد طلب کریں تو تمہارے ذمہ ان کی مدد لازم ہے سوائے اس قوم کے مقابلہ میں کہ ان میں اور تم میں کوئی معاہدہ ہو اور اللہ تعالیٰ ان کاموں کو دیکھتا ہے جو تم کرتے ہو

1:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الذین امنوا وھاجروا وجھدوا باموالہم وانفسہم فی سبیل اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مومنین تین مراتب پر تھے۔ ان میں وہ مومن جنہوں نے ہجرت کی اور اپنی قوم سے جدائی اختیار کیا یہ لوگ ہجرت کرکے اہل ایمان کی ایک جماعت کے گھروں میں ان کی زمینوں میں اور ان کے مالوں میں پہنچے اور دوسرے گروہ کا ذکر کرتے ہیں فرمایا (آیت) ” والذین او وا ونصروا “ وہ جنہوں نے مہاجرین کی پناہ دی اور ان کی مدد کی اور انہوں نے اس چیز کا وعدہ کیا جس کا ہجرت کرنے والوں نے کیا انہوں نے اس کے خلاف تلواریں بلند کی جس نے بھی اسے جھٹلایا اور انکار کیا یہ دونوں ایمان والے ہیں اللہ نے ان کے بعض کو بعض کا دوست بنا دیا اور تیسرے درجے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ان الذین امنوا ولم یھاجروا “ فرمایا کہ مذکورہ دونوں گروہ آپس میں دینی ولایت کے سبب ایک دوسرے کے وارث بنتے تھے جب مہاجر مومن فوت ہوتا اور وہ گروہ جو ایمان لایا اور اس نے ہجرت نہیں کی وہ وارث نہ ہوگا اس وجہ سے کہ نہ تو اس نے ہجرت کی اور نہ ہی مدد کی تو اللہ تعالیٰ نے مومنین مہاجرین کو ان کی میراث سے روک دیا اور یہی وہ ولایت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” مالکم من ولایتہم من شیء حتی یھاجروا وان استنصروکم فی الدین فعلیکم النصر الا علی قوم بینکم وبینہم میثاق “ اور یہ ایمان والوں پر حق تھا جنہوں نے ٹھکانہ دیا اور مدد کی کہ جب وہ ان سے دین کے بارے میں مددطلب کریں کہ وہ ان کی مددکریں کہ وہ دشمن سے قتال کریں لیکن اگر انہوں نے ایسی قوم پر مدد طلب کی کہ ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان کوئی (صلح کا) معاہدہ ہے تو پھر وہ ان کی مدد نہ کریں ہاں اس دشمن پر مدد کریں کہ ان کے لئے کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ ان ایمان والوں میں سے رحم کرکے اپنے رشتے کے ساتھ ملادیا ہے جو ایمان تو لائے مگر ہجرت نہیں کی ایمان والوں میں سے ہر انسان کے لئے مقرر حصہ بنادیا اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے (آیت) واولو الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتب اللہ ان اللہ بکل شیء علیم (75) 2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین اور انصار مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمادیا تھا۔ حمزہ بن عبدالمطلب اور زید بن حارثہ کے درمیان اور عمر بن خطاب اور معاذ بن عفراء کے درمیان اور زبیر بن عوام کے اور عبداللہ بن مسعود کے درمیان اور ابوبکر اور طلحہ بن عبیداللہ کے درمیان اور عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ربیع کے درمیان اور سب صحابہ سے فرمایا آپس میں بھائی بھائی ہو اور یہ میرا بھائی یعنی علی بن ابی طالب ؓ ہے راوی نے کہا کہ مسلمان اس پر قائم رہے یہاں تک کہ سورة انفال نازل ہوئی۔ اور یہ بھائی چارہ ان چیزوں میں سے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ اپنے نبی ﷺ کے عقد کو اور زیادہ مضبوط کردیا چناچہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” ان الذین امنوا وھاجروا وجھدوا باموالہم وانفسہم فی سبیل اللہ والذین او وا ونصروا اولئک بعضہم اولیاء بعض۔ والذین امنوا ولم یھاجروا مالکم من ولایتہم من شیء حتی یھاجروا “ سے لے کر ” لہم مغفرۃ ورزق کریم (74) تک تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعہ اس عقد کو مستحکم فرمادیا جو رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب مہاجرین اور انصار کے درمیان باندھا تھا۔ جنہوں نے آپس میں بھائی چارہ باندھا تھا وہ لوگ ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے ان ذوی الارحام اور قریبی رشتہ داروں کے بدلہ میں جو ابھی تک مکہ میں مقیم تھے (اور انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی) صحابہ اس عقد پر قائم رہے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت اتاری اور اس نے اس سے پہلے والے حکم کو منسوخ کردیا اور فرمایا (آیت) ” والذین امنوا من بعد وھاجروا وجھدوا معکم فاولئک منکم واولوا الارحام “۔ اس کے سبب ہر آدمی لوٹ گیا اپنے نسب اور اپنی رشتہ داری کے سبب اور وہ (بھائی چارے والی) میراث ختم ہوگئ۔ 3:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان الذین امنوا وھاجروا وجھدوا باموالہم وانفسہم فی سبیل اللہ والذین او وا ونصروا اولئک بعضہم اولیاء بعض “ ان میں سے بعض میراث میں بعض کے بعض اولیاء ہیں اللہ تعالیٰ نے میراث کو مہاجرین اور انصار میں رکھ دیا رشتہ دار کے علاوہ (پھر فرمایا) (آیت) ” والذین امنوا ولم یھاجروا مالکم من ولا یتہم من شیء “ یعنی تمہارے لئے ان کی میراث میں سے کوئی چیز (اور فرمایا) (آیت) ” حتی یھاجروا وان استنصروکم فی الدین “ یعنی اگر دیہات والوں نے مدد طلب کی مسلمان مہاجروں اور انصار سے اپنے دشمن پر تو ان پر لازم ہے کہ ان کی مدد کریں (آیت) ” الا علی قوم بینکم وبینہم میثاق “ یعن اگر اس قوم کے خلاف مدد طلب کی کہ جن کا تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہے تو پھر مدد نہیں کریں گے اور وہ لوگ معاہدہ) پر عمل بھی کررہے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی (آیت) واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتب اللہ ان اللہ بکل شیء علیم “ (75) تو (وہ حکم) جو پہلے تھا منسوخ کردیا گیا اور میراث رشتہ داروں کے لئے ہوگئی۔ 4:۔ ابوعبیدہ وابو داود وابن منذر ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (اس آیت) ” ان الذین امنوا وھاجروا وجھدوا باموالہم وانفسہم فی سبیل اللہ والذین او وا ونصروا اولئک بعضہم اولیاء بعض۔ والذین امنوا ولم یھاجروا مالکم من ولایتہم من شیء حتی یھاجروا “ کے بارے میں فرمایا کہ مہاجر کسی دیہاتی کانہ ولی بنتا تھا اور نہ وارث بنتا تھا اس حال میں کہ وہ مومن ہوتا تھا۔ اور نہ دیہاتی کسی مہاجر کا وارث ہوتا تھا۔ اس (حکم) کو اس (آیت) واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتب اللہ “ نے منسوخ کردیا۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” والذین امنوا ولم یھاجروا “ کے بارے میں فرمایا کہ دیہاتی کسی مہاجر کا وارث نہ ہوتا تھا اور نہ مہاجر کسی دیہاتی کا وارث ہوتا تھا یہاں تک کہ مکہ فتح ہوا اور لوگ دین میں فوج درفوج داخل ہوئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتب اللہ “۔ 6:۔ عبدالرزاق وبدبن حمید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں وابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” والذین امنوا ولم یھاجروا مالکم من ولایتہم من شیء حتی یھاجروا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمان ہجرت کے ذریعہ ایک دوسرے کے وارث ہوئے اور کوئی دیہاتی کسی مہاجر مسلمان کا وارث نہ ہوتا تھا یہاں تک کہ (اس حکم کو) بعد میں منسوخ کردیا گیا۔ سورة احزاب میں (اور فرمایا) (آیت) واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتب اللہ “۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بعض کو بعض کے ساتھ ملادیا اور مواریث کا تعلق حلال کے ساتھ ہوگیا۔ قتال سے قبل دعوت دینا :۔ 7:۔ احمد ومسلم نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی امیر کو کسی چھوٹے لشکر یا بڑے لشکر پر بھیجتے تھے تو اس کو خاص طور پر اللہ کا تقوی کی اور اس کے ساتھ جو مسلمان ہوتے تھے انکے ساتھ بھلائی کی وصیت فرماتے تھے اور فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد کرو اور جو شخص اللہ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑو۔ جب تک مشرکین میں سے اپنے دشمن سے ملے تو اس کو تین باتوں میں سے ایک بات کی طرف بلاؤ انمیں سے جس بات کو وہ مان لے تو ان سے قبول کرلیں۔ تم بھی ان کی چاہت سے قبول کرلو اور اس کو اس بات کی دعوت دو کہ وہ اپنے گھروں سے دارالمہاجرین کی طرف منتقل ہوجائیں۔ اور ان کو بتادو اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے لئے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے لئے ہیں اور ان پر وہی فرائض اور ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں۔ اگر وہ (اس بات) سے انکار کریں اور اپنے گھروں کو اختیار کریں (اور ہجرت کرنا پسند نہ کریں) تو ان کو بتادو کہ پھر وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے ان پر وہی اللہ کا حکم جاری ہوگا جو ایمان والوں پر جاری ہوتا ہے اور انکے لئے مال فئ اور مال غنیمت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ مگر اس صورت میں انکا حصہ ہوگا جبکہ مسلمان کے ساتھ مل کر جہاد کریں گے۔ اگر وہ اس کا بھی انکار کریں تو ان کو جزیہ دینے کی طرف بلاؤ اگر وہ اس بات پر آجائیں تو ان سے قبول کرلو۔ اور ان سے (جنگ کرنے سے) رک جاؤ اور اگر وہ انکار کریں تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہوئے ان سے جنگ کرو۔ 8:۔ احمد وابو داود اور والنسائی والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مشرکین سے جہاد کرو اپنے مالوں اپنی جانوں اور اپنی زبانوں کے ساتھ۔ 9:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وان استنصروکم فی الدین فعلیکم النصر الا علی قوم بینکم وبینہم میثاق ‘ کے بارے میں فرمایا کہ مسلمانوں اپنے ساتھ معاہدہ کرنے والوں سے (لڑنے سے) منع کردیا گیا۔ اللہ کی قسم تیرے مسلمان بھائی کے لئے تجھ پر حرمت اور حق اس سے کہیں زیادہ ہے واللہ اعلم۔
Ayahs 8:73–74

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اگر تم ایسانہ کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد ہوگا

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے ٹھکانہ دیا اور مدد کی یہ وہ لوگ ہیں جو واقعی ایمان والے ہیں ان کے لئے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے

:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابو مالک کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسلمان میں سے ایک آدمی نے کہا ہم ضرور اپنے مشرک رشتہ داروں کو وارث بنائیں گے تو آیت نازل ہوئی (آیت) ” والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض و فساد “ 2:۔ ابن جریرنے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ اہل عرب کے مشرکین کو وارث بنانے کے بارے میں نازل ہوئی۔ 3:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ یعنی کافر میراث میں ایک دوسرے کے جماعتیں ہیں (آیت) ” الا تفعلوہ “ یعنی تم (کافروں کی) میراث میں سے کچھ نہ لو جیسے تم کو اس کا حکم دیا گیا۔ 4:۔ احمد وابن ابی حاتم نے اور حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مہاجرین باہم ایک دوسرے کے دوست ہیں دنیا میں اور آخرت میں اور قریش اور بنی ثقیف سے آزادی پانے والے میں اپنی مغفرت میں ایک دوست ہیں۔ 5:۔ حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا اور ابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دو دینوں والے آپس میں وارث نہیں ہوسکتے اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہوسکتا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔ (یہ آیت پڑھی) (آیت) ” والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر (73) 6:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں یحی بن ابی کثیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہارے پاس ایسا آدمی آئے کہ اس کی امانت سے اور اس کے اخلاق سے تم راضی ہو تو اس کا نکاح کردو چاہے جو کچھ ہو اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔