8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور جب کافر لوگ آپ کے بارے میں تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کردیں یا آپ کو قتل کردیں یا آپ کو جلا وطن کردیں، اور وہ اپنی تدبیریں کررہے تھے اور اللہ تعالیٰ بھی تدبیر فرما رہا تھا اور اللہ تعالیٰ تدبیر کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے

1۔ عبدالرزاق واحمد بن حمید وابن المنذر والطبرانی وابو الشیخ وابن مردویہ وابو نعیم نے دلائل میں والخطیب نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ”(آیت) ” واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک “۔ کے بارے میں فرمایا کہ قریش نے مکہ میں ایک رات آپس میں مشورہ کیا، ان میں سے بعض نے کہا جب صبح ہوجائے تو اس کو بیڑیوں کے ساتھ قید کرلو اور وہ لوگ نبی کریم ﷺ (کے بارے میں) ارادہ کررہے تھے اور اس کے بعض نے کہا نہیں بلکہ اس کو قتل کردو اور ان کے بعض نے کہا نہیں بلکہ اس کو (مکہ سے) نکال دو ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو اس پروگرام میں اطلاع دی تو حضرت علی ؓ نے نبی کریم ﷺ کے بستر پر رات گزاری اور نبی کریم ﷺ باہر نکل گئے۔ یہاں تک کہ غار (ثور) میں پہنچ گئے۔ اور مشرکین نے علی ؓ کا پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری اور وہ ان کو نبی کریم ﷺ سمجھتے رہے۔ جب ان لوگوں نے صبح کی تو اس کی طرف کود پڑے اور جب انہوں نے حضرت علی ؓ کو دیکھا تو (گویا) اللہ تعالیٰ نے ان کی خفیہ تدبی کو رد کردیا انہوں نے پوچھا تیرا ساتھی (یعنی نبی کریم ﷺ کہاں ہے ؟ حضرت علی ؓ نے جواب دیا میں نہیں جانتا (اس کے بعد) یہ لوگ آپ ﷺ کے قدموں کے نشانات کے پیچھے چل دیئے۔ جب پہاڑ پر پہنچے ان پر معاملہ گڈ مڈ ہوگیا وہ لوگ پہاڑ پر چڑھے (اس غار کے) منہ پر مکڑی کا بنا ہوا جال دیکھا ( جالے کو دیکھ کر) ان لوگوں نے کہا اگر یہاں داخل ہوئے تو مکڑی کا جالا اس کے منہ پر نہ ہوتا آپ ﷺ اس (غار) میں تین راتیں رہے۔ 2:۔ ابن اسحاق، ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم وابو نعیم والبیہقی دونوں نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش میں سے کچھ لوگ اور تمام قبیلوں کے سردار اکھٹے ہوئے تاکہ دارالندوہ میں آپس میں میں مشورہ کے لئے) داخل ہوجائیں انتہائی بوڑھے آدمی کی صورت میں ابلیس بھی ان کے پاس پہنچ گیا۔ جب لوگوں نے اس کو دیکھا تو پوچھا تو کون ہے ؟ ابلیس نے کہا میں نجد والوں کا ایک شیخ ہوں، میں نے سنا اس بات کو جس کے تم لوگ اکھٹے ہوئے ہو میں نے ارادہ کیا کہ میں تمہارے پاس حاضر ہوجاوں۔ میری جانب سے کوئی رائے اور نصیحت تم کو مخدوم نہیں۔ ان لوگوں نے کہا ہاں ٹھیک ہے اندر داخل ہوجاؤ تو ابلیس بھی ان کے ساتھ اندر داخل ہوگیا۔ اور کہنے لگا اس آدمی (یعنی محمد ﷺ کے معاملہ میں غوروفکر کرو اللہ کی قسم عنقریب کہ وہ اپنے حکم سے تمہارے معاملات میں داخل کرے گا۔ ایک کہنے والے کہا تم لوگ بیڑیوں میں قید کرو۔ پھر اس کی موت کا انتظار کرو، یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجائے جیسے اس سے پہلے شعراء زہیر اور نابغہ ہلاک ہوئے کیونکہ یہ ان میں سے ایک کی طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دشمن شیخ نجدی نے کہا اللہ کی قسم تمہاری رائے کوئی مضبوط رائے نہیں ہے۔ اللہ کی قسم اس کے قید خانے سے خبر اس کے اصحاب تک پہنچ جائے گی وہ اس پر حملہ کریں گے۔ یہاں تک کہ اس کو تمہارے ہاتھوں سے لے لیں گے پھر اس کو تم سے محفوظ کرلیں گے۔ اور تم پر کوئی امن نہیں ہوگا اس بات پر کہ وہ تم کو نکالیں گے تمہارے شہروں سے اس لئے اس رائے کے علاوہ کسی دوسری رائے میں غور وفکر کرو اور کہنے والے نے کہا اس کو اپنے درمیان سے نکال دو ۔ تاکہ اس سے آرام پاؤ کیونکہ جب وہ نکل جائے گا تو تم کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ جو کچھ وہ کرتا پھرے اور جہاں رہتا پھرے اور جب تم سے اس کو تکلیف ختم ہوجائے گی تو تم اس سے آرام پاوگے۔ اس لئے کہ جب وہ نکل جائے تو تم کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی جو کچھ وہ کرے گا اور اس کا معاملہ تمہارے علاوہ کسی دوسرے کے بارے میں میں ہوگا شیخ نجدی نے کہا اللہ کی قسم یہ رائے تمہارے لئے ٹھیک نہیں ہے کیا تم نے اس کی گفتگو کی ملاوٹ اور طلاقتہ لسانی کو نہیں دیکھا جو اس کی گفتگو کو سنتے ہیں ان کے دلوں کو اپنی گرفت میں لینے سے تم واقف نہیں۔ اللہ کی قسم اگر تم نے ایسا کیا پھر عربوں میں سے جس سے چاہو دریافت کرو کہ وہ ضرور جمع ہوں گے اس کیطرف پھر وہ ضرور چل کر آئیں گے تمہاری طرف یہاں تک کہ وہ نکال دیں گے تم کو تمہارے شہروں سے اور تمہارے سرداروں کو قتل کردیں گے لوگوں نے کہا اس نے سچ کہا اللہ کی قسم ! اس کے علاوہ کسی اور رائے میں غور وفکر کرو۔ ابوجہل نے کہا ہر قبیلہ میں سے ایک نوجوان لے لو جو طاقتور اور دانا ہو۔ پھر ان میں سے ہر نوجوان کو تیز دھار تلوار دے دو پھر وہ سب (مل کر) اس پر تلوار سے ایک دم حملہ کریں گویا ایک آدمی نے پہلی ضرب لگائی ہے۔ جب تم اس کو قتل کردوگے تو اس کا خون سب قبیلوں پر متفرق ہوگا۔ میں گمان نہیں کرتا کہ بنو ہاشم کا یہ خاندان سارے قریش سے جنگ کرنے پر قادر ہوجائے۔ اور جب وہ انتقام کا ارادہ کریں گے تو دیت کو ہی قبول کریں گے۔ اور ہم آرام پالیں گے اور ہم سے اس کی تکلیف ختم ہوجائے گی۔ یہ سن کر شیخ نجدی نے کہا خدا کی قسم ! یہ رائے مضبوط اور قابل عمل ہے میں بھی اس کے سوا کوئی رائے نہیں رکھتا چناچہ وہ اسی اتفاق رائے سے مجلس سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ جبرائیل رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور آپ کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے پستر میں رات نہ گزاریں کہ جس میں آپ رات گزارتے ہیں اور ساتھ ہی آپ کو (کافر) قوم کی خفیہ تدبیر سے آگاہ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ رات اپنے گھر میں نہیں گزاری تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت نکلنے کا حکم فرمایا اور ان کو ہجرت کرنے کا حکم فرمایا اور ان پر قتال کو فرض کردیا گیا اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” اذن للذین یقتلون “ (الحج 39) سو یہ دونوں آیتیں لڑائی کے بارے میں سب سے پہلے نازل ہوئی اور مدینہ آنے کے بعد یہ آیت نازل ہوئی جس میں آپ پر اس نعمت کو یاد دلایا گیا۔ یعنی ”(آیت) ” واذ یمکر بک الذین کفروا “۔ 3:۔ سعید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عبید بن عمیر ؓ سے روایت کیا کہ جب (کافروں نے) نبی ﷺ کے بارے میں مشورہ کیا یا تو اس کو باندھ دو یا اس کو قتل کردو یا اس کو جلاوطن کردو۔ آپ کے چچا ابو طالب نے کہا کیا تو جانتا ہے کہ تیرے بارے میں ان لوگوں نے کیا مشورہ کیا آپ نے فرمایا انہوں نے ارادہ کیا کہ مجھ کو قید کردیں یا مجھ کو قتل کردیں یا مجھ کو قتل کردیں یا مجھ کو جلا وطن کردیں۔ ابو طالب نے کہا کس نے یہ بات تجھ کو بیان کی ہے فرمایا میرے رب نے ابو طالب نے کہا تیرے رب کتنا اچھارب ہے۔ اس سے خیر کی نصیحت لیجئے میں بھی اس سے نصیحت لوں گا۔ بلکہ وہ مجھ کو بھی نصیحت دے گا۔ 4:۔ ابن جریر نے عبد بن عمیر کے واسطے سے مطلب بن ابی وداعہ سے روایت کیا کہ ابوطالب نے نبی کریم ﷺ سے کہا تیرے بارے میں تیری قوم نے کیا مشورہ کیا ہے ؟ فرمایا انہوں نے ارادہ کیا ہے کہ مجھ کو قید کردیں یا مجھ کو قتل کردیں یا مجھ کو جلاوطن کردیں۔ ابوطالب نے کہا یہ بات کس نے تم کو بیان کی فرمایا میرے رب نے ابو طالب کیا کہا تیرا رب کتنا اچھا رب ہے اس نے خیر کی نصیحت لیجئے اور کہا میں بھی اس سے نصیحت لوں گا بلکہ وہ مجھے عطا فرمائے گا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی ”(آیت) ” واذ یمکر بک الذین کفروا “۔ 5:۔ ابن جریر، ابو الشیخ نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (یہ آیت) ”(آیت) ” واذ یمکر بک الذین کفروا “ مکی ہے۔ 6:۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے دنوں کے بارے میں پوچھا گیا اور خاص طور پر ہفتہ کے دن کے بارے میں آپ نے فرمایا وہ مکر اور دھوکہ دینے کا دن ہے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ وہ کس طرح آپ نے فرمایا اسی دن میں قریش (میرے بارے میں) دارالندوہ میں خفیہ پروگرام بنایا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”(آیت) ” واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک “ اویقتلوک اویخرجوک ویمکرون ویمکر اللہ۔ واللہ خیرالمکرین (30) 7:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لیثبتوک “ کا مطلب ہے تاکہ آپ کو قید کرلیں۔ شیخ نجدی کا مشورہ : 8:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے بارے میں مشورہ کرنے کے لئے دارالندوہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے کہا تمہارے پاس کوئی ایسا آدمی داخل نہ ہونے پائے جو تم میں سے نہ ہو۔ ان کے ساتھ شیطان بھی نجد والوں میں سے ایک شیخ کی صورت میں داخل ہوگیا۔ انہوں نے آپ میں مشورہ کیا ان میں سے ایک نے کہا اس کو مکہ سے نکال دیں گے۔ شیطان نے کہا یہ بری رائے ہے قریب ہے کہ تمہارے درمیان رہ کر وہ فساد برپا کردے گا۔ جب تم اس کو نکال دوگے تو وہ لوگوں کے ذہنوں کو فاسد کردے گا۔ اور ان کو تمہارے خلاف ابھارے گا اور وہ لوگ تم سے لڑیں گے انہوں نے کہا یہ رائے ٹھیک نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو اس کی اطلاع فرما دی تو آپ اور ابوبکر ؓ پہاڑ میں ایک غار کی طرف نکلے جس کو غار ثور کہا جاتا ہے۔ نبی ﷺ کے بستر مبارک پر حضرت علی ؓ سوئے رہے وہ لوگ ساری رات پہرہ دیتے رہے یہ سمجھ کر کہ (اندر) نبی کریم ﷺ ہیں جب صبح ہوئی تو یہ لوگ (اندر) ان کی طرف کود پڑے کیا دیکھتے ہیں کہ وہ تو حضرت علی ؓ ہیں ان سے پوچھا تمہارے ساتھی کہاں ہیں انہوں نے کہا میں نہیں جانتا وہ لوگ آپ کے قدموں کے نشانات پر چلنے لگے یہاں تک کہ غار پر پہنچ گئے پھر لوٹ آئے۔ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ اس (غار) میں تین راتیں ٹھہرے۔ 9:۔ عبد بن حمید نے معاویہ بن قرہ ؓ سے روایت کیا کہ قریش ایک گھر میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تمہارے ساتھ آج کے دن کوئی داخل نہ ہو مگر جو تم میں سے ہو ابلیس آیا اس سے پوچھا تو کون ہے اس نے کہا نجد والوں میں سے ایک شیخ ہوں اور میں تمہارا بھانجا ہوں۔ انہوں نے کہا قوم کا بھانجا ان میں سے ہوتا ہے (اس بات پر وہ اندر داخل ہوگیا) ان میں سے بعض نے (مشورہ دیتے ہوئے) کہا اس کو قید کرلو۔ ابلیس نے کہا کیا بنو ہاشم اس سے راضی ہوں گے (پھر) ان میں سے بعض نے کہا اس کو جلا وطن کردو (مکہ سے) ابلیس نے کہا تمہارے علاوہ اور لوگ اس کو ٹھکانہ دے دیں گے۔ ابو جہل نے کہا ہر ہر قبیلے میں سے ایک مرد جمع ہو کر اس کو قتل کردیں۔ ابلیس نے کہا یہ رائے اچھی اور بہتر ہے جو اس نوجوان نے دی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ”(آیت) ” واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک “۔ آیت کے آخر تک۔ 10:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لیثبتوک “ اویقتلوک اویخرجوک ویمکرون ویمکر اللہ۔ واللہ خیرالمکرین (30) کے بارے میں فرمایا کفار قریش محمد ﷺ کے بارے میں اس کام کا ارادہ کیا ان کے مکہ سے نکلنے سے پہلے۔ 11:۔ حاکم اس کو صحیح کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت علی ؓ نے اپنی ذات کا سودا کیا اور نبی کریم ﷺ کا کپڑا پہن کر اس کی جگہ پر سوگئے کہ مشرکین یہ خیال کررہے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ ہیں اور قریش یہ ارادہ کررہے تھے کہ نبی ﷺ کو قتل کردیا جائے۔ پس وہ دیر تک علی کو دیکھتے رہے اور وہ لوگ ان کو نبی ﷺ خیال کرتے رہے پھر جب حضرت علی ؓ سامنے آئے تو اچانک ان کی نظر علی ؓ پر پڑگئی۔ انہوں نے کہا تولیئم ہے۔ 12:۔ حاکم نے حضرت علی بن حسین ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس بارے میں (یہ اشعار) پڑھے۔ وقیت بنفسی خیر من وطی الحصی ومن طاف بالبیت العتیق وبالحجر ترجمہ : میں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس ہستی کی حفاظت کی جو سب زمین پر چلنے والوں اور بیت اللہ اور حجر اسود کا طواف کرنے والوں سے بہتر یعنی افضل ہے۔ رسول اللہ لہ خاف ان تمکروا بہ فنجاہ ذوالطول الا لہ من المکر ترجمہ : اور میں نے آپ کی حفاظت کرتے ہوئے رات گزاری اور مجھے الزام نہیں دے سکتے جبکہ میں نے اپنے آپ کو قتل اور قید کے لئے پیش کردیا۔
Ayah 8:31

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اگر ہم چاہیں تو اس جیسا کلام کہہ سکتے ہیں یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر وہ باتیں ہیں جو اگلے وقتوں کے لوگوں سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں

1:۔ ابن جریر وابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے بدر کے دن عقبہ بن ابی معیط اور نضربن حارث کو قتل کرنے کے لئے بند کردیا۔ مقداد نے نضر کو قید کیا تھا جب اس کو قتل کا حکم دیا گیا تو مقداد نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ میرا قیدی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اللہ کی کتاب کے بارے میں جو کہتا ہے سو کہتا ہے اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) واذا تتلی علیہم ایتنا قالوا قد سمعنا لونشاء لقلنا مثل ھذا ان ھذا الا اساطیر الاولین (31) 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ نضر بن حارث بار بار حیرہ (شہر) کی طرف جایا کرتا تھا اور وہاں رہنے والوں کی مقفی عبارت اور ان کے کلام کو سنتا تھا۔ جب مکہ مکرمہ آیا اور اس نے نبی ﷺ کے کلام کو اور قرآن کو سنا تو کہنے لگا۔ (آیت) ” قد سمعنا لونشاء لقلنا مثل ھذا ان ھذا الا اساطیر الاولین “ (31) ۔
Ayahs 8:32–34

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں نے کہا کہ اے اللہ اگر یہ آپ کی طرف سے واقعی حق ہے تو ہم آسمان سے پتھر برسا دیجئے یا ہم کو کوئی درد ناک عذاب واقع کردیجئے

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور اللہ انہیں اس حالت میں عذاب نہیں دے گا جبکہ آپ ان میں موجود ہوں

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ اس حال میں عذاب نہیں دے گا کہ وہ استغفار کرتے ہوں۔ اور ان کا کیا استحقاق ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے حالانکہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں حالانکہ وہ اس کے اولیاء نہیں ہیں، اس کے اولیاء صرف متقی لوگ ہیں لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

1۔ البخاری وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ابوجہل بن ہشام نے کہا ( آیت) ” اللہم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمائ اوائتنا بعذاب الیم (32) تب یہ نازل ہوا (آیت) وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم وما کان اللہ معذبہم وہم یستغفرون (34) “ 2:۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) اذقالوا اللہم ان کان ھذا ھوالحق من عندک کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) نضربن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ 4:۔ ابن جریر نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ نضر بن حارث کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) اذقالوا اللہم ان کان ھذا ھو الحق من اور قالوا ربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب (16) اور (آیت) ولقد جئتمونا فرادی کما خلقنکم اول مرۃ اور ” سال سائل بعذاب واقع (1) “ عطا (رح) نے فرمایا اس کے بارے میں دس کچھ اوپر آیات اللہ کی کتاب میں نازل ہوئی۔ کفار کی بدعائ اور اللہ کا عذاب : 5:۔ ابن مردویہ نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے احد کے دن عمرو بن عاص کو گھوڑے پر ٹھہرے ہوئے دیکھا اور وہ کہہ رہا تھا۔ اے اللہ جو کچھ محمد ﷺ فرماتے ہیں اگر یہ سچ ہے تو مجھ کو میرے گھوڑے کے ساتھ زمین میں دھنسا دے۔ 6:۔ ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ مشرکین بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہتے تھے لبیک لاشریک لبیک۔ تو نبی ﷺ فرماے ہاں ہاں اسی طرح سے ہے پھر وہ کہتے تھے ” لاشریک لک الا شریک ھو لک تملکہ وما قلک “ اور وہ (یہ بھی) کہتے تھے۔ ہم آپ سے مغفرت چاہتے ہیں ہم آپ سے مغفرت چاہتے ہیں تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم “ ابن عباس ؓ نے فرمایا ان کی دو زبانیں ہیں ایک نبی ﷺ کی ذات گرامی اور دوسری استغفار نبی ﷺ (اس دنیا سے) چلے گئے۔ اور استغفار باقی رہ گیا (اور فرمایا) (آیت) ” وما لہم الا یعذبہم اللہ “ (اس آیت میں) آخرت کا عذاب مراد ہے اور وہ دنیا کے (عذاب کے بارے میں ) ۔ 7:۔ ابن جریر نے یزید بن رمعان اور محمد بن قیس دونوں حضرات سے روایت کیا کہ قریش کے بعض لوگوں نے بعض سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان محمد ﷺ کو عزت عطا فرمائی اور کہا ( آیت) ” اللہم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء جب شام ہوتی تو جو کچھ نہیں نے کہا تھا اس پر نادم ہوئے اور کہنے لگے اے اللہ تو مغفرت فرما دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) سے لے کر لا یعلمون (34) “ تک نازل ہوئی۔ 8:۔ ابن جریر، وابن حاتم وابوالشیخ نے ابن زیدی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” آیت ” وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم “ پھر رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ کی طرف تشریف لے گئے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری آیت ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) “ جب مسلمان مکہ سے خروج کرگئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ومالہم الا یعذبہم اللہ “ پھر اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے بارے میں اطلاع دی اور یہ وہ عذاب تھا جو ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی عذاب سے مانع : 9:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم ابو الشیخ نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول ”(آیت) وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم “ کے بارے میں فرمایا (یعنی) اللہ تعالیٰ مشرکین کو (اس وقت تک عذاب نہیں دے گا) یہاں تک کہ آپ کو ان میں سے نہ نکالے گا۔ (اور فرمایا) (آیت) ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) “ یعنی جب تک مومنین استغفار کررہے ہیں (اللہ تعالیٰ ان کو عذاب والا نہیں ہے) پھر مشرکین کا اعادہ کرتے ہوئے فرمایا (آیت) وما لہم الا یعذبہم اللہ وھم یصدون عن المسجد الحرام “۔ 10:۔ ابن ابی حاتم سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ استغفار کرے اور گناہوں کا اقرار کرتے تو وہ ایمان والے ہوتے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) وما لہم الا یعذبہم اللہ وھم یصدون عن المسجد الحرام “۔ کے بارے میں فرمایا کہ میں ان کو کیوں عذاب نہ دوں گا حالانکہ وہ استغفار نہیں کرتے۔ 11:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم۔ “ کے بارے میں فرمایا یعنی آپ ان کے درمیان موجود ہیں (اس لئے میں ان کو عذاب نہیں دوں گا) (اور فرمایا) (آیت) ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والے نہیں ہیں اس حال میں کہ ان میں سے ایک آدمی ہمیشہ اسلام میں داخل ہوتا رہتا ہے۔ 12:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عکرمۃ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) “ کے بارے میں فرمایا (کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والے نہیں ہیں) حالانکہ وہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ 13: ابن ابی حاتم نے عطائ بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ سعید بن جبیر ؓ سے استغفار کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) “ یعنی وہ مغفرت کی امید پر عمل کرتے ہیں اور میں نہیں جانتا ہوں کہ لوگ عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے ان لوگوں میں سے جو زبانوں میں استغفار کرتے ہیں اور اسلام اور سارے دینوں کا دعوی کرتے ہیں۔ 14۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ اور حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول (آیت) ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کو اس آیت نے منسوخ کردیا جو اس سے ملی ہوئی ہے۔ یعنی (آیت) ” وما لہم الا یعذبہم اللہ “ اس لئے ان کو مکہ میں قتل کیا گیا اور ان کو بھوک اور تنگی میں مبتلا کیا گیا۔ 15:۔ ابو الشیخ نے سدی سے بھی سب اسی طرح نقل کیا گیا۔ 16:۔ عبد بن حمید، ابن جریر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم “۔ سے اہل مکہ مراد ہیں اور ”(آیت) ” وما کان اللہ لیعذبہم “ سے مراد ہے کہ ان میں ایمان والے ہیں جو استغفار کرتے ہیں (اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے) استغفار و توبہ سے عذاب رک جاتا ہے : 17:۔ بیہقی نے شعب الایمان میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قرآن تمہاری رہنمائی کرتا ہے تمہاری بیماری پر اور تمہارے علاج پر تمہاری بیماری وہ تمہارے گناہ ہیں اور تمہاری دوا اور علاج استغفار ہے۔ 18۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ بندہ کوئی چھوٹا گناہ کرتا ہے پھر اس کو حقیر سمجھتا ہے (اس لئے) اس پر نادم نہیں ہوتا اس سے استغفار نہیں کرتا اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک بہت بڑے ٹیلے کی طرح ہوجاتا ہے۔ اور آدمی بعض مرتبہ کوئی بڑا گناہ کرتا ہے پھر اس پر نادم ہوتا ہے اور اس سے استغفار کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک چھوٹا ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیتے ہیں۔ 19:۔ ترمذی نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لئے دو امانتیں نازل فرمائی۔ یعنی (آیت) ’ وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم۔ (آیت) ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) “ جب میں (اس دنیا سے) چلا جاوں گا تو ان میں استغفار کو قیامت کے دن تک چھوڑ جاوں گا۔ 20:۔ ابوالشیخ والحاکم نے اس کو صحیح کہا والبیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ تمہارے اندر دو امانتیں تھیں ان میں سے ایک گذر گئی اور دوسری باقی ہے۔ 21:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ، وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت میں دو امانتیں رکھی ہیں وہ برابر عذاب کی کڑک سے محفوظ رہیں گی۔ جب تک وہ ان کے اندر رہیں گی۔ ایک امانت کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے قبضہ میں لے لیا (یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک کو اللہ تعالیٰ نے دنیا سے اٹھا لیا) اور تمہارے درمیان ایک امانت باقی ہے۔ اسی کو فرمایا (آیت) ” وما کان اللہ لیعذبہم “ (الایہ) 22:۔ ابن جریر وابوالشیخ والطبرنی ابن مردویہ والحاکم وابن عساکر نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ تمہارے درمیان دو امانتیں تھیں ان میں ایک گزر چکی اور دوسری باقی ہے یعنی ’(آیت) ” وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم۔ (آیت) ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) “ کہ رسول اللہ ﷺ وصال پا چکے ہیں لیکن استغفار اور وہ قیامت کے دن تک ہونے والا ہے۔ 23:۔ بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس امت میں دو امانتیں تھیں رسول اللہ ﷺ اور استغفار ایک امانت تو چلی گئی یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی اور ایک امانت باقی ہے یعنی استغفار۔ 24:۔ احمد نے فضالہ بن عبیدؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بندہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن میں رہتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے۔ 25:۔ احمد والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شیطان نے کہا اے میرے رب تیری عزت کی قسم ! میں برابر تیرے بندوں کو گمراہ کرتا رہوں گا جبکہ ان کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں رب تعالیٰ نے فرمایا مجھے میری عزت اور جلال کی قسم میں برابر ان کو بخشتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے۔ 26:۔ ابو داود والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے استغفار (پڑھنے) میں کثرت کی اللہ تعالیٰ اس کو ہر غم سے نجات دیں گے۔ اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ عنایت فرمائیں گے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائیں گے کہ جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہوگا۔ 27:۔ حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں والنسائی وابن ماجہ نے عبد اللہ بن بسر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے اپنے اعمال نامے میں بہت استغفار کو پایا۔ 28:۔ حکیم ترمذی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم استغفار کو کثرت سے پڑھنے کی طاقت رکھتے ہو تو ایساکرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ نجات دینے والی نہیں۔ اور اس سے بڑھ کر اس کی طرف اس سے زیادہ محبوب بھی نہیں۔ 29:۔ احمد نے زہد میں مغیث بن اسماء (رح) سے روایت کیا کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی تھا جو گناہ کرتا تھا اور اس دوران کہ وہ خوشحال اور آسان دن گزار رہا تھا کہ اچانک وہ اپنے گذرے ہوئے اعمال کی غوروفکر کرنے لگا اور کہنے لگا اللہم غفرانک اے اللہ مجھ کو بخش دے ( تیری بخشش وسیع ہے) اس حال میں اس کو موت آگئی تو اس کی مغفرت ہوگئی۔ 30:۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے زہد میں ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو اپنے اعمال نامے میں استغفار کی آواز کو پائے۔ (یعنی دنیا میں وہ بہت استغفار کرنے والا تھا) 31:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ جس نے یہ الفاظ کہے۔ ” استغفر اللہ العظیم الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ “ پانچ مرتبہ اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ 32:۔ ابوداود والترمذی نے شمائل میں والنسائی نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی آپ نے اتناطویل قیام فرمایا گویا آپ رکوع نہیں کریں گے۔ پھر اسی طرح ایک طویل رکوع کیا۔ پھر اس طرح ایک طویل سجدہ کیا گویا آپ اس سے سر مبارک نہیں اٹھائیں گے پھر آپ دوسری رکعت کے لئے اٹھے۔ اور پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت بھی انتہائی طویل کرکے پڑھائی۔ پھر آپ نے اپنے سجدوں کے آخر میں منہ سے پھونک ماری پھر اسی طرح دعا مانگی اے میرے رب کیا آپ نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ میں ان کو عذاب نہیں دوں گا جب تک میں ان میں موجود ہوں اے میرے رب کیا آپ نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ میں اس کو عذاب نہیں دوں گا جب تک وہ استغفار کریں گے اور ہم آپ سے مغفرت طلب کررہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو سورج روشن ہوچکا تھا۔ 33:۔ دیلمی نے عثمان بن ابی العاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین میں دو امانتیں ہیں ایک امانت میں ہوں اور دوسری امانت استغفار ہے۔ اور میں دنیا سے جانے والا ہوں اور استغفار کی امانت باقی ہے۔ سو تم استغفار کو لازم پکڑو ہر گناہ اور مصیبت کے وقت۔ 34:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم۔ “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس حال میں عذاب نہیں دیتے کہ ان کے انبیاء ان میں موجود ہوں۔ یہاں تک کہ وہ انہیں ان سے نکال لے (اور فرمایا) (آیت) ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) “ اور ان میں وہ لوگ تھے یہ معلوم تھا کہ یہ لوگ استغفار کرتے رہیں گے۔ جس سے سب لوگ عذاب سے بچے رہیں گے اور کافر کے لئے فرمایا (آیت) ” ماکان اللہ لیذر المومنین علی ماانتم علیہ حتی یمیز الخبیث من الطیب۔ “ (آل عمران آیت 179) یعن اللہ تعالیٰ بدبختوں میں سے نیک بختوں کو الگ کردیں گے (پھر فرمایا) (آیت) ” وما لہم الا یعذبہم اللہ “ اور ان کو تلوار کے ذریعہ بدر کے دن عذاب دیا گیا۔ 35:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) “ (کہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں عذاب نہیں دیں گے کہ وہ استغفار کرتے ہیں) پھر ان میں شرک کرنے والوں کو مستثنی کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ومالہم الا یعذبہم اللہ “ 36:۔ عبد بن حمیدی وابن جریر والنحاس وابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم “ کے بارے میں فرمایا کہ مشرکین کو جو مکہ میں ہیں (ان کو آپ کے ہوتے ہوئے عذاب نہیں دیں گے) اور فرمایا (آیت) ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33) “ یعنی ایمان والوں کی وجہ سے جو مکہ میں ہیں (ان کو عذاب نہیں دیں گے کیونکہ وہ لوگ استغفار کرتے ہیں) (آتی) وما لہم الا یعذبہم اللہ “ یعنی کفار مکہ کو ( اللہ تعالیٰ کیوں عذاب نہ دیں گے) 37:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومالہم الا یعذبہم اللہ “ سے مراد ہے کہ مکہ کا فتح ہونا 38:۔ ابن اسحاق وابن ابی حاتم نے عباد بن عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ومالہم الا یعذبہم اللہ “ کے بارے میں فرمایا کیا وجہ ہے ان کے لئے اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دیں حالانکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور ان کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اگرچہ ان میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو دعائیں مانگتے ہیں۔ 39:۔ ابن اسحاق وابن ابی حاتم نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وھم یصدون عن المسجد الحرام “ کے بارے میں فرمایا یعنی وہ لوگ روکتے ہیں مسجد حرام سے ان کو جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لائے حالانکہ آپ نے اور آپ کے متبعین نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ان کو روکتے ہیں پھر فرمایا ” (آیت) وما کانوا اولیاءہ ان اولیاوہ الا المتقون “ یعنی اس کے متولی وہ لوگ ہیں جن کو اس سے نکالا جاتا ہے اور وہ اس کے پاس نماز قائم کرتے ہیں یعنی آپ اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ایمان لائے۔ 40:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ”(آیت) ان اولیاوہ الا المتقون “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کے قول متقی لوگ ہیں وہ جہاں بھی ہوں۔ 41:۔ بخاری سے الادب المفرد میں والطبرنی الحاکم نے اس کو صحیح کہا رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے عمر سے فرمایا میرے لئے اپنی قوم کو جمع کر۔ انہوں نے ان کو جمع کیا جب سب لوگ نبی کریم ﷺ کے دروازہ پر حاضر ہوئے تو حضرت عمر ؓ اندر داخل ہوئے اور عرض کیا میں نے اپنی قوم کو آپ کے لئے جمع کرلیا ہے یہ بات انصار نے جب سنی تو کہنے لگے قریش کے بارے میں وحی نازل ہوتی ہے۔ تو ہر سننے والا اور دیکھنے والا آیا کہ ان کے لئے کیا کہا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور ان کے درمیان ہمارے حلیف ہمارے بھانجے اور ہمارے موالی بھی ہم ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہمارے حلیف ہم میں سے ہیں ہمارے بہنوں کے بیٹے ہم میں سے ہیں۔ اور ہمارے موالی بھی ہم میں سے ہیں تم لوگ سن لو تم میں سے میرے دوست متقی لوگ ہیں۔ اگر تم اسی طرح ہو تو ایسا ہی ہے وگر نہ تم لوگ دیکھ لو کہ قیامت کے دن لوگ اعمال کے ساتھ نہیں آئیں گے اور تم آؤ گے اپنے بوجھوں کے ساتھ اور تم سے اعراض کرلیا جائے گا۔ متقی لوگ رسول اللہ ﷺ کے دوست : 42:۔ بخاری نے الادب المفرد میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے دوست قیامت کے دن متقی لوگ ہوں گے اگرچہ نسب کے اعتبار سے کوئی زیادہ قریبی ہو۔ اور لوگ میرے پاس اعمال کے ساتھ نہیں آئیں گے اور دنیا لے کر میرے پاس آؤ گے جس کو وہ اپنی گردنوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اور میں اس طرح اور اس طرح کہوں گا۔ مگر میں ہر ایک سے اس کے تکبر کی وجہ سے اعراض کروں گا۔ 43:۔ ابن مردویہ والطبرانی والبیہقی نے اپن سنن میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے آپ کی آل کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا ہر متقی (میری آل میں سے ہے) اور رسول اللہ ﷺ نے ( یہ آیت) تلاوت فرمائی۔ ان اولیاوہ الا المتقون۔ “ 44:۔ احمد والبخاری ومسلم نے عمروبن عاص ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ فلاں کی آل میں دوست ہیں بلاشبہ میرا دوست اللہ تعالیٰ اور صالح مومنین ہیں۔ 45:۔ احمد نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں میرے سب سے زیادہ قریب متقی لوگ ہیں وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں۔
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور بیت اللہ کے نزدیک ان کی نماز بن یہی تھی کہ سٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے تھے۔ سو عذاب چکھ لو اس وجہ سے کہ تم کفر کرتے تھے

1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ قریش طواف میں نبی کریم ﷺ سے بدتمیزی کرتے تھے۔ مذاق اڑاتے تھے سیٹیاں بجاتے تھے اور تالیاں بجاتے تھے اور تالیاں پیٹتے تھے تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت) ” وما کان صلاتہم عند البیت الا مکاء وتصدیۃ۔ “ 2:۔ ابو الشیخ نے نبی ط ؓ سے روایت کیا کہ جو صحابہ ؓ میں سے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس قول (آیت) ” وما کان صلاتہم عند البیت “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ یعنی صحابہ کرام ؓ بیت الحرام کا طواف کررہے ہوتے تھے جبکہ قریش سیٹیاں بجاتے تھے۔ 3:۔ ابان ابی حاتم وابوالشیخ، ابن مدویہ والضیاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ (یعنی مشرکین) بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے سیٹیاں بجاتے ہوئے اور تالیاں پیٹتے ہوئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” وما کان صلاتہم عند البیت الا مکاء وتصدیۃ۔ “ فرمایا یا مکاء سے مراد ہے سیٹیاں بجانا۔ اس میں ان کو یہ برساتے ہیں مارنے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور تصدیۃ سے مراد ہے تالیاں بجانا اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” قل من حرم زینۃ اللہ “ (الاعراف آیت 32) 4:۔ طستی نے نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” (آیت) الا مکاء وتصدیۃ “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا ” المکاء “ سے مراد ساز کی آواز ہے اور ” تصدیہ “ سے مراد ہے چڑیوں کی آواز اور وہ تالیاں بجانا اور یہ اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ مکرمہ میں نماز کے لئے کھڑے ہوئے تھے اور حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے تو بنو سہیم میں سے دو آدمی آتے ایک آپ کے داہنی جانب اور دوسرا بائیں جانب کھڑے ہو کر ایک ان میں سے سیٹی بجاتا اور دوسرا اپنے ہاتھ سے تالی بجاتا تاکہ آپ پر آپ کی نماز خراب ہوجائے ازرق (رح) نے پوچھا کیا آپ کے لوگ معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں تو حسان بن ثابت کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ نقوم الی الصلاۃ اذا دعیفا وھمتک التقوی والمکاء ترجمہ : ہم کھڑے ہوجاتے ہیں جب نماز کے لئے بلایا جاتا ہے جبکہ تمہارا کام تالیاں بجانا اور سیٹیاں بجانا ہوتا ہے۔ اور شعراء میں سے دوسرے شاعر نے کہا تصدیہ کے بارے میں کہا۔ حتی تبنھنا سحیرا قبل تصدیۃ العصافیر ترجمہ : یہاں تک کہ ہم بیدار ہوجاتے ہیں صبح سویرے چڑیوں کے چہچہانے سے پہلے۔ 5:۔ ابن منذر نے عطیہ کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ روایت کیا کہ ” المکاء “ سے مراد ہے سیٹی بجانا ان میں سے ایک اپنے ہاتھ کو دوسرے پر رکھتا اور سیٹی بجاتا۔ 6:۔ الفریافی وعبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا مکاء وتصدیۃ “ میں ” مکاء “ سے مراد ہے سیٹی بجانا اور تصدیہ سے مراد ہے تالیاں بجانا۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” مکاء “ سے مراد ہے سیٹی بجانا اور ” تصدیۃ “ سے مراد ہے تالیاں بجانا۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” مکاء “ سے مراد ہے اپنی انگلیوں کو اپنے منہ میں داخل کرنا اور ” تصدیۃ “ سے مراد ہے سیٹی بجانا اس سارے عمل کے ساتھ وہ محمد ﷺ کی نماز میں خلل اندازی کی کوشش کرتے تھے۔ 9:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” المکاء “ سے مراد ہے سیٹی بجانا سفید پرندے کی طرح جس کو ” مکاء “ کہا جاتا ہے جو حجاز کی سرزمین میں ہوتا ہے اور ” التصدیہ “ سے مراد ہے تالیاں بجانا۔ 10:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول ” مکاء “ کے بارے میں فرمایا کہ اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرکے ان میں سیٹیاں بجاتے تھے اور ” تصدیۃ “ سے مراد ہے ان کو لوگ (اس کام سے) روکتے تھے۔ مشرکوں کا الٹا طواف کرنا : 11:۔ عبد بن حمید نے عکرمۃ (رح) سے روایت کیا کیا کہ مشرکین بائیں جانب سے بیت اللہ کا طواف کرتے تھے (اور ان کی نماز اس طرح ہوتی تھی) جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما کان صلاتہم عند البیت الا مکاء وتصدیۃ۔ “ (یعنی ان کی نماز بیت اللہ کے نزدیک سیٹیاں اور تالیاں بجانا ہے ” الماء “ بگل میں پھوکنے کی طرح آواز پیدا کرنا اور ” تصدیہ “ سے مرادا ان کا بائیں جانب پر طواف کرنا ہے۔ 12:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون (35) “ سے مراد ہے یعنی یہ خطاب غزوہ بدر میں شریک ہوئے کفار مکہ کو ہے۔ کہ بدر کے کافروں اب عذاب چکھو اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل ہونا اور قید ہونے کے ذریعہ عذاب دیا۔
Ayahs 8:36–37

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے روکیں سو یہ لوگ ابھی اپنے مالوں کو خرچ کریں گے پھر یہ مال ان کے حق میں حسرت کا سبب بن جائیں گے پھر یہ لوگ مغلوب ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ دوزخ کی طرف جمع کئے جائیں گے

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ ناپاک کو اللہ پاک سے جدا کردے اور ناپاک کو بعض کو بعض کے ساتھ ملا دے۔ پھر اس کو اکٹھا ڈھیر بنا دے پھر اس کو دوزخ میں داخل فرما دے، یہ لوگ تباہ کار ہیں۔

1۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں سب نے اپنی سند سے زبیری محمد بن یحییٰ بن حیان عاصم بن عمر بن قتادہ اور حصین بن عبدالرحمن بن عمر سے روایت کیا کہ جب قریش کو بدر کے دن مصیبت پہنچی اور وہ مکہ کی طرف لوٹے اور ابوسفیان بھی اپنے قافلے کے ساتھ لوٹ آیا تو عبداللہ بن ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل اور صفوان بن امیہ قریش کے دیگر افراد کے ساتھ ان افراد کے پاس گئے حسن کے پاس سامان تجارت تھا اور انہوں نے کہا اے قریش کے گروہ کہ محمد ﷺ نے تم کو اذیت میں مبتلا کیا ہے اور تمہارے سرداروں کو قتل کردیا اب تم اس مال کے ساتھ مدد کرو محمد ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے شاید کہ ہم اس سے اپنے خون کا بدلہ پالیں تو انہوں نے ایسا ہی کیا اور اپنا مال ان کو دیدیا۔ ان کے بارے میں (یہ آیت) ” ان الذین کفروا ینفقون اموالہم لیصدوا عن سبیل اللہ “ سے لے کر (آیت) ” والذین کفروا الی جہنم یحشرون (36) تک نازل ہوئی جیسا کہ ابن عباس ؓ نے ذکر فرمایا۔ 2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” ان الذین کفروا ینفقون اموالہم لیصدوا عن سبیل اللہ “ ابو سفیان اور ابن حزب کے بارے میں نازل ہوئی۔ دین سے روکنے کے لئے مال خرچ کرنے کی مذمت : 3:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابوالشٰخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” ان الذین کفروا ینفقون اموالہم سے لے کر ”(آیت) اولئک ھم الخسرون “ احد کے دن ابوسفیان کا کافروں پر خرچ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔ 4:۔ ابن سعد وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن عساکر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ”( آیت) ” ان الذین کفروا ینفقون اموالہم لیصدوا عن سبیل اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت ابوسفیان بن حرب کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس نے احد کے دن بنوکنانہ میں سے دو ہزار احابیش کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لڑنے کے لئے کرایہ پر لیا۔ اور یہ لشکر کے علاوہ تھے جو اس نے عرب کے لئے جمع کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی یہ وہی ہیں جن کے بارے میں کعب بن مالک ؓ نے فرمایا۔ وجئنا الی موج من البحر وسطہ اھابیش منہم حاسر ومقنع ترجمہ : ہم سمندر کی موج کی طرف آئے جس کے درمین میں احابیش تھے ان میں سے کچھ ننگے سر اور کچھ نقاب پوش تھے۔ ثلاثۃ الاف ونحن تصیۃ ثلاث مئین ان کثرن فاربع ترجمہ : ان کی تعداد تین ہزار تھی جبکہ ہم تین سو کے لگ بھگ تھے اگر وہ بڑھ جائیں تو ہم بھی ڈٹ جانے والے ہیں۔ 5:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے حکم بن عیتبہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ( آیت) ” ان الذین کفروا ینفقون اموالہم لیصدوا عن سبیل اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) ابوسفیان کے بارے میں نازل ہوئی جس نے احد کے دن قریش پر چالیس اوقیہ سونا خرچ کیا اور اس دن ایک اوقیہ چالیس مثقال سونے کا تھا۔ 6:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ( آیت) ” ان الذین کفروا ینفقون اموالہم لیصدوا عن سبیل اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس آیت سے مراد محمد ﷺ ہیں (پھر فرمایا) (آیت) ” فسینفقونھا ثم تکون علیہم حسرۃ “ یعنی (یہ خرچ کرنا ان کے لئے) قیامت کے دن ندامت کا باعث ہوگا۔ 7:۔ ابن اسحاق ابن ابی حاتم نے عبادبن عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” والذہن کفروا الی جہنم یحشرون “ (36) کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مرادوہ لوگ ہیں جو ابوسفیان اور قریش کے ان لوگوں کی طرف چل کر گئے جن کے پاس تجارت کا مال تھا۔ اور ان سے سوال کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے میں ان کی مدد کریں انہوں نے ایسا ہی کیا۔ 8:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے شھربن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ”(آیت) لیمیز اللہ الخبیث من الطیب “ کے بارے میں فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو الگ کردے گا جنہوں نے دنیا میں اللہ کی رضا کے لئے نیک عمل کئے تھے پھر ساری دنیا کو پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ 9:۔ ابن جریر ابن ابی حاتم نے عثمان بن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ”(آیت) فیرکمہ جمیعا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو جمع کردیں گے۔
Ayahs 8:38–40

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا آپ ان سے فرما دیجئے اگر وہ باز آجائیں تو جو کچھ گزر چکا وہ ان کے لئے معاف کردیا جائے گا اور اگر وہ پھر بھی وہی کریں جو کرتے رہے ہیں تو پہلے لوگوں کا طریقہ گزر چکا ہے

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور سارا دین اللہ کے لئے ہوجائے سو اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ ان کاموں کو دیکھتا ہے جو وہ کرتے ہیں

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر وہ روگردانی کریں تو یقین جانو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارا مولی ہے اور اچھا مولی اور اچھا مددگار ہے

1۔ ابن احمد ومسلم نے عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کو ڈال دیا تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا اپنے ہاتھ کو بڑھائے تاکہ میں آپ سے بیعت کروں آپ نے اپنا داہنا ہاتھ بڑھا دیا تو میں نے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیا آپ نے فرمایا کیا ہوا تجھ کو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے شر ط لگانے کا ارادہ کیا ہے آپ نے فرمایا تو کون سی شرط لگانا چاہتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میری مغفرت کردی جائے آپ نے فرمایا کیا تو نہیں جانتا کہ اسلام پہلے والے سب گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور ہجرت پہلے والے سب گناہوں کو ختم کردیتی ہے۔ اور حج بھی پہلے والے سب گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے مالک بن انس ؓ سے روایت کیا کہ جب کوئی کافر اسلام لے آیا تو کفر کی حالت میں اس کے کسی چیز (یعنی کسی گناہ) کے بارے میں اس سے نہیں پوچھا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”(آیت) قل للذین کفروا ان ینتھوا یغفرلہم ما قدسلف “۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ”(آیت) فقد مضت سنۃ الاولین (38) “ کے بارے میں فرمایا کہ ہمارا طریقہ پہلے نافرمانوں یعنی قریش وغیرہ کے ساتھ غزوہ بدر میں اور ان سے پہلے امتوں میں گزر چکا ہے۔