68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 68:33–41

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

اسی طرح عذاب ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے برھ کر ہے، کیا خوب ہوتا کہ یہ لوگ جان لیتے

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

بلاشبہ پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت والے باغ ہیں

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کے برابر کردیں گے

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوا تم کیسا فیصلہ کرتے ہو

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جسے تم پڑھتے ہو

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

اس میں تمہارے لیے وہ چیز لکھ ہوئی ہو جسے تم پسند کرتے ہو

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

کیا تمہارے لیے ہمارے اوپر قسمیں ہیں جو قیامت تک باقی رہنے والی ہیں کہ تمہیں وہ دیا جائے گا جس کا تم فیصلہ کرتے ہو

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

ان سے دریافت کیجیے کہ ان میں اس کا کون ذمہ دار ہے ؟

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا ان کے لیے ٹھہرائے ہوئے شریک ہیں، سو وہ اپنے شرکیوں لے آئیں، اگر سچے ہیں

73۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کذلک العذاب اسی طرح ہے عذاب۔ یعنی دنیا کی سزا آیت ولعذاب الاخرۃ اکبر۔ اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا ہے اور فرمایا آیت سلہم ایہم بذلک زعیم۔ ان سے پوچھیے کون سا ان میں اس بات کا ذمہ دار ہے۔ یعنی اس کام کا ان میں سے کون ضامن ہے۔ 74۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ تدرسون یعنی تم پڑھتے ہو اور آیت ایمان علینا بالغہ۔ کیا تمہارے لیے ہم نے قسمیں کھائی ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی یعنی ہم پر کوئی وعدہ ہے۔
Ayah 68:42

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس دن ساق کی تجلی فرمائی جائے گی اور یہ لوگ سجدہ کی طرف بلائے جائیں گے سو سجدہ نہ کرسکیں گے

ہر مومن مرد و عورت کا سجدہ کرنا 1۔ البخاری وابن المنذر نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے وہئے سنا کہ ہمارے رب اپنی پنڈلی کو کھولیں گے تو ان کے لیے ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت سجدہ کرے گی۔ اور وہ آدمی باقی رہے گا جو دنیا میں ریا کاری اور شہرت کے لیے سجدہ کرتا تھا۔ وہ چاہے گا کہ سجدہ کرے تو اس کی پیٹھ ایک طبق بن جائے گی۔ یعنی اس کی پیٹھ اکڑ جائے گی اور وہ سجدہ نہیں کرسکے گا۔ 2۔ ابن مندہ نے الرد علی الجہینہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آیت یوم یکشف عن ساق جس دن پنڈلی سے کھولا جائے گا یعنی اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کو کھولیں گے۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمیدوابن المنذر وابن مندہ نے ابن مسعود ؓ سے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ دونوں ساقوں سے پردہ اٹھائیں گے۔ ابن مندہ (رح) نے کہا ابن مسعود ؓ کی قراءت میں شاید یوں ہے۔” یکشف “ یاء کے فتح اور شین کے کسرہ کے ساتھ۔ 4۔ ابو یعلی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں وضعفہ وابن عساکر نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں فرمایا کہ جس دن ایک عظیم نور سے پردہ اٹھایا جائے گا اور لوگ اس کے لیے سجدہ میں گرپڑیں گے۔ 5۔ فریابی و سعید بن منصور وابن مندہ و بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابراہیم النخعی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں روایت کیا کہ ایک امر عظیم سے پردہ اٹھایا جائے گا پھر فرمایا قد قامت الحرب بنا علی ساق۔ تحقیق جنگ ساق پر کھڑی ہوگی یعنی گھمسان کی جنگ ہوگی۔ اور ابن مسعود ؓ نے فرمایا وہ اپنی ساق سے پردہ اٹھائے گا تو ہر مومن سجدہ میں گرپڑے گا اور کافر کی پیٹھ انکار کردے گی۔ اور وہ ایک ہی ہڈی کی طرح ہوجائے گی۔ 6۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ والبیہقی فی الاسماء والصفات عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا جب قرآن میں سے کوئی چیز تم پر مخفی اور پوشیدہ ہو تو اس کو شعر میں ڈھونڈو کیونکہ وہ عرب کا دیوان ہے۔ کیا تم نے شاعر کا قول نہیں سنا اصبر عناق انہ شر باق میں صبر کرتا ہوں مصیبت پر کیونکہ وہ باقی رہنے والا شر ہے قد سن لی قومک ضرب الاعناق تحقیق میرے لیے تیری قوم نے مصائب کا مقابلہ کرنے کا طریقہ قائم کیا ہے وقامت الحرب بنا علی ساق اور ہمارے لیے جنگ پنڈلی پر کھڑی ہے (یعنی گھمسان کی جنگ جاری ہے ) ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ دن سخت مصیبت اور شدت کا ہے۔ 7۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے جس دن آخرت کی شدت سے پردہ اٹھایا جائے گا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا۔ قد قامت الحرب بنا ساق جنگ ہمارے اپنے پنڈلی پر کھڑی ہے یعنی جنگ شدت اختیار کرگئی ہے 8۔ ابن ابی حاتم والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد قیامت کے دن کے خوف اور گھبراہٹ کے سبب انتہائی شدید خوفزدہ کردینے والا امر ہے۔ 9۔ ابن مندہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوم یکشف عن ساق سے مراد ہے آخرت کی شدت اور سختی۔ 10۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مندہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکشف عن ساق سے مراد ہے جس دن کام کی شدت اور اس کی عظمت سے پردہ اٹھایا جائے گا اور ابن عباس ؓ فرماتے تھے کہ وہ ایک سخت گھڑی ہے جو قیامت کے دن ہوگی۔ 11۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت یوم یکشف عن ساق پڑھا اور فرمایا کہ اس سے قیامت مراد ہے اور اس سے اس کی شدت کا ارادہ کیا گیا۔ 12۔ البیہقی نے ابن عباس ؓ سے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں روایت کیا کہ جس دن امر ظاہر کیا جائے گا اور اعمال ظاہر ہوں گے۔ اور امر کو ظاہر کرنے سے مراد آخرت کا داخل ہونا اور اس سے پردے کو ہٹانا ہے۔ 13۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن مندہ نے عمرو بن دینار (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اس طرح پڑھتے تھے آیت یوم تکشف عن ساق تاء کی فتح کے ساتھ ابو حاتم سجسستانی (رح) نے کہا کہ اس سے مراد ہے آخرت اپنی ساق سے پردہ دور کردے گی تو اس میں سے وہ سب ظاہر ہوجائے گا جو غائب تھا۔ 14۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت یوم یکشف عن ساق یار اور یاء کے رفع کے ساتھ۔ 15۔ عبد بن حمید وابن المنذر اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ عرب کے لوگوں میں جن جب جنگ وجدال شدت اختیار کرجاتا اور ان کے درمیان معاملہ بہت بڑھ جاتاتو اس کی شدت کے سبب کہتے تھے کہ لڑائی نے ساق سے پردہ اٹھالیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس قیامت کے دن کی شدت اور سختی کو اسی انداز میں بیان فرمایا جو وہ جانتے تھے۔ 16۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ان سے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ سخت غصے ہوگئے۔ اور فرمایا کہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی مبارک کھول دیں گے۔ بلاشبہ شدید امر سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ کفار کو آخرت میں سجدہ پر قدرت نہ ہوگی 17۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقدکانوا یدعون الی السجود وہم سلمون۔ دنیا میں ان کو سجدہ کرنے کی دعوت دی جاتی تھی اور وہ سجدہ نہیں کرتے تھے حالانکہ وہ صحیح سالم تھے۔ سے مراد وہ کافر ہیں۔ جو دنیا میں بلائے جاتے تھے۔ حالانکہ وہ امن والے ہوتے تھے۔ اور آج ان کو بلایا جائے گا اور وہ ڈر رہے ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ سبحانہ نے خبردی کہ وہ حائل ہیں بیشک وہ اہل شرک اور اپنی اطاعت اور عبادت کے درمیان دنیا وآخرت میں حائل ہیں پس دنیا میں اس طرح کہ اس نے فرمایا کہ وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔ اور یہی ان کی اطاعت ہے اور نہ وہ دیکھ سکتے ہیں اور فرمایا کہ وہ آخرت میں بھی طاقت نہیں رکھیں گے۔ سجدہ کرنے کی اور ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ 18۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو خبر دی گئی کہ ایمان والے منافقین سے جدا ہوجائیں گے قیامت کے دن۔ تو ایمان والے سجدہ کریں گے اور منافقین کی پیٹھیں سخت ہوجائیں گی وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے۔ اور ایمان والوں کے سجدوں کی وجہ سے ان کی زجروتوبیخ اور حسرت و ندامت میں اضافہ ہوجائے گا۔ 19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں روایت کیا کہ جس دن بڑی بلا سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ 20۔ عبد بن حمی دنے ابراہیم النخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکشف عن ساق سے مراد ہے کہ جس دن اس امر عظیم سے پردہ اٹھایا جائے گا جو بہت شدید ہے۔ 21۔ عبد بن حمید نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکشف عن ساق میں ساق سے مراد ہے پردہ۔ یعنی جس دن وہ پردہ سے ظاہر ہوگا تو وہ سجدہ میں گرپڑیں گے جو دنیا میں اس کے ساتھ ایمان لائے اور دوسروں کو سجود کی طرف بلایا جائے گا مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے کیونکہ وہ دنیا میں ایمان نہیں لائے تھے۔ اور نہ وہ اسے دیکھ سکیں گے۔ اور وہ سجدوں کی طاقت نہ رکھیں تھے حالانکہ وہ دنیا میں صحیح سالم تھے۔ 22۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکشف عن ساق سے مراد ہے کہ جس دن بہت زیادہ خوف اور گھبراہٹ پیدا کرنے والے امر سے پردہ اٹھایا جائے گا آیت ویدعون الی السجود فلا یستطیعون۔ یعنی یہ قایتم کے دن ہوگا اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے کہ ایمان والوں کو قیامت کے دن سجدوں کی اجازت دی جائے گی۔ تو مومنین سجدہ کریں گے اور مومنین کے درمیان منافق ہوں گے تو منافق کی پیٹھ سجدہ کرنے سے تنگ ہوجائے گی اور اللہ تعالیٰ مومنین کے سجوں کو ان کے لیے ڈانٹ ڈپٹ، حقارت، ذلت، ندامت اور حسرت کا سبب بنادیں گے۔ اور آیت وقدکانوا یدعون الی السجود وہم سلمون۔ سے مراد ہے کہ ان کو نمازوں میں سجود کی طرف بلایا جاتا تھا۔ حالانکہ وہ صحیح سالم تھے۔
Ayahs 68:43–47

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی اور یہ لوگ سجدہ کی طرف اس حالت میں بلائے جاتے تھے جبکہ صحیح سالم تھے

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

سو آپ مجھے اور ان لوگوں کو چھوڑئیے جو اس بات کو جھٹلاتے ہیں، ہم انہیں تدریجاً لے جارہے ہیں، اس طر پر کہ انہیں خبر بھی نہیں

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں بیشک میری تدبیر مضبوط ہے

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتے ہیں کہ وہ اس کے تاوان سے دیے جارہے ہیں

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

کیا ان کے پاس غیب ہے جسے وہ لکھا کرتے ہیں

23۔ ابن مردویہ نے کعب الحبر (رح) سے روایت کیا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری اور انجیل عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور زبور داوٗد (علیہ السلام) اور فرقان محمد ﷺ پر اتاری۔ کہ یہ آیات فرض نمازوں کے بارے میں اتاری گئیں۔ جب ان کے ساتھ آواز لگائی جاتی ہے۔ اور آیت یوم یکشف عن ساق۔ سے لے کر آیت وقد کانوا یدعون الی السجود وہم سلمون تک سے مراد ہے پانچوں نمازیں ہیں جب ان کے ساتھ اذان دی جاتی ہے۔ 24۔ بیہقی نے شعب الایمان میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقد کانوا یدعون الی السجود سے مراد ہے وہ نمازیں جو جماعت کے ساتھ پڑھی جائیں۔ 25۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے آیت وقدکانوا یدعون الی السجود کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ آدمی ہے جو اذان کو سنتا ہے اور نماز ادا نہیں کرتا۔ قیامت میں عبادت کے بارے میں سوال 26۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو قیامت کے دن جمع فرمائیں گے۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا۔ جو شخص جس چیز کی عبادت کرتا تھا اسے چاہیے کہ وہ اسی کی اتباع کرے۔ تو ہر قوم اس کے پیچھے ہوجائے گی جس کی وہ عبادت کرتے تھے پھر مسلمان اور اہل کتاب باقی رہ جائیں گے۔ یہودیوں کو کہا جائے گا تم کس کی عبادت کرتے تھے۔ ہو کہیں گے اللہ تعالیٰ کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم موسیٰ سے نہیں ہو اور موسیٰ تم میں سے نہیں ہیں۔ پھر ان کو ذات الشمال کی طرف پھیر دیا جائے گا۔ پھر نصاری سے کہا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کرے تھے۔ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی ان سے کہا جائے گا تم عیسیٰ سے نہیں ہو اور عیسیٰ تم میں سے نہیں ہیں۔ پھر ان کو ذات الشمال کی طرف پھیر دیا جائے گا۔ پھر مسلمان بچ جائیں گے۔ ان سے پوچھا جائے گا تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے اللہ کی۔ ان سے کہا جائے گا کیا تم اللہ کو پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے۔ اگر اس نے ہم کو اپنی پہچان کرائی تو ہم اس کو پہچان لیں گے۔ پس اس وقت ان کو سجدوں کے لیے کہا جائے گا تو مومنین کے درمیان منافق علیحدہ ہوجائیں گے تو ان کو پیٹھیں سجدہ نہیں کرسکیں گی۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ آیت ویدعون الی السجود فلا یستطیعون (روایت مرسل ہے) 27۔ اسحاق بن راہویہ فی مسندہ وعبد بن حمید وابن ابی الدنیا والطبرانی والآجری فی الشریعۃ والدارقطنی فی الرویۃ والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے البعث میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع فرمائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ بادل کے سائے میں نازل ہوں گے۔ اور ایک آواز دینے والا آواز دے گا۔ اے لوگو ! کیا تم اپنے رب سے راضی نہیں و جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور تم کو رزق دیا کہ تم میں سے ہر آدمی اس چیز کے پیچھے ہوجائے جس کی وہ دنیا میں عبادت کرتا تھا اور اسے اپنا ولی جانتا تھا کہ یہ تمہارے رب کی جانب سے عدل نہیں وہ جواب میں کہیں گے کیوں نہیں عدل ہے فرمایا تم میں سے ہر انسان اس کی طرف چلے جس کی وہ عبادت کیا کرتا تھا دنیا میں۔ اور ان کے لیے ان تمام چیزوں کی ایک صورت بنادی جائے گی جس کی وہ دنیا میں عبادت کرتے تھے اور ان کے لیے ایک صورت عزیر کے شیطان کی بنا دی جائے گی جو عزیر ﷺ کی عبادت کرتے تھے یہاں تک کہ ان کے لیے درختوں، لکڑیوں اور پتھروں کی بھی تصویریں بنادی جائیں گی اور اہل اسلام بیٹھے رہ جائیں گے تو ان کے لیے نمونہ ہوگا۔ اور وہ ان سے فرمائے گا تم کو کیا ہوا کہ تم نہیں جانتے جیسے لوگ چلے گئے۔ تو وہ کہیں گے بلاشبہ ہمارا رب ہے ہم نے اس کو ابھی تک نہیں دیکھا۔ تو وہ فرمائے گا کیا تم اپنے رب کو پہچان لو گے اگر تم اس کو دیکھو گے ؟ وہ کہیں گے ! ہمارے اور اس کے درمیان ایک نشانی ہے اگر ہم اس کو دیکھ لیں گے تو اس کو پہچان لیں گے۔ وہ فرمائے گا وہ کیا ہے ؟ کہا آیت یکشف عن ساق۔ تو اس وقت ساق سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ تو ہر وہ شخص گرپڑے گا، جو سجدہ کرتا تھا، اطاعت و فرمانبرداری سے، اور ایک قوم باقی رہ جائے گی۔ ان کی پیٹھیں گائے کے سینگ کی طرح ہوں گی۔ وہ سجدوں کا ارادہ کریں گے۔ لیکن اس کی طاقت نہ رکھیں گے۔ پھر ان کو حکم دیا جائے گا۔ تو وہ اپنے سروں کو اٹھائیں گے پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق نور عطا کیا جائے گا۔ ان میں سے بعض ایسے ہوں گے کہ ان کا نور ان کے سامنے پہاڑ کی طرح ہوگا اور بعض ان میں وہ ہوں گے کہ ان کو اس سے زیادہ نور دیا جائے گا۔ اور بعض ان میں سے وہ ہوں گے کہ کھجور کے درخت کی طرح ان کی داہنی جانب ان کو نور دیا جائے گا۔ اور بعض ان میں سے وہ ہوں گے کہ ان کو داہنی جانب اس سے کم نور دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ ان میں سے جو سب سے آخر میں ہوگا اس کو صرف اس کے پاؤں کے انگوٹھوں پر اس کا نور دیا جائے گا۔ وہ کبھی روشن ہوگا اور کبھی بجھ جائے گا۔ جب وہ چمکے گا تو وہ اپنے قدم کو آگے بڑھائے گا۔ اور جب بجھ جائے گا تو رک جائے گا۔ پس وہ اور دوسرے لوگ بھی پل صراط پر گذریں گے۔ اور پل صراط تلوار کی دھار کی طرح پھسلنے ی جگہ ہے۔ ان سے کہا جائے گا جلدی سے گزر جاؤ اپنے نور کی مقدار کے مطابق۔ بعض ان میں سے گذریں گے ستاروں کے ٹوٹنے کی طرح اور بعض ان میں سے گذریں گے آنکھ کے جھپکنے کی طرح۔ اور بعض ان میں سے گذریں گے ہوا کی طرح۔ اور بعض ان میں سے گذریں گے۔ آدمی کے تیز دوڑنے کی طرح جو کہ ریت اڑاتا ہوا گزرتا ہے۔ المختصر وہ اپنے اعمال کے مطابق گذریں گے یہاں تک کہ وہ آدمی بھی گذرے گا کہ اس کا نور صرف اس کے قدموں کے انگوٹھوں پر تھا۔ وہ ایک بار ہاتھ کھینچے گا اور ایک بار ہاتھ معلق کرے گا اور ایک بار پاؤں کھینچے گا اور ایک بار پاؤں معلق کرے گا۔ اور پل صراط کے اطراف میں جہنم کی آگ ہوگی اور وہ اس سے نجات پاجائیں گے جب وہ نجات پائیں گے تو اس وقت کہیں گے سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو تجھ سے نجات دی۔ اس کے بعد کہ اس نے ہم کو تیر وجود دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو وہ کچھ عطا فرمایا جو کسی کو عطا نہیں فرمایا وہ کم گہرے تھوڑے پانی کی طرف چلیں گے جو جنت کے دروازے کے پاس ہوگا اور وہ اس میں غسل کریں گے تو ان کی طرف اہل جنت کی خوشبو اور رنگ لوٹ آئے گی اور وہ جنت کے دروازے کے سوراخو میں سے دیکھیں گے اور وہ جنت کے قریب ایک منزل پر کھلے گا اسے دیکھ کر وہ کہیں گے۔ اے ہمارے رب ! ہم کو عطا فرمادیجیے تو حائل ہوجا ہمارے اور جنت کے درمیان یہ وہ دروازہ ہے کہ ہم اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے اگر تم کو وہ دے دی جائے تو شاید تم اس کے علاوہ اور کا سوال کروگے ؟ وہ عرض کریں گے نہیں۔ اور آپ کی عزت کی قسم ! ہم اس کے علاوہ کسی کے بارے میں نہیں کریں گے اور کون سی منزل بھلا اس سے حسین ہوسکتی ہے راوی نے کہا پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے لیے ان کے سامنے ایک اور منزل کو اونچا کردیا جائے گا۔ جو انہوں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تیھ وہ اس کے سامنے ایک چھوٹی سی آرزو ہے پھر وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو وہ منزل عطا کیجیے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ اگر تم کو یہ عطا کردی جائے تو شاید تم اس کے علاوہ اور کے بارے میں سوال کرنے لگو وہ کہیں گے نہیں اور آپ کی عزت کی قسم ! ہم اس کے علاوہ کسی اور کی آرزو نہیں کریں گے اس سے زیادہ حسین اور کونسی منزل ہوسکتی ہے تو وہ منزل ان کو دے دی جائے گی پھر ان کے سامنے خواب کی سی ہے پھر وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو یہ منزل عطا کردیجیے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ اگر میں نے تم کو یہ منزل عطا کردی تو شاید تم اس کے علاوہ دوسری منزل کا سوال کروگے وہ کہیں گے نہیں آپ کی عزت کی قسم ہم اور کا سوال نہیں کریں گے اور اس سے زیادہ خوبصورت کونسی منزل ہوسکتی ہے۔ پھر وہ خاموش ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے تم کو کیا ہوگیا کہ تم مانگ نہیں رہے۔ وہ کہی گے اے ہمارے رب ! ہم آپ سے مانگتے رہے۔ یہاں تک اب ہم کو شرم آنے لگی۔ ان سے کہا جائے گا۔ کیا تم راضی نہیں ہوگے کہ میں تم کو اس دنیا کے برابر جب سے میں نے اس کو پیدا کیا اس کے ختم کرنے کے دن تک جتنی دنیا تھی اور اس سے دس گنا زائد میں تم کو عطا کردوں ؟ وہ کہیں گے کیا آپ ہمارے ساتھ مذاق فرماتے ہیں اور آپ رب العالمین ہیں مسروق (رح) نے کہا جب عبداللہ ؓ حدیث بیان کرتے کرتے اس جگہ پر پہنچے تو ہنس پڑے اور فرمایا کہ میں نے کئی بار رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ جب آپ اس مقام پر پہنچتے تو آپ ہنس پڑتے یہاں تک کہ آپ کے حلق کا کوا ظاہر ہوجاتا اور آپ کی داڑھوں میں سے آخری داڑھ ظاہر ہوجاتی یعنی دانت مبارک ظاہر ہوجاتے راوی نے کہا کہ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : میں نے مذاق نہیں کیا لیکن اس بات پر قادر ہوں سو تم مجھ سے سوال کرو تو وہ کہیں گے۔ اے ہمارے رب ! ہم کو لوگوں کے ساتھ ملادیجیے ان سے کہا جائے گا تم لوگوں سے مل جاؤ۔ چناچہ وہ جنت میں دوڑتے ہوئے چلیں گے۔ یہاں تک کہ ان کے لیے جنت میں ایک آدمی ظاہر ہوگا۔ اس کے پاس وسعی موتیوں کا محل ہوگا۔ تو وہ سجدہ میں گرپڑے گا اس سے کہا جائے گا اپنے سر کو اٹھا وہ اپنے سر کو اٹھائے گا اور کہے گا میں اپنے رب کو دیکھ لیا ہے تو اس سے کہا گا یہ تیری منزل ہے تیری منزلوں میں سے وہ چلے گا اور کوئی آدمی اس کا استقبال کرے گا تو وہ وہ مسجدوں کے لیے تیار ہوجائے گا۔ اس سے کہا جائے گا تجھے کیا ہوا ؟ وہ کہے گا میں نے فشتے کو دیکھا ہے۔ اس سے کہا جائے گا تیرے وکیلوں میں سے ایک وکیل ہے اور ایک غلام ہے تیرے غلاموں میں سے وہ اس کے پاس آئے اور کہے گا کہ میں تیرے وکیلوں میں سے ایک وکیل ہوں اس محل پر میرے ماتحت ہزار وکیل ہیں وہ تمام کے تمام اسی کیفیت پر ہیں۔ جس پر میں ہوں۔ پس وہ اس کے پاس اس کے ساتھ ساتھ چلے گا یہاں تک کہ اس کے لیے محل کھول دے گا اور وہ کھوکھلے موتی کا ہوگا اس کی چھتیں اس کے تالے اس کے دروازے اور اس کی چابیاں اسی میں سے ہوں گی۔ راوی نے کہا پھر اس کے لیے محل کھولا جائے گا۔ اس کے سامنے سبز رنگ کا ایک قیمتی جوہر ہوگا جس کا اندرونی حصہ ستر ہاتھ تک سرخ ہوگا اور اس میں ساٹھ دروزے ہوں گے۔ ہر دروازہ ایسے جو ہرہ کی طرف کھلے گا جس کا رنگ دوسرے سے مختلف ہوگا ہر جو ہرہ میں پلنگ الماریاں صندوق اور برتن موجود ہوں گے اور فرمایا کہ اس میں کام کرنے والے خادم بھی ہوں گے اور وہ ایک خوبصورت موٹی آنکھوں والی حور کے ساتھ ہوگا اس پر ستر جوڑے ہوں گے ان جوڑوں کے اندر سے اس کی پنڈلیوں کا گودا دکھائی دے گا۔ اس حور کا جگر اس مرد کے لیے آئینہ اور اس کا جگر اس کے لیے آئینہ ہوگا اور جب شوہر اس سے اعراض کرے گا تو اس کی آنکھ کی بینائی کی نسبت ستر گنا زیادہ ہوجائے گی۔ وہ اسے کہے گی میری بینائی ستر گنا بڑھ گئی ہے وہ بھی اسے اسی طرح کہے گا۔ راوی نے کہا وہ اپنی ملکیت پر حدنگاہ تک دیکھے گا اور وہ سو سال کا فاصلہ ہے فرمایا عمر بن خطاب ؓ نے اس وقت فرمایا اے کعب ! کیا تو نے نہیں سنا کہ جو ہم کو ابن ام عبد نے بیان کیا۔ ایک ادنیٰ اہل جنت کے بارے میں جو اس کے لیے ہوگا۔ تو پھر جو ان میں اعلیٰ درجوں پر فائز ہوں گے ان کی کیا کیفیت ہوگی۔ کہا اے امیر المومنین ! وہ جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنی شان قدرت کے مطابق عرش اور پانی کے اوپر تھا پھر اس نے اپنے لیے اپنے ہاتھ سے ایک گھر بنایا اور اس کو جس چیز کے ساتھ چاہا اسکو مزین کیا۔ اور پھلوں اور پاکیزہ شراب میں سے جو چاہا اس میں رکھا پھر اپنے ڈھانپ دیا۔ اور مخلوق میں سے کسی نے اس کو نہیں دیکھا۔ جب سے اسے بنایا نہ جبریل نے اور نہ اس کے علاوہ کسی دوسرے فرشتوں نے پھر کعب ؓ نے یہ آیت پڑھی فلاتعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین۔ اور اس کے قریب دو باغ پیدا فرمائے اور ان کو جن چیزوں سے چاہا مزین فرمایا اور ان دونوں میں دیر، سندس اور استبرق اور جو کچھ مذکور ہیں وہ سب رکھ دئیے۔ اور اپنی مخلوق میں سے جن فرشتوں کو چاہا وہ دکھادئیے۔ سو جس شخص کا اعمال نامہ علیین میں ہوگا۔ وہ اس گھر میں اترے گا۔ اہل علیین میں سے ایک آدمی سوار ہوگا اپنے ملک میں۔ نہیں بچے گا کوئی خیمہ اہل جنت کے خیموں میں سے مگر اس کے چہرے کی روشنی اس میں نہیں پہنچے گی۔ یہاں تک کہ وہ اس کی خوشبو کو سونگھیں گے اور کیں گے واہ واہ کیا یہ پاکیزہ اور عمدہ خوشبو ہے۔ اور کہیں گے آج کے دن ہم پر اہل علیین میں سے کسی آدمی نے ہم پر جھانکا ہے۔ عمر ؓ نے فرمایا افسوس ہے تجھ پر اے کعب ! بلاشبہ ان دلوں کو چھوڑدیا گیا اور تو ان کو قبض کرلے۔ کعب ؓ نے کہا اے امیر المومنین ! بیشک جہنم ایک طویل اور گرم سانس نکالے گی تو نہیں ہوگا کوئی فرشتہ اور نہ کوئی نبی مگر وہ گرجائے گا اپنے گھٹنوں پر یہاں تک کہ ابراہیم خلیل اللہ بھی کہیں گے اے میرے رب ! میری جان، میری جان، (یعنی میری جان کو بچائیے) یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر تیرے ستر نبیوں کا عمل بھی تیرے عمل کے ساتھ ہو تو میری گمان یہ ہے کہ تو ہرگز اس سے نجات نہیں پائے گا۔
Ayah 68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

سو آپ اپنے رب کی تجویز پر صبر کیجیے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیے، جب کہ اس نے اس حالت میں پکارا کہ وہ غم سے گھٹ رہا تھا

دجال سے لڑائی کا ذکر 28۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ اور بیہقی نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا۔ تو فرمایا تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک گروہ اس کی پیروی کرے گا اور ایک گروہ اپنے آباء کی زمین منابت الشیخ چلا جائے گا اور ایک گروہ فرات کے کنارے پر آجائے گا۔ اور دجال اس سے قتل کرے گا۔ اور وہ اس سے لڑیں گے یہاں تک کہ شام کے شہروں کے اہل ایمان جمع ہوجائیں گے پھر وہ ان کی طرف فوج کا ہر اول دستہ بھیجیں گے۔ ان میں گھوڑ سوار ہوں گے جو سرخ اور ابلق گھوڑوں پر سوار ہوں گے۔ وہ قتال کریں گے اور کوئی چیز ان کی طرف واپس لوٹ کر نہیں جائے گی پھر مسیح (علیہ السلام) نازل ہوں گے اور اسے قتل کریں گے۔ پھر یاجوج ماجوج نکلیں گے اور زمین پر پھیل جائیں گے۔ اور اس میں فساد کریں گے۔ پھر عبداللہ ؓ نے ہی آیت پڑھی آیت وہم من کل حدب ینسلون اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے چلے آئیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر ایک جانور بھیجیں گے جو کہ بکری یا اونٹ کی ناک میں پیدا ہونے والے کیڑے کی طرح ہوگا وہ ان کے کانوں اور نتھنوں میں داخل ہوگا۔ اور وہ اس سے مرجائیں گے زمین ان سے بدبودار ہوجائے گی۔ تو زمین والے اللہ کی بار گاہ میں فریاد کریں گے۔ تب اللہ تعالیٰ موسلا دھار بارش برسائے گا۔ اور اس سے زمین کو پاک کردے گا پھر اللہ تعالیٰ ایک ہوا کو بھیجیں گے۔ جس میں سخت ٹھنڈک ہوگی جو زمین میں کسی کو نہ چھوڑی گی مگر ہر چیز اس ہوا کے سبب الٹی کردی جائے گی۔ پھر برے لوگوں پر قیامت قائم ہوجائے گی۔ پھر صور والا فرشتہ آسمان و زمین کے درمیان کھڑا ہوگا اور اس میں پھونکے گا تو اللہ کی مخلوق میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا مگر وہ مرجائے گا۔ مگر تیرا رب جس کو چاہے گا وہ زندہ رہے گا پھر دونوں نفخوں کے درمیان وقفہ ہوگا جو اللہ چاہیں گے۔ اسی دوران انسانی مخلوق زمین کا حصہ بن جائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے پانی بھیجیں گے۔ منی کی طرح۔ جیسے آدمی کی منی ہے۔ تو ان کے جسم ان کے گوشت اس پانی سے اگ آئیں گے جیسے کیچڑ سے مٹی نکلتی ہے پھر عبداللہ ؓ نے یہ آیت پڑھی آیت واللہ الذی ارسل الریح فتثیر سحابا فسقنہ الی بلد میت فاحیینا بہ الارض بعد موتہا کذلک النشور۔ اللہ وہ ہے جو ہوائیں چلاتا ہے پھر وہ بادل کو اٹھاتی ہیں پھر ہم اس کو چلاتے ہیں مردوہ شہر کی طرف اور ہم اس کے ذریعہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اس کی موت کے بعد اسی طرح اٹھنا ہے۔ پھر ایک فرشتہ صور کے ساتھ آسمان و زمین کے درمیان کھڑا ہوگا اور اس میں پھونکے گا۔ تو ہر روح اپنے جسم کی طرف جائے گا۔ یہا تک کہ اس میں داخل ہوجائے گی۔ تو لوگ زندہ ہو کر کھڑے ہوجائیں گے۔ اور ایک آدمی کے آنے کی طرح سب رب العالمین کے قیام کی خاطر آجائیں گے پھر اللہ تعالیٰ مثالی صورت میں مخلوق کے لیے ظہور فرمائیں گے۔ اور ان سے ملاقات فرمائیں گے مخلوق میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر کسی کی عبادت کرتا تھا۔ وہ اسی کے پیچھے پیچھے ہوگا پس اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق یہود سے ملاقات کریں گے تو ارشاد فرمائیں گے تم کسی کی عبادت کرتے تھے۔ وہ کہیں گے ہم عزیر (علیہ السلام) کی عبادت کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم کو پانی خوش کرے گا ؟ وہ کہیں گے ہاں ! تو اللہ تعالیٰ ان کو جہنم سراب کی طرح دکھائیں گے۔ پھر عبداللہ ؓ نے یہ آیت پڑھی آیت وعرضنا جہنم یومئذ للکفرین عرضا (الکہف آیت 100) اور ہم دوزخ کو اس دن کافروں کے سامنے پیش کریں گے پھر نصاری سے ملاقات فرمائیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے مسیح (علیہ السلام) کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے کیا تم کو پانی خوش کرے گا ؟ وہ کہیں گے ہاں ! پھر اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ کے سراب کی طرف دکھائیں گے سب کے ساتھ اسی طرح ہوگا جو بھی اللہ کو چھوڑ کر کسی چیز کی عبادت کرتے تھے۔ پھر عبداللہ ؓ نے یہ آیت پڑھی آیت وقفوہم انہم مسؤلون۔ (الصافات آیت 24) ان کو ٹھہراؤ بلاشبہ ان سے پوچھا جائے گا۔ یہاں تک مسلمان گذریں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے ملاقات کریں گے اللہ ان سے پوچھیں گے تم کسی کی عبادت کرتے تھے وہ کہیں گے ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے اور ہم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم اپنے رب کو پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے اللہ کی ذات پاک ہے اگر ہم کو تعارف کرایا گیا تو ہم ان کو پہچان لیں گے تو اس وقت آیت یکشف عن ساق وہ اپنی پنڈلی سے پردہ اٹھائیں گے کوئی مومن باقی نہیں بچے گا مگر اللہ کے لیے سجدہ میں گرپڑے گا۔ اور منافق باقی رہ جائیں گے۔ ان کی پیٹھیں ایک تخت بن جائیں گی گویا کہ ان میں سلاخیں ڈال دی گئیں۔ اور وہ کہیں گے اے ہمارے رب تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آیت وقدکانوا یدعون الا السجود وہم سلمون۔ تم کو سجدوں کی طرف بلایا جاتا تھا اس حال میں کہ تم صحیح سالم تھے۔ پھر پل صراط سے گذارا جائے گا اور اس کو جہنم پر رکھا جائے گا۔ لوگ اپنے اعمال کے مطابق گذریں گے اے کے پہلے لوگ پلک جھکنے کی طرح یا بجلی کے چمکنے کی طرح گزریں گے۔ پھر اس کے بعد ہوا کی طرح گزریں گے۔ پھر پرندوں کے گزرنے کی طرح پھر کچھ تیز رفتار جانوروں کی طرح پھر اسی طرح گزرتے رہیں گے یاں تک کہ کچھ دوڑتے ہوئے آئیں گے اور کچھ پیدل چلتے ہوئے گزریں گے۔ یہاں تک کہ آخر میں ایک آدمی پیٹ کے بل رینگتے ہوئے گزرے گا اور کہے گا اے میرے رب ! آپ نے مجھے سست رفتار کردیا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ بلاشبہ تیرے عمل نے تجھے سست کردیا پھر اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت دیں گے۔ اور جبریل (علیہ السلام) سب سے پہلے شفاعت کرنے والے ہوں گے۔ پھر ابراہیم خلیل اللہ۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) یا فرمایا عیسیٰ (علیہ السلام) ۔ پھر تمہارے نبی چوتھے نمبر پر کھڑے ہوں گے آپ کے بعد کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہوگا۔ جہاں آپ شفاعت نہی کرسکے گا۔ اور وہ المقام المحمود ہے۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا ہے۔ آیت عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا (الاسراء : آیت 79) ۔ عنقریب تیرا رب تجھ کو مقام محمود میں بھیج دے گا۔ کوئی آدمی ایسا نہیں ہوگا مگر وہ دیکھے گا اپنے گھر کو جنت میں اور اپنے گھر دوزخ میں۔ اور وہ یوم الحسرت ہے اور دوزخ والے وہ گھر دیکھیں گے جو جنت میں ہے کہا جائے گا کاش تم عمل کرتے جنتیوں والے تو یہ گھر تمہارے لیے تھے۔ اور اہل جنت وہ گھر دیکھیں گے جو دوزخ میں ہے۔ کہا جائے گا اگر اللہ تعالیٰ تم پر احسان نہ فرماتے تو یہ تمہارا ٹھکانہ ہوتا۔ پھر فرشتے انبیاء، شہداء صالحین اور ایمان والے شفاعت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کو قبول فرمائیں گے۔ پھر وہ فرمائیں گے کہ میں سب رحم کرنے والوں میں زیادہ رحم کرنے والا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ دوزخ سے نکالیں گے اپنی رحمت کے سبب اس سے زیادہ مخلوق کو جتنی پہلے نکالی گئی۔ یہاں تک کہ اسے جہنم میں نہیں چھوڑے گا جس میں ذرا بھی خیر ہوگی۔۔ پھر عبداللہ ؓ نے یہ آیت پڑھی آیت ماسلککم فی سقر۔ قالوا لم نک من المصلین سے لے کر آیت وکنا نکذب بیوم الدین تک۔ اے کافرو ! کس چیز نے تم کو دوزخ میں پہنچایا تو انہوں نے کہا ہم نماز نہیں پڑھتے تھے سے لے کر اور ہم قیامت کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ پھر فرمایا کیا تم ان لوگوں میں سے کوئی دیکھتے ہو جس میں کوئی خیر اور نیکی ہو نہی۔ اور اللہ تعالیٰ جہنم میں قطعاً ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گا جس میں معمولی سی خیر اور نیکی ہو جب اللہ تعالیٰ ارادہ فرمائیں گے کہ اب وہ کسی کو نہیں نکالیں گے تو ان کے چہروں اور ان کے رنگوں کو بدل دے گا۔ تو ایک آدمی آئے گا ایمان والوں میں سے اور وہ سفارش کرے گا۔ اس سے کہا جائے گا تو کسی کو پہچان لے اور اس کو نکال لے وہ آدمی آئے گا اور دیکھے گا تو کسی کو نہ پہچانے گا۔ تو ایک آدمی اس آدمی سے کہے گا اے فلانے ! میں فلاں ہوں اور وہ کہے گا میں تجھ کو نہیں جانتا پھر وہ دوزخی کہیں گے آیت ربنا اخرجنا منہا فان عدنا فانا ظلمون۔ (المومنون آیت 108) اس میں پھٹکارے ہوئے پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔ جب اللہ تعالیٰ یہ فرمائیں گے تو ان پر دوزخ کو بند کردیا جائے گا پھر اس میں سے کوئی انسان باہر نہیں نکل سکے گا۔ 29۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولاتکن کصاحب الحوت اور آپ مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیے۔ یعنی آپ اس طرح غضبناک ہو رہے ہیں جیسے یونس (علیہ السلام) غضبناک ہوئے۔ 30۔ عبدالرزاق واحمد فی الزہد وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تکن کصاحب الحوت یعنی آپ جلدی نہ کیجیے جیسے انہوں نے جلدی کی اور غصہ نہ کیجیے جیسے وہ غصہ ہوئے
Ayahs 68:49–50

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر اس کے رب کی نعمت اس کی دستگیری نہ کرتی تو وہ بدحالی کے ساتھ میدان میں ڈال دیا جاتا ہے

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر اس کے رب نے اسے برگزیدہ کرلیا اور اس کو صالحین میں شامل فرمادیا

31۔ الحاکم نے وہب (رح) سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) کے اخلاق میں کچھ تنگی تھی۔ جب ان پر نبوت کا بوجھ ڈالا گیا۔ تو اس کے سبب آپ پہلونٹے او ونٹ کی طرح پھٹ گئے۔ چناچہ اسے ہاتھ سے پھینک دیا اور بھاگ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ سے فرمایا آیت ولاتکن کصاحب الحوت اذا نادیٰ وہو مکظوم اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیے جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا اور وہ بہت ہی غمگین تھا۔ 32۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہو مکظوم یعنی وہ مغموم تھا آیت وہو مذموم اور وہ ملامت کیے گئے تھے۔ 33۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہو مکظوم یعنی وہ مغموم تھا۔
Ayahs 68:51–52

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور کافر لوگ جب ذکر کو سنتے ہیں تو گویا آپ کو اپنی نگاہوں سے پھسلا کر گرادیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ مجنوں

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

حالانکہ یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے

34۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لیزلقونک بابصارہم۔ آپ کو پھسلادیں اپنی تیز نگاہوں سے۔ یعنی وہ اپنی نگاہوں سے آپ کو پچھاڑدیں گے۔ 35۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیزلقونک بابصارہم سے مراد ہے کہ وہ اپنی نگاہوں سے آپ کو گرادیں۔ 36۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیزلقونک بابصارہم کہ وہ آپ کو اپنی نگاہوں سے گرادینا چاہتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے ذکر سے عداوت کی وجہ سے۔ 37۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ یہ پڑھتے تھے آیت ون یکاد الذین کفروا لیزلقونک بابصارہم اور قریب تھا کہ کافر آپ کو اپنی تیز نگاہوں سے گرادیں۔ پھر فرماتے کہ آپ کو شدت نظر سے دیکھنے کی وجہ سے وہ آپ کو اپنی نظروں سے پھسلادیں گے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ کسی طرح کہتے ہیں تیرے نے پھسلادیا یا تیر نشانے سے گزر گیا۔ 38۔ ابوعبید فی فضائلہ وابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت لیزلقونک بابصارہم۔ 39۔ بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نظر کا لگ جانا حق ہے۔ 40۔ ابونعیم نے الحلیہ میں جابر ؓ سے روایت کیا اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا کہ نظر بد آدمی کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں داخل کردیتی ہے۔ 41۔ بزار نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے اکثر لوگ اللہ کی قضاء وقدر کے بعد نظر کے ساتھ مرتے ہیں۔