54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 54:33–42

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط (علیہ السلام) کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان پر پتھرلانے والی تیز ہوا بھیج دی۔ سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے ہم نے انہیں آخری رات میں اپنے فضل سے نجات دے دی

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اس شخص کو جو شکر ادا کرے

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور لوط (علیہ السلام) نے ان کو ہماری گرفت سے ڈرایا تھا سو انہوں نے ڈرانے کی چیزوں میں جھگڑے بازی کی

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور بیشک بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کو برے ارادہ سے لینا چاہا سو ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردی، سو چکھ لو میرا عذاب اور میرے ڈرانے کا نتیجہ

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور یہ بات یقینی ہے کہ صبح سویرے ان پر ایسا عذاب آگیا جو برقرار رہنے والا تھا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

سوچکھ لو میرا عذاب اور میرے ڈرانے کا نتیجہ

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور یہ یقینی ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا سو کیا کوئی ہے نصیحت کرنے والا

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ Open ayah 54:41 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ال فرعون کے پاس ڈرانے کی چیزیں آئی تھیں

كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ Open ayah 54:42 in the Quran reader

انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا سو ہم نے انہیں پکڑ لیا زبردست صاحب قدرت کا پکڑنا

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کذبت قوم لوط '' (الاآیات) قوم لوط پر عذاب کیوں آیا :ـ 10:۔ عبد الزراق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتماروا بالنذر '' (انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے) یعنی انہوں نے ڈرانے کی تصدیق نہیں کی (آیت ) '' فطمسنا اعینہم '' (سو ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں) ہم کو یہ بتایا گیا کہ جبر ائیل (علیہ السلام) نے ان کو سزا دینے کے لئے اپنے رب سے اجازت لی اور رات کو اس وقت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان لوگوں نے دروازے (کی طرف جانے میں) جلدی کی تاکہ ان پر داخل ہوجائیں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کے ساتھ اس کو گرادیا اور ان کو اندھا کردیا کہ وہ ڈانو ڈول ہورہے تھے۔ (راستہ سجھائی نہ دیتا تھا) (آیت ) '' ولقد صبحھم بکرۃ عذاب مستقر '' (اور صبح سویرے ان پر عذاب دائمی آپہنچا) یعنی ان کو جہنم کی آگ میں پہنچا دیا (آیت ) '' فاخذنھم اخذ عزیز مقتدر '' (سو ہم زبردست قدرت والے کی پکڑ کی طرح ان کو دھرپکڑا) یعنی وہ زبردست قوت والے ہیں اپنی سزا دینے میں جب وہ انتقام لیتے ہیں تو پھر وہ آگے بڑھنے سے خوفزدہ نہیں ہوتا اور فرمایا (آیت ) '' اکفارکم خیر من اولئکم '' (کیا تم میں سے کافر ان (گزشتہ کافروں) سے بہتر ہیں یعنی کیا تمہارے کافر ان کافروں سے بہتر ہیں جو پہلے گزر چکے۔ 11:۔ سعید بن منصور (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد صبحھم بکرۃ عذاب مستقر '' (اور صبح سویرے ان پر دائمی عذاب آپہنچا) یعنی یہ دنیا کا عذاب ان کے ساتھ برقرار رہا آخرت میں بھی۔
Ayahs 54:43–44

اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ Open ayah 54:43 in the Quran reader

کیا تمہارے کافر بہتر ہیں ان لوگوں سے یا تمہارے لئے کتابوں میں کوئی معافی ہے ؟

اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ Open ayah 54:44 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ہماری جماعت ہے جو غالب رہے گی

12:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' اکفارکم خیر من اولئکم '' کے بارے میں روایت کیا کہ تمہارے کفار بہتر نہیں ہیں قوم نوح اور قوم لوط کی قوموں کے کافروں سے۔ 13:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ربیع بن انس ؓ سے (آیت ) '' اکفارکم خیر من اولئکم '' کے بارے میں روایت کیا کہ تمہارے کفار کیا قرون اعلی کے ان کافروں سے بہتر ہیں جن کے بارے میں یہ ذکر کیا گیا کہ میں نے انکو ہلاک کردیا۔ 14:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اکفارکم خیر من اولئکم '' کے بارے میں روایت کیا کہ کیا تمہارے کفار بہتر ہیں ان کافروں سے جو پہلے گزر چکے ہیں (آیت ) '' ام لکم برآء ۃ فی الزبر '' (یا تمہارے لئے آسمانی کتابوں میں کوئی معافی آگئی ہے) یعنی پہلی کتابوں میں معافی لکھ دی گئی۔
Ayahs 54:45–47

سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ Open ayah 54:45 in the Quran reader

عنقریب جماعت شکست کھاجائے گی اور پشت پھیر کر چل دیں گے

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ Open ayah 54:46 in the Quran reader

بلکہ قیامت ان کا وعدہ ہے اور قیامت بڑی سخت اور بڑی کڑوی چیز ہے

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ Open ayah 54:47 in the Quran reader

بلاشبہ مجرمین بڑی گمراہی اور بڑی بےعقلی میں ہیں

1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن منیع وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' سیھزم الجمع ویولون الدبر '' (عنقریب ان کی یہ جماعت شکست کھاجائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گی، اور یہ بدر کے دن ہوا اور ان کافروں نے کہا (آیت ) '' ام نحن جمیع منتصر '' (ہماری جماعت ایسی ہے جو غالب ہی رہے گی) تو یہ آیت نازل ہوئی (کہ انکی جماعت شکست کھاکر بھاگ جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ کا قبہ فتح کا دن : 2:۔ البخاری والنسائی وابن المنذر (رح) والطبرانی (رح) وابو نعیم (رح) فی الدلائل وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور آپ بدر کے دن قبہ میں تشریف فرما تھے جو بدر کے دن آپ کے لئے بنایا گیا تھا (اور فرما رہے تھے اسے اللہ) میں آپ کو آپ کا عہد و پیمان اور آپ کا وعدہ یاد دلاتا ہوں اے اللہ اگر آپ نے چاہا کہ آج کے دن کے بعد کبھی آپ کی عبادت نہ کی جائے گی ابوبکر صدیق ؓ نے آپ ﷺ کے ہاتھ کو پکڑا اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپ کے لئے کافی ہے آپ نے اپنے رب سے مانگنے میں بہت اصرار کرلیا پھر آپ باہر نکلے اس حال میں کہ آپ زرہ پہنے ہوئے تھے۔ اور آپ فرما رہے تھے (آیت ) '' سیھزم الجمع ویولون الدبر (45) بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامر (46) '' (عنقریب ان کی یہ جماعت شکست کھائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گی بلکہ قیامت میں ان کے لئے وعدہ عذاب ہے اور قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ) ۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے دن زرہ پہنے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے (آیت ) '' سیھزم الجمع ویولون الدبر '' 4:۔ البخاری نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ پر یہ (آیت ) '' بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامر '' نازل ہوئی اور میں مکہ میں تھی (اور میرا یہ حال تھا) کہ میں ابھی بچی تھی اور کھیلنے میں لگی ہوئی تھی۔ 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ (رح) نے ابو ہریرۃ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر بدر کے دن سے پہلے مکہ میں یہ (آیت ) '' سیھزم الجمع ویولون الدبر '' نازل فرمائی۔ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کونسی جماعت عنقریب شکست کھائے گی ؟ پھر جب بدر کا دن تھا اور قریش شکست کھاگئے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھا کہ آپ ان کے آثار و نشانات میں تلوار لئے ہوئے یہ فرما رہے تھے (آیت ) '' سیھزم الجمع ویولون الدبر '' اور (یہ آیت) بدر کے دن کے لئے تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) '' حتی اذا اخذنا مترفیھم بالعذاب '' (المومنون آیت 64) (یہاں تک کہ جب ہم ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے) اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی نازل فرمایا (آیت ) '' الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا '' (ابراہیم آیت 28) (کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر میں بدل دیا) اور رسول اللہ ﷺ نے ان پر ریت پھینکی اور یہ ان تمام کے لئے کافی ہوگئی اور اس نے بھر دیا انکی آنکھوں کو اور ان کے مونہوں کو یہاں تک کہ ایک آدمی البتہ قتل کیا جاتا تھا اس حال میں کہ اس کی آنکھوں پر مٹی پڑی ہوئی ہوتی پھر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمایا وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی '' (اور تو نے مٹی نہیں پھینکی جبکہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی ) 6:۔ عبدالرزاق (رح) وابن ابی شیبہ (رح) وابن راھویہ وعبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم اور ابن مردویہ (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ کہ جب (آیت ) '' سیھزم الجمع ویولون الدبر '' نازل ہوئی عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ میں نے کہنا شروع کیا (آیت ) '' سیھزم الجمع '' (کونسی جماعت عنقریب شکست کھائے گی ؟ ) یہاں تک کہ جب بدر کا دن تھا میں نے نبی کریم ﷺ کو زرہ پہنے ہوئے دیکھا اور وہ فرما رہے تھے (آیت ) '' سیھزم الجمع ویولون الدبر '' تو مجھے اس دن آیت کی تاویل معلوم ہوئی۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے دوسری سند سے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح موصولا روایت کیا۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' سیھزم الجمع ویولون الدبر '' کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت بدر کے دن نازل ہوئی۔ 9:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کے دن فرمایا (آیت ) '' ویولون الدبر '' (وہ شکست کھاگئے اور پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے) قیامت کا عذاب بہت سخت ہے : 10:۔ سعید بن منصور (رح) وابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) '' والساعۃ ادھی وامر '' (اور قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے) کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کا ذکر فرمایا اور اس عذاب کا جو ان کو پہنچا اور قوم عاد کا ذکر فرمایا اور اس پر ہوا کا جس نے ان کو تباہ کردیا اور قوم ثمود کا ذکر فرمایا اور اس کرخت چیخ اور آواز کا جس نے ان کو ہلاک کردیا اور قوم لوط کا ذکر فرمایا اور جو پتھر ان کو آکر لگے ان کا ذکر فرمایا اور آل فرعورن کا ذکر فرمایا اور ان کا غرق ہونے کا ذکر کیا اور فرمایا (آیت) '' اکفارکم خیرمن اولئکم ام لکم برآء ۃ فی الزبر '' سے لے کر '' ادھی وامر '' تک یعنی قیامت کا دن اس سے زیادہ خوفناک اور تلخ ہے جو (دنیا میں) ان کو عذاب اور تکلیف پہنچی۔ 11:۔ ابن المبارک فی الزھد والترمذی (وحسنہ) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سات چیزیں سے پہلے اعمال میں جلدی کرو جن کا تم میں سے ہر ایک انتظار کررہا ہے یعنی ایسی مالداری جو سرکش بنادے یا ایسا فقر و افلاس جو اسے اللہ تعالیٰ کی یاد سے بھلا دے یا ایسی بیماری جو فساد برپا کردے ایسا بڑھاپا جو عقل کو خراب کردے یا اچانک آجانے والی موت یا دجال منتظر اور دجال ایک ایسا شر ہے جو غائب ہے جس کا انتظار کیا جارہا ہے یا پھر قیامت (آیت ) '' والساعۃ ادھی وامر '' (حالانکہ قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ) 12:۔ ابن مردویہ (رح) نے معقل ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس امت کی سزا کو تلوار کے ساتھ کردیا اور ان کے وعدے کا وقت قیامت کے دن کو بنایا ہے (آیت ) '' والساعۃ ادھی وامر '' (اور قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے )
Ayah 54:48

یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ Open ayah 54:48 in the Quran reader

جس دن دوزخ میں چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے، چکھ لو دوزخ کا عذاب

1:۔ احمد ومسلم وعبد بن حمید (رح) والترمذی وابن ماجہ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین قریش نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور تقدیر کے مسئلے پر جھگڑا کرنے لگے تو یہ (آیت) '' نازل ہوئی '' ویوم یسحبون فی النار علی وجوھہم، ذوقوا مس سقر (48) انا کل شیء خلقنہ بقدر '' (جس روز منہ کے بل جن ہم کے اندر ان کو گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا آگ لگنے کا مزا چکھو) 2:۔ الزھد وابن المنذر عبد بن حمید (رح) عمر و بن شعب سے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ یہ (آیت ) '' ویوم یسحبون فی النار علی وجوھہم، ذوقوا مس سقر (48) انا کل شیء خلقنہ بقدر '' اہل قدر کے بارے میں نازل ہوئی۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) والطبرانی وابن مردویہ (رح) وابن شاھین وابن منذر والباوردی فی الصحابۃ والخطیب تالی التخلیص وابن عساکر (رح) نے زرارہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ (آیت ) '' ذوقوا مس سقر (48) انا کل شیء خلقنہ بقدر '' (کہ تم آگ لگنے کا مزہ چکھو، ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا) پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو اللہ کی تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ 4:۔ ابن عدی وابن مردویہ (رح) والدیلمی (رح) وابن عساکر (رح) نے ضعیف سند کے ساتھ ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی یعنی (آیت) '' ان المجرمین فی ضلل وسعر '' (بلاشبہ یہ مجرم بڑی غلطی اور بےعقلی میں ہیں۔ 5:۔ سعید بن منصور وابن سعد وابن المنذر نے ابراہیم بن محمد بن علی بن عبداللہ بن جعفر ؓ سے روایت کیا کہ ان کی ماں لبابہ بنت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں اپنے دادا ابن عباس ؓ کی ہر جمعہ کے دن ملاقات کرتی تھی ان کی بینائی ختم ہونے سے پہلے میں نے ان کو مصحف میں سے پڑھتے ہوئے سنا جب وہ اس (آیت ) '' ان المجرمین فی ضلل وسعر، ویوم یسحبون فی النار علی وجوھہم '' پر پہنچے تو فرمایا اے بیٹی ! جن لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی میں ان کو نہیں پہنچانتا جو بعد میں ہوں گے اور ضرور ہوں گے۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے عطابن ابی رباح کے طریق سے عطا بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا کہ تقدیر کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے (یعنی انکار ہوچکا ہے) تو آپ نے فرمایا یا انہوں نے ایسا کہا ہے (تو فرمایا اس میں گفتگو کی گئی ہے (یعنی انکار ہوچکا ہے تو آپ نے فرمایا انہوں نے ایسا کہا ہے (تو فرمایا) اللہ کی قسم ! یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی (آیت ) '' ذوقوا مس سقر (48) انا کل شیء خلقنہ بقدر '' (پھر فرمایا) کہ یہ لوگ امت کے شریر لوگوں میں سے ہیں ان کے مریضوں کی عیادت نہ کرنا، ان کے مردوں پر نماز نہ پڑھنا اگر تو ان میں سے کسی کو دیکھ لے تو ان دونون انگلیوں سے ان کی آنکھیں نکال دوں۔ 7:۔ الطبرانی وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) '' ویوم یسحبون فی النار علی وجوھہم، ذوقوا مس سقر (48) انا کل شیء خلقنہ بقدر '' قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
Ayahs 54:49–53

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ Open ayah 54:49 in the Quran reader

بیشک ہم نے ہر چیز کو انداز سے پیدا کیا۔

وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ Open ayah 54:50 in the Quran reader

اور ہمارا حکم بس یکبارگی ہوگا جیسے آنکھوں کا جھپکنا

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:51 in the Quran reader

اور یہ بات یقینی ہے کہ ہم نے تمہارے جیسے لوگوں کو ہلاک کیا ہے تو کیا کوئی نصیحت ہے حاصل کرنے والا

وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ Open ayah 54:52 in the Quran reader

اور جو کچھ بھی ان لوگوں نے کیا ہے سب کتابوں میں ہے

وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ Open ayah 54:53 in the Quran reader

اور ہر چھوٹی بڑی چیز کتابوں میں لکھی ہوئی ہے

8:۔ ابن جریر وابن لمنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' انا کل شیء خلقنہ بقدر '' (کہ ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا) کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو اندازے کے ساتھ پیدا کیا اور ان کے لئے خیر اور شر کو بھی اندازے سے پیدا فرمایا۔ ہر چیز قضاء وقدر سے ہے : 9:۔ مسلم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر چیز قضا اور قدر سے ہے یہاں تک کہ عاجز ہونا اور عقل مند ہونا بھی۔ 10:۔ البخاری نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر چیز قضا اور قدر کے ساتھ ہے یہاں تک تیرا ہاتھ رکھنا اپنے رخسار پر (یہ بھی تقدیر میں سے ہے) 11:۔ احمد نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر امت کے لئے مجوسی ہیں اور میری امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں تقدیر نہیں ہے اگر وہ بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت نہ کرو اگر وہ مرجائیں تو (ان کے جنازوں میں) حاضری نہ دو ۔ 12:۔ ابن شاھین نے السنۃ میں محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے اس تقدیر کو قرآن مجید میں تلاش کیا جو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر نازل فرمائی تو میں نے اس کو ان آیات میں پالیا (آیت ) '' اقتربت الساعۃ '' (اور) '' وکل شیء فعلوہ فی الزبر '' اور (آیت ) '' وکل صغیروکبیر مستطر '' 13:۔ سفیان بن عینیہ نے جامعہ میں محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) '' ویوم یسحبون فی النار علی وجوھہم، ذوقوا مس سقر (48) انا کل شیء خلقنہ بقدر '' اہل قدر کو عار دلانے کے لئے نازل ہوئی۔ 14:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا (آیت) '' وکل شیء فعلوہ فی الزبر '' ( اور جو کچھ بھی یہ لوگ کرتے ہیں سب اعمال ناموں میں درج ہے) یعنی اعمال نامے۔ 15:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وکل صغیروکبیر مستطر '' (اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی ہے) یعنی کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ 16:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وکل صغیروکبیر مستطر '' سے مراد ہے ہر چھوٹی بڑی بات محفوظ ہے (اور) لکھی ہوئی ہیں۔ 17:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وکل صغیروکبیر مستطر '' یعنی ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔ 18:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مستطر '' سے مراد ہے کہ (ہرچیز) سطر میں لکھی ہوئی ہے۔ 19:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد اھلکنا اشیاعکم '' ( اور ہم تمہارے ہم مشرب لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں) یعنی ہم نے ان کو ہلاک کیا جو ان کے ہم شرب لوگ تھے۔ گزشتہ امتوں کے اہل کفر میں سے۔ (آیت ) ' فھل من مد کر '' کیا ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے۔ 20:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نہیں ہے مکھی کا بھنبھنانا مگر تقدیر سے پھر (یہ آیت) پڑھی '' اما امرنا الا واحدۃ کلمح بالبصر '' (اور ہمارا حکم یکبارگی ایسا ہوجائے گا جیسے آنکھوں کا جھپکنا) 21:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ تقدیر کا انکار کرنے والے اس امت کے مجرم ہیں اور ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) '' ان المجرمین فی ضلل وسعر '' (سے لیکر) '' انا کل شیء خلقنہ بقدر '' 22:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' انا کل شیء خلقنہ بقدر '' کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کو پیدا فرما کر اس کا خاص اندازہ مقرر فرمایا چادر عورت کے لئے قمیض مرد کے لئے پالان اونٹ کے لئے اور زین گھوڑے کے لئے مقرر فرمائی اور اسی طرح دیگر چیزیں بھی مقرر فرمائی۔ ہربات لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے : 23:۔ ابن مرودیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عاقب اور سید آئے اور دونوں نجران کے نصاری کے سردار تھے انہوں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے تقدیر کے بارے میں سخت گفتگو کی اور نبی کریم ﷺ خاموش رہے اور ان کو کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ وہ دونوں چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاری (آیت ) '' اکفارکم خیرمن اولئکم '' یعنی جنہوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کو جھٹلایا (آیت) '' ام لکم برآء ۃ فی الزبر '' یعنی پہلی کتاب میں (کیا ان کے لئے معافی لکھ دی گئی) سے لے کر (آیت ) '' ولقداھلکنا اشیاعکم '' اور ہم نے ان کے مشربوں کو ہلاک کردیا) جنہوں نے کفر کیا اور تم سے پہلے تقدیر کو جھٹلایا (آیت) '' وکل شیء فعلوہ فی الزبر '' (اور جو کچھ بھی لوگ کرتے) سب اعمالناموں میں درج ہے یعنی لوح محفوظ میں (آیت ) '' وکل صغیر وکبیر مستطر '' یعنی ہر چھوٹی بڑی بات سورت کے آخرتک) لکھ دی گئی۔ 24:۔ عبد الرزاق عبد بن حمید (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ میں یہ آیت پڑھا کرتا تھا اور میں نہیں جانتا تھا کہ ان سے کیا مراد ہیں یہاں تک کہ پھر اس پر یہ آیات نازل ہوئی کہ (آیت) '' ان المجرمین فی ضلل وسعر '' (بلاشبہ یہ مجرم بڑی غلطی اور بےعقلی میں ہے) سے لے کر (آیت ) '' کلمح بالبصر '' تک (یعنی ہمارا حکم یکبارگی ایسا ہی جائے گا جیسے آنکھوں کا جھپکنا) یعنی اچانک وہ تقدیر کے جھٹلانے والے ہوں گے) (کہ جن پر اچانک عذاب آجائے گا۔ 25:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت آخری آیت تک جھٹلانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی مجاہد (رح) نے کہا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ آپ کیا فرماتے ہیں ان لوگوں کے بارے میں جو تقدیر کو جھٹلاتے ہیں ؟ فرمایا میرے پاس ان کو جمع کردو میں نے کہا آپ ان کے ساتھ کیا کریں گے ؟ فرمایا میں ان کا گلا گھونٹ دوں گا یہاں تک کہ میں ان کو قتل کردوں گا۔ 26:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت سے دو گروہ ہیں کہ ان کے لئے اسلام میں کوئی حصہ نہیں مرجئتہ اور قدریۃ ان کے بارے میں اللہ کی کتاب میں یہ آیات نازل ہوئی (آیت) '' ان المجرمین فی ضلل وسعر '' (آیت کے آخر تک) 27:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ میں اللہ کی کتاب میں ایسی قوم کا ذکر پاتا ہوں جن کو منہ کے بل جہنم کی آگ میں گھسیٹا جائے گا ان سے کہا جائے گا (آیت ) '' ذوقوا مس سقر '' (آگ لگنے کا مزہ چکھو) کیونکہ وہ تقدیر کو جھٹلاتے تھے اور بلاشبہ میں ان کے بارے میں نہیں خیال کرتا اور نہ ہی ان کے بارے میں جانتا ہوں کیا وہ ہم سے پہلے لوگوں میں سے تھے یا ان میں سے ہیں جو ابھی باقی ہیں۔ 28:۔ ابن جریر (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) '' ذوقوا مس سقر (48) انا کل شیء خلقنہ بقدر '' اہل قدر کو عار دلانے کے لئے نازل ہوئی۔ تقدیر کا منکر مجوسی ہے : 29:۔ احمد نے حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر امت کے لئے مجوسی ہیں اور اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں پس (ان میں سے) جو بیمار ہو اس کی عیادت نہ کرو اگر وہ مرجائے تو جنازہ میں حاضر نہ ہو اور وہ دجال کے گروہ میں سے ہیں اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ ان کو اس کے ساتھ ملا دے۔ 30:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ میرے ان دونوں کانوں میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا اور اس سے کہا لکھ جو ضروری (باتیں) ہیں ، ، اس نے کہا وہ کونسی ضروری باتیں ہیں ؟ فرمایا تقدیر پھر قلم نے کہا تقدیر کیا ہے ؟ فرمایا تو یہ جان لے کہ جو چیز تجھ کو پہنچنے والی ہے وہ تجھ سے خطا نہیں ہوسکتی اور جو تجھ سے خطا ہوتی ہے وہ تجھ تک قطعا نہیں پہنچ سکتی اگر تو اس کے علاوہ (دوسرے کسی عقیدہ) پر مرگیا تو آگ میں داخل ہوگا۔ 31:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب قیامت کا دن ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ ایک آواز لگانے والے کو حکم فرمائے گا اور وہ آواز دے گا کہاں ہیں اللہ سے جھگڑا کرنے والے ؟ تو وہ لوگ کھڑے ہوں گے جن کے چہرے کالے اور ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی۔ ان کے ہونٹ لٹکے ہوں گے اور ان کا لعاب بہہ رہا ہوگا۔ جو ان کو دیکھے گا نفرت کرے گا اور ان کو اپنے سے دور ہٹا دے گا اور وہ کہیں گے اللہ کی قسم اے ہمارے رب ہم نے آپ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کی نہ سورج کی نہ چاند کی نہ پتھر کی اور نہ بت کی ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ شرک ان سے ایسے جہت سے داخل ہوا جسے وہ نہیں جانتے تھے پھر ابن عباس ؓ نے یہ آیت تلاوت کی۔ (آیت ) '' یوم یبعثہم اللہ جمیعا فیحلفون لہ کمایحلفون کم ویحسبون انہم علی شیء الا انہم ھم الکذبون (18) '' (جس دن اللہ ان سب کو قبروں سے اٹھائے گا تو اس کے سامنے بھی ایسی ہی قسمیں کھائیں گے جیسی کہ تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم راستے پر ہیں خبردار بیشک وہی جھوٹے ہیں (پھر فرمایا) اللہ کی قسم وہ قدریہ ہیں اس کو تین مرتبہ فرمایا۔ 32:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے ذکر کیا گیا کہ ایک قوم ہے جو تقدیر کے بارے میں گفتگو کرتی رہتی ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ لوگ اللہ کی کتاب کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں میں ضرور پکڑوں گا ان سے کسی کے بالوں کو اور یقینی طور پر اس کو پیشانی سے پکڑوں گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر کسی چیز کو پیدا کرنے سے پہلے سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا فرمایا اور اس سے حکم فرمایا کہ وہ لکھے جو کچھ ہونے والا ہے بلاشبہ لوگ اس حکم پر چل رہے ہیں، حالانکہ وہ اس سے فارغ ہوچکا ہے۔ 33:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابویحیٰ اعرج (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ کو قدریہ کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے فرمایا اگر میں ان میں سے بعض کو پالیتا تو میں اس کے ساتھ ایسا ایسا کرتا پھر فرمایا کہ زنا کرنا چوری کرنا اور شراب پینا بھی تقدیر میں سے ہے۔ 34:۔ ابن جریر (رح) نے ابوعبد الرحمن السلمی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) '' انا کل شیء خلقنہ بقدر '' نازل ہوئی تو ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ پھر عمل کی کیا ضرورت ہے کیا عمل ایسی چیز کے بارے میں ہے کہ ہم اس کو نئے سرے سے کرتے ہیں یا ایسی چیز کے مطابق کہ جس سے فراغت ہوچکی ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم عمل کرتے رہو پس ہر کام کو آسان بنادیا گیا عنقریب ہم اس کے لئے آسان کردیں گے آسان راستے کو اور عنقریب ہم اس کے لئے آسان کردیں گے مشکل راستے کو بھی۔
Ayahs 54:54–55

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ Open ayah 54:54 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار لوگ باغوں اور نہروں میں ہوں گے

فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ Open ayah 54:55 in the Quran reader

ایک عمدہ مقام میں بادشاہ کے پاس جو قدرت والا ہے

1:۔ ابن مردویہ (رح) بسند واہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہر سے مراد ہے کھلا میدان اور کشادہ جگہ اس سے جاری نہر مراد نہیں ہے۔ 2:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' فی جنت ونھر '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ نہر سے مراد ہے وسیع اور کھلا میدان پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا کیا تو نے لبید بن ربیعہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ ملکت بھا فانھرت فتقھا یری فائم من دونھا ماورای ھا : ترجمہ : میں اس کا مالک ہو اور میں نے اس کے میدان کو اس قدر وسیع کردیا کہ اب وہاں کھڑا ہونے والا دور سے دکھائی دیتا ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے شریک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی جنت ونھر '' (باغوں اور نہروں میں ہوں گے) سے مراد ہے باغات اور چشمے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوبکر بن عیاش (رح) سے روایت کیا کہ عاصم (رح) نے یہ آیت پڑھی (آیت ) '' فی جنت ونھر '' اور نہر میں نون کو زیر کے ساتھ پڑھا ابوبکر (رح) نے فرمایا کہ زھری قریش (رح) یوں پڑھتے تھے (آیت ) '' ونھر '' اور اس سے نہر کی جمع مراد لیتے تھے۔ 5:۔ الحکیم الترمذی (رح) نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت ) '' فی جنت ونھر (54) فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر '' (بلاشبہ متقین لوگ باغوں اور نہروں میں ہوں گے ایک عمدہ مقام میں قدرت والے بادشاہ کے قریب ہیں) سے مراد ہے کہ جنت والے جبار (یعنی اللہ تعالیٰ ) کے پاس ہر دن دو مرتبہ داخل ہوں گے وہ ان پر قرآن پڑھے گا اور ان میں سے ہر آدمی مجلس میں اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بیٹھے گا یعنی موتیوں یا یاقوت زبرجد سونے اور چاندی کے منبروں پر اپنے اپنے اعمال کے مطابق بیٹھے ہوں گے اور کبھی ان کی آنکھیں اس طرح ٹھنڈی ہوں گی جس طرح اس سے ٹھنڈی ہوں گی اور انہوں نے اس سے زیادہ عظمت والی اور اس سے زیادہ اچھی کوئی چیز نہیں سنی ہوگی پھر اپنی قیام گاہوں کی طرف لوٹ جائیں گے اس حال میں کہ انکی آنکھیں ٹھنڈی اور تروتازہ ہوں گی اور وہ دوسرے دن تک اسی طرح رہیں گے۔ 6:۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ان المتقین فی جنت ونھر '' سے مراد ہے نور اور روشنی (یعنی پرہیزگار لوگ نور اور روشنی میں ہوں گے ) ۔ 7:۔ الحکیم الترمذی نے ثور بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ فرشتے قیامت کے دن ایمان والوں کے پاس آئیں گے اور وہ کہیں گے اے اللہ کے دوستوں ! چلو وہ کہیں گے کس طرف وہ کہیں گے جنت کی طرف وہ لوگ کہیں گے تم تو ہم کو ہماری منزل اور مقصد کے علاوہ دوسری طرف لے جارہے ہو تو ان سے پوچھا جائے گا تمہارا مقصد کیا ہے ؟ تو کہیں گے حبیب کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ اور یہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت ) '' ان المتقین فی جنت ونھر (54) فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر '' 8:۔ ابن ابی شبیہ نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور یہ دیکھنے لگا کہ میں نے صبح کرلی جبکہ میرے اوپر ایک لمبی رات تھی اور مسجد میں میرے سوا کوئی نہیں تھا میں کھڑا ہوا اور میں نے اپنے پیچھے ایک حرکت سنی تو میں ڈر گیا تو اس نے کہا اے اپنے دل کو خوف سے بھرنے والے تو نہ ڈر اور تو نہ گھبرا اور تو کہہ اے اللہ بیشک تو قدرت والا بادشاہ ہے جو کام بھی تو جانتا ہے وہ ہوجاتا ہے تو سوال کر جو تو چاہے سعید نے فرمایا کہ میں نے کسی چیز کا اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کیا مگر اس نے مجھے عطا فرمائی۔ (یعنی میری ہر درخواست کو قبول فرمایا ) ۔ 9:۔ ابونعیم نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان ایک دن رسول اللہ ﷺ مدینہ کی مسجد میں تشریف فرما تھے آپ کے بعض اصحاب نے جنت کا ذکر کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابودجانہ (یہ حضرت جابر کا لقب ہے) کیا جو نہیں جانتا کہ جس نے ہم سے محبت کی اور ہماری محبت کی وجہ سے آزمائشوں میں مبتلا کیا گیا تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ساتھ ٹھہرائیں گے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) '' فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر '' الحمد للہ سورة القمر مکمل ہوئی :