8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 8:12–14

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جب کہ آپ کا رب فرشتوں کو حکم دے رہا تھا کہ بلاشبہ میں تمہارے ساتھ ہوں سو تم ایمان والوں کو جماؤ میں عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ سو تم گردنوں پر مارو اور ان کے ہر پورے پر مارو

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ بلاشبہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ سو اللہ سخت سزا دینے والا ہے

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

سو یہ سزا تم چکھو اور بلاشبہ کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے۔

1۔ ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ ابو بدر عباد بن ابولید المغبری (رح) نے ہم کو اپنے خطبہ میں خبر دی کہ اس نے کہا میں نے ابو سعید احمد بن داود الحداد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو یہ نہیں فرمایا کہ اس کے ساتھ ہے مگر بدر کے دن فرشتوں کے لئے فرمایا بلاشبہ میں تمہارے ساتھ ہوں مدد کے لئے۔ 2۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ فرشتے نہیں لڑے مگر بدر کے دن۔ 3۔ ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ نے ابوامامہ بن سہل بن حنیف (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میرے والد نے بتایا اے میرے بیٹے ہم نے بدر کے دن دیکھا اور ہم میں سے ایک کوئی اپنی تلوار سے اشارہ کرتا تھا مشرک کے سر کی طرف تو اس کا سر اس کے جسم سے کٹ کر نیچے گر جاتا تلوار لگنے سے پہلے۔ 4۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ نے فرمایا مشرکین قریش جب نکلے تاکہ وہ قافلے کی مدد کریں اور اس کی وجہ سے جنگ پر آمادہ ہوئے تو وہ بدر کے دن پر ایک پانی پر اترے اور وہ ایمان والوں کے مقابلہ میں پانی پر قابض ہوگئے۔ مومنین کو پیاس لگی (پانی نہ ملنے کی وجہ سے) انہوں نے جنبی اور حدث کی حالت میں نماز پڑھنی شروع کی شیطان نے مومنین کے دلوں میں غم کو ڈال دیا۔ اور ان سے کہا کیا تم گمان کرتے ہو کہ تمہارے اندر نبی ﷺ ہیں اور تم اللہ کے دوست ہو حالانکہ تمہارے پانی پر غلبہ پالیا گیا ہے اور تم جنبی اور حدث کی حالت میں نماز پڑھ رہے ہو یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب کے سینوں سے یہ بری اہمیت اختیار کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا یہاں تک کہ وادی پانی سے بہہ پڑی۔ مومنین نے خوب پانی پیا اور اپنے مشکیزے بھرلئے اور اپنی سواریوں کو پلایا اور جنابت سے غسل کیا اللہ تعالیٰ نے اس بارش میں سے ان کو پاک کردیا۔ اور ان کے قدموں کو جما دیا۔ اس وجہ سے کہ ان کے اور ان کے درمیان ریت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بارش بھیجی اور اسے جمادیا یہاں تک کہ وہ سخت اور مضبوط ہوگئی نبی کریم ﷺ سب مسلمانوں کے ساتھ چلے اور وہ اس وقت تین سوتیرہ آدمی تھے۔ ان میں سے دو سو ستر انصاری تھے۔ اور باقی سب مہاجرین میں سے تھے۔ اور مشرکین کا سردار اس دن عتبہ بن ربیعہ تھا اپنی بڑی عمر کی وجہ سے عتبہ نے کہا اے قریش کی جماعت میں تم کو نصیحت کرتا ہوں اور میں تم پر شفقت کرتا ہوں آج کے بعد تم کو نصیحت نہیں کروں گا اور تم اس کام کو پہنچ چلے جس کا تم ارادہ رکھتے تھے ابوسفیان نجات پا گیا۔ (اس لئے) اب تم لوٹ جاؤ تم سلامت رہو گے اگر محمد ﷺ سچے ہوں کے تو تم لوگوں میں سب سے زیادہ سعادت مند ہوں گے اس کی صداقت کی وجہ سے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو تم اس کے خون کو روکنے کے زیادہ حق دار ہو۔ ابوجہل اس کی طرف متوجہ ہوا اور برا بھلا کہا اور اس کے چہرہ کو نوچتے ہوئے اس سے کہا کہ تیرے پیٹ کا اندر عب سے بھر گیا ہے۔ عتبہ نے اس سے کہا عنقریب آج کے دن معلوم ہوجائے گا کون بزدل ہے اور اپنی قوم کو تباہ کرنے والا ہے۔ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ ، (میدان جنگ میں) اترے یہاں تک کہ جب وہ مسلمانوں کے لشکر کے قریب آئے انہوں نے کہا ہمارے مقابلے کے لئے بھیجو اپنے میں سے تاکہ ہم ان سے لڑیں بنو خزرج کے نوجوان اٹھے نبی کریم ﷺ نے ان کو بٹھا دیا پھر فرمایا اے بنو ہاشم کیا تم اپنے کی طرف بنی خزرج کے نوجوان بھیج رہے ہو۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ تم میں سے ہیں۔ تو حمزہ بن عبدالمطلب، علی بن ابو طالب، اور عیبدہ بن الحارث کھڑے ہوئے اور بڑے جذبات اور جرات کے ساتھ ان کی طرف چلے عتبہ نے کہا تم بات کرو تاکہ ہم تم کو پہچانیں، اگر ہمارے ہمسر ہوگئے تو ہم تم سے لڑیں گے حضرت حمزہ ؓ نے فرمایا میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا شیر ہوں عتبہ نے کہا اچھا اور کریم ہمسفر اور مقابل ہے۔ اس کی طرف شیبہ کود پڑا۔ آپس میں مارنے کا تبادلہ ہوا حضرت حمزہ ؓ نے اسے ضرب لگائی اور اس کو قتل کردیا پھر علی بن ابی طالب ؓ کھڑے ہوئے ولید بن عتبہ کی طرف آپس میں دو ضربوں کا تبادلہ ہوا حضرت علی ؓ نے اس پر کاری ضرب لگائی۔ اور اس کو قتل کردیا۔ پھر عبیدہ کھڑے ہوئے تو اس کی طرف عتبہ نکلا آپس میں دو ضربوں کا تبادلہ ہوا ان میں سے ہر ایک نے (ایک دوسرے کو) زخمی کردیا۔ اپنے ساتھی کو پھر حضرت حمزہ ؓ عتبہ پر چلے اور اس کو قتل کردیا نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہو کر دعا فرمائی اے اللہ اے ہمارے رب آپ نے مجھ پر کتاب نازل فرمائی اور مجھ کو لڑنے کا حکم فرمایا اور مجھ سے مدد کا وعدہ فرمایا اور آپ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں فرماتے جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور آپ پر (یہ آیت) اتری (آیت) الن یکفیکم ان یمد کم ربکم بثلثۃ الف من الملئکۃ منزلین “ (آل عمران آیت 124) اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف وحی فرمائی کہ (آیت) ” انی معکم فثبتوا الذین امنوا سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب فاضربوا فوق الاعناق واضربومنہم کل بنان (12) “ ابو جہل انہتر آدمیوں میں مارا گیا۔ عقبہ بن ابی معیط قید کرلیا گیا پھر اسے بھی قتل کردیا گیا ستر آدمی مارے گئے۔ فرشتوں کی جنگ میں شرکت : : 5۔ ابن مردویہ بیہقی نے دلائل میں بنو ساعد کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ میں نے ابو اسید مالک بن ربیع کو میں نے سنا بعد اس کے کہ ان کی بصارت جاتی رہی اگر اب میں تمہارے ساتھ بدر میں ہوتا اور میری بصارت بھی صحیح ہوتی، تو میں تم کو وہ گھاٹی بتاتا جس سے فرشتے ظاہر ہوئے تھے میں اس بارے میں ذرا بھی شک وشبہ نہیں کرتا۔ جب فرشتے نازل ہوئے اس کے پیچھے ابلیس تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اور تم ایمان والے لوگوں کو ثابت قدم رکھو اور ان کے ثابت قدمی یہ تھی کہ فرشتے کسی آدمی کے پاس ایسے آدمی کی شکل میں آتے جسے وہ پہنچانتا ہوتا اور وہ فرشتہ کہتا تھا خوش ہوجاؤ۔ کیونکہ وہ (کافر) کوئی چیز نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے چناچہ وہ ان پر جھپٹ پڑے۔ جب ابلیس نے فرشتوں کو دیکھا تو الٹے پاوں بھاگا اور کہنے لگا میں تم سے بری ہوں اور وہ سراقہ کی شکل میں تھا۔ ابو جہل متوجہ ہوا جو اپنے اصحاب کو بھڑکانے کے لئے کہہ رہا تھا ہرگز تم کو خوف زدہ نہ کرے سراقہ کا ہم کو بےمدد کے چھوڑ دینا کیونکہ وہ محمد ﷺ اور اس کے اصحاب سے وعدہ کرچکا ہے پھر اس نے کہا لات اور عزی کی قسم ! ہم نہیں لوٹیں گے یہاں تک کہ ہم محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کو رسیوں سے باندھ دیں گے پس تم ان کو قتل نہ کرنا اور ان کو مضبوطی سے پکڑ لینا۔ : 6۔ بیہقی نے دلائل میں عکرمہ کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب لڑائی کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اوپر اٹھایا اور اللہ تعالیٰ سے مدد نصرت کی التجا کرنے لگے۔ اگر وہ لوگ اس جماعت پر غالب آگئے تو شرک غالب ہوجائے گا۔ اور تیرا دین قائم نہ ہوگا۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کی مدد ضرور فرمائیں گے اور آپ کے چہرہ ضرور روشن کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتے لگاتار نازل فرمائے دشمن کی جانبوں میں رسول اللہ ﷺ فرمایا اے ابوبکر ؓ خوش ہوجاؤ یہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جو زرد رنگ کی پگڑی باندھے ہوئے ہیں آسمان زمین کے درمیان اپنے گھوڑے کی لگام کو پکڑے ہوئے ہیں جب زمین پر نازل ہوئے تو ایک لحظہ میں مجھ سے غائب ہوگئے پھر ثنایاہ النقیع پر نازل ہوئے اور یہ کہہ رہے تھے آپ کے پاس اللہ کی مدد آگئی جونہی آپ نے اللہ سے دعا مانگی۔ 7:۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ لوگ بدر کے دن فرشتوں کے قتل کئے ہو وں کو پہنچانتے تھے کہ انہوں نے ان کے گردنوں اور جوڑوں پر مار کر قتل کیا تھا اور ان پر آگ کے جلائے جانے کی مثل سب نشان موجود تھے۔ : 8۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاضربوافوق الاعناق “ میں عناق سے مراد سر ہیں۔ : 9۔ ابن جریر، ابن منذر نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاضربوافوق الاعناق “ یعنی گردنوں کو مار دینا۔ : 10۔ ابن جریر، ابوالشیخ اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاضربوافوق الاعناق “ یعنی گردنوں کو مار و : 11۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاضربوا منہم کل بنان “ میں کل بنان سے مراد ہے ہر جوڑ۔ : 12۔ ابن ابی حاتم نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاضربوا منہم کل بنان “ یعنی اس کے چہرہ اور آنکھ کو مارنا اور اس کو آگ کے شعلہ میں پھینکنا۔ کفار کو قتل کرنے کا طریقہ : 13:۔ طستی نے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) واضربوا منہم کل بنان “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے انگلیوں کے کنارے اور لغت بذیل کے مطابق تمام بدن کے جوڑ ہیں عرض کیا ان دونوں کے بارے میں مجھ کو یہ شعر سنائیے۔ فرمایا ہاں انگلیوں کے کناروں کے بارے میں تو عندۃ العبسی کا قول ہے۔ فنعم فوارس الھیجاء قومی اذا علق الاعنۃ البنان ترجمہ : میری قوم کے ہیجا کے گھوڑے کتنے اچھے ہیں جب وہ لگاموں کے پودوں کے ساتھ باندھتے ہیں۔ اور ہذلی نے جسم کے بارے میں کہا : لھا اسد شاکی البنان مقذف لہ کبر اظفارہ لم تقلم ترجمہ : اس کے لئے ایسا غارت گر شیر ہے جس کے پورے مسلح ہیں اس کے لئے تہہ بتہہ بال ہیں اور اس کے ناخن کٹے ہوئے نہیں ہیں۔ 14:۔ عبد بن حمید اور ابن مردویہ نے ابو داود المازی ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ میں بدر کے دن مشرکین میں سے ایک آدمی کے پیچھے لگا میں نے اس کی طرف اپنی تلوار کو بڑھایا اس کا سر نیچے گرپڑا اس کی طرف میری تلوار کے پہنچنے سے پہلے تو میں نے پہچان لیا کہ اس کو میرے علاوہ کسی اور نے قتل کیا (یعنی فرشتے نے) 15:۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) نے (آیت) فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منہم کل بنان “ کے بارے میں فرمایا کہ اس دن کوئی ضرب بھی سر، چہرے، اور جوڑ کے سوا نہیں لگی۔
Ayahs 8:15–16

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم کافروں سے دو بدو مقابل ہوجاؤ تو ان سے پشت مت پھیرو

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور اس دن بجز اس شخص کے جو لڑائی کے لئے رخ بدلنے والا ہو یا اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے والا ہو جو شخص پشت پھیرے گا سو وہ اللہ کے غصہ کو لے کر لوٹا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

1:۔ بخاری نے اپنی تاریخ میں نسائی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے سوال کیا کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں کہ لڑائی کے وقت اپنے دشمنوں سے ثابت قدم نہیں رہتے اور ہم نہیں جانتے کہ ہمارے سامنے ایک جماعت ہے یا ہمارا لشکر ہے۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا جماعت تو رسول اللہ ﷺ کی ہے۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” اذ لقیتم الذین کفروا زحفا فلا تولوہم الادبار (15) فرمایا یہ آیت بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی نہ اس سے پہلے والوں کے لئے اور نہ اس کے بعد والوں کے لئے۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابو داود، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، نحاس نے اپنی ناسخ میں، ابو الشیخ، ابن مردویہ، الحاکم نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومن یولہم یومئذ دبرہ “۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ خاص طور پر بدر والوں کے لئے ہے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر نے ابو نصر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا یہ (آیت) ” ومن یولہم یومئذ دبرہ “۔ بدر کے دن نازل ہوئی اور ان کے لئے پھرجانا جائز نہیں تھا۔ کیونکہ اگر وہ پھر کر پیچھے ہٹتے تو صرف اور صرف مشرکین کے خوف سے پیچھے ہٹتے (اور یہ جائز نہیں تھا) 4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا یہ آیت تم کو دھوکہ میں نہ ڈالے کیونکہ یہ بدر کا دن تھا اور میں ہر مسلمان کے لئے وجع اور پناہ ہوں۔ 5:۔ عبدبن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا وہ بدر کا دن تھا کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ۔ 6:۔ ابوالشیخ، ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت بدر والوں کے بارے میں خاص طور پر نازل ہوئی ان کے لئے جائز نہیں تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے بھاگ جائیں اور ان کو چھوڑ دیں۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، نحاس نے اپنی ناسخ میں، ابوالشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومن یولہم یومئذ دبرہ “۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت بدر والوں کے لئے ہے۔ لشکر جرار کے مقابلہ سے بھاگنا بڑے گناہوں میں سے نہیں ہے۔ 8:۔ ابن منذر، ابو الشیخ نے عکرمۃ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا (آیت) ” ومن یولہم یومئذ دبرہ “۔ کہ یہ بدر کے دن میں تھا۔ 9:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں، ابن ابی شیبہ، ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ یہ بدر کے دن میں تھا اور مسلمانوں کے لئے کوئی گروہ نہ تھا جس کی طرف وہ بھاگ کر لوٹ سکے۔ 10:۔ عبد الرزاق نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن یولہم یومئذ دبرہ “۔ کہ ان کا خیال ہے کہ یہ حکم بدر کے دن نازل ہوا کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ فرماتے ہیں (آیت) ” ومن یولہم یومئذ دبرہ “۔ 11:۔ ابن جریر، ابن منذر نے یزید بن ابی حبیب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے و اجب فرما دیا آگ کو اس شخص کے لئے جو بدر کے دن بھاگ گیا فرمایا اور جو شخص اس دن پیٹھ پھیر لے (آیت) ” فقد بائ بغضب من اللہ “ اور جب اس کے بعد احد کا دن تھا تو فرمایا (آیت) ” انما استزلہم الشیطن ببعض ما کسبوا ولقد عفا اللہ عنہم “ (آل عمران آیت۔ 155) پھر جب سات سال کے بعد حنین کا دن تھا تو فرمایا (آیت) ” ثم ولیتم مدبرین “ (التوبہ آیت 25) پھر فرمایا (آیت) ” ثم یتوب اللہ من بعد ذلک علی من یشاء “ (التوبہ آیت 27) 12:۔ ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومن یولہم یومئذ دبرہ “۔ کے بارے میں فرمایا یعنی یہ صرف بدر کے دن بھاگنے والے کے لئے ہے (آیت) ” الا متحرفا لقتال “ جو بھاگتے ہو مشرکین کی جانب پلٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں فرمایا (آیت) ” متحیزا الی فئۃ “ یعنی اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ آئے بغیر شکست کے (آیت) ” فقد باء بغضب من اللہ “ یعنی واجب کرلیا اللہ کی ناراضگی کو (آیت) ” وماوہ جھنم، وبئس المصیر (21) یہ خاص طور پر بدر کے دن تھا۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اس دن سختی کردی کافروں کی جڑ کاٹنے کے لئے اور وہ پہلا قتال تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے مکہ کے مشرکین کو خوب قتل کیا۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا (آیت) ” متحرف “ سے مراد ہے اپنے ساتھیوں میں آگے بڑھنے والا وہ دیکھتا ہے غفلت کو دشمن سے تو وہ ان پر حملہ آور ہوجاتا ہے اور (آیت) ” متحیزا “ سے مراد ہے بھاگ کر آنے والا رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کی طرف اور اسی طرح جو آج کے دن بھاگ جائے اپنے امیر اور اس کے ساتھیوں کی طرف فرمایا بلاشبہ یہ وعید ہے اللہ کی طرف سے محمد ﷺ کے اصحاب کے لئے کہ وہ نہ بھاگیں اور نبی کریم ﷺ نے ان کو ثابت قدم کردیا۔ 14۔ ابن جریر، ابن منذر نے ابو الشیخ نے عطا بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومن یولہم یومئذ دبرہ “۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ منسوخ ہے اس آیت سے جو انفال میں ہے یعنی (آیت) ” الئن خفف اللہ عنکم “۔ 15:۔ ابن جریر، نحاس نے اپنی ناسخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے جنگ سے بھاگنا بڑے گناہوں میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ومن یولہم یومئذ دبرہ الا متحرفا لقتال “۔ 16:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے جنگ سے بھاگنا بڑے گناہوں میں سے ہے۔ 17:۔ سعید بن منصور ابن سعد ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، بخاری نے الادب المفرد میں اور لفظ بخاری کے ہیں، ابوداود، ترمذی نے اس کو حسن کہا، ابن ماجہ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، النحاس، ابو الشیخ اور ابن مردویہ، بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا ہم ایک جنگ میں تھے تو لوگ انتہائی زیادہ تنگ اور پریشان ہوگئے ہم نے کہا ہم نبی کریم ﷺ کو کس طرح ملیں گے حالانکہ ہم میدان جنگ سے فرار ہوچکے ہیں اور ہم غصہ کے مستحق ہوچکے ہیں پس ہم نماز فجر سے پہلے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم فرار ہو کر آنے والے ہیں، آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم دشمن پر جھپٹنے والے ہو ہم نے آپ کا ہاتھ چوم لیا۔ اور آپ نے فرمایا ہم تمہاری پناہوں اور مسلمانوں کی پناہ بھی پھر (یہ آیت) پڑھی (آیت) ” الا متحرفا لقتال او متحیزا الی فئۃ “۔ میدان جنگ سے بھاگنا حرام ہے : 18۔ ابن مردویہ نے امامۃ ؓ سے روایت کیا جو نبی ﷺ کی کنیز تھیں بیان کرتی ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کو وضو کر ارہی تھی اور آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہی تھی اچانک ایک آدمی داخل ہوا اور کہا یارسول اللہ میں اپنے گھروالوں سے ملنا چاہتا ہوں مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے تاکہ میں آپ کی طرف سے اس کو حفظ کرلوں آپ نے فرمایا جنگ کے دن میدان جنگ سے مت بھاگنا اس لیے کہ جو جنگ کے دن بھاگتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے غصہ کے ساتھ لوٹے گا۔ اور اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔ 19:۔ شافعی، ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا دو آدمیوں سے بھاگا تو تحقیق اس نے راہ فرار اختیار کی۔ 20:۔ خطیب نے متفق ومتفرق میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یایھا الذین امنوا اذا لقیتم الذین کفروا زحفا فلا تولوہم الادبار (15) “ نازل ہوئی تو ہم کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم (دشمن سے) لڑو جیسے اللہ نے حکم فرمایا۔ 21:۔ احمد نے عمروبن عاص ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے سات موتوں سے پناہ کو طلب فرمایا اچانک موت سے، سانپ ڈسنے سے، کسی درندے کے چیر پھاڑنے سے، غرق ہونے سے، ( آگ میں) جلنے سے اور کوئی چیز اس پر گرپڑے (اور موت واقع ہوجائے) اور جو شخص جنگ سے بھاگنے کے وقت قتل ہوجائے۔ 22:۔ احمد نے ابوالبسر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ان سات کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے اللہم انی اعوذبک من الھرم واعوذبک من الغم والغرق والحرق واعوذ بک یتخبطنی الشیطان عند التوب واعوذ بک ان اموت فی سبیلک مدبرا واعوذبک ان اموت لدیغا۔ ترجمہ : اے اللہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں بہت بوڑھا ہونے سے اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں غم سے غرق ہونے سے اور جل جانے سے اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت شیطان کے مجھ پر غالب ہوجانے سے اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت شیطان کے غالب ہوجانے سے اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں آپ کے راستہ میں پیٹھ کر پھیر کر بھاگتے ہوئے مجھے موت آجائے اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میری موت (سانپ بچھوکے) ڈسنے سے آجائے۔ 23:۔ ابن سعد، ابوداود والترمذی، بیہقی نے الاسماء والصفات میں زید ؓ سے روایت کیا کہ جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص ” استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ “ پڑھے تو اس کے (سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں) اگرچہ وہ جنگ سے بھاگا ہوا ہو۔ 24:۔ ابن ابی شیبہ، حاکم نے اس کو صحیح کہا ابن مسعودؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کو یہ فرمایا ” استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ “ تین مرتبہ پڑھ لے تو اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اگرچہ وہ جنگ کے میدان سے بھاگ نکلا ہو۔ 25:۔ ابن ابی شیبہ نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کی مثل موقوف روایت بیان کی ہے کہ اور وہ بھی مرفوع کے حکم میں ہے (واللہ اعلم )
Ayahs 8:17–18

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

سو تم نے انہیں قتل نہیں کیا اور لیکن اللہ نے انہیں قتل کیا، اور جب آپ نے پھینکا آپ نے نہیں پھینکا لیکن اللہ نے پھینکا اور تاکہ اللہ مومنین کو اپنی طرف سے اچھا انعام دے، بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

یہ بات ہے اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے

1۔ ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلم تقتلوہم “ محمد ﷺ کے اصحاب کے لئے فرمایا جب انہوں نے کہا کہ اس کو میں نے قتل کیا اور اس کو میں نے قتل کیا (فرمایا) (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی “ محمد ﷺ نے کافروں کو کنکریاں پھینکیں تھیں۔ 2:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت “ یعنی بدر کے دن ان پر کنکریاں پھینکیں۔ 3:۔ عبدالرزاق عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے عکرمۃ (رح) سے روایت کیا کہ وہ ریت کے ذرات ہر آدمی کی آنکھ پر پڑے گا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی “ کے بارے میں فرمایا یہ بدر کا دن تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے تین کنکریاں اٹھائیں اور ان کے درمیان ان کو پھینکا اور فرمایا چہرے بدشکل ہوئے تو وہ لوگ شکست کھا گئے۔ 5:۔ ابن عساکر نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ جب علی اور حمزہ ؓ نے شیبہ بن ربیعہ پر حملہ کیا تو مشرکین غصہ ہوئے کہا کہ ایک کہ مقابلے میں دو ؟ (یہ ناانصافی ہے) تو لڑائی پھیل گئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ آپ نے ہم کو لڑنے کا حکم فرمایا اور آپ نے مجھ سے مدد کا وعدہ فرمایا اور آپ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتے اور آپ نے کنکریوں کی ایک مٹھی بھری اور ان کے چہروں میں پھینکی تو وہ اللہ کے حکم سے شکست کھاگئے اسی کو فرمایا (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی “۔ 6:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے حکیم بن حزام ؓ سے روایت کیا جب بدر کا دن تھا ہم نے آسمان سے زمین کی طرف واقع ہونے والی ایک آواز سنی جیسے کنکریاں ایک ٹب میں گری ہوں رسول اللہ ﷺ نے ان کنکریوں کو پھینکا اور فرمایا چہرے بدشکل ہوگئے پس ہم شکست کھاگئے اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت (الایہ ) ۔ 7:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے کنکریوں کی آواز سنی جو آسمان سے گریں بدر کے دن گویا کہ وہ ایک طشت میں گری ہیں جب لوگوں نے صفیں بنائی تو رسول اللہ ﷺ نے کنکریاں اٹھائیں اور مشرکین کے چہروں کی طرف پھینک دیں تو وہ شکست کھاگئے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت “۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک مٹھی کنکریاں مجھ کو دو ۔ انہوں نے آپ کو دیں تو آپ نے ان کو (کافر) قوم کے چہروں پر پھینکا۔ لشکر میں سے کوئی آدمی نہیں بچا کہ اس کی آنکھیں کنکریوں سے نہ بھرگئی ہوں تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت “ (الایہ) 8:۔ ابن جریر نے محمد بن قیس اور محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ لشکر کے افراد ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک مٹھی میں مٹی اٹھائی اور قوم کے چہروں پر پھینک دی اور فرمایا چہرے بدشکل ہوگئے (وہ مٹی) ان سب کے آنکھوں میں داخل ہوگئی اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے ان کو قتل کرنا شروع کیا، اور ان کی شکست رسول اللہ ﷺ کی مٹی پھینکنے میں تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی “ سے لے کر ” سمیع علیم “ تک۔ 9:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ جب احد کا دن تھا تو ابی بن خلف نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوگیا مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ابی بن خلف کے سامنے آئے تاکہ اس کو قتل کردیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان سے پیچھے ہٹ جاؤ چناچہ وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے رسول اللہ ﷺ نے اپنا نیزہ اپنے ہاتھ میں لیا اور ابی بن خلف کی طرف پھینکا جس سے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی ٹوٹ گئی ابی بن خلف اپنے ساتھیوں کی طرف واپس آیا انتہائی مشکل کے ساتھ تو انہوں نے اس کو اٹھالیا جب کہ وہ پیچھے مڑگئے اور انہوں نے کہنا شروع کیا کچھ حرج نہیں (زیادہ زخم نہیں ہے) جب انہوں نے یہ بات کہی تو ابی بن خلف نے کہا اللہ کی قسم اگر یہ لوگوں کی جانب سے ہوتا تو میں ان سے ضرور قتال کرتا کیا آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ انشاء اللہ میں تجھ کو قتل کردوں گا اس کے ساتھی اس کو اٹھا کر چلتے رہے یہاں تک کہ وہ راستے ہی میں مرگیا تو انہوں نے اس کو دفن کردیا ابن المسیب نے فرمایا اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت “ نازل فرمائی۔ 10:۔ ابن جریر وابن منذر، ابن ابی حاتم نے سعید بن المسیب (رح) اور زہری سے روایت کیا کہ (یہ آیت) احد کے دن ابی بن خلف کو رسول اللہ ﷺ کا نیزہ سے مارنے کے بارے میں نازل ہوئی اور وہ خوف کی حالت میں تھا تو آپ نے اس کی ہنسلی کی ہڈی پر نیزہ دے مارا۔ جس سے وہ اپنے گھوڑے سے باربار لڑکھڑارہا تھا یہاں تک کہ کچھ دنوں کے بعد اس کے سبب اس کی وفات ہوگئی اسی صورت میں اسی کے لئے دردناک عذاب دوسروں سے پہلے آگیا جو اس برزخ کے عذاب کے متصل ہے۔ اور جو آخرت کے عذاب سے ملا ہوا ہے۔ ابی بن خلف کا قتل : 11:۔ ابن جریر وابن منذر نے زہری (رح) سے یہ قول نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احد کے دن ابی بن خلف کی طرف اپنا نیزہ پھینکا تو اسے کہا گیا یہ تو صرف خراش سی ہے تو اس نے کہا گیا انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں تجھے قتل کردوں گا خدا کی قسم اگر انہوں نے ساری مخلوق کے بارے میں ایسا کہا ہوتا تو وہ سب کے سب مرجاتے۔ 12:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عبدالرحمن بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ ابن ابی الحقیق کے دن (جس دن وہ قتل ہوا) رسول اللہ ﷺ نے کمان طلب فرمائی تو ایک لمبی کمان لائی گئی آپ نے فرمایا اس کے علاوہ دوسری کمان میرے پاس لے آؤ۔ وہ لوگ کیداکمان آپ کے پاس لے آئے رسول اللہ ﷺ نے اسے قلعے کی جانب پھینکا اس سے تیر کرتے ہیں ابن ابی الحقیق اپنے بستر پر قتل ہوگیا۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے اتارا (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی “ 13: ابن اسحاق وابن ابی حاتم نے عمرو بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ولکن اللہ رمی “ کے بارے میں فرمایا وہ آپ کے پھیکنے کے سبب قتل نہ ہوتا۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کی مدد نہ فرماتے اور آپ کے دشمن کے سینوں میں وہ انکار نہ کرتا جس نے ان کو شکست سے دوچار کردیا (اور فرمایا) (آیت) ” ولیبلی المومنین منہ بلاء حسنا “ یعنی ایمان والوں نے پہچان لیا اس کی نعمتوں میں سے جو ان پر ہوئیں ان کے دشمنوں پر ان کا غلبہ ہونا ان کے دشمن کی کثرت اور ان کی تعداد میں کمی کے بابوجود تاکہ وہ اس (فتح) سے اس کے حق کو پہچانیں اور اس وجہ سے اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔
Ayahs 8:19–20

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

اگر تم فیصلہ چاہتے تو فیصلہ تمہارے آچکا ہے، اور اگر تم باز آجاؤ تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے تو ہم بھی وہی کام کریں اور تمہاری جماعت ہرگز تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ اگرچہ تعداد میں ہو، اور بلاشبہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، اور اس سے روگردانی نہ کرو حالانکہ تم سنتے ہو

1۔ ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والنسائی وابن جریر، ابن المنذر ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ ابن مندہ والحاکم نے اس کو صحیح کہا بیہقی نے دلائل میں عبید اللہ بن ثعلبہ بن صفر (رح) سے روایت کیا کہ جب وقت دونوں لشکروں نے لڑنا شروع کیا تو ابو جہل نے کہا اے اللہ ہمارے رشتوں کو کاٹ دے اور ہم کو اس طرح بنا دے کہ ہم کسی کو نہ پہنچانتے ہوں اور کل تک ٹیڑھا یعنی ہلاک کردے تو اس طرح گویا وہ اللہ تعالیٰ سے فیصلہ طلب کررہا تھا۔ تو اس وقت (یہ آیت) ” ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح “۔ نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریروابن المنذر، ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ( آیت) ” ان تستفتحو “ یعنی اے مشرکین تم اگر مدد کو مانگتے ہو تو تمہارے پاس مدد آچکی۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وبن المنذر وابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ ابو جہل نے بدر کے دن کہا اے اللہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت کی مدد فرما جو دو جماعتوں میں سے افضل ہے اور بہتر ہے تو ( آیت) ” ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح “۔ نازل ہوا۔ 4:۔ ابوعبیدہ نے ابن عباس سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے ( آیت) ” ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح “ وان تنتھوا فھو خیرلکم، وان تعودوا نعد، ولن تغنی عنکم فئتکم شیئا “۔ 5:۔ عبدبن وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ( آیت) ” ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح “ یہ آیت کفار قریش کے اس قول کے بارے میں نازل ہوئی اے ہمارے رب ہمارے اور محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کے درمیان کھول دے (یعنی فیصلہ فرمادے) تو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن ان کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ 6:۔ عبد بن حمید، ابن جریر ابن المنذر نے عکرمہ سے روایت کیا کہ ( آیت) ” ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح “ سے مراد ہے کہ اگر تم فیصلہ طلب کرتے ہو تو تمہارے پاس بدر کے دن میں فیصلہ آچکا ہے۔ 7:۔ ابن جریر ابن ابی حاتم وابوالشخی نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) وان تنتھوا “ یعنی اگر تم باز آجاؤ محمد ﷺ سے قتال کرنے سے (اور فرمایا) (آیت) ” وان تعودوا نعد “ اگر تم دوبارہ فیصلہ طلب کرو تو میں محمد ﷺ کے حق میں فیصلہ دوں گا (آیت) ” وان اللہ مع المومنین “ یعنی اللہ تعالیٰ محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کے ساتھ ہے۔ 8:۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان تعودوا “ (اگر تم اسی طرح دوبارہ شرارت کروگے) پھر ہم دوبارہ تم کو قید اور قتل کریں گے۔
Ayah 8:21

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان میں سے مت ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور حال یہ ہے کہ وہ نہیں سنتے

1:۔ ابن ابی شیبہ وعبدبن حمید وابن جریر، وابن المنذر ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) وھم لا یسمعون “ سے مراد ہے کہ حالانکہ وہ نافرنی کرتے ہیں۔
Ayah 8:22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

بیشک زمین پر چلنے پھرنے والوں میں اللہ کے نزدیک سب سے برے وہ لوگ ہیں جو گونگے ہیں، بہرے ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے

1۔ ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ان شرالدوآب عند اللہ “ سے کافر مراد ہیں۔ 2:۔ فریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والبخاری وابن جریر، وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان شرالدوآب عند اللہ “ سے قریش کے قبیلہ بنو عبدالدارکا ایک گروہ مراد ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الصم البکم الذین لا یعقلون “ سے مراد ہے وہ لوگ ہیں جو حق کے اتباع نہیں کرتے۔ 4:۔ عبد بن حمید وابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ بنو عبدالدار کے بارے میں نازل ہوئی۔ 5:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت نضربن حارث اور اس کی قوم کے بارے میں نازل ہوئی۔ 6:۔ ابن جریر نے ابن زید ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ان شرالدوآب عند اللہ “ میں دواب سے مراد مخلوق ہے اور (یہ آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بما کسبوا ما ترک علی ظھرھا من دآبۃ “ (فاطر آیت 45) پڑھیں اور فرمایا کہ (یہ آیت) ” وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا “ (ھود آیت 6) یہ اسی میں داخل ہیں۔
Ayah 8:23

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر اللہ جانتا کہ ان میں کوئی بھلائی ہے تو ان کو ضرور سنا دیتا، اور اگر ان کو سنا دے تو وہ ضرور روگردانی کریں گے

1۔ ابن اسحاق، ابن ابی حاتم نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو علم اللہ فیہم خیرا لاسمعہم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لئے ان کے لئے وہ باتیں تیار کردیتا ہے جو وہ اپنی زبانوں سے کہتے لیکن ان کے دل ان کے خلاف ہوتے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو اسمعہم “۔ یعنی اس بات کے سامنے کے بعد کہ ان میں کوئی چیز نہیں جو ان کو نفع دے اس کے علم کے نافذ ہونے کے بعد اس لئے کہ وہ اس سے کوئی نفع حاصل نہ کرتے۔ 3:۔ ابوالشیخ نے عکرمۃ (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ ہم برے ہیں اس چیز سے کہ جن کی طرف محمد ﷺ ہم کو بلاتے ہیں ہم اس کو سنتے ہی نہیں اور ہم گونگے نہیں تاکہ ہم ان کو کوئی جواب نہ دیں گے اس کی تصدیق کے بارے میں احد کے دن وہ سب کے سب قتل کردیئے گئے اور وہ احد کے دن جھنڈے والے تھے۔
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم حکم مانو اللہ کا اور رسول کا جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندہ کرتی ہے، اور جان لو کہ بیشک اللہ حائل ہوجاتا ہے آدمی کے اور اس کے دل کے درمیان اور بیشک تم اللہ ہی کی طرف جمع کئے جاؤ گے

1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر وابن حاتم وابو الشیخ نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اذا دعا کم لما یحییکم “۔ کے بارے میں فرمایا اس سے مراد یہ قرآن ہے جس میں زندگی بھی ہے تقوی بھی ہے۔ نجات بھی ہے اور دنیا میں اور آخرت میں حفاظت کا سامان بھی۔ 2:۔ ابن اسحاق وابن ابی حاتم نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اذا دعا کم لما یحییکم “۔ کے بارے میں فرمایا یعنی (دشمن سے) لڑنے کے لئے (جب تم کو بلایا جائے) کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تم کو عزت دیتے ہیں ذلت کے بعد اور تم کو قوت عطا فرماتے ہیں کمزوری کے بعد اور اس کے ذریعہ تمہارے دشمن کے قہر وغضب سے محفوظ کردیتے ہیں۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وخشیش بن احرم نے استقامت میں ابن جریر وابن المنذر نے وابن ابی حاتم وابو الشیخ والحاکم نے اس کو صحیح کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ (آیت) ” واعلموا ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ “۔ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مومن اور کفر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور کافر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ 4:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس (آیت) ” یحول بین المرء وقلبہ “۔ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مومن اور کفر کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور کافر اور ہدایت کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ 5:۔ ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واعلموا ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ “۔ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم کافر اور اس کے درمیان حائل ہوجاتا ہے کہ وہ خیر کے دروازے کی حفاظت کرے اس پر عمل کرے یا وہ اس سے ہدایت حاصل کرے۔ 6:۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واعلموا ان اللہ یحول بین المرء و قبلہ “۔ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا علم آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ 7:۔ ابن ابی حاتم نے ابو غالب خلجی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یحول بین المرء قلبہ “۔ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حائل ہوجاتے ہیں مومن اور اس کے ایسے گناہ کے درمیان جو اس کے لئے ہلاکت کا باعث ہوتا ہے۔ اس لیے ابن آدم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کے علاوہ دوسرے خیر کے اعمال کرے اور وہ اپنے دل میں ہلاک کرنے والی باتیں داخل نہ کرے جس کے ذریعہ وہ فاسقین کے گھر کا مستحق ہوجائے اور کافر اور اس کی اطاعت کے درمیان اللہ تعالیٰ حائل ہوجاتا ہے جو اسے ایسی چیزوں کا مستحق بنا دیتا ہے جس کو اپنانے والے اور جن سے محبت رکھنے والے خیر اور بھلائی تک پہنچ جاتے ہیں۔ اور یہ اس سابقہ علم میں ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا حکم منتہی ہوتا جاتا ہے اور بندوں کے اعمال اس کے پاس قرار پکڑتے ہیں۔ اہل جنت و جہنم کا عمل : 8:۔ ابوالشیخ نے ابو طالب (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یحول بین المرء ‘ و قبلہ ‘۔ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کا ذکر کیا گیا جب ان کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا تو آپ نے حضرت عمر ؓ اور اس کے علاوہ اپنے صحابہ ؓ میں سے دوسرے لوگوں سے فرمایا جنہوں نے اس کا سوال کیا تھا کہ عمل کرتے وہو پس ہر کام آسان بنادیا گیا ہے۔ وہ آسانی کیا ہے فرمایا دوزخ والے کے لئے دوزخ کا عمل آسان بنا دیا گیا ہے اور جنت والے کے لئے جنت کا عمل آسان کردیا گیا۔ 9:۔ احمد نے زہد میں وابن المنذر نے عمر بن خطاب ؓ نے ایک غلام کو یوں دعا کرتے ہوئے سنا ” اللہم انک تحول بین المرئ و قبلہ فحل بینی وبین الخطایافلا اعمل بسوئ منھا “ یعنی اے اللہ بلاشبہ تو ہی حائل ہوجاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے درمیان پس تو میرے اور میری خطاوں کے درمیان حائل ہوجا۔ عمر نے فرمایا اللہ تجھ پر رحم کرے تو اس سے نیکی اور عمل خیر کی دعا مانگ۔ 10:۔ عبد بن حمید، ابن جریر نے حسن (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” یحول بین المرء و قبلہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ آدمی اور اس کے دل کے درمیان اس سے قرب اختیار کرنے میں حائل ہوجاتے ہیں۔
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور تم ایسے فتنہ سے بچو جو خاص کر انہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں سے گناہوں کے مرتکب ہوئے اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ سخت عذاب والا ہے

1۔ احمد والبزار وابن المنذر وابن مردویہ وابن عساکر نے مطرف (رح) سے روایت کیا کہ ہم نے زبیر ؓ سے عرض کیا اے ابوعبداللہ تم نے خلیفہ کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ ان کو شہید کردیا گیا پھر تم اس کے خون کا مطالبہ کرنے کے لئے آئے ہو زبیر نے فرمایا ہم نے رسول اللہ ﷺ ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ کے زمانہ میں ہم نے پڑھا (آیت) ” واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ “۔ اور ہم نے یہ خیال نہ کیا کہ ہم ہی اس کے اہل ہوں گے یہاں تک کہ یہ ہم ہی میں واقع ہوگا جیسے ہی واقع ہوچکا ہے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید ونعیم بن حماد نے فتن میں وابن جریر، ابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ نے زبیر ؓ نے بیان فرمایا کہ البتہ تحقیق ہم نے ایک زمانہ تک (اس آیت) کو پڑھا اور ہم نے یہ خیال کیا کہ ہم ہی اس کے اہل میں سے ہیں۔ اور ہم ہی آیت کے مصدقات اور مراد ہوں گے۔ (اور یہ آیت یہ ہے) (آیت) ” واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ “۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ نے (آیت) ” واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ “۔ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے بلاشبہ اور وہ کام جو ہونے والا ہے۔ 4:۔ ابن جریر ابن منذر نے حسن ؓ نے (اس آیت) ” واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ “۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ حضرت علی عثمان طلحۃ اور زبیر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 5:۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم ! جب یہ آیت نازل ہوئی تو کئی قوموں نے جان لیا کہ عنقریب اس (حکم) کے ساتھ ایک قوم خاص کی جائے گی۔ 6:۔ عبد بن حمید وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم ! محمد ﷺ کے اصحاب میں سے عقل والوں نے جان لیا جب یہ آیت نازل ہوئی کہ عنقریب فتنے ظاہر ہوں گے۔ 7:۔ عبد بن حمید نے ضحاک ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا (یہ آیت) محمد ﷺ کے اصحاب کے بارے میں خاص طور پر نازل ہوئی۔ 8:۔ ابن جریر وابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت خاص طور پر بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ فتنہ جنگ جمل کے دن ان تک پہنچا کہ وہ انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور ان قتل ہونے والوں میں سے طلحہ اور زبیر ؓ تھے جو بدر والوں میں سے تھے۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (اس آیت) ” واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ “۔ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ کو یہ خبر دی گئی کہ اس سے مراد اصحاب جمل ہیں۔ 10:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (اس آیت) ” واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ “۔ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ فتنہ) ظالم اور صالح سب کو پہنچے گا۔ 11:۔ ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (اس آیت) ” واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ “۔ سے مراد ہے کہ یہ فتنہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجائے گا یہاں تک کہ اسے اس طرح کو چھوڑے گا کہ وہ اسے سمجھ ہی نہ پائے گا۔ 12:۔ ابن جریر وابن منذروابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” واتقوا فتنۃ “ (الایہ) کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم فرمایا کہ اپنے درمیان کسی گناہ کو نہ جمنے دیں ورنہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ان کو بھی آجائے گا۔
Ayah 8:26

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جب تم تھوڑے تھے۔ زمین میں کمزور شمار کئے جاتے تھے تم اس بات سے ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک لیں، سو اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھکانہ دیا اور اپنی مدد سے تم کو قوت دی اور تمہیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں تاکہ تم شکر گزار ہو

1۔ ابن منذر وابن جریر وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” واذکروا اذ انتم قلیل “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ (عرب کا) قبیلہ لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل تھا ذلت کے لحاظ سے اور سب سے زیادہ شقی اور بدبخت تھا زندگی گزرنے کے لحاظ سے اور سب سے انتہائی بھوکا تھا پیٹ کے لحاظ سے اور سب سے زیادہ ننگا تھا بدن کے لحاظ سے۔ اور سب سے زیادہ ظاہر تھا گمراہی کے لحاظ سے۔ پتھروں پر اعتکاف کرنے والے تھے فارس اور روم کے درمیان۔ اللہ کی قسم ان کے شہروں میں ایسے لوگ نہیں تھے جو ان پر حسد کرتے ہوں ان میں سے جس شخص نے زندگی گزاری تو بدبختی والی زندگی گزاری اور جو ان میں سے مرگیا تو اس کو آگ میں پھینک دیا گیا وہ کھاتے نہیں تھے بلکہ کھلاتے تھے۔ اللہ کی قسم اس وقت زمین میں موجود کسی قبیلے سے ہم واقف نہیں تھے۔ جو ان میں ان سے بڑھ کر شریر ہو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آئے تو اس کے ذریعے اس نے شہر کو آباد کیا اس کے ذریعہ رزق میں وسعت پیدا فرمائی اور اس کے ذریعہ اس نے شہر کو آباد کیا اس کے ذریعہ رزق میں وسعت پیدا فرمائی اور اس کے ذریعہ تم کو لوگوں پر حاکم بنایا اور اسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ عطا فرمایا جو تم نے دیکھ لیا پس تم اللہ تعالیٰ کا شکر کرو اس کی نعمت کا کیونکہ تمہارا رب نعمتیں عطا فرمانے والا ہے۔ اور وہ شکر کو پسند فرماتا ہے۔ اور شکر کرنے والوں کو اور زیادہ عطا کیا جاتا ہے اللہ عزوجل کی طرف سے۔ 2:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ان یتخطفکم الناس “۔ کے بارے میں فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں مکہ میں (لوگ اچک لئے جاتے تھے) پھر (اللہ تعالیٰ نے تم کو اسلام کی طرف پناہ دی ) 3:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان یتخطفکم الناس “۔ کے بارے میں فرمایا اس وقت لوگوں سے مراد فارس اور روم کے لوگ ہیں۔ 4:۔ ابوالشیخ و ابونعیم والد یلمی نے مسند الفردوس میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذکروا اذانتم قلیل مستضعفون فی الارض تخافون ان یتخطفکم الناس “۔ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا یارسول اللہ ان میں سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا فارس والے۔ 5:۔ ابن جری وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاوکم “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو پناہ دی انصار مدینہ کی طرف (اور فرمایا) (آیت) ” وایدکم بنصرہ “ یعنی بدر کے دن (تمہاری مدد کی )
Ayahs 8:27–28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خیانت نہ کرو اللہ کی اور رسول کی، اور نہ خیانت کرو اپنی آپس کی امانتوں میں حالانکہ تم جانتے ہو

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور تم جان لو کہ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں اور بلاشبہ اللہ کے پاس بڑا اجر ہے

1۔ ابن جریر، ابن المنذر وابوالشیخ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ ابوسفیان مکہ سے نکلا جبرائیل تشریف لائے نبی کریم ﷺ کے پاس اور فرمایا کہ ابوسفیان فلاں فلاں جگہ میں ہے۔ آپ لوگ اس کی طرف نکلیں اور (اپنے نکلنے کو) مخفی رکھو۔ منافقین میں سے ایک آدمی نے ابوسفیان کی طرف لکھا کہ محمد ﷺ تمہارا ارادہ رکھتے ہیں اپنا بچاؤ کرلو۔ تو اللہ تعالیٰ نے اتارا (آیت) ” لا تخونوا اللہ والرسول “ (الایہ) راز فاش کرنے کی ممانعت : 2:۔ سعید بن منصور اور ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے عبد اللہ بن قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” لا تخونوا اللہ والرسول “ ابولبابہ بن عبدالمنذر کے بارے میں نازل ہوئی بنی قریظہ اپنے محاصرین کے دن ان سے پوچھا اس معاملے میں کیا حکم ہے انہوں نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکم ذبح کا ہے (یعنی تم قتل کردیئے جاوگے) (اس پر) یہ آیت نازل ہوئی تو ابو لبابہ ؓ نے فرمایا میرے قدم پھسل گئے یہاں تک کہ میں نے جان لیا کہ بلاشبہ میں نے اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کی ہے۔ 3:۔ ابن جریر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لا تخونوا اللہ والرسول “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت ابولبابہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ان کو بھیجا تھا اور انہوں نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کردیا کہ وہ ذبح ہوگئے۔ ابولبابہ ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم میں نہ کھانا کھاوں گا نہ پیئوں گا یہاں تک کہ میں مرجاوں گا یا میری توبہ قبول کی جائے گی۔ وہ سات دن اس حال میں ٹھہرے رہے کہ نہ انہوں نے کھانا کھایا نہ کچھ پیا۔ یہاں تک کہ بیہوش ہو کر گرپڑے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان سے کہا گیا اے ابو لبابہ تیری توبہ قبول کرلی گئی۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں اپنے آپ کو نہیں کھولوں گا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ مجھ کو نہ کھولیں چناچہ آپ ﷺ تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے ان کو کھولا۔ 4:۔ عبد بن حمید نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو لبابہ ؓ کو قریظہ کی طرف بھیجا اور وہ ان کے (زمانہ جاہلیت میں) حلیف تھے انہوں نے اپنے ہاتھ سے ان کو ذبح وقتل ہونے کا اشارہ کردیا۔ تو انہوں نے ( یہ آیت) اتاری یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا امنتکم وانتم تعلمون “ (27) رسول اللہ ﷺ نے ابو لبابہ کی بیوی سے پوچھا کیا وہ نماز پڑھتا ہے روزے رکھتا ہے اور جنابت سے غسل کرتا ہے۔ اس نے کہا ہاں وہ نماز پڑھتا اور روزے رکھتا ہے اور جنابت سے غسل بھی کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول سے محبت بھی رکھتا ہے۔ آپ نے ان کو بلوایا وہ آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم میں نماز پڑھتا ہوں روزے رکھتا ہوں اور جنابت سے غسل بھی کرتا ہوں میں عورتوں اور بچوں کی طرف مائل رہا اور ان کے لئے میرے دل میں محبت کے جذبات قائم رہے۔ یہاں تک کہ میں نے پہچان لیا کہ بلاشبہ میں نے اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کی ہے۔ 5:۔ ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) اتاری یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت ابوالبابہ بن عبد المنذر کے بارے میں نازل ہوئی اس کو اس آیت نے منسوخ کردیا جو سورت براۃ میں ہے یعنی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم “۔ 6:۔ ابن مردویہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے جب بنو قریظہ کا اہم معاملہ تھا تو نبی کریم ﷺ نے علی ؓ کو ان کی طرف بھیجا۔ ان لوگوں کے ساتھ جو ان کے پاس تھے وہ ان کے طرف پہنچے تو وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہنے لگے اتنے میں جبرائیل رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائے سیاہ سفید داغوں والے گھوڑے پر عائشہ ؓ نے فرمایا گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ رہی ہوں کہ آپ جبرائیل (علیہ السلام) کے چہرہ سے غبار کو پونچھ رہے ہیں۔ پھر میں نے عرض کیا یہ دجیہ ؓ (صحابی) ہیں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا کہ یہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں، جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا یا رسول اللہ کس چیز نے آپ کو بنو قریظیہ سے روکا ہے کہ آپ ان کے پاس جائیں کیونکہ وہ لوگ آپ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں عنقریب وہ آداب بجالائیں گے۔ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے بندرو اور خنزیروں کے بھائی۔ انہوں نے کہا اے ابو القاسم کیا آپ اپنے فحش الفاظ کہہ رہے ہیں۔ اور انہوں نے کہا ہم محمد ﷺ کے حکم پر نہیں اتریں گے لیکن ہم سعد بن معاذ کے حکم پر اتریں گے۔ وہ لوگ اترآئے اور سعد ؓ نے انکا فیصلہ فرما دیا کہ ان کے لڑنے والوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی اولاد کو قید کرلیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسی فیصلہ کو لے کر میرے پاس سحری کے وقت فرشتہ آیا تھا (یہ آیت) اتاری یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا امنتکم وانتم تعلمون “ (27) ابولبابہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے بنوقریظہ کی طرف اشارہ کیا تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ ہم سعد بن معاذ ؓ کے حکم پر اتریں گے کہ تم اس طرح نہ کرو کیونکہ تم لوگ ذبح کئے جاوگے۔ اور اپنے ہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔ 7:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تخونوا اللہ “ سے مراد ہے کہ تم اس کے فرائض کو نہ چھوڑا اور والرسول یعنی آپ کے طریقہ کو چھوڑ کر گناہ کا ارتکاب کرکے (خیانت نہ کرو) اور فرمایا (آیت) ” وتخونوا امنتکم “ یعنی نہ توڑو تم ( یعنی کمی نہ کرو) اس امانت میں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر امانت رکھی ہے۔ 8:۔ ابن جریر نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت حضرت عثمان ؓ کے قتل کے بارے میں نازل ہوئی۔ 9:۔ ابو الشیخ نے یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاتخونوا اللہ والرسول “ سے مراد ہے کہ میدان جنگ سے ہتھار کے ساتھ غائب ہوجانا۔ 10:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابن مسعودؓ سے روایت کیا کہ تم سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ وہ مبتلا ہوگا فتنہ میں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت) ” انما اموالکم واولادکم فتنۃ “۔ اور جو شخص تم میں پناہ لینا چاہے تو اس کے چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگے فتنوں کی تکلیفوں اور تنگی سے۔ 11:۔ ابن جریر وابن حاتم وابو الشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واعلموا انما اموالکم واولادکم فتنۃ۔ “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ امتحان کا فتنہ ہے جس سے انہیں آزمائش اور امتحان میں ڈال دیا۔ اور پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول پڑھا (یعنی) (آیت) ” ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ۔ “
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ تمہیں فیصلہ والی چیز دے گا اور تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور تمہاری بخشش فرما دے گا، اور اللہ بڑے فضل والا ہے

1۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یجعل لکم فرقانا “ سے مراد ہے نجات۔ 2:۔ ابن جریر نے عکرمۃ (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یجعل لکم فرقانا “ سے مراد مدد اور نصرت ہے۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، ابن منذر وابوالشیخ نے مجاہد سے روایت کیا کہ (آیت) ” یجعل لکم فرقانا “ سے مراد ہے دنیا اور آخرت میں نکلنے کا راستہ۔