Ayahs 34:34–36ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ دو آدمی جو آپس میں شریک تھے ایک ان میں سے ساحل کی طرف نکل گیا اور دوسرا گھر میں رہا۔ جب نبی ﷺ کی بعثت ہوئی تو ساحل کی طرف جانے والے نے اپنے ساتھی کو لکھا کہ نبی ﷺ کی بعثت کے بعد کیا معاملہ ہوا تو اس نے ساتھی کی طرف لکھا کہ قریش میں سے کسی نے اس کی اتباع نہیں کی مگر لوگوں میں سے گھٹیا اور مسکین لوگوں نے اس کی پیروی کی یہ خط پڑھ کر اس نے اپنی تجارت کو چھوڑا اور اپنے ساتھی کے پاس آکر کہا اس نبی کے بارے میں میری رہنمائی کر وہ خود کتابیں پڑھتا تھا وہ نبی ﷺ کے پاس آیا پوچھا آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں آپ نے فرمایا فلاں فلاں چیز کی طرف اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں پھر آپ نے پوچھا تجھے اس بارے میں کیسے معلوم ہوا تو اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں پھر آپ نے پوچھا تجھے اس بارے میں کیسے معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ کس نبی ﷺ کو نہیں بھیجا جاتا مگر یہ کہ اس کی اتباع کمزور اور مسکین لوگوں نے کی تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ آیت وما ارسلناک فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا۔ اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا مگر ان کے خوشحال لوگوں نے کہا اور نبی کریم ﷺ نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ جو بات تو نے کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق کی۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا قال مترفوھا سے مراد جابر رئیس شرفاء اور برائی کے قائد۔
3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال مترفوہا سے مراد ہے کہ ان کے سرکش اور جابرلوگ۔
Ayahs 34:37–381۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عندنا زلفی کہ ہمارے نزدیک قرب باعث نہیں۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں کا اندازہ مال کی زیادتی اور اولاد کی زیادت سے نہ لگاؤ کیونکہ کافر کو بھی مال دیا جاتا ہے اور بعض اوقات مومن سے اس کو روک لیا جاتا ہے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ وہ یوں دعا کرتے تھے اے اللہ مجھے ایمان اور نیک عمل عطا فرما اور مجھے مال اور اولاد سے دور رکھ۔ کیونکہ میں نے تیرا ارشاد سنا ہے آیت وما اموالکم ولا اولادکم بالتی تقربکم عندنا زلفی اور تمہارے مال اور اولاد ایسی چیز نہیں جو درجہ میں تم کو ہمارا مقرب بنادے۔
رفع درجات اخلاص وعمل سے حاص لہوں گے
4۔ احمد ومسلم وابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتے لیکن تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتے ہیں۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاولئک لہم جزاء الضعف بما عملوا سو ایسے لوگوں کے لیے کئی گنا ثواب ہے یعنی ایک نیکی کے بدلے میں دس نیکیاں اور اللہ کے راستے میں ایک نیکی کے بدلے میں سات سو نیکیاں عطا فرماتے ہیں۔
6۔ الحکیم الترمذی نے نواد الاصول میں وابن المنذر وابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ جب مومن غنی اور متقی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو دوگنا اجر عطا فرماتے ہیں پھر یہ آیت تلاوت وما اموالکم سے لے کر فاولئک لہم جزاء الضعف یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے دگنا بدلہ ہے یعنی نیکی کوئی گنا کردیتے ہیں۔ کہ وہ بالا خانوں میں امن سے رہیں گے۔
7۔ ابن ابی شیبہ والترمذی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں بالاخانے ہیں کہ کسی کا ظاہری حصہ اندر سے اور اس کا اندرونی حصہ باہر سے دیکھا جاتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا یہ بالاخانے کس کے لیے ہوں گے فرمایا جو اچھی بات کرے اور کھانا کھلائے ہمیشہ روزے رکھے اور رات کو نماز پڑھے جبکہ لوگ سو رہے ہوں۔
Ayah 34:391۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وما انفقتم من شیء فہو یخلف کے بارے میں پوچھا گیا کیا یہاں خرچ کرنے سے مراد اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ہے تو انہوں نے فرمایا یہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد ہے آدمی کا اپنی ذات پر خرچ کرنا اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا تو اللہ تعالیٰ اس کا بدل عطا فرماتے ہیں۔
2۔ سعید بن منصور والبخاری فی الادب المفرد وابن المنذر وابن ابی حاتم وفی شعب الایمان ابن عباس رضی الہ عنہما سے روایت کیا کہ آیت وما انفقتم من شیء فہو یخلفہ سے مرا د کہ جو آدمی بغیر فضول خرچی کے اور بغیر کنجوسی کے خرچ کرتا ہے۔
3۔ البیہقی فی شعب الایمان حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جو کچھ خرچ کرتے ہو اپنے اہل و عیال پر بغیر فضول خرچی اور کنجوسی کے تو وہ بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ہے۔
4۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر و سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما انفقتم من شیء فہو یخلفہ سے مراد ہے بغیر فضول خرچی اور بغیر کنجوی سی کے خرچ کرنا۔
5۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ جب تم میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہو تو اس کو چاہیے کہ اس کے خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرے۔ اور اس آیت وما انفقتم من شیء فہو یخلفہ کی تاویل نہ کرے۔ کیو کہ رزق تقسیم کیا جاچکا ہے وہ کہتے ہیں کہ شاید اس کا رزق تھوڑا ہو جبکہ وہ پر خوشحالی کا رزق خرچ کررہا ہو۔
6۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما انفقتم من شیء فہو یخلفہ سے مراد ہے کہ جو کچھ بدل ہوتا ہے وہ کبھی اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور بعض وقت انسان اپنے سارے مال کو خرچ کرتا ہے خیر کے راستے میں اسے مال کا بدل نہیں ملتا یہاں تک کہ وہ مرجاتا ہے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے فرمایا آیت وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقہا ویعلم اور کوئی جانور ایسا نہیں مگر اس کا رزق اللہ پر ہے پھر فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جانور کو جو دیتا ہے وہ بھی اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور بعض وقت اس کو رزق نہیں عطا فرماتے یہاں تک کہ وہ مرجاتے ہیں۔
7۔ البیہقی فی شعب الایمان جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو بھی مال بندہ خرچ کرتا ہے تو اس کا بدل عطا کرنا اس کے ذمہ ہے۔ مگر جو مال عمارت بنانے اور نافرمانی میں خرچ کیا جائے اس کا بدلہ نہیں دیا جاتا۔
8۔ ابن عدی فی الکامل والبیہقی نے دوسری سند سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نیک کام صدقہ اور جو اپنی جان پر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے تو اس کے لیے صدقہ لکھ دیا جاتا ہے اور جس مال کو خرچ کر کے اپنی عزت کو بچاتا ہے تو اس کے بدلے میں بھی اللہ تعالیٰ صدقہ لکھ دیتے ہیں ور یہ نفقہ جو مومن اس کو خرچ کرتا ہے تو اس کا بدل اللہ پر لازم ہے مگر وہ خرچ کرنا جو کسی گناہ میں یا عمارت بنانے میں ہو تو اس کا عوض نہیں ملتا ابن المنکدر سے پوچھا گیا فرمایا کہ انسان نے جس کے بدلہ میں اپنی عزت بچائی اس کے بدلہ میں اس کے لیے صدقہ لکھا جاتا ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا جو وہ شاعر اور متقی صاحب زبان کو عطا کرے۔
9۔ ابو یعلی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار ! تمہارے اس زمانے کے بعد کاٹنے والا زمانہ آئے گا خوشحال کو اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہوگا خرچ کرنے کا ڈر کاٹے گا جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وما انفقتم من شیء فہو یخلفہ اور جو کچھ تم خرچ کروگے کسی چیز میں سے تو وہ اس کے عوض دے گا۔
10۔ البخاری وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عز وجل نے فرمایا اے ابن آدم خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔
صدقہ خیرات نحوست کو دور کرتے ہیں
11۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر دن میں نحوست ہوتی ہے اسی دن کی نحوست کو دفع کرو صدقہ کے ساتھ پھر فرمایا بدل کے مواقع پر عطا کرو بلاشبہ میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت وما انفقتم من شیء فہو یخلفہ اور جو کچھ تم خرچ کروگے کسی چیز میں سے تو وہ اس کا عوض دے گا یعنی جب تم نے خرچ نہ کیا تو اس کا عوض کیسے ملے گا۔
12۔ الحکیم الترمذی نوادر الاصول میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسمان سے مدد نازل ہوتی ہے مشقت کے حساب سے۔
13۔ الحکیم الترمذی نے زبیر بن عوام ؓ سے روایت کیا کہ میں آیا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ آپ نے میرے پیچھے سے میری پگڑی کی ایک جانب کو پکڑ کر فرمایا اے زبیر میں خاص طور پر تیری طرف اور لوگوں کی طرف عام طور پر اللہ کا پیغام لانے والا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تمہارے رب نے جب عرش پر قرار پکڑا تو اپنی مخلوق کی طرف نظر فرمائی اور فرمایا اے میرے بندو ! تم میری مخلوق ہو اور میں تمہارا رب ہوں تمہارے رزق میرے ہاتھ میں ہیں میں نے تمہیں کن چیزوں کا مکلف بنایا ہے اس میں نہ تھکتے رہو مجھ سے اپنے رزق طلب کرو کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا تو مال خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا اور تو سعت پیدا کر میں تجھ پر وسعت کروں گا۔ اور تنگی نہ کر ورنہ میں تجھ پر بھی تنگی کروں گا اصرار نہ کر ورنہ میں تجھ پر اصرار کروں گا غمگین نہ ہو ورنہ تجھ پر غم لازم کردوں گا۔ بلاشبہ رزق کا دروازہ کھلا ہے سات آسمانوں کے اوپر سے جو ملا ہوا ہے عرش کی طرف جو رات اور دن کو بند نہیں کیا جاتا اس دروازہ سے اللہ تعالیٰ ہر انسان پر رزق کو اتارتے ہیں اس کی نیت عطیہ صدقہ اور نفقہ کے حساب سے پس جو شخص اس میں اضافہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے لیے اضافہ کردیتے ہیں اور جو آدمی اس میں کمی کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس میں کمی کردیتا ہے اور جو شخص روک لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے روک لیتے ہیں اے زبیر خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ اور مشکیزے کا منہ بندنہ کرو ورنہ تجھ پر اس کا دروازہ بند کردیا جائے گا تو شمار نہ کر ورنہ تجھ پر بھی شمار کیا جائے اور کنجوسی مت کرو ورنہ تجھ پر بھی کنجوسی کی جائے مقروض پر سختی نہ کرو ورنہ تجھ پر بھی سختی کی جائے گی اے زبیر ! اللہ تعالیٰ خرچ کرنے کو پسند فرماتے ہیں اور بخل کرنے ناپسند فرماتے ہیں اور بلاشبہ سخاوت یقین میں سے ہے اور بخل شک میں سے ہے جس نے یقین کرلیا وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا اور جس نے شک کیا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا اے زبیر اللہ تعالیٰ سخاوت کو پسند فرماتے ہیں اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑے کے ساتھ اور شجاعت کو پسند فرماتے ہیں اگرچہ بچھو یا سانپ کے قتل کرنے کی صورت میں اے زبیر ! بڑی مصیبت پر صبر اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور شہوات کے غلبہ کے وقت کامل یقین اللہ تعالیٰ کو پسند ہے شبہات کے نزول کے وقت کام عقل اللہ کو پسند ہے اور سچے تقویٰ کو پسند فرماتے ہیں حرام اور خبیث چیزوں کے وقت اے زبیر ! بھائیوں کی تعظیم و تکریم کر اور نیک لوگوں کی عزت کر اور اخیار کی توقیر کی اور پڑوسی سے صلہ رحمی کر اور برے لوگوں کے ساتھ نہ چل جس نے ایسا کیا وہ جنت میں داخل ہوگا بغیر حساب کے اور بغیر عذاب کے یہ اللہ کی وصیت ہے میری طرف اور میری وصیت ہے تیری طرف۔
Ayahs 34:40–451۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم یقول للمئکۃ اھء لاء ایاکم کانوا یعبدون پھر ہم فرشتوں سے کہیں گے کیا یہ لوگ خاص کر تمہاری عبادت کرتے تھے یعنی یہ بطور استفہام کے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ءانت قلت للناس (المائدہ آیت 116) کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو)
2۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل کانوا یعبدون الجن (بلکہ یہ جنات کی عبادت کرتے تھے) یعنی شیاطین کی۔
3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کی۔ آیت وما اتینہم من کتب یدرسونہا اور ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں کہ ان کو پڑھنے پڑھاتے ہوں یعنی ان کے پاس کوئی ایسی کاتب نہیں تھی جس کو وہ پڑھتے ہوں کہ وہ یہ جان لیں کہ جو پیغام حق آپ لاتے ہیں وہ حق ہے یا باطل ہے۔
ہر امت کے حق میں ڈرانے وال آیا
4۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما اٰتینہم من کتب یدرسونہا یعنی ایسی کوئی کتاب ہم نے ان کو نہیں دی کہ وہ اس کو پڑھتے ہوں آیت وما ارسلنا الیہم قبلک من ذیر اور ہم نے ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا اور یہ بھی فرمایا آیت وان من امۃ الا خلا فیہا نذیر (فاطر آیت 24) اور کوئی امت نہیں گذری مگر اس میں ڈرانے والا گزر چکا ہے۔ اور یہ آیت اس آیت کے مناقص نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی نبی اس دنیا سے چلا جاتا تو بعد والے لوگ اسی کے احکامات کی پیروی کرتے رہتے یہاں تک کہ دوسرا نبی آجاتا۔
5۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وما بلغوا معشار ما اتینہم اور جو کچھ ہم نے ان گزشتہ امتوں کو دیا تھا اس کے دسویں حصے کو بھی یہ کفار مکہ نہیں پہنچے۔ یعنی وہ دنیا میں اس قدرت تک نہ پہنچے جو ہم نے ان کو عطا کی۔
6۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکذب الذین من قبلہم اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے یعنی پہلی امتوں نے آیت وما بلغوا اور وہ نہیں پہنچے یعنی جنہوں نے محمد ﷺ کا انکار کیا آیت معشار ما اٰتینہم اس کے دسویں حصے یعنی وہ اس قوت عزت دنیا اور اموال تک نہیں پہنچے۔
7۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکذب الذین من قبلہم یعنی جھٹلایا ان لوگوں نے ان سے پہلے آیت وما بلغوا معشار مااٰتینہم اللہ تعالیٰ ان کو بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو جو قوت اور دوسری چیزیں دی تھیں وہ تم کو نہیں دی گئیں۔ آیت فکیف کان نکیر سو میر عذاب ان پر کیسا آیا یعنی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ہلاک کردیا حالانکہ وہ لوگ زیادہ قوت والے اور شان و شوکت والے تھے۔
Ayah 34:461۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل انما اعظکم بواحدۃ فرمادیجیے میں تم کو ایک بات سمجاھتا ہوں یعنی میں تم کو صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نصیحت کرتا ہوں آیت ان تقوموا للہ مثنی وفرادی یعنی تم اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک ہو کر کھڑے ہوجاؤ یعنی دو دو ایک ایک۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل انما اعظکم بواحدۃ فرما دیجیے میں تم کو ایک بات سمجھاتا ہوں یعنی لا الہ الا اللہ کی نصیحت کرتا ہوں۔
3۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل انما اعظکم بواحدۃ یعنی میں لا الہ الا اللہ کی نصیحت کرتا ہوں آیت ان تقوموا للہ کہ تم کھڑے ہوجاؤ اللہ کے لیے اس سے پاؤں پر کھڑا ہونا مراد نہیں ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے آیت کونوا قوامین بالقسط (النساء آیت 135) کہ تم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے والے بلکہ مراد یہ ہے کہ تیار ہوجاؤ آمادہ ہوجاؤ۔
4۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ایک آدمیدوسرے آدمی کے ساتھ یا اکیلا کھڑا ہوجائے اور اس بات میں غور وفکر کرے کہ تمہارے ساتھی یعنی محمد ﷺ کو کوئی جنون ہے تو وہ کہے گا اس میں کوئی جنون نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ قیامت تک کے تمام انسان وجنات کے لیے نبی ہیں
5۔ ابن ابی حاتم نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے تین چیزیں دی گئیں مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں اور مجھے کوئی فخر نہیں ہے میرے لیے غنیمتوں کو حلال کردیا گیا اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کی گئیں وہ لوگ اپنے غنیمت کے مالوں کو اکٹھا کرتے تھے اور اس کو جلادیتے تھے اور مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف بھیجا گیا جبکہ ہر نبی اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا تھا اور میرے لیے زمین کو سجدہ کی جگہ اور پاک بنادیا میں اس پاک مٹی سے تیمم کرتا ہوں اور میں اس میں نماز پڑھتا ہوں جہاں نماز کا وقت ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ان تقوموا للہ مثنی وفرادی کہ تم اللہ کے لیے کھڑے ہوجاؤ دو دو اور ایک ایک اور اپنے نبی کے بارے میں سوچ لو اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے ایک ماہ کی مسافت تک۔
Ayahs 34:47–501۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل ما سألتکم من اجر آپ فرماد یجیے کہ جو معاوضہ میں تم سے طلب کروں وہ تمہارا ہی ہے اجر سے مراد انعام ہے۔ آیت فہو لکم وہ تمہارا ہی ہے۔ یعنی میں تم سے اسلام پر کوئی سوال نہیں کرتا کسی مزدوری کا آیت قل ان ربی یقذف بالحق علام الغیوب، قل جاء الحق وما ئبدء الباطل فرمادیجیے تیرا رب حق کو باطل پر غالب کر رہا ہے وہی چھپی باتوں کو خوب جاننے والا ہے آپ فرمادیجیے کہ حق آگیا اور جھوٹے معبود نہ پہلی بار پیدا کرتے ہیں اور نہ دوبارہ پیدا کریں گے۔ یعنی شیطان نہ پہلی بار پیدا کرتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا جب انسان وہ ہلاک ہوتا ہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت یقذف بالحق حق کو باطل پر غالب کر رہا ہے۔ یعنی وہ نازل کرتا ہے حق کو وحی کے ذریعہ۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل جاء الحق سے مراد ہے قرآن آیت وما یبدیء الباطل وما یعید یعنی ابلیس کوئی چیز پیدا نہیں کرتا اور نہ اسے دوبارہ اٹھاتا ہے۔
4۔ عبد بن حمید وابن المنزر نے عمر بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل ان ضللت فانما اضل علی نفسی آپ فرمادیجیے اگر میں بالفرض گمراہ ہوں تو میری گمراہی مجھ پر وبال ہوگی یعنی میں اپنی خیانت کے ساتھ پکڑا جاؤں گا۔
Ayah 34:51موت کے وقت فرشتوں کو دیکھ کر گھبراہٹ
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنزر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو تری اذ فزعوا اگر تو دیکھے گا جب کہ وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ دنیا میں موت کے وقت جب وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اور وہ دیکھیں گے اللہ کے عذاب کو آیت وانا لہم التناوش من مکان بعید اور اتنی دور جگہ سے ایمان کا ہاتھ آناان کے لیے کہاں ممکن ہے۔ فرمایا ان کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے ایمان کی طرف جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت فلما رأو بأسنا قالوا اٰمنا باللہ وحدہ وکفرنا بما کنا بہ مشرکین (غافر آیت 84) جب وہ دیکھیں گے ہمارے عذاب کو تو کہیں گے کہ ہم ایک اللہ پر ایمان لائے حالانکہ اس سے پہلے وہ اس کا انکار کرچکے ہیں۔ اور وہ اس کی طرف بلائے جاتے تھے حالانکہ وہ دنیا کے لحاظ سے خوشحالی اور آسودگی میں تھے مگر وہ اس کے ساتھ ایمان نہ لائے آیت ویقذفون بالغیب اور بےتحقیق باتیں دور ہی دور سے ہانکا کرتے تھے۔ یعنی اٹکل پچو سے طرح طرح کے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے نہ جنت ہے نہ دوزخ ہے اور نہ دوبارہ اٹھنا ہے۔ آیت وحیل بینہم وبین مایشتہوں۔ اور ان میں اور ان کی مطلوبہ چیزوں میں آڑ بنا دی جائے گی۔ فرمایا کہ وہ اللہ کی اطاعت کی خواہش کریں گے کاش کہ وہ عمل کرتے مگر ان کے اور اس خواہش کے درمیان رکاوٹ پیدا ہوگئی۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو تری اذفزعوا اور تو دیکھے گا جب کہ وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ قیامت کے دن ” فلافوت “ پھر نکل بھاگنے کی کوئی راہ نہ ہوگی یعنی اپنے رب کی گرفت سے نہیں بھاگ سکیں گے۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو تری اذفزعوا یعنی جب وہ قبروں میں اس چیخ سے خوفزدہ ہوں گے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو تریٰ اذفزعو ا یہ بدر کے دن ہوا جب ان کی گردنیں ماری گئیں اور انہوں نے عذاب کو دیکھا اور وہ عذاب سے نہ بھاگ سکے اور نہ توبہ کی طرف لوٹ سکے۔
5۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولوتری اذفزعوا فلافوت یہ غزوہ بدر کے بارے میں ہے۔
6۔ عبد بن حمید نے زید بن اسلم (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
7۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو تری اذفزعوا فلا فوت سے مراد غزوہ بدر میں قتل ہونے والے مشرک ہیں ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولو تری اذفزعوا فلا فوت واخذوا من مکان قریب (کہ تو دیکھے گا جبکہ وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے پھر نکل بھاگنے کی کوئی راہ نہ ہوگی اور اس وجہ سے پاس ہی سے پکڑ لیے جائیں گے) سے مراد سفیانی لشکر ہے پوچھا کہاں سے اسے پکڑا گیا فرمایا قدموں کے نیچے سے۔
9۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو ترا اذ فزعو سے مراد ہے کہ وہ قوم کے ان کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور ان کو قدموں کے نیچے سے پکڑ لیا گیا۔
مدینہ پر حملہ اور قوم کا زمین میں دھنسنا
10۔ ابن مردویہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ مدینہ منورہ کی طرف آئیں گے یہاں تک کہ جب وہ مقام بیداء ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجے گا جبرئیل (علیہ السلام) ان کو اپنے پاؤں کی ایک ضرب لگائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں دھنسا دے گا اسی کو فرمایا آیت ولو ترای اذفزعوا فلا فوت واخذوا من مکان قریب۔
11۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو تری اذفزعوفلا فوت سے مراد وہ لشکر ہے جن کو بیداء کے مقام پر دھنسایا جائے گا ان میں سے ایک آدمی باقی بچے گا۔ جو دوسرے لوگوں کو بتائے گا کہ اس کے ساتھیوں کے ساتھ کیا ہوا۔
12۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ابو معقل (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولوتری اذفزعوا فلا فوت سے مراد ہے کہ وہ لوگ پکڑ لیے جائیں گے اور نہیں چھوڑے جائیں گے۔
13۔ احمد نے نفیرہ (رح) سے روایت کیا جو قعقاع بن ابی حدرہ کی بیوی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم کسی لشکر بارے میں سنو کہ اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے تو گویا قیامت قریب آگئی۔
14۔ احمد ومسلم والحاکم نے حفصہ ام المومنین ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ایک لشکر اس گھر کا ارادہ کرے گا وہ اس پر حملہ آوار ہوں گے یہاں تک کہ جب وہ مقام بیداء میں ہوں گی کہ ان کا درمیانی حصہ زمین میں دھنسادیا جائے گا تو پہلے حصہ والے آخری حصہ والوں کو آوازیں دیں گے پھر ان سب کو ایک ہی بار زمین میں دھنسا دیا جائے اور ان میں سے کوئی بھی نہیں بچے گا مگر الگ تھلگ رہنے والا جو ان کے بارے میں خبر دے گا۔
15۔ احمد نے حفصہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک لشکر مشرق کی جانب سے آئے گا اور وہ مکہ والوں میں سے ایک آدمی کا ارادہ کریں گے (اس کو پکڑنے کا ارادہ کریں گے) یاں تک کہ جب یہ لوگ مقام بیداء پر ہوں گے تو ان کو دھنسادیا جائے گا۔ جو ان کے آگے تھا وہ لوٹے گا تاکہ دیکھے کہ قوم کے ساتھ کیا ہوا تو ان کو بھی وہی مصیبت پہنچے گی جو ان کو پہنچی تھی (یعنی وہ بھی دھنس جائیں گے) میں نے عرض کیا یارسول اللہ جو مجبورا اس لشکر میں شامل ہوا اس کا کیا حال ہوگا فرمایا سب کو یہ مصیبت پہنچے گی پھر اللہ تعالیٰ ہر آدمی کو اس کی نیت پر اٹھائیں گے۔
16۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے صفیہ ام المومنین ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس گھر کی جنگ سے لوگ نہیں رکیں گے یہاں تک کہ ایک لشکر ان پر حملہ آور ہوگا جب وہ بیداء کے مقام پر ہوں گے تو ان کا پہلی اور آخری زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ اور اس کا درمیانی بھی نجات نہیں پائے گا میں نے عرض کیا یارسول اللہ جسے مجبورا اس میں شامل کیا گیا اس کے بارے میں کیا حکم ہے فرمایا اللہ تعالیٰ ان کو اٹھائیں گے اس نیت پر جو ان کے دلوں میں تھی۔
17۔ احمد والبخاری ومسلم نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ رسول اللہ ﷺ (آگے حدیث غائب ہے)
18۔ ابن ابی شیبہ والحاکم وصححہ ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک پناہ لینے والا حرم میں پناہ لے گا تو اس کی طرف ایک جماعت بھیجی جائے گی جب یہ لوگ بیداء کے مقام پر ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسادیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ اس شخص کے لیے کیسا ہوگا جو مجبوراً لشکر میں شامل ہوا فرمایا کہ اس کو بھی ان کے ساتھ دھنسادیا جائے گا لیکن قیامت کے دن اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا۔
امام مہدی کا ظہور
19۔ ابن ابی شیبہ والطبرانی نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایک آدمی بیعت لے گا رکن اور مقام کے درمیان اہل بدر کی گنتی کے برابر عراق کی جماعتیں اور شام کے ابدال اس کے پاس آئیں گے۔ اور ان کے پاس شام سے ایک لشکر بھی آئے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ مقام بیداء پر ہوں گے تو ان کو دھنسادیا جائے گا پھر اس کی طرف ایک آدمی قریش میں سے جائے گا کہ اس کے ننھیال قبیلہ کلب میں سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو شکست دے گا ام سلمہ نے فرمایا اور کہا جاتا تھا کہ اس روز وہ آدمی خائب و خاسر ہوگا جو قبیلہ کلب کی غنیمت سے محروم رہا۔
20۔ الحاکم وصححہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی محروم ہے جو قبیلہ کلب کی غنیمت سے محروم ہوگیا اگر اس کا حصہ ایک رسی ہی کیوں نہ ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ان کی عورتیں دمشق کی سیڑھیوں پر بیچی جائیں گی۔ یہاں تک کہ عورت کو اس لیے لوٹا دیا جائے گا کہ اس کی پنڈلی کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہوگی۔
21۔ الحاکم وصححہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا لشکر نہیں رکیں گے بیت المقدس پر حملہ کرنے کے لیے یہاں تک کہ ایک لشکر کو ان میں سے زمین میں دھنسادیا جائے گا۔
22۔ الحاکم نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ذوالقعدہ میں قبائل آپس میں جنگ کریں گے۔ اور اس سال حاجیوں کو لوٹادیا جائے گا اور منی میں جنگ کا میدان ہوگا یہاں تک کہ حاجیوں کا امام بھاگ جائے گا رکن اور مقام کے درمیان ایک آدمی کی بیعت کی جائے گی جبکہ وہ اس کو ناپسند کریں گے اس کی بیعت بدری صحابہ کی تعداد کرے گی۔ اس سے راضی ہوں گے آسمان و زمین کے رہنے والے۔
23۔ الحاکم وصححہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نکلے گا دمشق کے زیریں حصے سے جس کو سفیانی کہا جائے گا اور اس کی زیادہ تر بیعت کرنے والے بنو کلب ہوں گے۔ وہ قتل کرے گا یہاں تک کہ عورتوں کے پیٹ چاک کرے گا۔ اور بچوں کو قتل کردے گا۔ اس کے لیے بنو قیس لشکر جمع کریں گے تو وہ لشکر بنوقیس کو بھی قتل کردے گا کہ کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی۔ اور میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا۔ اور وہ سفیانی کو پہنچے گا۔ وہ اپنے لشکروں میں سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجے گا وہ ان کو شکست دے گا سفیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کی طرف چلے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچے گا تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ اور ان میں سے کوئی نجات نہیں پائے گا مگر جو ان کی طرف سے خبر دے گا۔
24۔ الحاکم وصححہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم کو سات فتنوں سے ڈراتا ہوں ایک فتنہ جو مدینہ کی طرف سے چلے گا اور ایک فتنہ مکہ کی طرف سے اور ایک فتنہ یمن کی طرف سے اور ایک فتنہ شام کی طرف سے اور ایک فتنہ مشرق کی طرف سے اور ایک فتنہ مغرب کی طرف سے اور وہ فتنہ جو بطن شام سے ہوگا اور یہ سفیان کا فتنہ ہوگا ابن مسعود ؓ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا ہوگا جو پہلے فتنہ کو پائے گا اور اس امت میں ایسا آدمی ہوگا جو آخری فتنے کو پائے گا ولید بن عیاش نے فرمایا کہ مدینہ کا فتنہ طلحہ اور زبیر ؓ کی وجہ سے پیدا ہوا اور ابن زبیر ؓ کی وجہ سے مکہ کا فتنہ پیدا ہوا اور شام کا فتنہ بنوامیہ کی وجہ سے ہوا اور مشرق کا فتنہ لوگوں کی طرف سے ہوگا۔
Ayahs 34:52–531: ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت وقالوا اٰمنا بہ اور انہوں نے کہا کہ ہم اس کے ساتھ ایمان لے آئے یعنی اللہ پر آیت وانی لہم التناوش (ان کے لیے ایمان کا ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے) یعنی پہنچنا ایمان کو آیت من مکان بعید۔ (اتنی دور جگہ سے) جو آخرت اور دنیا کے درمیان ہوگا آیت وقد کفور ا بہ من قبل (اور وہ اس سے پہلے اس کا انکار کرچکے ہیں) یعنی دنیا میں اللہ کا انکار کرچکے ہیں آیت ویقذفون بالغیب من مکان بعید (بےتحقیق باتیں دور ہی دور سے ہانکا کرتے تھے) یعنی دنیا میں ان کی باتیں تھیں کہ وہ (یعنی محمد ﷺ جادوگر ہیں بلکہ کاہن ہیں بلکہ وہ شاعر ہیں بلکہ وہ جھوٹے ہیں۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانی لہم التناوش سے مراد ہے لوتنا (دنیا کی طرف) آیت من مکان بعید یعنی آخرت سے دنیا کی طرف۔
3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانی لہم التناوش یعنی کس طرح ان کے لیے لوٹنا ہوگا آیت من مکان بعید (یعنی دور جگہ سے) یعنی وہ سوال کرتے ہیں (دنیا میں) لوٹنے کا جبکہ اس وقت لوٹنا کیسے ممکن ہے۔
4۔ ابن المنذر نے تمیمی (رح) سے روایت کیا کہ میں ابن عباس کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ ” التناوش “ کیا ہے۔ فرمایا کہ کسی چیز کو پکڑنا جبکہ یہ اس کا وقت نہ ہو۔
5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانی لہم التناوش سے مراد ہے توبہ (کہ اب توبہ ممکن نہیں)
6۔ عبد بن حمید نے اب مالک ؓ سے روایت کیا۔
7۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا ” التناوش “ مد اور ہمزہ کے ساتھ۔
8۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ویقذفون بالغیب “ کہ وہ مگان کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں آخرت کو جھٹلاتے تھے اور کہتے تھے کہ نہ دوبارہ اٹھنا ہے نہ جنت ہے اور نہ دوزخ ہے۔
Ayah 34:541۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وحیل بینہم وبین مایشتہوں (اور ان میں اور ان کی مطلوب چیزوں میں آڑ کردی جائے گی) یعنی ان کے اور ایمان کے درمیان رکاوٹ پیدا ہوگی۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جرری وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وحیل بینہم وبین مایشتہوں (یعنی قیامت کے آڑ کردی جائے گی) ” مایشتہوں “ سے مراد ہے مال اولاد شان و شوکت اور اہل عیال آیت ” کما فعل باشیاعہم من قبل (جیسا کہ ان کے ہم مشرب لوگوں کے ساتھ کیا جائے گا) یعنی جیسے ان سے پہلے کافروں کے ساتھ کیا۔
3۔ البیہقی نے شعب الایمان میں سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت وحیل بینہم وبین مایشتہوں سے مراد ہے توبہ۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ اللہ تعالیٰ کے اس قول وحیل بینہم وبین مایشتہوں کے بارے میں روایت کیا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی بہت مالدار تھا اس کا ایک نالائق بیٹا اس کا وارث بن گیا اور وہ اپنے باپ کے مال میں نافرمانیاں کرتا جب اس کے چچوں نے یہ دیکھا تو اس نوجوان کے پاس آئے اور اس کو لعن طعن کیا تو نوجوان پریشان ہوگیا اس نے اپنی جائیداد کو خاموشی کے ساتھ بیچا اور وہاں سے کوچ کرگیا ایک چشمہ کے پاس آیا جو اس کے سامنے تھا اس نے اپنا مال مویشی وہاں چھوڑے ایک محل بنایا۔
اس کے درمیان وہ ایک دن بیٹھا ہوا تھا اچانک اس کے پاس چادر میں لپٹی ایک عورت آئی جس کا چہرہ بڑا خوبصورت اور اس کی خوشبو بہت عمدہ تھی۔ اس عورت نے کہا اے اللہ کے بندے تو کون ہے اس نے کہا میں بنی اسرائیل میں سے ایک آدمہ ہوں کہنے لگی یہ محل اور یہ مال تیرا ہے ؟ اس نے کہا ! ہاں عورت نے کہا کیا تیری بیوی ہے ؟ کہا نہیں کہنے لگی۔ تیری زندگی کیسے خوشگوار ہوگی کہ تیری بیوی نہیں ہے اس نے کہا بات یہی ہے مرد نے پوچھا کیا تیرا کوئی خاوند ہے ؟ کہنے لگی نہیں۔ اس نے کہا کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ میں تیرے ساتھ شادی کروں اس نے کہا میں ایک عورت ہوں تجھ سے ایک میل کا فاصلہ پر رہتی ہوں جب کل کا دن آئے گا تو ایک دن کا زاد راہ لینا اور میرے پاس آجانا اور اگر تو اپنے راستے میں سخت خوف کو دیکھے تو کہنا ہاں (میں کیا کروں) کہنے لگی تجھ پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور تجھے کوئی خوف زدہ نہیں کرے گا۔ جب کل کا دن آیا اس نے ایک دن کا زاد راہ کیا اور محل کی طرف چل پڑا اس نے دروازہ کھٹکھٹایا ایک نوجوان لوگوں میں سب سے اچھے چہرے والا اور پاکیزہ خوشبو والا نکلا اس نے پوچھا اے اللہ کے بندے تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں اسرائیلی ہوں اس نے پوچھا تجھے کیا حاجت ہے۔ میں نے کہا مجھے اس محل کی مالکہ نے بلایا ہے نوجوان نے کہا یا تو نے سچ کہا تو نے اپنے راستے میں کوئی خوفناک چیز پائی ہے میں نے کہا ہاں اگر مجھے وہ بتاتی کہ تو نہ گھبرانا مجھے وہ خوف زدہ کردیتا جو میں نے دیکھا میں آیا یہاں تک کہ جب مجھ پر راستہ کھل گیا اچانک میں ایک کتیا کے پاس پہنچا جس کا منہ کھلا ہوا تھا۔ میں گھبرا گیا میں اچھلا اور اچانک میں اس کے پیچھے تھا اور جب میں اس کتیا کے پیچھے س کے سنے پر چرھ گیا اور اس کا گلا کاٹنے لگا دروازے پر کھڑے آدمی نے کہا تو اس کو نہ پائے گا یہ آخری زمانہ میں ہوگا۔ ایک نوجوان بوڑھوں کی مجلس میں بیٹھے گا تو ان کی مجلس میں غالب آجائے گا اور ان کی بات کو قابو کرے گا پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میرے لیے ایک راستہ کھلا وہاں سو بکریاں جمع تھیں اس میں سے ایک میمنہ ہے جو ان کا دودھ پی رہا ہے جب وہ ان کے پاس آیا اور اس نے گمان کیا کہ یہ کوئی چیز نہ چھوڑے گا، اس نے اپنا منہ کھولا ہوا ہے۔ اور زیاددہ کو تلاش کر رہا ہے دروازے پر کھڑے آدمی نے کہا تو اس کو نہیں پائے گا۔ آخری زمانے میں ایک بادشاہ ہوگا جو سب لوگوں کو جمع کرلے گا۔ کہا پھر میں آگے بڑھا میرے لیے راستہ کھلا تو میں ایک درخت کے پاس تھا اس درخت کی سرسبز و شاداب ٹہنی نے مجھے خوش کردیا تو میں نے اس آدمی کے پاس جانے کا ارادہ کیا جس کے پاس درانتی تھی جو کاٹ رہا تھا جس تک وہ پہنچا اور جس کو وہ نہیں پہنچا اس کو بھی کاٹ دیا تھا اس نے اس سے کہا کاش تو اس شاخ کو کوٹتے جہاں تک تیرا ہاتھ پہنچا ہے اور جہاں تک تیرے ہاتھ نہیں پہنچا اس کو چھوڑ دیتا اس درانتی والے نے کہا تو چلا جا یہ اپنے آپ کو تکلیف میں نہ دال دے تیرے پاس اس کی خبر آئے گی اس نے اس درخت کو کاٹ دیا مجھے ایک دوسرے درخت نے بلایا اے اللہ کے بندے مجھ سے اس کو پکڑ لے یہاں تک کہ ایک اور درخت نے مجھے بلایا اے اللہ کے بندے ہم سے اس کو پکڑ لے اور کہا تو اس کو نہیں پائے گا یہ آخر زمانہ میں ہوگا مرد تھوڑے ہوجائیں گے اور عورتیں بہت ہوں گی یہاں تک کہ جب ایک آدمی کسی عورت سے نکاح کا پیغام دے گا تو اس کو دس یا بیس عورتیں اپنی ذات کی طرف بلائیں گی اسرائیلی نے کہا میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میرا راستہ کھل گیا اچانک میں ایک آدمی کے پاس ہوں جو ہر انسان کے لیے پانی بھر رہا تھا۔ ہر آدمی کو ایک چلو پانی پلا رہا ہے۔ جب لوگ اس سے متفرق ہوگئے تو وہ اپنے گھڑے میں پانی ڈالتا ہے تو اس کے گھڑے میں کوئی پانی نہیں ہوتا۔ نوجوان نے کہا تو اس کو نہیں آئے گا یہ آخری زمانے میں ہوگا ایک قاضی ہوگا جو لوگوں کو علم سکھائے گا پھر وہ ان کی مخالفت کریں گے۔ اللہ کی نافرمانی کی طرف پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ اچانک میرا راستہ کھل گیا اچانک میں ایک آدمی کے ساتھ تھا جو کنویں پر پانی بھر رہا تھا جب وہ نکالتا اپنے ڈول کو تو اس کو حوض میں ڈال دیتا اور پانی لوٹ کر کنویں میں چلا جاتا تھا اس نے کہا یہ آدمی ہے کہ اللہ تعالٰ نے اس نیک عمل کو اس پر رد کردیا ہے اور ان کو قبول نہیں کیا پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ مجھ پر راستہ کھل گیا اچانک میں ایک ایسے آدمی کے ساتھ تھا جو بیج بو رہا تھا پھر اسے کاٹتا ہے۔ تو وہ پاکیزہ گندم ہوتی ہے نوجوان نے کہا یہ وہ آدمی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نیک عمل کو قبول کرلیا اور ان کو بڑھا دیا ہے۔
اسرائیلی نے کہا پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ اچانک میرا راستہ کھل گیا اچانک میں ایک بکری کے ساتھ تھا وہاں ایک قوم اس کی ٹانگوں کو پکڑے ہوئے تھے اور ایک آدمی اس کی سینگوں کو پکڑے ہوئے ہے اور ایک آدمی اس کی دم کو پکڑے ہوئے ہے اور ایک آدمی اس پر سوار ہے اور ایک آدمی اس کو دودھ رہا ہے۔ محل کے دروازے پر کھڑے ہوئے آدمی نے کہا یہ بکری دنیا (کی مثال) ہے جو لوگ اس کی ٹانگوں کو پکڑے ہوئے ہیں وہ اس کے بالا خانے سے گرتے ہیں اور جس نے اس کے سنگوں کو پکڑ رکھا ہے وہ تنگ زندگی بسر کرتا ہے زندگی اور جو اس کی دم کو پکڑے ہوئے ہے تو دنیا نے اس سے پیٹھ پھیرلی۔ اور جو اس پر سوار ہوا تو اس نے اس کو چھوڑدیا ہے اور جو اس کو دوہ رہا ہے۔ کیا عمدہ نعمت ہے جو اس کو لے گیا پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ اچانک میرا راستہ کھل گیا میں اچانک ایسے آدمی کے ساتھ تھا جو اپنی گدی کے بل چت لیٹا ہوا تھا اس نے کہا اے اللہ کے بندے ! میرے قریب ہوجا میرا ہاتھ پکڑ اور مجھے پاس بٹھا لیا (کہنے لگا) اللہ کی قسم ! میں نہیں بیٹھا جب سے اللہ نے مجھ کو پیدا فرمایا اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور وہ دوڑنے لگا۔ یہاں تک کہ میں نے اس کو نہ دیکھا اس نوجوان نے اسے کہا یہ تیری زندگی ہے جو ختم ہوچکی ہے اور میں موت کا فرشتہ ہوں اور میں وہ عورت ہوں جو تیرے پاس آئی تھی اللہ نے مجھے حکم دیا ہے تیری روح کے قبض کرنے کا اس جگہ میں پھر میں تجھ کو جہنم کی طرف لے جاؤں گا اور کہا کہ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت وحیل بینہم وبین مایشتہوں۔
شوہر کے ساتھ خیانت کرنے والی عورت
5۔ الزبیر بن بکار فی الموفقیات بسند ضعیف عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پردے فاش نہ کرو کیونکہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا اس کی ایک عورت تھی اور جب وہ اس کی طرف کھانا لاتی تو اس کے سر پر کھڑی رہتی پھر کہتی اللہ تعالیٰ اس عورت کا پردہ فاش کرے جو اپنے شوہر کی خیانت کرے اس کے غائب ہونے پر ایک دن اس کی طرف ایک مچھلی بھیجی گئی پھر وہ اس کے سر پر کھڑے ہو کر کہنے لگی اللہ تعالیٰ اس عورت کے پردے کو چاک کردے جو اپنے شوہر کی خیانت کرے اس کے غائب ہونے پر۔ مچھلی نے قہقہہ مارا یہاں تک کہ پیالے سے نیچے گر پڑی اس نے تین مرتبہ ایسا کیا۔ ہر دفعہ مچھلی قہقہہ لگاتی اور تڑپ جاتی یہاں تک کہ دستر خوان سے نیچے گر جاتی۔
وہ بنی اسرائیل کے ایک عالم کے پاس آیا اور اس بات کی خبر دی اس نے کہا چلا جا اپنے رب کو یاد کر اور اپنے کھانے کو کھالے شیطان کو دور بھگا ایک فتنہ پرور آدمی نے اس سے کہا اس کے بیٹے کی طرف جا کیونکہ وہ اس سے زیادہ عالم ہے وہ آدمی گیا اور اس کو سب کچھ بتایا اس عالم نے کہا میرے پاس اس کو لے آ جو تیرے گھر میں ہے جس کی شرم گاہ کو تو نے نہیں دیکھا۔ وہ اس کے پاس لے آیا اس نے ان کے چہروں کو دیکھا پھر کہا اس حبشیہ سے پردہ ہٹادو اس سے پردہ ہٹادیا گیا تو وہ نوجوان لڑکی کے بازو کی طرح تھا اس نے کہا اس سے اس عورت کو مچھلی ملی۔ اس نوجوان کا عالم باپ مرگیا اس کے پردہ فاش کرنے سے اس کا پردہ فاش ہوگیا اس سے زیادہ باتیں کی تو وہ ان سے بھاگ گیا اور بلقا کی زمین میں بنی اسرائیل کی آخری زمین میں بسیرہ جمالیا اس کے پاس ایک خوبصورت عورت فتوی لینے کے لیے آئی اس عالم نے اس سے کہا کیا تیرے لیے یہ ممکن نہیں کہ مجھے اپنے اوپر قدرت دے دے تو میں تجھ کو ایک سو دینار دوں گا اس عورت نے کہا کیا اس سے بہتر کی تو خواہش رکھتا ہے۔ تو میرے گھر آ اور مجھ سے شادی کرے۔ اور میں تیرے لیے ہمیشہ حلال ہوجاؤں گی۔ اس نے کہا تیرا گھر کہا ہے ؟ اس نے اس کو بتادیا تو اس پر یہ رات خوشگوار رہی۔ وہ گذرا تو ایک کتیا اچانک بھونکنے لگی۔ اس کے پیٹ میں اس کے بچے تھے اس نے کہا یہ کیسی عجیب بات ہے اس سے کہا گیا آگے جا تو مکلف نہیں عنقریب تیرے پاس اس کی خبر آئے گی وہ چلا تو اچانک ایک آدمی ایک پتھر کو اٹھا رہا ہے جب بھی اس پر بھاری ہوتا ہے اور اس سے گرجاتا ہے تو وہی اس پر اور اضافہ کرلیتا ہے اس نے اس سے کہا تو اس کی اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا اور تو اس پر اور زیادہ کرلیتا ہے۔ اس نے کہا یہاں سے چلا جا تم تو مکلف نہیں عنقریب اس کی خبر تیرے پاس آئے گی وہ چلا گیا تو اچانک ایک آدمی کنویں سے پانی نکال رہا ہے اور کنویں کی جانب ایک حوض میں اس کو ڈال رہا ہے اور حوض میں سوراخ ہے پانی کنویں میں چلا جاتا ہے اس عالم اس نے کہا اگر تو پتھر سے سوراخ کو بند کردیتا تو پانی کو روک لیتا اس نے کہا چلا جا تو اس بات کا مکلف نہیں کیا۔ اس کی خبر عنقریب تیرے پاس آئے گی وہ چلا اچانک ایک ہرنی تھی اور ایک آدمی اس پر سوار تھا اور دوسرا اس کو دوہ رہا تھا اور تیسرا اس کے سینگوں کو تھامے ہوا تھا اور دوسرے لوگ اس کی ٹانگوں کو پکڑے ہوئے تھے اس نے کہا کیا ہی عجیب معاملہ ہے اس نے کہا چلا جا تو مکلف نہیں عنقریب تیرے پاس اس کی خبر آئے گی وہ آدمی چلا گیا اچانک کہ وہ عالم ایک آدمی کے پاس پہنچا وہ زمین میں بیج بو رہا وہ زمین پر نہیں گرتا کہ وہ اگ آتا ہے پھر وہ چلتارہا وہ محل تک جاپہنچا ہے جس کا اس عورت نے وعدہ کیا تھا اس کے سامنے نہر ہے اور ایک آدمی پلنگ پر بیٹھا ہوا ہے اس عالم نے اس سے پوچھا اس محل تک پہنچے کا کیا راستہ ہے۔ میں نے اس رات بڑے عجائب دیکھے ہیں اس آدمی نے پوچھا وہ کیا تھے تو س نے کتیا کا ذکر کیا تو اس نے کہا لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا۔ کہ چھوٹے بڑوں اور کمینے شرفاء پر اور بیوقوف حلیم پر جھپٹیں گے اس عالم نے چارپائی پر بیٹھے آدمی کے سامنے پتھر اٹھانے والے کا ذکر کیا اس آدمی نے جواب دیا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ایک آدمی کے پاس امانت ہوگی اس کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھے گا مگر زیادہ امانتیں لے لے گا اس نے پان نکالنے والے کا ذکر کیا۔ اس آدمی نے جواب دیا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ایک آدمی ایک عورت سے شادی کرے گا اس کے دین شرافت اور جمال کی وجہ سے شادی نہیں کرے وہ اس عورت کے مال کا خواہش مند ہوگا جبکہ وہ عورت بچہ بھی نہ جنے گی۔ تو اس پر ہر چیز اس میں لوٹ آئے گی اس عالم نے ہرنی کا ذکر کیا تو آدمی نے بتایا وہ دنیا ہے جو اس پر سوار ہے وہ بادشاہ ہے دودھ دوہنے وال اچھی زندگی گزار رہا ہے۔ اور جو اس کی سینگوں کو پکڑے ہوئے ہے وہ تنگ دست ہے۔ اور جو اس کی دم کو پکڑے ہوئے ہے تو اس کے پاس گزارہ کے لائق روزی نہیں ہے اور جو اس کی ٹانگوں کو پکڑے ہوئے ہیں وہ ذلیل لوگ ہیں اس نے بیج کا ذکر کیا کہ تو اس آدمی نے بتایا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا پتہ ہی نہ چلے کہ شادی کب ہوئی اور کب بچے پیدا ہوئے اور کب بالغ ہوا اس اسرائیلی نے اس آدمی کا ذکر کیا جو فصل کاٹ رہا تھا تو چارپائی میں بیٹھنے والے آدمی نے کہا وہ ملک الموت ہے جو چھوٹے بڑے کو کاٹتا ہے۔ اور میں وہی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری طرف بھیجا ہے تاکہ تیری روح کو انتہائی بری حالت میں قبض کرلوں۔
6۔ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے یہ آیت نہیں پڑھی مگر اس میں شراب کی ٹھنڈک کو پایا یعنی یہ آیت وحیل بینہم وبین مایشتہوں (اور ان میں اور ان کی مطلوبہ چیزوں کی آڑ کردی جائے گی۔
7۔ البیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ٹھنڈا پانی پیا۔ اور رونے لگے ان سے کہا گیا آپ کیوں رو رہے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا میں نے اللہ کی کتاب میں سے اس آیت کو یاد کیا آیت وحیل بینہم وبین مایشتہوں۔ اور میں نے پہچان لیا کہ دوزخ والے صرف ٹھنڈے پانی کو ہی پئیں گے اور اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا ذکر فرمایا آیت ان افیضوا علینا من الماء (الاعراف آیت 5) (ہم پر پانی بہادو یعنی جنتی لوگوں سے کہیں گے کہ ہم کو ٹھندا پانی دیدو کیو کہ دوزخ میں ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا) ۔
8۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہم کانوا فی شک مریب (کیونکہ یہ سب بڑے شک میں پڑے ہوئے تھے) فرمایا تم بچو ! شک سے اور فریب سے کیونکہ جو شخص شک کی حالت میں مرگیا تو وہ اسی پر اٹھایا جائے گا اور جس کو حالت یقین پر موت آئی تو اسے یقین پر اٹھایا جائے گا۔ واللہ اعلم