8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 8:7–8

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور جب اللہ تم سے وعدہ فرما رہا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت تمہارے لئے ہے اور تم خواہش کررہے تھے غیر مسلح جماعت کی وہ تمہارے لئے ہوجائے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے کلمات کے ذریعہ حق کا حق ہونا ثابت فرما دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ حق کو سچا کردے اور باطل کا باطل ہونا ثابت کردے اگرچہ مجرموں کو ناگوار ہو

غزوہ بدر رمضان میں پیش آیا : 1:۔ بیہقی نے دلائل میں ابن شہاب اور موسیٰ بن عقبہ ؓ سے دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ابن الحضرمی کے قتل کے بعد دو ماہ تک ٹھہرے رہے۔ پھر ابوسفیان بن حرب کی قیادت میں قریش کا ایک قافلہ شام کی طرف سے آیا اور اس کے ساتھ ستر سوار تھے۔ اور ان کے ساتھ مکہ والوں کے خزانے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ ان کا قافلہ ہزار اونٹ پر مشتمل تھا اور قریش میں سے کسی ایک کے پاس بھی ایک اوقیہ یا اس سے زیادہ ( سونا چاندی) تھا تو اس نے ابو سفیان کے ساتھ بھیج دیا تھا سوائے حویطب بن عبد العزمی کے اسی وجہ سے حویطب بدر سے پیچھے رہ گیا اور اس میں حاضر نہ ہوا۔ ان کا ذکر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے پاس ہوا اور اس سے پہلے ان کے درمیان لڑائی ہوچکی تھی۔ ابن الحضرمی قتل کردئیے گئے اور دو آدمی عثمان اور حکم قیدی پناہ لئے گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ کا ابوسفیان کے قافلہ کا بتایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے عدی ابن ابی زغباانصاری کو بھیجا جو نبی غضم میں سے تھے اور ان کی اصل جھینسہ قبیلہ سے تھی۔ اور بسیس یعنی ابن عمرو کو قافلہ کی خبر لینے کے لئے بھیجا۔ وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جہینہ کے ایک قبیلہ کے پاس آئے۔ سمندر کے ساحل کے قریب۔ انہوں نے ان سے قافلہ کے بارے میں اور قریش کے تاجروں کے بارے میں پوچھا انہوں نے اس ( قوم) کے بارے میں ان کو بتایا۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے۔ اور آپ کو خبر دی۔ آپ ﷺ نے مسلمانوں کو قافلے کے لئے جمع کیا اور یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ ابوسفیان قبائل میں آیا اور وہ لوگ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب سے ڈرتے رہے تھے اس نے پوچھا کیا انہوں نے محمد ﷺ کو دیکھا ہے ؟ اور انہوں نے ان کو دوسواروں عدی بن ابی زغباء اور بسیس کے بارے میں خبر دی اور انہوں نے ان دونوں کے اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ کی طرف اشارہ کیا ابوسفیان نے کہا ان دونوں اونٹوں کی لید اٹھا کر لاؤ جب اس نے اس کو توڑا تو اس میں گٹھلی پائی اس نے کہا یہ یثرب والوں کا چارہ اور یہ محمد اور ان کے اصحاب کے جاسوس ہیں تو وہ تیز رفتاری سے چلنے لگے۔ تلاش کے ڈر سے ابو سفیان نے بنو غفار کے آدمی ضمضم بن عمرو کو قریش کے پاس بھیجا کہ جلدی سے آؤ اور اپنے قافلہ کو محمد ﷺ اور اس کے اصحاب سے بچاؤ کیونکہ آپ نے ہمارا راستہ روکنے کے لئے اپنے اصحاب کو جمع کیا ہے۔ اور عاتکہ بنت عبدالمطلب جو مکہ میں رہائش پذیر تھیں اور یہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھی اور اپنے بھائی عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ رہتی تھی۔ اس نے ایک خوب دیکھا غزوہ بدر اور ضمضم کے آنے سے پہلے اور وہ اس سے گھبرا گئی اس نے اپنے بھائی عباس بن عبد المطلب کو بلا بھیجا اس رات میں عباس ؓ تشریف لائے تو اس نے کہا میں نے رات کو ایک خواب دیکھا ہے کہ اس سے میں ڈر گئی اور میں اس سے تیری قوم کی ہلاکت پر ڈرتی ہوں اس نے کہا تو نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا میں ہرگز تجھ کو بیان نہیں کروں گی یہاں تک کہ میں تجھ سے وعدہ لوں گی کہ تو اس کا تذکرہ نہیں کرے گا (کسی کو) کیونکہ اگر انہوں نے اس کو سن لیا تو وہ ہم کو تکلیف دیں گے اور ہم کو ایسی ایسی باتیں کہیں گے۔ جو ہم کو پسند نہیں ہوں گی جب عباس ؓ نے وعدہ کرلیا تو اس نے کہا میں ایک سوار کو دیکھا کہ وہ مکہ کے بلند حقہ سے اپنی سواروں پر آرہا ہے اور اپنی اونچی آواز کے ساتھ چیخ رہا ہے۔ اے دھوکہ دینے والونکل جاؤ دو راتوں میں یہ تین راتوں میں وہ چیخنے والا آیا یہاں تک کہ اپنی سواری پر مسجد میں داخل ہوگیا اور اس نے تین بار شدید آواز کے ساتھ چیخ کر کہا۔ مرد عورتیں اور بچے اس کے جمع ہوگئے۔ اور لوگ بہت گھبراگئے۔ عاتکہ نے کہا پھر میں نے اس کو اپنی سواری پر کعبہ کی چھت پر اس کو دیکھا پھر وہ تین مرتبہ چیخا اور کہا اے اہل غدر اے اہل فجر تم لوگ نکلو دو یا تین راتوں میں پھر میں نے اس کو ابو قیس (پہاڑ) پر اس طرح دیکھا اور وہ کہہ رہا تھا اے غدر اے اہل فجر یہاں تک کہ میں نے اس کو مکہ والوں سے اخشین کے درمیان سے یہ آواز سنی پھر اس نے چٹان کی طرف ارادہ کیا اور اس کو اس کی جڑ سے اکھیڑ دیا پھر اس کو مکہ والوں کی طرف بھیجا۔ اور پس وہ واپس چٹان آئی اس میں شدید حس موجود تھی۔ یہاں تک وہ اصل حیل کے پاس تھی تو وہ پھٹ گئی اور میں نہیں جانتی مکہ میں مگر میں یہ اس چٹان کا ٹکڑا اس میں جاگرا پس اس کے سبب مجھے تمام قوم کے بارے میں خوف اور ڈر لاحق ہوگیا ہے۔ عباس ؓ اس خواب سے گھبراگئے پھر وہ اس کے پاس سے باہر نکلا اور ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے اس رات کے آخری حصہ میں ملے اور ولید ابن عباس کا دوست تھا اس کو عاتکہ کا خواب سنایا اور اس کو حکم کیا کہ وہ کسی کو نہ بتائے ولید نے اپنے باپ عتبہ کو بتایا اور عتبہ نے اپنے بھائی شیبہ کو بتایا یہ بات چلتے چلتے ابو جہل بن ہشام کو پہنچ گئی۔ اور مکہ والوں میں یہ خبر پھیل گئی جب صبح ہوئی تو عباس ؓ بیت اللہ کا طواف کرنے لگے۔ اس نے مسجد میں ابوجہل، عتبہ، شیبہ بن ربیعہ، امیہ، ابی بن خلف، رفعہ بن اسود ابو البخری اور قریش کے کچھ لوگوں کو پایا جو آپس میں باتیں کررہے تھے۔ جب انہوں نے عباس کی طرف دیکھا ابو جہل نے اس کو آواز دی اے ابو الفضل ( عباس کی کنیت ہے) جب تو طواف پورا کرچکے تو ہمارے پاس آجانا۔ جب انہوں نے اپنا طواف پورا کرلیا تو (ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا۔ ابو جہل نے ان سے کہا وہ کیا خواب ہے جو عاتکہ نے دیکھا انہوں نے کہا کہ کوئی چیز نہیں دیکھی۔ ابوجہل نے کہا کیا تم راضی ہو اس بات سے اے ہاشم کی اولاد کیا تم مردوں کے جھوٹ پر راضی نہیں وہ یہاں تک کہ تم ہمارے پاس عورتوں کا جھوٹ بھی لانے لگے۔ بیشک میں اور تم دو گھوڑے کی طرح ہیں پس ہم کتنے وقت سے بزرگی اور شرف میں سبقت لے گئے ہیں جب سوار پیچھے رہ گئے تو تم نے کہا کہ ہم میں ایک نبی ہیں۔ اب اس کے سوا کچھ باقی نہیں تھا کہ تم یہ کہو کہ ہم میں سے نبیہ بھی ہے قریش کے گھروالوں کو میں نہیں جانتا ہوں جن میں سے کوئی عورت یا مرد تم سے زیادہ جھوٹ بولنے والا ہو۔ اور اس کی اذیت اس اذیت سے بڑھ کر ہو۔ اور ابوجہل نے کہا کہ عاتکہ نے یہ خیال کیا کہ سوار نے کہا کہ نکل جاؤ دو یا تین راتوں میں اور اگر یہ تین راتیں گزر گئیں تو قریش کو تمہارا جھوٹ ظاہر ہوجائے گا۔ اور کتاب میں لکھ دیا جائے گا کہ تم سارے عرب میں ہر گھر کے مرد و عورت سے بڑھ کر جھوٹ بولنے والے ہو۔ اے قصی کی اولاد کیا تم (اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم کو دربانی پر ندوۃ پر سقایہ (یعنی پانی پلاتے) پر لواء پر اور وفد بنانے کے لئے لے جانے پر یہاں تک کہ تم اپنے ہمارے پاس اپنے ہی سے نبی کو لے کر آئے۔ عباس ؓ نے فرمایا کیا تو رک جائے گا کیونکہ جھوٹ تیرے اور تیرے گھروالوں کی طرف ہے ؟ پھر اس آدمی نے کہا جو ان دونوں میں حاضر تھا اور اے ابو الفضل تو جاہل اور بیوقوف نہیں ہے۔ عباس عاتکہ سے اس حال میں ملے کہ وہ ان کو اس خواب کی بنا پر سخت تکلیف پہنچا چکے تھے۔ ابوسفیان کا قاصد مکہ پہنچا : جب اس رات (کے بعد) شام ہوئی جس میں عاتکہ نے خواب دیکھا تھا۔ ان کے پاس سوار آیا جس کو ابو سفیان نے بھیجا تھا اور وہ ضمضم بن عمر وغفاری تھا۔ اور اس نے چیخ چیخ کر کہا اے آل غالب بن فہر کی اولاد ! نکلو محمد ﷺ اور یثرب والے ابوسفیان کا راستہ روکنے کے لئے نکل چکے ہیں اپنے قافلے کو بچاؤ قریش سخت گھبرائے اور عاتکہ کے خواب سے ڈر گئے عباس ؓ نے فرمایا اس کو تم نے اس طرح گمان کیا تھا کہ عاتکہ نے جھوٹ بولا ہے۔ اور وہ ہر گھٹن اور پست راستے پر دوڑنے لگے ابو جہل نے کہا کیا محمد ﷺ گمان کرتے ہیں کہ وہ اس طرح قافلے کو پائے گا جیسے اس نے کھجور والوں کو پالیا ہے۔ عنقریب وہ جان لیں گے۔ کہ ہم اپنے قافلہ کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ یا نہیں (تو یہ لوگ) نو سو پچاس لڑنے والوں کے ساتھ نکلے ان میں سے ایک سو گھڑ سوار تھے انہوں نے کسی شخص کو پیچھے نہیں چھوڑا جو نکلنے کو ناپسند کرتا ہو اور یہ خیال کرتے تھے کہ ان کا یہ نکلنا محمد ﷺ اور ان کے اصحاب کے قہر وظلم کی بنا پر ہے اور نہ ہی انہوں نے کسی مسلمانوں کو چھوڑا جس کے اسلام کے بارے میں وہ جانتے تھے اور نہ ہی بنو ہاشم میں سے کسی کو چھوڑا انہوں نے اپنے تمام افراد کو اپنے ساتھ لے جانے پر مجبور کیا پس وہ افراد جن کو انہوں نے مجبور کیا وہ عباس بن عبدالمطلب ؓ ، نوفل بن حارث، طالب بن ابی طالب اور عقیل بن ابو طالب آخر میں سے تھے وہاں طالب بن ابی طالب نے کہا۔ اما یخرجن طالب بمقنب من ھذہ المقانب : ترجمہ :۔ کیا ان چھتوں میں سے ایک چھتے کے ساتھ طالب (مجبور ہو کر نکلے) گا جنگجو وں کے اے گروہ کے ساتھ : فی نفر مقاتل یجارب و لیکن المسلوب غیر السالب : ترجمہ :۔ جو جنگ لڑے گا لیکن غنائم (چھینا ہوا سامان) چھننے والے سوار کے لئے ہوں گے۔ : والراجع المغلوب غیر الغالب : ترجمہ : اور مغلوب ہو کر لوٹنے والے غالب کے سوا ہوں گے۔ یہ لوگ چلے یہاں تک کہ حجفہ میں نازل ہوئے وہ عشاء کے وقت پہنچے اور پانی سے کھانا تیار کرنے لگے۔ ان میں سے ایک آدمی بنوالمطلب بن عبد المناف میں سے تھا جس کو جھیم بن خلت بن مخرمہ کہا جاتا ہے۔ جہیم (رح) نے اپنے سر کو رکھا اور اس کو اونگھ آگئی پھر گھبرایا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کیا تم نے شہسوار کو دیکھا ہے۔ جو مجھ پر ابھی ابھی کھڑا تھا انہوں نے کہا نہیں بلا شبہ تو مجنون ہے اس نے کہا ابھی میرے پاس ایک گھوڑسوار کھڑا تھا اس نے کہا ابو جہل عتبہ شیبہ، زمعہ اور ابوالبختری اور امیہ خلف قتل کردئے گئے۔ اس نے کفار قریش کے بڑے بڑے لوگوں کو شمار کیا اور اس کے ساتھیوں نے اس سے کہا کہ تیرے ساتھ شیطان کھیل کر رہا ہے۔ جہیم کی بات ابوجہل تک پہنچا دی گئی اس نے کہا تم بنی ہاشم کے جھوٹ کے ساتھ بنی مطلب کے جھوٹ کو بھی لے لو کل کو تم دیکھوگے کون قتل کرتا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کو قریش کے قافلے کے بارے میں بتایا گیا جو شام سے آرہا ہے اور اس میں ابو سفیان بن حرب مخرعہ بن نوفل، عمرو بن عاص، اور قریش کی ایک جماعت تھی۔ رسول اللہ ﷺ ان کی طرف نکلے جس وقت اندر کی طرف نکلے تو آپ بنو دینار کے سوراخ تک چلے اور واپس لوٹے اور آپ لوٹ آئے ثنیہ الوداع سے اور جب رسول اللہ ﷺ نے مثلہ شروع کیا اس وقت آپ کے ساتھ تین سو سترہ آدمی تھے اور ابن ناسخ کی روایت میں ہے کہ وہ تین سو تیرہ آدمی تھے اور آپ کے بہت سے اصحاب آپ سے پیچھے رہ گئے اور انتظار کرتے رہے۔ اور یہ پہلا واقعہ تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت دی اور آپ رمضان المبارک میں نکلے۔ مدینہ منورہ میں آنے کے بعد اٹھارویں مہینے کا آغاز تھا۔ اور آپ کے ساتھ جو مسلمان تھے وہ صرف قافلے کا ارادہ رکھتے تھے آپ بنودینار کے نقب تک چلے اور مسلمان سخت راستے سے چلنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ وہ اونٹوں پر نکلے ان میں سے ایک آدمی اونٹ پر سوار کے پیچھے ہوا تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار ہونے والے علی بن ابی طالب اور مرشد بن ابی غنوی تھے اور مرشد، حمزہ کے حلیف تھے۔ وہ بھی آپ کے ساتھ تھے مگر ان کے پاس صرف ایک اونت تھا یہ لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ جب عرق الظبیہ میں تھے تو ان کو ایک سوار آتے ہوئے ملا۔ اور مسلمان چل رہے تھے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ اس کے ساتھ ٹھہرگئے اور اس سے ابو سفیان کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ جب لوگ اس خبر کے بارے میں مایوس ہوئے تو انہوں نے اس آدمی سے کہا نبی ﷺ کو سلام کرو اس نے کہا تمہارے اندر اللہ کے رسول ہیں صحابہ نے کہا ہاں ! اس نے کہا وہ کون ہیں صحابہ نے آپ کی طرف اشارہ کیا تو دیہاتی نے کہا تو اللہ کا رسول ہے جیسے تو کہتا ہے آپ نے فرمایا ہاں اس نے کہا اگر تم اللہ کا رسول ہے جیسے تو گمان کرتا ہے تو مجھ کو بتا اس چیز کے بارے میں جو میری اس اونٹنی کے پیٹ میں ہے ؟ انصار میں سے ایک آدمی بنواشہل کے قبیلہ میں سے جس کو سلتہ بن سلامہ بن وقش کہا جاتا تھا وہ بہت غصہ ہوگئے اس نے دیہاتی سے کہا تو اپنی اونٹنی پر واقع ہوجاتا کہ وہ تجھ سے حاملہ ہوجائے رسول اللہ ﷺ نے اسے ناپسند فرمایا جو کچھ مسلمہ نے کہا جب آپ نے اس کو سنا تو اسے فحش قرار دیا۔ آپ نے اس سے اعراض فرمایا پھر رسول اللہ ﷺ چلے آپ کو کوئی خبر موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی قریش کی تعداد کا علم ہوا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم کو مشورہ دو ہمارے کلام میں اور ہمارے سفر کے بارے میں ابوبکر ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ میں لوگوں میں سب سے زیادہ زمین کی مسافت کے بارے میں جاننے والا ہوں۔ ہم کو خبر دی عدی بن ابی رغباء نے کہ اونٹ فلاں نامی وادی میں ہے۔ ہم اور وہ لوگ دو فرسخ پر ہیں بدر کی طرف پھر آپ نے فرمایا اپنی رائے کا اظہار اور میری رہنمائی کرو عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ یہ قریش ہیں جب سے انہوں نے عزت اور غلبہ حاصل کیا۔ وہ ذلیل نہیں ہوئے۔ اور جب سے وہ کافر ہوئے ہیں وہ ایمان نہیں لائے۔ اللہ کی قسم آپ ضرور اپنے خاندان کے افراد سے قتال کریں گے پس اس کے لئے جو یہ تیار کیجئے اس کے لئے اعداد شمار کرلیجئے (پھر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میری رہنمائی کرتے ہو مقداد بن عمرو نے فرمایا ہم آپ کو وہ بات نہیں کہتے جسے موسیٰ کے اصحاب نے کہی تھی۔ یعنی آیت) ” فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “ (المائدہ آیت 24) آپ اور آپ کا رب جانے اور دونوں لڑیں بیشک ہم آپ کے ساتھ آپ کے پیچھے ہوں گے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اپنی رائے سے آگاہ کرو جب سعد بن معاذ ؓ نے دیکھا نبی ﷺ گے پھر رسول اللہ ﷺ کا کثرت سے اور بار بار اپنے اصحاب سے مشورہ طلب کرتے تھے۔ لوگ مشورہ دے رہے ہیں۔ اور آپ فرما رہے ہیں ان کو آپ سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ تو سعد بن معاذ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ شاید آپ ڈر رہے ہیں کہ انصار آپ کی غم خواری اور دلجوائی کا ارادہ نہ رکھتے ہوں اور وہ اسے اپنے اوپر حق خیال کرتے ہوں۔ مگر صرف اس صورت میں کہ وہ دشمن کو اپنے گھر میں اور اپنی اولاد کو اپنی عورتوں کے ساتھ اور میں انصار کی طرف سے یہ کہتا ہوں اور ان کی طرف سے جواب دیتا ہوں یا رسول اللہ ﷺ کوچ کریں جہاں آپ چاہیں اور ہمارے مالوں میں سے لے لیں جو آپ چاہیں پھر ہم کو عطا فرمائیں جو آپ چاہیں اور جو کچھ ہم سے لیں گے ہو ہم کو زیادہ محبوب ہے ان چیزوں سے جو آپ چھوڑ دیں اور جو حکم بھی آپ نے جاری کیا ہماری رائے آپ کے حکم کے تابع رہے گی۔ اللہ کی قسم اگر آپ چلتے رہے یہاں تک کہ ذی یمن کے تالاب تک پہنچ گئے ہم اور آپ کے ساتھ چلیں گے۔ جب یہ بات سعد نے فرمائی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چلو اللہ کے نام پر بیشک میں نے تحقیق دیکھ لیا ہے قوم کے مقتولین کے گرنے کو پس آپ نے بدر کے لئے ارادہ فرما لیا۔ ابوسفیان نے تھوڑا سا قیام کیا پھر ساحل سمندر کے ساتھ مل گیا اور اس نے قریش کی طرف دیکھا جب اس نے اپنا راستہ رسول اللہ ﷺ کے راستے سے بدل لیا اور ایسے یقین ہوگیا کہ اس نے محفوظ کرلیا۔ اس مال کو جو اس کے پاس ہے اور ان کو حکم دیا کہ وہ واپس لوٹ جائیں کیونکہ تم اس لئے نکلے ہوتا کہ اپنے مال اور سواروں کی حفاظت کرو اب قافلہ محفوظ ہوچکا ہے۔ اور ان کو یہ خبر جحفہ کے مقام پر پہنچی۔ ابو جہل نے کہا اللہ کی قسم ہم واپس نہیں لوٹیں گے کیونکہ کوئی بھی ہمارے بارے میں یہ رائے نہیں رکھتا کہ وہ ہمارے ساتھ لڑے گا۔ اس بات کو اخنس بن شریق نے ناپسند کیا اور وہ اس بات کو پسند کرتا تھا کہ وہ واپس لوٹ جائیں اور ان کو لوٹ جانے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے انکار کیا اور نہ مانے اور ان کو جاہلیت کی غیریت نے پکڑ لیا۔ جب اخنس مایوس ہوگیا قریش کے لوٹنے سے تو وہ بنو زہرہ کی طرف جھک گیا اور انہوں نے کہنا مان لیا اور واپس لوٹ گئے اور ان میں کوئی ایک بھی بدر میں حاضر نہیں ہوا وہ لوگ خوش ہوئے اخنس کی رائے سے اور اس نے خوب برکت حاصل کی۔ چناچہ مسلسل ان میں اس کی اطاعت ہوتی رہی یہاں تک کہ وہ مرگیا اور بنوہاشم نے بھی لوٹنے کا ارادہ کیا ان لوگوں نے جو لوٹے تو ابوجہل نے ان پر سختی کی اور کہا اللہ کی قسم تم یہ جماعت ہم میں تفریق نہیں ڈال سکے گا۔ یہاں تک کہ ہم خود لوٹ جائیں۔ رسول اللہ ﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ بدر کے قریب ایک جگہ پر اترے پھر آپ نے علی بن ابی طالب اور زبیر بن عوام انصاری ؓ کو بھیجا اپنے اصحاب میں سے ایک جماعت کے ہمراہ اور ان سے فرمایا ان ٹیلوں کے پاس جاؤ اور یہ (ٹیلہ) بدر کے ایک کنارے واقع ہیں۔ بلاشبہ میں امید کرتا ہوں کہ تم خبر کو پاؤ گے ان کنووں کے پاس جو ٹیلوں کے اوپر ہے وہ لوگ تلواروں کو لٹکائے ہوئے چلے۔ اور انہوں نے قریش کو اس کنویں کے پاس موجود پایا جس کا ذکر رسول اللہ ﷺ فرمایا تھا انہوں نے دو غلاموں کو پکڑا ان میں سے ایک حجاج بن اسود کا تھا۔ اور دوسرا ابوالعاص کا تھا جس کو اسلم کہا جاتا تھا ان کے مالک قریش کی جانب تھے ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا اور آپ اس وقت پانی کے قریب ایک خیمہ میں تے۔ انہوں نے غلاموں سے پوچھنا شروع کیا ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں کہ ان کا گمان یہ تھا کہ دونوں اس کے ساتھی ہٰں۔ اور وہ دونوں ان سے قریش کے متعلق پوچھنے لگے کہ ان میں کتنے لوگ ہیں۔ اور ان کو ان کے سردار شامل ہیں لیکن یہ لوگ ان کی باتوں کو جھٹلانے لگے کیونکہ جس شے کے متعلق خبر دے رہے تھے ان کے نزدیک وہ ناپسند یدہ تھی۔ کیونکہ یہ ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں سننا چاہتے تھے کہ قریش کو ناپسند کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور اس کی گفتگو سن رہے تھے اور اس حالت کو دیکھ رہے تھے۔ جب غلاموں کو مار پیٹ کر خوب کمزور کردیا تو وہ کہنے لگے ہاں یہ ابو سفیان اور اس کا قافلہ ہے ؟ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ’ اسفل منکم “ (یعنی وہ تم سے نیچے ہے) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” اذ انتم بالعدوۃ الدنیا وھم بالعدوۃ القصوی والرکب اسفل منکم ولو تواعدتم لاختلفتم فی المیعد ولکن لیقضی اللہ امر اکان مفعولا “۔ پس وہ اسی طرح کرتے رہے کہ جب غلام نے کہا یہ قریش تمہارے قریب آچکے ہیں۔ تو وہ ان کو جھٹلا دیتے اور جب ان دونوں نے کہا یہ ابو سفیان تو ان دونوں کو چھوڑ دیتے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان (غلاموں) کے ساتھ معاملہ ہوتے دیکھا تو آپ نے اپنی نماز سے سلام پھیر دیا۔ اور فرمایا تم کو کیا خبر دی گئی ؟ انہوں نے کہا ہم کو یہ خبر دی گئی کہ قریش آچکے ہیں آپ نے فرمایا ان دونوں نے سچ کہا اللہ کی قسم تم نے ان دونوں کو مارا جب انہوں نے سچ بولا اور تم نے ان کو چھوڑ دیا جب انہوں نے دونوں نے سچ کہا اللہ کی قسم تم نے ان دونوں کو مارا جب انہوں نے سچ بولا اور تم نے ان کو چھوڑ دیا جب انہوں نے جھوٹ بولا قریش اپنے سواروں کی حفاظت کے لئے نکلے تھے اور تم اس پر خوف کررہے ہو۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں غلاموں کو بلایا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے قریش کے بارے میں خبردی اور کہا کہ ہم کو ابو سفیان کا کوئی علم نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے سوال کیا کہ کتنی قوم ہے ان دونوں نے کہا ہم نہیں جانتے اللہ کی قسم وہ بہت ہیں۔ انہوں نے گمان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گزشتہ دن کس نے ان کو کھانا کھلایا تو انہوں نے قوم میں سے ایک آدمی کا نام لیا ان کے لئے کتنے اونٹ ذبح ہوئے انہوں نے کہا دس اونٹ پھر پوچھا۔ بلاشبہ کل سے پہلے انہیں کسی نے کھلایا تو انہوں نے دوسرے آدمی کا نام لیا آپ نے پوچھا اس نے کتنے اونٹ ذبح کئے تھے ـ؟ انہوں نے کہا نو اونٹ یہ گفتگو سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کے لشکر کی تعداد نو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہے نو اونٹوں کے ذریعہ اس کا اندازہ لگایا گیا جو انہوں نے ایک دن میں ذبح کئے تھے اور ایک دن میں دس اونٹ ذبح کئے تھے۔ صحابہ کرام ؓ سے مشورہ : رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا مجھ کو چلنے میں مشورہ دو ۔ بنوسلمۃ میں سے ایک آدمی حباب بن منذر کھڑے ہوئے اور کہا رسول اللہ ﷺ میں اس جگہ اور اس کے کنویں سے واقف ہوں اگر آپ مناسب سمجھیں کہ آپ اس میں سے کنویں تک چلیں۔ میں اس کو جانتا ہوں کہ پانی زیادہ اور میٹھا ہے۔ تو آپ اس کی طرف اتریں اور ہم قریش سے پہلے اس کنویں میں پہنچ جائیں گے اس کے سوا دوسرے کنووں کو تلاش کرلیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چلو ! کہ اللہ تعالیٰ نے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ فرمایا ہے۔ کہ وہ تمہارے لئے ہے۔ لوگوں کے دلوں میں بہت خوف واقع ہوگیا۔ اور ان میں شیطان کی جانب سے خوف زدہ اور ذلیل ورسوا کرنے کے لئے وسوسہ بھی ڈالتا تھا اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمان تیز رفتاری کے ساتھ پانی کی طرف آگے بڑھ رہے تھے۔ اور مشرکین بھی جلدی جلدی چل رہے تھے پانی کا ارادہ کرتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اس رات میں ایک بارش کو اتارا۔ تو مشرکین پر ایک بڑی مصیبت تھی کہ ان کو چلنے سے روک دیا اور مسلمانوں پر وہ ہلکی بارش تھی کہ اس نے ان کے لئے راستے اور چیزوں کو ہموار اور پختہ کردیا وہ زمین چھوٹی چھوٹی کنکریوں اور ریت والی تھی۔ مسلمان پانی کی طرف سبقت کرگئے اور اس پر آدھی رات کے وقت اترے۔ قوم کے افراد کنویں میں اتر گئے اور اس کو صاف کیا یہاں تک کہ اس کا پانی بہت ہوگیا انہوں نے بڑا حوض بنایا اس میں پانی بھر دیا اور باقی پانی ضائع کردیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انشاء اللہ کل یہ مقامات ان کے مقتولین کے گرنے کی جگہ ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” اذ یغشیکم النعاس امنۃ منہ وینزل علیکم من السماء مآء لیطھرکم بہ ویذھب عنکم رجز الشیطن ولیربط علی قلوبکم ویثبت بہ الاقدام (11) “ پھر رسول اللہ ﷺ نے حوضوں پر صف بنالی۔ جب مشرکین سامنے آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! یہ قریش آچکے ہیں اپنے تکبر اور اپنے فخر کے ساتھ آپ سے جھگڑا کرتے ہیں اور اپنے رسول کو جھٹلاتے ہیں اے اللہ میں آپ سے اس وعدہ کا سوال کرتا ہوں۔ جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ ابوبکر ؓ کا بازو پکڑے ہوئے تھے۔ اور فرمایا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کا جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے ابوبکر ؓ نے فرمایا آپ خوش ہوجائیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے ضرور پورا فرمائیں گے۔ جو آپ سے وعدہ فرمایا ہے۔ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے اور مسلمانوں کے لئے دعا کو قبول فرمایا مشرکین آئے اور ان کے ساتھ سراقہ بن جعشم کی شکل میں ابلیس بھی تھا۔ وہ اس کو بتارہا تھا کہ بنوکنانہ ان کے پیچھے ہیں وہ اس کی مدد کے لئے آرہے ہیں۔ اور آج کے دن لوگوں میں سے تم پر کوئی غالب نہیں ہوسکتا اور میں تمہارے ساتھ ہوں جب ان لوگوں کو بنو کنانہ کے چلنے کی خبر دی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ( آیت) ” ولا تکونوا کالذین خرجوا من دیارہم بطرا ورئآء الناس “ یہ آیت اور جو اس کے بعد ہے اور مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے کہا جب انہوں نے محمد ﷺ کے ساتھ تھوڑی تعداد کو دیکھا کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکہ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری (آیت) ” ومن یتوکل علی اللہ فان اللہ عزیز حکیم (49) “۔ مشرکین میدان میں اترے اور جنگ کے لئے خوب کوشش کی اور شیطان ان کے ساتھ تھا ان سے جدا نہیں تھا اور ان کے خون کا اور اس قافلے کا بدلہ لے سکتا ہے۔ جس پر محمد ﷺ نے حملہ کی کوشش کی اور لوگوں کو مطالبہ بھی کیا یہ بدلہ لیا جائے بلاشبہ وہ لوگ محمد ﷺ سے طلب نہیں کرتے ہیں سوائے اس قافلے کے اور اس آدمی کے خون کے بدلے کے عتبہ نے کہا ہاں ٹھیک ہے تو نے خوب اچھا کہا ہے۔ اور اچھائی کی طرف دعوت دی ہے تو اپنے کنبے میں کوشش کر اور میں اس بارے میں کوشش کرتا ہوں تو حکیم بن حزام نے قریش کے سرداروں کے پاس جاکر اس کی کوشش کی کہ ان کو اس کی طرف بلایا جائے عقبہ اپنے اونٹ پر سوار ہوا اور مشرکین کی صفوں میں اپنے ساتھیوں کی طرف نکلا اور کہا اے میری قوم میری اطاعت کرو۔ بلاشبہ تم نہیں طلب کرتے اس کے پاس سے سوائے ابن الخضرمی کو اور جو انہوں نے تمہارے قافلہ پر حملہ کیا اس کے بدلہ کو اور میں اہتمام کرتا ہوں اس کو پورا کرنے کے لئے اور تم اس آدمی کو چھوڑو اگر یہ جھوٹا ہے پھر دوسرے لوگ اس کو قتل کردیں گے سوائے عرب کے ان میں سے کچھ لوگ ہیں اور تمہارے لئے ان میں قریش رشتہ داری ہے۔ اور بلاشبہ تم اگر ان کو قتل کردیں گے سوائے عرب کے ان میں سے کچھ لوگ ہیں اور تمہارے لئے ان میں قریش رشتہ داری ہے۔ اور بلاشبہ تم اگر ان کو قتل کرو گے تو ایک آدمی تم میں سے برابر دیکھے گا اپنے باپ اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا چچا کے بیٹے کے قاتل کو جس کے سبب لوگوں میں ہلاکت اور بغض اور کینہ عام ہوجائے۔ اور اگر تم آدمی بادشاہ ہو تو تم اپنے بھائی کی حکومت میں ہوں گے اور اگر وہ نہیں بن سکتے یہاں تک کہ وہ اپنی تعداد کے برابر افراد کو قتل کردیں گے اور مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ تمہارے لئے ان کے خلاف شکست ہوجائے گی ابو جہل نے اس کی باتوں کو پسند نہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے فیصلہ ہو کر رہتا ہے۔ ابوجہل نے مقتول کے بھائی ابن حذمی سے ملاقات کی اس نے کہا یہ عتبہ ہے لوگوں کو جنگ نہ کرنے پر آمادہ کریں حالانکہ اپنے بھائی کی دیت پاسکتا ہے اس کا گمان ہے کہ تو اس کو قبول کرلے گا۔ کیا دیت قبول کرنے سے تم کو حیا نہیں آئے گی۔ گمان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اور وہ عتبہ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ قوم میں سے اگر کسی ایک کے پاس نیکی اور بھلائی ہے اور وہ اس طرح اونٹوں والوں کے پاس ہے اگر وہ لوگ اس کی اطاعت کریں گے تو ہدایت حاصل کرلیں گے۔ ابوجہل نے قریش کو لڑائی پر ابھارا اور عورتوں کو حکم دیا کہ وہ عمر نام کی دھائی دیں وہ کھڑی ہوئیں اور چیخ چیخ کر پکارنے لگیں واعمراہ واعمراہ اور یہ لوگوں کو جنگ پر آمادہ کرنے لگے۔ قریش لڑائی پر جمع ہوگئے اور عتبہ نے ابوجہل سے کہا عنقریب آج کے دن وہ جان لیں گے کہ دو کاموں میں سے کون سا کام صحیح اور سود مند ہے۔ قریش نے میدان جنگ میں صفیں باندھیں اور انہوں نے عبد بن وھب سے کہا سوار ہو کر جاؤ محمد ﷺ اور اس کے اصحاب کو دراؤ اور تعداد کا اندازہ لگاؤ عمیر اپنے گھوڑے پر بیٹھا رسول اللہ ﷺ اور اس کے اصحاب کے گرد چکر لگایا پھر وہ مشرکین کی طرف لوٹ آیا اور کہا میرے اندازے کے مطابق تین سو جنگجو ہیں (اس سے) کچھ زیادہ ہوں گے یا اس سے کچھ کم ہوں گے اندازا سترہ اونٹ ہیں یا اس طرح (کی تعداد ہوگی) لیکن وہ مجھ کو دیکھ رہے تھے یہاں تک کہ میں دیکھ رہا تھا کیا ان کے لئے (کوئی اور) مدد ہے یا گھاٹ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ ان کے گرد گھوما اور انہوں نے اپنے گھڑ سوار ان کے ساتھ بھیجے تو انہوں نے بھی ان کے گرد چکر لگائے پھر وہ لوٹ آئے اور کہا نہ ان کی اور کوئی مدد ہے اور نہ کوئی گھات میں بیٹھے ہیں بیشک وہ تو اونٹوں کا نوالہ ہے۔ عمیر نے قریش سے کہا قوم میں قریش پیدا کرو ان کے جذبات کو للکارو۔ چناچہ عمیر نے سو شہسواروں کے ساتھ اسلامی لشکر کی صف پر حملہ کردیا۔ رسول اللہ ﷺ لیٹے ہوئے تھے اور آپ نے اصحاب سے فرمایا تم قتال نہ کرنا یہاں تک کہ تم کو اجازت دی جائے۔ آپ کو نیند نے ڈھانک لیا اور آپ پر غلبہ کرلیا جب لشکر کے بعض لوگوں نے بعض کی طرف دیکھا تو ابوبکر ؓ نے کہنا شروع فرمایا یا رسول اللہ ﷺ (مشرک) قوم قریب آگئی اور ہم کو انہوں نے پالیا رسول اللہ ﷺ جاگے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی نیند میں دکھایا (کافروں کو) تھوڑی تعداد میں اور مشرکین کی آنکھ میں مسلمانوں کو بھی تھوڑا دکھایا۔ یہاں تک کہ قوم کے بعض افراد بعض میں حرص اور لالچ کرنے لگے (یعنی وہ ان کو قتل کرنے کا ارادہ کرنے لگے) کیونکہ اللہ تعالیٰ اگر آپ کو ان کی کثیر تعداد دکھاتا تو وہ بزدل ہوجاتے اور (لڑائی کے) حکم میں آپس میں جھگڑتے جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے درمیان کھڑے ہوائے اس کو وعظ فرمایا اور ان کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت واجب کردی ہے اس شخص کے لئے جو آج شہادت پائے گا عمیر بن حجام آٹا گوندھتے ہوئے کھڑے ہوئے اور وہ صحابہ ؓ کے لئے آٹا گوندھا کرتے تھے جب نبی ﷺ کا قول سنا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے لئے جنت ہے مگر میں قتل کردیا جاوں فرمایا ہاں اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں پر دھاوا بول دیا اپنی جگہ پر اور شہید ہوگئے یہ پہلا مقتول تھا جو قتل ہوا پھر اسود بن عبدالاسد مخزن سامنے آیا اور اپنے معبودوں کی قسم کھاتے ہوئے کہا میں ضرور اس حوض میں پانی پیئوں گا جس کو محمد ﷺ نے بنایا ہے۔ اور میں ضرور اس کو گراوں گا جب حوض کے قریب ہوا حمزہ بن عبد المطلب ؓ اس سے ملا اور اس کے پاوں کو کاٹ دیا پھر وہ سرین کے بل چلتا ہوا سامنے آیا یہاں تک کہ حوض کے اندر گرپڑا حمزہ اس کے پیچھے لگے یہاں تک کہ اس کو تقل کردیا پھر عتبہ بن ربیہ اپنے اونٹ سے اترا اور اس نے آواز لگائی : ہے کوئی مقابلہ کے لئے نکلنے والا۔ اس کو اس کے بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید بھی پیچھے سے آملے۔ دونوں نے آواز لگائی اور دونوں مقابلے کا سوال کررہے تھے انصار میں سے تین آدمی ان کی طرف اٹھے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھ کر حیا محسوس کی۔ اور ان کو آواز دی کہ تم لوٹ آؤ اپنی صفوں کی طرف اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کے چچا کے بیٹوں کو آنا چاہئے۔ حمزہ، علی بن ابی طالب اور عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب کھڑے ہوئے حمزہ نے عتبہ کو قتل کیا۔ عبیدہ نے شیبہ کو قتل کیا علی نے ولید کو قتل کیا اور شیبہ نے عیبدہ کی ٹانگ پر ضرب لگائی اور اس کو کاٹ دیا، حمزہ اور علی نے ان کو بچا لیا اور ان کو اٹھالیا یہاں تک کہ وہ صفرا کے مقام پر وفات پاگئے اور اس کے پاس ہندبنت عقبہ نے نذر مانی کہ وہ ضرورچبائے گی۔ حمزہ کے جگر کو اگر میں نے اس پر قدرت حاصل کرلی پس دونوں لشکروں کے آپس میں جنگ کرنے سے پہلے یہ افراد قتل ہوگئے مسلمان اللہ تعالیٰ کی طرف گڑ گڑائے اور اس سے مدد مانگی جب انہوں نے لڑائی کو دیکھا کہ وہ شروع ہوچکی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھایا اور اللہ تعالیٰ سے اس (فتح) کا سوال کیا جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا اور اس سے مدد کا بھی سوال کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ اگر شرک والی جماعت اس ایمان والی جماعت پر غالب آجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ضرور مدد فرمائیں گے اور آپ کے چہرہ کو ضرورروشن فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے اطراف میں فرشتوں کا لشکر اتارا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد کو نازل فرما دیا ہے۔ اے ابوبکر ؓ خوش ہوجاؤ فرشتے نازل ہوگئے میں نے جبرائیل (علیہ السلام) کو پگڑی باندھے ہوئے دیکھا ہے۔ جو گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے تھے۔ آسمان و زمین کے درمیان جب وہ زمین کی طرف اترے تو اس گھوڑے پر بیٹھ گئے۔ مجھ سے ایک لحظہ میں غائب ہوگئے اور میں نے ان کے چہرہ پر غبار کو دیکھا ابو جہل نے کہا اے اللہ دو دینوں میں بہتر دین کی مدد فرما۔ اے اللہ ہمارا دین پرانا ہے اور محمد ﷺ کا دین نیا ہے۔ اور شیطان کے بل الٹے پاوں بھاگا جب اس نے فرشتوں کو دیکھا اور اپنے دوستوں کی مدد سے دست بردار ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہتھیلی کو کنکریوں سے بھر کر مشرکین کے چہروں کی طرف پھینکا اللہ تعالیٰ نے ان کنکریوں کو عظیم مثال عطا فرمائی۔ اور ان کنکریوں نے مشرکین میں سے کسی مرد کو نہ چھوڑا مگر یہ کہ ان کی آنکھوں کو بھر دیا اور فرشتے ان کو قتل کررہے تھے اور ان کو قید کررہے تھے اور ان میں سے ہر آدمی چہرے کے بل گرتا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ جدھر منہ کرتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں مٹی پڑجاتی ہے۔ بدر میں مشرکین و منافقین ذلیل ہوئے : (لڑائی ختم ہونے کے بعد) قریش مکہ کی طرف لوٹے شکست کھاتے ہوئے اور مغلوب کئے ہوئے بدر کے واقعہ سے اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور منافقین کو ذلیل ورسوا کردیا۔ مدینہ منورہ میں کوئی یہودی اور کوئی منافق باقی نہیں رہا۔ مگر وہ واقعہ بدر کی وجہ سے اپنی گردن کو جھکائے ہوئے تھا۔ اور یہ حق و باطل کے درمیان امتیاز کا دن تھا کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے شرک اور ایمان کے درمیان فرق کردیا۔ اور یہودیوں نے یقین کرلیا کہ یہ وہی نبی ہیں کہ جن کی صفت ہم تورات میں پاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی قسم آج کے بعد سے جو علم کو بلند کرے گا وہی غالب آئے گا۔ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ کی طرف لوٹ آئے اور تثنیۃ الوداع سے داخل ہوئے۔ قرآن نازل ہوا کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر اپنی ایسی نعمت کا تذکرہ فرمایا جنہوں نے ناپسند کیا تھا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف نکلنے کو اور فرمایا (آیت) ” کما اخر جک ربک من بیتک بالحق، وان فریقا من المومنین لکرھون (5) یہ آیت اور اس کے ساتھ اور تین آیات نازل ہوئی اور اس سے دعا قبول کرنے کا کرتے ہوئے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کے لئے (اور فرمایا) (آیت) ” اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم “ (الا یہ) اور دوسری آیات بھی نازل فرمائی اس کے ساتھ ہے جب اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کردی، تو یہ آیت نازل فرمائی۔ یعنی (آیت) اذ یغشیکم النعاس “ الایہ بھی ان کو خبر دی اس بات کی جو فرشتوں کی طرف وحی کی گئی ان کی مدد کرنے سے (اسی کو فرمایا) (آیت) ” اذ یوحی ربک الی الئکۃ انی معکم “ الا یہ اور جو اس کے بعد وہ بھی نازل فرمائی اور مشرکین کے قتل میں نازل فرمائی اور مشرکین کے قتل میں نازل فرمایا اور جو رسول اللہ ﷺ نے ایک فیصلہ کے مطابق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ (آیت) ” ان تستفتحوا جاء کم الفتح “ اللہ تعالیٰ نے (آیت) یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ “ کا حکم نازل فرمایا سات آیات میں سے اور اس کا حکم کا تذکرہ فرمایا (آیت) اذ انتم بالعدوۃ الدنیا “ نازل فرمایا اور اس کے بعد والی آیت مجروسی کے بارے میں نازل فرمایا اور اس میں اس آدمی کی بات کو بھی اتارا جس نے مسلمانوں کو تھوڑی تعداد میں دیکھ کر کہا (آیت) ” غر ھولاء دینہم “ (یہ ان کو ان کے دین نے مغرور کردیا) اور مشرکین کے مقتولین اور اس کے تابعداری کرنے والوں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا “ (آخرتک) اور اس کے ساتھ آٹھ آیات اور بھی ہیں۔ : 2۔ ابن اسحاق اور ابن جریر نے اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ابوسفیان کے بارے میں سنا کہ وہ شام سے آرہا ہے تو مسلمانوں کو ان کی طرف بلایا اور فرمایا یہ قریش کا قافلہ ہے جس میں ان کا مال تجارت کثرت سے ہے۔ ان کی طرف نکلو اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب تمہاری مشکل کھول دے گا۔ اور لوگوں نے اس رائے کو قبول کیا ان میں سے بعض نے حقیر جانا۔ اور ان میں سے بعض کے لئے ابو جہل ثابت ہوا کہ ان کو یہ خیال نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ لڑائی کریں گے۔ ابوسفیان جب حجاز سے قریب ہوا تو اس نے خبروں (کے حاصل کرنے) میں کوہ لگائی اور جو سوار ملتا اس سے پوچھتا تھا لوگوں کے معاملے کے بارے میں خوف کرتے ہوئے یہاں تک کہ ایک سور نے اسے یہ خبر پہنچا دی کہ محمد ﷺ نے اپنے اصحاب کو تیرے لیے جمع کیا ہوا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی وہ خوف زدہ ہوگیا ابوسفیان نے ضمضم بن عمرو غفاری کو مزدوری پر لیا اور اسکو مکہ بھیجا اور اس کو حکم کیا کہ وہ قریش کو ساتھ لے کر آئے اور ان کو اپنے مالوں کے لئے جمع کرے اور ان کو خبردے کہ محمد ﷺ نے اپنے اصحاب کے ساتھ قافلہ کو روکا ہے۔ وہ جلدی جلدی مکہ کی طرف نکلا اور رسول اللہ ﷺ جب وہ جبران میں پہنچے آپ کے پاس خبرآئی کہ قریش بھی اپنے قافلے کی حفاظت کے لئے چل پڑے ہیں نبی ﷺ نے لوگوں سے مشورہ طلب فرمایا ابوبکر ؓ کھڑے ہوگئے اور بہت اچھی گفتگو فرمائی پھر عمر کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی بہت اچھی گفتگو فرمائی پھر مقداد بن عمرو ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ حکم نافذ کیجئے جو کچھ اللہ نے حکم فرمایا ہے اور ہم آپ کے ساتھ ہیں اللہ کی قسم ہم آپ کو ہرگز ایسا نہیں کہیں گے جیسے بنواسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا (آیت) ” فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “ (المائدہ آیت 24) آپ اور آپ کا رب لڑے بلکہ ہم تمہارے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے اگر آپ ہم کو برک الغماد تک لے چلیں تو ہم وہاں پہنچنے تک آپ کے ساتھ رہیں گے۔ اس کے آگے بھی یہاں تک کہ ہم اس (دشمن) کو پہنچیں گے رسول اللہ ﷺ نے دعائے خیر سے نوازا اور اس کو دعا دی۔ سعد بن معاذ ؓ نے آپ سے فرمایا اگر آپ ہم کو اس سمندر پر لے جائیں اور آپ اس میں کود جائیں تو ہم بھی اس میں چھلانگ لگا دیں گے آپ کے ساتھ اور ہم میں سے کوئی آدمی پیچھے نہیں رہے گا۔ اور ہم کل کو اپنے دشمن سے ملنے کو ناپسند نہیں کرتے ہم البتہ جنگ کے دوران جبر کرنے والے ہیں اور ملاقات میں سچ بولنے والے ہیں۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہم سے وہ چیز دکھائے گا جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت پر بھروسہ کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ سعد ؓ کی گفتگو سے بہت خوش ہوئے اور انتہائی خوشی کا اظہار فرمایا۔ چلو اور تم کو خوشخبری ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے دو جماعتوں میں سے ایک جماعت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے اللہ کی قسم گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں قوم کے مقتولین کی جگہوں کو۔ دو جماعت میں سے ایک پر فتح کا وعدہ : 3:۔ ابن جریر اور ابن منذر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) واذیعدکم اللہ احدی الطائفتین “ کے بارے میں فرمایا کہ شام سے مکہ والوں کا قافلہ آیا مدینہ والوں کو یہ خبر پہنچی چناچہ وہ قافلے کی راہ روکنے کے ارادہ سے باہر نکلے۔ اور ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ بھی تھے یہ خبر مکہ والوں کو پہنچی تو جلدی جلدی قافلہ کی جانب نکل پڑے تاکہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے اصحاب غالب نہ ہوجائیں وہ قافلہ رسول اللہ ﷺ سے آگے نکل گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دو جماعتوں میں سے ایک جماعت کا وعدہ فرمایا تھا اور قافلہ سے ملنا اور ان کو زیادہ پسند تھا اس کے ساتھ مقابلہ نسبتا آسان تھا اور تعداد کے لحاظ سے بھی مختصر تھا جب قافلہ نکل گیا اور رسول اللہ ﷺ کی گرفت سے آگے بڑھ گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ قوم ( یعنی قریش) کے ارادہ سے مسلمانوں کو لے کر چلے تو قریش کی قوت اور طاقت کے سبب بعض لوگوں نے ان کے چلنے کو ناپسند کیا۔ نبی کریم ﷺ اور مسلمان اترے کہ ان کے اور پانی کے درمیان ریت کا ٹیلہ تھا۔ مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچی اور شیطان نے ان کے دلوں میں غصہ ڈال دیا تو ان کے درمیان وسوسہ ڈالنا شروع کردیا وہ ان کے یہ وسوسہ ڈالنے لگا کہ تم یہ گمان رکھتے ہو کہ تم اللہ کے دوست ہو اور تمہارے اندر اللہ کے رسول ہیں حالانکہ مشرکین پانی پر غالب ہیں اور تم ایسے مقام میں پہنچے جو پانی سے انتہائی دور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بارش کی وجہ سے ریت جم گئی۔ لوگ اور جانور اس پر چلتے گئے اور قوم (قریش) کی طرف وہ روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد فرمائی اور ایمان والوں کی ہزار فرشتوں کے ساتھ اور جبرائیل (علیہ السلام) کی قیادت میں یہ فرشتے تھے۔ اور میکائل (علیہ السلام) بھی پانچ سو فرشتوں میں تھے اور ابلیس ایک لشکر میں آیا اس کے ساتھ ایک جھنڈا تھا بنومدلج کے لوگوں کی صورت میں اور شیطان سراقہ بن جعشم کی صورت میں تھا شیطان نے مشرکین سے کہا (آیت) لاغالب لکم الیوم من الناس وانی جارلکم “ جب قوم نے صفیں بنائی تو ابوجہل نے کہا اے اللہ ہم حق کے ساتھ زیادہ حق دار ہیں پس ہماری مدد فرما رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور فرمایا اے میرے رب ! اگر تو نے زمین میں اس (مسلمان) کی جماعت کو ہلاک دیا تو ہرگز تیری زمین میں کبھی کوئی عبادت نہیں کرے گا۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا ایک مٹھی مٹی لیجئے۔ اور ان کے چہروں پر پھینکے پس مشرکین میں سے ایسا کوئی نہیں تھا جس کی آنکھوں اور ناک اور اس کے منہ میں اس مٹھی میں سے ( مٹی) نہ پہنچی ہو تو (مشرک) پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے جب ابلیس نے اس کو دیکھا اور اس کے ہاتھ مشرکین میں سے ایک آدمی کے ہاتھ میں تھا۔ ابلیس نے اپنے ہاتھ کو کھینچا پھر وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس کے گروہ میں بھی (بھاگا) ایک آدمی نے کہا اے سراقہ کیا تو یہ نہیں کہتا تھا کہ تو تو ہمارا نگہبان ہے۔ اس نے کہا جو میں دیکھ رہا ہے وہ تم نہیں دیکھ رہے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ کا عذاب سخت ہے اور یہ اس نے اس وقت کہا جب اس نے فرشتوں کو دیکھا۔ : 4۔ عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) واذیعدکم اللہ احدی الطائفتین “ کے بارے میں فرمایا دو جماعتوں میں سے ایک تو ابوسفیان کا وہ قافلہ ہے۔ جو شام سے واپس آرہا تھا۔ اور دوسری جماعت ابوجہل بن ہشام کی تھی کہ اس کے ساتھ قریش کی ایک خاص تعداد تھی۔ مسلمانوں نے اور قتال کرنے کو ناپسند کیا اور وہ قافلہ سے ملنے کو محبوب رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا وہی کچھ ہوا۔ 5 :۔ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) وتودون ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ابو سفیان کا قافلہ تھا۔ محمد ﷺ کے اصحاب نے اس کو پسند کیا۔ کیونکہ قافلہ ان کے لئے مفید تھا۔ اور لڑائی لڑنے سے انہوں نے اعتراض کیا۔ 6۔ : عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقطع دابر الکفرین “۔ یعنی کافروں کی جڑ کاٹ دینا اور ان کو نیست ونابود کردینا۔ 7:۔ فریابی اور ابن ابی شیبہ اور احمد اور عبد بن حمید اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا اور ابویعلی اور ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور طبرانی اور ابوالشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا جب آپ بدر سے فارغ ہوگئے کہ آپ پر قافلہ (کو پکڑنا) لازم ہے اس کے سوا کوئی چیز قبول نہیں۔ تو عباس ؓ نے آپ سے کہا اور وہ آپ کی قید میں قید تھے کہ یہ آپ کے لئے مفید نہیں ہوگا آپ نے فرمایا کیوں ؟ ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو جماعتوں میں سے ایک جماعت کا وعدہ فرمایا تھا اور جو آپ سے وعدہ فرمایا تھا وہ آپ کو عطا فرما دیا آپ نے فرمایا تو نے سچ کہا۔
Ayahs 8:9–10

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے سو اس نے تمہاری دعا قبول فرمائی کہ میں ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کروں گا جو مسلسل آتے رہیں گے

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور اللہ نے اس امداد کو نہیں بنایا مگر بشارت اور تاکہ مطمئن ہوجائیں تمہارے دل اور مدد صرف اللہ کی طرف سے ہے۔ بیشک اللہ غلبہ والا حکمت والا ہے۔

1:۔ ابن ابی شیبہ اور احمد اور مسلم اور ابوداود اور ترمذی اور ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابو عوانہ اور ابن حبان اور ابو الشیخ اور ابن مردویہ اور ابونعیم اور بہیقی دونوں نے دلائل میں عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو عمربن خطاب ؓ نے بیان فرمایا جب بدر کا دن تھا۔ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کو شمار کیا تو وہ تین سو دس سے کچھ اوپر تھے۔ اور مشرکین کی طرف دیکھا اور وہ ہزار سے زیادہ تھے۔ نبی ﷺ قبلہ رخ ہوئے پھر اپنے ہاتھ کو لمبا فرمایا اور اپنے رب کو پکار رہے تھے۔ اے اللہ وہ وعدہ پورا فرمائیے جو آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے اے اللہ اگر تو نے اہل اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کردیا تو زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی آپ برابر اپنے رب کو پکارتے رہے اپنے ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے اور قبلہ کی طرف رخ کئے ہوئے یہاں تک کہ آپ کی چادر مبارک کندھوں سے نیچے گر پڑی۔ ابوبکر ؓ تشریف لائے آپ کی چادر کو اٹھا کر آپ کے کندھوں پر ڈال دی پھر آپ کو پیچھے کی جانب سے پکڑ لیا۔ اور عرض کیا اے اللہ کے نبی آپ کی التجاء پر آپ کا رب آپ کے لئے کافی ہے۔ وہ وعدہ جو اس نے تمہارے ساتھ فرمایا ہے وہ پورا فرمائے گا تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ (آیت ) ” اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملئکۃ مردفین (9) “ جب وہ دن ہوا اور آپس میں جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی اور ان میں سے ستر آدمی قتل کردیئے گئے اور قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر، عمر، اور علی ؓ سے مشورہ فرمایا ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ چچا کے بیٹے ہیں اور خاندان کے افراد ہیں میری تو یہی رائے ہے کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے اور جو کچھ ہم ان سے لیں گے اس سے ہماری قوت ہوگی کافروں پر۔ اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے گا اور یہ ہمارے لئے مدد کرنے والے ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن الخطاب تیری کیا رائے ہے ؟ میں نے کہا میری ابوبکر والی رائے نہیں لیکن میری رائے یہ ہے کہ اگر عمر کو فلاں قریبی رشتہ دار پر قدرت حاصل ہوجائے تو میں اس کی گردن ماردوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جان لیں گے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لئے کوئی محبت نہیں یہ لوگ ان کے سردار ان کے امام اور ان کے پیشوا ہیں جو ابوبکر ؓ نے کہا تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کو پسند فرمایا اور جو میں نے کہا اس کو پسند نہیں فرمایا اور ان سے فدیہ لے لیا جب کل یا رسول اللہ مجھ کو بتائیے آپ اور آپ کے ساتھی کس لئے رو رہے ہیں اگر مجھے بھی رونا آجائے تو میں بھی رولوں اگر میں نے رونے کو نہ پایا تو میں رونے کی صورت بنا لوں گا تم دونوں کے رونے کی وجہ سے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو تیرے اصحاب پر مجھ کو فدیہ لینے کا حکم نافذ کیا گیا ہے۔ اسے تمہارے عذاب کا سبب بنا دیا گیا۔ جو اس قریب والے درخت سے بھی زیادہ قریب ہے اور اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض “۔ سے لے کر (آیت) ” لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم “ تک یعنی جو تم نے فدیہ لیا ہے اس کے عوض بہت بڑی سزا کا سامنا ہوتا۔ پھر ان کے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا پھر جب آئندہ سال غزوہ احد ہوا تو غزوہ بدر کے دن فدیہ لینے کی ان کو سزا دی گئی پھر ان میں سے ستر آدمی مقتول ہوئے۔ اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب بھاگ گئے اور آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے اور آپ کے سر مبارک کا خود توڑ لیا گیا اور آپ کے چہرہ مبارک پر خون بہنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے اتارا (آیت) ” اولما اصابتکم مصیبۃ قد اصبتم مثلیھا قلتم انی ھذا قل ھو من عند انفسکم “ تمہارے فدیہ لینے کی وجہ سے ( یہ مصیبت تم کو پہنچی) ابن عباس نے فرمایا جب مسلمانوں میں سے کوئی آدمی اپنے سامنے مشرکین میں سے کسی آدمی پر شدت سے حملہ آور ہوتا تھا تو وہ اپنے اوپر کی جانب سے مارنے کی آواز اور گھڑ سوار کی آواز کو سنتا تھا۔ جو یہ کہہ رہا تھا اقدم چیزدم یعنی جب وہ مشرک کو اپنے سامنے دیکھتا تو اپنے گھوڑے سے کہتا اے خیر دم آگے بڑھ پس وہ چت گرپڑتا۔ اور وہ اس کی طرف دیکھتا تو اس کی ناک ٹوٹی ہوتی اور اس کا چہرہ اس طرح زخمی ہوتا گویا اس پر کوڑے سے ضرب لگائی گئی ہے پس سب کے سب حاضر تھے کہ ایک انصاری آیا اور یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ پر بیان کیا آپ نے فرمایا تو نے سچ کہا یہ تیرے آسمان سے آنے والی مدد تھی۔ اس دن ستر کافر قتل ہوئے اور ستر قیدی بنالئے گئے۔ 2:۔ ابن جریر نے علی ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل ایک ہزار فرشتوں کو ساتھ لے کر نازل ہوئے رسول اللہ ﷺ کے دائیں جانب سے اسی جانب ابوبکر تھے اور میکائل ایک ہزار فرشتوں کو لے کر نازل ہوئے نبی کریم ﷺ کے بائیں جانب اور میں بھی بائیں جانب میں تھا۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا یہ جبرائیل ہیں جو اپنے گھوڑے کے سر کو پکڑے ہوئے ہیں اور اس پر لڑائی کا سامان بھی ہے۔ بدر میں فرشتوں کی مدد اترنا : 4:۔ سعید اور ابن جریر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس ہزار سے زیادہ نبی کریم ﷺ کی مدد نہیں کی گئی جس کو اللہ تعالیٰ نے سورة انفال میں ذکر فرمایا۔ اور جو تین ہزار یا پانچ ہزار کا ذکر کیا گیا وہ صرف خوشخبری اور بشارت ہے پس ان کی مدد صرف ایک ہزار سے کی گئی۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ اور بخاری نے رفاعہ بن رافع الزرقی ؓ (جو اہل بدر میں سے تھے) سے روایت کیا کہ جبرائیل نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم اپنے نزدیک بدر والوں کو کون سے درجہ میں شمار کرتے ہو ؟ آپ نے فرمایا وہ سب مسلمانوں میں سے افضل ہیں یا اس طرح کا کوئی اور کلمہ فرمایا تو جبرائیل نے فرمایا اور اسی طرح جو فرشتے بدر میں حاضر ہوئے (وہ بھی افضل ہیں) 6:۔ ابو الشیخ نے عطیہ بن قیس ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) سبز رنگ کی گھوڑی پر سوار تھے اور غبار سے اٹے ہوئے تھے۔ اور جبرائیل کے ہاتھ میں نیزہ تھا اور ان کے اوپر زرہ تھی اور انہوں نے فرمایا اے محمد ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف مجھے بھیجا ہے اور مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں آپ سے جدا نہ ہوں یہاں تک کہ آپ راضی ہواجائیں کیا آپ راضی ہوگئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں (میں راضی ہوں) 7: ابن ابی شیبہ اور ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مردفین “ سے مراد ہے مدد۔ 8:۔ ابی شیبہ اور ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مردفین “ سے مراد ہے ہر فرشتے کے پیچھے ایک اور فرشتہ تھا۔ 10:۔ ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ہزار فرشتے پے درپے تھے اور تین ہزار اترنے والے تھے اور اس طرح چار ہزار ہوگئے اور یہی مسلمانوں کے لئے مددگار تھے ان کی سرحدوں میں۔ : 11 ابن ابی شیبہ اور عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مردفین “ سے مراد ہے مدد کرنے والے فرشتے۔ : 21 عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مردفین “ سے مراد ہے پے درپے اترنے والے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی۔ پہلے ایک ہزار (فرشتوں) کے ساتھ پھر تین ہزار کے ساتھ پھر اس کو پانچ ہزار سے پورا کردیا اور فرمایا (آیت) ” وما جعلہ اللہ الا بشری ولتطمئن بہ قلوبکم “ یعنی فرشتوں کے نازل ہونے کے ساتھ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں پھر انہوں نے بیان کیا کہ ہم کو بتایا گیا کہ عمر ؓ نے فرمایا کہ غزوہ بدر کے دن کے بارے میں ہمیں کوئی شک نہیں ہے کہ فرشتے ہمارے ساتھ تھے لیکن اس کے بعد کے متعلق اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ : 13 ابن جریر اور ابوالشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مردفین “ سے مراد ہے ان کا بعض فرشتے بعض کے پیچھے تھے۔ : 14 ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما جعلہ اللہ الا بشری “ یعنی اللہ تعالیٰ ان (فرشتوں) کو نازل فرمایا کہ وہ ان کے نزول کے سبب ان کو خوش کردے۔
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جب چین دینے کے لئے اللہ اپنی طرف سے تم پر اونگھ طاری فرما رہا تھا اور تم پر آسمان سے پانی نازل فرما رہا تھا کہ تمہیں پاک کردے اور تم سے شیطان کے وسوسے کو دور فرما دے اور تاکہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور اس کے ذریعہ قدموں کو جما دے۔

: 1 ابو یعلی بیہقی نے دلائل میں علی ؓ سے روایت کیا کہ بدر کے دن مقداد ؓ کے گھوڑے کے سوا کسی کا گھوڑا ہمارے درمیان نہیں تھا میں نے دیکھا کہ ہم سب سور ہے تھے مگر رسول اللہ ﷺ درخت کے نیچے صبح تک نماز پڑھتے رہے۔ : 2 ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) اذ یغشیکم النعاس امنۃ منہ “ کے بارے میں فرمایا ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت بدر کے دن ایمان والوں کے بارے میں نازل ہوئی جس دن اللہ تعالیٰ نے ان کو اونگھ سے ڈھانک لیا تھا تاکہ وہ اس کی طرف سے باعث سکون ہو۔ : 3۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” امنۃ “ یعنی وہ اللہ کی طرف سے تسکین اور راحت کا سبب ہو۔ : 4۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اونگھ سر میں ہوتی ہے اور نیند دل میں ہوتی ہے۔ 5:۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اونگھ ایک سکون تھا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور دو اونگھیں تھیں ایک اونگھ بدر کے دن اور ایک اونگھ احد کے دن۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابوا لشیخ نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وینزل علیکم من السماء ماء الیطھر کم بہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ بارش ہے جو اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کے دن برسائی۔ : 7۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) وینزل علیکم من السماء ماء لیطہرکم بہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ایک بارش تھی جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل فرمائی اونگھ سے پہلے بارش سے غبار ختم ہوگیا۔ زمین کی تہہ جم گئی اور اس کے ذریعہ ان کے دل خوش ہوگئے اور اس کے ساتھ ان کے قدم جم گئے۔ : 8۔ ابن اسحاق اور ابن ابی حاتم نے عروہ بن زبیر (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بادل کو بھیجا اور وادی نرم زمین والی تھی۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کی جانب اتنا برسے جس سے زمین کی تہہ جم گئی اور ان چلنے میں رکاوٹ پیش نہیں آئی اور قریش کی جانب وہ اتنا برسا کہ اس کے سبب ان کا چلنا ممکن نہ رہا۔ بارش کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد : : 9۔ ابن المنذر، ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابتداء میں مشرکین نے مسلمانوں کے مقابلے میں پانی پر قبضہ کرلیا مسلمان پیاسے رہے اور انہوں نے جنبی حالت میں اور حدث کی حالت میں نمازیں پڑھیں۔ اور ان کے درمیان ریت ٹیلے تھے تو شیطان نے ان کے دلوں میں رنج کو ڈال دیا اور کہا کیا تم گمان کرتے ہو کہ تمہارے درمیان نبی ہیں اور تم اللہ کے دوست ہو حالانکہ تم جنبی حالت میں اور حدث کی حالت میں نمازیں پڑھ رہے ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی کو نازل فرمایا تو وادی سے بھر کر بہنے لگی۔ مسلمانوں نے پانی پیا اور اس سے طہارت حاصل کی ان کے قدم جم گئے اور شیطان کا وسوسہ جاتا رہا۔ : 10۔ ابن ابی شیبہ ابن حریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” رجز الشیطن “ سے مراد ہے اس کا وسوسہ۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں (آیت) ” ولیربط علی قلوبکم “ کے بارے میں فرمایا کہ تاکہ وہ صبر کے ساتھ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے (آیت) ” ویثبت بہ الاقدام “ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قدم جما دیئے اس طرح پر) وادی کی زمین نرم تھی (چلنا مشکل تھا) جب بارش ہوئی تو وہ ریت مضبوط ہو کر جم گئی۔ 12۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ویثبت بہ الاقدام “ کے بارے میں فرمایا کہ یہاں تک کہ پاون اس ریت پر جم گئے جو کہ سطح زمین پر موجود تھے۔ 13۔ ابن جریر، ابوالشیخ اور ابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اس رات نماز پڑھ رہے تھے جو لیلۃ البدر کی رات تھی اور یہ دعا کررہے تھے اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کردیا تو تیری عبادت نہیں کی جائے گی اور اس رات شدید بارش ہوئی۔ اسی کو فرمایا (آیت) ” ویثبت بہ الاقدام “