Ayahs 59:16–171۔ عبدالرزاق وابن راہویہ واحمد فی الزہد وعبد بن حمید والبخاری فی تاریخہ وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی اپنے گرجا گھر میں عبادت کرتا تھا۔ اور ایک عورت اپنے بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی وہ بیمار ہوگئی اس کو اس کے پاس لے آئے۔ اس عورت نے اس کے لیے اپنے آپ کو آراستہ کیا تو وہ اس پر واقع ہوگیا۔ اس کے پاس شیطان آیا اور کہا اس عورت کو قتل کردے کیونکہ اگر تیرے بارے میں ان پر یہ معاملہ ظاہر ہوگیا تو تو رسوا ہوجائے گا۔ تو اس نے اس عورت کو قتل کر کے دفن کردیا اس کے بھائی اس کے پاس آئے اور اس کو پکڑ کرلے گئے۔ اس درمیان کہ وہ چل رہے تھے اچانک اس کے پاس شیطان آیا اور کہا میں ہوں کہ جس نے تیرے لیے برا کام آراستہ کیا اب تو مجھے ایک سجدہ کرلے میں تجھ کو نجات دلوادوں گا۔ اس نے اس کو سجدہ بھی کرلیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت کمثل الشیطان اذا قال للانسان اکفر جیسے شیطان کی مثال جب وہ انسان سے کہتا ہے کہ کافر ہوجا۔
شیطان کے دھوکہ دینے کا واقعہ
2۔ ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت کمثل الشیطن اذ قال للانسان اکفر کے بارے میں روایت کیا کہ بنی اسرائیل میں سے ایک راہب اللہ تعالیٰ کی اچھی طرح عبادت کرتا تھا۔ ہر علاقے کے لوگ اس کے پاس آتے تھے اور اس سے فقہ کے بارے میں پوچھتے تھے۔ اور وہ عالم تھا۔ تین بھائی تھے جن کی ایک بہن تھی۔ جو حسین ترین لوگوں میں سے بہت حسین اور خوبصورت تھی۔ ان لوگوں نے سفر کرنے کا ارادہ کیا۔ ان پر یہ بات بھاری تھی کہ بہن کو اکیلا چھوڑ دیں ضائع ہونے کے لیے۔ چناچہ وہ راہب کے پاس آئے اور اس سے کہا ہم سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور ہم تجھ سے بڑھ کر کسی کو اعتماد والا اور حفاظت والا اپنے دلوں میں نہیں پاتے۔ اگر تیری رائے ہو تو ہم اپنی بہن کو تیرے حوالے کردیں کیونکہ وہ شدید درد میں مبتلا ہے۔ اگر وہ مرجائے تو اس کا مکمل انتظام کرنا اگر وہ زندہ رہے تو اس کی اصلاح کرنا یہاں تک کہ ہم لوٹ آئیں راہب نے کہا انشاء اللہ میں تمہارے لیے کافی ہوں (غمزدہ ہونے کی ضرورت نہیں) اس نے اس کی دوا کی تو وہ اچھی ہوگئی اور اس کا حسن لوٹ آیا ایک دن اس کے پاس گیا تو اس کو بناؤ سنگھار کیا ہوا پایا۔ اس کے ساتھ شیطان برابر لگا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اس پر واقع ہوگیا اور وہ عورت حاملہ ہوگئی۔ پھر اس کو شیطان نے ندامت دلائی۔ اور اسکو اس کے قتل پر آمادہ کیا۔ اور کہا اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو تو رسوا ہوجائے گا۔ اس لیے اپنے معاملہ کو پہچان اور تیرے لیے کوئی عذر نہیں ہے۔ شیطان برابر اس کے پیچھے لگا رہا یہاں تک کہ اس نے اس کو قتل کردیا۔ جب اس کے بھائی آئے اس سے پوچھا کہ تو نے بہن کے ساتھ کیا کیا اس نے کہا وہ مرگئی اور میں نے اس کو دفن کردیا۔ انہوں نے کہا تو نے اچھا کیا۔ پھر انہیں خواب نظر آنے لگے۔ اور ان کو یہ بتایا جانے لگا کہ راہب نے اس کو قتل کردیا ہے اور اس طرح وہ درخت کے نیچے دفن ہے۔ چناچہ وہ درخت کی طرف گئے اور اس کو پالیا کہ اسے قتل کیا گیا تھا۔ وہ اس راہب کی طرف گئے اور اس کو پکڑ لیا۔ شیطان نے کہا میں ہی وہ ہوں جس نے تجھے زنا کی رغبت اور کشش پیدا کی، پھر تجھے اس کے قتل پر آمادہ کیا اب کیا تیرے لیے ممکن ہے کہ تو میری پیروی کرے اور میں تجھے نجات دلادوں اس نے کہا ہاں پھر شیطان نے کہا مجھے ایک سجدہ کرلے اس نے سجدہ کرلیا پھر وہ قتل کردیا گیا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت کمثل الشیطان اذقال للانسان اکفر۔
3۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ایک عورت بکریاں چرایا کرتی تھی۔ اس کے چار بھائی تھے۔ وہ رات کو راہب کے عبادت گاہ میں پناہ لیتی تھی۔ راہب نیچے اترتا اور اسی سے زنا کرتا تھا۔ اس کے پاس شیطان آیا اور کہا اس کو قتل کردے۔ اور پھر اس کو دفن کردے تو ایسا آدمی ہے جس کی بات سنی جاتی ہے اور تصدیق کی جاتی ہے تو اس نے عورت کو قتل کر کے دفن کردیا۔ شیطان خواب کی حالت میں اس کے بھائیوں کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ راہب نے تمہاری بہن کے ساتھ بدکاری کی ہے جب اس کو حمل ہوا تو اس کو قتل کر کے اس طرح فلاں جگہ پر دفن کردیا۔ جب انہوں نے سبح کی تو ایک آدمی نے ان میں سے کہا۔ میں نے گزشتہ رات اس طرح اور اس طرح دیکھا ہے دوسرے نے کہا اللہ کی قسم میں نے بھی اسی طرح دیکھا ہے تیسرے نے کہا اللہ کی قسم میں نے بھی اسی طرح دیکھا ہے۔ سب نے کہا اللہ کی قسم ! یہ نہیں ہے مگر کسی چیز کی وجہ سے ہے پس تم چلو اور اپنے حاکم کو راہب کے خلاف تیار کرو چناچہ وہ اس راہب کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور اس کو نیچے اتارا۔ پھر راہب کو پکڑنے گئے اسی دوران شیطان راہب سے ملا اور کہا کہ میں نے تجھے اس بدکاری میں واقعی کیا اور میرے علاوہ کوئی تجھے ہرگز نجات نہیں دلا سکتا تو مجھے ایک سجدہ کرلے اور میں تجھ کو نجات دلا دوں گا۔ جس میں میں نے تجھے واقع کیا ہے اس نے اس کے لیے سجدہ کرلیا جب وہ اس کو لے کر اپنے حاکم کے پاس پہنچے تو شیطان اس سے الگ ہوگیا اور راہب کو پکڑ کر قتل کردیا گیا۔
4۔ ابن ابی الدنیا فی مکاید الاخلاق وابن مردویہ والبیہقنی نے شعب الایمان میں عبید بن رفاعہ نے دارمی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کی سند نبی ﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک راہب تھا۔ شیطان نے ایک لڑکی کو پکڑ کر اس کا گلا گھونٹ دیا۔ اور اس کے گھر والوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ اس کا علاج راہب کے پاس ہے وہ اس کو راہب کے پاس لے آئے اس نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ وہ مسلسل اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ اس نے اس لڑکی کے علاج کو قبول کرلیا۔ وہ لڑکی اس کے پاس تھی کہ شیطان اس کے پاس آیا اور اس نے اس کے دل میں لڑکی کے بارے میں وسوسہ ڈالا اور اس کے لیے اس لڑکی کو خوب بنا سنوار کر پیش کیا۔ وہ برابر اس کے ساتھ لگا رہا یہاں تک کہ وہ اس پر واقع ہوگیا جب اس کو حمل ہوگیا تو شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ اور کہا کہ اس کے گھر والے تیرے پاس آئیں گے تو تو رسوا ہوگا لہٰذا تو اس کو قتل کردے۔ اگر وہ تیرے پاس آئیں تو تو کہہ دینا کہ وہ مرگئی۔ تو اس نے اس کو قتل کر کے دفن کردیا اس کے گھروالوں کے پاس شیطان آیا اور ان کے دلوں میں وسوسے ڈالے اور ان کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ اس نے اس کو حاملہ کیا پھر اس کو قتل کردیا اس کے گھر والے اس کے پاس آئے اور اس سے پوچھا اس نے کہا وہ مرگئی۔ انہوں نے اس کو پکڑ لیا۔ پھر شیطان راہب کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے لڑکی کے گھر والوں کے دلوں میں یہ بات ڈالی ہے۔ اور میں نے ہی تجھ کو اس برے کام میں واقع کیا ہے تو میرا کہنا مان لے نجات پاجائے گا۔ مجھے دو سجدے کرلے اس نے دونوں سجدے کرلیے۔ اور یہ وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت کمثل الشیطان اذقال للانسان الکفر۔
5۔ ابن المنذر والخرائطی فی اعتدال القلوب، عدی بن ثابت کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ بنی اسرائیل میں ایک راہب تھا جو طویل عرصہ تک عبادت کرتا رہا یہاں تک کہ اس کے پاس مجنون اور پاگل لوگ لائے جاتے تھے ان پر وہ پڑھتا اور ان کا علاج کرتا یہاں تک کہ وہ صحبت یاب ہو کر واپس لوٹ جاتے۔ ایک عورت کو اس کی جھونپڑی میں لایا گیا۔ اس کو جنوں تھا۔ اس کے بھائی ابھی اس کے پاس آئے تاکہ وہ اسے کوئی تعویذ دے۔ اس کے ساتھ شیطان برابر لگا رہتا اور اسے لڑکی کے بارے میں آمادہ کرتا رہتا۔ یہاں تک کہ وہ اس پر واقع ہوگیا اور وہ عورت حاملہ ہوگئی جب اس کا پیٹ بڑھ گیا۔ پھر شیطان لگاتار اس کے پاس آتا رہا اور اس کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اس کو قتل کردے۔ یہاں تک کہ اس نے اس کو قتل کردیا۔ اور اس کو ایک جگہ میں دفن کردیا۔ شیطان ایک آدمی کی صورت میں اس کے بعض بھائیوں کے پاس آیا اور اسکو یہ خبردی۔ اس آدمی نے اپنے بھائیوں کو یہ کہنا شروع کردیا۔ کہ اللہ کی قسم ! کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا۔ اور اس نے مجھے اس طرح خبردی ہے یہاں تک کہ ان کے بعض نے بعض کو یہ خبر پہنچادی۔ اور انہوں نے اپنا معاملہ حاکم کے پاس پیش کردیا تو حاکم لوگوں کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ راہب کو نیچے اتار دیا اس نے واقعہ کا اقرار اور اعتراف بھی تو حاکم نے حکم دیا کہ اس کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے اس کے پاس پھر شیطان آیا۔ اور وہ اپنی پھانسی کی لکڑی پر تھا۔ اور اس سے کہا میں نے تجھے اس پر اکسایا اور اس کام میں میں نے تجھے ڈالا۔ کیا تو اب میرا کہنا مانے گا۔ جو میں تجھ کو حکم کروں گا۔ اور میں تجھ کو نجات دلا دوں گا۔ اس نے کہا ہاں ! شیطان نے کہا میرے لیے ایک سجدہ کر۔ اس نے اس کو سجدہ کیا اور کافر ہوگیا۔ پھر وہ اسی وقت قتل کردیا گیا۔
6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی عابد تھا۔ وہ بسا اوقات مجنون اور پاگل لوگوں کا علاج کیا کرتا تھا۔ ایک خوبصورت عورت کو جنون ہوگیا اس کو اس کے پاس لا کر چھوڑ دیا گیا اس کو وہ عورت خوش لگی تو اس پر واقع ہوگیا وہ حاملہ ہوگئی تو اس کے پاس شیطان آیا۔ اور کہنے لگا اگر اس برے کام کو جان لیا گیا تو تیرے رسوائی ہوگی اس کو قتل کر کے اپنے گھر میں دفن کردے۔ اس نے اس کو قتل کردیا۔ اس کے گھر والے مدت کے بعد آئے اور اس عورت کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ مرگئی ہے۔ انہوں نے اسے کوئی تہمت نہ دی کیونکہ اس کی سلامتی اور اس کی رضا انہیں میں تھی۔ شیطان ان کے پاس آیا اور کہا کہ وہ نہیں مری لیکن راہب نے اس کے ساتھ زنا کیا وہ حاملہ ہوگئی تو اس کو قتل کر کے اپنے گھر میں فلاں فلاں جگہ اس کو دفن کردیا۔ اس کے گھروالے آئے اور کہا ہم تجھ کو الزام نہیں دیتے ہیں مگر تو ہم کو بتا کہ اس کو کہاں دفن کیا ہے۔ اور تیرے ساتھ کون تھا انہوں نے اس کے گھر میں تلاش کیا تو اس جگہ کو پالیا جہاں اس نے دفن کیا تھا۔ اس کو پکڑ لیا گیا اور قید میں ڈال دیا گیا۔ اس کے پاس شیطان آیا اور کہا اگر تو چاہتا ہے کہ میں تم کو اس مصیبت سے نکالوں جس میں تو پڑا ہوا ہے تو اللہ کے ساتھ کفر کر اس نے شیطان کا کہا مانا اور کفر کا ارتکاب کرلیا، انہوں نے پھر اس کو پکڑ کر قتل کردیا اس وقت شیطان اس سے بری ہوگیا۔ طاؤس نے کہا میں تو صرف یہی جانتا ہوں کہ یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی آیت کمثل الشیطان اذقال للانسان اکفر۔ الایۃ۔
7۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کفار اور منافقین کی مثال بیان فرمائی جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھے فرمایا آیت کمثل الشیطان اذقال للانسان اکفر۔ کہ وہ شیطان کی طرح ہیں جو پہلے انسان کو کہتا ہے کہ تو انکار کردے۔
8۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت کمثل الشیطان اذقال للانسان اکفر کہ اس آیت میں عام لوگوں کی مثال ہے۔
9۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت فکان عاقبتہما انہما فی النار خالدین فیہا واللہ اعلم۔
قبیلہ مضر والوں کا دربار نبوی ﷺ میں حاضری
10۔ ابن ابی شیبہ ومسلم والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ نے جریر ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ آپ کے پاس کچھ لوگ آئے جو دھاری دار اونی چادریں پہنے ہوئے تھے۔ تلواریں لٹکائے ہوئے تھے اور ان پر چادروں کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی۔ ان میں سے اکثر قبیلہ مضر میں سے تھے۔ جب نبی ﷺ نے ان کی تنگی، ننگے بدن ہونے اور فاقہ کشی کو دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کا چہرہ بدل گیا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور گھر میں داخل ہوئے پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے، ظہر کی نماز پڑھی پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا : اما بعد ! اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد، واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون۔ ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ فانسہم انفسہم اولئک ہم الفسقون۔ لایستوی اصحب النار واصحب الجنۃ اصحب الجنۃ ہم الفائزون۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ کل کے دن کے لیے اس نے پہلے سے کیا بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہوجو کچھ تم کرتے ہو بلاشبہ اللہ اس سے باخبر ہے۔ اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو۔ جنہوں نے اللہ کے احکام سے بےپروائی کی۔ تو اللہ نے خود ان کو ان کی جانوں سے بےپرواہ بنادیا۔ یہی لوگ نافرمان ہیں دوزخی اور جنتی باہم برابر نہیں اہل جنت ہی کامیاب ہیں۔ صدقہ کرو پہلے اس سے کہ تم صدقہ نہ کرسکو۔ صدقہ پہلے اس سے کہ تمہارے اور صدقہ کے درمیان موت حائل ہوجائے۔ آدمی کو چاہیے اپنے دینار اور اپنے درہم میں سے صدقہ کرے اپنی گندم، جو اور کھجوروں سے صدقہ کرے۔ اور صدقہ میں سے کسی چیز کو حقیر نہ جانے اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ انصار میں سے ایک آدمی اٹھا اس کے ہاتھ میں ایک تھیلی تھی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کو دی۔ اور آپ منبر پر تھے، آپ کے چہرہ مبارک میں خوشی کے آثار دکھائی دینے۔ لگے پھر آپ نے فرمایا جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا۔ اور اس کے ساتھ عمل کیا گیا یعنی اور لوگوں نے بھی عمل کیا تو اس کو اپنا اجر ملے گا اور اس کا اجر بھی ملے گا۔ جس نے اس پر عمل کیا۔ اور ان کے اجور میں سے کوئی کمی نہیں کیا جائے گی۔ اور جس شخص نے کوئی براطریقہ رائج کیا اور اس پر اور لوگوں نے بھی عمل کیا۔ تو اس کو اپنا گناہ ملے گے اور اس کا گناہ بھی ملے گا جس نے اس پر عمل کیا اور ان کے گناہوں میں سے کوئی کمی نہیں ہوگی۔ یہ سن کر لوگ اٹھے اور متفرق ہوگئے پھر جس کے پاس دینار تھے اس نے دینار دئیے اور جس کے پاس درہم تھے اس نے درہم دئیے اور جس کے پاس کھانے وغیرہ میں سے کوئی چیز تھی اس نے وہی پیش کی پس اس طرح بہت سی چیزیں جمع ہوگئیں پھر آپ نے وہ چیزیں ان کے درمیان تقسیم فرمادیں۔
Ayahs 59:18–20صدیق اکبر ؓ کا خطبہ
11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما قدمت لغد سے مراد ہے قیامت کا دن
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے نعیم بن محمد الرجی (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق کے خطبہ میں سے یہ ہے۔ تم جان لو ! بیشک تم ایک مقررہ مدت میں صبح کرتے ہو شام کرتے ہو کہ اس کا علم تم سے مخفی رہ گیا ہے۔ اگر تم طاقت رکھتے ہو تو مدت گزر جائے اور تم کوئی بچاؤ کا طریقہ کرسکو تو تم ضرورایسا کرتے۔ لیکن تم ہرگز اس پر قادر نہیں ہوسکتے مگر اللہ کی اجازت سے اور ایک قوم نے اپنی عمر دوسروں کو دی تو اللہ تعالیٰ نے تم کو روکا کہ تم ان کی طرح نہ ہوجائے اور فرمایا آیت ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ فانسہم انفسہم اولئک ہم الفسقون۔ اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی ان کو بھلادیا۔ یہی لوگ نافرمان ہیں۔ وہ کہاں ہیں جن کو تم پہچانتے تھے اپنے بھائیوں میں سے ؟ ان سے ان کے اعمال ختم ہوگئے۔ اور جو اعمال انہوں نے آگے بھیجے وہ ان کو پہنچ گئے۔ کہاں گئے وہ پہلے جبر وظلم کرنے والے جنہوں نے شہر بنائے اور فصیلوں کے ساتھ ان کو مضبوط کیا۔ تحقیق وہ چٹانوں اور ٹیلوں کے نیچے آگئے ہیں۔ یہ اللہ کی کتاب ہے کہ اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ اور نہ اس کا نور بجھایا جاسکتا ہے تم آج اس سے روشنی حاصل کرو تاریک دن کے لیے اور اس کے لکھے ہوئے واضح بیان سے نصیحت حاصل کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں آیت انہم کانوا یسرعون فی الخیرات ویدعوننا رغبا ورہبا وکانوا لنا خشعین۔ بلاشبہ یہ لوگ نیک کاموں میں دوڑ پڑتے ہیں اور ہمیں امید اور ڈر سے پکارا کرتے ہیں اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں۔ کسی بات میں خیر نہیں جس میں اللہ کی رضا طلب نہ کی جائے۔ اور اس مال میں خیر نہیں جو اللہ کے راستے میں خرچ نہ کیا جائے۔ اور ایسے آدمی میں کوئی خیر نہیں۔ کہ جس کا غصہ اس کے حلم پر غالب آجائے۔ اور اس آدمی میں خیر نہیں جو اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈر تا ہے۔
Ayah 59:211۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لو انزلنا ہذا القراٰن علی جبل (اگر اس قرآن کو ہم کسی پہاڑ پر نازل کرتے) یعنی اگر یہ قرآن میں کسی پہاڑ پر نازل کرتا اور میں اسے وہ حکم دیتا جو تم کو حکم دیا گیا۔ اور میں اس کو اس کے ساتھ ڈراتا جس کے ساتھ میں نے تم کو ڈرایا تو وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا اور اللہ کے خوف سے جھک جاتا اس لیے تم زیادہ حقدار ہو کہ تم جھکو اور عجز و انکساری کا اظہار کرو اور اللہ کے ذکر سے اپنے دلوں کو نرم کرو۔
2۔ ابن المنذر نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں تمہارے لیے قسم کھاتا ہوں کہ کوئی بندہ اس قرآن کے ساتھ ایمان نہیں لائے گا۔ مگر اس کا دل پھٹ جائے گا۔
3۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت لو انزلنا ہذالقرآن علی جبل الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر میں یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتا تو وہ اسے اٹھالیتا پھر اس کے بوجھ سے اور اللہ کے خوف سے جھک جاتا اور ریزہ ریزہ ہوجاتا بس اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حکم فرمایا کہ جب ان پر قرآن نازل ہو تو اس کو سخت خوف اور انتہائی عاجزی کے ساتھ لیں۔ پھر فرمایا آیت کذلک یضرب اللہ الامثال للناس لعلہم یتفکرو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے مثال بیان فرماتے ہیں شاید کہ وہ غوروفکر کریں۔
4۔ الدیلمی نے ابن مسعود اور علی ؓ دونوں سے مرفوع روایت بیان کی ہے کہ آیت لو انزلنا ہذا القرآن علی جبل سے لے کر سورة کے آخر تک یہ ایک دم ہے سر کے سر درد کے لیے۔
5۔ خطیب بغدادی (رح) نے اپنی تاریخ میں بیان کیا کہ ہم کو خبردی ابو نعیم الحافظ نے اور ان کو ابو الطیب محمد بن احمد بن یوسف بن جعفر المقری البغدادی نے بتایا اور یہ ابن شنبوذ کے غلام سے پہچانے جاتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم کو ادریس بن عبدالکریم حداد نے خبر دی کہ انہوں نے کہا میں نے یہ سورت خلف پر پڑھی جب اس آیت لو انزلنا ہذا القرآن علی جبل پر پہنچا تو فرمایا رکھ دے اپنے ہاتھ کو اپنے سر پر۔ کیونکہ میں یہ سورت سلیم پر پڑھی جب اس آیت پر پہنچا تو فرمایا رکھ دے اپنے ہاتھ کو اپنے سر پر۔ کیونکہ میں نے یہ صورت اعمش پر پڑھی جب اس آیت پر پہنچا تو فرمایا رکھ دے اپنے ہاتھ کو اپنے سر پر کیونکہ میں نے یہ سورت یحییٰ بن وثاب پر پڑھی تو اس آیت پر پہنچا تو فرمایا رکھ دے اپنے ہاتھ کو اپنے سر پر کیونکہ میں نے یہ سورت علقمہ اور اسود پر پڑھی جب میں اس آیت پر پہنچا تو فرمایا رکھ دے اپنے ہاتھ کو اپنے سر پر کیونکہ ہم نے یہ عبداللہ ؓ پر پڑھی جب ہم اس آیت پر پہنچے تو ہم سے فرمایا رکھ دے اپنے ہاتھ کو اپنے سر پر کیونکہ میں نے یہ سورت نبی ﷺ پر پڑھی جب اس آیت پر پہنچا تو مجھ سے فرمایا رکھ دے اپنے ہاتھ کو اپنے سر پر کیونکہ جبریل (علیہ السلام) جب اس آیت کو لے کر میری طرف نازل ہوئے۔ تو مجھ سے فرمایا اپنے ہاتھ کو اپنے سر پر رکھ دیں۔ کیونکہ یہ آیات شفا ہیں ہر بیماری سے سوائے موت کے اور سام موت کو کہتے ہیں۔
Ayahs 59:22–246۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کا اسم اعظم اللہ ہی ہے۔
جنات سے حفاظت کا ذریعہ
7۔ ابن مردویہ نے ابوایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کھجور خشک کرنے کی ایک جگہ بنا رکھی تھی اپنے گھر میں۔ آپ نے اس جگہ کو پایا کہ وہ کم ہوگئی ہے۔ یعنی کھجوریں کم ہوگئی ہیں تو جب رات ہوئی تو آپ نے اسے دیکھا تو ایک آدمی محسوس ہوا۔ میں نے اس سے کہا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں جنات میں سے ایک آدمی ہوں۔ ہم نے اس گھر کا ارادہ کیا۔ ہمارا توشنہ ختم ہوگیا۔ اس لیے ہم نے تمہاری کھجوریں لی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان میں سے کچھ بھی کم نہیں کریں گے۔ ابو ایوب انصاری ؓ نے اس سے فرمایا اگر تو سچا ہے تو مجھے اپنا ہاتھ دکھا اس نے اپنا ہاتھ ان کو دکھایا تو اس پر کتے کے بازوں کی طرح بال تھے۔ ابوایوب ؓ نے اس سے فرمایا جو کچھ تو نے ہماری کھجوروں میں سے لیا ہے وہ تیرے لیے حلال ہیں۔ کیا تو مجھ کو ایسی افضل ترین چیز نہیں بتائے گا کہ جس سے انسان، جن سے پناہ حاصل کرے اس نے کہا یہ آیت سورة حشر کے آخر تک پڑھے۔
8۔ ابن مرددویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص سورة حشر کی آخری آیات پڑھے گا پھر اس دن یا اس رات مرجائے تو اس کا یہ عمل اس سے ہر خطا کو مٹادے گا۔
9۔ ابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو حکم فرمایا کہ جب تو اپنے بستر پر سونے لگے تو سورة حشر کی آخری آیات پڑھ لے۔ اور فرمایا اگر تو مرگیا تو شہید ہو کر مرے گا۔
10۔ ابو علی عبدالرحمن بن محمد النیسابوری نے محمد بن الحنفیہ سے روایت کیا براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے حضرت علی ؓ سے کہا میں آپ سے اللہ کے واسطے اس چیز کا سوال کرتا ہوں کہ مجھے خاص طور پر وہ افضل ترین چیز بتائیے جو آپ کو رسول اللہ ﷺ نے خاص طور پر بتائی۔ اس میں سے جو خاص طور پر جبریل (علیہ السلام) نے آپ کو بتائی۔ اس میں سے جس کے ساتھ رحمن نے ان کو بھیجا۔ تو آپ نے فرمایا اے براء ! جب تو اللہ تعالیٰ سے اسم اعظم کے وسیلہ سے دعا مانگے تو سورة حدید کی پہلی دس آیات اور سورة حشر کی آخری آیات کو پڑھ لے۔ پھر یوں کہہ اے وہ ذات جس کی یہ شان ہے اور اس کے سوا کوئی اور اس طرح نہیں میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لیے ایسا ایسا کردے۔ یعنی میرا یہ کام کردیجیے۔ اے براء ! اللہ کی قسم ! اگر تو میرے لیے بددعا بھی کرے تو مجھ کو دھنسا دیا جائے۔
11۔ ابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے تین مرتبہ پناہ مانگے شیطان سے پھر سورة حشر کی آخری آیات پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ستر ہزار فرشتے بھیجتا ہے جو اس سے انسان اور جنات میں سے شیطانوں کو بھگادیتے ہیں۔ اگر رات ہوگی تو صبح تک اور اگر دن ہوگا تو شام تک ایسا ہوتا ہے۔
12۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کیا مگر اس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان سے دس مرتبہ پناہ مانگے۔
13۔ احمد والدارمی والترمذی وحسنہ وابن الضریس والبیہقی نے شعب الایمان میں معقل بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دس مرتبہ صبح کو اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم پڑا۔ پھر سورة حشر کی آخری تین آیات پڑھیں۔ تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے اس کے ساتھ مقرر فرمادیتے ہیں جو اس پر شام تک رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں اگر وہ اس دن مرگیا تو شہید ہو کر مرے گا اور جس نے شام کے وقت پڑھا تو وہ بھی اسی رتبہ میں ہوگا۔
14۔ ابن عدی وابن مردویہ والخطیب اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے سورة حشر کی آخری آیات دن میں یا رات میں پڑھیں پھر اس دن میں یا اس رات میں مرگیا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔
15۔ ابن الضریس نے عتیبہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ نے بیان فرمایا جس شخص نے صبح ہوتے ہی سورة حشر کی آخری آیات پڑھیں تو اس نے اسے پالیا جو رات میں اس سے فوت ہوا اور وہ شام تک ہر بلا سے محفوظ رہے گا۔ اور جس نے ان آیات کو شام کے وقت پڑھا تو اس نے اسے پالیا جو دن میں اس سے فوت ہوا۔ اور وہ صبح تک ہر بلا سے محفوظ ہوگا اگر وہ مرگیا تو اس نے اپنے لیے جنت واجب کرلی۔
شہید کا مرتبہ پانے والا
16۔ الدارمی وابن الضریس نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص نے سورة حشر کی آخری تین آیات پڑھیں جب اس نے صبح کی اور اس دن میں وہ مرگیا تو اس پر شہداء کی مہر لگا دی جاتی ہے اور جب اس نے شام کے وقت یہ آیات پڑھیں پھر وہ اسی رات فوت ہوگیا اس پر شہداء کی مہر لگادی جاتی ہے۔
17۔ الدیلمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم سورة حشر کی آخری آیات میں ہے۔
18۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت علم الغیب والشہادۃ کہ وہ غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے۔ یعنی ہر چھیپی ہوئی اور ظاہر چیز کو جاننے والا ہے اور المومن۔ امن دینے والا یعنی وہ اپنی مخلوق کو اس سے امان دینے والا ہے کہ وہ ان پر ظلم کرے اور المہیمن سے مراد ہے شاہد۔
19۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت علم الغیب سے مراد ہے جو ہوگا اور جو کچھ ہونے والا سب کو جانتا ہے۔ القدوس سے مراد ہے کہ فرشتے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔
20۔ عبد بن حمید وابن المنذر اور ابو الشیخ رحمہما اللہ نے العظمہ میں بیان کیا کہ القدوس سے مراد ہے المبارک یعنی برکتیں عطا کرنے والا آیت السلم المومن میں المومن سے مراد ہے اسے امان دینے والا جو اس پر ایمان لایا۔ المہیمن یعنی اس پر شہادت دینے والا العزیز یعنی غالب آنے وال اپنی سزا دینے میں جب وہ انتقام لے آیت الجبار یعنی وہی اپنی مخلوق کو مجبور کرنے والا ہر اس کام پر جو وہ چاہتا ہے اور المتکبر یعنی وہ ہر عیب اور کمزوری سے محفوظ ہے۔
21۔ ابن المنذر نے زید بن علی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کا نام المومن اس لیے رکھا ہے کیونہ اس نے ایمان والوں کو عذاب سے امان دی ہے۔
22۔ سعید بن منصور وابن المنذر اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے الجبار بھی ہے کیونکہ وہ مخلوق کو مجبور کرتا ہے اس کام پر جس کا وہ ارادہ کرتا ہے۔