34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 34:15–19

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

واقعی بات ہے کہ قوم سبا کے لیے ان کے ٹھہرنے کی جگہ میں بڑی نشانی تھھی، دائیں بائیں دونوں طرف باغوں کی قطاریں تھیں، کھاؤ اپنے رب کے رزق سے اور اس کا شکر ادا کرو، عمدہ شہر ہے اور رب بخشنے والا ہے

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

سو انہوں نے روگردانی کی لہٰذا ہم نے ان پر بند کا سیلاب بھیج دیا اور ہم نے ان کے باغوں کے بدلہ میں دو ایسے باغ دے دئیے جن میں بدمزہ پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑے سے بیری کے درخت تھے

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

ہم نے انہیں یہ سزا ان کے کفر کی وجہ سے دی اور ہم ناشکروں ہی کو سزا دیا کرتے ہیں

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی تھی بہت سے گاؤں آباد کر رکھتے تھے جو نظر آتے تھے اور ہم نے ان کے درمیان ان کے چلنے کا ایک خاص انداز رکھا تھا، ان میں راتوں کو چلو اور دن میں چلو امن ومان کے ساتھ

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

سو انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب دوری کردیجیے ہمارے سفروں کے درمیان اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا سو ہم نے انہیں افسانہ بنا دیا اور انہیں پوری طرح تتر بتر کردیا بیشک اس میں ہر سابر وشکار کے لیے بڑی عبرتیں ہیں

قوم سباء کے باغات 1۔ احمد وعبد بن حمید وابن المنذر نے اپنی تاریخ میں والترمذی وحسنہ وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردوہ فروہ بن مسیک المرادی ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا میں لڑوں اس شخص کے ساتھ جو اس سے منہ پھیرے ہوئے ہے میری قوم میں سے یعنی اسلام سے ان کو ساتھ ملا کہ جو اسلام قبول کرچکے ہیں یعنی آپ نے مجھے اجازت دی اور امیر مقرر فرمایا جب میں آپ کے پاس ہو کر نکلا تو آپ نے مجھے واپس بلوایا میں آپ کے پاس لوٹ آیا تو آپ نے فرمایا اپنی قوم کو دعوت دو ان میں سے جو اسلام قبول کرے۔ اس سے یہ شہادت قبول کرے اور جو اسلام قبول نہ کرے اس کے بارے میں جلدی نہ کر یہاں تک کہ میں تجھ کو نیاحکم دوں سبا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ سبا کیا ہے کیا وہ علاقہ ہے یا عورت ہے فرمایا نہ وہ علاقہ ہے نہ وہ عورت ہے بلکہ وہ ایک عربی مرد تھا جس سے عرب کے دس قبائل چلے ان میں سے چھ یمن کی طرف چلے گئے اور چار شام کی طرف چلے گئے جو شامی ہوتے ہیں وہ لخم جذام غسان اور عاملہ ہیں اور جو یمن میں رہے وہ ازداشوم حمیر کندہ مذحج اور انما رہیں ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ انمار کیا ہے فرمایا جن میں سے خثعم اور بجیلہ ہیں۔ 2۔ احمد وعبد بن حمید والطبرانی وابن ابی حاتم وابن عدی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سبا کے بارے میں سوال کیا وہ مرد تھا یا عورت تھی یا زمین تھی۔ آپ نے فرمایا بلکہ وہ ایک آدمی تھا جس کے دس بیتے تھے ان میں سے چھ یمن میں ٹھہرے اور ان میں سے چار شام رہے یمن میں ٹھہرنے والے یہ تھے مذحج، کندہ، ازد، اشعری، انمار اور حمیر اور شام میں ٹھہرنے والے یہ تھے لحم، جذام، عاملہ اور غسان۔ 3۔ الحاکم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا آیت ” لقد کان لسبأ فی مسکنہم “ 4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لقد کان لسبأ کو مجرور تنوین کے ساتھ اور مہموز پڑھا آیت فی مسکنہم آیۃ جمع کے صیغہ اور الف کے ساتھ پڑھا۔ 5۔ الفریابی نے یحییٰ بن مثاب (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت لقد کان لسبأ فی مسکنہم اٰیۃ۔ 6۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ سبا قوم کے لیے دو پہاڑوں کے درمیان دو باغ تھے ایک عورت گزرتی تھی اور اس کی ٹوکری اس کے سر پر ہوتی تھی وہ دونوں پہاڑوں کے درمیان چلتی تھی تو اس کی ٹوکری پھلوں سے بھرجاتی تھی۔ اور وہ ان پھلوں کو ہاتھ بھی نہیں لگاتی تھی۔ جب انہوں نے سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک جانور کو بھیج دیا جس کو جرز چھوٹاچوہا کہتے ہیں اس نے اس میں سوراخ کردیا اور ان کو سیلاب سے غرق کردیا۔ تو اس باغ میں سے نہیں باقی رہا مگر جھاڑ اور تھوڑی سی بیری۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) نے آیت لقد کان لسبأ فی مسکنہم کے بارے میں فرمایا کہ ان کی بستیوں میں نہیں دیکھا گیا کبھی کسی مچھر کو نہ مکھی کو نہ پسو کو اور نہ بچھو اور سانپ کو اگر کوئی سوار اپنے کپڑوں میں جوئیں یا کوئی اور جانوروں کو لے آتا جوں ہی وہ ان کے گھروں کی طرف دیکھتے تو وہ سارے جانور (مچھر پسو وغیرہ خود بخود) مرجاتے اور اگر کوئی انسان باغوں میں داخل ہوتا اور ٹوکری اپنے سر پر رکھتا اور جب وہ اس باغ سے نکلتا تو اس کی یہ ٹوکری مختلف پھلوں سے بھرجاتی اور وہ اپنے ہاتھ سے کوئی چیز نہ توڑتا۔ 8۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے آیت بلدۃ طیبۃ ورب غفور کے بارے میں فرمایا کہ یہ شہر پاکیزہ ہے اور تمہارا رب بخشنے والا ہے تمہارے گناہوں کو ” فاعرضوا “ یعنی قوم نے اللہ کے حکم سے تکبر کیا اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کی۔ قوم سباء کی خوش خیالی 9۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ سبا والوں کو اللہ تعالیٰ نے وہ نعمتیں دیں کہ ان کے زمانہ والوں میں کسی کو ایسی نعمتیں نہیں دیں ایک عورت اپنے سر پر ٹوکری رکھ کر نکلتی تھی وہ اپنے کسی کام کے لیے جانا چاہتی وہ اپنی جگہ پر نہیں پہنچتی تھی کہ اس کی ٹوکری مختلف پھلوں سے بھرجاتی تھی ان سب نے اتفاق کیا اور اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کے پاس سیلاب دس دن کے فاصلے سے آتا تھا۔ یہاں تک کہ ان کی وادیوں میں ٹھہرجاتا پانی ان سیلابوں اور پہاڑوں کا اس وادی میں جمع ہوجاتا انہوں نے ایک بند بنارکھا تھا وہ بند کو ارم کا نام دیتے تھے۔ اور وہ اس پانی کو جب چاہتے کھول دیتے تھے اور جب چاہتے اپنے باغوں کو سیراب کرتے جب اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوا اور ان کے برباد کرنے کا حکم دیا ایک آدمی ان کے باغ میں داخل ہوا اور وہ عمرہ بن عامر تھا جیسے ہم کو خبر پہنچی کہ وہ کاہن تھا جرزہ (چھوٹا چوہا) دیکھا کہ اپنے بچوں کو وادی کے نچلے حصے سے پہار کی چوتی پر منتقل کر رہی ہیں اس نے کہا یہ چوہیا یہاں سے اپنے بچے منتقل کررہی ہے کہ اس شہر والوں پر عذاب کا وقت آگیا ہے۔ اور وہ قدرت رکھتا ہے کہ اس بند میں سوراخ کردے پھر اس نے ایک سوراخ کردیا تو اس سوراخ سے پانی ان کے باغوں کی طرف بہہ نکلا۔ عمرو بن عامر نے حکم دیا تو وہ سوراخ بند کردیا گیا صبح ہوئی تو اس سے بڑا سوراخ ہوگیا اس نے پھر حکم دیا تو اس کو بند کردیا گیا پھر اس سے بھی بڑا سوراخ ہوگیا۔ جب اس نے یہ دیکھا تو اس نے اپنے بھائی کے بیٹے کو بلایا اور کہا جب میں شام کو اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھوں تو میرے پاس آکر کہنا تو نے میرے مال کو کیوں روک رکھا ہے تو میں کہوں گا میرے پاس کوئی مال نہیں اور نہ تیرے باپ نے کوئی چیز چھوری اور بلاشبہ تو جھوٹ بولنے والا ہے جب میں تجھے جھٹلاؤ تو مجھے جھٹلانا جو بات میں تجھ سے کہوں ایسی ہی بات تو مجھ سے کہنا پھر میں تجھ کو گالیاں دوں گا تو مجھ کو گالیاں دینا جب تو مجھے گالی دے گا تو میں تجھ کو تھپڑ ماروں گا تو کھڑا ہو کر مجھے بھی تھپڑ ماردینا اسنے کہا اے میرے چچا ! میں ایسا نہیں کروں گا چچا نے کہا تو ایسا کیوں نہیں کرے گا۔ اس کے ذریعہ میں تیر خیر خواہی کا ارادہ رکھتا ہوں اور تیرے گھروالوں کی خیر خواہی کا جب جوان نے ان کی خواہش کو پہچان لیا۔ تو کہا ٹھیک ہے وہ آیا اس نے وہ باتیں کیں جو اس کو کہی تھیں یہاں تک کہ اس نے اسکو تھپڑ ماردیا اس جوان نے بھی اس کو جواب میں تھپڑ ماردیا بوڑے نے کہا اے بنی فلاں تمہارے درمیان مجھے طمانچے مارے جاتے ہیں میں اس شہر میں نہیں رہوں گا جس میں مجھے فلاں آدمی طمانچہ مارے۔ مجھ سے کون میرا مال خریدتا ہے جب قوم نے اس کے پختہ ارادہ کو دیکھا تو انہوں نے اسے مال دے دیا اس نے اس میں بہترین مال کو دیکھا تو اس کے مالک کے لیے بیع کو ثابت کردیا اس نے مال منگوایا اس کی چھان بین کی اسی رات اس نے اور اس کے بیٹوں نے مال اٹھایا اور وہاں سے چلے گئے۔ 10۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ سبا کی قوم میں ایک کاہن تھا اور شیاطین ان کے لیے چوری چھپے باتیں سنتے انہوں نے آسمان کی خبروں میں سے کچھ باتیں کاہنوں کو بتائیں ان میں سے ایک معزز کاہن بہت مال والا تھا اس کو بتایا گیا کہ ان کی تباہی کا وقت آگیا ہے ان پر عذاب آنے ہی والا ہے وہ نہیں جانتا تھا کہ کہ اب کیا تدبیر کرے کیو کہ اس کے پاس مکانات کی صورت بہت مال تھا اس نے اپنے بیٹوں میں سے ایک سے کہا جبکہ وہ اپنے خاندان میں بہت عزت والا تھا۔ کل میں تجھے ایک کام کا حکم دوں گا تو اس کو نہ کرنا جب میں تجھ کو ڈانٹوں تو مجھ کو ڈانٹ دینا جب میں تجھ کو پکڑوں تو مجھ کو تھپڑ ماردینا۔ اس نے کہا اے میرے باپ ایسا مت کر یہ بہت بری بات ہے اور سخت معاملہ ہے اس نے کہا اے میرے بیٹے ایک معاملہ پیدا ہوگیا ہے اس لیے یہ کام ضروری ہے وہ برابر اس کو آمادہ کرتارہا یہاں تک کہ وہ اس کام پر تیار ہوگیا جب انہوں نے صبح کی اور لوگ جمع ہوئے تو کاہن نے کہا اے میرے بیٹے اس طرح اور اسطرح کر اس نے انکار کیا باپ نے اس کو ڈانٹا تو اس نے بھی اس کو جواب دیا (یعنی ڈانٹ دیا) یہ ڈانٹنا ان کے درمیان چلتا رہا یہاں تک کہ باپ نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو تھپڑ ماردیا وہ بھی اپنے باپ پر کود پڑا اور اس کو تھپڑ ماردیا باپ نے کہا کہ بیٹا مجھے تھپڑ مارتا ہے چھری میرے پاس لاؤ لوگوں نے کہا تو چھری سے کیا کرے گا اس نے کہا میں اس کو ذبح کروں گا لوگوں نے کہا تو اس کو ذبح کرے گا ایسا نہ کر اس کو تھپڑ ماردے یا جو مناسب سمجھے وہ کر کاہن نے اس سے انکار کردیا کہ میں اس کو زبح کروں گا لوگوں نے اس کے ننھیال کی طرف پیغام بھیجا اور ان کو یہ معاملہ بتایا اس کے ماموں آئے اور انہوں نے کہا ہم سے لے لے جو تو چاہے اس نے انکار کیا کہ میں تو اس کو ذبح ہی کروں گا انہوں نے کہا تو اس کے مرنے سے پہلے تو خود مرے گا اس کاہن نے کہا جب یہ بات اسی طرح ہے تو میں اس شہر میں رہنے کا ارادہ نہیں رکھتا جہاں میرے اور میرے بیٹوں کے معاملات میں رکاوٹ ڈالی جائے میرے گھر مجھ سے خرید لو میری زمین مجھ سے خرید لو وہ برابر اس بات کو کہتا رہا یہاں تک کہ اس نے اپنے گھروں کو اپنی زمین اور اپنی جائیداد کو بیچ دیا۔ جب قیمت اس کے ہاتھ میں آگئی اور اس نے ا کو جمع کرلیا تو کہا اے قوم 1 کہ عذاب تم پر آیا چاہتا ہے تمہارے اقتدار کے زوال کا وقت قریب آچکا ہے۔ تم میں سے جو نیا گھر مضبوط جماعت اور سفر کا ارادہ رکھتا ہے وہ عمان چلاجائے اور جو شخص ارادہ کرے تم میں سے شراب کا خمیری روٹی کا اور انگوروں کا رس چاہتا ہے تو وہ بصرہ چلا جائے اور جو کیچڑوں میں مضبوط رہنے والیوں خشک سالی میں کھلانے والیوں کم پانی میں رہنے والیوں کا ارادہ کرتا ہے تو وہ کھجوروں والی جگہ میں چلا جائے ایک جماعت نے اس کی اطاعت کی عمان والے عمان کی طرف نکلے غسان بصرہ کی طرف نکلے اور اوس اور خزرج اور بنو کعب بن عمر یثرب کی طرف نکلے جب وہ بط نخل میں تھے تو بنو کعب نے کہا یہ عمدہ جگہ ہے اس کے بدلے میں ہم کسی جگہ کے طالب نہیں پھر یہیں ٹھہر گئے اس وجہ سے ان کو خزاعہ کا نام دیا گیا کیونکہ وہ اپنے ساتھیوں سے الگ ہوگئے اوس اور خزرج بھی آئے اور یثرب میں جا اترے۔ 11۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لقد کان لسبأ سے مراد ہے کہ ان کے لیے بیٹھنے کی ایک جگہ صرصر تھی ا کے پاس نصاری میں سے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا تم لوگ اللہ کا شکر ادا کرو جس نے تم کو یہ عطا فرمایا ہے انہوں نے کہا ہم کو کس نے عطا کیا یہ ہمارے آباؤ اجداد کی تھیں جن کے ہم وارچ بنے دو حویزن نے اس بات کو سنا اور اس نے جان لیا کہ ان کی بات کی وجہ سے کوئی نہ کوئی بات ظہور پذیر ہوگی۔ اس نے اپنے بیٹے سے کہا تیری بات مجھ پر حرام ہے اگر تو کل کو میرے پاس آی اور جبکہ میں اپنی قوم کی مجلس میں ہوں تو مجھے تھپڑ ماردینا اس نے ایسا کیا تو انہوں نے کہا میں اس زمین میں نہیں رہتا میرے ساتھ میرے بیٹے نے ایسا کیا ہے مگر یہ کہ کون خریدے گا مجھ سے میرے مکان کو تو ہم لوگ باہم سبقت کرنے لگے اور انہوں نے اس سے خرید لیا اللہ تعالیٰ نے اندھے چوہے کو بھیجا جس کو خلد کہا جاتا تھا یہ اندھے کی نسل ہے وہ برابر بند کو کھودتے رہے یہاں تک کہ اس پر سوراخ کردیا بندگر گیا اور دونوں کو بہا کرلے گیا۔ 12۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ (رح) و سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سبا کی طرف تیرہ نبی بھیجے انہوں نے ان کو جھٹلادیا ان کا ایک بند تھا اور جس کو انہوں نے بنایا تھا اور وہ بند ان سے سیلاب کو روکتا تھا جب وہ سیلاب ان کے مالوں کو تباہ کرنا چاہتا ان کے کاہن گمان کرتے تھے کہ ان کے بند کو وہ چوہا تباہ کرے گا تو انہوں نے دو پتھروں کے درمیان کوئی سوراخ نہ چھوڑا مگر انہوں نے اس کے پاس ایک بلی باندھ دی جب بند کی تباہی کا وقت آگیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں جو ارادہ کیا تھا اس کا وقت پہنچا ایک تو سرخ چوہا جو ذکر کرتے تھے ان بلیوں میں ایک بلی کی طرف آیا اور اس نے بلی سے سرگوشی کی یہاں تک کہ بلی اس سے ہٹ گئی وہ سوراخ میں داخل ہوگیا اور بند میں سختی سے داخل ہوگیا اس کو کھودا یہاں تک کہ سیلاب کے لیے اس کو نرم کردیا جبکہ لوگوں کو اس کا کچھ علم نہ ہوا جب سیلاب آیا اس میں داخل ہوگیا یہاں تک کہ بند کو جڑ سے اکھاڑ دیا وہ ان کے مالوں پر بہنے لگا ان کو اٹھایا تو ان میں سے کوئی چیز باقی نہ روہی سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا۔ 13 ابن جریر وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یمن کی وادیاں سبا وادی کی طرف بہتی تھی اور وہ وادی دو پہاڑوں کے درمیان تھی سبا والوں نے دو پہاڑوں کے درمیان راستے کو بند کردیا تارکول اور پتھروں سے اور اپنے باآت کے لیے جتنا پانی چاہا چھوڑدیا اس طرح وہ ایک زمانے تک اپنی زندگی گزارتے رہے پھر انہوں نے سرکشی کی اور گناہ کیے تو اللہ تعالیٰ نے اس بند کی طرف چوہے بھیجے تو انہوں نے اس بند میں سوراخ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں اور ان کے باغوں کو تباہ کردیا اور ان کے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ بو دئیے ایک مط کا اور ایک اثل کا جو چھوٹا سا درخت ہے جس میں وہ تیربناتے ہیں۔ 14۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سیل العرم سے مراد ہے شدید سیلاب۔ 15۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنزر نے عمرو بن شرحبیل (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” سیل العرم “ یمن کی زبان میں ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی جمع ہو۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” سیل العر “ میں العرم حبشی زبان میں اس وادی کو کہتے ہیں جس میں پانی جمع ہوتا ہے پھر اس سے نکل جاتا ہے۔ 17۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ العرم وادی کا نام ہے۔ 18۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سیل العرم سے مراد وہ وادی ہے جو یمن میں تھی اور مکہ کی طرف بہتی تھی۔ 19۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ وادی سبا کو العرم کہا جاتا ہے۔ 20۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابیحاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سیل العرم سے مراد ہے سرخ پانی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس بند میں بھیجا تھا جس نے اس کو پھاڑدیا تھا اور گرادیا تھا۔ وادی کو دونوں خے نیچے سے کھود دیا جن سے دونوں باغ بلند ہوگئے اور پانی ان سے نیچے اتر گیا۔ دونوں باغ خشک ہوگئے اب بند میں سرخ پانی موجود نہ تھا یہ ایک ایسا عذاب تھا جو اللہ نے ان پر بھیج دیا ” اکل خط “ میں ” خمط “ سے مراد ہے اراک کا پھل۔ 21۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب کو بھیجا اور خمط سے مراد پیلو کا درخت ہے۔ 22۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” اکل خمط “ سے مراد ہے پیلو کا درخت اور ” واثل “ سے مراد طرفاء ہیں۔ 23۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ان سے نافع نے پوچھا اللہ تعالیٰ کے اس قول ” اکل خمط “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے پیلو کا پھل پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا کیا تو شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ ما معول فرد تراعی بعینہا اغن غضیض الطرف من خلل الخمط ترجمہ : موت کی کدال کی تو حفاظت نہیں کرسکتا آنکھ کی تری کو پیلو کے کانٹوں سے غنی کردے 24۔ ابن ابی حاتم نے عرمو بن شرحبیل نے فرمایا کہ ” واثل “ سے وہ درخت مراد ہے کہ اس کو کوئی چیز نہیں کھاتی بلاشبہ وہ ایک لکڑی ہے۔ 25۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ الخمط سے مراد ہے پیلو کا پھل اور ” الاثل “ سے مراد ہے جھاؤ کا درخت اور ” السدر “ سے مراد ہے بیری۔ قوم سباء کی نافرمانی 26۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لقد کان لسبأ فی مسکنہم اٰیۃ کے بارے میں فرمایا کہ سبا ایک قوم تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں دی تھیں اور ان کو اپنی اطاعت کا حکم دیا تھا اور ان کو اپنی نافرمانی سے منع کیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فاعرضوا “ یعنی قوم نے اللہ کے حکم سے اعراض کیا آیت ” فارسلنا علیہم سیل العرم “ (ہم نے ان پر عرم وادی کا سیلاب بھیج دیا) ” العرم “ سے مراد ہے سبا کی وادی کہ اس میں مختلف وادیوں کا سیلابی پانی جمع ہوجاتا انہوں نے ارادہ کیا اور دو پہاڑوں کے درمیان کی جگہ پر تارکول اور پتھروں سے بند کردیا اور اس پر دروازے بنادئیے اس کے پانی میں سے جتنا ضرورت ہوتا لے لیتے تھے اور جس پانی کی ضرورت نہ ہوتی اس کو روک لیتے جب انہوں نے اللہ کے حکم کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر جنگلی چوہے کو بھیج دیا اس نے بند کے نیچے سے سوراخ کردیا پانی بھر گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسکے ذریعہ ان کو غرق کردیا اور ان کے اعمال کی سزا میں ان کی زمینوں کو خراب کردیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” وبدلنہم بجنتیہم جنتین ذواتی اکل خمط “ (اور ہم نے ان کو دونوں باغوں کے بدلہ میں دو باغ دوسرے بدل دئیے جو بدمزہ پھل تھے) اور خمط سے مراد پیلو درخت اکل یعنی پیلو کا پھل آیت واثل وشیء من سدر قلیل اور جھاؤ اور کچھ بیری میں سے) یعنی قوم کے درخت بہترین درختوں میں سے تھے اچانک جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی سزا کے طور پر برے ترین درخت بنادئیے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” ذلک جزینہم بما کفروا۔ وہل نجزی الا الکفور “ (ہم نے یہ سزا ان کو ناشکری کی وجہ سے دی اور ہم ایسی سز ابڑے نا سپاس ہی کو دیا کرتے ہیں) جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ عزت اور خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کی نیکیوں کو قبول فرماتے ہیں اور جب کسی بندے کے ساتھ ذلت کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو گناہ پر روک لیتے ہیں۔ 27۔ عبد بن حمید نے عکرمہ سے روایت کیا کہ ” خمط “ سے مراد ہے پیلو کا درخت۔ 28۔ عبد بن حمید نے حسن وابومالک رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 29۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہل نجزی الا الکفور اور ہم ایسی سزا بڑے ناشکرے کو دیتے ہیں۔ پھر فرمایا ہم ایسی سزابڑے ناشکرے کو دیتے ہیں پھر فرمایا اس سے مراد مناقشہ ہے۔ 30۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذروابن ابی حاتم نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہل نجزی الا الکفور سے مراد ہے حساب میں مناقشہ کرنا اور جس شخص کے حساب میں مناقشہ ہو وہ عذاب میں مبتلا ہوگی اوہ کافر ہوگیا جس کی بخشش نہیں ہوگی۔ 31۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو حیوۃ (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ علی ؓ کے اصحاب میں سے تھے گناہ کی سز ایہ ہوتی ہے کہ عبادت میں کزوری روزی میں تنگی اور لذت میں بدمزگی پوچھا گیا منغص کیا ہے فرمایا ایک آدمی حلال کی لذت کو نہیں پاتا یہاں تک کہ اس کے پاس وہ آدمی آتا ہے جو اسے مکدر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 32۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت القی التی برکنا فیہا (اور وہ بستیاں جن میں ہم نے برکت رکھی تھی) اس سے شام کی بستیاں ہیں۔ 33۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلنا بینہم وبین القری التی برکنا فیہا سے شام کی بستیاں مراد ہیں۔ 34۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے سعید بن جبیر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 35۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلنا بینہم وبین القری التی برکنا فیہا قری ظاہرۃ اور ہم نے ان کے اور ان کے بستیوں کے درمیان جن کے اندر ہم نے برکت کر رکھی تھے بہت سے گاؤں آباد کر رکھے تھے جو نظر آتے تھے۔ یعنی یہ بستیاں یمن سے لے کر شام تک پے درپے بستیاں تھیں۔ القی التی برکنا فیہا۔ یعنی وہ بستیاں جن کو ہم ہم نے بابرکت بنایا اس سے مراد شام ہے ایک انسان صبح کو چلتا تو ایک بستی میں قیلولہ کرتا تھا پھر دوپہر چلتا تو دوسری بستی میں رات گزارتا ایک عورت اپنے سر پر ٹوکری اٹھائے ہوئے نکلتی تھی وہ اپنی منزل تک پہنچتی تھی کہ اس کی ٹوکری ہر پھل سے بھر جاتی تھی۔ 36۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے آیت وجعلنا بینہم وین القری التی برکنا فیہا کے بارے میں فرمایا کہ ان کی بستیاں آپس میں ملی ہوئی تھیں وہ ایک دوسرے کو دیکھ لیتے تھے اور ان کے پھل لٹکے ہوئے تھے مگر وہ اترانے لگے اور گناہوں پر اتر آئے تو یہ نعمتیں چھن گئیں۔ 37۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقدرنا فیہا السیر اور ہم نے ان بستیوں کے درمیان ان کے چلنے کا ایک خاص اندازہ کر رکھا تھا یعنی ہم نے ان کے سفر کو قریب کردیا۔ 38۔ آمق بن بشر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجعلنا بینہم یعنی ان کے گھروں کے درمیان آیت وبین القری التی برکنا فیہا یعنی مقدس سرزمین جس میں ہم نے برکت رکھی۔ القری، یعنی وہ بستیاں جو انکے گھروں اور شام کے علاقہ سفر کو قریب کردیا۔ ظاہرۃ۔ یعنی جو سرسبز و شاداب تھیں۔ آیت وقدرنا فیہا السیر۔ یعنی ہم نے ا کو گھروں اور شام کی زمین کے درمیان چلنے کا ایک خاص اندازہ رکھا تھا آیت وقدرنا فیہا السیر یعنی جب وہ روانہ ہوتے تھے اپنے گھروں سے شام کی زمین کی طرف جو مقدس زمین میں سے تھے۔ 39۔ ابن عساکر نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ ” ظاہرۃ “ سے مراد ہے شام کی بستیاں۔ 40۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت سیرو فیہا لیالی وایاما امنین۔ کہ چلو تم ان میں رات کو اور دن کو امن کے ساتھ۔ یعنی ان کو کوئی خوف نہ تھا بھوک کا اور نہ پیاس کا وہ صبح کو چلتے تھے اور ایک بستی میں قیلولہ کرتے تھے اور پچھلے پہر چلتے تھے تو دوسری بستی میں رات گزارتے تھے وہ باغوں اور نہروں والے تھے یہاں تک کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ایک عورت اپنے سر پر ٹوکری رکھ کر گزرتی تھی تو ابھی گھر نہ لوٹتی تھی کہ اس کی ٹوکری بھرچکی ہوتی یہاں تک کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ایک عورت اپنے سر پر ٹوکری رکھ کر گزرتی تھی تو ابھی گھر نہ لوٹتی تھی کہ اس کی ٹوکری بھرچکی ہوتی تھی۔ اور ایک آدمی سفر کرتا تھا تو وہ اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان نہیں اٹھاتا تھا مگر وہ نعمتوں پر اترانے لگے اور کہنے لگے آیت فقالو ربنا باعد بین اسفارنا کہنے لگے اے ہمارے رب ہمارے سفروں کو دور کردے تو ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا ” کل ممزق “ بالکل تتر بتر ہونا اور ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنادیا کہ لوگ ان کے پرانے قصے بیان کرتے ہیں۔ 41۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت فقالوا ربنا باعد بین اسفارنا یعنی کہنے لگے کاش یہ بستیاں ایک دوسرے سے دور ہوتیں اور ہم اپنے عمدہ اور اصل جانوروں پر سفر کرتے۔ 42۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن یعمر (رح) سے روایت کیا کہ فقالوا ربنا باعد بین اسفارنا کہا انہوں نے اپنے اوپر بددعا نہیں کی لیکن بلکہ ان کو جو مصیبت پہنچی تھی اس کی انہوں نے شکایت کی۔ 43۔ عبد بن حمید نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت فقالوا ربنا باعد بین اسفارنا میں بعد کو مشدد پڑھا۔ 44۔ عبد بن حمید نے سعید بن ابی الحسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت باعد بین اسفارنا باء کے نصب اور عین کے رفع کے ساتھ۔ 45۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” ربنا “ نصب کے ساتھ با عد کو باء کے نصب اور عین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا دعا کے طور پر۔ قوم سباء کی بدحالی اور درماندگی 46۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے نے فرمایا کہ آیت ومزقنہم کل ممزق (کہ ہم نے ان کو بالکل ہی تتر بتر کردیا) غسان والے شام کو چلے گئے انصار یثرب کی طرف چلے گئے خزاعہ تہامہ کی طرف چلے گئے اور ازد عمان کی طرف چلے گئے اسی طرح سے ہم نے اس کو بالکل ہی تتر بتر کردیا۔ 47۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان فی ذلک لاٰیت لکل صبار شکور۔ (بلاشبہ اس واقعہ پر صابر وشاکر کے لیے بڑی عبرتیں ہیں) اور فرمایا آیت ان فی ذلک لایت ہیں کہ بہترین وہ بندہ ہے جو صبر کرنے وال اشکر کرنے والا ہے جب دیا جائے تو شکر کرے اور جب آزمائش میں ڈالا جائے تو صبر کرے۔ 48۔ شعبی (رح) سے روایت کیا کہ لکل صبار شکور میں صبار سے مراد ہے کہ مصیبت کے وقت صبر کرنے یعنی شکر کرنے والا نعمت پر۔ 49۔ ابن ابی الدنیا وابن جریر والبیہقی فی شعب الایمان عامر (رح) سے روایت کیا کہ شکر آدھا ایمان ہے اور صبر بھی آدھا ایمان ہے اور یقین سارا ایمان ہے۔ 50۔ البیہقی نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابو القاسم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ بن مریم 1 کہ میں تیرے بعد ایسی امت بھیجنے والا ہوں اگر ان کو ایسی چیز پہنچے گی جس کو وہ پسند کرتے ہوں گے تو اس پر حمد وشکر کریں گے اور اگر ان کو ایسی چیز پہنچے گی جسے وہ ناپسند کرتے ہوں گے تو وہ صبر کریں گے۔ یہ حلم اور علم کی وجہ سے نہیں ہوگا عرض کیا اے میرے رب یہ ان کے لیے کیسے ہوگا جبکہ نہ ان کا حلم ہوگا اور نہ علم فرمایا میں ان کو اپنا حلم اور علم عطا کروں گا۔ 51۔ احمد ومسلم والبیہقی نے شعب الایمان میں والدارمی وابن حبان نے صہیب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے اس کا معاملہ خیر ہی خیر ہے۔ اگر اس کو کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر کا باعث ہے اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے خیر کا باعث ہے۔ 52۔ احمد والبیہقی نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں مومن پر تعجب ہوں اگر اس کو عطا کیا جائے تو وہ کہتا ہے الحمدللہ تو اسنے شکر ادا کیا اور آزمائش میں ڈالا جائے تو کہتا ہے الحمد للہ تو وہ صبر کرتا ہے مومن ہر حال پر اجر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی جس کو وہ اپنے منہ کی طرف اٹھاتا ہے۔ دنیا میں اپنے سے کم درجہ لوگوں کو دیکھ کر شکر کرے 53۔ البیہقی نے شعب میں وابو نعیم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دین میں اپنے سے بلند مرتبہ اور دنیا میں اپنے سے پست مرتبہ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ اس کو صابر اور شاکر لکھ دیں گے اور جس شکص نے دین میں اپنے کم مرتبہ اور دنیا میں اپنے سے بلند مرتبہ کو دیکھا (یعنی زیادہ مالدار ہے) تو اللہ تعالیٰ اس کو صابر وشاکر نہیں لکھیں گے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
Ayahs 34:20–21

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ان کے بارے میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پالیا سو سب اس کے اتباع لگ گئے سوائے مومنین کی تھوڑی سی جماعت کے

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور ابلیس کا ان لوگوں پر کوئی زور نہ تھا بجز اس کے کہ ہم یہ جان لیں کہ آخرت پر ایمان لانے والا کون ہے جو ان لوگوں سے علیحدہ ہے جو اس کی طرف سے شک میں ہیں اور آپ کا رب ہر چیز پر نگرن ہے

1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ (اور واقعی ابلیس نے ان لوگوں کے بارے میں اپنا گمان صحیح پایا) یعنی ابلیس نے کہا کہ آدم (علیہ السلام) خشک مٹی اور گارے سے اور سڑے ہوئے کیچڑ سے کمزور پیدا کیا گیا جبکہ مجھے آگ سے پیدا کیا گیا اور آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے آیت ” لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا “ (یعنی میں اس کی نسل کو قابو میں کرلوں گا) فرمایا کہ ابلیس نے ان پر اپنے کو سچ کردیا لوگوں نے اس کی اتباع کی مگر مومنوں کی ایک جماعت نے اس کی پیروی نہیں کی فرمایا یہی لوگ مومن ہیں۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ میں صدق کو تشدید کے ساتھ پڑھتے تھے اور فرمایا اس سے مراد ہے کہ اس نے ان کے بارے میں جو گمان کیا ہے پس اس کو سچ کردکھایا۔ 3۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں پر جو اس نے گمان کیا تھا اسے سچ کردکھایا سوائے اس شخص کے جس نے اپنے رب کی اطاعت کی وہ شیطان کی پیروی سے رک گیا۔ 4۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ کہ اس نے جو ان کے ساتھ گمان موافق ہوا۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے حسن بصر (رح) سے روایت کیا کہ جب آدم (علیہ السلام) کو جنت سے نیچے اتارا گیا اور ان کے ساتھ حوا بھی تھیں تو ابلیس خوشی سے زمین پر اترا اس وجہ سے کہ اس نے ان دونوں کو مصیبت میں مبتلا کیا۔ اور کہا جب میں نے انسانوں کے والدین کو تکلیف پہنچادی تو ان کی اولاد تو زیادہ کمزور ہوگی اس کو تکلیف پہنچانا آسان ہے۔ اور ابلیس کی طرف سے اس وقت میں گمان کیا گیا تھا میں ابن آدم کو نہیں چھوڑوں گا جب تک اس میں روح ہوگی میں اس کو ورغلاؤں گا اور اس کو آرزؤئیں لاؤں گا اور اس کو دھوکہ دوں گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری عزت کی قسم میں اس سے توبہ کا دروازہ بند نہیں کروں گا جب تک موت اس کے حلق تک نہ پہنچ جائے اور وہ مجھ سے دعا کریں گے تو میں اس کو قبول کروں گا اور مجھ سے سوال کریں گے تو ان کو عطا کروں گا اور مجھ سے بخشش مانگیں گے تو میں ان کو بخش دوں گا۔ 6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وماکان لہ علیہم من سلطن اور نہیں تھا ان لوگوں پر ابلیس کا کوئی تسلط یعنی اللہ کی قسم شیطان ان کو لاٹھی تلوار سے اور چھڑی سے نہیں مارتا اور نہ ان کو کسی چیز پر مجبور کرسکتا ہے اس کی طرف سے صرف دھوکہ اور آرزوئیں ہوتی ہیں ابلیس لوگوں کو ان چیزوں کی طرف دعوت دیتا ہے تو وہ اسے قبول کرلیتے ہیں۔ 7۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت الا لنعلم کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ایک آزمائش ہوتی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم ہوجائے کہ کافر کون ہے مومن کون ہے۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

آپ فرمادیجیے کہ اللہ کے سوا تم نے جنہیں معبود سمجھ رکھا ہے انہیں پکارو وہ ایک زرہ کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں میں زمینوں میں، اور ان دونوں میں ان کا کچھ ساجھا نہیں اور ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار نہیں

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومالہم فیہما من شرک یعنی آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی آیت ومالہ منہم ان کا کسی چیز میں کوئی مددگار نہیں ” من ظہیر “ ان کا کوئی مددگار نہیں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیتومالہ منہم من ظہیر یعنی ان کا فرشتوں میں سے کوئی مدد کرنے والا نہیں۔
Ayahs 34:23–27

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور اس کے پاس سفارش کام نہیں دے سکتی سوائے اس کے جس کے لیے اجازت دیہو یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا جواب میں کہتے ہیں کہ حق ہی فرمایا اور وہ برتر ہے بڑا

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

آپ فرمادیجیے کہ کون تمہیں رزق دیتا ہے آسمانوں سے اور زمین سے آپ فرمادیجیے کہ اللہ ! اور بیشک ہم یا تم ضرور راہ راستہ پر ہیں یا صریح گمراہی میں ہیں

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

آپ فرمادیجیے ہم نے جو جرم کیے تم سے اس کی باز پرس نہ ہوگی اور ہم سے ان کاموں کے بارے میں سوال نہ ہوگا جو تم کرتے ہو

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

آپ فرمادیجیے کہ ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائے گا اور وہ بڑا فیصلہ فرمانے والا ہے خوب جاننے والا ہے

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

آپ فرمادیجیے مجھے دکھا دو وہ لوگ جنہیں تم نے شریک بنا کر اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے، ہرگز نہیں بلکہ وہ اللہ ہے زبردست ہے حکمت والا ہے

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فزع عن قلوبہم یعنی جب ان کے دل گھبراہٹ سے خالی کردئیے گئے۔ کلام الٰہی سن کر سجدہ میں گرنا 2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب جبار نے محمد ﷺ کی طرف وحی کا ارادہ کیا تو فرشتوں میں سے ایک قاصد کو بلایا تاکہ اس کو پیغام دے کر بھیجیں۔ فرشتوں نے کہا جبار کی آواز کو سنا کہ وہ وحی کے ساتھ کلام فرما رہے ہیں۔ پھر جب ان کے دلوں سے حجاب اٹھا تو ان سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حق فرمایا اور وہ جانتے تھے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ حق ہی فرماتے ہیں ابن عباس نے فرمایا کہ وحی کی آواز ایسی تھی جیسے پتھر پر لوہا مارا جائے تو اس کی آواز ہوتی ہے۔ جب انہوں نے آواز کو سنا توسجدے میں گرپڑا جب اپنے سروں کو اٹھایا تو کہا آیت قالوا ماذا قال ربکم قالوا الحق وہوالعلی الکبیر (تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا وہ کہتے ہیں حق بات فرمائی اور وہ عالیشان سب سے بڑا ہے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب وحی نازل ہوئی تھی تو اس کی آواز ایسی تھی جیسے لوہے کو پتھر پر مارا جائے یہ آواز سن کر آسمان والوں پر بےہوشی طاری ہوگئی آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم قالوا ماذا قال ربکم یہاں تک کہ جب ان سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا تو فرشتوں نے کہا الحق وہوالعلی الکبیر اس نے حق فرمایا اور وہ عالیشان سب سے بڑا ہے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آسمان دنیا کی طرح ھکم نازل ہوتا ہے تو اسکی آواز کسی چٹان پر لوہے کی زنجیر کی آواز کی طرح ہوتی ہے تو اس سے تمام آسمان والے گھبرا جاتا ہے اور وہ پوچھتے ہیں آیت ماذا قال ربکم (تمہارے رب نے کیا فرمایا) پھر وہ اپنے نفسوں کی طرف لوٹتے ہوئے کہتے ہیں الحق وہوالعلی الکبیر (حق فرمایا اور وہ عالیشان سب سے بڑا ہے ) شیطان کا تعاقب ستاروں کے ذریعے 5۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید ومسلم والترمذی والنسائی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی فی الدلائل عن طریق معمر عن الزہری وعن علی بن حسین وابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے تو ایک ستارہ ٹوٹا تو روشنی ہوئی آپ نے فرمایا تم کیا کہتے تھے جب اس طرح زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا انہوں نے کہا ہم کہتے تھے کوئی عظیم آدمی پیدا ہوا یا کوئی عظیم آدمی وفات پا گیا آپ نے فرمایا یہ کسی آدمی کے مرنے یا اس کے پیدا ہونے سے نہیں گرتا فرمایا بات یہ ہے کہ ہمارے رب جب کسی کام کا فیصلہ فرماتے ہیں تو عرش اٹھانے والے تسبیح بیان کرتے ہیں پھر آسمان والے تسبیح بیان کرتے ہیں جو عرش کے اٹھانے والون کے قریب ہوتے ہیں اور وہ عرش کے اٹھانے والوں سے پوچھتے ہیں آیت ماذا قال ربکم (تمہارے رب نے کیا فرمایا تو یہ ان کو بتاتے ہیں اور ہر آسمان والے ساتھ والے آسمانوں والوں کو بتاتے ہیں یہاں کہ خبر آسمان دنیا تک پہنچ جاتی ہے اور جنات خبر کو اچک لینا چاہتے ہیں تو ان کو شعلے مارے جاتے ہیں تو جو بات وہ اسی طرح بتاتے ہیں وہ حق ہوتی ہے لیکن وہ اپنی طرف سے اس میں تبدیلی کردیتے ہیں اور اس میں اضافہ کردیتے ہیں معمر نے کہا کہ میں نے زہری سے عرض کیا کہ اسی طرح جاہلیت میں بھی مارا جاتا تھا۔ فرمایا ہاں کیا تو نے اس آیت کو نہیں دیکھا آیت وانا کنا نقعد منہا مقاعدللسمع فمن یستمع الاٰن یجد لہ شہابا رصدا (الجن آیت 9) اور ہم بیٹھا کرتے تھے سننے کی جگہوں میں اب ہم نے اس کے لیے پس جواب سننا چاہتا ہے تو اس کو بھڑکتا ہوا اغ کا شعلہ پیچھے لگ جاتا ہے سخت اور تنگ کردیا گیا ان کے کام کو جب رسول اللہ ﷺ کو بھیجا گیا۔ 6۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید والبخاری وابوداوٗد والترمذی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الاسماء والصفات ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی کام کا فیصلہ فرماتے ہیں تو عاجزی سے فرشتے اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں (اس کی آواز ایسی ہوتی ہے) جیسے پتھر کی چٹان پر کھڑی ہوئی زنجیر ماری جائے ہر چیز کو خوفزدی کردیتی ہیں۔ آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم قالوا ماذا قال ربکم ( جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا تو دوسرے فرشتے کہتے ہیں جو کچھ فرمایا آیت وہول العلی الکبیر حق فرمایا اور عالیشان سب سے بڑا ہے یہ بات چور چھپے سننے والے جنات سنتے ہیں چوری چھپے سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔ سفیان نے اپنے ہاتھ سے اسے بیان کی اپنی انگلیوں کو الگ الگ کیا بعض کو بعض پر کھڑا کیا وہ ایک بات سنتا اور اسے اپنے نیچے والے کی طرف القا کردیتا پھر دوسرا نیچے والے کو القا کردیتا۔ یہاں تک کہ وہ بات کو جادوگر یا کاہن کی زبان پر ڈال دیتا کبھی نیچے والے کو القا کرنے سے پہلے ہی اوپر والے پر ایک شعلہ آپڑتا ہے اور اس کو جلا دیتا ہے اور بعض اوقات وہ شعلہ لگنے سے پہلے ہی القا کردیتا ساحر کاہن اپنی طرف سے اس میں سو جھوٹ ملا دیتا جب وہ ایک بات صحیح ہوجاتی تو کہا جاتا کہ فلاں دن فلاں کاہن یا ساحر نے ہم سے ایسا نہیں کہا تھا چناچہ آسمان سے سنی جانے والی اس ایک بات کی تصدیق کی جاتی۔ 7۔ ابن جریر وابن خزیمہ وابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ فی العظمہ وابن مردویہ والبیہقی فی الاسماء والصفات نواس بن سمعان ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ فرماتے ہیں تو وحی کے ذریعہ کلام فرماتے ہیں جس کو سن کر اللہ کے خوف سے آسمان میں زلزلہ پیدا ہوجاتا ہے جب آسمان والے سا کلام کو سنتے ہیں تو ان پر غشی طاری ہوجاتی ہے اور سب سجدے میں گرپڑتے ہیں سب سے پہلے جبرئیل (علیہ السلام) سجدہ سے سراٹھاتے ہیں اللہ جو کچھ چاہتا ہے اس سے وحی کا کلام فرماتے ہی پھر جبرئیل فرشتوں کی طرف سے گزرتے ہیں جس آسمان سے گزرتے ہیں وہاں کے فرشتے ان سے دریافت کرتے ہیں ہمارے رب نے کیا فرمایا جبرئیل جواب دیتے ہیں اللہ نے جو کچھ فرمایا وہ حق ہے آیت قال ربکم قالوا الحق وہوالعلی الکبیر اللہ عالیشان بڑی عظمت والا ہے یہ سن کر سب فرشتے وہی بات کہتے ہیں جو جبرئیل کہتے ہیں جبرئیل (علیہ السلام) وحی کو وہاں تک پہنچاتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں پہنچانے کا حکم فرمایا تھا۔ 8۔ الحاکم وصححہ ووابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یوں پڑھا آیت حتی ازا فزع عن قلوبہم۔ یعنی راء اور غین کے ساتھ۔ جنات کا آسمانی خبریں سننا 9۔ البیہقی وابن ابی شیبہ وابن مردویہ و ابونعیم فی الدلائل ابن عباس ؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم کے بارے میں فرمایا جنوں کی جماعت میں ۃ ر ایک کے لیے بیٹھنے کی جگہ ہے آسمان میں کہ جہاں وہ بیٹھ کر وحی کو سنتے ہیں اور جب وحی نازل ہوتی تھی تو اس کی آواز یوں سنائی دیتی جیسے زنجیر کو کسی چٹان پر مارا جائے جب آسمان والوں پر وحی نازل ہوتی ہے تو ان پر غشی طاری ہوجاتی آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم قالوا ماذا قال ربکم۔ قالوا الحق وہو العلی الکبیر۔ اگر وحی ان چیزوں میں سے کسی کے بارے میں ہوتی جو غیب موت اور زمین پر واقع ہونے والے دوسرے واقعات کے بارے میں ہوتی تو وہ فرشتے اس کے بارے میں آپس میں بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس طرح اور اس طرح سے ہوگا اس بات کو شیاطین سن لیتے ہیں اور اپنے دوستوں کو بتادیتے ہیں وہ کہتے یہ سال اس طرح ہوگا اور اس طرح ہوگا اس بات کو جنات بھی سن لیتے ہیں اور کاہن کو بتادیتے ہیں اور کاہن اس بارے میں لوگوں کو بتادیتے ہیں تو لوگ بھی کہتے ہیں کہ اس طرح اور اس طرح ہوگا وہ اس خبر کو اس طرح پاتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا تو ان شیطانوں کو ان ستاروں کے ساتھ مارا گیا عرب کے لوگوں نے جب جنات نے ان کو یہ خبر نہیں پہنچائی تو عربوں نے کہا آسمان والا مرگیا ہے اونٹوں والا ہر روز ایک اونٹ ذبح کرنے لگا۔ اور گایوں والا ہر روز ایک گائے ذبح کرنے لگا۔ اور بکریوں والا ہر روز ایک بکری ذبح کرنے لگا یہاں تک کہ وہ اپنے مالوں کو جلدی جلدی ضائع کرنے لگے تو ثقیف والوں نے کہا جن کے پاس سب سے زیادہ اموال تھے اے لوگو اپنے اوپر مالوں کو روکے رکھو کیونکہ جو آسمان میں تھا وہ نہیں مرا یہاں کوئی انتشار نظر نہیں آرہا کیا تم ستاروں کی نشانیاں اس طرح نہیں دیکھتے جیسے پہلے تھیں اور سورج اور چاندنی اور ستارے اور رات اور دن اسی طرح ہیں تو ابلیس نے کہا کہ آج کے دن زمین کے ایک واقعہ پیش آیا ہے ہر علاقہ کی زمین میرے پاس لے آؤ وہ اس کو لے آئے اس نے اس کو سونگھنا شروع کیا جب اس نے مکہ کی مٹی کو سونگھا تو کہا یہاں سے معاملہ منتشر ہوا ہے انہوں نے چھان بین کی تو رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوچکی تھی۔ 10۔ ابو داوٗد والبیہقی (رح) نے اپنی کتاب الاسماء والصفات میں رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ وحی کے ساتھ کلام فرماتے ہیں تو آسمان دنیا والے اس کی ایسی آواز سنتے ہیں جیسے کسی زنجیر کو کسی چٹان پر گھسیٹا جائے تو وہ سن کر بےہوش ہوجاتے ہیں وہ اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبرئیل تشریف لاتے ہیں جب ان کے پاس جبرئیل آتے ہیں تو آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم اور ان کے دلوں گھبراہٹ ہٹ جاتی ہے تو وہ پوچھتے ہیں اے جبرئیل ہمارے رب نے کیا فرمایا تو وہ فرماتے ہیں کہ حق فرمایا اور وہ سب فرشتے بھی کہتے ہیں حق حق یعنی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا حق ہے۔ 11۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ فی العظمہ میں وابن مردویہ والبیہقی دوسری سند سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذڑیعہ کلام فرماتے ہیں تو آسمان والے ایک گھنٹی کی آواز کو سنتے ہیں جیسے زنجیر کو پتھر کی چٹان پر گھسیتا جائے تو وہ یہ آواز سن کر بےہوش ہوجاتے ہیں وہ اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ جبرئیل (علیہ السلام) ان کے پاس آتے ہیں اور جب ان کے پاس جبرئیل آتے ہیں آیت اذا فزع عن قلوبہم تو وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوجاتی ہے اور وہ پوچھتے ہیں اے جبرئیل ہمارے رب نے کیا فرمایا تو وہ کہتے ہیں حق بات فرمائی تو سب فرشتے حق حق پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ 12۔ ابن مردویہ نے بہز بن حکیم سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب جبرئیل (علیہ السلام) وحی لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس نازل ہوتے تو آسمان والے گھبراجاتے ان کے اوپر سے نیچے اترنے کی وجہ سے تو وہ وحی کی آواز ایسے سنتے جو اس لوہے کی آواز سے بھی شدید ہوتی ہے جو لوہا سخت چتان پر مارا جائے جبرئیل (علیہ السلام) جب بھی آسمان والوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو آیت اذا فزع عن قلوبہم تو ان کے دلوں سے گھبراہٹ جاتی رہتی ہے اور وہ پوچھتے ہیں اے جبرئیل آپ کس چیز کا حکم دئیے گئے تو وہ فرماتے ہیں نور العذۃ العظیم کلام اللہ بلسان عربی اللہ جل جلالہ کا عظیم نور اللہ کا کلام عربی زبان میں نازل کرنے کا حکم دیا گیا۔ حکم الٰہی سن کر فرشتوں کا خوف زدہ ہونا 13۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ جبرئیل کی طرف وحی فرماتے ہیں تو فرشتے خوف زدہ ہوجاتے ہیں اس خوف سے کہ کہیں قیامت برپا کرنے کا حکم نہ ہو جب ان کے دلوں سے وہ خوف جاتا رہتا ہے اور وہ جان لیتے ہیں کہ یہ قیامت کا حکم نہیں ہے تو پھر پوچھتے ہیں آیت قالوا مازا قال ربکم قالوا الحق وہ پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا حکم کیا ہے تو کہتے ہیں حق ہے۔ 14۔ ابو نصر السجزی نے الابانہ میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے جبرئیل کو دیکھا اور گمان کیا گیا کہ اسرافیل عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور ان کا قدم ساتویں زمین میں ہے اور الواح ان کی آنکھوں کے سامنے ہے جب عرش والوں کسی کام کا ارادہ فرماتے ہیں تو فرشتے ایسی آواز کو سنتے ہیں جیسے زنجیر کسی چٹان پر گھسیٹا جارہا ہو۔ تو ان پر غشی طاری ہوجاتی ہے جب کھڑے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں آیت ماذا قال ربکم تمہارے رب نے کیا فرمایا تو جبرئیل فرماتے ہیں کہ جو اللہ نے چاہا فرمایا آیت الحق وہوالعلی الکبیر۔ یعنی حق فرمایا اور وہ عالیشان رب سب سے بڑی ذات ہے۔ 15۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم قتادہ اور صلبی (رح) دونوں سے روایت کیا کہ آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم یعنی جب عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان فترۃ الوحی کا دور تھا تو وحی لوہے کی آواز کی طرح نازل ہوئی تو فرشتے گھبراگئے آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم جب ان سے گھبراہٹ دور ہوئی جب خوف ان کے دلوں سے دور ہو تو پوچھا آیت ماذا قال ربکم قالوا الحق وہو العلی الکبیر تو پوچھا کہ تمہارے رب نے کیا فرماتیا تو دوسرے فرشتوں نے کہا حق فرمایا اور عالیشان بلند ذات ہے۔ 16۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن جریج وابن ابی حاتم (رح) دونوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ابن مسعود نے یہ گمان کیا کہ وہ فرشتے جو زمین والون کے پاس آتے رہتے ہیں جب رب تبارک وتعالیٰ ان فرشتوں کو بھیجتا ہے تو وہ لوگوں کے اعمال لکھتے ہیں وہ اترے تو انہوں نے سخت آواز سنی۔ تو وہ فرشتے جو ان سے نیچے ہوتے ہیں وہ گمان کرتے ہیں کہ یہ قیامت کا حکم ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گرپڑتے ہیں سب فرشتوں کی صورت ہوتی ہے جن کے پاس سے بھی وہ گزرتے ہیں اور وہ اپنے رب تبارک وتعالیٰ کے خوف سے ایسا کرتے ہیں۔ 17۔ ، ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تبارک وتعالی کسی کام کا حکم فرماتے ہیں تو آسمان اور زمین پہاڑ کانپ اٹھتے اور سارے فرشتے سجدے میں گرپڑتے ہیں اور جنات گمان کرتے ہی کہ امر کا فیصلہ ہوچکا تو چوری کرنے والے چوری کرتے ہیں جب فیسہ ہوچکتا ہے تو فرشتے اپنے سروں کو اٹھاتے ہیں اسی کو فرمایا آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم قالوا ماذا قال ربکم قالوا الحق وہو العلی الکبیر۔ 18۔ ابن الانباری نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم۔ پھر اس کی تفسیر فرماتے تھے یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے خوف دور ہوتا تھا۔ 19۔ ابن ابی حاتم نے دوسری سند سے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت اذا فزع عن قلوبہم اور فرمایا ان کے دلوں میں جو شک اور تکذیب تھی۔ 20۔ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم سے مراد ہے کہ شیطان ان کے دلوں سے دور ہوگیا ان میں جو جدائی ڈالتا تھا اور ان کو آرزؤئیں دلاتا تھا اور جو ان کو گمراہ کرتا تھا۔ آیت قالوا ماذا قال ربکم قالوا الحق وہو العلی الکبیر پھر فرمایا کہ اور یہ معاملہ بنی آدم کے بارے میں موت کے وقت ہوگا انہوں نے اس وقت اقرار کیا جب ان کو اقرار کچھ بھی نفع نہ دے گا۔ 21۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم کے بارے میں روایت کیا کہ ان سے قیامت کے دن پردہ دور کیا جائے گا۔ 22۔ عبد بن حمید نے ابراہیم اور ضحاک رحمہما دونوں سے روایت کیا کہ دونوں اس طرح پڑھتے تھے آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم اور فرماتے تھے کہ ان کے دلوں سے جب اسے دور کردیا جائے گا۔ 23۔ عبد بن حمید نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا آپ کس طرح اس آیت کو پڑھتے ہیں آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم تو محمد بن سیرین نے جواب دیا آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم کیونکہ حسن (رح) اپنی رائے سے بعض باتیں کرتے ہیں ایسی باتیں کرنے سے ڈرتا ہوں۔ 24۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت حتی اذا فزع عن قلوبہم عین اور زاء کی تشدید کے ساتھ۔ 25۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں سے پوچھتے تو اس نے پوچھا آیت قل من یرزقکم من السموت والارض (آپ فرمادیجیے کون تم کو آسمان اور زمین میں سے رزق دیتا ہے ) ۔ 26۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانا او ایاکم لعلی ہدی او فی ضلل مبین سے مراد ہے کہ ہم ہدایت پر ہیں اور تم واضح گمراہی پر ہو۔ 27۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانا او ایاکم پوری آیت سے مراد ہے کہ یہ بات محمد ﷺ کے اصحاب نے مشرکین سے کہی تھی اور اللہ کی قسم ! کہ ہم اور تم ایک جیسے نہیں کہ دونوں جماعتوں میں سے ایک ہدایت پانے والا ہے آیت قل یجمع بیننا ربنا ثم یفتح بیننا یعنی وہ فیصلہ کرے گا یعنی فرمادیجیے ہمارا رب ہم کو جمع کرے گا۔ 28۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے اسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الفتاح “ سے مراد ہے فیصلہ کرنے والا۔
Ayahs 34:28–30

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر سارے انسانوں کے لیے بشیر ونذیر بنا کر لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

آپ فرمادیجیے کہ تمہارے لیے ایک خاص دن کا وعدہ ہے اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو

1۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ارسلنک الا کافۃ للناس یعنی ہم نے آپ کو سارے لوگوں کی طرف بھیجا۔ 2۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا کافۃ للناس سے مراد عام لوگوں کے لیے آپ کو بھیجا گیا۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت وما ارسلناک الا کافۃ للناس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو عرب اور عجم کی طرف بھیجا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے معزز وہ لوگ ہیں جو ان سے رسول اللہ ﷺ کے زیادہ اطاعت گزار ہیں۔ پانچ باتوں کے ذریعہ آپ کی فوقیت 4۔ ابن المنذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ مجھے سارے لوگ سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا جب کہ نبی کو صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا جب کہ نبی کو صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا میری مدد رعب سے کی گئی میرا دشمن ایک ماہ کی مسافت سے مجھ سے خوفزدہ ہوتا ہے میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا میرے لیے زمین مسجد اور پاکیزگی عطا کرنے والی بنا دی گئی مجھے شفاعت کا حق دیا گیا جس کو میں نے اپنی امت کے لیے قیامت کے دن کے لیے اپنے پاس ذخیرہ کے طور پر رکھ لیا ہے۔ 5۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ مجھے تمام سرخ اور سیاہ لوگوں کی طرف بھیجا گیا پہلے نبی کو اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی مجھ سے میرا دشمن ڈرتا ہے ایک ماہ کے فاصلے سے اور مجھے غنیمت کا مال کھلایا گیا یعنی حلال کردیا گیا اور میرے لیے زمین کو سجدے کی جگہ اور پاک بنادیا گیا اور مجھے شفاعت عطا کی گئی تو میں نے اپنی امت کے لیے اس کو قیامت کے دن تک ذخیرہ کرلیا اور وہ انشاء اللہ اس شخص کو پہنچے گی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
Ayahs 34:31–33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا ہم ہرگز اس قرآن پر اور اس سے پہلے جو کتابیں تھیں ان پر ایمان نہ لائیں گے اور اگر آپ اس وقت کی حالت دیکھ لیں جبکہ یہ ظالم لوگ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے ہر ایک دوسرے پر بات کو ڈال رہا ہوگا نیچے درجہ والے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوتے

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

بڑے لوگ چھوٹے درجے کے لوگوں سے کہیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا تھا اس کے بعد کہ تمہارے پاس ہدایت آئی بلکہ بات یہ ہے کہ تم مجرم تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور نیچے درجہ والے ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے تھے بلکہ رات دن تمہاری مکانی روکا تھا جبکہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ شرک کریں اور اس کے لیے شریک قرار دیں اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ندامت کو چھپالیں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے انہیں صرف انہیں کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقال الذین کفروا لن نومن بہذا القراٰن (اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز اس قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے) یعنی یہ بات عرب کے مشرکوں نے کہی تھی جنہوں نے قرآن کا انکار کیا آیت ولا بالذی بین یدیہ اور نہ اس سے پہلے تورات وانجیل کو مانیں گے) یعنی نہ اس سے پہلی کتابوں اور انبیاء کو مانیں گے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا بالذی بین یدیہ یعنی اس قرآن سے پہلی کتابیں۔ انجیل اور تورات پر بھی ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ آیت یقول الذین استضعفوا یعنی وہ پیروی کرنے والے لوگ کہیں گے آیت للذین استکبرو۔ ان اپنے لڈروں سے آیت بل مکر الیل والنہار بلکہ تمہاری رات دن کی پرفریب تدبیروں نے روکا تھا۔ یعنی رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے نے تم کو دھوکہ میں ڈال دیا۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ بل مکر الیل والنہار سے مراد ہے کہ بلکہ تمہاری تدبیروں نے جو رات اور دن میں ہوتی تھیں تمہیں دھوکہ میں ڈالا۔ 4۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ بل مکر الیل والنہار بلکہ تمہارے دن اور رات کی تدبیروں نے تمہیں دھوکہ میں ڈالا۔ 5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل مکر الیل والنہار تمہاری رات اور دن کی تدبیروں نے تم کو دھوکہ میں ڈال اور تم کو ایمان لانے سے روکا تھا۔ اے قوم کے سرداروں یہاں تک کہ تم نے ہم کو اللہ کی عبادت سے دور کردیا آیت وجعلنا الاغلل فی اعناق الذین کفرو۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جہنم میں نہ کوئی گھر ہوگا نہ کوئی گار ہوگی نہ طوق ہوگا اور نہ بیڑی ہوگی اور نہ کوئی زنجیر ہوگی مگر جس جہنمی کی یہ چیزیں ہوگی اس کا ان پر نام لکھا ہوگا اس کو ابوسلیمان دارانی بیان فرمایا پھر روتے ہوئے فرمایا کہ اس آدمی کا کیا حال ہوگا جب ان ساری چیزوں کو اس پر جمع کردیا جائے گا بیڑیاں اس کے قدموں میں اور طوق اس کے ہاتھوں میں اور زنجیریں اس کی گردن میں ہوں گی پھر اس کو جہنم کے گھر میں اور جہنم کی غار میں داخل کردیا جائے گا۔