43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 43:81–85

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ Open ayah 43:81 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اگر رحمن کے لئے اولاد ہو تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوں

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 43:82 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا رب جو عرش کا بھی رب ہے وہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ Open ayah 43:83 in the Quran reader

سو آپ ان کو چھوڑئیے باتوں میں لگیں کھیلا کریں یہاں تک کہ اس دن سے ملاقات کرلیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 43:84 in the Quran reader

اور اللہ وہ ہے جو آسمان میں معبود ہے اور زمین میں معبود ہے اور وہ حکمت والا ہے اور علم والا ہے

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

اور بابرکت ہے وہ ذات جس کے لئے ملک ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اس کے پاس قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف لوٹ کرجاؤ گے

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ان کان للرحمن ولدا “ (آپ کہہ دیجئے کہ اگر رحمن کی کوئی اولاد ہوتی) یعنی رحمن کی اولاد نہیں (آیت ) ” فانا اول العبدین “ (تو سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا میں ہوتا) یعنی گواہی دینے والا۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے : 12:۔ طستی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ کے اس قول (آیت ) ” فانا اول العبدین “ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا میں سب سے برأت کا اظہار کرتا ہوں اس بات سے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہو۔ پھر پوچھا جائے گا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے تبعایہ کہتے ہوئے نہیں سنا : وقد علمت فھربانی ربھم طراولم نعبد ترجمہ : فہر نے جان لیا کہ یقیناً میں ان کا رب ہوں لیکن انہوں نے عبادت نہیں کی۔ 13:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن و قتادہ ؓ (آیت ) ” قل ان کان للرحمن ولک “ کے بارے میں روایت کیا کہ رحمن کی اولاد یہودی نہیں (آیت ) ” فانا اول العبدین “ یعنی محمد ﷺ فرماتے ہیں کہ میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوں اس امت میں سے۔ 14:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” قل ان کان للرحمن ولد “ یعنی تمہارے گمان میں (اگر رحمن کی اولاد ہے (آیت ) ” فانا اول العبدین “ (لیکن میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے ایک اللہ کی عبادت کی۔ اور تم جو کچھ کہتے ہو اس کی تکذیب کرتا ہے۔ 15:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ان کان للرحمن ولد، فانا اول العبدین “ یعنی ہم ایمان لانے والے ہیں اللہ پر اور تم جو چاہو کہو۔ 16:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ کلمہ عرب کے کلام میں سے ہے (آیت ) ” قل ان کان للرحمن ولد “ یعنی وہ ایسا نہیں ہے۔ 17:۔ ابن جریر (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ یہ مقولہ ہے عرب کے قول میں سے ” ان کان ھذا الا مرقط “ (یعنی اگر یہ کام کبھی ہوتا) یعنی کبھی نہیں ہوا۔ 18:۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے ” کل شیء بعد المسجد فی مریم ولد “ (یعنی سورة مریم میں سجدہ کے بعد اور جو سورة زخرف اور سورة نوح اور ساری سورتوں میں ہے ان میں بھی ولد ہے۔ 19:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عما یصفون “ یعنی ان باتوں میں سے جو وہ جھوٹ بولتے ہیں (آیت ) ” وھو الذی فی السمآء الہ وفی الارض الہ “ (اور وہی ذات ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے۔ یعنی وہ ذات ہے جس کی آسمان میں عبادت کی جاتی ہے زمین میں بھی عبادت کی جاتی ہے۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشفاعۃ “ (اور خدا کے سوا جن معبودوں کو یہ پکارتے ہیں وہ ان کی شفاعت کا اختیار نہیں رکھیں گے) یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) عزیر (علیہ السلام) اور فرشتے (آیت ) ’ ’ الا من شھد بالحق “ (ہاں جن لوگوں نے کلمہ حق یعنی ایمان کا اقرار کیا تھا) یعنی حق سے مراد ہے کلمہ اخلاص (آیت ) ” وھم یعلمون “ اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سچ جانتے ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر اور فرشتے اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کریں گے (آیت ) ’ ’ الا من شھد بالحق “ (مگر جس نے حق کی گواہی دی) یعنی وہ حق کو جانتا ہے۔
Ayahs 43:86–88

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں اور شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے ہاں جنہوں نے حق کی گواہی دی اور وہ جانتے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ؟ یہی کہیں گے کہ انہیں اللہ نے پیدا کیا۔ سو یہ لوگ کدھر الٹے جارہے ہیں ؟

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

اور اسے رسول کی اس بات کی خبر ہے کہ اے رب ! بلاشبہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے

21:۔ عبد بن حمید (رح) وعبد الرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ الا من شھد بالحق وھم یعلمون “ یعنی فرشتے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) (حق کی گواہی دیتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی ذات حق ہے) بلاشبہ ان کے لئے اللہ کے نزدیک شفاعت ہے یعنی سفارش کرسکیں گے۔ ) 22:۔ البیہقی (رح) نے الشعب میں مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ الا من شھد بالحق “ سے مراد ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ اس کا رب ہے۔ 23:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عوف (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ ایسے ۃ آدمی کے بارے میں جو اپنی شہادت کتاب میں پاتا ہے، اور وہ خط اور مہر کو پہچانتا ہے اور دراھم کو یاد نہیں رکھتا تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی (آیت ) ’ ’ الا من شھد بالحق وھم یعلون “ (مگر وہ گواہی دے حق کی اور وہ جانتے بھی ہیں کہ اللہ کی ذات سچی ہے اور اس کا حکم بھی سچا ہے۔ 24:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ”(آیت ) ” وقیلہ یرب ان ھولآء قوم لایؤمنون “ (اور اس کو رسول اللہ ﷺ کے اس کہنے کی بھی خبر ہے کہ اے میرے رب یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے) فرمایا یہ تمہارے نبی کا قول ہے کہ وہ اپنی قوم کی اپنے رب سے شکایت کررہے ہیں اور ابن مسعود ؓ نے اس کو یوں پڑھا (آیت ) ” قال الرسول یا رب “ 25:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا وقیلہ یرب “ لام اور ھا کے زیر کے ساتھ۔
Ayah 43:89

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

سو آپ ان سے اعراض کیجئے اور کہہ دیجئے کہ میرا سلام ہے سو وہ عنقریب جان لیں گے

26:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے (آیت ) ” فاصفح عنہم “ (آپ ان سے منہ پھیر لیں) کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ درگزر کرنا “ لکھ لو۔ 27:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے شعیب بن حجاب (رح) سے روایت کیا کہ میں علی بن عبداللہ البارقی کے ساتھ تھا ہم پر ایک یہودی یا نصرانی گزرا تو انہوں نے اس کو سلام کیا شعیب (رح) نے کہا کہ میں نے عرض کیا یہ آدمی تو یہودی یا نصرانی ہے (آپ نے اس کو سلام کیوں کیا) تو انہوں نے مجھ پر سورة زخرف کی آخری آیات پڑھیں (آیت ) ” وقیلہ یرب ان ھولآء قوم لایؤمنون (88) فاصفح عنہم وقل سلم فسوف یعلمون “ (اور اس کو رسول اللہ ﷺ کے اس کہنے کی بھی خبر ہے کہ اے میرے رب یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے تو آپ ان سے منہ پھیر لیں اور کہہ دیجئے تم کو سلام، عنقریب یہ جان لیں گے) گویا اس آیت میں سلام کرنے کو فرمایا۔ 28:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عون بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن عبدالعزیز سے اہل ذمہ کو سلام کی ابتداء کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اسے سلام کا جواب دو اور ان کو پہلے سلام نہ کرو، میں نے عرض کیا آپ کس طرح یہ فرماتے ہیں ؟ فرمایا تو اس میں کوئی حرج نہیں دیکھتا کہ ہم ان کو سلام کریں۔ میں نے پوچھا یہ کیوں ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔ (آیت ) ” فاصفح عنہم وقل سلم “ (کہ آپ ان سے منہ پھیر لیں اور ان کو سلام کہیں عنقریب وہ جان لیں گے ) ۔