44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 44:37–39

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا بلاشبہ وہ مجرم تھے

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس طور پر پیدا نہیں کیا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ہم نے ان کو نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ اور لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے

1:۔ الطبرانی وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تبع (بادشاہ) کو برا نہ کہو کیونکہ وہ مسلمان ہوگیا تھا۔ 2:۔ احمد والطبرانی وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے سہل بن سعدی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو کیونکہ وہ مسلمان ہوچکا تھا۔ 3:۔ ابن عساکر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تم ہر کز تبع کے معاملہ میں شبہ میں نہ پڑو کیونکہ وہ مسلمان تھا۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تم تبع کے لئے خیر کے سوا کچھ نہ کہو کیونکہ اس نے بیت اللہ کا حج کیا اور اس کتاب پر ایمان لے آیا تھا جو عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) لائے تھے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ تبع صالح آدمی کی صفت ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی قوم کی مذمت کی اور اس کی ضرورت نہیں کی عائشہ ؓ فرماتی تھیں تبع کو برا نہ کہو کیونکہ وہ نیک آدمی تھا۔ 6:۔ الحاکم (وصححہ) عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ تبع نیک آدمی تھا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی قوم کی مذمت فرمائی اور اس کی مذمت نہیں فرمائی۔ 7:۔ ابن عساکر (رح) نے عطاء بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ تبع کو برا نہ کہو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو برا کہنے سے منع فرمایا۔ 8:۔ ابن المنذر وابن عساکر (رح) نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسعد کو برا کہنے سے منع فرمایا کیونکہ وہی تبع ہے پوچھا گیا اسعد کس دین پر تھا ؟ فرمایا دین ابراہیم پر تھا ابراھیم ہر دن نماز پڑھتے تھے اور یہ ان کی شریعت نہ تھی۔ 9:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسعد حمیری کو برا نہ کہو اور فرمایا کہ وہ پہلا آدمی تھا جس نے کعبہ پر غلاف چڑھایا۔ 10:۔ ابن المنذر (رح) وابن عساکر (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ تبع نے بیت اللہ پر غلاف چڑھایا۔ 11:۔ ابن عساکر (رح) نے سعید بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ تبع کو جب گھوڑے پیش کئے جاتے تو وہ صف باند کر کھڑے ہوجاتے دمشق سے صنعاء یمن تک۔ تبع کا ذکر قرآن میں ہے یا نہیں ؟ : 12:۔ ابن المنذر (رح) وابن عساکر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے کعب سے تبع کے بارے میں پوچھا کیونکہ میں ان میں سنتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں تبع کی قوم کا ذکر فرماتے ہیں کعب نے کہا کہ تبع یمن کا ایک عظیم بادشاہ تھا وہ لشکر لے کر چلا یہاں تک سمر قند تک جا پہنچا۔ وہاں سے لوٹا تو شام کا راستہ لیا راستے سے علماء کو گرفتار کیا اور ان کو یمن لے آیا یہاں تک کہ جب وہ اپنے ملک سے قریب ہوا تو یہ بات لوگوں میں عام ہوگئی کہ وہ کعبہ کو گرانے والا ہے۔ علماء نے اس کو کہا وہ کیا بات ہے جو تیرے دل میں پیدا ہورہی ہے کیونکہ یہ اللہ کا گھر ہے اور تو ہرگز اس پر غالب نہیں آسکتا۔ تبع نے کہا یہ گھر اللہ کا ہے اور میں اس کی تعظیم کرنے کا زیادہ حقدار ہوں اور اسی جگہ پر مسلمان ہوگیا اور احرام باندھا اور احرام کی حالت میں اس میں داخل ہوگیا اس کی عبادت پوری ہوئی پھر یمن کی طرف لوٹ گیا یہاں تک کہ اپنی قوم کے پاس آیا اس کی قوم کے سردار رہا ان کے پاس آئے اور کہنے لگے اے تبع ! تو ہمارا سردار ہے اور ہمارے سردار کا بیٹا ہے تو ہمارے پاس سے گیا تھا اور تو اور دین پر تھا اور تو لوٹا ہے تو اور دین پر ہے ہم سے دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلے یا تو ہمارے ملک کو اور ہم کو چھوڑ دے اور تو عبادت کر جس کی چاہے یا تو اپنے نئے دین کو چھوڑ دے اور ان دونوں کے درمیان آسمان سے آسمان سے آگ نازل ہوتی تھی وہ علماء جو اس کے پاس تھے انہوں نے کہا کہ ہمارے اور ان کے درمیان آگ کو فیصلہ کرنیو الا بنادیجئے تو ساری قوم نے اس وقت اکٹھے وعدہ کیا کہ ان کے درمیان آگ کو (فیصلہ کرنے والا) بنادیجئے۔ علماء اور ان کی کتابیں لائیں گئیں اور بت اور ان کے بچاری بھی لائے گئے اور سب لوگ آگ کے طرف آگے بڑھے اور کچھ لوگ ان کے پیچھے تلواروں کے ساتھ کھڑے ہوگئے آگ کڑک کے گرنے کی طرف اتری اور اس نے اپنی شعاع پھینکی بتوں کے پجاری پیچھے ہٹے آگ آگے آئی اس نے بتوں کو اور ان کے اعمال کو جلا ڈالا اور دوسرے لوگ سلامت رہے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے اور کچھ نے اطاعت اختیار کرلی یہ لوگ تبع کے زمانے میں اسی طرح رہے۔ یہاں تک کہ جب تبع پر موت آئی تو اس نے اپنے بھائی کو نائب بنایا۔ اور خود فوت ہوگیا لوگوں نے اس کے بھائی کو قتل کردیا اور ایک دم سب کافر بن گئے۔ 13:۔ ابن سعد وابن عساکر (رح) نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب تبع مدینہ منورہ آیا اور اس کے مضافات میں اترے اس نے یہود علماء کو بلایا اور کہا میں اس شہر کو تباہ و برباد کرنے والا ہوں یہاں تک کہ کوئی یہودی نہیں بچے گا اور عرب کے دین کی طرف معاملہ لوٹ جائے گا شابور یہودی نے اس سے کہا اور وہ اس دن کے بڑے علماء میں سے تھا اے بادشاہ بنی اسماعیل کا ایک نبی اس (شہر) کی طرف ہجرت کرے گا اس کی پیدائش مکہ میں ہوگی اس کا نام احمد ہوگا اور یہ اس کی ہجرت کا گھر ہوگا تیری یہ منزل جس میں تو اترا ہے۔ اس جگہ اس کا مکان ہوگا اور بہت قتال ہوگا۔ اس کے اصحاب میں اور ان کے دشمنوں میں تبع نے کہا اس دن اس سے کوئی لڑے گا حالانکہ ہو نبی ہوں گے جیسے تم خیال کرتے ہو ؟ یہودی نے کہا اس کی قوم یہاں آئے گی اور یہاں آکر ان سے لڑے گی تبع نے کہا اس کی قبر کہاں ہوگی ؟ یہودی نے کہا اس شہر میں اس نے کہا جب قتال کیا جائے گا تو کس کو شکست ہوگی ؟ یہودی نے کہا ایک مرتبہ اس کے حق میں ہوگی (یعنی فتح ہوگی) اور ایک مرتبہ اس نبی کے خلاف ہوگی اور یہ جگہ جس پر آپ ہے اسی جگہ لڑائی ہوگی اور آپ کے اصحاب آپ کی قیادت میں بڑی لڑائی لڑیں گے اور ایسی بڑی لڑائی کبھی بھی نہ لڑی ہوگی۔ پھر آخر کار فتح ان کی ہوگی اور آپ غالب آجائے گے پس کوئی اس کام میں ان سے جھگڑا نہیں کرے گا تبع نے کہا اس نبی صفت کیا ہے ؟ یہودی نے کہا وہ نہ بہت چھوٹے قد کا ہوگا اور نہ بہت لمبا ہوگا (یعنی درمیانی قد ہوگا) اس کی آنکھوں میں سرخی ہوگی وہ اونٹ پر سواری کرے گا اور پگڑی پہنے گا اس کی تلوار اس کے کندھے پر ہوگی اور وہ اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس سے کوئی لڑائی کرے گا یہاں تک کہ اس کا دین غالب آجائے گا تبع نے کہا اس شہر کو تباہ و برباد کرنے کے لئے کوئی وصیت نہیں رہی اور میں نہیں چاہتا کہ اس کی بربادی میرے ہاتھ پر ہو (ان باتوں کے بعد) تبع لوٹ گیا اور یمن کی طرف چلا گیا۔ 14:۔ ابن عساکر نے عباد بن زیاد مری سے اور انہوں نے اس شخص سے روایت کیا کہ جس نے پایا اس نے کہا تبع آیا اور شہروں کو فتح کرتا جاتا اور عرب کے لوگوں پر عامل مقرر کرتا جاتا یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ اترا ان دنوں اس کے رہنے والے یہودی تھے اس نے ان پر غلبہ پایا اور یہود کے علماء کو جمع کیا۔ انہوں نے اس کو بتایا کہ عنقریب مکہ سے ایک نبی ظاہر ہوگا (پھر) اس کا ٹھکانا اس شہر میں ہوگا اس کا نام احمد ہوگا اور اس کو یہ بھی بتایا کہ وہ اس کو نہیں پائے گا تبع نے اوس اور خزرج سے کہا اس شہر میں قیام کرو کیونکہ وہ (نبی) جب تمہارے اندر ظاہر ہو تو اس کی مدد کرنا اور اس کی تصدیق کرنا اگر وہ تمہاری موجودگی میں ظاہر نہ ہو تو اپنی اولاد کو اس کی وصیت کردینا اور اس نے اپنے شعر میں کہا : حدثت ان رسول الملیک یخرج حقا بارض الحرم وولو مدد ھری الی دھرہ لکنت وزیرالہ وابن عم ترجمہ : مجھے بتایا گیا ہے کہ اللہ کا رسول حرم کی سرزمین میں حق کے ساتھ ظاہر ہوگا اگر میری زندگی ان کے زمانے تک لمبی ہوگئی تو میں ان کا اور ان کا چچازاد بھائی یا وزیر ہوں گا۔ 15:۔ ابونعیم (رح) نے الدلائل میں عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ تبع نہیں مرا یہاں تک کہ اس نے نبی کریم ﷺ کی تصدیق کی جبکہ یہودی یثرب (یعنی مدینہ منورہ) میں رہتے تھے اور انہوں نے اس کو خبر دی (کہ آخری نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے ہیں) 16:۔ ابن عساکر (رح) نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ تبع نے اپنی نیند میں دیکھا کہ وہ بیت اللہ کو غلاف پہنا رہا ہے تو تبع نے کعبہ شریف کو موٹے کپڑے کا غلاف پہنایا پھر اسے خواب آیا کہ اس نے سے بڑا غلاف چڑھایا ہے تو اس نے بیت اللہ کو معافر کی بنی ہوئی چادروں کا غلاف پہنایا پھر اسے خواب آیا کہ وہ اس سے اچھا کپڑا پہنا رہا ہے۔ تو اس نے یمن کی بنی ہوئی دھاری دار چادریں پہنا دی اور مجھ سے یہ بات ذکر کی گئی کہ تبع پہلا آدمی تھا جس نے بیت اللہ پر غلاف چڑھایا قبیلہ جرہم سے تعلق رکھنے والے اس نے خادموں کو اس بارے میں وصیت کی اس کو پاک رکھنے کا حکم دیا اور اس کا دروازہ اور چابی بنادی۔
Ayahs 44:40–42

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

بلاشبہ فیصلہ کا دن ان سب کا وقت مقرر ہے

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ Open ayah 44:41 in the Quran reader

جس دن کوئی تعلق رکھنے والا کسی تعلق رکھنے والے کو کچھ بھی نفع نہ دے سکے گا ورنہ ان کی مدد کی جائے گی

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 44:42 in the Quran reader

مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے بیشک وہ عزیز ہے رحیم ہے

17:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین “ (بلاشبہ فیصلے کا دن ان سب کا مقرر ہے) یعنی جسمانی لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا ان کے اعمال کے مطابق اور اس میں پورا پورا (بدلہ دیا جائے گا) پہلے اور پچھلے لوگوں کو (آیت ) ” یوم لایغنی مولی عن مولی شیئا “ (جس دن کوئی تعلق والا کسی تعلق والے کے ذرا بھی کام نہیں آئے گا) یعنی تعلقات ٹوٹ جائیں گے اس دن اور عہد و پیمان جاتے رہیں گے اور لوگ اپنے اعمال کی طرف لوٹ جائیں گے اور جس نے اس دن خیر کو پالیا تو اس کے ذریعہ وہ سعادت مند ہوگا اور جس نے اس دن شرکو پایا تو اسکے ذریعہ وہ بدبخت ہوگا۔ 18:۔ ابن المبارک نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہا (آیت) ” یوم لایغنی مولی عن مولی شیئا “ یعنی کوئی دوست اپنے دوست کے کام نہیں آئے گا۔
Ayahs 44:43–46

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ Open ayah 44:43 in the Quran reader

بلاشبہ زقوم کا درخت

طَعَامُ الْاَثِیْمِ٤ۖۛۚ Open ayah 44:44 in the Quran reader

گنہگار کا کھانا ہوگا

كَالْمُهْلِ١ۛۚ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ Open ayah 44:45 in the Quran reader

جو تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا وہ پیٹوں میں ایسا کھولے گا

كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ Open ayah 44:46 in the Quran reader

جیسے گرم پانی کھولتا ہے

1:۔ سعید بن منصور (رح) ابومالک ؓ سے روایت کیا کہ ابوجہل کھجور اور مکھن لاتا تھا اور کہتا تھا تم زقوم کھاؤ اس قوم کے ساتھ جس کا تم کو محمد ﷺ وعدہ دیتے ہیں تو یہ (آیت ) ’ نازل ہوئی ” ان شجرت الزقوم (43) طعام الاثیم “ (زقوم کا درخت سے مراد ہے ابوجہل۔ 2:۔ ابن ابی حاتم اور الخطیب نے اپنی تاریخ میں سعید بن جبیر ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت ) ” الاثیم “ سے مراد ہے ابوجہل۔ 3:۔ ابوعبید (رح) نے اپنے فضائل میں وابن الانباری وابن المنذر (رح) نے عون بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ نے ایک آدمی کو پڑھایا (آیت ) ” ان شجرت الزقوم (43) طعام الاثیم “ تو اس آدمی نے کہا (آیت ) ” طعام الیتیم “ اور آپ نے بار بار یہ لفظ دہرایا لیکن اس کی زبان صحیح ادا نہ کرسکی ابن مسعود ؓ نے اس فرمایا کیا تو یہ کہہ سکتا ہے (آیت ) ” طعام الفاجر “ اس نے کہا ہاں تو ایسا کرلے۔ 4:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر والحاکم (وصححہ) نے ھمام بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ ابو درداء ؓ ایک آدمی کو پڑھا رہے تھے (آیت ) ” ان شجرت الزقوم (43) طعام الاثیم “ تو اس آدمی نے کہنا شروع کیا ( طعام الیتیم جب ابودرداء نے دیکھا کہ وہ نہیں سمجھتا تو فرمایا (آیت ) ” ان شجرت الزقوم طعام الفاجر “ یعنی زقوم کا درخت فاجر کا کھانا ہے۔
Ayahs 44:47–48

خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ Open ayah 44:47 in the Quran reader

اس کو پکڑو پھر اسے گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ تک لے جاؤ

ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ Open ayah 44:48 in the Quran reader

پھر اس کے سر پر گرم پانی کے عذاب سے ڈال دو

5:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” خذوہ فاعتلوہ “ (اس کو پکڑو اور اس کو گھسیٹو) یعنی اس کو دفع کرو۔
Ayahs 44:49–50

ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ Open ayah 44:49 in the Quran reader

تو چکھ لے بیشک تو معزز مکرم ہے

اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 44:50 in the Quran reader

یہ وہی عذاب ہے جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے

6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذق انک انت العزیز الکریم “ (چکھ لو بڑا معزز مکرم ہے) یعنی تو نہ عزیز اور نہ کریم ہے۔ 7:۔ الدموی فی ماغازیہ میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ابوجہل کو ملے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ سے کہو (آیت) ” اولی لک فاولی ثم اولی لک فاولی “ (القیامۃ آیت 35) (تیرے لئے ہلاکت در ہلاکت ہو۔ ابوجہل نے اپنا ہاتھ رسول اللہ ﷺ سے الگ کیا اور کہا تو اور تیرا ساتھی یعنی خدا تعالیٰ میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تو جانتا ہے کہ میں اس طحاء کے تمام باشندوں میں سب سے زیادہ محفوظ ہوں اور میں عزیز وکریم ہوں اللہ تعالیٰ نے اس کو بدر کے دن قتل کردیا اور اللہ نے اس کو ذلیل کیا اور اس نے جو بات کی تھی اس پر اسے عار دلائی اور فرمایا (آیت ) ” ذق انک انت العزیز الکریم “۔ 8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ابوجہل نے کہا کیا محمد ﷺ مجھ کو دھمکی دیتے ہیں اور میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں ان لوگوں سے جو دو پہاڑوں کے درمیان چلتے ہیں تو یہ (آیت) نازل ہوئی ” ذق انک انت العزیز الکریم “۔ ابوجہل کے لئے جہنم میں خوراک زقوم ہوگا : 9:۔ ابن المنذر (رح) نے روایت کیا کہ مجھے یہ خبر دی گئی کہ ابوجہل نے کہا اے قریش کی جماعت مجھے بتاؤ میرا کیا نام ہے تو اس کے لئے تین نام ذکر کئے گئے عمور ضلال اور ابوالحکم ابوجہل نے کہا تم نے میرا نام ٹھیک نہیں بتایا کیا میں تم کو اپنا نام نہ بتاؤ ؟ سب نے کہا کیوں نہیں (ضرور بتائیے) اس نے کہا میرا نام ہے العزیز الکریم (یعنی معزز اور مکرم) پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” ان شجرت الزقوم (43) طعام الاثیم “۔ 10:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ” خذوہ فاعتلوہ الی سوآء الجحیم “ (اس کو پکڑو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان تک لے جاؤ) نازل ہوئی تو ابوجہل نے کہا ان پہاڑوں کے درمیان کوئی شخص مجھ سے بڑھ کر عزت والا اور معزز نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ذق انک انت العزیز الکریم “۔ 11:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان شجرت الزقوم (43) طعام الاثیم “ سے مراد ہے ابوجہل۔ 12:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ آپ ایک ایرانی آدمی کو قرآن مجید پڑھا رہے تھے جب اسے یہ (آیت ) ” ان شجرت الزقوم (43) طعام الاثیم “ پڑھاتے تو وہ پڑھتا (آیت ) ” طعام الیتیم “ یعنی یتیم کا کھانا (پھر) نبی کریم ﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا اس سے کہو ” طعام الظالم “ یعنی ظالم کا کھانا اس نے ایسا ہی کہا تو اس پر اس کی زبان چل پڑی۔ 13:۔ عبدبن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) عمرو بن میمون (رح) دونوں نے یوں پڑھا (آیت ) ” کالمھل تغلی فی البطون “ تاء کے ساتھ۔ 14:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” خذوہ فاعتلوہ “ یعنی تم اس کو توڑ دو جیسے لکڑی توڑی جاتی ہے۔ 15:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” خذوہ فاعتلوہ الی سوآء الجحیم “ یعنی پکڑو اس کو اور اس کو دوزخ کے درمیان میں دھکیل دو ۔ 16:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سوآء الجحیم “ سے مراد ہے جہنم کے درمیان۔ 17:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذق انک انت العزیز الکریم “۔ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اس دن ذلیل ہوگا لیکن اس کے ساتھ مذاق کیا جائے گا جیسے تیری عزت اور اکرام تھا دنیا میں اللہ کے کرم اور اس کی عزت کے بغیر۔
Ayahs 44:51–59

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ Open ayah 44:51 in the Quran reader

بلاشبہ متقی لوگ امن والی جگہ میں ہوں گے

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ Open ayah 44:52 in the Quran reader

باغوں اور چشموں میں ہوں گے

یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ Open ayah 44:53 in the Quran reader

وہ سندس اور استبرق کا لباس پہنے ہوں گے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے

كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ Open ayah 44:54 in the Quran reader

یہ بات اسی طرح سے ہے اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیں گے

یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 44:55 in the Quran reader

وہ لوگ اس میں اطمینان سے ہر قسم کے میوے منگائیں گے

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى١ۚ وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 44:56 in the Quran reader

پہلی موت جو انہیں دنیا میں آچکی تھی اس کے سوا موت کو نہ چکھیں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔

فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 44:57 in the Quran reader

جو آپ کے رب کی طرف سے فضل ہوگا یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 44:58 in the Quran reader

سو بات یہی ہے کہ ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان پر آسان کردیا تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں

فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠ Open ayah 44:59 in the Quran reader

سو آپ انتظار کیجئے، بلاشبہ وہ لوگ بھی انتظار کررہے ہیں

18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ (بلاشبہ متقی لوگ امن کی جگہ ہوں گے یعنی موت اور عذاب سے امن میں ہوں گے۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) ” فی مقام امین “ کے بارے میں روایت کیا کہ (جنت) میں موت سے امن میں ہوں گے اور بوڑھا ہونے سے بھی امن میں ہوں گے۔ اور نہ وہ بھوکے ہوں گے اور نہ وہ ننگے ہوں گے۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ یعنی وہ امن میں ہوں گے شیطان سے اور بیماریوں سے اور غموں سے (آیت ) ” زوجنا ھم بحور عین “ (اور ہم ان کا گوری گوری فراخ آنکھوں والیوں سے بیاہ کردیں گے) یعنی سفید موٹی آنکھوں والی۔ اور ابن مسعود ؓ کی قرأت میں بعیس عین ہے (آیت ) ” یدعون فیھا بکل فاکھۃ امنین “ (وہاں وہ اطمینان سے ہر قسم کے میوے منگواتے ہوں گے) یعنی وہ موت سے بیماریوں سے اور شیطان سے امن میں ہوں گے۔ 21:۔ الفریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وزوجنہم بحور عین “ یعنی ہم نے حوروں سے ان کا نکاح کیا اور حوریں وہ جسے دیکھ کر آنکھ حیران ہوجائے تو ان کی پنڈلیوں کا گودا اس کے کپڑوں کے باہر سے دیکھا جائے گا انکو دیکھنے والا اپنے چہرے کو ان کے دل میں سے ایسے دیکھے گا جیسے آئینہ ہوتا ہے اور یہ اس کی جلد کی رقت اور رنگ کی صفائی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 22:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق (رح) نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” بحور عین “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا حوراء سے مراد سفید اور لطف اندوز کرنے والی پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : وحور کا مثال ومناصف ومای وریحان وراح یعفق : ترجمہ : اور حوریں گڑیوں کی طرح اور خدام اور پانی اور ریحان اور شراب جیسے صاف کیا گیا ہو۔ 23:۔ البیہقی (رح) نے البعث میں عطاء الرحمن سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بحور عین “ سے مراد ہے سیاہ آنکھ اور بڑی آنکھ والی۔ 24:۔ ھناد بن السری وعبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بحور عین “ میں حور سے سفید اور عین سے مراد ہے بڑی آنکھوں والی۔ 25:۔ ابن ابی حاتم والطبرانی (رح) نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حور عین کو زعفران سے پیدا کیا گیا۔ جنت میں حورعین : 26:۔ ابن مرودیہ والخطیب نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حور عین کو زعفران سے پیدا کیا گیا۔ 27:۔ ابن جریر (رح) نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حور عین کو زعفران سے پیدا کیا گیا۔ 28:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ حورعین کو زعفران سے پیدا کیا گیا۔ 29:۔ ابن المبارک نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حورعین کو مٹی سے پیدا نہیں فرمایا بلکہ ان کو مشک کافور اور زعفران سے پیدا فرمایا۔ 30:۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ الجنۃ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر حور کھارے سمندر میں تھوک دے تو وہ سمندر ان کے تھوک کی مٹھاس سے میٹھا ہوجائے گا۔ 31:۔ ابن ابی الدنیا نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت کی پلکیں گدھ کے پروں سے لمبی ہوں گی۔ 32:۔ ابن ابی الدنیا نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر حور اپنی ہتھیلی کو آسمان اور زمین کے درمیان نکال دے تو مخلوق فتنے میں پڑجائے اس کے حسن کی وجہ سے اور اگر وہ اپنے ڈوپٹے کو نکال دے تو اس کے حسن کے سامنے سورج چراغ کی بتی کی طرح ہوجائے جس کی کوئی روشنی نہیں ہوتی اگر اپنا چہرہ نکال دے تو اس کا حسن آسمان و زمین کو روشن کردے۔ 33:۔ ابن مردویہ والدیلمی (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حور عین کو فرشتوں کی تسبیح سے پیدا کیا گیا۔ 34:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عورت کی خوشبو حورعین میں سے پانچ سو سال کے فاصلہ سے پائی جائے گی۔ 35:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وزوجنہم بحور عین “ کے بارے میں روایت کیا کہ یمن کی لغت ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یمن والے کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں کی فلانی کے ساتھ شادی کردی ” وزوجنا فلانا بفلانۃ “ 36:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت ) ” لایذوقون فیھا طعم “ (کہ وہ لوگ اس میں موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے ) ۔ 37:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن موت کو چتکبرے مینڈھے کی صورت میں لایاجائے گا پھر اس کو جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کردیا جائے گا اس کو یہ لوگ (یعنی جنت والے) پہچان لیں گے اور وہ لوگ (یعنی دوزخ والے) بھی پہچان لیں گے دوزخ والے کہیں گے اے اللہ ! اس کو ہم پر مسلط کردے (تاکہ ہم مرجائیں اور عذاب سے بچ جائیں) اور جنت والے کہیں گے۔ اے اللہ آپ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ایک ہی موت چکھیں گے (جو دنیا میں ہم نے موت کا ذائقہ چکھ لیا) پھر (اس موت کو) ان کے درمیان ذبح کردیا جائے گا تو دوزخ والے مایوس ہوجائیں گے موت سے اور جنت والے موت سے امن میں ہوجائیں گے۔ 38:۔ البزار والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ (رح) والبیہقی نے البعث میں صحیح سند کے ساتھ جابر ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ کیا جنت والے نیند کریں گے ؟ فرمایا نہیں نیند موت کا بھائی ہے اور جنت والے نہ مریں گے اور نہ سوئیں گے۔ 39:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانما یسرنہ بلسانک “ (کہ ہم نے اس کو آپ کی زبان پر آسان کردیا) یعنی قرآن کو (آیت ) ” فارتقب انہم مرتقبون “ یعنی آپ بھی انتظار کریں اور وہ لوگ بھی انتظار کررہے ہیں۔ الحمد للہ سورة الدخان مکمل ہوئی :