Ayahs 18:84–851:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتینہ من کل شیء سببا “ یعنی علم (دیا)
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاتبع سببا “ یعنی منزل۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتینہ من کل شیء سببا “ سے مراد ہے علم اور اس سے لوگوں کی زبانوں میں تعلیم ہے ذوالقرنین ہر قوم سے اس کی زبان میں بات کرتا تھا۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن ہلال (رح) سے روایت کیا کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے کعب احبار ؓ سے پوچھا کیا تو کہتا ہے کہ ذوالقرنین اپنے گھوڑے کو اپنے اگلے دانتوں سے باندھتا تھا کعب ؓ نے ان سے فرمایا اگر میں نے ایسا کہا ہے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واتینہ من کل شیء سببا “۔
5:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتینہ من کل شیء سببا “ سے مراد ہے۔ زمین کی منزلیں اور اس کی نشانیاں۔
6:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاتبع سببا “ سے مراد ہے مشرق سے مغرب کی طرف منزل۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاتبع سببا “ سے راستہ مراد ہے جیسے فرعون نے ھامان سے کہا تھا (آیت) ” ابن لی صرحا لعلی ابلغ الاسباب (غافر آیت : 36) یعنی (آیت) ” اسباب السموت “ سے مراد ہیں آسمانوں کے راستے اور فرمایا کہ ایک چیز کا نام ایک ہوتا ہے لیکن معنی میں وہ متفرق ہوتی ہے اور یہ آیت ” وتقطعت بہم الاسباب “ البقرہ آیت : 166) پڑھی اور فرمایا اس سے مراد ہے اعمال کے اسباب۔
Ayah 18:86سورج غروب ہونے کی جگہ :
1:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے عثمان بن ابی حاضر (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے ذکر کیا گیا کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہیں۔ (آیت) ” تغرب فی عین حامیۃ “ جو سورة کہف میں ہے ابن عباس نے فرمایا کہ میں نے معاویہ ؓ سے کا ہ ہم اس کو ” حمئۃ “ پڑھتے ہیں معاویہ ؓ نے کہا عبداللہ بن عمرو ؓ سے سوال کرو تم اس کو کس طرح پڑھتے ہو عبداللہ ؓ نے فرمایا جیسے کہ تم پڑھتے ہو ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں نے معاویہ ؓ سے کہا کہ میرے گھر میں قرآن نازل ہوا (پھر) میں نے کعب ؓ کے پاس ایک آدمی بھیجا اور ان سے پوچھا کہ تم تورات میں کیسے پاتے ہو کہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے ؟ کعب ؓ نے اس آدمی سے کہا عرب والوں سے سوال کرو کیونکہ وہ اس کو زیادہ جانتے ہیں لیکن تورات میں یہ ہے کہ سورج پانی اور مٹی میں غروب ہوتا ہے اور اپنے ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ فرمایا ابن ابی حاضر (رح) نے فرمایا اگر میں تمہارے ساتھ ہوتا تو میں تمہاری تائید کرتا ایک کلام کے ذریعہ اور ” حمئۃ “ کے متعلق اس کے ذریعہ بصیرت زیادہ ہوتی ابن عباس ؓ نے پوچھا وہ کلام کیا ہے ؟ میں نے کہا ہم تبع کی بات کو ترجیح دیتے ہیں جو اس نے ذوالقرنین کے علم اور علم کی اتباع کے بارے میں ذکر کیا (اور یہ کہا)
قد کان ذوالقرنین عمرومسلما ملکا تدین لہ الملوک وتحسد
ترجمہ : ذوالقرنین لمبی عمر والا مسلمان بادشاہ تھا کہ بادشاہ اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے تھے اور حسد (بھی) کرتے تھے۔
فاتی المشارق والمغارب یبتغی اسباب ملک من حکیم مرشد
ترجمہ : وہ مشرقوں اور مغربوں میں آیا کہ اس نے بادشاہی (و حکومت) کے اسباب طلب کئے حکیم مرشد (یعنی اللہ تعالیٰ ) سے۔
فرای مغیب الشمس عند غروبھا فی عین ذی خلب وثاط حرمد
ترجمہ : تو اس نے سورج کے غروب ہونے کی جگہ کو دیکھا اور ایک سیاہ بدبودار مٹی کے چشمے میں غروب ہورہا تھا۔
ابن عباس ؓ نے پوچھا ” خلب “ کیا ہے ؟ میں نے کہا ان کے کلام میں مٹی ہے پھر پوچھا ” ثاط “ کیا ہے ؟ میں نے کہا وہ دلدل ہے پھر پوچھا حرمد کیا ہے ؟ میں نے کہا وہ سیاہ ہے ابن عباس ؓ نے ایک لڑکے کو بلایا اور اس سے فرمایا یہ جو کہتا ہے اس کو لکھ لو۔
2:۔ ترمذی، ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح پڑھا (آیت) ” فی عین حمئۃ “۔
3:۔ حاکم، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ اس طرح پڑھتے تھے (آیت) ” فی عین حمئۃ “
4:۔ حافظ عبدالغنی بن سعید نے ایضاح الاشکال میں مصداع بن یحی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ نے اس طرح پڑھا جس طرح نبی کریم ﷺ ان کو پڑھایا (آیت) ” تغرب فی عین حمئۃ “
5:۔ ابن جریر نے اعرج (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اس کو (آیت) ” فی عین حمئۃ “ پڑھتے تھے پھر (آیت) ” ذات حمئۃ “ پڑھتے تھے۔
6:۔ سعید بن منصور، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” فی عین حمئۃ “ کعب ؓ نے فرمایا میں نے کسی کو اس طرح پڑھتے ہوئے نہیں سنا جیسے وہ کتاب اللہ ہے سوائے ابن عباس کے ہم نے اس کو تورات میں یوں پایا ہے (آیت) ” تغرب فی عین حمئۃ سوداء “۔
7:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے عطا کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے حضرت معاویہ ؓ کے پاس (آیت) ” حمئۃ “ اور ” حامیۃ “ پڑھنے کے متعلق عمرو بن العاص ؓ سے اختلاف کیا (اور فرمایا) میں نے اس کو پڑھا (آیت) ” فی عین حمئۃ “ عمرو نے فرمایا ” حامیۃ “ ہم نے کعب ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ اللہ کی نازل کردہ کتاب میں یوں ہے (آیت) ” تغرب فی طینۃ سودا “۔
8:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابن حاضر کے طریق ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم معاویہ ؓ کے پاس بیٹھے تھے تو انہوں نے پڑھا (آیت) ” تغرب فی عین حمئۃ “ میں نے ان سے کہا کہ ہم تو اس کو پڑھتے ہیں (آیت) ” فی عین حمئۃ “ معاویہ ؓ نے کعب ؓ کے پاس ایک آدمی کو بھیجا اور کہا کہ تم تورات میں سورج کے ڈوبنے کو کہاں پاتے ہو ؟ کعب ؓ نے فرمایا عربی زبان کا تو مجھے علم نہیں لیکن میں تورات میں پاتا ہوں کہ سورج پانی اور مٹی میں غروب ہوتا ہے۔
9:۔ سعید بن منصور نے طلحہ بن عبید اللہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” فی عین حمئۃ “۔
10:۔ ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فی عین حمئۃ “ سے مراد ہے گرم چشمہ۔
11:۔ احمد، ابن ابی شیبہ، ابن منیع، ابویعلی، ابن جریر، اور ابن مردویہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج کی طرف دیکھا جب وہ غروب ہورہا تھا تو آپ نے فرمایا اللہ کی آگ ہے گرم کی ہوئی پھر فرمایا اگر اللہ نے اسے نہ روکا ہوتا تو وہ زمین پر سب کچھ جلا دیتا۔
12:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا اور آپ ایک گدھے پر سوار تھے آپ نے سورج کو دیکھا جب وہ غروب ہورہا تھا آپ نے پوچھا کیا تو جانتا ہے یہ کہاں غروب ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں پھر فرمایا کہ وہ ایک گرم چشمے میں غروب ہوتا ہے یعنی بغیر ھمزہ کے پڑھا۔
13:۔ سعید بن منصور نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ سورج ایک چشمے میں غروب ہوتا ہے وہ چشمہ اس کو مشرق کی طرف پھینک دیتا ہے۔
14:۔ ابویعلی، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ نے عظمہ میں اور ابن جریر نے ابن جریض (رح) سے (آیت) ” ووجد عندھا قوما “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ایک شہر تھا جس کے بارہ ہزار دروازے تھے اگر اس کے رہنے والوں کی آواز نہ ہوتیں تو لوگ سورج کی آواز کو سنتے جب وہ دھماکے کرتا ہے۔
15:۔ ابن ابی حاتم نے سعد بن ابی صالح (رح) یوں فرمایا کرتے تھے اگر روم والوں کا شور نہ ہوتا تو لوگ سورج کی آواز کو سنتے جب وہ دھماکہ سے گرتا ہے۔
ذوالقرنین کا فیصلہ ظالم قوم کے بارے میں :
16:۔ ابن منذر نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ اگر مسافروں کی آوازیں نہ ہوتیں تو سورج کے دھماکے سب سنتے جب وہ اپنے غروب کے وقت گرتا ہے۔
Ayahs 18:87–1001:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال اما من ظلم “ یعنی جس نے شرک کیا۔
2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف نعذبہ “ سے مراد ہے قتل کرنا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان کو جمع کئے ہوئے تانبے میں ڈالا جاتا تھا پھر ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ اس میں ختم ہوجاتے تھے۔
4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے اچھی جزا ہے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابی ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وسنقول لہ من امرنا یسرا “ سے مراد ہے معروفا یعنی نیک کام (واللہ تعالیٰ اعلم ) ۔
6:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے عظمہ میں ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حتی اذا بلغ مطلع الشمس “ کے بارے میں فرمایا کس حسن اور سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ (آیت) ” لم نجعل لہم من دونھا سترا “ یعنی اس میں کوئی تعمیر نہ تھی جب سورج طلوع ہوتا تھا تو وہ اپنی غاروں میں داخل ہوجاتے تھے یہاں تک کہ سورج زوال پذیر ہوجاتا۔
7:۔ طیالسی، بزار نے امالی میں ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے حسن (رح) سے (آیت) ’ ’ تطلع علی قوم لم نجعل لہم من دونھا سترا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کی زمین کسی عمارت کو نہیں اٹھاتی تھی جب سورج طلوع ہوتا تو وہ پانیوں کے نیچے چلے جاتے تھے جب غروب ہوجاتا تو باہر نکل آتے اور چرنے لگتے جیسے جانور چرتے ہیں پھر حسن ؓ نے فرمایا یہ سمرہ ؓ کی حدیث ہے۔
8:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ وہ لوگ اپنی زمین میں تھے کہ ان کے لئے کوئی چیز قائم نہیں رہتی تھی جب سورج طلوع ہوتا تو وہ لوگ سرنگوں میں داخل ہوجاتے یہاں تک کہ جب سورج غروب ہوجاتا تو اپنے کھیتیوں اور اپنے گذروبسر کے سامان کی طرف چلے جاتے۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے سلمہ بن کھیل (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے پردے کی جگہیں نہیں تھیں جب سورج طلوع ہوتا تو ان پر ہی طلوع ہوتا ان کے دو کان (اتنے بڑے بڑے) ہوتے تھے کہ ایک کو بچھا لیتے تھے اور دوسرے کو اوپر اوڑھ لیتے تھے۔
10:۔ عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجدھا تطلع علی قوم “ یعنی ایسی قوم تھی جن کو زنج کہا جاتا تھا۔
سورج طلوع ہونے کی جگہ :
11:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہوتا تھا جو سرخ رنگ اور چھوٹے قد کے تھے ان کے ٹھہرنے کی جگہیں غاریں تھیں ان کی معیشت کا دروارومدار مچھلی پر تھا۔
12:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بمالدیہ خبرا “ سے مراد علم ہے۔
13:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حتی اذا بلغ بین السدین “ سے مراد ہے دو پہاڑ (جن کے نام ہیں) آرمینیہ اور آذربائیجان۔
14:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قوما، لا یکادون یفقھون قولا “ سے ترک قوم مراد ہے۔
15:۔ سعید بن منصور نے تمیم بن جذیم (رح) یوں پڑھا کرتے تھے (آیت) ” قوما، لا یکادون یفقھون قولا “۔
16:۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک دن اللہ نے نبی ﷺ کے پاس آئے آپ ایک چمڑے کے بنے ہوئے ایک قبہ میں تشریف فرما تھے آپ ہماری طرف تشریف لائے اللہ کی حمد بیان فرمائی پھر فرمایا کیا میں تم کو خوشخبری نہ دوں کہ تم اہل جنت میں ایک چوتھائی ہوں گے ہم نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ، پھر آپ نے فرمایا کیا میں تم کو خوشخبری نہ دوں کہ تم اہل جنت میں ایک تہائی ہوں گے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ہاں (ٹھیک ہے) فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت میں آدھے ہوں گے تمہاری مثال ساری امتوں میں ایسی ہے جیسے سفید بال ہوں کالے بیل کے پہلو میں یا کالے بال ہوں سفید بیل کے پہلو میں تمہارے بعد یاجوج ماجوج ہوگی ان میں ایک آدمی اپنے بعد اپنی اولاد میں ایک ہزار یا اس سے زیادہ کو چھوڑے گا اور ان کے پیچھے تین امتیں ہوں گی منسک، تاویل، اور تاریس اللہ کے سوا ان کی گنتی کوئی نہیں جانتا۔
17:۔ عبدالرزاق ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم اور حاکم نے روایت کی کی بکالی کے طریق سے (حاکم نے صحیح بھی کہا) عبد اللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں انسانوں اور جنات کے دس حصے بنادیئے ان میں سے نو حصے فرشتوں کے ہیں اور ایک حصہ جنات اور انسانوں کا ہے اور فرشتوں کے پر دس حصے ہیں ان میں سے نو حصے کروبیون کے ہیں جو دن رات اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور نہیں تھکتے اور ایک حصہ اس کے پیغامات اور اس کے خزانوں کے لئے ہے اور جو اللہ تعالیٰ امر چاہتا ہے ان کے پہچانے کے لئے ہے اور انسانوں اور جنوں میں پھر دس حصے ہیں ان میں سے نوحصے جنات ہیں اور انسان ایک حصہ ہیں انسانوں میں سے (اگر) ایک انسان پیدا ہوتا ہے تو جنات میں سے نو پیدا ہوتے ہیں پھر انسانوں میں دس حصے ہیں ان میں سے نوحصے یاجوج ماجوج ہیں اور ایک حصے سارے انسان ہیں اور آسمان راستوں والا ہے فرمایا کہ ساتوں آسمان اور حرم شریف عرش کے مقابل ہیں۔
18۔ ابن ابی حاتم نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ یاجوج اور ماجوج انسانوں سے دو گنازیادہ ہیں اور جنات بھی انسانوں سے دو گنازہادہ ہیں اور یاجوج اور ماجوج دو آدمی ہیں کہ جن کے نام یاجوج اور ماجوج ہیں۔
19:۔ عبدالرزاق، اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دس حصے بنائے ان میں نو حصے یاجوج اور ماجوج ہیں اور ایک حصہ باقی سارے انسان ہیں۔
20:۔ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے عظمہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ پانچ صورتوں پر دنیا کی تصویر بنائی گئی پرندہ کی صورت پر اس کا سر اور سینہ اور پر اور دم کے ساتھ پس مدینہ مکہ اور یمن اس کے سر ہیں اور سینہ مصر وشام ہیں اور دایاں پر عراق ہے اور عراق کے پیچھے ایک امت ہے جس کو واق کہا جاتا ہے اور واق کے پیچھے ایک امت ہے جو وقواق کہا جاتا اور اس کے پیچھے اور امتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اس کا بایاں پر سندھ ہے اور سندھ کے پیچھے ہندوستان ہے اور ہندوستان کے پیچھے ایک امت ہے جس کو ناسک کہا جاتا ہے اور اس کے پیچھے ایک امت ہے جس کو منسک کہا جاتا ہے اور اس کے پیچھے ایسی امتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور دم ذات الحمام سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک ہے اور پرندہ میں جو شر ہے (یعنی بری جگہ) وہ ذنب ہے۔
21:۔ ابوالشیخ نے عظمہ میں عبدہ بن ابی لبابہ (رح) سے روایت کیا کہ دنیا کے ساتھ اقالیم ہیں جن چھ میں یاجوج ماجوج ہیں اور (باقی) سارے لوگ ایک اقلیم میں رہتے ہیں۔
یاجوج ماجوج کی قوم :
22:۔ ابن جریر نے وھب بن جابر حیوانی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے یاجوج ماجوج کے بارے میں پوچھا کیا (یہ قوم) آدمی میں سے ہے ؟ فرمایا ہاں اور ان کے بعد تین امتیں ہیں ان کی گنتی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا (امتوں کے نام یہ ہیں) تاویل تاریس اور منسک۔
23:۔ ابن جریر نے عبداللہ بن عمر وؓ سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج کے لئے نہریں ہیں وہ (اس میں) پھینکتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں اور (ان کی) عورتیں ہیں وہ ان سے جماع کرتے ہیں جب چاہتے ہیں اور درخت ہیں (ان میں) پیوند لگاتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں اور کوئی آدمی نہیں مرتا مگر وہ چھوڑتا ہے اپنی اولاد میں سے ایک ہزار کو یا اس سے زیادہ۔
24:۔ ابن منذر اور ابوالشیخ نے حسان بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج دو امتیں ہیں ہر ایک امت میں چار لاکھ امتیں ہیں ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے مشابہ نہیں ہوتی اور ان میں کوئی آدمی نہیں مرتا یہاں تک کہ اپنی اولاد میں سے سو آنکھوں کو دیکھ لیتا ہے۔
25:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج تین قسموں پر پیدا کئے گئے ایک قسم ایسی ہے کہ ان کے جسم ارز (شام کا ایک درخت) کی طرح ہیں اور دوسری قسم چار ہاتھ لمبی ہے اور چار ہاتھ چوڑی ہے اور ایک قسم وہ جو اپنے کانوں کو بچھا لیتے ہیں اور دوسرے کان کو اوڑھ لیتے ہیں اور اپنی عورتوں کے بچہ پیدا ہونے والی جھلی کو کھالیتے ہیں۔
26:۔ ابن منذر نے خالد اشج (رح) سے روایت کیا کہ آدم کی اولاد اور ابلیس کی اولاد تین تہائی ہے دو تہائی ابلیس کی اولاد ہے اور ایک تہائی آدم کی اولاد ہے اور آدمی کی اولاد (پھر) تین تہائی ہے دو تہائی یاجوج ماجوج ہیں اور ایک تہائی سارے لوگ ہیں اور بعد میں لوگ پھر تین تہائی ہیں ایک تہائی اندلس ہے اور ایک تہائی حبشہ ہے اور ایک تہائی لوگ سارے عرب وعجم ہیں۔
27:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج بائیس قبیلے ہیں ذوالقرنین نے اکیس قبیلوں کے سامنے دیوار کھڑی کردی اور ایک قبیلہ چھوڑ دیا اور وہ ترک ہیں۔
28:۔ ابن منذر نے علی ابن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ان ترکوں کے بارے میں پوچھا گیا (فرمایا) وہ ایک سیارہ ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ہے وہ یاجوج ماجوج میں سے ہیں لیکن یہ لوگ غارت گری کرتے ہوئے نکلے تو ذوالقرنین نے ان کے اور لوگوں کے درمیان دیوار بنادی پھر یہ زمین میں چلے گئے۔
29:۔ ابن منذر نے حسان بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج پچیس امتیں ہیں ان میں سے کوئی امت دوسری کے مشابہ نہیں ہے۔
30:۔ ابن ابی حاتم نے ابوالمثنی الاملوکی (رح) سے روایت کیا کہ جہنم کے لئے اللہ تعالیٰ نے یاجوج ماجوج کو پیدا فرمایا ان میں سے کوئی صدیق نہیں ہوا اور نہ کبھی ہوگا۔
31:۔ ابن جریر اور ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج میں سے کوئی آدمی نہیں مرتا مگر وہ ہزار اولاد چھوڑ دیتا ہے اپنی نسل میں سے یا اس سے زیادہ۔
32:۔ ابن منذر ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج ایک بالشت اور دو بالشت (قد والے) ہیں اور ان لمبے آدمی تین بالشت ہیں اور وہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔
33:۔ عبدابن حمید، ابن منذر طبرانی، بیہقی نے بعث میں ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یاجوج ماجوج آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اگر ان کو چھوڑ دیا جائے تو لوگوں کی معیشت کو تباہ کردیں ان میں سے کوئی آدمی نہیں مرتا مگر اپنی اولاد میں سے ایک ہزار یا اس سے زیادہ چھوڑجاتا ہے اور ان کے پیچھے تین امتیں ہیں۔ تاویل، تاریس اور منسک۔
34:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جنات اور انسان دس حصے ہیں نو حصے یاجوج ماجوج ہیں اور ایک حصہ باقی سارے لوگ ہیں۔
35:۔ نسائی اور ابن مردویہ نے عمرو بن اوس (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یاجوج ماجوج کی عورتیں ہیں جب وہ چاہتے ہیں وہ جماع کرتے ہیں اور درخت کو پیوند لگاتے ہیں جب چاہتے ہیں اور ان میں سے کوئی آدمی نہیں مرتا مگر اپنی اولاد میں سے ایک ہزار یا اس سے زیادہ کو چھوڑ کرجاتا ہے۔
36:۔ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، ابن عدی، ابن عساکر اور ابن نجار نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے یاجوج ماجوج کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا یاجوج ایک امت ہے اور ماجوج بھی ایک امت ہے ہر ایک امت چار لاکھ امتیں ہیں ان میں کوئی نہیں مرتا یہاں تک کہ اپنی صلب میں سے ایک ہزار آدمیوں کو دیکھ لیتا ہے جن میں سے ہر ایک ہتھیارکو اٹھاتا ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ہم کو ان کی صفات بیان فرمائیے ؟ آپ نے فرمایا وہ تین قسمیں ہیں ان میں سے ایک قسم ارز کی طرح ہیں میں نے کہا ارز کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک درخت ہے شام میں درخت کی لمبائی ایک سو بیس ذراع ہے آسمان میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ وہ قسم ہے ان کے لئے نہ کوئی پہاڑ ٹھہرتا ہے اور نہ لوہا اور ان کی ایک قسم ایسی ہے جو اپنے ایک کان کو بچا لیتے ہیں اور دوسرے کو اوڑھ لیتے ہیں وہ نہیں گذرتے کسی ہاتھی کے پاس سے یا کسی وحشی کے پاس سے یا کسی اونٹ اور خنزیر کے پاس سے مگر اس کو کھا جاتے ہیں اور ان میں سے جو مرتا ہے اس کو بھی کھالیتے ہیں ان کا مقدمہ (یعنی پہلا حصہ) شام میں ہے اور ان کا ساقہ مشرق کی نہروں اور بحریہ طبریہ سے پانی پیتا ہے۔
37:۔ نعیم بن حماد نے فتن میں اور ابن مردویہ نے سند واہی کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے مجھے یاجوج ماجوج کی طرف بھیجا میں نے ان کو اللہ کے دین اور اس کی عبادت کی طرف بلایا تو انہوں نے میری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا وہ ابلیس کی اولاد اور آدم (علیہ السلام) کی نافرمان اولاد کے ساتھ (دوزخ) میں ہوں گے۔
38:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابوبکرۃ نسفی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں نے یاجوج ماجوج کی دیوار کو دیکھا ہے آپ نے فرمایا میرے لئے اس کی کیفیت بیان کر اس نے کہا وہ دھاری دار چادر کی طرح تھی اس کی ایک دھار سیاہ اور ایک دھار سرخ تھی آپ نے فرمایا تو نے واقعی اس کو دیکھا ہے۔
یاجوج ماجوج کی محنت اور تھکن :
39:۔ احمد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں (اور حاکم نے تصحیح اور ترمذی نے تحسین بھی کی ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج روزانہ دیوار کھودتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ اتنے قریب ہوجاتے ہیں کہ سورج کی شعاعوں کو دیکھ لیں تو سردار کہتا ہے کہ لوٹ جاؤ باقی کل کھودیں گے اور وہ انشاء اللہ نہیں کہتا جب وہ (اگلے دن) صبح کرتے ہیں تو وہ دیکھتے ہیں کہ دیوار پہلے کی طرح بلند ہوچکی ہے جب اللہ تعالیٰ ان کے باہر نکالنے کا ارادہ فرمائیں گے تو ان کا سردار کہے گا لوٹ جاؤ باقی کل انشاء اللہ کھودیں گے وہ (جب) اس کی طرف لوٹیں گے تو اس کو اس حال میں پائیں گے کہ جیسے انہوں نے اس کو چھوڑا تھا پھر اس کو کھودیں گے اور لوگ باہر نکل آئیں گے اور سارا پانی پی جائیں گے لوگ ان کے خوف سے قلعہ بند ہو کر بیٹھ رہیں گے وہ آسمان کی طرف تیر چلائیں گے اور وہ خون آلود ہو کر لوٹیں گے تو کہیں گے ہم زمین والوں پر غالب آگئے اور آسمان والوں پر بھی ہم نے سختی سے قابو پالیا اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کردے جس سے وہ سب ہلاک ہوجائیں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ زمین کے کیڑے ان کے گوشت سے البتہ موٹے ہوجائیں گے اور خوش ہوجائیں گے اور شکر ادا کریں گے۔
40:۔ بخاری، اور مسلم نے زینب بنت جحش ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نیند سے (اس حال میں) بیدار ہوئے کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا اور آپ فرما رہے تھے (آیت) ” لا الہ الا اللہ “ ہلاکت ہے عرب کے لوگوں کے لئے اس شہر سے جو قریب آچکا آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے اس طرح سے اور آپ نے (شہادت کی انگلی اور انگوٹھے) سے حلقہ بنایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم ہلاک ہوں گے اور ہمارے درمیان نیک لوگ بھی موجودہوں آپ نے فرمایا ہاں جب برائی بہت ہوجائے گی۔
41:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے اس طرح سے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے نوے کا حلقہ بنایا۔
42:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حبیب ارحانی (رح) سے (آیت) ” ان یاجوج وما جوج مفسدون فی الارض “ کے بارے میں روایت کیا کہ ان کا فساد یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کو کھائیں گے۔
43:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھل نجعل لک خرجا “ سے مراد ہے بڑا اجر۔
44:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جو سد (یعنی رکاوٹ) اللہ کی طرف سے ہو وہ سد (سین کے ضمہ کے ساتھ) ہے اور جو انسان تعمیر کرے وہ سد (سین کے فتحہ کے ساتھ) ہے۔
45:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مامکنی فیہ ربی خیر “ سے مراد ہے کہ جو چیز میرے رب نے مجھے عطا کی ہے وہ بہتر ہے اس چیز سے جو تم میرے لئے خراج میں سے خرچ کرتے ہو۔
46:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اجعل بینکم وبینہم ردما “ اور وہ دیوار مانند سخت پردے کے ہوگی۔
47:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” زبر الحدید “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے لوہے کے ٹکڑے مراد ہیں۔
48:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” زبرالحدید “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے لوہے کے ٹکڑے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے کعب بن مالک ؓ کا یہ قول نہیں سنا اور وہ فرماتے ہیں۔
تلظی علیہم حین شد حمیمھا بزبرالحدید والحجارۃ شاجر :
ترجمہ : جس وقت پانی گرم ہوگیا تو اس پر لوہے اور پتھر کے ٹکڑے بھڑک اٹھے۔
49:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بین الصدفین “ سے مراد ہے دو پہاڑ۔
50:۔ سعید بن منصور نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” بین الصدفین “ دونوں کے فتحہ کے ساتھ یعنی دو پہاڑوں کے درمیان۔
51:۔ سعید بن منصور نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” بین الصدفین “ دونوں کے ضمہ کے ساتھ۔
52:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بین الصدفین “ یعنی دونوں پہاڑوں کی چوٹی۔
53:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قطرا “ سے مراد ہے تانبا۔
54:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قطرا “ سے مراد ہے تانبا۔
55:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اتونی افرغ علیہ قطرا “ میں قطر سے مراد ہے تانبا۔
56ـ:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اتونی افرغ علیہ قطرا “ سے مراد ہے تانبا۔
57ـ:۔ عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما اسطاعوا ان یظھروہ “ یعنی وہ طاقت نہیں رکھتے کہ وہ اس دیوار پر چڑھ آئیں۔
58:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما اسطاعوا ان یظھروہ “ کہ وہ اوپر چڑھ جائیں (آیت) ” وما استطاعوالہ نقبا “ کہ وہ اس کے نیچے سے نقب لگا سکیں۔
59:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکآء “ یعنی اس کو راستہ بنادیں گے جیسے وہ تھا۔
60:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکآء “ یعنی میں نہیں جانتا کہ اللہ پہاڑوں یا ان کے درمیان راستہ بنادے گا۔
61:۔ سعید بن منصور نے ربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ وہ (آیت) ” جعلہ دکآء “ کو ممدودا پڑھتے تھے۔
یاجوج ماجوج سد سکندری کے پیچھے :
62:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا کہ یاجوج ماجوج سد (سکندری) کے پیچھے ہیں کوئی آدمی ان میں سے نہیں مرتا مگر اس کی ایک ہزار اولاد پیدا ہوجاتی ہے اس کے صلب سے اور وہ صبح سویرے ہر دن دیوار پر جاتے ہیں اس کو چاٹتے ہیں اور اس کو انڈے کے چھلکے کی طرح کردیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ہم کل لوٹ آئیں گے اور ہم اس کو کھودیں گے (جب) وہ صبح کو جاتے ہیں تو وہ دیوار ویسے ہوچکی ہوتی ہے جیسے چاٹنے سے پہلے تھی وہ اسی حال میں رہیں گے یہاں تک کہ ان میں ایک مسلمان بچہ پیدا ہوگا جب وہ صبح کو (دیوار کو) چاٹنے کے لئے جائیں گے تو ان سے کہے گا تم (آیت) ” بسم اللہ “ کہو جب وہ بسم اللہ کہیں گے اور ارادہ کریں گے کہ شام کو لوٹ جائیں تو وہ کہیں گے ہم صبح کو لوٹیں گے اور اس کو کھودیں گے وہ صبح کو جب آئیں گے تو دیوار ویسے ہی ہوچکی ہوگی جیسے تھ ی تو وہ مسلمان ان سے کہے گا تم لوگ انشاء اللہ کہو تو وہ لوگ انشاء اللہ کہیں گے اور صبح کو جب وہ آئیں گے تو وہ اس میں سوراخ کرلیں گے اور اس میں سے لوگوں پر نکل پڑیں گے ان میں سے سب سے پہلے ستر ہزار (کی جماعت) نکلے گی کہ ان پر سروں پر تاج ہوں گے اس کے بعد فوج در فوج نکلیں گے اور تمہاری اسی نہر کی طرح ایک نہر پر آئیں گے یعنی نہر فرات پر اس (کے پانی) کو پئیں گے یہاں تک کہ کچھ بھی اس میں باقی نہ رہے گا پھر اس میں سے گروہ آئے گا اور نہر پر پہنچے گا اور کہے گی کہ یہاں تو کبھی پانی تھی اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکآء “ اور دلک کا معنی مٹی ہے (آیت) ” وکان وعد ربی حقا “ (اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے)
63:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج اپنے پنجوں کے ساتھ دیوار کھودتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسے پھاڑنے کے قریب ہوجاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم صبح کو لوٹیں گے اور اس کی کھدائی سے فارغ ہوجائیں گے وہ جب (صبح کو) اس کی طرف لوٹ کر آئیں گے تو وہ (دیوار) جیسے تھی ویسے ہوچکی ہوگی تو وہ اسی طرح باربار آتے رہیں گے (کہ وہ صبح کو آتے ہیں اور شام کو چلے جاتے ہیں) جب معاملہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا (یعنی جب خروج کا وقت آئے گا) تو ان کے بعض زبانوں پر (یہ الفاظ) جاری کردیئے جائیں گے کہ ہم انشاء اللہ کل کو آئیں گے اور اس سے فارغ ہوجائیں گے وہ دوسرے دن اس (دیوار) کے پاس آئیں گے اور وہ ویسے ہی ہوگی (جیسے چھوڑ کر گئے تھے) وہ اس کو پھاڑ دیں گے اور باہر نکل آئیں گے ان کا پہلا گروہ ایک بحیرہ پر آئے گا اور اس کا سارا پانی پی جائے گا اور پھر ان کا درمیانی گروہ آئے گا تو وہ اس کی تمام مٹی چاٹ جائے گا پھر ان کا آخری گروہ آئے گا اور وہ کہیں گے یہاں پانی ہوا کرتا تھا پھر وہ لوگ آسمان کی طرف اپنے تیروں کو پھینکیں گے تو وہ خون آلود ہو کر واپس آئیں گے اور کہیں گے ہم نے زمین والوں پر غلبہ پالیا اور ہم غالب آگئے ہیں آسمان والوں پر بھی تو عیسیٰ (علیہ السلام) ان پر بددعا فرمائیں گے اے اللہ ہماری ان کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور نہ ہمارے اختیار میں ہے پاس تو خود ہی ہماری طرف سے ان کو کافی ہوجائیں جیسے آپ چاہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک کیڑا مسلط کردیں گے جس کو نغف کہا جاتا ہے وہ ان کو ان کی گردنوں سے پکڑے گا اور ان کو قتل کردے گا یہاں تک کہ ان کی بدبو سے زمین (ساری کی ساری) بدبودار ہوجائے گی پھر اللہ تعالیٰ ان پر پرندوں کو بھیجیں گے وہ ان کے بدنوں کو سمندر کی طرف اٹھا کرلے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان پر آسمان سے چالیس دن بارش برسائے گا تو زمین سے اناج پیدا ہوگا یہاں تک کہ ایک انار ایک گھر والوں کا پیٹ بھر دے گا۔
64:۔ ابن منذر نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج کی دیوار کو چوکھٹ کو چوبیس ذراع چوڑا کردیا جائے گا جب ان کے لئے کھولی جائے گی ان کے گھوڑوں کے گھر اس کو کردیں گے اور اس دیوار کی بلندی بارہ ہاتھ ہوگی اور اس کو ان کے نیزے کے (انیاں) کریدیں گی۔
یاجوج ماجوج کا خاتمہ کیسے ہوگا ؟
65:۔ ابن منذر نے عبداللہ بن عمروؓ سے روایت کیا کہ جب یاجوج ماجوج نکلیں گے تو عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تین سو مسلمان کے ساتھ شام کے ایک محل میں ہوں گے ان کا معاملہ ان پر سخت ہوجائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں گے تو اللہ ان کو ہلاک کردے گا اور ان پر نغف (کیڑا) مسلط کردے گا جس سے وہ سب مرجائیں گے ان کی وجہ سے ساری زمین میں بدبو سے بھر جائے گی پھر مسلمان اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ (اے اللہ) ان سے زمین کو پاک کردے تو اللہ تعالیٰ بارش کو بھیجیں گے ( تو وہ پانی) ان کو سمندر کی طرف بہا کرلے جائے گا پھر لوگوں کے لئے سرسبزی کی کثرت ہوگی یہاں تک کہ ایک انگور کے گچھے سے گھروالوں کا پیٹ بھر جائے گا۔
66ـ:۔ ابن جریر اور حاکم نے (حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج کا پہلا گروہ ایک نہر کے ساتھ گذرے گا دریادجلہ کی طرح پھر ان کا آخری گروہ گذرے گا تو کہے گا کہ اس نہر میں پانی تھا اور ان کا ایک آدمی نہیں مرے گا مگر اپنی اولاد میں سے ایک ہزار یا اس سے زیادہ کو چھوڑ کر جائے گا اور ان کے بعد تین امتیں ہوں گی ان کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا (ان کے نام یہ ہیں) تاویل ناسک، اور منسک۔
67ـ:۔ ابویعلی حاکم اور ابن عساکر نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے دیوار کے بارے میں فرمایا کہ (یاجوج ماجوج) اس کو ہر دن کھودتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ پھاڑنے کے قریب ہوجاتے ہیں تو جو سردار ان پر ہوتا ہے وہ ان سے کہتا ہے کہ لوٹ جاؤ باقی اس کو کل پھاڑ دیں گے راوی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس دیوار کو لوٹا دیتے ہیں گویا کہ وہ زیادہ سخت ہوتی ہے پہلے سے بھی یہاں تک کہ جب وہ اپنی مدت کو پہنچیں گے اور اللہ تعالیٰ بھی ارادہ فرمائیں گے (کہ ان کو نکالنا ہے) تو ان کا سردار ان سے کہے گا لوٹ جاؤ کل کو انشاء اللہ اس کو پھاڑیں گے وہ انشاء اللہ کہے گا تو وہ (کل کو جب) لوٹیں گے تو وہ (اسی حال پر) ہوگی جیسے انہوں نے اس کو چھوڑا تھا تو اس کو پھاڑ ڈالیں گے اور لوگوں پر نکل پڑیں گے اور تمام پانی پی جائیں گے اور لوگ ان سے بھاگیں گے وہ اپنے تیروں کو آسمان کی طرف چلائیں گے تو وہ خون آلود ہو کر لوٹیں گے تو وہ کہیں گے ہم نے زمین پر غلبہ پالیا اور ہم نے آسمان پر بھی سختی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایک کیڑا ان گدیوں میں پیدا فرما دیں گے اور ان کو ہلاک کردیں گے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ زمین کے جانور ان کا گوشت کھانے کی وجہ سے موٹے ہوجائیں گے اور خوش ہوں گے اور ان کے گوشت سے شکر ادا کریں گے۔
دجال کا فتنہ اور اس کی علامت :
68:۔ حاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں زیادہ جانتا ہوں کہ جو کچھ دجال کے ساتھ ہوگا اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی ان میں سے ایک آگ کی نہر ہوگی بھڑکے گی اس شخص کی آنکھ میں جو اس کو دیکھے گا اور دوسری نہر میں سفید پانی ہوگا جب تم میں سے کوئی اس کو پائے تو اس کو آنکھ بند کرلینی چاہئے اور اس سے پیئے جس کو آگ کی صورت میں دکھا رہا ہے کیونکہ وہ حقیقت میں ٹھنڈا پانی ہوگا اور دوسری نہر سے بچو کیونکہ ہو فتنہ ہے اور تم جان لو کہ اس کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہے کافر اس کو پڑھ لے گا جو شخص لکھنا جانتا ہے یا لکھنا نہیں جانتا اور اس کی آنکھوں میں سے ایک آنکھ مٹی ہوئی ہے اور اس پر ناخنہ ہے (ناخنہ ایک بیماری ہے جس کی وجہ سے آنکھ پر جھلی آجاتی ہے) اور وہ آخر میں بطن اردن پر ظاہر ہوگا ثنیۃ افیق کے مقام پر اور بطن اردن میں ہر ایک اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہوگا وہ مسلمانوں میں سے دو تہائی کو قتل کردے گا اور دو تہائی کو شکست دے گا اور ایک تہائی باقی رہ جائیں گے اور ان پر رات چھاجائے گی تو بعض ایمان والے لوگ بعض سے کہیں گے تم کیا انتظار کررہے ہو کہ تم اپنے بھائیوں سے ملو اپنے رب کی رضا میں ؟ جس کے پاس بچا ہوا کھانا ہو تو اسے اپنے بھائی کے پاس لے جانا چاہئے اور تم نماز پڑھو یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجائے اور نماز میں جلدی کرو پھر اپنے دشمنوں کی طرف توجہ کرو جب نماز پڑھنے کھڑے ہوں گے تو عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے آگے اتریں گے اور ان کو نماز پڑھائیں گے جب وہ سلام پھیریں گے تو کہیں گے جگہ کشادہ کردو اپنے اور اللہ کے دشمن کے درمیان تو وہ (دجال، عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر) پگھل جائے گا اللہ ان پر مسلمانوں کو مسلط کردے گا وہ ان کو قتل کریں گے یہاں تک کہ ایک پتھر اور درخت آواز دے گا اے عبداللہ، اے عبدالرحمن، اے مسلمان، یہ یہودی ہے اس کو قتل کردو تو اللہ تعالیٰ ان کو قتل کردیں گے اور مسلمانوں کو غلبہ دیا جائے گا اور وہ لوگ صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے اور جزیہ کو ختم کردیں گے اسی کیفیت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو زمین سے نکالیں گے ان کا پہلا گروہ بحیرہ کا سارا پانی پی جائے گا پھر ان کا آخری گروہ آئے گا تو وہ پہلا گروہ سب کچھ صاف کرگیا ہوگا اور ایک قطرہ بھی نہ چھوڑا ہوگا تو یہ دوسرے گروہ والے کہیں گے ہم اپنے دشمنوں پر غالب آگئے یہاں پانی کا اثر تھا پھر اللہ کے نبی تشریف لائیں گے اور اس کے ساتھی ان کے پیچھے ہوں گے یہاں تک کہ فلسطین کے شہر میں داخل ہوجائیں گے جس کو ” لد “ کہا جاتا ہے اور وہ کہیں گے (پہلے گروہ والے) کہ ہم ان پر غالب آگئے جو زمین میں ہیں اب آجاؤ ہم ان سے لڑیں گے جو آسمان میں ہیں اس وقت ان کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کے گلوں میں ایک پھوڑا پیدا فرما دے گا جس کی وجہ سے ان میں سے کوئی ایک بھی باقی نہیں رہے گا ان کی بدبو مسلمانوں کو تکلیف دے گی تو عیسیٰ (علیہ السلام) (پھر) دعا فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ پر ایک ہوا کو بھیج دیں گے تو وہ ان سب کو سمندر میں پھینک دے گی۔
69:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو الزاھر یہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کے لوٹنے کی جگہ جنگوں سے دمشق ہے اور ان کے لوٹنے کی جگہ دجال سے بیت المقدس ہوگی اور ان کے لوٹنے کی جگہ یاجوج ماجوج سے بیت الطور ہوگی (واللہ اعلم)
70:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” لوترکنا بعضہم یومئذ یموج فی بعض “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ جب ہوگا جب وہ (یعنی یاجوج ماجوج) لوگوں پر نکلیں گے۔
71:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لوترکنا بعضہم یومئذ یموج فی بعض “ کے بارے میں فرمایا کہ قیامت کے دن (سب سے) پہلے یہ ہوگا (کہ لوگ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں گے) پھر اس کے پیچھے صور پھونکا جائے گا۔
72:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ہارون بن عنتزہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” لوترکنا بعضہم یومئذ یموج فی بعض “ کے بارے میں روایت کیا کہ جنات اور انسان ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوجائیں گے۔
73:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ہارون بن عنتزہ کے طریق اور انہوں نے بنوفزارہ کے ایک شیخ (رح) سے (آیت) ” لوترکنا بعضہم یومئذ یموج فی بعض “ کے بارے میں فرمایا کہ جنات اور انسان ایک دوسرے میں گھس جائیں گے تو ابلیس کہے گا میں تمہارے لئے اس امر کا علم زیادہ جانتا ہوں تو وہ جائے گا مشرق کی طرف اور فرشتوں کو پائے گا کہ وہ زمین کو گھیرے ہوئے ہیں پھر وہ مغرب کی طرف جائے گا تو فرشتوں کو پائے گا کہ وہ زمین کو گھیرے ہوئے ہیں پھر وہ دائیں اور بائیں طرف جائے گا یہاں تک کہ زمین کے آخری کنارے تک پہنچے گا تو وہاں بھی فرشتوں کو پائے گا کہ وہ زمین کو گھیرے میں لئے ہوئے ہیں تو کہے گا کہ اب تو کوئی بھاگنے کی جگہ ہے ہمارے درمیان کہ وہ اس حال میں ہوگا کہ اس کے سامنے ایک راستہ آئے گا گویا کہ وہ شعلہ ہے وہ اور اس کی اولاد اس پر چلیں گے کہ وہ اس طرح اچانک آگ میں داخل ہوجائیں گے اس کے پاس آگ کا داروغہ آئے گا اور کہے گا اے ابلیس کیا تیری قدر ومنزلت نہیں تھی تیرے رب کے پاس ؟ کیا تو جنات میں سے نہیں تھا ؟ ابلیس کہے گا آج عتاب کا دن نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر عبادت فرض کرے تو میں اس کی ایسی عبادت کروں گا کہ کسی مخلوق نے اس کی ایسی عبادت نہ کی ہوگی جن ہم کا فرشتہ کہے گا اللہ تعالیٰ نے تجھ پر ایک فریضہ عائد کیا ہے وہ کہے گا وہ کیا ہے ؟ فرشتہ کہے گا کہ وہ تجھ کو حکم دیتا ہے کہ تو آگ میں داخل ہوجا پھر وہ فرشتہ اسے اور اس کی اولاد کو پر مار کر دوزخ میں پھینک گے دے گا پھر جہنم چنگھاڑ رہی ہوگی تو کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل نہیں بچے گا مگر اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا۔
Ayah 18:1011:۔ ابن ابی حاتم نے (آیت) ” الذین کانت اعینہم فی غطآء عن ذکری وکانوا لا یستطیعون سمعا “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حق بات سے اندھے ہیں وہ اس کو نہیں دیکھ پاتے اور اس سے بہرے ہیں کہ وہ اس کو نہیں سن پاتے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” لا یستطیعون سمعا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ حق بات سمجھتے ہی نہیں (واللہ اعلم )
Ayah 18:1021:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” افحسب الذین کفروا ان یتخذوا عبادی من دونی اولیآء “ کے بارے میں روایت کیا کہ بنوآدم کے کافروں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ فرشتوں کو اپنا حمایتی بنالیں گے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر۔
2:۔ ابوعبید، سعید بن منصور اور ابن منذر نے علی، ابن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا۔ (آیت) ” افحسب الذین کفروا ان یتخذوا عبادی من دونی اولیآء “ ابوعبید نے فرمایا کہ سین کے جزم اور باء کے ضمہ کے ساتھ۔
3:۔ ابوعبید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا (آیت) ” افحسب الذین کفروا “ اور فرمایا کیا انہوں نے ایسا گمان کیا۔
Ayahs 18:103–108خوارج یہود و نصاری کے اعمال :
1:۔ عبدالرزاق، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے، حاکم اور ابن مردویہ نے مصعب بن سعد (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ میں نے اپنے والد سے (آیت) ” قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا “ کے بارے میں پوچھا کیا (اس آیت میں) حروریہ (خوارج) مراد ہیں انہوں نے فرمایا نہیں وہ یہود و نصاری مراد ہیں یہودیوں نے محمد ﷺ کو جھٹلادیا اور نصاری نے جنت کو جھٹلادیا اور کہا نہ اس میں کھانا ہے نہ اس میں پینا ہے اور حرور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکا وعدہ کرنے کے بعد اس کو توڑ دیتے ہیں، اور حضرت سعدؓ ان کو فاسقین کا نام دیتے تھے۔
2:۔ عبدالرزاق، فریابی سعید بن منصور، ابن منذر، ابن ابی حاتم، حاکم اور ابن مردویہ نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) مصعب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنے والد سے (آیت) ” قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا “ کے بارے میں پوچھا کیا اس سے حرور یہ مراد ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن اس سے مراد گرجا گھر والے ہیں اور حروریہ ایسی قوم تھی جو (دین حق سے) ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابوخمیصہ عبداللہ بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ میں علی بن ابی طالب ؓ کو اس آیت کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ (آیت) ” قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا “ سے راہب مراد ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں کے ساتھ روک رکھا تھا یعنی۔
4:۔ ابن مردویہ نے ابو الطفیل (رح) سے روایت کیا کہ میں نے علی بن ابی طالب ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور ابن الکواء نے ان سے پوچھا کہ (آیت) ” قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا “ سے کون مراد ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے قریش کے بدکار لوگ مراد ہیں۔
5:۔ عبد الرزاق، فریابی، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت (آیت) ” قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا میں خیال نہیں کرتا مگر یہ کہ خوارج انمیں سے ہیں۔
6:۔ بخاری، مسلم، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بڑا موٹا آدمی قیامت کے دن لایا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسکا کوئی وزن نہ ہوگا مچھر کے پر کے برابر بھی اور فرمایا اگر چاہوتو پڑھ لو (آیت) ” فلا نقیم لہم یوم القیمۃ وزنا “
7:۔ ابن عدی اور بیہقی نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ایک بہت بڑے شخص کو لایا جائے گا جو بہت زیادہ کھانے اور پینے والا ہوگا جس کا اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر وزن نہ ہوگا اگر تم چاہو تو پڑھ لو (آیت) ” فلا نقیم لہم یوم القیمۃ وزنا “
قرآن پر عمل کرنے والے خوش نصیب :
8:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ضریس نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص دنیا میں قروں پر عمل کرتا ہے اس کے لئے قیامت کے دن قرآن کو بہت خوبصورت شکل میں بنادیا جائے گا اس کا چہرہ خوبصورت اور اس کی خوشبو پاکیز ہوگی جو وہ اپنے ساتھی کے پہلو میں کھڑا ہوگا جب بھی وہ گھبرائے گا تو اس کے گھبراہٹ کو دور کرے گا اور اسے سکون دے گا اور اس کی امیدوں کو کشادہ کرے گا اور وہ شخص اسے کہے گا اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنے ساتھی کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے (تو کون ہے ؟ ) کیا ہی اچھی تیری صورت ہے اور کیا ہی اچھی تیری خوشبو ہے وہ اس سے کہتا ہے کیا تو مجھے نہیں پہچانتا ؟ تو آجا اور مجھ پر سوار ہوجا میں نے تجھ پر دنیا میں بہت لمبا عرصہ سواری کی میں تیرا عمل ہوں اگر تیرا عمل حسین تھا تو نے میری صورت بھی حسین دیکھی اگر تیرے عمل کی خوشبو پاکیزہ تھی تو میری خوشبو بھی پاکیزہ دیکھے گا وہ عمل اسے اٹھا کر رب تبارک وتعالیٰ کے پاس پہنچا دے گا اور وہ عمل عرض کرے گا اے میرے رب یہ فلاں ہے اور میں اس کو اس سے زیادہ جاننے والا ہوں میں نے اس کو زندگی کے دنوں میں مشغول رکھا دنیا میں کبھی میں نے اس کو دن میں پیاسا رکھا اور اس کو راتوں میں جگائے رکھا پھر آپ اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرمائیے اس کو بادشاہ والا تاج پہنایا جائے گا اور بادشاہ والا جوڑا پہنایا جائے گا وہ کہے گا اے میرے رب ! میں اس کی خاطر دنیا کی چیزوں سے منہ موڑے رہا کے لئے تجھ سے اس کے لئے افضل کی امید رکھتا ہوں اور (اس کے بعد) پس اس کی دائیں جانب سے جنت اور بائیں جانب سے نعمتیں عطا کی جائیں گی وہ عرض کرے گا اے میرے رب ہر تاجر داخل ہوتا ہے اپنے اہل و عیال پر اپنی تجارت کے ساتھ اور اس کی سفارش قبول کی جائے گی اس کے اقارب کے حق میں اور جب وہ کافر تھا تو اس کے عمل کو بہت بری صورت میں بنادیا جائے گا وہ اس کو دیکھے گا اور اس کی بدبو محسوس کرے گا جب بھی اس کے پاس کوئی خوف لاحق ہوگا تو وہ اس کے خوف میں اضافہ کرے گا اور وہ کہے گا اللہ تجھے اپنے ساتھی کی طرف سے برا بدلہ دے کتنی بری تیری صورت ہے اور تیری بدبو پریشان کن ہے پوچھے گا تو کون ہے ؟ عمل کہے گا کیا تو نے مجھے نہیں پہچانا میں تیرا عمل ہوں تیرا عمل برا تھا تو تو نے میری بری صورت دیکھی تیرا عمل بدبودار تھا تو تو نے میری بدبو محسوس وہ عمل کہے گا آجا میں تجھ کو سوار کروں گا کہ میں دنیا میں تجھ پر سوار تھا پس وہ اسے سوار کرکے اللہ کے اپس لے جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے میزان بھی قائم نہیں فرمائے گا۔
9:۔ ابن ابی شیبہ اور عبد بن حمیدنے عمیر (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن ایک بڑے آدمی کو لایا جائے گا اس کو ترازو میں رکھا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اس کا وزن نہ ہوگا پھر یہ آیت پڑھی (آیت) ” فلا نقیم لہم یوم القیمۃ وزنا “۔
10:۔ ھناد نے کعب بن عجرہ (رح) سے (آیت) ” فلا نقیم لہم یوم القیمۃ وزنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایک آدمی کو قیامت کے دن لایا جائے گا اس کا وزن کیا جائے گا تو ایک گیہوں کے دانے کے برابر بھی وزن نہ ہوگا پھر وزن کیا جائے گا اور ایک جو کے برابر بھی وزن نہ ہوگا پھر یہ آیت (آیت) ” فلا نقیم لہم یوم القیمۃ وزنا “ تلاوت کی کہ ان کا کوئی وزن نہ ہوگا۔
11:۔ عبد ابن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، حاکم نے اور (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا اعلی مقام ہے فردوس والے عرش کے چڑچڑانے کو سنتے ہیں۔
12:۔ بخاری، مسلم اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو تم اس سے فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا درمیانی اور جنت کا اعلی مقام ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اس سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔
13:۔ احمد، ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید، ترمذی، ابن جریر، حاکم اور بیہقی نے بعث میں اور ابن مردویہ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں سودرجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جیسے آسمان اور زمین کے درمیان اور فردوس جنت کا اعلی درجہ ہے اور اس کے اوپر عرش ہے اور اس میں سے جنت کی چار نہریں نکل رہی ہیں جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو تم اس سے فردوس کا سوال کرو۔
جنت کے سودرجات :
14:۔ احمد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں سودرجے ہیں ان میں سے ہر ایک درجہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے اور اس کا بلند ترین درجہ فردوس ہے اور اس کے اوپر عرش ہے اور یہ جنت کا اعلی مقام ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے فردوس کا سوال کرو۔
15:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم، بزار اور طبرانی نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت الفردوس جنت کی بلند اٹھی ہوئی جگہ ہے اور یہ اس کا درمیانی اور خوبصورت حصہ ہے۔
16:۔ بزار نے عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت کیا کہ جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے جنت فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ اعلی جنت ہے۔
17:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں اعلی درجہ اور اس میں رحمن کا عرش ہے اور اس میں جنت کی چار نہریں نکلتی ہیں اور جنت عدن جنت کا وسط ہے اور اس میں رحمن کا وسیع مکان ہے اور اس سے عرش کے چڑچڑانے کی آواز سنی جاتی ہے جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے فردوس کا سوال کرو۔
18۔ ابن ابی حاتم نے ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فردوس رحمن کا مقصورہ (یعنی محفوظ جگہ) ہے اس میں بہترین نہریں اور پھل ہیں۔
19:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ فردوس رومی زبان میں باغ کو کہتے ہیں۔
20:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ فردوس نبطی زبان میں انگور کو کہتے ہیں اور اس کی اصل فرداسا ہے۔
21:۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے کعب ؓ سے فردوس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سریانی زبان میں انگوروں کے باغات کو کہتے ہیں۔
22:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے جنت الفردوس کے بارے میں روایت کیا کہ رومی زبان میں جنت فردوس کو کہتے ہیں۔
23:۔ نجاد نے جزء التزاحم میں ابوعبیدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کے سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے اور فردوس جنت کا اعلی درجہ ہے جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے فردوس کا سوال کرو۔
24:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا یبغون عنھا حولا “ یعنی وہاں سے کہیں جانا نہ چاہیں گے چاہیں گے (یعنی اس میں سے نکلنا نہیں چاہیں گے )
Ayah 18:1091:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل لوکان البحر مدادا الکلمت ربی “ یعنی میرے رب کا علم۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” قل لوکان البحر مدادا الکلمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی “ کے بارے میں فرمایا کہ سمندر کا پانی ختم ہوجائے گا اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی حکمتوں کے ختم ہونے سے پہلے۔
3:۔ احمد نے زہد میں ابوالبختری (رح) سے روایت کیا کہ سلمان ؓ سے ایک آدمی ملاتا کہ اس سے علم سیکھے سلیمان اسے دریا دجلہ کی طرف لے گئے اور وہ بھرا ہوا تھا سلمان ؓ نے اس سے فرمایا اتر جا اور پی لے اس نے پی لیا پھر اس سے فرمایا اور پیو پھر پوچھا تو نے دریا دجلہ میں سے کتنا کم کیا اس نے کہا میں نے تو کچھ بھی کم نہیں کیا سلمان ؓ نے فرمایا اس طرح علم ہے تو اس میں سے جتنا بھی حاصل کرے گا تو اس میں کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔