Ayahs 77:35–42قیامت کے دن کے مختلف حالات
28۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں بتائیے یعنی ہذا یوم لا ینطقون ولا یوذن لہم فیعتذرون۔ یہ وہ دن ہے جس میں بات بھی نہ کرسکیں گے اور نہ انہیں عذر کرنے کی اجازت ہوگی۔ تو فرمایا کہ یہ قیامت کا وہ دن ہے جس میں مختلف حالات ہوں گے کسی حال میں وہ نہیں بول سکیں گے۔ اور کسی حالت میں وہ بولیں گے اور کسی حال میں کہ وہ عذر پیش کریں گے میں تم کو کوئی بات نہیں بتاؤ گا مگر وہ بات جو ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی پھر فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا۔ تو جبار مطلق بادل کے سائے میں نازل ہوں گے۔ اور ہر امت تین پردوں میں دوزانوں بیٹھے گی۔ ہر پردے کا فاصلہ پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ ایک پردہ نور کا ہے اور ایک پردہ ظلمت کا اور ایک پردہ پانی ہوگا۔ اس وجہ سے کوئی دکھائی نہیں دے گا۔ تو اس وجہ سے وہ پانی کو حکم دے گا تو وہ اس اندھیرے میں لوٹ جائے گا۔ کوئی نفس اس بات کو نہیں سن سکے گا مگر یہ کہ وہ ہٹ جائے گا اسی لیے اس وقت وہ نہیں بول سکیں گے۔
29۔ الحاکم وصححہ نے عکرمہ (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کے بارے میں پوچھا آیت ہذا یوم لا ینطقون اور آیت فلا تسمع الا ہمسا (طہ آیت 108) پھر تو پاؤں کی آہٹ کے سوا کچھ نہیں سنے گا۔ آیت واقبل بعضہم علی بعض یتساء لون (الصافات آیت 27) اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھے گا آیت ھاء م اقرء وا کتبیہ (الحاقہ آیت 19) سو وہ کہے گا لو میرا اعمال نامہ پڑھ لو۔ یہ سب کیا ہے ؟ فرمایا افسوس ہے تجھ پر کیا مجھ سے پہلے کس سے اس بارے میں سوال کیا ؟ نافع نے کہا نہیں۔ فرمایا بلاشبہ اگر تو سوال کرتا تو ہلاک ہوجاتا۔ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا آیت وان یوما عندربک کالف سنۃ مما تعدون۔ اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے جو تم گنتے ہو نافع نے کہا کیوں نہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ ان دنوں میں سے ہر دن کی مقدار کے لیے مختلف احوال میں سے ایک حالت اور ایک رنگ ہے۔
30۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ (المعارج آیت 4) اور وہ اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا جس کے بارے میں تم سوال کر رہے ہو۔ میں تم کو اس سے زیادہ سخت اور شدید کے بارے میں خبر نہ دوں ؟ ابن عباس ؓ نے فرمایا آیت لا یسئل عن ذنبہ انس ولا جان (الرحمن آیت 29) اس دن اپنے گناہ کے بارے میں نہ کوئی انسان اور نہ کوئی جن پوچھا جائے گا اور فرمایا آیت فوربک لنسئلنہم اجمعین (الحجر آیت 29) اور تیرے رب کی قسم ! ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے اور فرمایا آیت ہذا یوم لا ینطقون اور اس دن وہ نہ بولیں گے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس ایک دن میں بہت سے دن ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس میں چاہیں گے کریں گے۔ اور اس میں سے ایک دن وہ ہوگا جس میں وہ لوگ نہیں بول سکیں گے اور انہی میں سے ایک دن عبوسا قمطریرا ہے۔
31۔ عبد بن حمید نے ابو الضحی (رح) سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق اور عطیہ رحمہما اللہ دونوں ابن عباس ؓ کے پاس آئے اور کہا اے ابن عباس ! ہم کو اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کے بارے میں بتائیے آیت ہذا یوم لا ینطقون اور ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون (الزمر آیت 21) پھر بیشک تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑوگے اور واللہ ربنا ماکنا مشرکین (انعام : 23) اور اللہ کی قسم ہمارے رب ! ہم مشرک نہیں تھے۔ اور ولا یکتمون اللہ حدیثا ( النساء آیت 42) اور وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے۔ انہوں نے فرمایا تیری ہلاکت ہو اے ازرق کے بیٹے ! وہ ایک لمبا دن ہوگا اور اس میں کئی ٹھہرنے کی جگہیں ہیں جن پر تو آئے گا اس میں ایک ساعت ہے جس میں وہ نہیں بول سکیں گے۔ پھر ان کو اجازت دی جائے گی تو وہ آپس میں جھگڑیں گے پھر وہ ٹھہرے رہیں گے جتنا اللہ چاہیں گے۔ پھر وہ قسمیں اٹھائیں گے پوری پوری کوشش کریں گے۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے مونہو پر مہر لگا دیں گے۔ اور ان کے اعضاء کو حکم دیں گے تو ان کے ان اعمال پر گواہی دیں گے جو ان کے ساتھ انہوں نے کیے تھے پھر ان کی زبانیں بولیں گی اور ان کی جانوں پر گواہی دیں گے جو اعمال انہوں نے کیے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ آیت ولا یکتمون اللہ حدیثا۔
32۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابو عبداللہ الجدلی (رح) سے روایت کیا کہ میں بیت المدس آیا اچانک عبادہ بن صامت، عبداللہ بن عمرو اور کعب احبار ؓ بیت المقدس میں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے عبادہ ؓ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ ایک چٹیل میدان میں جمع ہوں گے اور نظر ان سے پار گذر جائے گی۔ یعنی لوگ دوسرے سرے تک دیکھے جاسکیں گے) اور بلانے والا ان کو آواز سنا سکے گا۔ اور اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں۔ آیت ہذا یوم لا ینطقون اور آیت ہذا یوم الفصل جمعنکم والاولین فان کان لکم کید فکیدون۔ یہ فیصلہ کا دن ہے ہم تمہیں اور پہلوں کو جمع کریں گے پس اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو مجھ پر کر دیکھو۔ آج کے دن مجھ سے کوئی جبار اور سرکش شیطان نجات نہ پائے گا۔ عبداللہ بن عمرو ؓ نے فرمایا ہم نے کتاب میں پایا کہ اس دن آگ میں سے ایک گردن نکلے گی۔ اور وہ تیز دوڑتے ہوئے باتیں کرے گی یہاں تک کہ جب لوگوں کے درمیان پہنچے گی تو کہے گی اے لوگو ! کہ میں تین آدمیوں کی طرف بھیجی گئی ہوں۔ میں ان کو پہچان لوں گی۔ والد کو اس کے بیٹے کے سبب اور بھائی کو اس کے بھائی کے سبب ان کو مجھ سے کوئی پناہ گاہ فائدہ نہیں دے گی۔ اور نہ کوئی چھپانے والی چیز ان کو مجھ سے چھپا سکے گی۔ جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرا معبود بنا لیا ہے۔ ہر سرکش اور ضدی کو اور ہر شیطان سرکش کوئی بھی ان کو نہیں بچا سکے گا۔ اور فرمایا وہ ان پر لیٹ جائے گا۔ اور ان کو حساب سے چالیس دن یا فرمایا چالیس سال پہلے جہنم میں پھینک دے گا۔ پھر فرمایا ایک قوم جنت کی طرف جلدی جلدی چلے گی۔ فرشتے ان سے کہیں گے۔ حساب کے لیے ٹھہر جاؤ۔ وہ کہیں گے اللہ کی قسم ! ہمارے پاس کوئی مال نہیں۔ اور نہ ہی ہم عمال ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندوں نے سچ کہا۔ میں زیادہ حقدار ہوں کہ اپنے وعدہ کو پورا کروں تم لوگ جنت میں داخل ہوجاؤ تو وہ لوگ حساب سے چالیس دن یا چالیس برس پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
Ayahs 77:43–4533۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت کلوا واشربوا ہنیئا (مزے سے کھاؤ اور پئیو) کیونکہ (اب) موت نہیں آئے گی۔
Ayahs 77:46–4734۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلوا وتمتعوا قلیلا۔ (کھاؤ اور چند روز فائدہ اٹھاؤ) یعنی اس سے اہل کفر مراد ہیں۔
Ayahs 77:48–5035۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ واذا قیل لہم ارکعوا لا یرکعون۔ اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہ کرتے تھے۔ یہ آیت قبیلہ بنو ثقیف کے بارے میں نازل ہوئی۔
36۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا قیل لہم ارکعوا سے نماز پڑھنا مراد ہے یعنی جب ان سے نماز پڑھنے کو کہا جاتا تھا تو وہ نماز نہ پڑھتے تھے۔
37۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا قیل لہم ارکعوا سے مراد ہے کہ تم پر لازم ہے اچھی طرح رکوع کرنا کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک دجہ ہے پھر فرمایا اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ حذیفہ ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھتا ہے اور رکوع نہیں کرتا گویا کہ وہ بدکنے والا اونٹ ہے تو فرمایا اگر یہ شخص اسی حالت میں مرگیا تو یہ اسلام میں کسی طریقے پر نہیں مرے گا۔ پھر فرمایا اور ہم کو بیان کیا کہ ابن مسعود ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھتا ہے اور رکوع نہیں کرتا اور دوسرا آدمی اس کی چادر کو کھینچ رہا ہے۔ ان کو دیکھ کر ابن مسعود ؓ ہنس پڑے لوگوں نے پوچھا اے ابن مسعود آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟ فرمایا مجھے دو آدمیوں نے ہنسا دیا۔ ان میں سے ایک کی طرف تو اللہ تعالیٰ رحمت کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ اور دوسرے کی اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرمائیں گے۔
38۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت واذا قیل لہم ارکعوا لا یرکعون کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو قیامت کے دن سجود کی طرف بلایا جائے گا تو وہ سجدے نہیں کرسکیں گے۔ اس وجہ سے کہ وہ دنیا میں اللہ کو سجدہ نہیں کرتے تھے۔ واللہ اعلم۔