51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 51:41–42

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد کے قصہ میں عبرت ہے جبکہ ہم ان پر ہوا بھیج دی جو ہر خیر سے خالی تھی

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

وہ جس چیز پر بھی گزرتی تھی اسے ایسی بنادیتی تھی جیسے کوئی چیز گل کر ریزہ ریزہ ہوجائے

1:۔ الفریابی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الریح العقیم '' (نامبارک آندھی) یعنی سخت ہوا آندھی جو کسی قسم کا نفع نہیں دیتی۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وفی عاد اذارسلنا علیہم الریح العقیم '' (اور عاد کے قصہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی) یعنی (آیت ) '' الریح العقیم '' سے وہ ہوا مراد ہے جو درخت کا گابھن نہیں کرتی اور بادل کو نہیں چلاتی اور فرمایا (آیت ) '' الا جعلتہ کالرمیم '' (مگر اس کو ریزہ ریزہ خاک کی طرف کرکے چھوڑ دیتی ہے) یعنی ہوا نے اسے ہلاک ہونے والی چیز کی طرح کردیا۔ بے برکت ہواؤں کے ذریعہ عذاب : 3:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' الریح العقیم '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ ہوا ہے جس میں نہ برکت ہو نہ کوئی اور نفع ہو اور نہ اس سے بارش نازل ہو اور نہ اس سے درختوں کی پیوندکاری ہو۔ 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک (خاص) قسم کی ہوا دوسری زمین میں قید کی ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو ہوا کے نگران کو حکم فرمایا کہ ان پر ایسی ہوا کو بھیج دے تاکہ وہ عاد کو ہلاک کردے اس نے کہا اے میرے رب کہ میں ان پر بیل کے نتھنے کی مقدار (یعنی سوارخ ہے) ہوا کو بھیجوں گا تو جبار مطلق یعنی اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا نہیں کیونکہ اس سے زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب ختم ہوجائے گا لیکن ان پر انگوٹھی کی مقدار (سوراخ) سے ہوا کو بھیج دے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) '' ما تذر من شیء اتت علیہ الاجعلتہ کالرمیم '' (وہ جس چیز پر سے گزرتی ہے اس کو ریزہ ریزہ کی طرح کرکے چھوڑتی ہے ) 5:۔ الفریابی وابن المنذر (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الریح العقیم '' سے مراد ہے ٹیڑھی چلنے والی ہوا۔ 6:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے وابو الشیخ نے العظمہ میں سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الریح العقیم '' سے مراد ہے جنوبی ہوا۔ 7:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الریح العقیم '' سے مراد ہے وہ ہوا جو کسی چیز کو پیوند نہ لگائے۔ اور (آیت ) '' کالرمیم '' سے مراد ہے ہلاک ہونے والی چیز۔ 8:۔ عبدالرزاق (رح) ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الریح العقیم '' سے مراد ہے کہ وہ ہوا جو کوئی چیز نہ لگائے (آیت ) '' الا جعلتہ کالرمیم '' (مگر اس کو ریزہ ریزہ کردیتی ہے) یعنی اس کو کھائے ہوئے بوسیدہ درخت کی طرح کردیتی ہے۔ 9:۔ احمد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ (رح) نے ربیعہ کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ طیبہ میں آیا اور آپ کے پاس عاد کے ایلچی کا ذکر کیا اور اس نے یہ بھی کہا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں عاد کے ایلچی کی طرح ہوجاؤں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عاد کا ایلچی کون تھا میں نے عرض کیا میں خبر رکھنے والے کے پاس حاضر ہوں۔ قوم عاد پر جب قحط پڑا تو انہوں نے ایک سردار کو بھیجا وہ بکر بن معاویہ کے پاس آیا اس نے اس کو شراب پلائی اور دو ٹڈیاں اس کے پاس بھنبھناتی رہی پھر وہ مہرہ کے پہاڑوں کے ارادہ سے نکلا اور کہا اے اللہ کہ میں تیرے پاس کسی مریض کے لئے نہیں آیا کہ میں اس کا علاج کروں اور نہ میں کسی قیدی کے لئے آیا ہوں کہ میں اس کا فدیہ دوں تو اپنے بندے کو پلاتو اسے پلاسکتا ہے۔ اور اس کے ساتھ بکر بن معاویہ کو بھی پلا کہ یہ اس کے لئے اس شراب کا شکر یہ ادا کرنا چاہتا تھا تو جو اس نے اس کو پلائی تھی اتنے میں اس کے لئے ہلاکت اور مدد کے لئے جو قوم عاد میں سے کسی کو نہ چھوڑے گا اور آپ نے بیان فرمایا کہ ان پر ہوا نہیں بھیجی گئی مگر انگوٹھی کے حلقہ کے بقدر پھر یہ آیت پڑھی (آیت ) '' وفی عاد اذارسلنا علیہم الریح العقیم (41) ما تذر من شیء اتت علیہ الا جعلتہ کالرمیم '' (اور عاد کے قصہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی وہ جس چیز پر سے گزری تھی اس کو ریزہ ریزہ خاک کی طرح کرکے چھوڑتی تھی )
Ayah 51:43

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود کے قصہ میں عبرت ہے جبکہ ان سے کہا گیا کہ تھوڑے سے وقت تک نفع حاصل کرلو

10:۔ البیہقی نے اپنی سنن میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' وفی ثمود اذ قلیل لھم تمتعوا حتی حین '' (اور ثمود کے قصہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ان سے کہا گیا اور تھوڑے دن چین کرلو یعنی تین دن۔
Ayah 51:44

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

سو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی لہذا نہیں عذاب نے پکڑ لیا اور وہ دیکھ رہے تھے

11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فعتوا '' (انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل سے سرتابی کی) یعنی سرکشی کی (آیت ) '' فاخذتھم الصعقۃ وھم ینظرون '' (سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ اس کو دیکھ رہے تھے) یعنی اچانک (عذاب نے آپکڑا ) 12:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فعتوا '' یعنی انہوں نے سرکشی کی (آیت ) '' فاخذتھم الصعقۃ وھم ینظرون '' یعنی اچانک (عذاب نے پکڑلیا ) ۔
Ayahs 51:45–46

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

سو وہ کھڑے نہ ہوسکے اور نہ بدلہ لے سکے

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور ان سے پہلے نوح کی قوم کا ایسا ہی حال ہوا بیشک وہ نافرمان لوگ تھے

13:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فما استطاعوا من قیام '' (سو وہ کھڑے نہ ہوسکے) یعنی انہوں نے کھڑے ہونے کی طاقت نہ رکھی۔ 14:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فما استطاعوا من قیام '' کہ وہ اللہ کے عذاب کی وجہ سے اٹھ نہ سکے جو ان پر نازل ہوا ، (آیت ) '' من قیام وما کانوا منتصرین '' (اور نہ ہم سے بدلہ لے سکے) یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انکار کرنے کی طاقت نہ رکھی۔
Ayah 51:47

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور ہم آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا فرمایا اور بیشک ہم وسیع قدرت والے ہیں

15:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسمآء بنینھا باید '' (اور ہم نے آسمانوں کو اپنی قدرت سے بنایا) یعنی قوت سے۔ 16:۔ آدم بن ابی ایاس والبیہقی (رح) نے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسمآء بنینھا باید '' یعنی ہم نے آسمانوں کو قوت کے ساتھ بنایا۔
Ayahs 51:48–53

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور زمین کو ہم فرش بنایا سو ہم اچھے بچھانے والے ہیں

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

ہر چیز سے ہم نے دو قسمیں بنائی ہیں تاکہ تم سمجھو

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

سو تم اللہ کی طرف دوڑو بیشک میں تمہیں اس کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ دوسرا معبود قرار نہ دو بیشک میں تمہیں اس کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح اس سے پہلے ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جسے انہوں نے دیوانہ یا جادوگر نہ بتایا ہو

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا وہ لوگ آپس میں اس بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ وہ سب سرکش لوگ ہیں

17:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' وانا لموسعون '' (اور ہم وسیع قدرت والے ہیں) کہ ہم اور آسمان اس طرح پیدا کردیے (آیت ) '' والارض فرشنھا فنعم المھدون '' (اور ہم نے زمین کو فرش کے طور پر بنایا سو ہم کسے اچھے بچھانے والے ہیں) یعنی بچھانے والے۔ 18:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ ر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ومن کل شیء خلقنازوجین '' (اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم بنایا) یعنی کفر اور ایمان بدبختی اور نیک بختی ہدایت اور گمراہی، رات اور دن، آسمان اور زمین، جن اور انسان، خشکی اور تری، سورج اور چاند صبح اور شام اور اسی طرح سب چیزیں ہیں۔ 19:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت ) '' اتواصوبہ '' (کیا اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے چلے آئیں ہیں) کیا ان میں سے پہلے لوگوں نے بعد میں آنے والوں کو جھٹلانے کی وصیت کی تھی۔
Ayahs 51:54–55

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

پس تو پھر جا ان سے پس نہیں ہے تو الزام لگایا گیا

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

سو آپ ان کی طرف سے اعراض کیجئے کیونکہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے

1:۔ ابوداؤد فی ناسخہ وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتول عنہم فما انت بملوم '' (سو آپ ان کی طرف التفات نہ کیجئے آپ پر کسی طرح کا الزام نہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ ان سے پیٹھ پھیر لیجئے تاکہ ان کو عذاب دیں اور محمد ﷺ کو معذور قرار دیا پھر فرمایا (آیت ) '' وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین '' (اور سمجھاتے رہئے کیونکہ سمجھانا ایمان والوں کو بھی نفع دے گا) پس اس حکم نے پہلے کو منسوخ کردیا۔ 2:۔ اسحاق بن راھویہ واحمدبن منیع والھشیم بن کلیب فی الاسانید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) فی شعب الایمان والضیاء فی المختارہ مجاہد (رح) کے طریق سے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) '' فتول عنہم فما انت بملوم '' نازل ہوئی تو ہم میں سے کوئی باقی نہ رہا مگر یہ کہ اس نے ہلاکت کا یقین کرلیا جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو ہم سے التفات نہ کرنے کا حکم دیا پھر یہ آیات (آیت ) '' وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین '' نازل ہوئی تو ہمارے دل خوش ہوگئے۔ 3:۔ ابن راھویہ وابن مردویہ (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا (آیت ) '' فتول عنہم فما انت بملوم '' کے بارے میں روایت کیا کہ ہم پر کوئی آیت ایسی نازل نہیں ہوئی جو ہم پر اس سے زیادہ سخت ہو نہ اس سے زیادہ عظمت والی ہو ہم نے کہا یہ تو یقینا ناراضگی اور نفرت کو ظاہر کرتی ہے یہاں تک کہ یہ (آیت ) '' وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین '' فرمایا اس سے مراد ہے کہ آپ ان کو قرآن کے ذریعہ نصیحت کرتے رہیں۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) '' فتول عنہم فما انت بملوم '' کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یا بات بتائی گئی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب پر بھاری گزری انہوں نے جان لیا کہ وحی منقطع ہوجائے گی اور عذاب آجائے گا (پھر) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) '' وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین '' 5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتول عنہم فما انت بملوم '' سے مراد ہے کہ ان سے اعراض کیجئے پھر آپ سے کہا گیا (آیت ) '' وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین '' پھر آپ نے ان کو وعظ و نصیحت فرمائی۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) نے سلمان حبیب محاربی (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص نے میرے ذکر کے لئے اپنے دل میں واقع ہونے کی جگہ کو پایا تو وہ جان لیے کہ وہ مؤمن ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین ''۔
Ayahs 51:56–60

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور میں نے جن اور انس کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ میری عبادت کریں

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور یہ نہیں چاہتا کہ کھلائیں

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ وہ ہے جو خوب رزق دینے والا ہے قوت والا ہے نہایت ہی قوت والا ہے

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

سو بیشک ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ان کے لئے عذاب کا بڑا حصہ ہے جیسا کہ ان کے ہم مشربوں کا تھا سو وہ مجھ سے جلدی نہ کریں

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

سو کافروں کے لئے بڑی خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے

7:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' (اور میں نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ) ۔ ان کو چاہئے کہ وہ عبودیت کا اقر ار کریں خوشی سے یا ناخوشی سے۔ 8:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ میں نے جنات اور انسانوں کو پیدا کیا اپنی اطاعت معصیت اور بدبختی اور نیک بختی پر۔ 9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو شقاوت اور سعادت میں سے کسی پر پیدا نہیں کیا گیا۔ 10:۔ ابن ابی شیبہ (رح) ابوالجوزا (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ میں ان کو رزق دیتا ہوں میں ان کو کھلاتا ہوں اور میں نے ان کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا۔ عبادت کے لئے اپنے کو فارغ کرنے فضلیت : 11:۔ احمد والترمذی وحسنہ وابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابن آدم سے فرمایا تو میری عبادت کے لئے فارغ ہوجا میں تیرا سینہ غنی سے بھردوں گا اور تیرے فقر کو بند کردوں گا اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے دل کو شغل سے بھردوں گا (یعنی دنیا کے کاموں میں مشغول کردوں گا۔ (اور تیرے فقر کو بند نہیں کروں گا۔ 12:۔ الطبرانی فی مسند الشامیین والحاکم فی التاریخ والبیہقی فی شعب الایمان والدیلمی ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرا اور جن وانس کا فیصلہ بھی عجیب ہے میں پیدا کرتا ہوں اور وہ میرے سوا غیر کی عبادت کرتے ہیں، میں رزق دیتا ہوں اور وہ میرے سوا غیر کا شکر ادا کرتے ہیں۔ 13:۔ احمد وداؤد والترمذی (وصححہ) والنسائی والدیلمی وابن الانباری فی المصاحف وابن حبان والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو یہ آیت اس طرح پڑھائی (آیت ) '' ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین '' (بلاشبہ میں رزق دینے والا مضبوط قوت والا ہوں ) 14:۔ ابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' المتین '' سے مراد ہے (آیت ) '' الشدید '' یعنی سخت۔ 15:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذنوبا '' سے مراد ہے '' دلوا '' یعنی حصہ یہاں مراد ہے عذاب کا ایک حصہ۔ 16:۔ الفریابی وابن جریر (رح) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذنوبا مثل ذوب اصحبہم '' (حصہ ہے جسے کہ ان کے ساتھیوں کا حصہ تھا) یعنی ان کے لئے بھی ایک حصہ ہے عذاب میں سے جسے ان کے ساتھیوں کے لئے عذاب کا ایک حصہ تھا۔ 17:۔ الخرائطی نے مساوی الخلاق میں طلحہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذنوبا مثل ذوب اصحبہم '' یعنی ان کے لئے عذاب ہے ان کے ساتھیوں کے عذاب کی طرح (واللہ تعالیٰ اعلم) الحمد للہ سورة الذاریات مکمل ہوئی۔