18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 18:61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

سو جب وہ دونوں مجمع البحرین پر پہنچ گئے تو اپنی مچھلی کو بھول گئے سو وہ مچھلی سمندر میں راستہ بنا کر چلی گئی۔

خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کا واقعہ : 5:۔ سعید بن جبیر (رح) سے دوسرے طریق سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ان کے پاس اہل کتاب میں سے ایک جماعت بھی تھی ان میں سے ایک نے کہا نوف ابی بن کعب ؓ سے روایت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) وہ نبی جنہوں نے علم طلب کیا تھا وہ موسیٰ بن میشا تھے ابن عباس ؓ نے فرمایا نوف نے جھوٹ بولا ابی بن کعب ؓ نے مجھ سے رسول اللہ ﷺ کی طرف بیان فرمایا کہ موسیٰ بنی اسرائیل نے اپنے رب سے سوال کیا اے میرے رب اگر تیرے بندوں میں سے مجھ سے زیادہ جاننے والا ہو تو مجھے اس کا بتائیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں میرے بندوں میں سے تجھ سے زیادہ علم والا موجود ہے ( اس کے بعد) اس جگہ کے بارے میں بتایا اور اس سے ملاقات کی اجازت بھی دی موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھ ایک نوجوان کو لے کر نکلے اور ان کے ساتھ ایک مچھلی نمک لگائی ہوئی بھی تھی کہا گیا جس جگہ یہ مچھلی زندہ ہوجائے تو تیرا ساتھی وہیں ہوگا اور تو اپنی ضرورت کو (وہاں) پائے گا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ ایک نوجوان نکلے وہ مچھلی بھی جو یہ حضرات اس کو اٹھائے ہوئے تھا موسیٰ (علیہ السلام) چلے یہاں تک کہ انتہائی تھک گئے اور ایک بڑے پتھر کے پاس پہنچے اور اس پانی تک پہنچے (یہ پانی حیات بخش پانی تھا جو اس میں پیتا ہمیشہ زندہ رہتا جو مردہ چیز اس کے قریب ہوتی تھی وہ زندہ ہوجاتی تھی جب یہ حضرات وہاں ٹھہرے اور مچھلی کو پانی نے چھوا تو وہ زندہ ہوگئی (آیت) ” فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا “ پھر دونوں چلے ” فلما جاوزا قال “ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت ) ’ ’ لفتہ اتنا غدآء نا لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا “ نوجوان نے کہا اور اس نے یاد کیا (مچھلی کو) اور کہنے لگا (آیت) ” ارءیت اذاوینا الی الصخرۃ فانی نسیت الحوت وما انسنیہ الا الشیطن ان اذکرہ واتخذ سبیلہ فی البحر، عجبا “ ابن عباس ؓ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) چٹان پر چڑھے جب اس کی طرف پہنچے اچانک ایک آدمی چادر اوڑھے سو رہا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو سلام کیا تو انہوں نے اس کا جواب دیا پھر پوچھا کس لئے آئے ہو ؟ آپ کو اپنی قوم میں مشغولیت ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ خاص علم سکھائیں جو آپ کو (اللہ کی طرف سے) دیا گیا ہے) (آیت) ” قال انک لن تستطیع معی صبرا “ اور وہ آدمی (یعنی خضر (علیہ السلام) علم غیب کو جانتا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیوں نہیں (میں صبر کروں گا) خضر (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” وکیف تصبر علی مالم تحط بہ خبرا “ (تو کیسے صبر کرے گا اس پر جس کی حقیقت کی تمہیں خبر نہیں) یعنی آپ ظاہر کو دیکھتے ہیں اور جو امور کی حقیقت ہے وہ آپ نہیں جانتے اور آپ علم غیب کو نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں (آیت) ” قال ستجدنی ان شآء اللہ صابرا ولا اعصی لک امر “ اگرچہ میں ایسا کام دیکھوں گا جو میری ظاہر شریعت میں مخالف ہوگا (آیت) ” قال فان اتبعتنی فلا تسئلنی عن شیء حتی احدث لک منہ ذکر ا “ اگر تو نے میرے ساتھ رہنا ہے تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال مت کرنا یہاں تک کہ میں خود اس کے متعلق بیان کروں پھر یہ دونوں ساحل سمندر پر چلے لوگوں سے پوچھتے اور ڈھونڈتے پھرتے تھے کہ ان کو ایک ساحل سے دوسرے ساحل کی طرف لے جائے یہاں تک کہ ان کے پاس ایک نئی مضبوط کشتی گذری اس سے اچھی اس سے خوبصورت اور اس سے مضبوط کشتی ان کے پاس سے نہ گذری تھی کشتی والوں سے انہوں نے سوار کرلینے کا سوال کیا تو انہوں نے ان کو سوار کرلیا جب اطمینان سے کشتی میں بیٹھ گئے اور کشتی ان دونوں سمیت اپنے مسافروں کے لے کر چلی تو خضر (علیہ السلام) نے اپنی زنبور اور ہتھوڑا نکالا پھر کشتی کی ایک طرف سے زنبور اور ہتھوڑے سے ضرب لگائی یہاں تک اس کو پھاڑ دیا پھر ایک تختہ لیا اور اس کے اوپر لگا دیا پھر اس پر بیٹھ کر اس کی مرمت کرنے لگے موسیٰ (علیہ السلام) یہ عجیب معاملہ دیکھ کر گھبرا گئے فرمایا اخرقتھا لتغرق اھلھا، لقد جئت شیئا امرا (71) ” قال الم اقل انک لن تسطیع معی صبرا “ (72) قال لا تواخذنی بما نسیت “ یعنی جو میں آپ کے وعدہ کے چھوڑ بیٹھا (آیت) ” ولا ترھقنی من امری عسرا (73) “ پھر دونوں کشتی سے نکلے اور چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں آئے (وہاں) لڑکے کھیل رہے تھے ان میں ایک ایسا لڑکا تھا کہ جس سے زیادہ خوش شکل اور روشن چہرے والا اور کوئی نہ تھا خضر (علیہ السلام) نے اس کے ہاتھ کو پکڑا ایک پتھر کو اٹھا کر اس کے سر پر مارا یہاں تک کہ اسے چوٹ لگا کر اس کو قتل کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس نہایت قبیح اور مشکل کام کو دیکھا تو اس پر صبر نہ کرسکے فرمایا آپ نے ایسے چھوٹے بچے کو قتل کردیا جس کا کوئی گناہ نہ تھا (آیت) ” اقتلت نفسا زکیۃ بغیر نفس، یعنی چھوٹا بچہ ” لقد جئت شیئا نکرا (74) ” الم اقل انک لن تستطیع معی صبرا “ (75) قال ان سالتک عن شیء بعدھا فلا تصحبنی، قد بلغت من لدنی عذرا (76) یعنی آپ کی طرف سے معذور ہوں گے “ فانطلقا، حتی اذا اتیا اھل قریۃ استطعما اھلھا فابوا ان یضیفوھما فوجدا فیھا جدارا یرید ان ینقص “ اس دیوار کو گرا دیا پھر اس کو بنانے بیٹھ گئے موسیٰ (علیہ السلام) نے مشقت اور تکلیف دیکھی تھی اس کی وجہ سے اکتا چکے تھے اور آپ نے جو کچھ دیکھا تھا اس پر ان کو صبر نہ ہوا تو فرمایا (آیت) ” لو شئت لتخذت علیہ اجرا “ یعنی جب ہم نے ان سے کھانا مانگا تو انہوں نے ہم کو نہ کھلایا ہم نے ان سے مہمان نوازی چاہی انہوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی پھر آپ بغیر اجرت کے یہ عمل کررہے ہیں اگر آپ چاہتے تو آپ اپنے کام کی اجرت ہی لے لیتے۔ قال ھذا فراق بینی وبینک، سانبئک بتاویل مالم تستطیع علیہ صبرا “ (78) اما السفینۃ فکانت لمسکین یعملون فی البحر فاردت ان اعیبھا وکان ورآءہم ملک یاخذ کل سفینۃ “ اچھی کشتی ” عصبا “ (غصب کرلینا) ابی بن کعب ؓ کی قرأت یوں میں ہے (آیت) ” کل سفینۃ صالحۃ “ اور اس کو عیب (اس لئے لگایا) تاکہ اس (ظالم بادشاہ سے) اس کو بچالیں (چنانچہ وہ کشتی) سلامت رہی جب اس نے عیب کو دیکھا جو اس میں کردیا گیا تھا۔ (آیت) ” واما الغلم فکان ابوہ مومنین، فخشینا ان یرھقھما طغیانا وکفرا (80) فاردنا ان یبدلھما ربھما خیرامنہ زکوٰۃ واقرب رحما (81) واما الجدار فکان لغلمین یتیمین فی المدینۃ وکان تحتہ کنزلھما وکان ابوھما صالحا، فاراد ربک ان یبلغا اشدھما ویستخرجا کنزھما رحمۃ من ربک، وما فعلتہ عن امری “ یعنی میں نے (یہ کام) اپنی طرف سے نہیں کئے (آیت) ” ذلک تاویل مالم تسطع علیہ صبرا “ ابن عباس ؓ فرماتے تھے ان کا خزانہ نہیں تھا مگر علم کا۔ 6:۔ ابن عساکر نے دوسرے طریق سے سعید بن جبیر (رح) سے اور وہ ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور انہوں نے انتہائی بلیغ خطبہ دیا اور اور اس کے دل میں یہ بات آئی کہ کسی کو علم نہیں دیا گیا جتنا مجھے دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جان لیا اس بات کو جو ان کے دل میں اس بارے میں پیدا ہوئی تھی ان سے فرمایا اے موسیٰ میرے بندوں میں سے ایک ایسا بندہ ہے جس کو میں نے ایسا علم دیا ہے جو تجھ کو نہیں دیا موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا میری راہنمائی فرمائیے تاکہ میں اس سے علم حاصل کروں فرمایا تیرا زادراہ اس پر تیری راہنمائی کرے گا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے نوجوان یوشع سے فرمایا ” لا برح حتی ابلغ مجمع البحرین اوامضی حقبا “ اور ان کا زاد راہ ایک نمکین مچھلی تھی اور وہ اس کو عشاء اور صبح کھاتے تھے جب وہ پتھر کی طرف پہنچے ساحل سمندر پر ان کے نوجوان نے ٹوکری کو رکھ دیا ساحل سمندر پر مچھلی پر پانی کے قطرے پڑے اس نے ٹوکری میں حرکت کی وہ ٹوکری الٹ پڑی اور وہ مچھلی سمندر میں سرنگ کی طرح راستہ بناتے ہوئے چلی گئی جب وہ آگے بڑھ گئے تو صبح کے کھانے کو بھوک لگی تو فرمایا (آیت) ” اتنا غدآءنا، لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا “ تو نوجوان نے یاد کیا (آیت) ” قال ارءیت اذ اوینا الی الصخرۃ فانی نسیت الحوت، وما انسنیہ الا الشیطان ان اذکرہ، واتخذ سبیلہ فی البحر عجبا، موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد آیا جوان سے کہا گیا تھا کہ تمہارا زادراہ تمہاری راہنمائی کرے گا (آیت) ” قال ذلک ما کنا نبغ “ یعنی یہی ہماری حاجت تھی (آیت) ” فارتدا علی اثارھما قصصا “ اپنے قدموں کے نشانات پر چلے یہاں تک کہ پتھر تک پہنچ گئے جس میں مچھلی کود کر دریا میں چلی گئی تھی موسیٰ (علیہ السلام) نے مچھلی کے نشان کو دیکھا اور پانی پر اس کا نشان دیکھتے ہوئے چل پڑے یہاں تک کہ عرب کے جزیروں میں سے ایک جزیرے پر پہنچے (آیت) ” فوجدا عبدامن عبادنا اتینہ رحمۃ من عندنا وعلمنہ من لدنا علما “ (65) قال لہ موسیٰ ھل اتبعک علی ان تعلمن مما علمت رشدا “ یعنی اس کے لئے علم کا اقرار کیا۔ قال انک لن تستطیع معی صبرا “ (67) قال وکیف تصبر علی ما لم تحط بہ خبرا “ ’ ستجدنی ان شآء اللہ صابرا ولا اعصی لک امر “ (69) (آیت) ” قال فان اتبعتنی فلا تسئلنی عن شیء حتی احدث لک منہ ذکر ا (70) پھر فرمایا میں تجھ کو بیان کروں گا، فانطلقا حتی اذا رکبا فی السفینۃ خرقھا، قال اخرقتھا لتغرق اھلھا “ سے لے کر فنطلقا حتی اذا لقیاغلما فقتلہ “ سمندر کے کنارہ پر ان کو لڑکوں میں جو کھیل رہے تھے خضر (علیہ السلام) نے ان لڑکوں میں سے جو خوبصورت اور ملیح تھا اس کو پکڑا اور قتل کردیا (آیت) ” فقتلہ قال اقتلت نفسا زکیۃ بغیر نفس، لقد جئت شیئا نکرا “ (74) الم اقل انک لن تستطیع معی صبرا “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نبی موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت شرما گئے اور فرمایا (آیت) ” قال ان سالتک عن شیء بعدھا فلا تصحبنی، قد بلغت من لدنی عذرا (76) فانطلقا، حتی اذا اتیا اھل قریۃ استطعما اھلھا “ (سے لے کر) ” سانبئک بتاویل مالم تستطیع علیہ صبرا “ (78) اما السفینۃ فکانت لمسکین یعملون فی البحر فاردت ان اعیبھا وکان ورآءہم ملک یاخذ کل سفینۃ عصبا “ تو میں نے ارادہ کیا کہ اس میں عیب ڈال دوں یہاں تک کہ اس کو بادشاہ نہ پکڑ سکے جب وہ لوگ بادشاہ سے آگے بڑھ گئے تو انہوں نے کشتی کی مرمت کرلی اور نفع اٹھاتے رہے اور یہ کشتی ان کے پاس باقی رہی (آیت) ” واما الغلم فکان ابوہ مومینن “ سے لے کر (آیت) ” ذلک تاویل مالم تسطع علیہ صبرا “ تک راوی نے کہا ایک پرندہ آیا یہ چڑیا تھی اس نے اپنی چونچ ڈبوئی دریا میں خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ اس پرندے کے بارے میں تو کیا کہتا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں نہیں جانتا خضر (علیہ السلام) نے فرمایا یہ کہتا ہے تم دونوں کا علم جو تم سکھائے گئے ہو اللہ کے علم میں سے اس پانی سے بھی کم ہے جو میری اس چونچ نے کم کیا ہے اس سارے سمندر میں سے۔ 7:۔ رویانی اور ابن عساکر نے ایک اور طریق سے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا اس درمیان کہ موسیٰ (علیہ السلام) بن اسرائیل کو نصیحت فرما رہے تھے اچانک ان کے دل میں یہ بات پیدا ہوئی کہ لوگوں میں کوئی بھی ان سے زیادہ علم والا نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے جان لیا ہے جو تیرے دل میں بات پیدا ہوئی ہے میرے بندوں میں سے ایک بندہ تجھ سے زیادہ علم والا ہے وہ سمندر کے کنارے پر رہتا ہے اس کے پاس جاؤ اور اس سے سیکھو اور جان لو کہ تیرے لئے اس جگہ کی راہنمائی کرنے والا وہ تیرا زادراہ لے تیرا زادراہ جس جگہ گم ہوجائے پس وہیں اس کی جگہ ہوگی پھر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کا ایک نوجوان بھی (تلاش میں) نکلے اور انہوں نے ایک نمکین مچھلی کو ایک ٹوکری میں اٹھایا اور یہ دونوں پیدل چلے نہ انہوں نے تھکان کو پایا اور نہ مشقت کو یہاں تک کہ اس چشمے کے پاس پہنچے جس میں سے خضر (علیہ السلام) نے پانی پیا کرتے تھے موسیٰ (علیہ السلام) گذر گئے اور نوجوان بیٹھ گیا اس نے اس چشمے میں سے پانی پیا مچھلی ٹوکری میں سے کود پڑی یہاں تک کہ مٹی میں واقع ہوگئی پھر اس میں چلتے ہوئے دریا میں واقع ہوگئی اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا “ نوجوان چلا یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جاملا جب وہ اس سے ملا تو موسیٰ (علیہ السلام) تھک کر بیٹھ گئے اور نوجوان سے کہا (آیت) ” اتنا غدآءنا لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا “ اس نے کہا مچھلی تو گم ہوگئی اور کہا (آیت) ” انی نسیت الحوت “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا نوجوان (بھول گیا) (آیت) ” واتخذ سبیلہ فی البحر، عجبا “ (63) قال ذلک ما کنا نبغ “ (سے لے کر) ” قصصا “ تک پھر یہ دونوں پتھر کی طرف واپس آئے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس چٹان کے اردگرد چکر لگایا لیکن کوئی نئی چیز نہ دیکھی پھر اوپر چڑھے اچانک اس کے اوپر ایک آدمی اپنی چادر لپیٹے ہوئے سو رہا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو سلام فرمایا اس نے اپنا سر اٹھایا اور کہا یہ سلام کیسے آیا ہے اس جگہ پوچھا تو کون ہے ؟ فرمایا میں موسیٰ بنی اسرائیل ہوں خضر (علیہ السلام) نے فرمایا تیری قوم میں تبلیغ کو مشغولیت نے تجھے مجھ سے بےپرواہ نہیں کیا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے آپ کا حکم دیا گیا ہے خضر (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” قال انک لن تستطیع معی صبراقال ستجدنی ان شآء اللہ صابرا ولا اعصی لک امر “ فان اتبعتنی فلا تسئلنی عن شیء حتی احدث لک منہ ذکر “ پھر دونوں پیدل چل پڑے یہاں تک کہ دریا کے کنارے پہنچے ایک قوم کشتی میں سوار ہوچکی تھی جو دریا پار کرنے کا ارادہ رکھتے تھے یہ حضرات بھی ان کے ساتھ سوار ہوگئے جب یہ لوگ ابھی دریائئے کنارے پر تھے خضر (علیہ السلام) نے ایک کلہاڑا نکالا جو ان کے پاس تھا اس کے ساتھ کشتی کو پھاڑ دیا (آیت) ” قال اخرقتھا لتغرق اھلھا “ (الآیہ) ” الم اقل “ (الآیۃ) قال لاتواخذنی “ (الآیہ) ” فانطلقا، حتی اذا لقیا غلما فقتلہ “ پھر وہ چلتے چلتے ایک بستی میں نکل آئے وہاں بچے کھیل رہے تھے خضر (علیہ السلام) نے ایک لڑکے کو پکڑ لیا اور وہ ان میں زیادہ خوبصورت اور ان میں سے زیادہ مہربان طبیعت کا تھا اس کو قتل کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” اقتلت نفسا زکیۃ “ (الآیۃ) (آیت) ” قال الم اقل لک “ (آلایۃ) (آیت) ” قال ان سالتک “ (الآیۃ) پھر دونوں چلے یہاں تک کہ کمینے لوگوں کے گاؤں میں پہنچے ان کو سخت بھوک لگی ہوئی تھی ان سے کھانا مانگا تو انہوں نے کھانا نہ دیا خضر (علیہ السلام) نے ایک دیوار کو دیکھا جو جھکی ہوئی تھی خضر (علیہ السلام) نے اس کو اپنا ہاتھ لگایا اور اس کو سیدھا کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” لوشئت لاتخذت علیہ اجرا “ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آپ ہماری بھوک اور ہماری حاجت کو جانتے تھے اور آپ ان سے مزدوری کا سوال کرتے تو وہ آپ کو دے دیتے اور اس کے ذریعہ ہم شام کا کھانا کھالیتے (آیت) ” قال ھذا فراق بینی وبینک “ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا دامن پکڑ لیا اور فرمایا میں آپ کو صحبت کی قسم دیتا ہوں کہ مجھ کو تاویل بتائیے جو میں نے دیکھا فرمایا ” صبرا (78) اما السفینۃ فکانت لمسکین یعملون فی البحر “ میں نے اس کو پھاڑا تاکہ اس کو عیب دار کردوں تو (بادشاہ نے) اس کو نہ پکڑا کشتی والوں نے پھر اس کو ٹھیک کرالیا اور اس کے ساتھ نفع اٹھاتے رہے اور لڑکا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کافر بنایا تھا اور اس کے والدین مومن تھے اور وہ زندہ رہتا تو ان پر (کفر کا) اثر ڈال دیتا ” طغیانا وکفرا (80) فاردنا ان یبدلھما ربھما خیرامنہ زکوٰۃ واقرب رحما (81) واما الجدار فکان لغلمین یتیمین فی المدینۃ (الآیۃ) 8:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاکم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم مصر پر غالب آگئے اور ان کی قوم مصر میں اتر گئی اور جب ان کا غلبہ پوری طرح قرار پکڑ گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (حکم) اتارا (آیت) ” وذکر ھم بایام اللہ “ ابراہیم آیت 5) (یعنی ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور اس کے احسانات یاد دلاؤ) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خطاب فرمایا اور ان کو یاد دلایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نعمتیں کی تھیں اور ان کو یاد دلایا جب اللہ تعالیٰ نے ان کو فرعون سے نجات دی اور ان کو یاد دلایا ان کے دشمن کے ہلاک ہونے کو اور ان کو زمین (مصر) کا خلیفہ بنانے کو اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا اور مجھے اپنی ذات کے لئے چن لیا اور مجھ پر اپنی طرف سے خاص محبت اتاری اور ہر چیز تم کو عطا فرمائی جو تم نے سوال کیا پس تمہارے نبی زمین والوں سے افضل ہے اور آج تم قرار پاچکے ہو پس موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی ایسی نعمت کا ذکر نہیں چھوڑا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرمائی تھی سب نعمتیں ان کو یاد دلائیں بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی نے ان سے کہا اے اللہ کے نبی کیا زمین پر آپ سے زیادہ کوئی علم والا ہے فرمایا نہیں تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آپ نے جانتے کہ میں نے اپنے علم کو کہاں رکھا ہے بلکہ ساحل سمندر پر ایک آدمی تجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ خضر (علیہ السلام) تھے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میں اس کو خاص طور پر دیکھنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ وہ سمندر پر آجائیں کیونکہ آپ ایک مچھلی کو ساحل سمندر پر پائیں گے اس کو پکڑ کر اپنے نوجوان کے حوالے کردیجئے پھر سمندر کے کنارے کو لازم پکڑئیے جب آپ مچھلی کو بھول جائیں گے اور وہ آپ سے گم ہوجائے گی تو وہاں آپ میرے ایک نیک بندے کو پائیں گے جس کو آپ تلاش کررہے ہیں جب چڑھنا لمبا ہوگیا اور اس میں تھک گئے تو اپنے نوجوان سے مچھلی طلب کی (آیت) ” قال ارءیت اذ اوینا الی الصخرۃ فانی نسیت الحوت، وما انسنیہ الا الشیطان ان اذکرہ “ (یعنی میں بھول گیا آپ کو بتانے سے نوجوان نے کہا میں نے مچھلی کو دیکھا جب اس نے سمندر میں اپنا راستہ بنایا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر تعجب کیا اور واپس لوٹے یہاں تک کہ وہ چٹان کے پاس آئے تو انہوں نے مچھلی کو پایا مچھلی نے سمندر میں چلنا شروع کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پیچھے چلے اپنی لاٹھی کو آگے کئے ہوئے تھے کہ جس سے پانی ادھر ادھر کررہے تھے اور مچھلی کے پیچھے جارہے تھے مچھلی سمندر کے جس حصہ سے گذرتی تھی وہ خشک ہوتا گیا یہاں تک کہ ایک چٹان آگئی اللہ کے نبی نے اس سے تعجب فرمایا یہاں تک کہ وہ مچھلی سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرہ پر آگئی خضر (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو اس کو سلام فرمایا خضر (علیہ السلام) نے فرمایا آپ پر بھی سلام اس زمین میں کیسے آیا پوچھا آپ کون ہیں ؟ فرمایا میں موسیٰ (علیہ السلام) ہوں خضر (علیہ السلام) نے پوچھا کیا آپ بنی اسرائیل والے ہیں ؟ اور ان کو خوش آمدید کہا اور فرمایا آپ کس لئے تشریف لائے ؟ فرمایا میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ (آیت) ” علی ان تعلمن مما علمت رشدا “ (66) ” قال انک لن تستطیع معی صبرا “ فرمایا آپ اس کی طاقت نہیں رکھ سکیں گے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ (آیت) ” ستجدنی ان شآء اللہ صابرا ولا اعصی لک امرا “ پھر ان کو ساتھ لے کر چلے اور ان سے فرمایا مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرنا جو میں کرتارہوں یہاں تک کہ میں آپ کو بیان نہ کروں ؟ اس لئے اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” حتی احدث لک منہ ذکر “۔ 9:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، خطیب اور ابن عساکر نے ہارون بن عشرہ کے طریق سے اور انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال فرمایا اے میرے رب تیرے بندوں میں سے کون سا بندہ تیری طرف زیادہ محبوب ہے ؟ فرمایا جو مجھے یاد کرتا ہے اور مجھے نہیں بھولتا پھر پوچھا تیرے بندوں میں سے کون اچھا فیصلہ کرنے والا ہے ؟ فرمایا جو حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور خواہش نفس کی پیروی نہیں کرتا پھر پوچھا تیرے بندوں میں سے کون زیادہ عالم ہے ؟ فرمایا جو لوگوں کے علم کو ملاتا ہے اپنے علم کے ساتھ (یعنی لوگوں سے علم حاصل کرتا ہے) قریب ہے کہ وہ پہنچ جائے گا ایسے کلمہ کی طرف جو اس کو ہدایت کا راستہ دکھائے گا یا تو اس کو ہلاکت میں گرنے سے بچا لے۔ راوی نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات پیدا ہوئی تھی کہ ان سے زیادہ کوئی عالم نہیں ہے پھر پوچھا اے میرے رب کیا مجھ سے زیادہ کوئی عالم ہے ؟ فرمایا ہاں پوچھا وہ کہاں ہے ؟ کہا گیا اس چٹان کے نزدیک جس کے پاس چشمہ ہے موسیٰ (علیہ السلام) اس کو تلاش کرنے کے لئے نکلے یہاں تک وہ سب کچھ ہوا جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) اس بندے کو جا ملے چٹان کے پاس ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو سلام کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں آپ کے ساتھ رہنے کا ارادہ کرتا ہوں اس بندے نے کہا آپ ہرگز میرے ساتھ رہنے کی طاقت نہیں رکھتے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیوں نہیں ؟ خضر (علیہ السلام) نے فرمایا اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں (آیت) ” فلا تسئلنی عن شیء حتی احدث لک منہ ذکرا “ موسیٰ (علیہ السلام) خضر (علیہ السلام) کے ساتھ چل پڑے یہاں تک کہ مجمع البحرین تک پہنچے وہ اس جگہ پہنچے جہاں پانی سب جگہوں سے پانی زیادہ تھا اللہ تعالیٰ نے ایک پرندے کو بھیجا اس نے اپنی چونچ دریا سے بھری خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا اس پرندے نے اس پانی میں سے کتنی کمی کی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بہت تھوڑی کمی کی اس سے (پانی) کم نہیں ہوتا خضر (علیہ السلام) نے فرمایا بلاشبہ میرا علم اور آپ کا علم اللہ تعالیٰ کے علم (کے مقابلہ) میں اس پانی کے بقدر ہے جو اس پرندہ نے اس پانی سے پیا ہے اور پھر ساری حدیث ذکر فرمائی کشتی کے شگاف کرنے اور لڑکے کو قتل کرنے اور دیوار کو ٹھیک کرنے اور موسیٰ (علیہ السلام) کا فول دیوار کے بارے میں اپنی ذات کے لئے دنیا کی ایک چیز طلب کرنے کے لئے تھا اور ان کا قول کشتی اور لڑکے کے بارے میں اللہ عزوجل کے لئے تھا۔
Ayahs 18:62–73

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

سو جب وہ آگے بڑھ گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جوان سے کہا کہ ہمارے کھانا لاؤ اس میں شک نہیں کہ اس سفر کی وجہ سے ہم کو بڑی تکلیف پہنچ گئی

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

جوان نے کہا کیا آپ کو خبر نہیں جب ہم نے پتھر کے پاس ٹھکانہ لیا تھا تو بیشک میں مچھلی کو بھول گیا اور مچھلی کو یاد رکھنا مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا، اور اس مچھلی نے سمندر میں عجیب طور پر اپنا راستہ بنالیا۔

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہی وہ موقعہ ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔ سو وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے۔

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

سو انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی اور ہم نے اپنے پاس سے خاص علم سکھایا تھا۔

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بندہ سے کہا کیا میں اس شرط پر تمہارے ساتھ ہوجاوں کہ آپ کو جو کچھ علم مفید سکھایا گیا وہ آپ مجھے سکھا دیں۔

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

اس بندہ نے کہا بلاشبہ تم میرے ساتھ رہتے ہوئے صبر نہیں کرسکتے

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور اس چیز پر تم کیسے صبر کروگے جو چیز تمہارے علمی احاطہ میں نہیں ہے ؟

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا انشاء اللہ آپ (علیہ السلام) مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی بات میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

اس بندہ نے کہا سو اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہتے وہ تو کسی چیز کے بارے میں اس وقت تک مجھ سے کوئی بات مت پوچھنا جب تک میں خود ہی اس کے بارے میں کسی طرح کا ذکر نہ کروں۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

اس کے بعد دونوں چل دیئے یہاں تک کہ جب دونوں کشتی میں سوار ہوگئے تو اس بندہ خدا نے کشتی میں شگاف کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا تم نے اسی لئے شگاف کیا ہے کہ کشتی والوں کو غرق کردو۔ تم نے تو بڑا بھاری کام کردیا۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

اس بندہ نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میرے ساتھ رہتے ہوئے تم صبر نہیں کرسکتے۔

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میرے بھول جانے کی وجہ سے میرا مواخذہ نہ کیجئے اور میرے معاملہ میں مجھ پر تنگی نہ ڈالئے

خضر (علیہ السلام) بھی اولاد آدم میں سے ہیں : 10:۔ دارقطنی نے افراد میں ابن عساکر نے مقاتل بن سلیمان کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور ان کی عمر میں تاخیر کی گئی ہے یہاں تک کہ وہ دجال کی تکذیب کریں گے۔ 11:۔ بخاری، احمد، ترمذی اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ ایک سفید سوکھی زمین پر بیٹھتے تو آپ کے پیچھے سرسبز کھیتی (آپ کی برکت کی وجہ سے) ہوجاتی۔ 12:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا کیونکہ آپ ایک سفید سوکھی ہوئی زمین پر نماز پڑھتے تو وہاں سر سبز کھیتی لہلہانے لگتی۔ 13:۔ سعید بن منصور، ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ خضر کو خضر اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ کسی جگہ نماز پڑھتے تو اس کے اردگرد سرسبز ہوجاتی۔ 14:۔ ابن عساکر نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے اصحاب نے ہم کو بیان فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کو جب موت حاضر ہوئی اپنے بیتوں کو جمع کرکے فرمایا اے میرے بیٹو ! اللہ تعالیٰ عنقریب زمین پر عذاب نازل کرے گا پس میرا جسم تمہارے ساتھ غار میں ہو یہاں تک کہ جب تم نیچے اترو (کشتی سے) تو مجھے بھیج دینا اور مجھے شام کی زمین میں دفن کردینا آدم (علیہ السلام) کا جسم ان کے بیٹوں کے ساتھ رہا جب اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو بھیجا تو انہوں اس جسم کو ملالیا (مٹی میں) اللہ تعالیٰ نے طوفان کو بھیجا زمین پر تو زمین غرق ہوگئی نوح (علیہ السلام) تشریف لائے یہاں تک کہ بابل میں اترے اور انہوں نے اپنے بیٹوں کو تین باتوں کی نصیحت فرمائی او وہ سام حام اور یافث تھے کہ وہ لے جائیں ان کے جسم کو غار کی طرف جس میں ان کو دفن کرنے کا حکم دیا گیا ہے انہوں کہا زمین وحشت والی ہے یہاں کوئی انس والا نہیں اور نہ ہم راستہ جانتے ہیں لیکن کچھ دیر ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ لوگ اور بڑھ جائیں نوح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تھی کہ ان کی عمر قیامت تک طویل ہو جو ان کو دفن کرے پس آدم (علیہ السلام) کا جسم اسی طرح رہے گا یہاں تک خضر (علیہ السلام) کو آپ کو دفن کرنے کا فریضہ سونپا گیا اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وعدہ کو پورا کردیا جو ان سے وعدہ فرمایا تھا پس وہ زندہ رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ چاہیں گے کہ وہ زندہ رہیں قیامت تک۔ 15:۔ ابن عساکر نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) کی ماں رومیہ تھی اور ان کے والد فارسی تھے۔ 16:۔ حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب موسیٰ (علیہ السلام) خضر (علیہ السلام) سے ملے ایک پرندہ آیا اور اس نے اپنی چونچ کو پانی میں ڈال دیا خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ پرندہ کیا کہتا ہے پوچھا کیا کہتا ہے ؟ فرمایا وہ کہتا ہے کہ تیرا علم اور موسیٰ (علیہ السلام) کا علم اللہ کے علم (کے مقابلے) میں اس پانی کے برابر ہے جو میری چونچ نے پانی لیا ہے۔ 17:۔ بخاری نے تاریخ میں ترمذی، بزار، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، اور حاکم نے (حاکم نے تصحیح اور ترمذی نے تحسین بھی کی) ابودرداء ؓ سے (آیت) ” وکان تحتہ کنزلھما “ کے بارے میں روایت کیا کہ انکے خزانے حلال کردیئے گئے تھے اور ان پر غنیمتوں کو حرام کردیا گیا تھا اور ہمارے لئے غنیمتیں حلال ہیں اور ہم پر خزانے حرام ہیں۔ 18۔ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بزار نے ابوذر ؓ سے مرفوع روایت کیا کہ وہ خزانہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا وہ ایک سونے کی تختی تھی جس پر لکھا ہوا تھا مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو تقدیر پر ایمان رکھتا ہے تو تھکاوٹ کیسے برداشت کرتا ہے اور مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو آگ کا ذکر کرتا ہے پھر ہنستا ہے اور مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو موت کو یاد کرتا ہے پھر غافل ہوجاتا ہے اور اس تختی پر یہ بھی لکھا ہوا تھا ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ 19:۔ شیرازی نے القاب میں عطاء ابن ابی رباغ سے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ تختی جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا (آیت) ” وکان تحتہ کنزلھما “ یہ ایک پتھر کی تھی جس میں (یہ عبارت) کھدی ہوئی تھی ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ تعجب ہے اس شخص پر جو یہ دیکھتا ہے دنیا کے دھوکہ کو اور اس کے رہنے والوں کے الٹ پلٹ ہونے کو پھر کس طرح اس کی طرف سے مطمئن ہوجاتا ہے ؟” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ 20:۔ خرائطی نے قمع الحرص میں اور ابن عساکر نے ابو حازم کے طریق سے روایت نقل کی کہ ابن عباس ؓ نے (آیت) ” وکان تحتہ کنزلھما “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک سونے کی تختی تھی جس میں لکھا ہوا تھا ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ تعجب ہے اس شخص پر جو موت کو پہچانتا ہے پھر کس طرح خوش ہوتا ہے ؟ تعجب ہے اس شخص پر جو آگ کو پہچانتا ہے پھر کس طرح ہنستا ہے ؟ تعجب ہے اس شخص پر جو دنیا کو اور اس کے رہنے والوں کے الٹ پلٹ کو جانتا ہے پھر کس طرح مطمئن ہوتا ہے ؟ تعجب ہے اس شخص پر جو قضا وقدر کا یقین رکھتا ہے پھر کس طرح رزق کے طلب کرنے میں تکلیف اٹھاتا ہے تعجب ہے اس شخص پر جو حساب پر ایمان لاتا ہے پھر کس طرح گناہ کرتا ہے ؟” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ 21:۔ ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” وکان تحتہ کنزلھما “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک سونے کی تختی تھی جس میں لکھا ہوا تھا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تعجب ہے اس شخص پر جو تقدیر پر ایمان رکھتا ہے پھر کیسے غمگین ہوتا ہے ؟ تعجب ہے اس شخص پر جو موت پر ایمان رکھتا ہے پھر کس طرح خوش رہتا ہے ؟ تعجب ہے اس شخص پر جو رات اور دن کی تبدیلی پر ایمان رکھتا ہے پھر وہ ان کے کبھی ایک حالت اور کبھی دوسری حالت کے لانے سے امن میں ہو۔ 22:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وکان تحتہ کنزلھما “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تختی سونے کی تھی نہ کہ چاندی کی اس پر لکھا ہوا تھا۔ 23:۔ بیہقی نے شعب میں علی بن ابی طالب ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وکان تحتہ کنزلھما “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ایک سونے کی تختی تھی جس میں لکھا ہوا تھا ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ تعجب ہے اس شخص پر کہ جو یاد کرتا ہے کہ موت حق ہے پھر کس طرح خوش ہے ؟ اور تعجب ہے اس شخص پر جو یاد کرتا ہے کہ آگ حق ہے پھر کس طرح ہنستا ہے ؟ اور تعجب ہے اس شخص پر جو یاد کرتا ہے کہ تقدیر حق ہے پھر کس طرح غمگین ہوتا ہے ؟ اور تعجب ہے اس شخص پر جو دنیا کو اور دنیا والوں کی حالت کی تبدیلی کو دیکھتا ہے ایک حال سے دوسرے حال کے بعد پھر کس طرح اس طرف سے مطمئن ہوتا ہے۔ 24:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) نے فرمایا (آیت) ” وکان ابوھما صالحا “ (یعنی ان کے والد نیک تھے) کیونکہ وہ شخص امانتوں اور ودیعتوں کو ان کے مالکوں کو سپرد کرتے تھے۔ 25:۔ ابن مبارک، سعید بن منصور، احمد نے زہد میں ابن منذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکان ابوھما صالحا “ یعنی وہ ان کے باپ کے تقوی اور صلاح کی وجہ سے ان کے مال کی حفاظت کی گئی اور ان دونوں کی اصلاح کا ذکر نہیں کیا (کہ ان دونوں کی اصلاح کی وجہ سے حفاظت کی گئی) 26:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی کی نیکی وجہ سے اس کی اولاد اور اس کی اولاد کی اولاد اصلاح فرماتے ہیں اور اس کی اولاد اور ارد گرد دوسرے گھروں کی بھی حفاظت فرماتے ہیں اور وہ برابر اللہ کی طرف سے پردے اور عافیت میں رہتے ہیں۔ والد کی نیکی کا فائدہ اولاد کو بھی پہنچتا ہے : 27:۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایک نیک آدمی کی نیکی کی وجہ سے اس کی اولاد اور اس کی اولاد کی اولاد اور اس کے اردگرد دوسروں گھروں کی اصلاح فرماتے ہیں وہ برابر اللہ کی حفاظت میں رہتے ہیں جب تک وہ (نیک آدمی) ان میں باقی رہتا ہے۔ ابن المبارک اور ابن ابی شیبہ نے محمد بن المنکدر سے موقوفا اسی طرح روایت کیا۔ 28:۔ احمد نے زہد میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ مومن بندے کی طرف سے اس کی اولاد میں اسی سال تک نگرانی فرماتے ہیں۔ 29:۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) نے جب موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ آپ بنی اسرائیل کے نبی ہیں ؟ اور جو آپ کو علم دیا گیا ہے وہ آپ کے لئے کافی نہیں ہے ؟ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ میں آپ کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہوں خضر (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” انک لن تستطیع معی صبرا “ اس درمیان کہ جو ان سے مخاطب ہورہے تھے اچانک ایک چڑیا آئی اور دریا کنارے بیٹھ گئی اس نے اس (پانی) میں سے چونچ بھری پھر اڑ کر چلی گئی خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا آپ نے پرندہ کو دیکھا جس نے دریا میں سے پانی لیا ؟ اور فرمایا ہاں ! پھر خضر (علیہ السلام) نے فرمایا جو کچھ میں اور آپ اللہ کے علم سے دیئے گئے ہیں وہ بمنزلہ اس پانی کے ہے جو اس پرندے نے دریا سے لیا ہے۔ 30:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زیدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین “ (یعنی میں برابر چلا جاوں گا) یہاں تک کہ میں پہنچ جاوں۔ مجمع البحرین سے کون سے جگہ مراد ہے ؟: 31:۔ ابن منذر، عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مجمع البحرین “ سے مراد ہے فارس اور روم کے سمندر ہیں اور وہ دونوں مشرق اور مغرب کے سمندر ہیں۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس سے اسی طرح روایت کیا۔ 32:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مجمع البحرین “ سے افرایقہ کے سمندر مراد ہیں۔ 33:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مجمع البحرین “ سے طنجہ مراد ہے۔ 34:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مجمع البحرین “ سے الکروالرس مراد ہے جہاں وہ دونوں دریاسمندر میں گرتے ہیں۔ 35:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اوامضی حقبا “ سے مراد ہے ایک زمانے تک۔ 36:۔ ابن ابی شبیہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اوامضی حقبا “ سے مراد ہے ستر سال اور (آیت) ” فلما بلغا مجمع بینھما “ یعنی دوسمندروں کے درمیان (آیت) ” نسیا حوتھما “ یعنی مچھلی کو گم کربیٹھے سمندر میں (آیت) ” فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے مچھلی کے نشان سے تعجب فرمایا اور اس کا گھومنا جس میں وہ غائب ہوگئی (آیت) ” فارتدا علی اثارھما قصصا “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے نوجوان کا مچھلی کے نشانات کے پیچھے چلے واپس لوٹتے ہوئے جہاں سے سمندر پھٹ گیا تھا۔ 37:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے (آیت) ” نسیا حوتھما “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ مچھلی نمک لگی ہوئی تھی اس کا پیٹ بھی چاک کیا گیا تھا۔ 38:۔ ابن منذر نے سعید بن جبیر ؓ سے (آیت) ” فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا “ کے بارے میں روایت کیا کہ مچھلی جہاں سے گذری وہ جگہ دریا میں خشک تھی گویا کہ وہ پتھر میں ہے۔ 39:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانی کبھی بھی نہیں پھٹا اور رکا تھا جبکہ لوگ پانی کے گھر سے باہر موجود تھے مچھلی اس میں داخل ہوئی تو پانی کرہ کی مانند پھٹ گیا یہاں تک کہ اس کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) لوٹے تو انہوں نے اس کے رکنے کو دیکھا پھر فرمایا (آیت) ” ذلک ما کنا بنغ، فارتدا علی اثارھما قصصا “ یعنی وہ اپنے نشانات قدم کو تلاش کرتے ہوئے (واپس لوٹے) یہاں تک کہ مچھلی کے داخل ہونے کی جگہ پہنچ گئے۔ 40:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) (واپس) آئے تو اس کے پروں کو مٹی میں دیکھا جبکہ وہ پانی میں واقع ہوئی تھی۔ 41:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا “ کے بارے میں فرمایا کہ مچھلی پہلے کنکریوں والی زمین میں داخل ہوئی جب اس کو اللہ تعالیٰ نے مردہ ہونے کے بعد زندہ فرمادیا پھر اس میں سرنگ کی راستہ بنایا یہاں تک کہ دریا میں پہنچ گئی اور سرب سے مراد ہے راستہ پھر وہ پانی کی طرف پہنچ گئی اور یہ پتھریلی خشکی میں بعد اس کے کہ مچھلی کو لمبی مدت تک کھایا گیا اور یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا توشہ تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو زندہ کردیا۔ 42:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے مچھلی کو چیرا اس کو نمک لگایا اور اس میں صبح کو بھی کھایا اور شام کو کو بھی کھایا جب اگلی صبح ہوئی تو فرمایا (آیت) ” قال لفتہ اتنا غدآء نا، لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا “ (یعنی اپنے نوجوان سے فرمایا کہ ہمارے لئے صبح کا کھانا لے آؤ کیونکہ ہم اس سفر سے تھک گئے ہیں) 43:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ابی ؓ کی قرأت میں اس طرح ہے (آیت) ” وما انسنیہ الا الشیطان ان اذکر “۔ 44:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ مچھلی سمندر کے ایسے حصہ میں آئی جس کو زندگی کا چشمہ کہا جاتا ہے جب اس مچھلی کو اس چشمے کا (پانی) پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو روح کو لوٹادیا (اور وہ زندہ ہوگئی) 45:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” فارتدا علی اثارھما قصصا “ کے بارے میں فرمایا کہا ان کا لوٹنا ان کے شروع کے راستے پر تھا (یعنی اپنے پہلے والے راستہ پر دوبارہ لوٹے) 46:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے فوجدا عبدامن عبادنا “ کے بارے میں فرمایا وہ ایک عالم آدمی سے ملے جن کو خضر کہا جاتا تھا۔ کنگھی کرنے والی عورت اور اس کے بیٹے کی خوشبو : 47:۔ ابن عساکر نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے معراج کی رات میں نے پاکیزہ خوشبو سونگھی میں نے کہا اے جبرائیل (علیہ السلام) یہ پاکیزہ خوشبو کیسی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ایک کنگھی کرنے والی عورت اس کے بیٹے اور اس کے شوہر کی قبر کی خوشبو ہے اور اس واقعہ کی ابتداء یوں ہے ہوئی کہ خضر (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے عزت والے لوگوں میں سے تھے اور اس کا گذر گرجا گھر کے ایک راہب کے پاس ہوا جو اپنے گرجا میں رہتا تھا راہب انکے پاس آیا اور انہوں نے اس کو سلام کیا اور اس پر (وعدہ) لیا کہ کسی کو یہ نہیں سکھائے گا پھر اس کے باپ نے ایک عورت سے شادی کی اور خضر (علیہ السلام) نے بیوی کو اسلام سکھا دیا اور اس عورت سے وعدہ لیا کہ وہ کسی کو نہیں سکھائے گی خضر (علیہ السلام) عورتوں کے قریب نہ جاتے تھے پھر اس نے دوسری عورت سے شادی کی اور اس کو بھی آپ نے اسلام سکھا دیا اور اس سے بھی وعدہ لیا کہ وہ کسی کو نہ بتائے گی پھر اس نے اس کو طلاق دے دی ان میں ایک نے راز فاش کردیا اور دوسری نے چھپائے رکھا (راز فاش ہونے پر) خضر (علیہ السلام) بھاگ گئے یہاں تک کہ وہ سمندر میں ایک جزیرہ پر آگئے آپ کو دو آدمیوں نے دیکھا ان میں سے ایک نے اس کا معاملہ ظاہر کیا اور دوسرے نے چھپایا اس سے کہا گیا جس نے اس کو تیرے ساتھ دیکھا تھا وہ کون تھا ؟ اس نے کہا فلاں نے اور ان کے دین میں یہ تھا کہ جو جھوٹ بولے اس کو قتل کردیا جائے اس سے پوچھا گیا تو اس نے چھپایا اس کو قتل کردیا گیا جس نے اس پر راز فاش کیا تھا پھر اس پر چھپانے والے نے کنگھی کرنے والی عورت سے نکاح کرلیا اس درمیان کہ وہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کررہی تھی اچانک کنگھی اس کے ہاتھ سے گرگئی اس عورت نے کہا فرعون ہلاک ہو لڑکی نے اپنے باپ کو اس بات کی خبر دی فرعون نے بلوا بھیجا عورت کو اس کے بیٹوں کو اور اس کے شوہر کو بھی اور فرعون نے انہیں کہا کہ اپنے دین سے ہٹ جاؤ انہوں نے انکار کردیا فرعون نے کہا تم کو قتل کردوں گا انہوں نے اگر تو ہم کو قتل کرے گا تو ایک ہی قبر میں ہم کو دفن کرا دینا اس نے ان کو قتل کردیا اور ان کو ایک ہی قبر میں دفن کردیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اس سے زیادہ پاکیزہ خوشبو نہیں سونگھی حالانکہ میں جنت میں داخل ہوا تھا۔ 48:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ان کو خضر (علیہ السلام) اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ کسی جگہ پر بیٹھتے تھے تو ان کے اردگرد سبزہ ہوجاتا تھا اور ان کا لباس بھی سبز ہوتا تھا۔ 49:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اتینہ رحمۃ من عندنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے ان کو ہدایت اور نبوت عطا فرمائی ہے۔ 50:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا کیونکہ جب وہ کسی جگہ میں کھڑے ہوتے تو ان کے پاوں کے نیچے گھاس آتی یہاں تک کہ ان کے قدموں کو ڈھانپ لیتی تھی۔ 51:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” رکبا فی السفینۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ کشتی کنوئیں کے پانی میں چلتی تھی جو ایک فرسخ لمبی اور ایک فرسخ چوڑی تھی۔ 52:۔ ابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا (آیت) ” لیغرق اھلھا “ یاء کے ساتھ۔ 53:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد جئت شیئا امرا “ میں امرا کا معنی ہے منکرا یعنی برا کام۔ 54:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” شیئا امرا “ سے مراد ہے براکام۔ 55:۔ عبداللہ بن احمد نے روائد الزہد میں اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” شیئا امرا “ سے مراد ہے عجیب کام۔ 56ـ:۔ ابن ابی حاتم نے ابوالصخر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” شیئا امرا “ سے مراد ہے بڑا کام۔ 57ـ:۔ ابن جریر نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ لا تواخذنی بما نسیت “ سے مراد ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھولے نہیں تھے لیکن یہ کلام معاریض میں سے ہے (یعنی آپ نے توریہ کیا تھا) 58:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے شعیب ابن الحجاب (رح) سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) ایسے بندے تھے ان کی آنکھیں نہیں دیکھتی تھیں مگر جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتے کہ وہ ان کو دیکھ لے خاص طور پر (وہ انہیں نظر آجاتے ہیں) قوم میں سے کسی نے ان کو نہیں دیکھا مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے اگر قوم ان کو دیکھ لیتی تو وہ انہیں نہ تو کشتی پھاڑنے دیتے اور نہ لڑکے کو قتل کرنے دیتے حماد (رح) نے کہا اور وہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ اس (لڑکے) کو اچانک موت آگئی۔ 59:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقیا غلاما “ کہ وہ لڑکا بیس سال کا تھا۔ 60:۔ ابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب خضر (علیہ السلام) نے لڑکے کو قتل کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) خوف زدہ اور پریشان ہوگئے۔ 61:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” نفسا زکیۃ “ یعنی توبہ کرنے والا نفس۔ 62:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” اقتلت نفسا زکیۃ “ سعید (رح) نے فرمایا زکیہ سے مراد ہے مسلمۃ یعنی مسلمان۔ 63:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” نفسا زکیۃ “ سے مراد ہے وہ (بچہ) گناہوں کی حد کو نہ پہنچا تھا۔ 64:۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” زکیۃ “ یعنی وہ بچہ جو بالغ نہ ہو۔ 65:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” نفسا زکیۃ “ سے مراد ہے ” نائبۃ “ یعنی ایسا بچہ جو بالغ نہ ہو۔ 66ـ:۔ عبداللہ ابن احمد نے زوائد الزہد میں اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد جئت شیئا نکرا “ میں ” النکر “ سے مراد ہے تعجب کی وجہ سے۔ 67ـ:۔ احمد نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ نجدہ الحروری نے ابن عباس ؓ کی طرف بچوں کے قتل کے متعلق لکھا تو آپ نے اس کی طرف لکھا اگر تو خضر ہے اور تمیز کرسکتا ہے کافر اور مومن کے درمیان تو پھر ان کو قتل کردو۔
Ayahs 18:74–76

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں چل دیئے یہاں تک کہ ایک لڑکے سے ملاقات ہوگئی سو اس بندئہ خدا نے اسے قتل کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا تم نے ایک بےگناہ جان کو کسی جان کے بدلہ بغیر قتل کردیا ؟

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

اس بندہ خدا نے کہا کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم میرے ساتھ نہ رہتے ہوئے صبر نہیں کرسکتے۔

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر اس مرتبہ کے بعد آپ سے کسی امر کے متعلق کچھ پوچھوں تو آپ (علیہ السلام) مجھ کو اپنے نہ رکھئے بیشک آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ چکے ہیں

بچوں کو قتل کرنا حرام ہے : 68:۔ ابن ابی شیبہ نے یزید بن جریر (رح) سے روایت کیا کہ نجدہ نے ابن عباس ؓ سے بچوں کے قتل کے بارے میں سوال کیا اور اس نے اپنے خط میں لکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ عالم نے (یعنی خضر (علیہ السلام) نے ایک بچہ کو قتل کیا یزید نے کہا میں اپنے ہاتھ سے ابن عباس ؓ کے خط میں لکھا نجدہ کی طرف تو نے مجھے بچوں کے قتل کے بارے میں سوال کیا ہے اور وہ تو نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی عالم کا حوالہ دیا ہے کہ اس نے لڑکوں کو قتل کیا تھا اگر ایسا ہی علم رکھتا ہے بچوں کے بارے میں جو وہ عالم ( موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی) علم رکھتا تھا پھر تو لڑکوں کو قتل کردے یقینا تو ایسا علم نہیں رکھتا رسول اللہ ﷺ لڑکوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا پس تو اس سے علیحدہ ہوجا۔ 69:۔ ابن ابی حاتم اور حاکم نے ابن ابی ملیکہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے بچوں کے جنت میں جانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا تمہارے لئے بچے کے بارے میں موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) نے جھگڑا کافی ہے۔ 70:۔ مسلم، ابو داود، ترمذی، عبداللہ، ابن احمد نے زوائد المسند میں اور ابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ لڑکا جس کو خضر (علیہ السلام) نے قتل کیا تھا وہ تخلیق کے دن سے ہی کافر پیدا کیا گیا تھا اگر وہ پالیتا (والدین کو) تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی میں ڈال دیتا۔ 71:۔ سعید بن منصور اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ لڑکا جس کو خضر (علیہ السلام) نے قتل کیا تھا وہ کافر پیدا کیا گیا تھا۔ 72:۔ ابوداود نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ لڑکا جس کو خضر (علیہ السلام) نے قتل کیا تھا وہ طبعا کافر پیدا کیا گیا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ 73:۔ ابن حبان حاکم اور ابن مردویہ نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” ان سالتک عن شیء بعدھا “ میں سالت اور شئ دونوں جگہ ہمزہ پڑھا۔ 74:۔ ابوداود، ترمذی، عبداللہ، بن احمد، بزار ابن جریر، ابن منذر، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” من لدنی عذرا “ کو تشدید کے ساتھ پڑھا۔ 75:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سدی (رح) سے (آیت) ” اتیا اھل قریۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) جس بستی میں آئے تھے اس کا نام باجرواں تھا ان کے رہنے والے بڑے کمینے تھے۔ 76ـ:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ وہ دونوں الایلۃ بستی میں آئے تھے اور یہ اللہ کی زمین بہت دور ہے آسمان سے۔
Ayah 18:77

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر دونوں چل دیئے یہاں تک کہ ایک گاؤں کے رہنے والوں پر گذرے دونوں نے ان لوگوں سے کھانا طلب کیا سو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کردیا، اس کے بعد اس بستی میں ان دونوں نے ایک دیوار کو پایا جو گرنے ہی کو ہورہی تھی، اس بندئہ خدا نے اسے سیدھا کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر آپ چاہتے تو مزدوری کے طر پر اس عمل پر کچھ لے لیتے

مہمان نوازنہ کرنے والی بستی : 77ـ:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اتیا اھل قریۃ “ سے ابرقہ بستی مراد ہے پھر فرمایا کہ مجھے ایک آدمی نے بیان کیا کہ وہ انطاکیہ میں ہے۔ 78:۔ ابن ابی حاتم نے ایوب بن موسیٰ (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ سوال کرنے محتاج کے لئے اچھی بات ہے کیا تو نے نہیں سنا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھی (خضر علیہ السلام) نے بستی کے رہنے والوں سے کھانا مانگا تھا۔ 79:۔ نسائی اور ابن مردویہ نے ابی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت ) ’ ’ فابوا ان یضیفوھما “ شد کے ساتھ پڑھا۔ 80:۔ دیلمی نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ فابوا ان یضیفوھما “ کہ وہ بستی والے کمینے لوگ تھے۔ 81:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ یرید ان ینقض “ سے مراد ہجے یسقط یعنی وہ (دیوار) گر رہی تھی۔ 82:۔ ابن انباری نے مضاحف میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) ” فوجدا فیھا جدارایرید ان ینقض “ پڑھی پھر فرمایا کہ خضر (علیہ السلام) نے پہلے دیوار کو پوری طرح سے گرا دیا پھر اسے نئی سرے سے بنایا۔ 83:۔ ابوعبید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاقامہ “ یعنی دیوار کو اپنے ہاتھ سے اٹھایا تو وہ سیدھی ہوگئی۔ 84:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کی قرأت میں یوں تھا (آیت) ” لوشئت لتخذت علیہ اجرا “۔ 85:۔ بغوی، ابن حبان حاکم اور ابن مردویہ نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یوں پڑھا (آیت) ” لوشئت لتخذت علیہ اجرا “۔ تخفیف کے ساتھ۔ 86ـ:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ موسیٰ اور خضر (علیہ السلام) کے قصہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ ہم دوست رکھتے ہیں اس بات کو کہ کاش وہ صبر کرتے یہاں تک کہ ان کے مزید واقعات ہم پر بیان کئے جاتے۔ 87ـ:۔ ابن ابی شیبہ، ابوداود، ترمذی، نسائی، حاکم اور ابن مردویہ نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابن مردویہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ (علیہ السلام) پر آپ نے پہلے اپنے ذکر فرمایا اگر آپ صبر کرتے تو ہم پر ان کی مزید خبریں پڑھی جاتیں لیکن انہوں نے فرمایا (آیت) ” ان سالتک عن شئ بعدھا فلا تصحبنی “ 88:۔ عبدابن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاردت ان اعیبھا “ یعنی اس کو پھاڑنے کا (ارادہ کیا) 89:۔ سعید بن منصور، ابن جریر، ابن ابی حاتم حاکم اور ابن مردویہ نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ اس طرح پڑھتے تھے (آیت) ” وکان ورآء ھم ملک یاخذ کل سفینۃ صالحۃ غصبا “۔ 90:۔ ابن انباری نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ وہ (آیت) ” یاخذ کل سفینۃ صالحۃ غصبا “ غصبا “ پڑھتے تھے۔ 91:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ پہلی قرأت (آیت) ” یاخذ کل سفینۃ صالحۃ غصبا “ پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ بادشاہ عمدہ اور بہترین کشتیاں لے لیتا تھا۔ 92:۔ ابوعبیدہ اور ابن منذر نے ابو الزاھر یہ (رح) سے روایت کیا کہ عثمان ؓ نے یوں لکھا (آیت) ” وکان ورآءھم ملک یاخذ کل سفینۃ صالحۃ غصبا “ 93:۔ ابن ابی حاتم نے شعیب الجبائی (رح) سے روایت کیا کہ اس لڑکے کا نام جس کو خضر (علیہ السلام) نے قتل کیا تھا جیسور تھا۔ 94:۔ ابوعبید، سعید بن منصور، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے ابن عباس ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” واما الغلام فکان کافرا وکان ابواہ مومنین “۔ 95:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ابی ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت) ” واما الغلام فکان کافرا وکان ابواہ مومنین “۔ 96ـ:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخشینا “ سے مراد ہے کہ ہم ڈرے۔ 97:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ عبداللہ ؓ کے مصحف میں اس طرح ہے (آیت) ” فخاف ربک ان یرھقھما طغیانا وکفرا “ 98:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ نے (آیت) ” فخاف ربک ان یرھقھما طغیانا وکفرا “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم ڈرے اس بات سے کہ اس (لڑکے) کی محبت ان دونوں (والدین) کو اس (لڑکے) کے دین کے اتباع پر آمادہ کردے گی۔ 99:۔ ابن ابی حاتم نے مطر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر وہ (لڑکا) باقی رہتا تو اس میں دونوں (والدین) کی تباہی و بربادی اور استیصال اس (لڑکے) کے ہاتھوں سے ہوتا۔ 100:۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ مطرف بن شخیررحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہم جانتے ہیں کہ وہ دونوں (یعنی والدین) خوش ہوئے جس دن یہ لڑکا پیدا ہوا اور اس پر غمگین ہوئے جس دن وہ قتل ہوا اگر وہ زندہ رہتا تو والدین کی ہلاکت اس کی وجہ سے ہوتی آدمی راضی ہوجائے جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے فیصلہ فرما دیا ان (کاموں) میں جس کو تو ناپسند کرتا ہے یہ بہتر ہے تیرے لئے اس فیصلے سے جن کاموں کو تو پسند کرتا ہے۔ 101۔ ابوعبید اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” خیرا منہ زکوٰۃ “ سے مراد ہے اسلام۔ 102:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” خیرا منہ زکوٰۃ “ سے مراد ہے دنیا جو دین کے اعتبار سے بہتر ہو (آیت) ” واقرب رحما “ سے مراد ہے مودت اور اللہ تعالیٰ نے والدین کو (لڑکے کے بدلے میں) ایک لڑکی عطا فرمائی جس نے ایک نبی کو جنا۔ 103:۔ ابن منذر نے بسطام بن جمیل کے طریق سے عمر بن یوسف (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقتول لڑکے کے بدلے میں ایک لڑکی عطا فرمائی جس سے نبی پیدا ہوئے۔ 104:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” وکان تحتہ کنزلھما “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم سے پہلے لوگوں کے لئے کنز حلال تھا اور ہم پر حرام ہے غنیمت (کامال) حرام تھا ہم سے پہلے لوگوں پر اور ہمارے لئے حلال کردیا گیا تو اس آدمی کے لئے تعجب نہ کر جو کہتا ہے کیا وجہ سے پہلے لوگوں کے کنز حلال ہے اور ہم پر حرام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اپنے حکم سے کرتا ہے اور یہ سنتیں اور فرائض حلال ہوتے ہیں اور دوسری امت کے لئے حرام ہوتے ہیں۔ 105:۔ ابن ابی شیبہ اور احمد نے زہد میں اور ابن ابی حاتم نے خیثمہ (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے فرمایا خوشخبری ہے مومن کی اولاد کے لئے پھر خوشخبری ہے ان کے لئے کہ کس طرح مومن کے جانے کے بعد بھی ان کی حفاظت کی جاتی ہے پھر خیثمہ نے تلاوت فرمایا (آیت) ” وکان ابوھما صالحا “۔ 106:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے و ھب (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اصلاح فرماتے ہیں ایک نیک بندے کی نیکی کی وجہ سے لوگوں کے کئی قبائل کی خیر واصلاح فرماتا ہے۔