40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 40:34–38

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ یوسف تمہارے پاس اس سے پہلے واضح معجزات لے کر آئے سو وہ جو کچھ تمہارے پاس لائے تم اس میں برابر شک کرتے رہے، یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم نے کہا کہ اللہ انکے بعد کسی رسول کو مبعوث نہ فرمائے گا۔ اللہ ایسے ہی گمراہ کردیتا ہے۔ اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے والا ہو شک میں پڑنے والا ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

جو اللہ کی آیات میں بغیر دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو جھگڑے بازی کرتے ہیں اللہ کے نزدیک اور اہل ایمان کے نزدیک یہ بڑے بغض کی چیز ہے اسی طرح اللہ مہرلگا دیتا ہے ہر متکبر جبار کے دل پر

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ اے ہامان میرے لئے ایک محل بنادے ہوسکتا ہے کہ میں راستوں میں پہنچ جاؤں

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

یعنی آسمان کے راستوں تک میری رسائی ہوجائے پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے معبود کا پتہ چلاؤں، اور بیشک میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ اور اسی طرح فرعون کے لئے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا اور وہ راستہ سے روک دیا گیا اور فرعون کی تدبیر ہلاکت ہی میں لے جانے والی ہے

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور جو شخص ایمان لایا اس نے کہا کہ اے میر قوم میرا اتباع کرو میں تمہیں ہدایت والا راستہ بتاؤں گا

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جآء کم یوسف من قبل بالبینت “ (اور اس سے پہلے تم لوگوں کے پاس یوسف (علیہ السلام) واضح دلائل لے کر آچکے ہیں اس میں بینات سے مراد ہے یوسف (علیہ السلام) کا خواب۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطن “ (وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی آیات میں بغیر دلیل کے) اس میں سلطان سے مراد ہے دلیل یعنی بغیر دلیل کے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مؤمن جسے اچھاخیال کریں تو وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے اور مؤمن جسے برا خیال کریں تو وہ اللہ کے نزدیک بھی برا ہے اور اعمش اس آیت سے راستہ بدل کر کہتے تھے (آٰیت کبر مقتا عند اللہ وعند الذین امنوا “ (بہت نفرت کی بات ہے اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک ) 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر “ (اس طرح اللہ تعالیٰ ہر مغرور دل پر مہر لگا دیتا ہے) اس میں قلب مضاف ہے اس پر تنوین نہیں ہے۔ 5:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقال فرعون یھامن ابن لی صرحا “ (فرعون نے ھامان سے کہا میریلئے ایک محل بناؤ) اور یہ پہلا آدمی تھا جس نے پکی اینٹوں سے عمارت بنائی۔ (آیت ) ” لعلی ابلغ الاسباب “ (شاید کہ میں پہنچ جاؤں دروازوں کو) یعنی دروازے اسباب (آیت ) ” السموت وکذلک زین لفرعون سوٓء عملہ وصد عن السبیل “ (اور اسی طرح فرعون کی بداعمالیاں بھی اس کیلئے خوبصورت بنادی گئیں اور حق کے راستے سے اس کو روک دیا گیا) یعنی اس کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا (آیت ) ” زین لفرعون سوٓء عملہ وصد عن السبیل “ وما کید فرعون الا فی تباب “ (اور اس کے برے عملوں کو خوبصورت بنا دیا گیا اور موسیٰ کے بارے میں اس کی ہر تدبیر غارت ہوگئی) اس میں تباب سے مراد ہے گمرا ہی اور خسارہ۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یھامن ابن لی صرحا “ یعنی کچی اینٹوں پر آگ جلاؤ یہاں تک کہ وہ پکی ہوجائیں۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اسباب السموت “ یعنی آسمانوں کے راستے۔ 8:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا فی تباب “ اس میں تباب سے مراد ہے نقصان۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا فی تباب “ یعنی نقصان میں۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” وصد عن السبیل “ صاد کے رفع کے ساتھ۔
Ayahs 40:39–40

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے میری قوم یہ دنیا والی زندگی تھوڑے سے نفع کی زندگی ہے اور بلاشبہ آخرت ہی رہنے کی جگہ ہے

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جس نے کوئی بھی برائی کی تو اس کا بدلہ صرف اسی قدر دیا جائے گا اور جس نے نیک عمل کیا مرد ہو یا عورت اور حال یہ ہو کہ وہ مؤمن ہو تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اس میں انہیں بےحساب رزق دیا جائے گا

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ دنیا آخرت کے جمعوں میں سے ایک جمعہ ہے سات ہزار سال۔ 2:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اس کے سامان میں سے کوئی چیز نیک عورت سے بہتر نہیں ہے وہ عورت کہ جب تو اس کی طرف دیکھے تو تجھ کو خوش کرے اور جو تو اس سے غائب ہو تو اپنی ذات اور تیرے مال کی حفاظت کرے۔ اصل قیامگاہ آخرت ہے : 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان الاخرۃ ھی دار القرار “ (اور اصل قیام گاہ تو آخرت ہے) اس سے مراد ہے کہ جنت قرار حاصل کرتی ہے اپنے رہنے والوں کے ساتھ اور دوزخ قرار حاصل کرتی ہے اپنے رہنے والوں کے ساتھ (آیت ) ” من عمل سیءۃ “ (جو براعمل کرے گا) یعنی شرک کرے گا (آیت ) ” فلا یجزی الا مثلھا “ (تو اس کو گناہ کے برابر سزا دی جائے گی اور جس نے نیک عمل کیا) یعنی خیر کا کام کیا (آیت ) ” ومن عمل صالحا من ذکر اوانثی وھو مؤمن فاولئک یدخلون الجنۃ یرزقون فیھا بغیر حساب “ (خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ مؤمن ہو سو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں ان کو رزق دیا جائے گا یعنی وہاں ناپنے یا تولنے کا آلہ نہیں ہے (کہ اس سے رزق ناپ تول کردیا جائے ) ۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا (آیت ) ” فاولئک یدخلون الجنۃ “ (یہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے) اس میں انہوں نے یدخلون کو یاء کے زبر کے ساتھ پڑھا۔
Ayahs 40:41–45

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے میری قوم کیا بات ہے میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک بناؤں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، اور میں تمہیں عزیز غفار کی طرف بلاتا ہوں

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

یہ یقینی بات ہے کہ تم مجھے جس چیز کی دعوت دیتے ہو اس کی دعوت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں، اور بلاشبہ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور بلاشبہ جو لوگ حد سے بڑھ جانے والے ہیں وہ دوزخ والے ہیں

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

سو تم یاد کروگے جو میں کہتا ہوں اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں بیشک اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہے

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

سو اللہ نے اس شخص کو ان لوگوں کی تدبیروں کی مضرتوں سے بچا لیا اور آل فرعون پر برا عذاب نازل ہوا

1:۔ فریابی (رح) و سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویقوم مالی ادعوکم الی النجوۃ “ (اور اے میری قوم یہ کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات (کے راستہ) کی طرف بلاتا ہوں) یعنی ایمان کی طرف (آیت ) ” لا جرم انما تدعوننی الیہ لیس لہ دعوۃ فی الدنیا “ (یعنی بات یہ ہے کہ جس چیز کی عبادت کی طرف تم مجھے بلاتے ہو وہ دنیا میں پکارے جانے کے لائق نہیں) فرمایا کہ بت کوئی چیز نہیں (کہ ان کی عبادت کی جائے) (آیت ) ” وان المسرفین “ (اور حد سے گزرنے والے) یعنی خون کو بہانے والے ناحق (آیت ) ” ھم اصحب النار “ وہ دوزخ والے ہیں۔ 2:۔ عبدبن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) لیس لہ دعوۃ فی الدنیا ولا فی الاخرۃ “ (وہ نہ تو دنیا ہی میں پکارے جانے کے لائق ہے اور نہ آخرت میں) یعنی نہ وہ نقصان دیتے ہیں اور نہ نفع دیتے ہیں۔ (آیت ) ” وان المسرفین ھم اصحب النار “ (اور بلاشبہ حد سے گزرنے والے وہ دوزخ والے ہیں) یعنی ہمارے سب ساتھی (دوزخ والے ہیں) 3:۔ عبد بن حمید (رح) وعبدالرزاق (رح) اور ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فوقہ اللہ سیات ما مکروا “ (اللہ نے اس کو فرعون اور فرعونوں کی ضرررساں تدبیروں سے محفوظ رکھا قبطی فرعون کی قوم میں سے تھا اور اس نے موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے ساتھ (مل کر) نجات پائی جب بنی اسرائیل نے نجات پائی۔
Ayahs 40:46–50

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

صبح شام یہ لوگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی حکم ہوگا کہ آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو ۔

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جبکہ کافر لوگ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑا کریں گے سو جو لوگ کمزور تھے وہ ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے بیشک ہم تمہارے تابع تھے تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو ؟

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

جو لوگ بڑے تھے وہ کہیں گے کہ بیشک ہم سب دو زخ میں ہیں بیشک اللہ نے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور جو لوگ دوزخ میں ہوں گے وہ دوزخ کے داروغاؤں سے کہیں گے کہ تم اپن رب سے دعا کردو وہ ہم سے ایک دن عذاب کا کچھ حصہ ہلکا کردے

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول کھلے ہوئے دلیل لے کر نہیں آئے تھے وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں آئے تو تھے اس پر داروغہائے دوزخ جواب دیں گے کہ پھر تم ہی دعا کرلو اور کافروں کی دعا محض بےاثر ہے

عذاب قبر کے احوال : 1:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) نے ہذیل بن شرجیل (رح) سے روایت کیا کہ فرعون والوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے پیٹوں میں ہیں ان کو صبح اور شام کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے، یہی ان کا پیش کرنا ہے اور شہدا کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہیں اور مسلمان کی اولاد جو بلوغت کو نہیں پہنچی (اور موت آگئی) تو ان کی روحیں جنت کی چڑیوں کے پیٹوں میں ہیں (جنت کے باغوں میں) چرتی ہیں، وہ گھومتی پھرتی ہیں۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے شہداء کی روحوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے پیٹوں میں رکھ دیا جاتا ہے جو جنت کے چکر لگاتے پھرتے ہیں اور رات کو وہ پرندے سونے کی قندیلوں میں رہتے ہیں جو عرش کے ساتھ لٹک رہی ہیں وہ ان میں اپنا ٹھکانہ بنالیتی ہیں پوچھا گیا کفار کی روحیں کہاں ہوتی ہیں ؟ فرمایا : انکی روحوں کو سیاہ پرندوں کے پیٹوں میں رکھ دیا جاتا ہے انکو صبح اور شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے پھر یہ آیت پڑھی (آیت ) ” النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا “ (ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے صبح کو اور شام کو ) شہداء کی روحیں جنت میں : 3:۔ عبدالرزاق (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہیں جنت میں اڑتی پھرتی ہیں جہاں چاہتی ہیں اور مؤمنوں کی اولاد کی روحیں چڑیوں کے پیٹوں میں ہوتی ہے جنت میں اڑتی پھرتی ہیں جہاں چاہتی ہیں اور فرعون والوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے پیٹوں میں ہے جن کو صبح شام جہنم پر پیش کیا جاتا ہے یہی ان کا جہنم پر پیش کرنا ہے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا “ فرمایا صبح کو اور شام .(ان کو پر پیش کیا جاتا یہ تمہارے گھر ہیں ان کی طرف دیکھ کر مقصد ان کو جھڑکنا ناراضگی کا اظہار کرنا اور ان کی حقارت بیان کرنا۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا “ (انکو صبح شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے ان کی روحوں کا دنیا میں پیش کرنا مراد نہیں ہے (بلکہ مرنے کے بعد جہنم پر پیش کرنا مراد ہے) 6:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ اس کی ہر دن صبح شام دو دفعہ چیخ و پکار ہوگی اول دن میں وہ کہتا تھا رات چلی گئی اور دن آگیا اور فرعون والوں کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے کوئی ان کی آواز کو نہیں سنتا مگر دوزخ کی آگ سے اللہ سے پناہ مانگتا ہے۔ 7:۔ ابن الدنیا نے اپنی کتاب عاشق بعد الموت میں وابن جریر (رح) نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ ان سے ایک آدمی نے سوال کیا اور کہا اے ابو عمر ! (یہ ان کی کنیت ہے) ہم دیکھتے ہیں کالے پرندوں کو جو سمندر سے نکلتے ہیں فوج درفوج ہو کر ان کی تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا جب عشاء کا وقت ہوتا ہے تو اتنے ہی سفید لوٹتے ہیں فرمایا اور تم نے اس کو خواب سمجھ لیا ہے۔ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! فرمایا کہ فرعون والوں کی روحیں ان پرندوں کے پوٹوں میں ہیں (اسی کو فرمایا) (آیت ) ” النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا “ وہ لوٹتی ہیں اپنے گھونسلوں کو اور ان کے پر جل چکے ہوتے ہیں تو وہ کالے ہوجاتے ہیں اسی طرح دنیا میں ان کا طریقہ ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے (آیت ) ” ادخلوا ال فرعون اشد العذاب “ (فرعون والو ! داخل ہوجاؤ سخت عذاب میں) 8:۔ ابن ابی شیبہ و بخاری ومسلم وابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی تم میں سے مرجاتا ہے تو اس پر اس کا ٹھکانہ صبح شام پیش کیا جائے گا اگر وہ جنت والوں میں سے ہے تو جنت والوں کا ٹھکانہ اس پر پیش کیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہے تو دوزخ والوں کا ٹھکانہ اس پر پیش کیا جاتا ہے اس سے کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھ کو اٹھائے گا ابن مردویہ (رح) نے زیادہ کیا (آیت ) ” النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا “ 9:۔ بزار وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں اچھا ہے محسن (جو احسان کرے) وہ کافر ہو یا مسلمان مگر اللہ تعالیٰ اس کو بدلہ دے گا ہم نے کہا یارسول اللہ کافر کا بدلہ کیا ہے ؟ فرمایا : مال اور اولاد صحت اور اسی طرح کی اور چیزیں ہم نے کہا اس کا بدلہ آخرت میں کیا ہوگا ؟ فرمایا : عذاب سے کم اور رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت ) ’ ’ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب “ (فرعون والو ! داخل ہوجاؤ سخت عذاب میں) ادخلوا میں ہمزہ قطعی ہے۔
Ayahs 40:51–55

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

بلاشبہ ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا والی زندگی میں مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کام نہ دے گی اور ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برے گھر میں رہنا ہے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت دی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

یہ کتاب ہدایت اور نصیحت تھی عقل والوں کیلئے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

سو آپ صبر کیجئے بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہے، اور اپنے گناہ کیلئے استغفار کیجئے اور صبح وشام اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے جو حمد کے ساتھ ہو

1:۔ احمد و ترمذی (رح) (وحسنہ) وابن ابی الدنیا (فی ذم الغیبۃ) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے جہنم کی آگ کو دور کردے گا پھر یہ (آیت ) ” انا لننصررسلنا “ الایہ (ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں) 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح روایت ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا لننصررسلنا “ الایہ فرمایا کہ اس نصرت سے مراد دلیل میں (مدد کرنا ہے) کہ اللہ تعالیٰ ان کی دلیل کو دنیا میں غلبہ عطا فرماتا ہے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایسے افراد نہیں بھیجے جو ان کی مدد کریں اور ان سے یہ لوگ خون بہا کا مطالبہ کریں جو انکے ساتھ دنیا میں غلط رویہ اپنائے اور دنیا میں مدد کئے جاتے ہیں۔ 5:۔ ابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویوم یقوم الاشھاد “ (جس روز گواہی دینے والے (فرشتے) کھڑے ہوں گے۔ اس سے مراد فرشتے ہیں۔ 6:۔ عبد الرزاق (رح) نے قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ اس نے اعمش سے (آیت ) ” ویوم یقوم الاشھاد “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد فرشتے ہیں۔ 8:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاشھاد “ سے مراد ہیں اللہ کے فرشتے اس کے انبیاء اور مؤمنین۔ 9:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاشھاد “ سے مراد ہیں چار فرشتے جو ہمارے اعمال لکھتے ہیں اور یہ آیت پڑھی (آیت ) ” وجآءت کل نفس معھا سآئق وشھید “ (ق آیت 21) اور ہر شخص آئے گا اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہی دینے والا ہوگا اور انبیاء بھی اپنی امتوں پر گواہی دیں گے اور (یہ آیت) ” وقالوا لجلودھم لم شھدتم علینا، قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء “ (اور وہ کہیں گے اپنی کھالوں سے کہ تم نے ہم پر کیوں گواہی دی وہ کہیں گے کہ ہم کو اللہ نے بلوایا ہے۔ 10:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وسبح بحمد ربک بالعشی والابکار “ (اور تسبیح بیان کر اپنے رب کی حمد کے ساتھ صبح کو اور شام کو) فرمایا اس سے فرض نمازیں مراد ہیں۔ 11:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بالعشی والابکار “ سے مراد ہے فجر اور عصر کی نماز۔
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو ان کے سینوں میں تکبر ہی ہے وہ کبھی بھی اس تک پہنچنے والے نہیں ہیں سو آپ اللہ سے پناہ طلب کیجئے بلاشبہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے (صحیح سند کے ساتھ) ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے انہوں نے کہا : دجال آخری زمانہ میں ہم میں سے ہوگا اور اس کے کاموں میں سے یہ چیزیں ہوں گی اور انہوں نے اس کے کاموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور کہنے لگے کہ وہ اس طرح کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی ” ان الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطن اتھم ان فی صدورھم الا کبر ما ھم ببالغیہ “ (جو لوگ بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس موجود ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑن نے نکلا کرتے ہیں کہ وہ اس تک کبھی پہنچنے والے نہیں ہیں) فرمایا جو وہ کہتا ہے اس تک نہیں پہنچے گا (آیت ) ” فاستعذ باللہ “ (اللہ سے پناہ مانگئے) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم فرمایا کہ (دجال کے فتنے سے پناہ مانگو) (آیت ) ” لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا آدمیوں کے پیدا کرنے سے بڑا کام ہے) یعنی زمین و آسمان کو پیدا کرنا ان کو پیدا کرنے سے بڑا کام ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے کعب بن احبار ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطن “ سے مراد یہودی ہیں ان کے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی اس بارے میں کہ وہ دجال کے معاملے میں انتظار کررہے تھے۔
Ayahs 40:57–60

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

البتہ آسمانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑی بات ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور برابر نہیں نابینا اور دیکھنے والا اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے برئے لوگوں کے برابر نہیں ہیں، لوگ کم نصیحت حاصل کرتے ہیں

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

بلاشبہ قیامت ضرور آنے والی ہے اور لیکن بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے رب نے فرمایا کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بلاشبہ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب بحالت ذلت جہنم میں داخل ہوں گے

3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ یعنی یہودیوں نے گمان کیا کہ ہم میں سے آخری زمانہ میں ایک بادشاہ ہوگا کہ سمندر اس کے گھٹنوں تک ہوگا اور بادل اس کے سرکے نیچے ہوگا آسمان اور زمین کے درمیان وہ پرندے کو پکڑے گا اس کے ساتھ روٹی کے پہاڑ اور نہر ہوگی۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت ) ” لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بڑا کام ہے) 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ان فی صدورھم الا کبر “ (ان کے دلوں میں بڑائی ہی بڑائی ہے۔ ) اس میں کبر کا معنی بڑائی ہے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ان کے دلوں میں جو کجی تھی اس نے ان کو جھٹلانے پر آمادہ کیا۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما یستوی الاعمی والبصیر “ (اور نہیں برابر ہے اندھا اور دیکھنے والا) فرمایا کہ اندھے سے مراد ہے کافر اور دیکھنے والے سے مراد ہے مؤمن (آیت ) ” والذین امنوا وعملوا الصلحت ولا المسی ٓ ء قلیلا ما تتذکرون (58) (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور وہ لوگ جو بدکردار ہیں برابر نہیں ہوسکتے تو لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہو) یعنی وہ اپنی سرکشی میں بہت دور نکل گئے تھے۔ دجال کا فتنہ بڑا فتنہ ہے : 7:۔ احمد وحاکم (رح) (وصححہ) جابر ؓ سے روایت کیا کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو فتنہ ہوا یا قیامت تک ہوگا (دجال کے فتنہ سے بڑا نہیں ہوگا) کوئی نبی نہیں ہوا مگر اس نے اپنی قوم کو ڈرایا اور میں بھی تم کو بتاتا ہوں اس کے بارے میں ایک ایسی چیز کہ کسی نبی نے مجھ سے پہلے نہیں بتائی آپ نے اپنے ہاتھ کو اپنی آنکھ پر رکھا پھر فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ 8:۔ ابن عدی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کوئی نبی ایسا نہیں ہے مگر اس نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا اور وہ کانا ہوگا اور اس کی آنکھوں کے درمیان ابھار ہے جس پر کافر لکھا ہوگا اس کے ساتھ دو وادیاں ہوں گی۔ ایک اس میں جنت ہوگی اور دوسری دوزخ ہوگی اس کی دوزخ جنت ہوگی اور اس کی جنت دوزخ ہوگی۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے داؤد بن عامر بن سعد بن ابی وقاص سے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں ہوا مگر اس نے دجال کے اوصاف کو اپنی امت کیلئے بیان کیا اور میں اس کی ایک صفت بیان کروں گا جس کو مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کیا کہ وہ کانا ہوگا۔ اور بلاشبہ اللہ عزوجل کانے نہیں ہیں۔ 10:۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابو داؤد و ترمذی (رح) نے (اس کو حسن کہا) ابوعبیدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے دجال سے اپنی امت کو نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تم کو اس سے ڈراتا ہوں پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے اس کی نشانیاں بیان کیں فرمایا شاید کہ عنقریب اس کو وہ شخص پالے گا جس نے مجھ کو دیکھا ہو اور میری کلام سنی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے ؟ فرمایا : آج کی طرح یا اس سے بہتر۔ 11:۔ ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید (رح) (فی السننہ) وحاکم (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ہزار یا اس سے زیادہ نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں کوئی نبی نہیں بھیجا گیا مگر اس نے اپنی کو (دجال سے) ڈرایا ہے اور میرے سامنے اس کی ایسی چیزیں ظاہر ہوئیں جو کسی اور کیلئے ظاہر نہیں ہوئی کہ وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اور اس کی داہنی آنکھ ابھرے ہوئے ڈھیلے والی ہوگی گویا وہ آنکھ چونا لگائی ہوئی دیوار تک لگا دی گئی۔ اور اس کی بائیں آنکھ (ایسی ہوگی) گویا کہ وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ وہ ہر کسی کی زبان بول سکتا ہے۔ اور اس کے ساتھ سبز جنت کی صورت ہوگی جس میں پانی جاری ہوگا اور اس کے ساتھ سیاہ آگ کی صورت ہوگی جو دھواں دے گی ہر قوم میں سے لوگ اس کی تابعداری کریں گے جن کو وہ ان کی زبان کے ذریعہ بلائے گا۔ 12:۔ احمد والبخاری ومسلم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا گیا جس نے اپنی امت کو اس کانے اور جھوٹے سے نہ ڈرایا ہو خبردار وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اور اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے۔ دجال کانا ہوگا : 13:۔ یعقوب بن سفیان نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کوئی نبی ایسا نہیں ہے کہ جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تم کو اس کے کام سے ڈراتا ہوں کہ وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب عزوجل کانا نہیں ہے۔ اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا اس کو لکھنے والا اور نہ لکھنے والا پڑھ لے گا اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وبزار (رح) وابن مردویہ (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں ایک ہزار یا اس سے زیادہ نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں اور ان میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جس نے اپنی قوم کو دجال نہ ڈرایا ہو اور میرے لئے ایسی بات ظاہر ہوئیں جو کسی اور کے لئے ظاہر نہیں ہوئیں اور وہ کانا ہوگا اور بلاشبہ تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ 15:۔ ابن ابی شیبہ واحمد و بخاری نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی جیسے کہ وہ ذات اس لائق ہے پھر دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تم کو اس سے خبردار کرتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا کہ اس نے اپنی امت کو نہ ڈرایا ہو نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا لیکن میں عنقریب اس کے بارے میں تم سے ایسی بات کہوں گا کہ کسی نبی نے اپنی قوم کو ایسی بات نہیں کی تم جان لو کہ وہ کانا ہوگا اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کانے نہیں ہیں۔ 16:۔ احمد نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم حجۃ الوداع کو بیان کرتے تھے اور ہمارا یہ خیال نہ تھا کہ وہ الوداعی حج ہوگا رسول اللہ ﷺ سے آپ نے مسیح دجال کا ذکر فرمایا آپ نے اس کو طویل ذکر کیا پھر فرمایا اللہ نے کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر اس نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا اور نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو ڈرایا اور ان کے بعد اور نبیوں نے بھی ڈرایا، مگر جو بات چھپی ہوئی ہے تم پر اس کے حال میں سے پس وہ تم پر چھپی نہیں رہے گی، تمہارا رب کانا نہیں ہے اس کو تین مرتبہ فرمایا۔ 17:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دجال کانا ہوگا اس کی آنکھ پر چھالے کا ابھار ہوگا اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہواگا۔ 18:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دجال کانا کنگھریالے تیڑھے بالوں والا سرخ رنگ والا ہے۔ اس کا سردرخت کی ٹہنی (کی طرح) ہے لوگوں میں عبدالعزی کے مشابہ ہے۔ خبردار ! ہلاک ہونے والے ہلاک ہوگئے وہ کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا البتہ میں زیادہ جانتا ہوں ان چیزوں کو جو دجال کے ساتھ ہوگی اس کے ساتھ دو جاری نہریں ہوں گی ان میں سے ایک ظاہر میں آگ ہے جو بھڑک رہی ہوگی جو شخص اسے پائے تو اس کو چاہئے کہ اس نہر پر آئے جسے وہ آگ دیکھ رہا ہے اور اپنی آنکھوں کو بند کرلے۔ پھر اپنے سر کو جھکا لے اسے پیئے کیونکہ وہ ٹھنڈی ہے اور دجال کی ایک آنکھ بند ہے اور اس پر بھاری ابھار ہے اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا ہر مؤمن اس کو پڑھ لے گا جو لکھنے والا ہوگا یا نہ لکھنے والا ہوگا۔ 20:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو دجال کے بارے میں ایک بات نہ بتاؤں جو کسی نبی نے بھی نہیں بتائی کہ وہ کانا ہوگا اور وہ آئے گا اس حال میں کہ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ کی طرح چیزیں ہوں گی جس کو جنت کہے گا وہ دوزخ ہوگی اور میں تم کو اس کے ساتھ اس طرح ڈراتا ہوں جیسے نوح نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔ 21:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد و ابوداؤد و طبرانی (رح) اور حاکم (رح) نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص تم میں سے دجال کے نکلنے کا سنے تو جتنا ہوسکے اس سے دور رہے کہ ایک آدمی اس کے پاس آئے گا اور وہ خیال کرے گا کہ یہ مؤمن ہے تو دجال برابر اس کے ساتھ لگا رہے گا یہاں تک کہ آدمی اس کی پیروی کرنے لگے گا۔ دجال کی شبہات کے معاملات میں (یعنی دجال اس کو شبہات میں ڈال کر گمراہ کردے گا) دجال کی قوت و طاقت کا ذکر : 22:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھ سے زیادہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے دجال کے بارے میں نہیں پوچھا۔ فرمایا تو مجھ سے اس کے بارے میں کیا پوچھتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور پینا ہوگا۔ فرمایا : وہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے زیادہ ہلکا ہے۔ 23:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کلمہ شہادت پڑھے تو چاہئے کہ اللہ سے پناہ مانگے مسیح دجال کے فتنہ سے۔ 24:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوہریرۃ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے تین چیزوں سے نجات پائی تو وہ نجات پا گیا اس کو تین مرتبہ فرمایا صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہیں فرمایا بیماری دجال اور ایسے خلیفہ کا قتل جو اس حق پر صبر کرے گا جو اسے عطا کیا گیا۔ 25:۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ دجال کے نکلنے کے بعد لوگ چالیس سال تک رہیں گے وہ کھجور بوئے گا تو تنے کھڑے ہوجائیں گے۔ 26:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوالعلابن شخیر (رح) سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد دوسرے انبیاء (علیہم السلام) دجال کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔ 27:۔ ابن ابی شیبہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ دجال نہیں نکلے گا یہاں تک کہ اس کا نکلنا مسلمانوں کیلئے پیاس کی حالت میں پانی پینے سے بھی زیادہ پسندیدہ ہوگا، ایک آدمی نے ان سے پوچھا ایسا کیوں ہوگا تو انہوں نے فرمایا مصیبت پر صبر کی وجہ سے۔ 28:۔ ابن ابی شیبہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ یہاں تک کہ کوئی غائب کسی مؤمن کے لئے دجال کے نکلنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگا دجال کا نکلنا کسی مؤمن کے لئے اس سنگریزہ سے زیادہ نقصان دہ نہیں ہوگا جس کو زمین سے اٹھاتا ہے قریب اور دور رہنے والے کا علم برابر ہوگا۔ 29:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ دجال کے اکثر تابعداری کرنے والے یہودی ہوں گے اور ان کے پادریوں کی اولاد ہوگی۔ 30:۔ ابن ابی شیبہ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ کانے دجال کی فوج کا اگلا حصہ چھ لاکھ ہوگا جو تیجان پہنے ہوئے ہوں گے۔ 31:۔ ابن ابی شیبہ نے واحمد ومسلم نے ہشام بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے لے کر قیامت تک دجال سے بڑھ کر کوئی بڑا معاملہ (یعنی فتنہ) نہیں۔ 32:۔ ابن ابی شیبہ نے واحمد و ترمذی (رح) (وصححہ) وابن ماجہ (رح) نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ نے بیان فرمایا دجال مشرق کی زمین سے نکلے گا جس کو خراسان کہا جاتا ہے ایسے لوگ اس کی پیروی کریں گے جن کے چہرے موٹی ڈھال کی طرح ہوں گے۔ 33:۔ احمد نے ابن ابی کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کی ایک آنکھ ایسی ہوگی کہ وہ سبز شیشہ ہے۔ 34:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عاصم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسیح الضلالۃ یعنی دجال روشن شناس والا بائیں آنکھ بند اور چوڑے سینے والا ہوگا وہ بدصورت ہوگا گویا کہ وہ فلاں بن عبدالعزیز ہے یا عبد العزی بن فلاں ہے۔ 35:۔ ابن ابی شیبہ نے سفینہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو خطبہ دیا اور فرمایا کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور دائیں آنکھ باہر کو ابھری ہوئی ہوگی اس کی آنکھوں کے درمیان کافر (لکھا ہوگا) اس کے ساتھ دو وادیاں ہوگی ان میں سے ایک جنت ہوگی اور دوسری دوزخ ہوگی اس کی جنت دوزخ اور اس کی دوزخ جنت ہوگی اور اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے جو نبیوں میں سے دو نبیوں کے مشابہ ہوں گے۔ ان میں سے ایک اس کی داہنی طرف اور دوسرا بائیں طرف ہوگا وہ لوگوں سے باتیں کرے گا تو اس کا ساتھی کہے گا تو نے سچ کہا تو اس کو لوگ سنیں گے اور وہ گمان کریں گے کہ دجال سچی بات نہیں کی یہ ایک فتنہ ہوگا پھر وہ چلے گا یہاں تک کہ شام آئے گا تو عیسیٰ (علیہ السلام) نیچے اتریں گے اور اس (دجال) کو عقبہافق کے پاس قتل کریں گے۔ دجال کی پیدائش : 36:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دجال کے والدین انتیس سال تک رہیں گے ان کا کوئی لڑکا پیدا نہ ہوگا پھر ان دونوں کا ایک کانا بچہ ہوگا وہ زیادہ تکلیف پہنچانے والا اور کم نفع دینے والا ہوگا اس کی آنکھیں سوئیں گی اور اس کا دل نہیں سوئے گا پھر اس کے والدین کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا والد لمبے قد کا آدمی اور بھرپور گوشت والا ہوگا، ناک لمبی ہوگی گویا کہ اس کی ناک مہار جیسی ہوگی اور اس کی ماں فرغانیہ ہوگی جس کے پستان بڑے بڑے ہوں گے۔ 37:۔ ابن ابی شیبہ نے مسلم (رح) سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال ساری زمین کو لپیٹ لے گا مگر مکہ اور مدینہ منورہ آئے گا تو ہر راستہ پر فرشتوں کی صفیں پائے گا وہ سنجۃ الجرف میں آئے گا اپنے خیمے لگادے گا پھر مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا تو ہر منافق مرد اور عورت دجال کی طرف نکل جائے گا۔ 38:۔ ابن ابی شیبہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ اگر دجال نکل آئے گا تو ایک قوم اس پر ایمان لائے گی اپنی قبروں میں۔ 39:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ دجال کرھان کے علاقہ سے اترے گا اس کے ساتھ اسی ہزار کا لشکر ہوگا ق ان پر سبز رنگ کی ایرانی چادریں ہوں گی جو ان کے قدموں تک پہنچ رہی ہوں گی ان کے چہرے تہ بہ تہ چڑھائی ہوئی ڈھالیں ہیں۔ 40:۔ ابن ابی شیبہ نے حوط عبدی کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ دجال کے گدھے کا کان البتہ ستر ہزار افراد کو سایہ کرے گا۔ 41:۔ ابن ابی شیبہ نے جنادہ بن امیہ دری (رح) سے روایت کیا کہ میں اور میرا ساتھی رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی کے پاس آئے ہم نے کہا ہم کو کوئی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو اور ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کرنا جو کسی اور سے سنی ہو اگرچہ ہمارے پاس اس کا تصدیق کرنے والا ہے فرمایا ہاں ٹھیک ہے (میں بیان کرتا ہوں) ہمارے درمیان ایک دن رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہوئے اور فرمایا میں تم کو دجال سے ڈراتا ہوں (اس کو تین مرتبہ فرمایا) کیونکہ کوئی نبی ایسے نہیں ہوئے جس نے اپنی امت کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ اے امت محمد ! وہ تمہارے درمیان ظاہر ہوگا وہ گھنگھریالے بالوں سفید رنگ والا اور بائیں آنکھ پر پردہ چڑھا ہوگا اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی اس کی دوزخ جنت ہوگی اور اس کی جنت دوزخ ہوگی اس کے ساتھ پانی کی نہر ہوگی اور روائی کا پہاڑ ہوگا وہ ایک آدمی پر مسلط ہوگا تو اس کو قتل کردے گا پھر اس کو زندہ کردے گا وہ اس کے علاوہ کسی اور پر مسلط نہیں ہوگا اور آسمان پانی برسائے گا اور زمین سبزہ اگائے گی اور وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا یہاں تک کہ وہ زمین کے ہر گھاٹ پر پہنچے گا اور وہ چار مسجدوں کے قریب نہیں جائے گا مسجد حرام، مسجد الرسول، مسجد مقدس، اور مسجد طور اور تم پر کوئی چیز لازم نہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے آپ نے دو مرتبہ فرمایا۔ قیامت سے قبل تیس کذاب ہوں گے : 42:۔ ابن ابی شیبہ نے و طبرانی (رح) نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس کذاب نکلیں گے۔ ان کے آخر میں کانا دجال ہوگا اس کی بائیں آنکھ پر پردہ ہوگا گویا کہ وہ آنکھ ہے ابویحیی انصار کے ایک بوڑھے کی، جب دجال نکلے گا وہ یہ خیال کرے گا کہ وہ اللہ ہے، جو شخص اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی اور اس کی پیروی کی تو اسے سابقہ کوئی بھی اچھا عمل نفع نہیں دے گا۔ اور جو شخص اس کا انکار کرے گا اور اس کو جھٹلائے گا تو اسے سابقہ کسی عمل کی وجہ سے سزا نہیں دی جائے گی اور وہ عنقریب ساری زمین پر غالب ہوگا مگر حرم اور بیت المقدس پر اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کے لشکروں کو شکست دے گا یہاں تک دیوار کی اوٹ اور درخت کی جڑ آواز دے گی۔ اے مؤمن ! یہ کافر ہے، میرے پیچھے چھپا ہوا ہے آؤ اور اس کو قتل کرو اور یہ ہرگز اس طرح نہیں ہوگا یہاں تک کہ تم ایسے امور دیکھو گے کہ تم ان کو اپنے ہاں بھی عظیم محسوس کرو گے تم آپس میں ایک دوسرے سے سوال کروگے کیا تمہارے نبی نے تمہارے سامنے ان میں سے کسی چیز کا ذکر کیا تھا۔ یہاں تک کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے۔ پھر اس کے پیچھے قبض ہوگا اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا موت کی طرف۔ 43:۔ ابن ابی شیبہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال سمندروں میں گھسے گا اپنے گھٹنوں تک اور بادلوں تک پہنچے گا اور سورج آگے بڑھے گا مغرب کی طرف اور اس کی پیشانی میں سینگ ہوگا جس سے سانپ نکلیں گے اور اس کے جسم میں سارے ہتھیاروں کی صورتیں ہوں گی یہاں تک کہ آپ نے تلوار، نیزہ اور چمڑے کی ڈھال کو بھی ذکر فرمایا۔ 44:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دجال نکلے گا اور زمین میں چالیس دن ٹھہرے گا اس میں سے ہر ایک گھاٹ کو پہنچے گا ان چالیس دنوں میں ایک دن جمعہ کی طرح ہوگا اور جمعہ مہینے کی طرح ہوگا اور مہینہ سال کی طرح ہوگا۔ 45:۔ ابن ابی شیبہ نے عبید بن عمیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک قوم دجال کا ضرور ساتھ دے گی اور وہ کہیں گے کہ ہم اس کے ساتھی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے لیکن ہم لئے اس کے ساتھ ہوتے ہیں تاکہ ہم اس کے کھانے میں سے کھائیں اور ہم درخت میں سے چریں (یعنی کھائیں) اور جب اللہ کا غضب نازل ہوگا تو ان سب پر بھی نازل ہوگا۔ 46:۔ طبرانی (رح) نے اشعت بن ابی الشعثاء (رح) سے روایت کیا کہ اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ عبداللہ بن مسعود کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اس کا ذکر کثرت سے نہ کرو کیونکہ جب کسی کام کا آسمان میں فیصلہ ہوتا ہے تو زمین کی طرف اس کا نزول جلدی ہی ہوجاتا ہے لوگوں کی زبانوں پر جاری ہونے سے پہلے۔
Ayahs 40:61–64

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے رات کو پیدا فرمایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو ایسی چیز بنائی جس میں دیکھتے بھالتے ہیں، بلاشبہ اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے اور لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

یہ اللہ ہے تمہارا رب ہے ہر چیز کا پیدا فرمانے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں سو تم کہاں الٹ کرجا رہے ہو

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح الٹے چلائے جاتے ہیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

وہ لوگ جو ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھہری ہوئی چیز بنادیا اور آسمان کو چھت بنادیا اور تمہاری صورتیں بنائیں سو تمہاری اچھی صورتیں بنادیں اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، یہ اللہ ہے تمہارا رب ہے، سو بابرکت ہے اللہ جو رب العلمین ہے

1:۔ سعید بن منصور (رح) وابن ابی شیبہ (رح) واحمد وعبد بن حمید (رح) والبخاری فی الادب و ابوداؤد و ترمذی (رح) والنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی (رح) وابن حبان وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ و ابونعیم فی الحلیہ و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دعا عبادت کا محصل ہے پھر یہ (آیت) پڑھی ” وقال ربک ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی “ (اور تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے غرور کی وجہ سے سرتابی کرتے ہیں یعنی میری دعا ہے (آیت ) ” سیدخلون جھنم دخرین “ (وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے) کیا تم جانتے ہو اللہ کی عبادت کیا ہے ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا غیر اللہ کو چھوڑ کر اللہ کے لئے عمل کو خالص کرنا۔ 2:۔ ابن مردویہ والخطیب نے براء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دعاعبادت ہے اور یہ (آیت) تلاوت فرمائی ” وقال ربک ادعونی استجب لکم “ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) اور ابوالشیخ نے العظمۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقال ربک ادعونی استجب لکم “ میری عبادت کرو۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سیدخلون جھنم دخرین “ یعنی ذلیل ہو کر (جہنم میں داخل ہوں گے۔ 5:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دعا مغفرت طلب کرنا۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وحاکم (رح) واحمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتے ہیں۔ دعاء کی فضیلت و برکت : 7:۔ احمد و حکیم ترمذی (رح) وابویعلی و طبرانی (رح) نے معاذ ؓ سے روایت کیا کہ احتیاط تقدیر کے معاملہ میں کوئی نفع نہیں دیتی لیکن دعا نفع دیتی ہے۔ ان آفات سے جو نازل ہوئیں اور ان آفات سے جو نازل نہیں ہوئیں اللہ کے بندوں تم پر دعا کرنا لازم ہے۔ 8:۔ حکیم ترمذی (رح) نے نوادرالاصول میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی پر دعا کو کھول دیں (یعنی دعا کی توفیق دیں) تو اس کو چاہئے دعا کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرماتے ہیں۔ 9:۔ حکیم ترمذی (رح) وابن عدی نے نوادرالاصول میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ دعا میں اصرار کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ 10:۔ حکیم ترمذی (رح) نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم نے اس بارے میں پایا جو اللہ تعالیٰ نے بعض کتابوں میں نازل فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں مصیبت نازل کرتا ہوں (پھر) اس کے بدلے میں بندے سے دعا کرواتا ہوں۔ 11:۔ ابن المنذر نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقال ربک ادعونی استجب لکم “ (مجھ کو پکارو) میں تمہاری درخواست کو قبول کروں گا) سے مراد ہے کہ تمہارے رب نے فرمایا میرے بندے جو تو نے مجھ سے دعا کی اور تو نے مجھ سے امید رکھی بلاشبہ میں عنقریب تجھ کو بخش دوں گا جو تجھ میں عیب اور کمزوریاں ہیں۔ اگر تو مجھ سے زمین کے برابر گناہوں کے ساتھ ملاقات کرے گا تو میں اس کے برابر مغفرت کے ساتھ تجھ سے ملاقات کروں گا اگر تو اتنے گناہ کرے گا یہاں تک کہ تیرے گناہ آسمان کے افق کو پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے استغفار کرے گا تو میں تجھ کو بخش دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ 12:۔ ابن المنذر وحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ افضل عبادت دعا ہے اور یہ (آیت) پڑھی ” وقال ربک ادعونی استجب لکم “ 13:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقال ربک ادعونی استجب لکم “ سے مراد ہے عمل کرو اور خوش ہوجاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ وہ ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا کو قبول فرمائے اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ عطا فرماتے ہیں۔ 14:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا امتوں میں سے کوئی بھی امت وہ چیز نہیں دی گئی جو اس امت کو دی گئی مگر برگزیدہ بندے کی اولاد اس سے کہا جائے گا تو سوال کر تجھ کو عطا کیا جائے گا۔ 15:۔ بخاری (رح) نے الادب میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کون سی عبادت افضل ہے ؟ فرمایا : آدمی کی دعا اپنی ذات کے لئے۔ 16:۔ حکیم ترمذی (رح) نے نوادرالاصول میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا ایمان والوں سے کہہ دو جب وہ مجھ سے دعا مانگیں تو مجھ سے جلدی نہ کریں اور نہ مجھے بخیل جانیں کیا وہ نہیں جانتے کہ میں بخیل سے سب سے زیادہ بغض رکھتا ہوں سو کس طرح میں بخیل ہوسکتا ہوں اے موسیٰ مجھ سے بخل کا خوف نہ کر جب تو مجھ سے کسی بڑی چیز کا سوال کرے اور جب تو مجھ سے کسی چھوٹی چیز کا سوال کرے تو شرم نہ کر تو مجھ سے مسالے نمک وغیرہ مانگھ اور مجھ سے اپنی بکری کا چارہ مانگ۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا تو نہیں چاہتا کہ میں نے رائی کے دانے اور اس سے اوپر (بڑی سے بڑی چیزوں) کو پیدا کیا اور میں نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا مگر میں نے جان لیا کہ مخلوق اس کی طرف محتاج ہوگی پس جو شخص مجھ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ میں دینے اور روکنے پر قادر ہوں تو میں اس کی حاجت اس کی مغفرت کے ساتھ پوری کرتا ہوں اور اگر وہ میری حمد بیان کرتا ہے جب میں اس کو دیتا ہوں اور جب اس سے روک لیتا ہوں تو میں اس کو حمادین کے گھر میں سکونت عطا کرتا ہوں اور جو بندہ مجھ سے کسی چیز کا سوال نہ کرے پھر میں اس کو عطا کروں تو اس پر حساب سخت ہوگا۔ نمک کا بھی اللہ سے سوال کرے : 17:۔ حکیم ترمذی (رح) نے مالک بن انس ؓ سے روایت کیا کہ عروہ بن زبیر ؓ نے فرمایا کہ میں اپنی نماز میں اپنی حاجتوں کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں یہاں تک کہ اپنے اہل و عیال کے لئے نمک کا سوال کرتا ہوں۔ 18:۔ حکیم ترمذی (رح) نے زہرہ بن معبد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے محمد بن المنکدر کو یہ فرماتے ہوئے سنا ” اللہم قوذکری “ (اے اللہ ! میرے ذکر کو قوت دے) کیونکہ اس میں میرے گھروالوں کے لئے نفع ہے۔ 19:۔ احمد نے الزھد میں ثابت بنانی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ستر سال عبادت کی وہ اپنی دعا میں کہا کرتا تھا اے میرے رب مجھے میرے عمل کی جزا دینا کہ میں جنت میں داخل ہوجاؤں وہ اسی حال میں ستر سال رہا جب وہ فوت ہوا تو اس سے کہا گیا تو نے اپنا عمل پورا کرلیا۔ دنیا میں کون سا عمل اس کے ہاں زیادہ قابل اعتماد تھا تو اللہ تعالیٰ کے ہاں دعا سے زیادہ کوئی عمل قابل اعتماد نہ تھا۔ وہ اپنی دعا میں کہنے لگا : اے میرے رب ! جب میں دنیا میں تھا تو میں نے سنا تھا کہ آپ لغزشوں سے درگزر فرماتے ہیں سو آج کے دن میری لغزشوں کو معاف کردیجئے۔ اسے جنت میں چھوڑ دیا جائے گا۔ اما قولہ تعالیٰ : اللہ الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ والنھار مبصرا “۔ 20:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عسی بن مریم (علیہ السلام) نے فرمایا : اے حواریوں کی جماعت ! نماز کا وقت ہوگیا ہے۔ حواری عبادت کی حالت میں باہر نکلے کہ پیٹ پشت سے لگے ہوئے تھے، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں، رنگ زرد پڑگئے عیسیٰ (علیہ السلام) انکو جنگل کی طرف لے گئے اور ایک جڑ کے پاس کھڑے ہوگئے اللہ کی حمد اور اس کی ثنابیان کی، پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے حکموں کو پڑھنا شروع کیا اور فرمایا اے حواریوں کی جماعت سنو تم جو جو میں تم کو کہوں میں اللہ کی نازل کردہ انجیل میں کچھ چیزیں پاتا ہوں ان پر عمل کرو ! انہوں نے کہا : اے روح اللہ ! وہ کیا ہیں ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے رات کو تین چیزوں کے لئے پیدا کیا اور دن کو سات چیزوں کے لئے پیدا کیا جس شخص پر رات اور دن گزر گئے جبکہ اس نے ان کاموں میں سے کوئی بھی نہ کیا تھا، تو اس سے بروز قیامت دن اور رات جھگڑا کریں گے اللہ تعالیٰ نے رات کو اس لئے پیدا کیا تاکہ اس میں سست رگیں آرام کریں جن کو تو نے اپنے دن میں تھکا دیا تھا اور تو اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے جن تو نے دن میں کئے پھر دوبارہ اسے نہ کرے اور تو اس میں صابرین کی عبادت کرے اس میں ایک تہائی رات سو جا اور ایک تہائی رات کو کھڑا ہوجا اور ایک تہائی رات کو اپنے رب کی طرف آہ وزاری کر یہ وہ کام ہیں کہ جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے رات کو پیدا کیا اور دن کو پیدا کیا تاکہ تو اس میں فرض نماز کو ادا کرے کہ جس کے بارے میں تو پوچھا جائے گا اور جس کے بارے میں تجھ سے حساب لیاجائے گا اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کر اور زمین میں چل پھر تاکہ اپنے دل کی روزی کو طلب کرے اور تو اس میں اللہ کے دوست کو ملے جس طرح اللہ تعالیٰ تم پر رحمت فرماتا ہے اور تم جنازہ کے پیچھے جاؤ تاکہ تم (اس حال میں) لوٹو کہ تم (اللہ کی طرف سے) بخشے جاچکے ہو اور تم نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکو اور یہ ایمان کی چوٹی ہے اور دین کا سہارا ہے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو اور ایک دوسرے پر رحم کرو ابراہیم خلیل الرحمن (علیہ السلام) اپنے قبہ میں ہیں اور جس پر رات اور دن ایسے گزر گئے جبکہ اس نے یہ کام نہ کئے ہوں تو قیامت کے روز دن ورات اس سے جھگڑا کریں گے جبکہ ملک مقدر (یعنی اللہ تعالیٰ ) کے پاس ہوگا۔
Ayah 40:65

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہ زندہ ہے کوئی معبود نہیں اس کے سوا تم اسے پکارو اس طرح سے کہ خالص اس کی فرمانبرداری کرنے والے ہو۔ سب تعریف ہے اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو آدمی ” لا الہ الا اللہ “ کہتے تو اس کو چاہئے کہ اس کے پیچھے (آیت ) ” الحمد للہ رب العلمین “ بھی کہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” فادعوہ مخلصین لہ الدین، الحمد للہ رب العلمین “ کا یہی مطلب ہے (تم سب لوگ خاص اعتقاد کرکے اسی کو پکارو ساری خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ جب کوئی کہے ” لا الہ الا اللہ “ تو اس کے پیچھے (آیت ) ” الحمد للہ رب العلمین “ کہے پھر یہ (آیت) پڑھی ” ھو الحی لا الہ الا ھو فادعوہ مخلصین لہ الدین “ (واللہ اعلم ) ۔
Ayahs 40:66–67

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے بلاشبہ میں اس سے منع کیا گیا ہوں کہ ان کی عبادت کروں جن کی اللہ کو چھور کر تم عبادت کرتے ہو جبکہ میرے رب کے طرف سے میرے پاس واضح نشانیاں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ رب العلمین ہی کا فرمانبردار بنوں

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پیدا فرمایا پھر تمہیں اس حالت میں نکالتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو پھر تم اپنی طاقت کو پہنچ جاؤ پھر تاکہ تم بوڑھے ہوجاؤ اور تم میں سے بعض کو اس سے پہلے اٹھالیتا ہے اور تاکہ تم اجل مسمی کو پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سمجھ حاصل کرو

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولید بن مغیرہ اور شیبہ بن ربیعہ دونوں نے کہا اے محمد ﷺ ان باتوں سے لوٹ جاؤ جو کچھ تم کہتے ہو اور اپنے آباؤواجداد کے دین کو لازم پکڑو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ” قل انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ لما جآءنی البینت من ربی وامرت ان اسلم لرب العلمین (66) ۔ (آپ ان مشرکوں سے کہہ دیجئے کہ مجھے ان معبودوں کی پوجا کرنے کی ممانعت کردی گئی ہے جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس اس کی کئی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف رب العالمین کے سامنے سرجھکالوں )
Ayahs 40:68–70

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جو زندہ فرماتا ہے اور موت دیتا ہے پھر جب وہ کسی حکم کا فیصلہ فرماتا ہے تو یہی فرما دیتا ہے کہ ہوجا لہذا وہ ہوجاتا ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑا کرتے ہیں کہاں الٹے پھرے جار ہے ہیں

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے اس کتاب کو جھٹلایا اور اس چیز کو جھٹلایا جس کو ہم رسولوں کے واسطہ سے بھیجا سو عنقریب وہ لوگ جان لیں گے

1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ سات سال کی عمر میں بچے کے دودھ والے دانت ٹوٹتے ہیں اور چودہ سال کی عمر میں احتلام کرلیتا ہے (یعنی بالغ ہوجاتا ہے) اکیس سال کی عمر میں اس کی لمبائی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور اٹھائیس سال کی عمر میں اس کی عقل پوری ہوجاتی ہے اور تینتیس سال کی عمر میں اس کی عقل پختہ ہوجاتی ہے۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومنکم من یتوفی من قبل “ (اور تم میں سے بعض پہلے سے فوت ہوجاتے ہیں) یعنی بوڑھا ہونے سے پہلے (آیت ) ” ولتبلغوا اجلا مسمی “ (تاکہ تم اپنی مقرر مدت تک پہنچ جاؤ) یعنی بڑھاپے اور جوانی کو (آیت ) ” ولعلکم تعقلون “ (تاکہ تم سمجھ جاؤ) اپنے رب کی طرف سے کہ اس نے تم کو زندہ کیا ویسے تم کو موت دے گا اور یہ مکہ والوں کے لئے ہے وہ جی اٹھنے کو جھٹلاتے تھے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی یصرفون “ یعنی کیسے وہ جھٹلاتے ہیں حالانکہ وہ سمجھتے ہیں۔
Ayah 40:71

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی وہ کھینچے جائیں گے

1:۔ احمد و ترمذی (رح) (وحسنہ) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے البعث والنشور میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” اذ الاغلل فی اعناقہم والسلسل یسحبون (71) فی الحمیم، ثم فی النا ریسجرون “ (جبکہ انکی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں (جن پر باند ھ کر) انکو کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا پھر آگ میں ان کو جھونک دیا جائے گا اور اتنا سکہ اور آپ نے لکڑاکے بنالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ آسمان سے زمین کی طرف پھینکا جائے جبکہ یہ پانچ سو سال کا راستہ ہے تو وہ رات ہونے سے پہلے زمین تک پہنچ جائے گا اور اگر زنجیر کا سرا لٹکایا جائے تو وہ چالیس سال نیچے آتی رہے گی اور زمین کی گہرائی تک نہیں پہنچے۔ طوق اور زنجیروں کی بارش : 2:۔ ابن ابی حاتم و طبرانی (رح) فی الاوسط وابن مردویہ (رح) نے یعلی بن منبہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ حدیث کی رسول اللہ ﷺ کی طرف رفع کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کالے اور اندھیرے بادلوں کو دوزخ والوں کے لئے پیدا فرمائے گا اس بادل اور دوزخ والوں سے پوچھا جائے گا تم کس چیز کو طلب کرتے ہو، تو وہ دنیا کے بادلوں کو یاد کریں گے اور وہ کہیں گے اے ہمارے رب پانی (چاہئے) تو وہ بادل ان پر طوقوں کی بارش کرے گا جو زیادہ کردیئے جائیں گئے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں اضافہ کردیں گی ان کی زنجیروں میں اور انگارے ان پر شعلے پھینکیں گے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ (آیت ) ” والسلسل یسحبون (71) فی الحمیم “ پڑھتے تھے 4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ اور وہ رمضان کے مہینہ میں نماز پڑھ رہے تھے اور یہ آیت باربار پڑھتے تھے (آیت ) ” فسوف یعلمون (70) اذ الاغلل فی اعناقہم والسلسل یسحبون (71) فی الحمیم، ثم فی النا ریسجرون (72)