59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 59:7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو اللہ نے اپنے رسول پر لوٹایا ان بستیوں والوں کی طرف سے تو وہ اللہ کا ہے اور رسول کا ہے اور رشتہ داروں کا ہے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کا ہے تاکہ یہ تم میں سے مالداروں کے درمیان گھومنے والی جائیداد بن کر نہ رہ جائے اور جو رسول تمہیں دے تو تم اسے لے لو اور جس سے تمہیں روکے اس سے رک جاؤ اور تم اللہ سے ڈرو یقیناً اللہ سخت سزا دینے والا ہے

46۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما افاء اللہ علی رسولہ من اہل القری (جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو بستی والوں سے دلوایا) یعنی قریظہ سے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قریش کے مہاجرین کے لیے خاص کردیا۔ 47۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے زہری (رح) سے آیت ما افاء اللہ علی رسولہ من اہل القری کے بارے میں روایت کیا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اس مال سے مراد جزیہ اور خراج ہے۔ 48۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے خیبر میں سے اپنے رسول کو دلوایا وہ آدھا اللہ اور اس کے رسول کے لیے تھا۔ اور دوسرا آدھا مسلمانوں کے لیے تھا۔ جو حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے تھا۔ وہ کتیبہ، وطیخ سلالہ اور وجدہ تھے۔ اور جو مسلمانوں کے لیے تھا وہ شق تھا اور ہر حصے کے پھر تیرہ حصے تھے۔ اور نطاہ کے پانچ حصے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے مال میں سے کسی مسلمان کے لیے تقسیم نہیں فرمایا۔ مگر اس کے لیے جو حدیبیہ میں حاضر ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے کسی کو اس سے پیچھے رہنے کی اجازت نہیں دی حدیبیہ سے نکلنے کے وقت مگر جو ان کے ساتھ خیبر میں حاضر ہو۔ مگر جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حزام انصاری کو اجازت فرمائی۔ 49۔ ابوداوٗد وابن مردویہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے بنو نضیر اور خیبر اور فدک کا مال خاص تھا۔ لیکن بنو نضیر کا مال غنیمت کس حادثہ یا مصیبت کے لیے روکا جاتا تھا۔ اور فدک کا مال مسافروں کے لیے تھا۔ لیکن خیبر کے مال کے تین حصے کیے گئے۔ ان میں سے دو حصے مسلمانوں میں تقسیم کیے گئے۔ اور ایک حصہ اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے نفقہ کے لیے روک لیا۔ اور جو اپنے اہل و عیال کے نفقہ سے بچ جاتا وہ آپ فقراء مہاجرین کو عطا فرمادیتے۔ 50۔ ابن الانباری نے مصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ اور زید بن ثابت ؓ کے مصحف کے درمیان حلال اور حرام میں کوئی اختلاف نہیں۔ مگر دو حرفوں میں ایک سورة انفال میں جیسے فرمایا آیت وعلموا انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ وللرسول ولذی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل اور جان لو کہ جو کچھ تمہیں بطور غنیمت ملے خواہ کوئی چیز ہو تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ دوسرا سورة حشر میں جیسے فرمایا۔ آیت ما افاء اللہ علی رسولہ من اہل القری فللہ وللرسول ولذی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل۔ اور جان لو کہ جو کچھ تمہیں بطور غنیمت ملے خواہ کوئی چیز ہو تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اس آیت نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ جو اس سے پہلے سورة حشر میں تھا اور مال غنیمت میں خمس (پانچواں حصہ) ان کے لیے بنایا گیا جن کے لیے مال فے تھا اور مال غنیمت کا باقی حصہ وہ سب لوگوں کے لیے ہوگیا جو جنگ میں شریک ہوئے۔ مال فئی رسول اللہ ﷺ کے لیے تھا 52۔ ابو عبید نے کتاب الاموال میں وعبد بن حمید و بخاری ومسلم وابوداوٗد و ترمذی و نسائی وابوعوانہ وابن حبان وابن مردویہ نے مالک بن اوس بن الحدثان رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے دوپہر کے وقت مجھے بلا بھیجا۔ میں نے ان کے پاس حاضر خدمت مت ہوا۔ وہ ایک چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کی چارپائی کی رسیوں کے درمیان کوئی بستر نہ تھا اور آپ چمڑے کے ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ فرمایا اے مالک تیری قوم میں سے کچھ گھر والے ہمارے پاس آئے۔ اور میں نے ان کے بارے میں بچا کھچاسامان حکم دیا ہے تم اس کو لے لو اور ان کے درمیان تقسیم کرلو۔ میں نے کہا اے امیر المومنین ! وہ لوگ میری قوم ہے اور میں اس کو لے کر ان کے پاس جانے کو ناپسند کرتا ہوں۔ اس کے بارے میں آپ کسی اور کو حکم فرمائیں۔ ابھی میں اس بارے میں آپ سے بات کر رہا تھا کہ ان کے پاس یرفا ان کا غلام آیا۔ اور اس نے کہا یہ عثمان بن عفان، طلحہ بن عبیداللہ، زبیر اور عبدالرحمن بن عوف ؓ حاضر ہیں اندرآنے کی اجازت مانگ رہے ہیں آپ نے ان کو اجازت عطا فرمائی وہ لوگ اندر داخل ہوئے۔ پھر ان کے پاس یرقا آیا اور کہا یہ علی اور عباد ؓ حاضر ہیں فرمایا ان کو داخل ہونے کی اجازت ددو۔ دونوں داخل ہوئے۔ عباس ؓ نے فرمایا آپ اس بارے میں مجھ سے زیادتی کر رہے ہیں۔ تو پاس بیٹھے ہوئے صحابہ ؓ نے کہا اے امیر المومنین ! ان کے درمیان فیصلہ کردیجیے اور ان میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کی جانب راحت پہنچائیے۔ کیونکہ اس میں آپ کے لیے بھی راحت اور ان کے لیے سکون ہے حضرت عمر ؓ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے پھر فرایا : ذرا ٹھہرو اور اپنے بازؤو ؓ بڑھائے۔ پھر فرمایا میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ اے صحابہ کی جماعت کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ بیشک ہم کسی کو وارث نہیں بناتے جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ سدقہ ہے چونکہ انبیاء (علیہم السلام) کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ صحابہ ؓ نے فرمایا ہاں ہم اس کو سن چکے ہیں۔ پھر آپ علی اور عباس ؓ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور فرمایا : میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ نے اس طرح فرمایا ؟ دونوں نے کہا ہاں ! پھر عمر ؓ نے فرمایا کیا میں تم سے اس بارے میں بات نہ کروں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے یہ مال اپنے نبی ﷺ کے لیے خاص کیا تھا۔ اور اس کے علاوہ کسی کو عطا نہیں فرمایا کہ ( اس سے) آپ کی مراد بنو نضیر سے حاصل ہونے والے اموال تھے جو صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے تھے آپ کے ساتھ اور کسی کا اس میں کوئی حق نہ تھا خدا کی قسم ! آپ نے اسے تمہارے سوا کسی کے لیے جمع نہیں کیا اور نہ اس کے لیے تم پر کسی اور کو ترجیح دی۔ اور آپ نے اسے تم ہی میں تقسیم فرمایا اور یہ مال اسی میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس سے اپنے گھروالوں کی سال بھر کی خوراک کے لیے لے لیتے تھے اور باقی اللہ کے راستے میں خرچ کردیتے تھے۔ اسی پر آپ کا عمل جاری رہا۔ یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا پھر ابوبکر صدیق ؓ خلیفۃ الرسول بنے۔ انہوں نے کہا میں رسول اللہ ﷺ کا نائب ہوں۔ میں اسی طرح عمل کروں گا۔ جس طرح آپ ﷺ کرتے تھے۔ اور میں آپ ﷺ کی حیات طیبہ کی سیرت کے مطابق ہی چلوں گا آپ بھی اس مال کی آمدنی سے رسول اللہ ﷺ کے اہل و عیال کے لیے سال بھر ذخیرہ کرلیتے تھے اور باقی مال کو دیگر راستوں میں خرچ کردیتے تھے جیسے رسول اللہ ﷺ کا معمول مبارک تھا پھر ابوبکر صدیق ؓ اپنی زندگی میں اس کا انتظام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ابوبکر وفات پاگئے۔ اب میں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر دونوں کا نائب ہوں لہٰذا میں اس مال کے بارے میں اس طرح عمل کروں گا جس طرح ان دونوں کا معمول تھا اس لیے میں نے اسے قبضہ میں لے لیا ہے۔ جب دونوں میرے پاس آتے جاتے رہے میرے لیے یہی مناسب ہے کہ میں یہ مال تم دونوں خے سپرد کردوں اور میں تم سے یہ عہد و پیمان لے لوں کہ تم اس میں وہی عمل کرو گے۔ جو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ نے اس میں عمل کیا اور میں بھی یہی عمل کروں گا یہاں تک کہ ان دونوں کو وہ مال دے دیا۔ اے صحابہ کی جماعت میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا میں یہ مال اس شرط کے ساتھ ان دونوں کے حوالے کردوں ؟ انہوں نے کہا جی ہاں پھر ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور فرمایا میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ مذکورہ شرط کے ساتھ۔ میں یہ مال تمہارے سپرد کردوں ؟ انہوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا۔ اس کے سوا کسی اور فیصلے کے لیے تم دونوں مجھ سے درخواست کرسکتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! میں اس بارے میں اس کے علاوہ کوئی فیصلہ نہیں کروں گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے۔ اگر تم دونوں اس سے عاجز ہوجاؤ تو میری طرف تو پھر اسے میرے حوالے کردینا۔ پھر عمر ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وما افاء اللہ علی رسولہ منہم فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشاء واللہ علی کل شیء قدیر۔ تو یہ مال رسول اللہ ﷺ کے لیے تھے۔ آیت واتقوا اللہ، ان اللہ شدید العقاب۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو بلاشبہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔ پھر فرمایا اللہ کی قسم ! ان لوگوں میں سے کسی اکیلے کو عطا نہیں فرمایا یہاں تک کہ فرمایا آیت للفقراء المہجرین الذین اخرجوا من دیارہم واموالہم یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا وینصرون اللہ ورسولہ۔ اولئک ہم الصدقون۔ ان فقراء مہاجرین کے لیے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکالے گئے۔ اور وہ اللہ سے فضل اور رضا مندی تلاش کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی سچے لوگ ہیں۔ پھر اللہ کی قسم ! یہ مال صرف انہیں کے لیے نہیں بنایا۔ بلکہ فرمایا آیت والذین تبوء وا الدار والایمان من قبلہم سے لے کر آیت فاولئک ہم المفلحون۔ تک۔ پھر اللہ کی قسم ! یہ مال صرف ان لوگوں کو بھی عطا نہیں فرمایا یہاں تک کہ فرمایا آیت والذین جاء و من بعدہم یقولون ربنا اغفرلنا۔ سے لے کر آیت انک رء ورحیم تک پس رسول اللہ ﷺ نے اس حصے کو ان تمام پر تقسیم فرمایا جن کا اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر فرمایا۔ عمر ؓ نے فرمایا اگر میں باقی رہا تو صنعاء کے چرواہے بھی اپنا حق لیں گے۔ اس وقت آپ کا چہرہ سرخ ہوچکا تھا۔ 53۔ عبدالرزاق وابو عبید وابن زنجویہ معافی الاموال وعبد بن حمید وابوداوٗد فی ناسخہ وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں مالک بن اوس بن حدثان (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے یہ آیت پڑھی آیت انما الصدقت للفقراء والمسکین (التوبہ : 60) بلاشبہ صدقات فقرا اور مساکین کے لیے ہیں۔ یہاں تک آپ آیت علیم حکیم تک پہنچے پھر فرمایا یہ صدقات ان لوگوں کے لیے ہیں پھر آپ نے یہ آیت ما افاء اللہ علی رسولہ من اہل القری پڑھی یہاں تک پہنچے آیت للفقراء المہجرین۔ آیت کے آخرت تک پھر فرمایا یہ مہاجرین کے لیے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت والذین تبوء و الدار والایمان من قبلہم اور ان لوگوں کا بھی حق ہے جو دار الاسلام یعنی مدینہ اور ایمان میں ان مہاجرین کے آنے سے پہلے ٹھکانہ بنا چکے تھے۔ آیت کے آخر تک۔ پھر فرمایا یہ انصار کے بارے میں ہے پھر یہ آیت والذین جاء وا من بعدہم اور لوگ ان کے بعد آئے آیت کے آخر تک پھر فرمایا یہ آیت تمام مسلمانوں کو محیط ہے اور کوئی بھی نہیں ہے مگر اس کا اس مال میں حق ہے۔ خبردار تم مالک نہیں ہو اپنی وصیت کے پھر فرمایا اگر میں زندہ رہا تو بکریاں چرانے والا بھی اس سے حصہ لے گا اور وہ اپنے گدھوں کو چلا رہا ہوگا اور اس کی پیشانی بھی پسینہ سے شرابور نہیں ہوئی۔ 54۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن مردویہ اور بیہقی سے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو یہ فرماتے سنا کہ تم اس مال کے لیے جمع ہو اور اسکے بارے میں غور وفکر کرو جس کو تم جانتے ہو۔ اور میں نے اللہ کی کتاب کی یہ آیات پڑھی ہیں۔ وہ مجھ کو کافی ہیں میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت ما افاء اللہ علی رسولہ من اہل القریٰ فللہ وللرسول سے لے کر آیت تاولئک ہم الصدقون تک اللہ کی قسم ! یہ صرف انہیں کے لیے نہیں بلکہ فرمایا آیت والذین تبوءا الدار والایمان سے لے کر آیت المفلحون تک۔ اللہ کی قسم وہ صرف ان لوگوں کے لیے بھی نہیں بلکہ فرمایا آیت والذین جاء و من بعدہم یقولون ربنا اغفرلنا سے لے کر آیت انک رء وف الرحیم تک۔ اللہ کی قسم ! نہیں ہے کوئی مسلمانوں میں سے مگر اس کا حق ہے اس مال میں کہ اسے اس میں سے دیا جائے یا اسے اس سے روک دیا جائے یہاں تک عدن کے چرواہے کا بھی حق ہے۔ 55۔ عبدالرزاق وابن سعد وابن ابی شیبہ وابن زنجویہ فی الموال وعبد بن حمید وابن المنذر نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا زمین پر کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ اس کے لیے اس مال میں حق نہ ہو سوائے لونڈیوں کے۔ 56۔ عبدبن حمید اور بیہقی نے اپنی سنن میں سعید بن مسیب ؓ سے روایت کیا کہ ایک دن عمر ؓ نے مال میں سے ایک حصہ تقسیم فرمایا تو وہ لوگ اس پر آپ کی تعریف کرنے لگے۔ تو آپ نے فرمایا تم کتنے احمق ہو اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں تم کو اس سے ایک درہم بھی نہ دیتا۔ 57۔ ابو داوٗد نے اپنے ناسخ میں ابن ابی نجیح (رح) سے روایت کیا کہ مال تین قسم کا ہے مغنم یعنی مال غنیمت ( وہ مال جو دشمن سے جنگ کے بعد ہاتھ آئے) اور فئی یعنی ما فے ( وہ مال جو جنگ کے بغیر ہاتھ آئے) اور صدقہ (کا مال) اور اس میں سے کوئی درہم بھی نہیں ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کا محل بیان فرمادیا ہے۔ 58۔ احمد وحاکم وصححہ نے سمرۃ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں کا عجم سے بھردے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو شیرہ بنا دے گا وہ نہیں بھاگیں گے (پھر) وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردیں گے۔ اور وہ تمہارے مال غنیمت کو کھاجائیں گے۔ 59۔ ابن سعد نے سائب بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تین قسم کے لوگ ہیں جن میں ہر ایک کے لیے اس مال میں حق ہے اس کو دیا جائے یا اس سے روک لیا جائے۔ عبد مملک کے سوا کوئی بھی کسی سے زیادہ حق نہیں رکھتا۔ اور میں بھی اس میں تمہاری طرح کا (حقدار) ہوں۔ لیکن ہم کتاب اللہ کے مطابق اپنے درجات اور مراتب پر ہیں اور ہم رسول اللہ ﷺ کی طرف سے تقسیم کردیے گئے ہیں پس ہر آدمی کے ساتھ اسلام میں اس کی آزمائش بھی ہے (یعنی وہ کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا ہے) اسلام میں آدمی کے ساتھ اس کا اسلام میں آنا بھی ہے اور اسلام میں آدمی کے ساتھ اس کی مالداری بھی ہے اور اسلام میں آدمی کے ساتھ اس کی حاجت بھی ہے اللہ کی قسم ! اگر میں زندہ رہا تو صنعا کے پہاڑوں کا چرواہا بھی اس مال سے اپنا حصہ لے گا حالانکہ وہ اپنی جگہ پر ہوگا۔ حضرت عمر ضی اللہ عنہ کا مال فئی کو تقسیم کروانا۔ 60۔ ابن سعد نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے حذیفہ کی طرف لکھا کہ لوگوں کو ان کے عطیات اور ان کے ارزاق دے دو ۔ انہوں نے آپ کی طرف جواب لکھا ہم ایسا کرچکے ہیں (یعنی دے چکے ہیں) اور بہت سا مال باقی بچھا ہے۔ عمر ؓ نے ان کی طرف لکھ بھیجا کہ بیشک ان کا وہ فے جو اللہ نے ان کو عطا فرمایا ہے وہ نہ تو عمر کا ہے اور نہ ہی عمر کے خاندان کا۔ اس لیے وہ مال کو ان کے درمیان تقسیم کردو۔ 61۔ ابن ابی شیبہ نے عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مال کو پایا ہے جو ان تین قسموں کے لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا گیا یعنی مہاجرین۔ انصار اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے۔ 62۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے اسی طرح روایت کیا آیت وما اٰتکم الرسول فخذوہ 63۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما اتکم الرسول فخذوہ وما نہکم عنہ فانتہو۔ اور جو کچھ تم کو رسول اللہ ﷺ دیں اس کو لے لو اور جس سے تم کو روک دیں اس سے رک جاؤ سے مراد ہے کہ آپ ﷺ ان کو غنائم عطا فرماتے تھے اور ان کو خیانت سے روکتے تھے۔ 64۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن ؓ سے آیت وما اتکم الرسول فخذوہ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مال فے میں سے جو کچھ تم کو عطا فرمائیں اس کو لے آیت وما نہکم عنہ فانتہوا اور مال فے میں سے جس سے تم کو روک دیں تو اس سے رک جاؤ۔ 65۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت وما اتکم الرسول کے بارے میں روایت کیا یعنی میری اطاعت اور میرے حکم میں سے (جو کچھ آپ حکم فرمائیں اس پر عمل کرو) آیت فخذوہ وما نہکم عنہ فانتہوا۔ یعنی میری نافرمانی سے آپ روکیں تو رک جاؤ۔ 66۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید و نسائی وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا آیت وما اتکم الرسول فخذوہ وما نہکم عنہ فانتہوا لوگوں نے کہا کیوں نہیں پھر آپ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا آیت وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم (الاحزاب : 36) اور کسی مومن مرد اور مومن کو لائق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کام کا حکم دے تو انہیں اپنے کام میں اختیار باقی ہے۔ پھر فرمایا بلاشبہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے دباء (یعنی کدو سے بنایا ہوا برتن) اور حنتم (لاکھی گھڑا) اور نقیر (یعنی کھجور کی لکڑی کا پیالہ) اور مزفت (یعنی رال یا لاکھی سے پینٹ ہوا برتن) سے منع فرمایا (کیونکہ زمانہ جاہلیت میں یہ برتن شراب بنانے اور پینے میں استعمال ہوئے تھے اس لیے آپ نے ان برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا) رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے 67۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عمر اور بن عباس ؓ کو سنا کہ وہ دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان برتنوں دبا، حنتم، نقیر اور مزفت کو استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت وما اتکم الرسول فخذوہ وما نہکم عنہ فانتہوا۔ 68۔ احمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن المنذر وابن مردویہ نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والی اور گدوانے والی اور چہرے کے بال اکھاڑنے والی اور خوبصورتی کے لیے دانتوں میں کشادگی کرانے والی اللہ کی پیدائش کو تبدیل کرنے والی پر یہ بات بنو اسد کی ایک عورت کو پہنچی جس کو ام یعقوب کہا جاتا تھا۔ وہ ان کے پاس آئی اور کہنے لگی مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے ایسا ایسا کرنے والی پر لعنت کی ہے۔ عبداللہ ؓ نے فرمایا کیا ہے مجھے کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس کو رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی۔ اور وہ اللہ کی کتاب میں ہے۔ اس عورت نے کہا کہ تحقیق جو کچھ ان دو تختیوں کے درمیان ہے میں نے اسے پڑھا ہے اور میں نے اس میں ایسی کوئی چیز نہی پائی۔ عبداللہ ؓ نے فرمایا اگر تو اسے پڑھتی تو یقیناً اس کو پالیتی کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی آیت وما اتکم الرسول فخذوہ وما نہکم عنہ فانتہوا۔ اس عورت نے کہا کیوں نہیں پڑھی ہے۔ تو پھر آپ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 59:8

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

ان فقراء کے یے جنہوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دئیے گئے ہیں جو اللہ کا فضل طلب کرتے ہیں اور اللہ کی خوشنودی طلب کرتے ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نصرت کرتے ہیں یہی لوگ سچے ہیں

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت للفقراء المہجرین الذین اخرجوا۔ ان فقراء مہاجرین کے یے جن کو وطن سے نکالا گیا۔ سے مراد وہ مہاجرین ہیں جنہوں نے گھروں کو، مالوں، اہل و عیال کو اور اپنے خاندانوں کو چھوڑا۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور سختی کے باوجود انہوں نے اسلام کو اختیار کیا۔ یہاں تک کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ کوئی آدمی اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا۔ تاکہ وہ اس کے ذریعہ بھوک کی وجہ سے اپنی پیٹھ کو سیدھا رکھ سکے۔ اور کوئی آدمی سردی کے موسم میں ایک گڑھا بنالیتا تھا کیو کہ اس کے پاس اس کے سوا کوئی لحاف وغیرہ نہ ہوتا تھا آیت والذین تبوؤ الدار والایمان۔
Ayah 59:9

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور جنہوں نے گھر کو ٹھکانے کے طور پر دیا اور ایمان کو ٹھکانہ دیا اس سے پہلے وہ محبت رکھتے ہیں ان سے جو ان کی طرف ہجرت کر کے جاتے ہیں اور اپنے فلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس کی طرف سے جو انہیں دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر مہاجرین کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود ان کے ساتھ فاقہ ہی کیوں نہ ہو اور جسے اپنے نفس کے بخل سے بچالیا گیا تو یہی فلاح پانے والے ہیں

2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت والذین تبوؤ الدار والایمان (آیت کے آخر تک) کے بارے میں روایت کیا کہ آیت میں انصار کے قبیلے کے وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے گھروں میں مشرف باسلام ہوئے اور نبی ﷺ کی تشریف آوری کے دو سال پہلے انہوں نے مسجدیں بنالیں تھیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہاں تعریف فرماکر ان پر احسان فرمایا اور یہی وہ پہلی دو جماعتیں ہیں جنہوں نے اس آیت سے اپنی فضیلت کو پالیا۔ اور دونوں اس خیر اور بھلائی پر چلتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کا حصہ اس مال فئی میں بیان فرمادیا پھر تیسری جماعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا آیت والذین جاء و من بعدہم یقولون ربنا اغفرلنا ولاخواننا۔ اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم کو بخش دیجیے اور ہمارے بھائیوں کو بھی آیت کے آخرت۔ فرمایا وہ حکم دئیے گئے کہ وہ نبی ﷺ کے اصحاب کے لیے استغفار کریں اور ان کو گالیاں دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت والذین تبوؤ الدار والایمان من قبلہم کے بارے میں روایت کیا کہ اس آیت میں انصار کی سخاوت کی تعریف ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں اس ایمان اور مہاجرین کے لیے ان کے ایثار اور قربانی کو دیکھا کیو کہ اس مال فے سے انصار کو کوئی چیز نہیں ملی تھی۔ انصار صحابہ کا ایثار 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے یزید بن اصم ؓ سے روایت کیا کہ انصار نے کہا یا رسول الہ ! کہ ہمارے اور ہمارے مہاجرین بھائیوں کے درمیان زمین کو آدھا آدھا تقسیم کردیجیے۔ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ وہ تمہارے ساتھ محنت ومشقت میں مدد کریں گے اور تم ان کو پھلوں میں سے حصہ عطا کروگے اور زمین تمہاری ہی رہے گی تو انہوں نے کہا ہم اس پر راضی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت والذین تبوؤ الدار والایمان من قبلہم آیت کے آخرتک۔ 5۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مہاجرین کو انصار پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے سینوں میں ان کے بارے میں کوئی حسد نہیں پایا۔ 6۔ ابن ابی شیبہ والبخاری وابن مردویہ نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو مہاجرین اولین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کے حقوق کو پہچانے اور ان کی عزت کی حفاظت کرے اور میں اسے ان انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں جو نبی مکرم ﷺ کی ہجرت سے پہلے دار الہجرت میں مقیم رہے اور ایمان میں ثابت قدم رہے کہ وہ ان کی نیکیوں اور اعمال خیر کو قبول کرے اور ان کی خطاؤں اور غلطیوں کو معاف کرے۔ 7۔ زبیر بن بکار نے اخبار المدینہ میں زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدینہ کے لیے دس نام ہیں وہ مدینہ ہے، طیبہ ہے، طابہ ہے، مسکینہ ہے، جابرہ ہے، مجبورہ ہے، تبدد ہے، یثرب ہے، اور دار ہے۔ 8۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر والحاکم وابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! مجھے مشقت اور فاقہ پہنچ گیا ہے۔ آپ نے اپنی بیویوں کی طرف پیغام بھیجا مگر ان کے پاس کچھ نہ پایا۔ تو پھر آپ نے فرمایا کون آدمی ہے جو اس رات مہمان نوازی کرے اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔ انصار میں سے ایک آدمی نے کہا اور دوسری روایت میں ہے کہ ابو طلحہ انصاری ؓ نے کہا یا رسول اللہ ! میں مہمان نوازی کروں گا۔ وہ اس کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی بیوی سے فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کے مہمان کا اکرام کرے تو کوئی چیز بچا کر رکھنا۔ اس نے کہا اللہ کی قسم ! میرے پاس کچھ نہیں ہے سوائے بچوں کی خوراک کے، صحابہ نے کہا جب بچوں کے رات کے کھانے کا وقت ہو۔ ان کو سلادینا اور چراغ کو بجھا دینا۔ آج رات ہم اپنے پیٹ کو بھوکا رکھیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کے مہمان کے لیے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر صبح کو وہ مہمان نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فلاں مرد اور فلاں عورت سے خوش ہوئے اور ان دونوں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت ویثرون علی انفسہم ولوکان بہم خصاصہ۔ اور ان کو اپنے سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان پر خود فاقہ ہو۔ ثابت بق قیس انصاری ؓ کا واقعہ 9۔ مسدد فی مسندہ وابن ابی الدنیا فی کتاب قری الضیف وابن المنذر نے ابو المتوکل الناجی (رح) سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے تین دن مسلسل روزہ رکھا شام ہوتی تو افطار کے لیے کوئی چیز نہ پاتا۔ پھر صبح کو روزہ رکھ لیتا یہاں تک کہ انصار میں سے ایک آدمی جس کو ثابت بن قیس ؓ کہا جاتا تھا اسے اس بارے میں معلوم ہوا تو اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ آج رات میں اپنے ایک مہمان کو لاؤں گا۔ جب تم اپنا کھانا رکھ دو پھر تم میں سے کوئی آدمی چراغ کی طرف کھڑا ہوجائے گویا کہ وہ اس کی اصلاح کر رہا ہے۔ پھر وہ اس کو بچھا دے۔ پھر تم اپنے ہاتھوں کو کھانے کی طرف بڑھاتے رہنا گویا کہ تم کھا رہے ہو اور ان لوگوں نے نہ کھایا یہاں تک کہ ان کے مہمان نے پیٹ بھرلیا۔ اور ان کا کھانا ایک روٹی ہوتی تھی۔ اور یہ ان کی خوراک تھی۔ جب ثابت ؓ صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کی طرف پہنچے آپ نے فرمایا اے ثابت گزشتہ رات اللہ تعالیٰ تم سے اور تمہارے مہمان سے بہت خوش ہوئے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ویوثرون علی انفسہم ولو کان بہم خصاصہ۔ 10۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی کو بکری کا سر بطور ہدیہ دیا گیا۔ تو اس نے کہا بلاشبہ میرا فلاں بھائی اور اس کے اہل و عیال میری نسبت اس کے زیادہ ضرورت مند ہیں تو اس نے وہ سر ان کی طرف بھیج دیا۔ اسی طرح ایک آدمی مسلسل دوسرے کی طرف بھیجتا رہا۔ یہاں تک کہ سات گھروں سے گھوم کر بکری کا سر دوبارہ پہلے والے آدمی کے پاس آگیا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت ویوثرون علی انفسہم ولوکان بہم خصاصہ۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویوثرون علی انفسہم ولوکان بہم خصاصہ سے مراد ہے فاقہ۔ 12۔ فریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے کہا میں خوف کرتا ہوں کہ میں ہلاک ہوجاؤں گا۔ تو آپ نے پوچھا یہ کیسے ؟ اس نے کہا میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت ومن یوق شح نفسہ فاولئک ہم المفلحون اور جو شخص اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا جائے پس وہی لوگ کامیاب ہیں۔ اور میں حریص اور لالچی آدمی ہوں۔ قریب نہیں ہے کہ مجھ سے کوئی چیز خارج ہوجائے۔ ابن مسعود ؓ نے اس سے فرمایا۔ حرص نہیں ہے لیکن وہ بخل ہے اور بخل میں کوئی خیر نہیں۔ اور وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا (وہ یہ ہے) کہ تو اپنے بھائی کا مال ظلم کے طور پر کھائے۔ 13۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ نے آیت ومن یوق شح نفسہ فاولئک ہم المفلحون کے بارے میں روایت کیا کہ شحیح وہ نہیں ہے جو اپنے مال کو روک لے لیکن یہ تو بخل ہے اور یہ برا ہے۔ اور شح کا معنی یہ ہے کہ آدمی کی آنکھ کا اٹھنا اس چیز کی طرف جو اس کی نہیں ہے۔ 14۔ ابن المنذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ایسی عورت کی طرف دیکھنا جس کا وہ مالک نہیں ہے یہ شح ہے۔ 15۔ ابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ بخل یہ ہے کہ انسان اس چیز میں بخل کرے جو اس کے ہاتھوں میں ہے اور ” شح “ یہ ہے کہ ان چیزوں پر حریص ہو جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ 16۔ ابن جریر وابن المنذر وابن عساکر نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو یہ دعا کر رہے تھے۔ اے اللہ مجھے نفس کے حرص سے بچا اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتے تھے ان سے کہا گیا کہ آپ صرف یہ دعا کیوں پڑھتے ہیں تو انہوں نے فرمایا جب مجھے میرے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو میں نہ چوری کروں گا نہ زنا کروں گا اور نہ ہی میں نے اس قسم کا کوئی کام کیا۔ 17۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت سے مراد ہے حرام کو داخل کرنا زکوٰۃ کو روکنا۔ 18۔ ابن المنذر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی تو وہ اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا۔ حرص اور بخل میں فرق 19۔ الخرائطی نے مساوی الاخلاق میں ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ حرص زیادہ سخت ہے بخل سے، کہ حریص اس چیز کا حریص ہوتا ہے جو اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے، اور اس کو روک لیتا ہے اور حرص کرتا ہے ان چیزوں میں جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں یہاں تک کہ وہ اسے لے لے۔ اور بخیل صرف اس چیز پر بخل کرتا ہے جو اس کے اپنے ہاتھ میں ہو۔ 20۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب ذم البخل میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو پیدا فرمایا پھر اس سے فرمایا بول اس نے کہا آیت قد افلح المومنون ایمان والے کامیاب ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! کہ تجھ میں کوئی بخیل داخل نہ ہوگا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت ومن یوق شح نفسہ فاولئک ہم المفلحون۔ 21۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا : تین عمل جس میں ہوں گے وہ حرص سے بری ہوگا۔ جس نے اپنے مال میں سے زکوٰۃ ادا کی۔ اور مہمان کی مہمان نوازی کی اور مصائب اور قحط کے وقت لوگوں کو اپنے مال سے عطا کیا۔ 22۔ الحکیم الترمذی وابو یعلی وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی چیز اسلام کو ثابت کرنے والی کبھی بھی شح کو ثابت نہیں کرتی۔ 23۔ ابن مردویہ نے ابو زرعہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے دل میں فقر ہو اس کو مال کی کثرت بھی غنی نہیں کرسکتی جو اس کو دنیا میں مل جائے اور بلاشبہ اسے نفس کا حرص نقصان دیتا ہے۔ 24۔ عبد بن حمید نے مجمع بن یحییٰ بن جاریہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھے میرے چچا خالد بن یزید بن جاریہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص حرص سے بری ہے جس نے زکوٰۃ ادا کی۔ مہمان کی مہمان نوازی کی اور مصیبت و تکلیف کی حالت میں کسی کو کچھ دیا۔ 25۔ ابن ابی شیبہ والنسائی والحاکم وصححہ اور بیہقی فی الشعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی بندے کے پیٹ میں کبھی جمع نہیں ہوگا۔ اور ایمان اور حرص بھی کسی بندے کے پیٹ میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ بخل وبدگمانی کی مذمت 26۔ ترمذی و بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو چیزیں کسی مسلمان کے پیٹ میں جمع نہیں ہوسکتیں بخل اور بدگمانی۔ 27۔ ابن ابی شیبہ وابوداوٗد ابن مردویہ اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کسی آدمی میں سب سے بڑا شر غمزدہ کردینے والا حرص ہے اور وہ بزدلی ہے جو خواہشات کا بندہ بنادے۔ 28۔ احمد و بخاری فی الادب ومسلم اور بیہقی نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظلم کرنے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوں گی۔ اور حرص سے بچو کیونکہ حرص نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ان کو ان کے خون بہانے پر آمادہ کیا اور اپنے محارم کو حلال سمجھنے پر آمادہ کیا۔ 29۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حرص اور بخل سے بچو۔ ان چیزوں نے تم سے پہلے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا۔ کہ وہ اپنے رحموں کو قطع کریں تو انہوں نے رحموں کو قطع کیا اور انہیں اس پر ابھارا کہ وہ محارم کو حلال سمجھیں تو وہ انہیں حلال سمجھنے لگے اور ان کو اس طرف دعوت دی کہ وہ اپنے خونوں کو بہائیں تو انہوں نے نے خونوں کو بہایا۔ 30۔ ترمذی و بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی وفات پا گیا تو صحابہ ؓ نے کہا اس کو جنت کی خوشخبری ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نہیں جانتے کہ اس نے بےمقصد بات کی ہو یا ایسی چیز کے بارے میں بخل کیا ہو جو اس کو نہ نفع دے۔ 31۔ بیہقی نے دوسری سند سے انس ؓ عہن سے روایت کیا کہ ایک آدمی احد کے دن مقتول ہوا۔ ایک عورت آئی اور کہا اے میرے بیٹے تجھے شہادت مبارک ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نہیں جانتی شاید اس نے بےمقصد بات کی ہو یا ایسی شیء کے بارے میں بخل کرتا ہو جو اس کے لیے فائدہ مند نہ ہو۔ 2۔ بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں اور دو خصلتیں ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔ وہ خصلتیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں وہ سخاوت اور سماحت یعنی بخشش کرنا اور دو خصلتیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں وہ ہیں برے اخلاق اور بخل۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو لوگوں کی ضروریات پورا کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ 33۔ ابن جریر وابن مردویہ اور بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سخاوت اللہ تعالیٰ سے دور نہیں لے جاتی۔ بلکہ سخی اللہ کے قریب ہے جب وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ کو پکڑیں گے اور اس کے گناہ معاف کردے گا۔ 35۔ بیہقی نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس امت کے پہلے دور کے لوگوں کی اصلاح اور سلامتی زہد اور تقویٰ میں ہے اور اس کے آخری دور کے لوگوں کی ہلاکت بخل اور فجور سے ہے۔ سخی اللہ تعالیٰ کا مقرب ہے 36۔ بیہقی وضعفہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سخی اللہ تعالیٰ کے اور جنت کے قریب ہے اور دوزخ سے دور ہے اور بخیل اللہ تعالیٰ اور جنت سے دور ہے اور دوزخ سے قریب ہے اور جاہل سخی اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے عابد بخیل سے۔ 37۔ بیہقی نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سخی اللہ تعالیٰ سے اور جنت سے اور لوگوں سے قریب ہے دوزخ سے دور ہے اور بخیل اللہ تعالیٰ ، جنت سے اور لوگوں سے دور ہے اور دوزخ کے قریب ہے۔ اور جاہل سخی اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے عابد بخیل سے۔ 38۔ ابن عدی فی الکامل اور بیہقی وضعفہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ سخی قریب ہے اللہ تعالیٰ سے جنت سے اور لوگوں کے بھی قریب ہے اور دوزخ سے دور ہے اور بخیل دور ہے اللہ تعالیٰ سے جنت سے اور لوگوں سے اور قریب ہے دوزخ سے۔ اور فاجر سخی اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ محبوب ہے عابد بخیل سے۔ اور بخل سے بڑھ کر کوئی بیماری نہیں۔ 39۔ بیقہی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے قبیلہ بنو سلمہ ! آج تمہارا سردار کون ہے ؟ انہوں نے کہا جد بن قیس لیکن ہم اس کو بخیل پاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کون سی بیماری ہے جو بخل سے بڑھ کر بیمار کرنے والی ہے لیکن تمہارا سردار عمرو بن الجموح ؓ ہے۔ 40۔ بیہقی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ نے پوچھا اے بنو سلمہ تمہارا سردار کون ہے ؟ انہوں نے کہا جد بن قیس اور ہم اس کو بخیل پاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بخیلی سے بڑھ کر مہلک بیماری کون سی ہے۔ بلکہ تمہارا سردار سراپا خیر و برکت عمرو بن الجموع ہے۔ پھر فرمایا زمانہ جاہلیت میں وہ مہمان نوازی کرتا تھا۔ اور فرمایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت ولیمہ کیا کرتا تھا جب آپ شادی کرتے تھے۔ 41۔ بیہقی نے الزہری کے طریق سے عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ اے بنو سلمہ ! تمہارا سردار کون ہے ؟ انہوں نے کہا جد بن قیس آپ نے فرمایا تم اسے کس سبب سے سردر مانتے ہو تو انہوں نے کہا کیونکہ وہ ہم میں سے زیادہ مال والا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہم اس کو بخیل بھی گمان کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بخیلی سے بڑھ کر مہلک بیماری کونسی ہے وہ تمہارا سردار نہیں ہے۔ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! پھر ہمارا سردار کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا براء بن معرور تمہارا سردار ہے۔ بیہقی نے کہا یہ روایت مرسل ہے۔ (مرسل ضعیف) 42۔ حاکم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنوعبید ! تمہارا سردار کون ہے ؟ انہوں نے کہا جد بن قیس اس کے باوجود کے وہ بخیل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا بخیلی سے بڑھ کر مہلک بیماری کونسی ہے ؟ بلکہ تمہارا سردار تمہارے سردار کا بیٹا بشر بن البراء بن معرور ؓ ہے۔ بخیل ومکار جنت سے محروم 43۔ بیہقی نے ابوبکرصدیق ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں بخیل مکار، خیانت کرنے والا اور اپنی ملکیت میں رہنے والوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا داخل نہ ہوں گے اور سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے غلام ہوں گے۔ بشرطیکہ انہوں نے اپنے اور اللہ کے درمیان اور اپنے آقاؤں کے درمیان اچھا معاملہ کیا ہوگا یعنی ان ذمہ داریوں کو اچھے طریقے سے ادا کیا ہوگا۔ 44۔ بیہقی نے ابو سہل الواسطی (رح) سے مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس دین کو چن لیا ہے بلاشبہ اس دین کی سلامتی سخاوت اور اچھے اخلاق کے ساتھ ہے پس تم ان دونوں خصلتوں کے ساتھ اس دین کی تعظیم کرو۔ 45۔ بیہقی من طرق وضعفہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیشک اس دین کو میں نے اپنی ذات کے لیے چن لیا ہے۔ سخاوت اور اچھے اخلاق کے سوا کوئی اس کو سلامت نہیں رکھ سکتا پس تم ان دونوں خصلتوں کے ساتھ اس کی تعظیم کرو جب تک تم اس کے ساتھ زندگی گزارو۔ 46۔ بیہقی وضعفہ نے عبداللہ بن جراد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم بھلائی کو تلاش کرو۔ تو اس کو چہروں کی خوبصورت کی اور حسن میں تلاش کرو۔ اللہ کی قسم ! نہیں داخل ہوگا دوزخ میں مگ بخیل اور جنت میں کوئی حریص بھی داخل نہ ہوگا۔ بلاشبہ السخاء جنت میں ایک درخت ہے۔ جس کو سخاء کہا جاتا ہے۔ اور الشح دوزخ میں ایک درخت ہے جس کو شح کہا جاتا ہے۔ 47۔ بیہقی وضعفہ نے جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسخاء جنت کے درختوں میں سے ایک درخت ہے اس کی ٹہنیاں دنیا میں لٹکتی ہوئی ہیں۔ جس شخص نے اس کی ٹہنی کو پکڑ لیا تو وہ ٹہنی اس کو وہ جنت کی طرف رہنمائی کرے گی۔ اور بخل دوزخ کے درختوں میں سے ایک درخت ہے اس کی ٹہنیاں دنیا میں لٹکی ہوئی ہیں۔ جس شخص نے اس کی ٹہنی کو پکڑ لیا تو وہ ٹہنی اس کو دوزخ کی طرف لے جائے گی۔ 48۔ بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سخاوت جنت میں ایک درخت ہے جو شخص سخی ہوگا تو اس نے اس میں سے ایک ٹہنی کو پکڑ لیا اور وہ اس ٹہنی کو نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ وہ اس کو جنت میں داخل کردے گی۔ اور بخل دوزخ میں ایک درخت ہے جو شخص بخیل ہوگا تو اس نے اس میں سے ایک ٹہنی کو پکڑ لیا۔ وہ اس ٹہنی کو نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ وہ اس کو دوزخ میں داخل کردے گی۔ 49۔ بیہقی وضعفہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ تیرہ آدمی آئے۔ جو سفر کے کپڑے پہنے ہوئے تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا۔ پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! مردوں میں کون سردار ہے ؟ آپ نے فرمایا یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ہیں پھر انہوں نے کہا۔ آپ کی امت میں کوئی سردار ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔ وہ آدمی جو حلال مال اور رزق اور سخاوت دیا گیا۔ تو وہ فقیر کے قریب ہوا اور لوگوں میں اس کی شکایت کم ہوگئی۔ 50۔ بخاری ومسلم و نسائی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال بیان فرمائی۔ جیسے مثال دو آدمیوں کی کہ ان پر دو لوہے کے جبے ہیں کہ ان کے دونوں ہاتھ ان کی چھاتیوں اور ان کی ہنسلیوں کے ساتھ جکڑے ہوئے ہیں۔ جب بھی اس نے صدقہ دیا تو وہ اس سے کھل گیا۔ یہاں تک کہ وہ اس کے پوروں کو ڈھانپ لیتا ہے اور اس کے نشانات کو مٹا دیتا ہے اور بخیل جب کبھی صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو وہ جبہ اور سکڑ جاتا ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ بنالیتا ہے۔ پس وہ آدمی اس کو کھلا کرتا ہے مگر وہ کھلا نہیں ہوتا۔ سخی آدمی کا قتل سے بچ جانا 51۔ زبیر بن بکار نے الموفقیات میں عبداللہ بن ابی عبیدۃ بن محمد بن عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا کہ خالد بن ولید ؓ روم کی سرزمین کی جانب سے نبی ﷺ کے پاس کچھ قیدی لے آئے۔ آپ نے ان پر اسلام پیش کیا۔ تو انہوں نے انکار کیا۔ تو آپ نے ان کی گردنیں ماردینے کا حکم دے دیا۔ یہاں تک کہ جب ان کے آخری آدمی کے پاس آئے۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا اے خالد ! اس آدمی سے رک جاؤ قتل نہ کرو۔ عرض کیا یارسول اللہ ! پوری قوم میں مجھ پر اس سے بڑھ کر شدید اور سخت آدمی کوئی نہ تھا۔ آپ نے فرمایا یہ جبریل (علیہ السلام) ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو یہ خبر دے دے رہے ہیں کہ یہ اپنی قوم میں سخی ہے اس سے رک جاؤ۔ پھر وہ رومی آدمی مسلمان ہوگیا۔
Ayahs 59:10–13

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور جو ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تو ہماری مغفرت کردے اور ہمارے بھائیوں کی ان کی جنہوں نے ایمان میں ہم سے سبقت کی ہے اور دلوں میں کینہ مت رکھ ایمان والوں کے لیے اے ہمارے پروردگار یقیناً تو بہت زیادہ شفقت والا نہایت مہربان ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا آپ نے نہیں دیکھا ان کو جو منافق ہیں جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے جو کافر ہیں اہل کتاب میں سے کہ اگر تم نکالے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور ہم تمہارے بارے میں کسی کی بات کبھی نہیں مانیں گے اور اگر تم سے قتال کیا گیا تو ہم تمہاری ضرور نصرت کردیں گے حالانکہ اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یقیناً وہ جھوٹے ہیں

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے قتال کیا گیا تو ان کی نصرت نہیں کریں گے اور اگر وہ ان کی نصرت کریں گے بھی تو وہ ضرورپیٹھ کر بھاگیں گے پھر ان کی نصرت نہیں کی جائے گی

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

البتہ تمہارا خوف ان کے دلوں میں اللہ سے بھی زیادہ ہے یہ اس وجہ سے کہ یہ ایسی قوم ہے جو سمجھتی نہیں

1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین جاء و من بعدہم اور جو ان کے بعد آئے یعنی وہ لوگ جو ان کے بعد اسلام لائے تو انہوں نے اس سے عبداللہ بن نبتل اور اوس بن قیظی کو مراد لیا۔ 2۔ حاکم وصححہ وابن مردویہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ لوگ تین مراتب میں ہیں ان میں دو کا ذکر پہلے گزر چکا ایک مرتبہ کا ذکر باق ہے۔ سو اچھا ہے جو تم اس مرتبہ پر ہوتے یعنی تم اس رتبہ اور درجہ پر ہو جس کا ذکر ابھی باقی ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت للفقراء المہجرین الذین اخرجوا من دیارہم واموالہم۔ ان فقراء مہاجرین کے لیے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکالے گئے۔ پھر فرمایا اس سے مراد مہاجرین ہیں اور یہ وہ رتبہ ہے جو گزر چکا۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت والذین تبوؤ الدار والایمان من قبلہم۔ اور جو لوگ دار الاسلام اور ایمان میں ان مہاجرین کے آنے سے پہلے مقیم تھے۔ پھر فرمایا اس سے مراد انصار ہے اور یہ رتبہ بھی گزرچکا پھر یہ آیت پڑھی آیت والذین جاء و من بعدہم یقولون ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان۔ اور جو لوگ ان کے بعد آئے اور وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے۔ یعنی یہ دونوں رتبے گزر چکے ہیں اور یہ تیسرا رتبہ باقی ہے سو اچھا ہے کہ تم اس رتبہ پہ ہوجاؤ۔ 2۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے آیت والذین جاء و من بعد ہم کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے یے استغفار کا حکم کیا گیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو انہوں نے دین میں نئی نئی باتیں نکالیں۔ 3۔ عبداللہ بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری فی المصاحف وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ان کو حکم دیا گیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب کے لیے استغفار کرو مگر انہوں نے ان کو گالیاں دیں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی آیت والذین جاء و من بعدہم یقلون ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان۔ 4۔ ابن مردویہ نے ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ بعض مہاجرین کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔ تو انہوں نے اس پر یہ آیت پڑھی آیت للفقراء المہاجرین (الآیۃ) پھر فرمایا یہ لوگ مہاجرین ہیں اور کیا تو ان میں سے ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر آپ نے اس پر یہ آیت پڑھی آیت والذین تبوؤ الدار والایمان (الآیۃ) پھر فرمایا یہ لوگ انصار ہیں کیا تو ان میں سے ہے ؟ اس نے کہا میں اس کی امید رکھتا ہوں پھر فرمایا نہیں۔ جو ان کو گالیاں دے وہ ان میں سے نہیں ہوسکتا۔ 5۔ ابن مردویہ نے دوسری سند سے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ ایک آدمی نے عثمان ؓ کو برا کہا تو انہوں نے اس کو بلایا اور اس کو سامنے بٹھا کر یہ آیت پڑھی آیت للفقراء المہاجرین الایۃ۔ پھر فرمایا تو ان میں سے ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت والذین جاء و من بعدہم پھر فرمایا تو ان لوگوں میں سے نہیں ہوتا جو ان کو برا کہے۔ اور اسکے دل میں ان کے خلاف کینہ ہو۔ 6۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا۔ آیت ربنا لا تجعل فی قلوبنا غلا الذین اٰمنوا اور ہمارے دلوں میں ان ایمان والوں کے لیے کینہ پیدا نہ کردینا۔ حسد وکینہ سے محفوظ شخص جنتی ہے 7۔ الحکیم الترمذی والنسائی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے۔ آپ نے فرمایا ابھی ایک آدمی اہل جنت میں سے آئے گا۔ تو انصار میں سے ایک آدمی آیا۔ جس کی داڑھی سے وضو کا پانی بہہ رہا تھا اور وہ اپنی جو تیوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لٹکائے ہوئے تھا۔ جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابھی ایک آدمی اہل جنت میں تم پر آئے گا۔ تو وہی آدمی اپنی پہلی حالت کی طرح آیا۔ پھر جب اگلا دن ہوا یعنی تیسرا دن تو رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا۔ وہی آدمی پھر آیا جب وہ آدمی کھڑا ہوا تو عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ اس کے پیچھے چل دئیے اور فرمایا میرا اپنے باپ سے جھگڑا ہوگیا ہے اور میں نے یہ قسم کھائی ہے کہ میں اس کے پاس تین دن تک نہیں جاؤں گا تو مناسب خیال کرے تو مجھے اپنے پاس پناہ دے دے۔ تاکہ میری قسم کھل جائے کیا میں ایسا کرلوں۔ اس نے جواب دیا ہاں۔ انس ؓ نے فرمایا عبداللہ بن عمرو ؓ بیان فرماتے تھے کہ انہوں نے ایک رات اس کے ساتھ گذاری۔ اور انہوں نے اسے کسی وقت بھی رات کو کھڑا ہوتے نہیں دیکھا۔ سوائے اس کے کہ وہ اپنے بسترے پر کروٹیں بدلتا تھا سوائے اس کے کہ جب اپنے بستر پر کروٹ بدلتا تو اللہ کا ذکر کرتا اور اس کی عظمت اور کبریائی کا ذکر کرتا یہاں تک کہ وہ فجر کی نماز کے لیے کھڑا ہوگیا۔ اس نے اچھی طرح وضو کیا مگر میں نے اسے کلمہ خیر کہنے کے بغیر کچھ کہتے نہیں سنا۔ جب تین راتیں گزر گئیں اور قریب تھا کہ میں اس کے عمل کو حقیر جانتا میں نے کہا اے اللہ کے بندے ! میرے اور میرے والد کے درمیان نہ کوئی جھگڑا اور ناراضگی ہے اور نہ کوئی فراق اور جدائی ہے۔ لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو تیرے لیے تین مرتبہ تین مجلسوں میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ ابھی تم پر ایک آدمی اہل جنت میں سے داخل ہوگا۔ اور تینوں مرتبہ تو ہی آیا۔ تو میں نے ارادہ کیا کہ میں تیرے پاس ٹھہروں اور دیکھوں تیرا کیا عمل ہے پس جب میں وہ دیکھ چکا تو میں وہاں سے واپس آگیا۔ جب میں نے پیٹھ پھیری تو اس نے مجھے بلایا اور کہا عمل تو وہی ہے جو تو نے دیکھا سوائے اس کے کہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے بارے میں کینہ اور حسد نہیں رکھتا یہ سن کر عبداللہ بن عمرو ؓ نے اس سے فرمایا یہی وہ عمل جس نے مجھے جنت میں پہنچا دیا یہ وہ ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔ 8۔ الحکیم الترمذی نے عبدالعزیز بن ابی داوٗد (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب بناز سے فارغ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ آدمی جنت والوں میں سے ہے۔ عبداللہ بن عمرو ؓ نے فرمایا کہ میں اس کے پاس آیا میں نے کہا اے میرے چچا کیا آپ میری مہمان نوازی کرسکتے ہیں ؟ اس نے کہا ہاں اس کا ایک خیمہ ایک بکری اور ایک کھجور کا درخت تھا۔ جب شام ہوئی تو وہ اپنے خیمے سے نکلا بکری کو دوہا اور میرے لیے تازہ کھجوروں کو چنا۔ پھر اس نے کھانا رکھا اور میں نے اس کے ساتھ کھایا اس نے سو کر رات گزاری اور میں نے قیام کرتے ہوئے رات گذاری اس نے صبح کو اس حال میں کہ وہ روزے سے نہ تھا اور میں نے روزے کی حالت میں صبح کی۔ پس اس نے تین رات ایسا ہی کیا پھر میں نے اس سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تیرے بارے میں فرمایا تو اہل جنت میں سے ہے۔ مجھے بتا تیرا کیا عمل ہے ؟ اس نے کہا اس کے پاس جاؤ جس نے تجھے یہ خبر دی ہے یہاں تک کہ تجھ کو میرے عمل کے بارے میں بتادے گا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ نے فرمایا اس کے پاس جاؤ اور اس کو حکم کرو کہ وہ تجھ کو بتائے۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ حکم فرماتے ہیں کہ تو مجھ کو اپنے عمل کے بارے میں بتائے۔ اس نے کہا کیا ابھی بتاؤں ؟ میں نے کہا ہاں۔ پھر اس نے کہا اگر میرے لیے ساردی دنیا ہو پھر وہ مجھ سے لے لی جائے تو مجھے اس پر کوئی غم نہیں اور وہ دنیا مجھ کو دے دی جائے تو مجھے اس سے کوئی خوشی نہیں اور میں اس حال میں سوتا ہوں۔ میرے دل میں کسی کے بارے میں کوئی کینہ اور بغض نہیں۔ عبداللہ ؓ نے فرمایا لیکن میں اللہ کی قسم ! رات کو قیامت کرتا ہوں اور دن کو زندہ رکھت اہوں۔ اگر مجھے بکری ہبہ کی جائے تو مجھے اس سے خوشی ہوگی اور اگر وہ مجھ سے لے لی جائے تو میں یقینی طور پر اس پر غمزدہ ہوں گا۔ اللہ کی قسم ! یقینی طور پر اللہ نے تجھ کو ہم پر انتہائی واضح اور روشن فضیلت دی ہے۔
Ayahs 59:14–15

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

وہ تم سے اکٹھے ہو کر قتال نہیں کریں گے مگر قلعہ بن دبستیوں میں یا دیواروں کے پیچھے سے ان کی لڑائی آپس میں بڑی سخت ہے آپ انہیں اکٹھے گمان کرتے ہیں حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں یہ اس وجہ سے کہ وہ ایسی قوم ہے جو عقل نہیں رکھتی

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کا حال ان کے حال کی طرح ہے جو ان سے پہلے تھے قریب میں جنہوں نے اپنی حرکت کا وبال چکھ یا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت الم تر الی الذین نافقوا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول رفاعہ بن تابوت عبداللہ بن نبتل، اوس بن قیظی اور ان کے بھائی بنو نضیر کے بارے میں ہے۔ منافقین کا یہود کو ابھارنا 10۔ ابن اسحاق وابن المنذر وابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنو عوف بن حارث میں سے ایک جماعت جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول، ودیعہ بن مالک، سوید اور داعش وغیرہ تھے انہوں نے بنو نضیر کی طرف پیغام بھیجا کہ تم ثابت قدم رہو اور اپنی جگہ پر رکے رہو۔ بیشک ہم تم کو کسی کے حوالے نہیں کریں گے۔ اگر وہ تم سے لڑیں گے تو ہم تمہارے ساتھ مل کر ان سے لڑیں گے اور اگر تم کو نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ پس وہ اس وجہ سے ان کی مدد کا انتظار کرتے رہے لیکن انہوں نے مدد نہ کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ان کو جلا وطن کردیاجائے۔ اور ان کے خون نہ بہایا جائیں۔ اس شرط پر کہ ان کے مالوں میں سے جو اونٹ اٹھاسکے (وہ لے جانے کی اجازت ہوگی) سوائے ہتھیاروں کے کہ وہ نہیں لے جائیں گے تو آپ نے ایسا کرلیا پس ان میں سے ہر آدمی اپنے گھر کو گراتا تھا اور اس کو اپنے اونٹ کی پشت پر رکھتا تھا۔ اور چل پڑتا تھا سو ان میں سے کچھ خیبر کی طرف نکلے اور کچھ شام کی طرف چلے گئے۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ کچھ لوگ اہل قریظہ اور نضیر میں سے مسلمان ہوگئے۔ اور ان میں منافقین بھی تھے اور وہ نضیر والوں سے کہتے تھے کہ اگر تم نکالے گئے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ تو ان کے بارے میں یہ آیت الم تر الی الذین نافقوا یقولون لاخوانہم نازل ہوئی یعنی کیا تم نے ان منافقین کی طرف نہیں دیکھا جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں۔ 12۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت الم تر الی الذین نافقوا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول رفاعہ بن تابوت، عبداللہ بن نبتل اور اوس بن قیظی کے بارے میں نازل ہوئی آیت یقولون لاخوانہم وہ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں یعنی نضیر والوں سے آیت باسہم بینہم شدید۔ اس کی لڑائی آپس میں شدید ہے یعنی کلام کے ساتھ آیت تحسبہم جمیعا وقلوبہم شتی۔ تو ان کو اکٹھے خیال کرتا ہے حالانکہ دل ان کے مختلف ہیں۔ یعنی منافقین نضیر والوں کے دین کے خلاف ہیں۔ آیت کمثل الذین من قبلہم قریبا ان کی ان لوگوں مثال ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے ہوئے ہیں۔ یعنی بدر کے دن کفار قریش۔ 13۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت تحسبہم جمیعا وقلوبہم شتی کے بارے میں روایت کیا کہ اسی طرح اہل باطل ہیں کہ ان کی شہادت مختلف ہے ان کی خواہشات مختلف ہیں ان کے اعمال مختلف ہوتے ہیں لیکن وہ سب اکٹھے ہیں اہل حق کی دشمنی میں آیت اور وہ بنو نضیر مراد ہیں۔ 14۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت تحسبہم جمیعا وقلوبہم شتی کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مشرکین مراد ہیں۔ 15۔ الدیلمی نے علی ؓ سے روایت کیا کہ ایمان والے آپس میں ایک دوسرے کے خیر خواہ اور باہم محبت کرنے والے ہوتے ہیں اگرچہ ان کے مراتب علیحدہ علیحدہ ہوں اور تاجر لوگ آپس میں ایک دوسرے کے لیے دھوکے باز اور خیانت کرتے ہیں اگرچہ ان کے بدن اکٹھے ہوں۔ 16۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) نے کمثل الذین من قبلہم قریبا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے بدر کے دن کے کفار قریش مراد ہیں۔ 17۔ عبدالرزاق نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کمثل الذین من قبلہم قریبا سے بنو نضیر مراد ہیں۔