40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 40:72–77

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

گرم پانی میں پھر ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ وہ معبود غیر اللہ کہاں گئے جنہیں تم شریک بناتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے کہ وہ تو ہم سے غائب ہوگئے بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی چیز کی عبادت کرتے ہی نہ تھے اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کو گمراہ فرماتا ہے

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس وجہ سے تم اکڑ مکڑ کرتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں سے اس میں ہمیشہ رہو گے سو برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

سو آپ صبر کیجئے بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے سو اگر ہم آپ کو اس میں سے بعض چیزیں دکھادیں جس کے بارے میں ہم نے انہیں پہلے سے بتادیا ہے یا ہم آپ کو وفات دے دیں تو ہماری ہی طرف سب لوٹائے جائیں گے

5:۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یسحبون (71) فی الحمیم، یعنی ان پر ہر چیز کو اتاردے گی کھال گوشت اور رگیں یہاں تک کہ وہ اس کی ایڑیوں میں چلی جائے گی یہاں تک کہ اس کے گوشت کی لمبائی ستر ہاتھ کے بقدر ہوگی، پھر اس کو دوسری کھال پہنائی جائے گی، پھر اسے آگ میں جلایا جائے گا ہر چیز ان سے تر ہوجائے گی کھال گوشت اور آنتوں میں سے۔ 6:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یسحبون “ سے مراد ہے کہ ان پر آگ کو جلایا جائے گا ” تمرحون “ (تم اتراتے تھے) یعنی تم اتراتے تھے اور اکڑتے تھے۔
Ayahs 40:78–80

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے جن میں سے بعض کا تذکرہ ہم نے آپ سے بیان کردیا اور ان میں بعض ایسے ہیں جن کا تذکرہ ہم نے آپ سے بیان نہیں کیا، اور کسی رسول ﷺ کو یہ قدرت نہیں کہ کوئی نشانی لے آئے مگر اللہ کے اذن سے، پھر جب اللہ کا حکم آجائے گا تو حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت باطل والے خسارہ میں رہ جائیں گے

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ وہ جس نے تمہارے لئے مویشی بنائے تاکہ تم ان میں سے بعض پر سوار ہو، اور انمیں سے بعض کو کھاتے ہو

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور تمہارے لئے ان میں منافع ہیں، اور تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی حاجت پر پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے اور ان پر اور کشتیوں پر لدے ہوئے پھرتے ہو

1:۔ طبرانی (رح) نے الاوسط میں وابن مردویہ (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومنہم من لم نقصص علیک “ (اور ان میں سے بعض کے احوال آپ سے بیان نہیں کئے) یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک حبشی بندے کو بھی نبی بنایا اور وہ ان پیغمبروں میں سے ہے کہ جس کا ذکر محمد ﷺ سے نہیں کیا گیا
Ayahs 40:81–85

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے سو اللہ کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

کیا وہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے سو وہ دیکھ لیتے کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، وہ ان سے زیادہ تھے اور ان سے قوت میں بھی سخت تھے اور زمین میں بھی ان کی نشانیاں بہت ہیں سو ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

سو جب ان کے پاس ہمارے رسول دلیلیں لے کر آئے تو جو علم انکے پاس تھا اس کی وجہ سے بڑے اترائے اور ان پر وہ عذاب نازل ہوگیا جس کو مذاق بنایا کرتے تھے

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

سو جب انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے ہم ایمان لائے اللہ پر جو تنہا ہے، اور ہم جن چیزوں کو اللہ کا شریک بناتے تھے ان کے منکر ہیں

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

سو ان کے ایمان نے انکو کچھ نفع نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں میں گزرچکی ہے اور اس موقع پر کفر کرنے والے خسارہ میں رہ گئے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدورکم “ (تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے دلی مقصد کو پہنچ جاؤ یعنی تمہارے سفر تمہاری اپنی ضرورت کے لئے ہوں (آیت ) ” وآثارفی الارض “ (اور نشانات جو ان میں چھوڑ گئے) یعنی زمین میں ان کا پیدل چلنا (آیت) ” فرحوا بما عندھم من العلم “ (وہ لوگ اپنے اس علم (معاش) پر بڑے خوش ہوئے جو ان کے پاس تھا یعنی ان کا قول تھا ہم ان سے زیادہ جاننے والے ہیں اور ہم کو ہرگز عذاب نہیں ہوگا (آیت ) ” وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزء ون “ (اور وہ جس چیز کا مذاق بناتے تھے اسی نے ان کو گھیر لیا) یعنی ان کے رسول انکے پاس حق کو لائے (مگر انہوں نے مذاق بنایا) 2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدورکم “ (تاکہ تم اس پر سوار ہو کر اپنے دلی مقصد کو پہنچ جاؤ یعنی ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف (آیت) ” سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ “ (اللہ تعالیٰ کا طریقہ گزر چکا ان بندوں میں اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ ہمارے عذاب کو دیکھے تو ایمان لے آئے مگر اس وقت انکا ایمان ان کو نفع نہ دیتا۔