Ayahs 43:41–431:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وحاکم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون “ (پس اگر ہم آپ کو دنیا سے اٹھالیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں) کے بارے میں انس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے چلے گئے اور انتقام باقی رہا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس کی امت میں ایسی چیز نہیں دکھائی جس کو آپ ناپسند کرتے ہوں یہاں تک کہ اس دنیا سے اٹھالئے گئے اور کبھی کوئی ایسا نہیں ہوا مگر اس نے اپنی امت میں عذاب کو دیکھا ہو مگر تمہارے نبی نے، آپ نے اپنی امت میں جو کچھ دیکھا وہ آپ کے اس دارفانی سے پردہ فرمانے کے بعد ہوگا (اس لئے) آپ کو ہنستا ہوا اور خوش ہوتا ہوا نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے اٹھالئے گئے۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں حمید کے طریق سے انس بن مالک ؓ سے (آیت ) ’ فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کو اس چیز سے عزت عطا فرمائی کہ آپ کو اپنی امت میں وہ چیزیں دیکھائیں جن کو آپ ناپسند کرتے ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اٹھالیا اور عذاب باقی رہ گیا۔
3:۔ ابن مردویہ (رح) نے عدالرحمن بن مسعود عبدی (رح) سے روایت کیا کہ علی ؓ نے اس آیت کی تلاوت کی (آیت ) ’ فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون “ پھر فرمایا نبی اکرم ﷺ اس دنیا سے چلے گئے اور ان کے دشمنوں میں عذاب باقی رہ گیا۔
4:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) نے حسن بصری (رح) سے (آیت ) ’ فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون “ کے بارے میں روایت کیا کہ یقینی طور پر یہ عذاب سخت تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو وہ سختی دکھادی جو آپ کے بعد آپ کی امت میں واقع ہونے والی تھی۔
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے محمد بن مروان کے طریق سے اور الکلبی سے اور انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (آیت ) ’ فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت علی بن ابی طالب کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ میرے بعد انتقام لیں گے عہد توڑنے والوں اور ظلم کرنے والوں سے۔
6:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اونرینک الذی وعدنہم “ (یا جس عذاب کا ہم نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے (آپ کی زندگی میں) ہم آپ کو دکھائیں گے بدر کے دن کے بارے میں ہے کہ (اللہ پاک نے دکھا دیا جو کافروں کو سزا ملی)
7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انک علی صراط مستقیم “ (بلاشبہ آپ سیدھے راستے پر ہیں) (دین) اسلام پر۔
Ayah 43:44قرآن کریم کا باعث شرف ہونا :
1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ لذکرلک ولقومک “ (اور بلاشبہ یہ قرآن آپ کیلئے اور آپ کی قوم یعنی قریش کے لئے عظیم الشان شرف ہے یعنی یہ قرآن عزت (کا باعث) ہے آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ لذکرلک “ یعنی یہ قرآن (آپ کے لئے) اور آپ کی قوم کے لئے یعنی جو آپ کی تابعداری کرے گا آپ کی امت میں سے (سب کیلئے عزت کا باعث ہے ) ۔
3:۔ الشافعی وعبد الرزاق و سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت ) ” وانہ لذکرلک ولقومک “ کے بارے میں روایت کیا کہ پوچھا گیا یہ آدمی (یعنی یہ نبی) کس قوم میں سے ہیں ؟ کہا گیا عرب میں سے پھر پوچھا گیا عرب کے کس قبیلہ سے ؟ کہا گیا قریش میں سے پھر پوچھا قریش کے کس قبیلہ سے ؟ کہا گیا بنوھاشم میں سے۔
4:۔ ابن عدی (رح) وابن مردویہ (رح) نے علی (رح) اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ اپنے آپ کو قبائل پر پیش کیا کرتے تھے اور انکو غلبے کا وعدہ دیتے تھے، جب وہ پوچھتے آپ کے بعد بادشاہ کون ہوگا تو آپ خاموش ہوجاتے اور ان کو کوئی جواب نہ دیتے کیونکہ اس بارے میں کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ یہ (آیت ) ” وانہ لذکرلک ولقومک “ نازل ہوئی پھر جب آپ سے سوال کیا جاتا تو آپ فرماتے قریش والوں نے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ اس کو انصار نے اسی شرط پر قبول کرلیا۔
5:۔ طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے عدی بن حاتم ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا آپ نے ارشاد فرمایا خبردار میرے دل میں جو اپنی قوم کی محبت ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتین ہیں تو اس نے ان میں مجھے شرف عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا (آیت ) ” وانہ لذکرلک ولقومک وسوف تسئلون “ اللہ نے اپنی کتاب میں اس آیت میں میری قوم لئے ذکر اور شرف کو رکھا اس کے بعد فرمایا (آیت ) ” انذر عشیرتک الاقربین (214) واخفض جناح لمن اتبعک من المؤمنین (215) (الشعرء آیت 215) (اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے اور ایمان والوں میں جو آپ کی اتباع کرے اس کے لئے نرمی کا برتاؤ کیجئے) بس اللہ کا شکر ہے کہ اس نے صدیق کو میرے قرم میں سے بنایا اور شہید کو میری قوم میں سے بنایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو پشت اور پیٹ میں پلٹا ہے اور عرب کے بہترین لوگ قریش ہیں قریش ہی وہ بابرکت درخت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا (آیت ) ” مثلا کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ “ (ابراہیم آیت 24) (اور مثال پاکیزہ کلمہ کی جیسے درخت ہو پاکیزہ) یعنی اس کے ساتھ قریش کی مثال بیان فرمائی (آیت ) ” أصلھاثابت “ (اس کی جڑ مضبوط ہے) یعنی اس کی جڑ کرم ہے (آیت ) ” وفرعہا فی السماء “ (اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں) یعنی وہ عزت جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام کے ذریعہ عطا فرمائی جو ان کو ہدایت دی اور ان کو ہدایت والا بنایا پھر ان کے بارے میں اللہ کی کتاب میں سے ایک سورة مکہ میں نازل کی یعنی (آیت ) ” لایلف قریش “ اس کے آخرتک عدی بن حاتم نے فرمایا میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے کبھی قریش کا ذکر خیر آیا ہو اور آپ خوش نہ ہوئے ہوں یہاں تک کہ تمام لوگوں کے لئے آپ کی خوشی آپ کے چہرے سے ظاہر ہوتی تھی اور آپ نے اکثر اس آیت کی تلاوت فرمائی (آیت ) ” وانہ لذکرلک ولقومک وسوف تسئلون “ (اور یہ قرآن آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے عظیم الشان شرف ہے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔
Ayahs 43:45–471:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے (آیت ) ” وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا “ (اور آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا پوچھ لیجئے) کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے شب معراج میں رسولوں سے ملاقات فرمائی۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) ” وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کو شب معراج میں انبیاء دکھائے گئے آپ نے آدم (علیہ السلام) کو دیکھا اور ان کو سلام کیا اور آپ نے دوزخ کے داروغہ مالک کو دیکھا اور دجال کذاب کو بھی دیکھا۔
3:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون “ (اور آپ سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا پوچھ لیجئے کہ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا اور معبود مقرر کر رکھے تھے کہ ان کی عبادت کی جاتی ہو) یعنی آپ تو رات اور انجیل والوں سے پوچھ لیجئے کیا رسول توحید کے علاوہ کوئی اور چیز لاتے ہیں اور بعض قرأۃ میں اس طرح ہے (آیت ) ” وسئل من ارسلنا الیھم رسلنا قبلک “
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے الکلبی کے طریق سے اور ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا “ سے مراد ہے کہ آپ ان لوگوں سے پوچھ لیجئے کہ جن کی طرف ہم نے آپ سے پہلے اپنے رسولوں کو بھیجا تھا۔
5:۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا “ اور ابن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت ) ” فسئل الذین یقرء ون الکتب من قبلک “ یعنی اہل کتاب کے ایمان والوں سے پوچھ لیجئے )
6:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے (آیت ) ” وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کے لئے (سب رسولوں کو) جمع کردیا گیا بیت المقدس میں شب معراج کے معوقعہ پر۔
Ayahs 43:48–561:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نریہم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا “ (اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی) یعنی طوفان اور اس کے ساتھ اور نشانیاں۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنھم بالعذاب “ (اور ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ پکڑ لیا) اور وہ قحط سالی کا (عذاب تھا)
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنہم بالعذاب لعلہم یرجعون “ (اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تھا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں یعنی وہ توبہ کریں یا نصیحت حاصل کریں۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ادع لنا ربک بما عہد عندک “ (اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعدہ کر رکھا ہے) یعنی اگر ہم ایمان لے آئیں تو ہم سے ضرور عذاب کو دور فرمائے گا۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اذا ھم ینکثون “ (تب ہی انہوں نے اپنا عہد توڑ دیا) یعنی انہوں نے دھوکہ دیا۔
6:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) ” ونادی فرعون فی قومہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے خود اعلان نہ کیا تھا بلکہ اس نے اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔
حکومت مدار نجات نہیں :
7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نیا سود بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ سے کہا کیا آپ تعجب نہیں کرتیں ایسے آدمی پر جس کو آزاد کیا گیا اور وہ محمد ﷺ کے اصحاب سے خلافت کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے عائشہ ؓ نے فرمایا تو اس پر کیوں تعجب کرتا ہے۔ یہ اللہ کی بادشاہی ہے اللہ تعالیٰ نیک اور بدکار دونوں کا دیتا ہے۔ ؛ اور یقینی بات ہے کہ فرعون مصر والوں پر چار سو سال تک حاکم بنارہا۔
8:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الیس لی ملک مصر وھذہ الانھر تجری من تحتی “ (کیا مصر کی سلطنت اور یہ نہریں جو میرے محلات کے نیچے بہہ رہی ہیں میری نہیں ہیں) فرمایا کہ ان کے باغات اور نہریں تھیں (آیت ) ” ام انا خیر من ھذا الذی ھو مھین “ (بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں جو حقیرذلیل ہے) یعنی کمزور ہے (آیت ) ” ولا یکاد یبین “ اور اپنا مدعی واضح طور پر بیان بھی نہیں کرسکتا یعنی زبان میں لکنت ہے، صاف بول بھی نہیں سکتا (آیت ) ” فلولا القی علیہ اسورۃ من ذھب “ (تو سونے کے کنگن اس پر کیوں نہیں ڈالے گئے) یعنی سونے کے زیورات (آیت ) ” او جآء معہ المآئکۃ مقترنین “ (یا انہوں نے ہم کو غضبناک کیا (آیت ) ’ ’ فجعلنھم سلفا “ یعنی ہم نے ان کو آگ کی طرف پہلے جانے والا بنا دیا (آیت ) ” ومثلا “ (اور مثال بنادیا) یعنی نصیحت بنادی (آیت ) ” للاخرین “ (آئندہ آنے والوں کیلئے)
9:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت ) ” ولا یکاد یبین “ (اور واضح طور پر بیان بھی نہیں کرسکتا) یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں لکنت تھی (صاف نہیں بول سکتے تھے)
10:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” او جآء معہ المآئکۃ مقترنین “ (یا فرشتے اس کے پاس لگاتار جماعتیں بناکر آجاتے یعنی اس کے ساتھ فرشتے چلتے۔
11:۔ ابن عبدالحکیم نے فتوح مصر میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ فرعون نے چالیس سال سے زیادہ اور بیس سال سے کم عمر کا کوئی آدمی ساتھ نہ لیا اسی کو فرمایا (آیت) ” فاستخف قومہ فاطاعوہ “ (غرض اس نے اپنی قوم کو مغلوب کرلیا اور وہ اس کی اطاعت کرنے لگے) یعنی اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طلب میں اپنی قوم کو ہلکا جانا۔
12:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ فلما اسفونا “ سے مراد ہے کہ جب ہم کو سخت غصہ دلایا۔
13:۔ ابن جریر (رح) وابن حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ فلما اسفونا “ یعنی جب ہم کو غصہ دلایا (اور) ” سلفا “ یعنی مختلف دلی خواہش۔
14:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ فلما اسفونا “ یعنی جب انہوں نے ہم کو غصہ دلایا (آیت ) ” فجعلنہم سلفا “ سے مراد ہے فرعون کی قوم کے کافر ” سلفا “ محمد ﷺ کی امت کے کافروں کے لئے (آیت ) ” ومثلا للاخرین “ یعنی ان کے بعد والوں کے لئے عبرت۔
15:۔ احمد والطبرانی والبیہقی (رح) نے شعب میں وابن ابی حاتم (رح) نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تو دیکھے کہ اللہ تعالیٰ بندے کودے رہا ہے جو وہ چاہتا ہے جبکہ بندہ اپنی نافرمانیوں پر قائم رہتا ہے تو یہ اس کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت ہے پھر (آیت ) ’ فلما اسفونا انتقمنا منہم فاغرقنہم اجمعین “ (جب انہوں نے ہم کو سخت غصبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو غرق کردیا )
16:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے طارق بن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ میں عبداللہ ؓ کے پاس تھا کہ ان کے پاس اچانک آنے والی موت کا ذکر کیا گیا تو فرمایا کہ یہ تخفیف ہے مؤمن کے حق میں) اور حسرت ہے کافر کے حق میں۔
17:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ (آیت ) ” فجعلنہم سلفا “ کو سین اور لام کے نصب کے ساتھ پڑھتے ہیں۔
Ayahs 43:57–651:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جس کی عبادت کی جائے اس میں کوئی خیر نہیں تو انہوں نے کہا کیا آپ یہ گمان نہیں کرتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ نے نبی اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک بندے تھے اور نصاری نے ان کی عبادت کی اگر آپ سچے ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان کے بتوں کی طرح ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون “ (اور جب ابن مریم کے متعلق عجیب مضمون بیان کیا گیا تو یکایک آپ کی قوم والے اس سے (مارے خوشی کے چلانے لگے) (آیت ) ” یصدون “ سے مراد ہے کہ چیختے چلاتے ہیں (آیت ) ” وانہ لعلم للساعۃ “ (اور وہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے علم کا ذریعہ ہے) یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے دن سے پہلے دنیا میں تشریف لائیں گے۔
2:۔ عبدالرزاق وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا تو قریش نے شور مچا دیا اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ نے جو عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے (اور) محمد ﷺ نے نہیں ارادہ کیا مگر اس بات کا کہ ہم ان کے ساتھ ایسا ہی کریں جیسے نصاری نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تو اللہ تعاولیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ماضربوہ لک الاجدلا “ (ان لوگوں نے جو مضمون بیان کیا ہے وہ محض جھگڑے کی وجہ سے ہے)
3:۔ عبدالرزاق (رح) وفریابی (رح) و سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” یصدون “ صاد کے کسرہ کے ساتھ یعنی وہ شور مچاتے تھے۔
4:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے ابو عبد الرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” یصدون “ سے مراد ہے کہ وہ اعراض کرتے ہیں۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن معید بن ابی عبید بن عمیر للثی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ سے ابن عباس ؓ نے فرمایا کیا ہے تیرے چچا کو کہ وہ اس آیت کو یوں پڑھا کرتے ہیں (آیت ) ” اذا قومک منہ یصدون ‘ اور یہ اس طرح نہیں ہے بلکہ وہ اس طرح ہے (آیت ) ” اذا قومک منہ یصدون ‘ یعنی جب وہ ہجو کرتے ہیں اور شور مچاتے ہیں۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اذا قومک منہ یصدون ‘ یعنی وہ شور مچاتے ہیں۔
7:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اذا قومک منہ یصدون ‘ یعنی وہ شور مچاتے ہیں۔
8:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد حسن (رح) اور قتادہ ؓ تینوں حضرات نے اسی طرح روایت کیا ہے۔
9:۔ ابن مردویہ (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” یصدون “ کسرہ کے ساتھ۔
10:۔ سعید بن منصور (رح) احمد وعبد بن حمید و ترمذی (رح) (وصححہ) وابن ماجہ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والطبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) والبیہقی نے شعب الایمان میں ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ ہدایت جب پر لوگ قائم تھے اس سے وہ گمراہ نہیں ہوئے مگر وہ جھگڑے میں پڑگئے پھر (آیت) پڑھی ” ما ضربوہ لک الا جدلا “
11:۔ ابن ابی حاتم نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ کوئی امت اپنی نبی کے بعد گمراہ نہیں ہوتی مگر ان کو جھگڑوں میں ڈال دیا گیا پھر (آیت) پڑھی ” ما ضربوہ لک الا جدلا “۔
12:۔ سعید بن منصور (رح) نے ابو ادریس خولانی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی قوم نے فتنہ کو نہیں بھڑکایا مگر ان کو جھگڑے میں ڈال دیا گیا اور کوئی فتنہ میں خوشی میں نہیں آتی مگر وہ اس کے لئے پناہ گاہ بن گئے۔
13:۔ ابن عدی والخرائطی نے مساوی الاخلاق میں ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جھوٹ نفاق کے درمیان میں سے ایک دروازہ ہے اور نفاق کی نشانی یہ ہے کہ آدمی جھگڑالوبن جائے۔
14:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کا قرآن میں ذکر کیا گیا تو مکہ کے مشرکین نے کہا کہ (کیا محمد ﷺ ارادہ کرتے ہیں کہ ہم ان سے ایسی محبت کریں جیسے نصاری عیسیٰ (علیہ السلام) سے محبت کرتے ہیں تو (اس پر) فرمایا (آیت ) ” ما ضربوہ لک الا جدلا “ (ان لوگوں نے جو یہ مضمون بیان کیا ہے وہ محض جھگڑے کی وجہ سے ہے) یعنی انہوں نے یہ بات نہیں کہی مگر جھگڑنے کے لئے (آیت ) ” ان ھوالا عبد انعمنا علیہ “ ( عیسیٰ (علیہ السلام) تو محض ایک بندے ہیں جن پر ہم نے انعام فرمایا (آیت ) ” جعلنہ مثلا “ اور ہم نے ان کو نشانی بنادیا (آیت ) ” لبنی اسرآئیل “ (بنی اسرائیل کے لئے) (آیت ) ” ولونشآء لجعلنا منکم مآئکۃ فی الارض یخلفون “ (اور اگر ہم چاہتے تو ہم تم سے فرشتوں کو پیدا کردیتے کہ وہ زمین پر یکے بعددیگرے رہا کرتے) یعنی وہ فرشتے ایک دوسرے کی نیابت کرتے آدم کے بیٹے کی جگہ۔
تمام معبود ان باطلہ جہنم میں ہوں گے :
15:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ان سے کہا آپ بتائیے کہ اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے وہاں کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا آگ میں انہوں نے سورج اور چاند (بھی) فرمایا ہاں سورج اور چاند (بھی آگ میں ہوں گے) پھر انہوں نے کہا سورج اور چاند (بھی) فرمایا ہاں سورج اور چاند (بھی آگ میں ہوں گے) پھر انہوں کہا عیسیٰ بن مریم (کہاں ہوں گے ؟ ) تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” ان ھو الا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلا لبنی اسر آ ء یل “ ( عیسیٰ تو محض ایک بندے ہیں جن پر ہم نے فضل کیا تھا اور بنی اسرائیل کے لئے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنایا تھا ) ۔
16:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لجعلنا منکم ملئکۃ فی الارض یخلفون “ (البتہ ہم تم سے فرشتوں کو پیدا کردیتے ہیں کردیتے ہیں وہ زمین میں یکے بعد دیگرے رہا کرتے) یعنی وہ فرشتے تمہارے جگہ میں زمین کو آباد کرتے۔
17:۔ وفریابی (رح) و سعید بن منصورومسدد وعبد بن حمید وابن ابی حاتم والطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ لعلم للساعۃ “ (اور وہ عیسیٰ البتہ قیامت کی نشانی ہے) یعنی قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری ہوگی۔
18:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے (آیت ) ” وانہ لعلم للساعۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کا تشریف لانا اور وہ زمین میں چالیس سال رہیں گے ان چالیس سالوں میں چار سال ایسے ہوں گے جن میں وہ حج اور عمرہ ادا کریں گے۔
19:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ لعلم للساعۃ “ سے مراد ہے قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کا تشریف لانا قیامت کی نشانی ہے۔
20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ لعلم للساعۃ “ سے مراد ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کا نازل ہونا۔
21:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ لعلم للساعۃ “ سے مراد ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن نشانی ہے قیامت کے لئے۔
22:۔ عبد بن حمید (رح) نے شیبان (رح) سے روایت کیا کہ حسن (رح) فرماتے تھے (آیت ) ” وانہ لعلم للساعۃ “ سے مراد ہے قرآن۔
23:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” وانہ لعلم للساعۃ “ علم عین کے کسرہ کے ساتھ اور اس سے مراد ہے قرآن۔
24:۔ عبد بن حمید (رح) نے حماد بن سلمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابی ؓ کے صحف میں یوں پڑھا (آیت ) ” وانہ لذکر للساعۃ “۔
25:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان تعلم للساعۃ “ سے مراد ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کا نازل ہونا۔
26:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولابین لکم بعض الذی تختلفون فیہ “ (تاکہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو تم سے کھول کر بیان کردوں) جو تم تورات میں تبدیلی میں تبدیلی کے متعلق اختلاف کرتے ہو۔
Ayah 43:661:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت (اس حال میں) قائم ہوگی کہ دو آدمی اونٹنی کا دودھ دوہ رہے ہوں گے اور دو آدمی کپڑا لپیٹ رہے ہوں گے، پھر یہ آیت پڑھی۔ (آیت ) ” ھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیہم بغتۃ وھم لایشعرون “ (کیا وہ قیامت کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کے پاس اچانک آجائے اور ان کو پتہ بھی نہ چلے۔
Ayahs 43:67–711:۔ ابن مردویہ (رح) نے سعد بن معاذ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کا دن ہوگا۔ تو (آپس میں) رشتہ داریاں ختم ہوجائیں گی اور نسبت کمزور پڑجائیں گی اور بھائی چارہ بھی جاتا رہے گا مگر اللہ کے لئے جو بھائی چارہ تھا (وہ باقی رہے گا) اسی کو فرمایا (آیت) ” الا خلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین “ (تمام دنیوی دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے خدا سے ڈرنے والوں کے)
دنیا میں اللہ کی نافرمانی کرنے والے آپس میں دشمن ہوں گے :
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا خلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین “ سے مراد ہے دنیا میں اللہ کی نافرمانی کرنے والے آپس میں دشمن ہوں گے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” الا خلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ دوست چار ہیں دو مؤمن اور دو کافر مومنین میں سے (جب) ایک مرجاتا ہے تو اس کے دوست کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے اے اللہ میں نے کوئی دوست نہیں دیکھا کہ میں اس کو نیکی کا حکم دیتا ہوں اور نہ برائی سے روک سکتا ہوں اے اللہ اس کو ہدایت دے جیسے مجھے ہدایت دی اور اس کو موت دے اس (دین) پر جس پر مجھے موت دی اور جب کافروں میں سے ایک مرجاتا ہے تو اس سے اس کے دوست کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے اللہ تعالیٰ میں نے کوئی ایسا دوست نہیں دیکھا جو برائی کا حکم کرنے والا ہو اور نیکی سے روکنے والا ہو اے اللہ اس کو گمراہ کردے جیسے آپ نے مجھے گمراہ کیا اور اس کو اس (کفر) پر موت دے دے جس پر آپ نے مجھے موت دی فرمایا پھر ان کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا فرمایا وہ ایک دوسرے کے بارے میں رائے کا اظہار کریں گے بعض تو دونوں مومن ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی اچھی تعریف کرے گا لیکن دونوں کا قرآن میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی بری تعریف کرے گا۔
4:۔ ابن ابی شیبہ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ (لوگوں کو) خیر کی طرف (بلانے والے) سردار کو قیامت کے دن لائے جائے گا اس سے کہا جائیگا اپنے رب کو جواب دو اور اسے اپنے رب کے پاس لے جایا جائے گا اس سے اللہ تعالیٰ پر وہ نہیں فرمائیں گے اور اس کو جنت میں لے جائے گا حکم دیا جائے گا اور اپنے گھر کو دیکھے گا اور اپنے ساتھیوں کے گھروں کو بھی دیکھے گا جو بھلائی کے کاموں میں اس کی موافقت کرتے تھے اور اس کی مدد کرتے تھے اس سے کہا جائے گا یہ فلاں کا گھر ہے اور یہ فلاں کا گھر ہے اور دیکھے گا جو اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے جنت میں جو عزتیں بتائی ہیں اور اپنے گھر کو ان کے گھروں سے بہتر پائے گا اور جنت کے کپڑوں میں سے پہنایا جائے گا اور اس کے سر پر تاج رکھا جائے گا اور اس کو جنت کی خوشبو لگائی جائے گی اس کا چہرہ چمکے گا یہاں تک کہ وہ چاند کی چودھویں رات کی طرح ہوجائے گا وہ وہاں سے نکلے گا تو لوگوں میں سے جو بھی دیکھے گا تو کہے گا اے اللہ ! اس کو ان میں سے بنادے یہاں تک کہ وہ ان لوگوں کے پاس آئے گا جو بھلائی میں اس کے ساتھ اکٹھے ہوتے تھے اور اس کی مدد کرتے تھے وہ کہے گا اے فلانے تجھ کو خوشخبری ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے جنت میں یہ یہ چیز تیار کر رکھی ہے اور وہ بھی ہزار ان کو خوشخبری دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت میں تیار کیا ہے اکرام میں یہاں تک کہ ان کے چہروں پر وہی روشنی آجائے گی جو چمک اس کے چہرے پر تھی۔ ان کو لوگ ان کے چہروں کی سفیدی سے پہچان لیں گے اور وہ کہیں گے یہ لوگ جنت والے ہیں اور برے اعمال کرنے والوں کے سردار کو لایا جائے گا اس سے کہا جائے گا اپنے رب کو جواب دو اسے اپنے رب کی طرف لے جایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے پردہ فرمائے گا اور اس کو آگ کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا وہ اپنے گھر اور اپنے ساتھیوں کے گھروں کو دیکھے گا اور اس سے کہا جائے گا یہ فلاں کا گھر ہے اور یہ فلاں کا گھر ہے اور وہ دیکھے گا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ذات تیار کر رکھی ہوگی وہ اسے دیکھے گا اور وہ اپنے گھر کو ان کے گھروں سے زیادہ برا دیکھے گا اس کا چہرہ کالا ہوجائے گا اور اس کی آنکھیں نیلی ہوجائیں گی اور آگ کی ایک ٹوپی اس کے سر پر رکھی جائے گی وہ وہاں سے نکلے گا تو اسے جو جماعت بھی دیکھے گی مگر وہ اس سے اللہ کی پناہ مانگے گی اور وہ کہے گا اللہ تعالیٰ مجھ سے تم کو کیسے پناہ دے گا اے فلانے کیا تجھ کو فلاں فلاں برائی یاد نہیں ہے وہ ان کو گناہ یاددلائے گا جو وہ اس کے ساتھ مل کر کیا کرتے تھے اور اس پر اس کی مدد کرتے تھے وہ برابر انکو بتاتا رہے گا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آگ میں تیار کیا ہوگا یہاں تک کہ ان کے چہروں پر ایسی سیاہی چھاجائے گی جیسے اس کے چہرہ پر تھی لوگ ان کو پہچان لیں گے ان کے چہروں کی سیاہی سے اور کہیں گے یہ دوزخ والے ہیں۔
مؤمن و کافر دوستوں کا حال :
5:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید ل وحید بن زنجویہ فی ترغیبہ وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے (آیت ) ” الاخلآء یومئذ بعضہم لبعض عدو الا المتقین “ کے بارے میں روایت کیا کہ دو دوست مؤمن ہیں اور دو دوست کافر ہیں دونون میں سے ایک مؤمن وفات پا جاتا ہے تو اس کو جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے وہ اپنے دوست کو یاد کرکے کہتا ہے اے اللہ ! میرا فلاں دوست مجھے تیری اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتا تھا اور مجھے نیکی کا حکم کرتا تھا اور برائی سے روکتا تھا اور مجھے بتاتا تھا کہ میں آپ سے ملاقات کروں گا اے اللہ ! اس کو میرے بعد گمراہ نہ کرنا یہاں تک کہ اس کو وہ چیز دکھانا جو آپ نے مجھے دکھائی (یعنی جنت کا گھر) اور اس سے راضی ہوجا جیسے آپ مجھ سے راضی ہوئے اس سے کہا جائے گا چلا جا اگر تو جانتا جو کچھ اس کے لئے میرے پاس ہے تو تو زیادہ ہنستا اور تھوڑا روتا پھر (دوسرا مؤمن) وفات پا جاتا ہے تو ان دونوں کی روحوں کو جمع کردیا جائے گا اور کہا جائے چاہئے کہ ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھی کی تعریف کرے تو ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے بارے میں کہے گا کہ کتنا بہترین ساتھی کتنا اچھا دوست تھا اور جب کافروں میں سے ایک مرتا ہے تو اس کو دوزخ کی خوشخبری دی جاتی ہے وہ اپنے دوست کو یاد کرکے کہتا ہے اے اللہ میرا فلاں دوست تھا جو مجھے تیری نافرمانی اور تیرے رسول کی نافرمانی کا حکم دیتا تھا اور مجھے برائی کا حکم دتیا تھا اور نیکی سے روکتا تھا اور مجھے بتاتا تھا کہ آپ سے ملاقات نہ ہوگی۔ اے اللہ میرے بعد اس کو ہدایت نہ دینا یہاں تک کہ اسے بھی وہ چیز دکھا جیسے آپ نے مجھے دکھائی ہے اور تو اس پر ناراض ہو جیسے آپ مجھ پر ناراض ہوئے پھر جب دوسرا کافر مرے گا تو (اللہ تعالیٰ دونوں کی روحوں کو جمع کرے گا اور کہا جائے گا چاہئے کہ ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھی کی تعریف کرے تو ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے بارے میں کہے گا کہ کتنا برا بھائی تھا اور کتنا برا ساتھی تھا اور کتنا برا دوست تھا۔
6:۔ ابن جریر (رح) نے سلیمان تیمی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے سنا کہ لوگ جب قیامت کے دن اٹھیں گے تو ان کو کوئی پریشانی نہ ہوگی مگر گبھراہٹ ایک آواز دینے والا آواز دے گا (آیت ) ” یعباد لا خوف علیکم الیوم ولا انتم تحزنون “ (اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں ہے اور تم غمگین نہ ہوں گے) تو سب لوگ اس بات سے امید رکھے ہوئے اس کے پیچھے ہولیں گے (اور وہ کون لوگ ہوں گے اس کے بارے میں فرمایا (آیت ) ” الذین امنوا بایتنا وکانوا مسلمین “ (وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور وہ مسلمان تھے )
7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تحبرون “ سے مراد ہے کہ تم اکرام کئے جاؤ گے واللہ اعلم تعالیٰ :
8:۔ ابن المبارک ابن ابی الدنیا فی الصفۃ الجنۃ والطبرانی فی الاوسط بسند رجالہ ثقات نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا سب جنت والوں میں سے سب سے کم درجے والا وہ ہوگا کہ جس نے سرہانے دس ہزار خادم ہوں گے ہر ایک کے ہاتھ میں دو پیالے ہوں گے ایک سونے کا اور دوسرا چاندی کا ہر ایک میں ایسا رنگ ہوگا جو دوسرے میں نہیں ہوگا وہ ان میں سے آخری سے بھی ایسے کھائے گا جیسے وہ پہلے میں سے کھائے گا ان میں سے آخری میں سے ایسی خوشبو اور لذت پائے گا جیسے اس کے پہلے سے پائے گا یہ تیز مشک کی خوشبو ہوگی۔ وہاں نہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ کریں گے اور نہ ناک صاف کریں گے، پلنگوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بھائی بھائی بن کربیٹھے ہوں گے۔
9:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ بصحاف سے مراد ہے بڑے پیالے۔
10:۔ ابن ابی شیبہ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ ادنی جنتی قیامت کے دن مرتبہ کے لحاظ سے (ایسا ہوگا) کہ ستر ہزار پیالوں میں اس کا دوپہر کا کھانا لایا جائے گا ہر پیالہ میں ایسا رنگ ہوگا جو دوسرے سے مختلف ہوگا اور وہ آخری پیالے سے وہی والی لذت کو پائے گا جبکہ پہلا اس کی جنت میں سے نہ ہوگا۔
11:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت ) ” واکواب “ سے مراد ہے چاندی کے برتن۔
12:۔ ہناد وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واکواب “ سے مراد ہے وہ برتن جس کا (پکڑنے کے لئے) دستہ نہ ہو۔
13:۔ طستی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” واکواب “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے مٹکے جن کا (پکڑے کے لئے) کوئی دستہ نہ ہو پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں ! کیا تو نے ھذلی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
فلم ینطق الدیک حتی ملأت کو ب الذباب لہ فاستدارا
ترجمہ : مرغ نہیں بولا یہاں تک کہ وہ بھر گیا اس کے لئے مکھی کا پیالہ تو وہ گھوم گیا۔
14:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واکواب “ سے مراد ہے ایسے گھڑے جس کا (پکڑے کیلئے) کوئی دستے نہ ہو نبطی میں اسے گولی کہتے ہیں۔
15:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ والوں میں سے سب سے ہلکا عذاب کے لحاظ سے وہ آدمی ہوگا جو انگارے پر چلے گا تو اس سے اس کا دماغ کھولے گا۔ ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ! اس کا جرم کیا ہوگا ؟ تو فرمایا کہ اس کے جانور تھے جن کو کھیتی کے قریب لے جاتا اور اس کھیتی کو نقصان پہنچاتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے کھیتی کو اور جو اس کے اردگرد کا اتنا حصہ جہاں تک پتھر پھینکا جاتا ہے سو تم اپنے مالوں میں سے دنیا میں ایسی محبت نہ کرو ورنہ تم اپنی جانوں کو آخرت میں ہلاک کردو گے۔ اور فرمایا کہ ادنی جنتی مرتبہ کے لحاظ سے کہ جس کے بعد جنت میں کوئی داخل نہ کرو رونہ تم اپنی جانوں کو آخرت میں ہلاک کردو گے۔ اور فرمایا کہ ادنی جنتی مرتبہ کے لحاظ سے کہ جس کے بعد جنت میں کوئی داخل نہ ہوگا۔ اس کے لئے اس کی نظر ایک سال کی مسافت تک پھیلا دی جائے گا جس میں سونے کے محلات اور موتیوں کے خیمے ہوں گے کہ اس میں ایک بالشت بھی جگہ نہیں ہوگی جو آباد نہ ہو اس کی ہر روز صبح شام ستر ہزار پیالوں کے ساتھ کھانا پیش کیا جائے گا ہر ایک پیالے میں ایسے رنگ کا کھانا ہوگا کہ اس کی طرح دوسرے میں نہ ہوگا اس کی خواہش اس کے آخری کے بارے میں ایسے ہوگی جیسے پہلے کے بارے میں تھی اگر تمام زمین والے اس کے مہمان بن جائیں تو اسے جو کچھ عطا کیا گیا وہ ان کو کافی ہوجائے گا اور اسے جو کچھ عطا کیا گیا اس میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔
اہل جنت کی ہر خواہش پوری ہوگی :
16:۔ ابن جریر (رح) نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ جنت میں سے ایک آدمی ایک پرندے کی خواہش کرے گا اور وہ اڑ رہا ہوگا (اچانک) وہ ٹکرے ٹکرے پکا ہوا اس کے ہاتھ میں آجائے گا وہ اس میں سے کھائے گا یہاں تک کہ وہ کھاچکے گا تو پھر ہو پرندہ اڑجائے گا اور پینے کی خواہش کرے گا تو لوٹا اس کے ہاتھ میں واقع ہوجائے گا اس میں جو ارادہ کرے گا پیئے گا پھر وہ اپنی چمک لوٹ آئے گی۔
17:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واکواب “ سے وہ برتن مراد ہیں جو اباریق سے چھوٹے ہوتے ہیں اور ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ اس کا سرا گول ہوتا ہے۔
18:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو امامہ ؓ نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو ارشاد فرمایا اور جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس ذات جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ضرور تم میں سے ایک لقمہ کو لے گا اور اس کو اپنے منہ میں رکھ دے گا، پھر اس کے دل میں دوسرے کھانے کا خیال آئے گا تو وہ کھانا اس کھانے سے بدل دیا جائے گا جو اس کے منہ میں تھا جس کی اس نے خواہش کی ہوگی۔ پھر یہ (آیت ) ” پڑھی وفیھاما تشتھہہ الانفس وتلذ الاعین وانتم فیھا خلدون “ (اور اس میں وہ چیزیں ہوں گے جو تمہارے دل چاہیں گے اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہوگے۔
19:۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ الجنہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انار جنت کے اناروں میں سے ایک انار پر بہت سے لوگ جمع ہو کر کھائیں گے اگر کسی کے دل اس کا خیال گزرے گا تو جہاں وہ کھارہا ہوگا۔ تو وہ اس کو اسی جگہ ہی پالے گا۔
20:۔ ابن ابی الدنیا والبزار وابن المنذر والبیہقی (رح) نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو عنقریب جنت میں ایک پرندے کی طرف دیکھے گا اور اس کی خواہش کرے گا تو وہ تیرے آگے بھنا ہوا گرپڑے گا۔
21:۔ ابن ابی الدنیا نے میمونہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدمی جنت میں پرندے کی خواہش کرے گا تو وہ بختی اونٹ کی طرح آئے گا یہاں تک کہ اس کے دستر خوان پر واقع ہوجائے گا نہ اس کو دھواں پہنچے گا اور نہ آگ وہ اس میں سے کھائے گا یہاں تک کہ سیر ہوجائے گا پھر وہ پرندہ (صحیح سالم ہوکر) اڑ جائے گا۔
22:۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل جنت میں سے سب سے گھٹیامرتبہ کے لحاظ سے وہ ہوگا جس کے ستر ہزار خادم ہوں گے ہر خادم کے پاس سونے کا پیالہ ہوگا اگر وہ کھانا ساری دنیا والوں کے لئے نازل کردیا جائے تو ان سب کو پہنچ جائے اور جو چیز انکے غیر کے پاس ہوگی وہ ان کے لئے طلب نہیں کی جائے گی۔ (یعنی یہی کھانا ان کیلئے کافی ہوجائے گا اور کسی سے طلب کرنے کی ضرورت نہ رہے گی۔
23:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کیا جنت میں اولاد ہوگی تو فرمایا اگر جنتی چاہیں گے (تو اولاد پیدا ہوجائے گی)
24:۔ احمد وھناد ولدارمی عبد بن حمید و ترمذی (رح) (وحسنہ) وابن ماجہ وابن المنذر (رح) وابن حبان (رح) اور بیہقی (رح) نے البعث میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے کہا یا رسول اللہ ﷺ نے کہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے اور پوری خوشی میں سے ہے کیا جنت والوں کی اولاد (پیدا) ہوگی تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر مومن جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا تو اس کا حمل اور اس کی ولادت اور اس کا بڑا ہونا ایک گھڑی میں ہوجائے گا جیسے وہ چاہے گا۔
25:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابن سابط (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے کیونکہ میں گھوڑوں سے محبت رکھتا ہوں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کردے گا پھر تو جو چیزچا ہے گا تو وہ مل جائے گا دیہاتی نے کہا کیا جنت میں اونٹ ہوگا کیونکہ میں اونٹ سے محبت کرتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے دیہاتی ! اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کردے تو تجھ کو (ہر وہ چیز) ملے گی جو تیرا دل چاہے گا اور تیری آنکھ اس سے لذت اٹھائے گی۔
26:۔ ابن ابی شیبہ (رح) و ترمذی (رح) وابن مردویہ (رح) نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کیا جنت میں گھوڑا ہوگا کیونکہ میں اس کو پسند کرتا ہوں فرمایا اگر تو اس کو پسند کرتا ہے تو تیرے پاس سرخ یاقوت کا گھوڑا لایا جائے گا وہ تیرے ساتھ جنت میں اڑے گا جہاں تو چاہے گا۔ ایک اور آدمی نے کہا کہ میں اونٹ کو پسند کرتا ہوں کیا جنت میں اونٹ ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ کے بندے ! اگر تجھ کو جنت میں داخل کردیا جائے گا تو تیرے لئے ہر وہ چیز ہوگی جو تیرا دل چاہے گا اور تیری آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔
27:۔ عبد بن حمید (رح) نے کثیر بن مرہ حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ بادل جنت والوں پر گزرے گا تو کہے گا تم پر کیا برساؤں ؟
28:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابن سابط (رح) سے روایت کیا کہ ایک قاصد جنت کے درختوں میں سے ایک درخت کی طرف آئے گا اور کہے گا کہ میرا رب تجھ کو حکم دیتا ہے کہ تو اس کیلئے ہو پھل نکال وہ جو چاہے پھر وہ قاصد اہل جنت میں سے ایک آدمی کے پاس آئے گا اس کو لباس پہنائے گا تو وہ جنتی کہے گا یقینی بات ہے کہ میں نے جوڑے دیکھے ہیں لیکن اس جیسا نہیں دیکھا۔
29:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عمر بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ اہل جنت میں سے ایک آدمی پھل کی خواہش کرے گا تو وہ پھل آئے گا یہاں تک کہ ہو اس کے منہ میں بہنے لگے گا اور اس کی اصل اس کے درخت میں ہوگی۔
30:۔ ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں عبدالرحمن بن سابط (رح) سے روایت کیا کہ اہل جنت میں سے ایک آدمی پانچ سوحوروں سے شادی کرے گا چار سو کنواری ہوں گی اور آٹھ ہزار ثیبہ (یعنی خاوند دیکھتی ہوگی) ان میں سے ہر ایک ایسی ہوگی جس کے ساتھ دنیا کی عمر (کے برابر) معانقہ کرے گا ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی وہاں اپنا ساتھی نہیں پائے گا کہ اس کیلئے اس کے دسترخوان کو رکھا جائے گا۔ اس میں سے اس کی حرص ختم نہیں ہوگی۔ ساری دنیا کی عمر کے برابر اور اس کے پاس ایک فرشتہ اس کے رب کی طرف سے مبارک بادی لے کر آئے گا۔ اور اس کی انگلیوں کے درمیان سو یا ستر جوڑے ہوں گے اور وہ کہے گا میرے رب کی طرف سے جو چیز مجھے ملی ہے اس سے زیادہ میرے لئے خوبصورت نہیں۔ وہ فرشتہ کہے گا کیا تو یہ پسند کرتا ہے وہ کہے گا ہاں تو وہ فرشتہ جن کے قریب تیرین درخت سے کہے گا تو رنگ بدل دے فلاں کے لئے جو اس کا دل چاہے۔
31:۔ ابن جریر (رح) نے ابو ظبیۃ سلمی (رح) سے روایت کیا کہ جنتیوں کی ایک جماعت پر بادل سایہ کرے گا وہ کہے گا میں تم پر کیا برساؤں لوگوں میں سے جو بھی کسی چیز کی دعا کرے گا تو وہ بادل ان پر بارش برسادے گا یہاں تک کہ ایک کہنے والا کہے گا ہم پر ہم عمر ابھرے ہوئے سینے والیاں برساؤ۔
Ayahs 43:72–74ہر انسان کا ایک گھر جنت میں ایک دوزخ میں :
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا ایک گھر جنت میں ہو اور ایک گھر دوزخ میں ہو۔ کافر مؤمن کے اس گھر کا وارث بن جاتا ہے جو دوزخ میں ہوتا ہے اور مؤمن کافر کے اس گھر کا وارث بن جاتا ہے جو جنت میں ہوتا ہے اسی کو فرمایا (آیت ) ” وتلک الجنۃ التی اور ثتموھا بماکنتم تعملون “ (یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دیئے گئے اپنے نیک اعمال کے بدلے میں)
2:۔ ھناد بن السری وعبد بن حمید (رح) نے الزھد میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تم لوگ پل صراط کو پار کرو گے اللہ تعالیٰ کے عفو کے ساتھ اور تم داخل ہوگے جنت میں اللہ کی رحمت کے ساتھ اور تم اپنے اعمال کے مطابق منازل حاصل کرو گے۔
Ayahs 43:75–76وقولہ تعالیٰ : ان المجرمین “
3:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وھم فیہ مبلسون “ (اور وہ اس میں ناامید ہوں گے) یعنی وہ سرجھکائے گھڑے ہوں گے۔
Ayahs 43:77–794:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) و بخاری (رح) وابن الانباری نے المصاحف میں وابن مردویہ (رح) نے اور نے اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں یعلی بن امیہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر یہ پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” ونادوا یملک “
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے منبر پر نبی ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” ونادوا یملک “
6:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید (رح) والانباری نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت ) ” ونادوا یملک “
7:۔ طبرانی (رح) نے یعلی بن امیہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر یہ پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” ونادوا یملک لینقض علینا ربک “۔
8:۔ عبد الرزاق (رح) وفریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن ابی الدنیا فی صفۃ النار وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” ونادوا یملک “ (اور وہ دوزخ کے دروغہ مالک کو پکاریں گے) کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ندا کریں گے : اے مالک ! تو مالک فرشتہ ان سے ایک ہزار سال تک خاموش رہے گا یعنی کوئی جواب نہیں دے گا پھر ان کو جواب دے گا (آیت ) ” انکم مکثون “ یعنی تم ہمیشہ اسی حالت میں رہوگے۔
9:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” امر ابرموا امرا فانا مبرمون “ کیا انہوں نے کوئی بات طے کرنے والے ہیں) یعنی اگر نہیں نے کام کا ارادہ کرلیا تو ہم بھی ارادہ کرنے والے ہیں اگر انہوں نے برائی کا راستہ اختیار کیا ہے تو ہم بھی اس کی طرح خفیہ تدبیر بنائیں گے۔
Ayah 43:8010:۔ ابن جریر (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ تین آدمی کعبہ اور اس کے پردے کے درمیان تھے دو قریش اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریش ان میں سے ایک نے کہا کیا یہ تمہاری رائے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے کلام کو سنتا ہے ایک نے کہا جب تم زور سے بات کرو تو سنتا ہے اور جب تم چپکے سے بات کرو تو نہیں سنتا تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت ) ” ام یحسبون انا لا نسمع سرھم ونجوہم “ (کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کے دلوں میں چھپی ہوئی باتیں اور سرگوشیاں نہیں جانتے )