18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 18:23–24

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور کسی چیز کے بارے میں آپ ہرگز یوں نہ کہیں کہ میں اسے کل کروں گا

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر یہ کہ اس کے ساتھ اللہ کی مشیت کا ذکر بھی کردیں اور جب آپ بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کریں اور یوں کہہ دیجئے کہ امید ہے مجھے وہ بات بتادے گا جو ہدایت کے اعتبار سے اس سے قریب تر ہے

قریش کے سوالات اور جوابات : 1:۔ ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قریش اکٹھے ہوئے اور کہا اے محمد ﷺ تو نے ہمارے دین سے اور اپنے آباء و اجداد کے دین سے انحراف کیا ہے یہ دین تو کہاں سے لے کر آیا ہے جو تو لے کر آیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ دین رحمن کی طرف سے ہے جو میں لے کر آیا ہوں قریش نے کہا ہم یمامہ والے رحمان کے علاوہ کسی رحمان کو نہیں جانتے وہ اس سے مسیلمہ کذاب کو مراد لیتے تھے پھر قریش نے یہود کو لکھا کہ ہمارے اندر ایک آدمی ظاہر ہوا ہے جو گمان کرتا ہے کہ میں نبی ہوں اور ہمارے دین اور ہمارے آباء و اجداد کے دین کو چھوڑ دیا ہے حالانکہ وہ امین ہے جو خیانت نہیں کرتا وعدہ پورا کرتا ہے دھوکہ نہیں دیتا ہے سچ بولنے والا ہے جھوٹ نہیں بولتا اور وہ حسب والا اور صاحب ثروت ہے اپنی قوم (کے لحاظ) سے ہماری طرف کتابوں میں ہے اس کا وقت اور اس کا زمانہ تو یہی ہے جس میں اس کا ظہور ہونا ہے انہوں نے قریش کی طرف لکھا ان سے اصحاب کہف، ذوالقرنین اور روح کے بارے میں سوال کرو اگر وہ تمہارے پاس رحمان کی طرف سے آیا ہے (تو ان سوالوں کے جواب دے گا) اور رحمان وہ اللہ عزوجل ہے اور اگر وہ رحمان یمامہ کی طرف سے ہوگا تو جواب نہیں دے سکے گا جب یہ خط آیا قریش کے پاس تو اندر اندر بہت خو ش ہوئے اور انہوں نے کہا اے ﷺ تو نے ہمارے اور اپنے آباؤ و اجداد کے دین کو چھوڑ دیا ہے تو پھر ہم کو اصحاب کہف ذوالقرنین اور روح کے بارے میں بتا آپ نے فرمایا میرے پاس کل آبانا (میں جواب دوں گا) اور انشاء اللہ نہیں کہا جبرائیل (علیہ السلام) پندرہ دنوں کے بعد تشریف لائے تو آپ نے فرمایا قریش نے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کیا میرے پاس ان کے بارے میں علم نہ تھا کہ میں ان کو جواب دیتا یہاں تک کہ یہ حالت مجھ پر بہت بھاری گذری جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو ؟ اور آپ کے گھر میں کتے کا ایک بچہ تھا (جو گھس آیا تھا اور آپ کو اس کا علم نہ ہوا) تو یہ آیات نازل ہوئیں (آیت) ” ولا تقولن لشائء انی فاعل ذلک غدا (23) الا ان یشآء اللہ واذکر ربک اذا نسیت وقل عسی ان یھدین ربی لاقرب من ھذا رشدا “ یعنی اس علم میں سے کہ جس کے بارے میں انہوں نے مجھ سے سوال کیا مجھے توقع ہے کہ کل آنے سے اس کا علم میرے پاس آئے گا پھر اصحاب کہف کا ذکر نازل ہوا اور پھر نازل ہوا (آیت) ” ویسئلونک عن الروح “ یعنی روح کے بارے میں۔ 2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے کسی پر قسم کھالی تھی مگر اس کو چالیس راتیں گذر گئیں (وحی نہیں آئی) اور اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ولا تقولن لشائء انی فاعل ذلک غدا (23) الا ان یشآء اللہ “ اور نبی کریم ﷺ نے چالیس راتوں کے بعد ” ان یشآء اللہ “ پڑھا۔ 3:۔ سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ استثناء میں کوئی حرج نہیں جانتے تھے اگرچہ سال کے بعد ہو پھر استثناء میں کوئی حرچ نہیں جانتے تھے اگرچہ سال کے بعد ہو پھر یہ آیت بطور دلیل پڑھتے تھے (آیت) ” واذکر ربک اذا نسیت “ یعنی جب تجھ کو یاد آجائے۔ ہر کام کے وعدہ پر انشاء اللہ کہنا : 4:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور طبرانی ابن عباس ؓ اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ تو کسی چیز کے بارے میں یوں کہے کہ میں اس کو کروں گا اور انشاء اللہ کہنا بھول گیا کہہ دو جب تجھ کو یاد آجائے۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذکر ربک اذا نسیت “ سے مراد ہے انشاء اللہ کہہ دو جب تجھ کو یاد آجائے۔ 6:۔ ابن منذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ آدمی جو قسم اٹھائے اور انشاء اللہ کہنا بھول جائے فرمایا کہ انشاء اللہ کہہ سکتا ہے ایک ماہ تک اور یہ آیت تلاوت کی (آیت) ” واذکر ربک اذا نسیت “۔ 7:۔ ابن ابی حاتم نے عمروبن دینار کے طریق سے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص نے کسی کام پر قسم کھائی تو اس کے لئے انشاء اللہ کہنا اونٹنی کے ( دودھ) دوہنے کی مقدار تک جائز ہے اور طاوس فرماتے تھے انشاء اللہ کہہ سکتا جب تک اس مجلس میں موجود ہے۔ 8:۔ ابن ابی حاتم نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ استثناء کرسکتا ہے جب تک وہ اسی بات میں لگا ہوا ہے۔ 9:۔ ابن ابی حاتم طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذکر ربک اذا نسیت “ سے مراد ہے کہ جب تو استثناء کو بھول جائے تو یاد آنے کے بعد استثناء کرو پھر فرمایا کہ یہ خاص (حکم) رسول اللہ ﷺ کے لئے ہے اور ہم میں سے کسی شخص کو متصل استثناء کرنا جائز ہے (بعد میں جائز نہیں) 10:۔ سعید بن منصورنے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جو استثناء متصل ہو اس کی وجہ سے قسم توڑنے والا حانث نہ ہوگا اور جو استثناء غیر متصل ہو اس کی وجہ سے قسم توڑنے والا حانث ہوگا۔ 11:۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے قسم اٹھائی اور کہا انشاء اللہ اگر چاہے تو قسم پر قائم رہے اور اگر چاہے تو رجوع کرے وہ حانث نہ ہوگا۔ 12:۔ احمد بخاری، مسلم نسائی اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سلیمان بن داود (علیہ السلام) نے فرمایا میں آج رات نوے بیویوں پرچکر لگاوں گا ان میں ہر ایک بیوی سے ایک بچہ پیدا ہوگا جو اللہ کے راستے میں قتال کرے گا بادشاہ نے ان سے کہا آپ انشاء اللہ کہہ لیجئے انہوں نے نہ کہا انہوں نے سب بیویوں کے پاس چکر لگایا (یعنی جماع کیا) تو ان میں ایک بیوی کے آدھا انسان پیدا ہوا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ انشاء اللہ فرما دیتے وہ قسم نہ ٹوٹتی اور وہ اپنی ضرورت کو بھی پالیتے۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذکر ربک اذا نسیت “ یعنی جب تو غصہ ہوجائے تو اللہ کا ذکر کر۔ 14:۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذکر ربک اذا نسیت “ یعنی جب تم انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ تو یاد آنے پر انشاء اللہ کہو۔ 15:۔ بیہقی نے معتمر بن سلیمان (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابو الحارث کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اہل کوفہ کے ایک آدمی نے روایت کیا کہ وہ قرآن کی اس آیت کو پڑھتے تو کہتے کہ جب انسان انشاء اللہ کہنا بھول جائے تو اس کی توبہ یہ ہے کہ وہ یوں کہے (آیت) ” عسی ان یھدین ربی لاقرب من ھذا رشدا “
Ayahs 18:25–26

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور وہ لوگ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور نو برس مزید اوپر گذر گئے۔

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی خوب جاننے والا ہے کہ وہ کتنی مدت رہے اسی کو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم ہے وہ کیا ہی دیکھنے والا ہے اور کیا ہی سننے والا ہے ان لوگوں کا اس کے سوا کوئی مددگار نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں فرماتا

1:۔ خطیب نے تاریخ میں حکیم بن عقال (رح) سے روایت کیا کہ میں عثمان بن عفان ؓ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا (آیت) ” ولبثوا فی کہفہم ثلث مائۃ سنین “ تنوین کے ساتھ۔ 2:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی کسی آیت کی تفسیر کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی یہی تفسیر ہے تو وہ اتنی دور سے گرجاتا ہے جو فاصلہ آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے پھر یہ (آیت) ” ولبثوا فی کہفہم “ تلاوت فرمائی پھر فرمایا وہ لوگ کتنے سال غار میں رہے تو لوگوں نے کہا تین سو نوسال انہوں نے فرمایا اگر یہی مقدار ہوتی تو اللہ تعالیٰ نہ فرماتے (آیت) ” قل اللہ اعلم بما لبثوا “ لیکن اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اقوال ذکر فرما دئیے فرمایا (آیت) سیقولون ثلاثۃ “ سے لے کر ” رجمابالغیب “ تک اور خبر دی کہ وہ لوگ نہیں جانتے (اسی لئے) فرمایا (آیت) ” سیقولون “ (عنقریب وہ لوگ کہیں گے) (آیت) ” ولبثوا فی کہفہم ثلث مائۃ سنین وازدادوا تسعا “ ( یعنی وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور زیادہ کئے انہوں نے نوسال) 3:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرأت اسی طرح تھی (آیت) ” وقالوا لبثوا فی کہفہم “ الایۃ وہ ٹھہرے رہے اپنی غار میں لوگوں نے کہا پھر فرماتے ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” قل اللہ اعلم بما لبثوا “ یعنی فرمائیے اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں جتنی مدت وہ ٹھہرے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولبثوا فی کہفہم ثلث مائۃ سنین وازدادوا تسعا “ یہ اہل کتاب کا قول ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کو رد کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” قل اللہ اعلم بما لبثوا “۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت) ” ولبثوا فی کہفہم ثلث مائۃ “ نازل ہوئی تو کہا گیا یا رسول اللہ (وہ تین سو) دن ہیں یا مہینے ہیں یا سال ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اتارا (آیت) ” سنین وازدادوا تسعا “۔ 6:۔ ابن مردویہ نے ایک اور طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے موصولا روایت کیا ہے۔ 7: ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثلث مائۃ سنین وازدادوا تسعا “ کہ اس سے عدد مراد ہے یعنی جتنی مقدار ہے۔ 8:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ابصر بہ واسمع “ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ 9:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ابصر بہ واسمع “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ نہ کوئی دیکھنے والا ہے نہ کوئی سننے والا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں صحیح ہونے کو اور سب تعریفیں ایک اللہ کے لئے ہیں۔
Ayahs 18:27–29

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور آپ کے رب کی کتاب جو آپ کی طرف وحی کی گئی اس کی تلاوت کیجئے اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں اور ہرگز آپ اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ان کے ساتھ اپنے کو مقید رکھئے یہ لوگ اس کی رضا کے طالب ہیں اور آپ ایسا نہ کریں کہ دنیا والی زندگی کی زینت کے ارادہ سے ان سے آپ کی نظریں ہٹ جائیں اور ایسے شخص کی بات نہ مانیئے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور جو اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا، اور اس کا حال حد سے آگے بڑھ گیا۔

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور آپ فرما دیجئے کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، سو جس کا جی چاہے مومن ہوجائے اور جس کا جی چاہے کافر رہے، بلاشبہ ہم نے ظالموں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے انہیں اس کی دیواریں گھیرے ہوئے ہوں گی، اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا، وہ مونہوں کو بھون ڈالے گا، وہ پینے کی بری چیز ہے، اور دوزخ آرام کی بری جگہ ہے۔

1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ملتحدا “ سے مراد ہے پناہ کی جگہ۔ 2:۔ ابن انباری نے وقف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولن تجد من دونہ ملتحدا “ کے بارے میں پوچھا کہ ” ملتحدا “ سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے زمین میں داخل ہونے کی جگہ خصیب ضمری نے اس معنی میں یہ لفظ استعمال کیا۔ یالھف نفسی ولھف غیر محدثہ علی وما عن قضاء اللہ ملتحد ترجمہ : ہائے افسوس ! میری جان پر اور مجھ پر افسوس کچھ نہیں ہے قضاء الہی سے بچنے کے لئے زمین میں کوئی جگہ نہیں۔ 3:۔ ابن مردویہ، ابو نعیم نے حلیۃ میں اور بیہقی نے شعب میں سلمان ؓ سے روایت کیا کہ مولفۃ القلوب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے (یعنی) عیینہ بن بدر اوراقرع بن حابس اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ مجلس کے آگلے حصہ میں بیٹھتے اور ان (غریب لوگوں) سے آپ علیحدہ ہوجاتے کہ ان کے کپڑے بدبودار ہیں تو ہم آپ کے پاس بیٹھتے وہ اس سے سلمان ابوذر اور مسلمانوں کے فقیر لوگ مراد لیتے تھے اور وہ لوگ اون کے جبے پہنے ہوئے تھے تو ہم آپ کے پاس بیٹھتے یا ہم آپ سے باتیں کرتے اور ہم آپ سے (کچھ نصیحت) حاصل کرتے اور ہم آپ سے (کچھ نصیحت) حاصل کرتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت ) ’ ’ واتل ما اوحی الیک من کتاب ربک “ سے لے کر ” انا اعتدنا للظلمین نارا “ تک یعنی اللہ نے ان کو آگ کی دھمکی دی۔ 4:۔ ابوالشیخ نے عظمہ میں سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں کو تلاش میں نکلے تو ان کو مسجد کے آخر میں پایا جو اللہ کا ذکر کررہے تھے پھر فرمایا سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے موت نہیں دی یہاں تک کہ مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنے آپ کو روکے رکھوں ان لوگوں کے ساتھ اپنی امت میں سے (پھر فرمایا) تمہارے ساتھ زندگی ہے اور تمہارے ساتھ مرنا ہے۔ غریب و امیر اللہ تعالیٰ کی نظر میں برابر ہے : 5:۔ عبد بن حمید نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت میرے بارے میں اور اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور میرے پاس ایک ٹوکری کھجور کے پتوں والی تھی اس آدمی نے اپنی کہنی میرے سینے کے اوپر رکھ کر کہا ایک طرف کو ہٹ جا ! یہاں تک کہ مجھے ایک چٹائی پر ڈال دیا پھر کہا اے محمد ﷺ ہمیں آپ کی خدمت میں آنے سے یہ اور اس جیسے دوسرے فقراء مانع ہیں آپ کو علم ہے کہ میں ایک سردار اور رئیس آدمی ہوں اگر آپ ان (غریب مسلمانوں کو) اپنی مجلس سے اٹھا دیں تو پھر ہم آپ کے پاس آئیں گے جب ہم چلے جائیں تو پھر ان کو اجازت دے دیا کریں اگر آپ کی مرضی ہو جب وہ چلا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم “ سے ” وکان امرہ فرطا “ تک۔ 6:۔ ابن جریر، طبرانی اور ابن مردویہ نے عبدالرحمن بن سہل بن حنیف ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم بالغدوۃ والعشی “ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی جب آپ اپنے گھر میں تھے آپ ان لوگوں کو ڈھونڈنے کے لئے نکلے تو ایسی قوم کو پایا جو اللہ کا ذکر کررہے تھے ان میں بکھرے بالوں والے خشک کھالوں والے اور ایک کپڑے والے تھے جب آپ نے ان کو دیکھا تو ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمایا سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ایسے لوگ بنائے میری امت میں کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں ان کے ساتھ اپنے آپ کو روکے رکھوں۔ 7:۔ بزار نے ابوہریرہ ؓ وابوسعید خدری ؓ دونوں حضرات سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایسے آدمی کے پاس تشریف لائے جو سورة حجر اور سورة کہف پڑھ رہا تھا وہ (آپ کو دیکھ کر) خاموش ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ وہ مجلس ہے کہ جس میں مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں۔ 8:۔ ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے عمر بن ذر (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب میں سے ایک جماعت کے پاس تشریف لائے ان میں عبداللہ بن رواحہ بھی تھے یہ سب اللہ کا ذکر کر رہے تھے جب عبداللہ ؓ نے آپ کو دیکھا تو خاموش ہوگئے رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا اپنے ساتھیوں کو ذکر کراؤ عرض کیا یا رسول اللہ آپ ذکر کرانے کے زیادہ حق دار ہیں آپ نے فرمایا تم ایسی جماعت ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں اپنے کو ان کے ساتھ روکے رکھوں پھر یہ (آیت) واصبر نفسک “ (الآیۃ) پڑھی۔ 9:۔ طبرانی نے صغیر میں اور ابن مردویہ نے عمر بن ذر کے طریق سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا مجھ سے بیان کیا مجاہد نے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ عبداللہ بن رواحہ کے پاس سے گذرے اور وہ اپنے ساتھیوں کو ذکر کروا رہے تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ایسی جماعت ہو کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ میں اپنی جان کو تمہارے ساتھ روکے رکھوں پھر یہ (آیت) واصبر نفسک “ پڑھی (پھر) فرمایا تمہاری جتنی تعداد ذاکرین کی ہوتی ہے تو اتنی تعداد میں تمہارے ساتھ فرشتوں کی ہوتی ہے اگر وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں تو وہ ( فرشتے) بھی اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اگر وہ اللہ کی حمد بیان کریں تو وہ بھی حمد بیان کرتے ہیں اگر وہ اس کی بڑائی بیان تو یہ بھی بڑائی بیان کرتے ہیں پھر وہ فرشتے اپنے رب کی اوپر چڑھ جاتے ہیں اور اللہ کے سب کچھ جاننے کے باوجود وہ فرشتے کہتے ہیں اے ہمارے رب بلاشبہ تیرے بندے تیری تسبیح بیان کرتے ہیں تو ہم بھی تسبیح بیان کرتے ہیں اور جب وہ تیری حمد بیان کرتے ہیں تو ہم بھی حمد بیان کرتے ہیں تو ہمارے رب تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے فرشتوں تم گواہ ہوجاؤ کہ میں نے ان سب کو بخش دیا فرشتے عرض کرتے ہیں ان میں فلاں گنہگار بھی تھا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ ایسی قوم ہے کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بد بخت نہیں ہوتا۔ 10:۔ احمد نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک ذکر کرنے والے کے پاس تشریف لے گئے جو ذکر کررہا تھا (آپ کو دیکھ کر) وہ ٹھہر گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ذکر کر کیونکہ صبح سے لے کر سورج نکلنے تک ذکر الہی کے لئے بیٹھنا میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ 11:۔ ابویعلی ابن مردویہ بیہقی نے دلائل میں اور ابو نصر سنجزی نے الابانہ میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہم ضعیف ونادار لوگ بیٹھے تھے ایک آدمی ہم پر قرآن پڑھ رہا تھا اور ہمارے لئے دعا کر رہا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں میری امت میں ایسے لوگ پیدا فرمائے کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں ان کے ساتھ اپنے آپ کو روکے رکھوں پھر فرمایا غریب مسلمانوں کو خوشخبری دے دو پورے پورے نور کی قیامت کے دن کہ وہ جنت میں مالداروں سے آدھا دن پہلے داخل ہوں گے جو پانچ سو سال کی مقدار ہے یہ لوگ جنت میں نعمتوں میں رہیں گے اور مالدار لوگ حساب دے رہے ہوں گے۔ ذاکرین پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول : 12:۔ احمد نے زہد میں ثابت (رح) سے روایت کیا کہ سلمان فارسی ؓ ایسی جماعت میں سے تھے جو اللہ کا ذکر کرتے تھے نبی کریم ﷺ گذرے تو وہ خاموش ہوگئے آپ نے پوچھا کیا کہہ رہے تھے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ تعالیٰ کو یاد کررہے تھے آپ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ رحمت الہی تم پر اتر رہی ہے تو میں نے پسند کیا میں اس میں تمہارے ساتھ شریک ہوجاوں پھر فرمایا سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں کہ جس نے میری امت میں سے ایسے لوگ بنائے کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں ان کے ساتھ اپنے آپ کو روکے رکھوں۔ 13:۔ احمد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اکٹھے ہو کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور ان کا ارادہ صرف اللہ کی ذات کا ہوتا ہے (کہ اللہ راضی ہوجائیں) تو ایک آواز دینے والا آسمان سے آواز دیتا ہے کہ تم لوگ بخشے بخشائے کھڑے ہوجاؤ تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیا گیا۔ 14:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ مجھے عبداللہ بن عمر ؓ اس آیت (آیت) واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو پانچوں فرض نمازوں میں حاضر ہوتے ہیں۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح نقل کیا۔ 15:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عمر وبن شعیب (رح) سے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت (آیت) واصبر نفسک “ صبح اور عصر کی نماز کے بارے میں نازل ہوئی۔ 16:۔ ابن ابی حاتم نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عدی بن الخیار (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں۔ 17:۔ ابن مردویہ نے جو بیر کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا “ امیہ بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس وجہ سے کہ اس نے نبی کریم ﷺ سے ایسا مطالبہ کیا تھا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے ناپسند فرمایا کہ غریب مسلمانوں کو اپنی مجلس سے ہٹا دیں اور اہل مکہ سرداروں کو اپنا ہم نشین بنائیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا “ کہ ہم نے اس کے دل پر مہر لگا دی یعنی توحید قبول کرنے سے ہم نے اس دل پر مہر لگا دی (آیت) ” واتبع ھوہ “ یعنی وہ شرک میں لگ گیا (آیت) ” وکان امرہ فرطا “ یعنی حد سے گذرا ہوا اللہ تعالیٰ کے حکم میں اور اللہ کے ساتھ جہالت میں۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے ابن بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ عیینہ بن حصن نبی کریم ﷺ کے پاس آیا گرم دن میں اور آپ کے پاس سلمان ؓ بیٹھے ہوئے تھا اون کا جبہ پہنے ہوئے جس سے پسینہ کی بدبوآرہی تھی عیینہ نے اے محمد جب ہم آپ کے پاس آئیں تو اس کو اور اس جیسے فقراء کو اپنے پاس سے اٹھادیا کریں تاکہ یہ ہم کو تکلیف نہ دیں جب ہم چلیں جائیں تو تم ان کے ساتھ اپنا معاملہ بہتر جانتے ہو تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ولا تطع من اغفلنا قلبہ “ (الآیۃ ) ۔ ذکر اللہ سے غافل لوگوں کی صبحت سے اجتناب کرنا : 19:۔ ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو بیان کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ کو امیہ بن خلف کی پیروی سے روکا گیا کیونکہ امیہ بھی ہر بات کو بھولنے و الا تھا جو اس سے کہی جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” ولا تطع من اغفلنا قلبہ “ (الآیۃ) پھر آپ اپنے اصحاب کی طرف لوٹ آئے اور امیہ کا راستہ چھوڑ دیا اور سلمان ؓ کو پایا کہ وہ لوگوں کو ذکر کرا رہے ہیں آپ نے فرمایا سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں کہ جب میں دنیا سے جدا نہیں ہوا اور اس نے مجھے اپنی امت میں سے ایسے لوگ دکھائے کہ مجھے حکم دیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں۔ 20:۔ ابن ابی حاتم نے مغیرہ کے طریق سے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم بالغدوۃ والعشی “ سے ذکر والے لوگ مراد ہیں۔ 21:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے منصور کے طریق سے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) واصبر نفسک “ سے مراد ہے کہ تو ان کو ذکر سے دور نہ کرو۔ 22:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابو جعفر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اپنے اصحاب کے ساتھ اپنے آپ کو روکے رکھیں اور ان کو قرآن سکھائیں۔ 23:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مع الذین یدعون ربہم “ سے مراد ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور (آیت) ” ولا تعد عینک عنہم “ یعنی آپ کی نگاہیں ان کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف نہ اٹھیں۔ 24:۔ ابن ابی حاتم نے ابو ہاشم (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو حلال اور حرام میں تمیز کرتے ہیں۔ 25:۔ حکیم ترمذی نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم بالغدوۃ والعشی “ سے مراد ہے حلال و حرام میں فرق کرنا۔ 26:۔ بیہقی نے شعب میں ابراہیم و مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم بالغدوۃ والعشی “ سے مراد ہیں پانچ وقت کی نماز ادا کرنے والے۔ 27:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا “ عیینہ بن حصن کے بارے میں نازل ہوئی اس نے نبی کریم ﷺ سے کہا مجھے سلمان فارسی کی بدبوتکلیف دیتی ہے ہمارے لئے اپنے ساتھ ایک (علیحدہ) مجلس بنا دیجئے اپنے پاس سے کہ ہم ان کے ساتھ جمع نہ ہوں گے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 28:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ماجد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکان امرہ فرطا “ سے مراد ہے ضیاعا یعنی ضائع ہونے والا۔ 29:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقل الحق من ربکم “ میں الحق سے قرآن مراد ہے۔ 30:۔ حنیش نے استقامہ میں ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) فمن شآء فلیومن ومن شآء فلیکفر “ سے مراد ہے کہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ ایمان کو چاہتے ہیں وہ ایمان لاتا ہے اور جس کے لئے اللہ تعالیٰ کفر کو چاہتے ہیں تو وہ کفر کو اختیار کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے تائید ہوتی ہے (آیت) ” وما تشآءون الا ان یشاء اللہ رب العلمین “ التکویر آیت 29 (کہ تم نہیں چاہتے مگر جو رب العالمین چاہتا ہے) 31:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) فمن شآء فلیومن ومن شآء فلیکفر “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دھمکی دینا اور ڈرانا ہے۔ 32:۔ ابن ابی حاتم نے رباح بن زید (رح) سے روایت کیا کہ میں عمر بن حبیب (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) فمن شآء فلیومن ومن شآء فلیکفر “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ داود بن رافع (رح) نے مجھ سے بیان فرمایا کہ مجاہد (رح) فرمایا کرتے تھے کہ مجھے عاجز کرنے والے نہیں ہیں یہ وعید ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ 33:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” احاط بہم سرادقھا “ سے مراد آگ کی دیواریں ہیں۔ 34:۔ احمد، ترمذی، ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں ابن جریر، ابویعلی، ابن ابی حاتم، ابن حاتم، ابن حبان، ابو الشیخ حاکم اور ابن مردویہ نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سرادق النار یعنی دوزخ کی چاردیواریں ہیں ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی مسافت پر ہے۔ 35:۔ احمد، بخاری نے تاریخ میں ابن ابی الدنیا، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں (حاکم صحیح بھی کہا ہے) یعلی ابن امیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سمندر جہنم میں سے ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” احاط بہم سرادقھا “ 36:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ احنف بن قیس قناتوں میں نہ سوتا تھا اور کہتا تھا کہ سرادق کو نہیں ذکر کیا گیا مگر دوزخ والوں کے لئے۔ 37:۔ احمد، عبد بن حمید، ترمذی، ابویعلی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت) ” بمآء کالمھل “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا منہ کے قریب لایا جائے گا تو چہرے کی کھال (گل کر) اس میں گرپڑے گی۔ 38:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کالمھل “ سے مراد سیاہ تلچھٹ ہے۔ 39:۔ ابن ابی شیبہ، ھناد، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کالمھل “ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا یہ غلیظ پانی ہے جیسے کی تلچھٹ۔ 40:۔ ھناد عبد بن حمید اور ابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کالمھل “ سے مراد ہے تیل کی تلچھٹ : 41:۔ عبدبن حمید، نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کالمھل “ سے مراد ہے تیل کی تلچھٹ : 42:۔ عبدبن حمید نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کالمھل “ سے مراد ہے تیل کی تلچھٹ۔ 43:۔ ھناد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے (آیت) ” المھل “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے سونے اور چاندی کو منگوایا اور اس کو پگھلایا جب پگھل گیا تو فرمایا یہ ہم شکل ہے مہمل کے وہ جو دوزخ والوں کا مشروب ہوگا اس کا رنگ آسمان جیسا زنگ ہوگا سوائے اس کے دوزخ والوں کا شراب سونے چاندی سے بھی زیادہ گرم ہوگا۔ 44:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کالمھل “ سے مراد ہے پیپ اور کالا خون جیسے تیل کی تلچھٹ۔ 45:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کالمھل “ سے مراد ہے سیاہ مشروب یہ بھی سیاہ ہوگا اور اسکے پینے والے بھی سیاہ ہوں گے۔ 46:۔ ابن منذر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” المھل “ تانبہ جب پگھل جائے لیکن مہمل اس تانبے سے بھی زیادہ گرم ہوگا۔ 47:۔ عبد بن حمید نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کالمھل “ سے مراد ہے چاندی کی طرح جب وہ پگھل جائے۔ 48:۔ عبدبن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کالمھل “ سے مراد ہے انتہائی گرم۔ 49:۔ ابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ کہ تم جانتے ہوں (آیت) ” المھل “ کیا چیز ہے فرمایا مہمل ایک تیل ہے یعنی اس کا آخری حصہ (جو نیچے بیٹھ جاتا ہے) اس سے مراد ہے تیل کی تلچھٹ۔ 50:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وسآءت مرتفقا “ سے مراد ہے اکٹھے ہونے کی جگہ۔ 51:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وسآءت مرتفقا “ سے مراد ہے کہ دوزخی گرم پانی پینے کے لئے جمع ہوں گے اور ” ارتفاق “ سے مراد ہے سہارا لگانے کی جگہ جس پر ٹیک لگائی جائے۔ 52:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وسآءت مرتفقا “ سے مراد ہے سہارا لگانے کی جگہ جس پر ٹیک لگائی جائے۔
Ayahs 18:30–31

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے یہ بات واقعی ہے کہ ہم اس کا عمل ضائع نہیں کریں گے

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

جو اچھے کام کرے، ان لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باگ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، انہیں سونے کے کنگنوں کا زیور پہنایا جائے گا، اور یہ لوگ سندس اور استبرق کے کپڑے پہنیں گے جنت میں مسہریوں پر تکئے لگائے ہوئے ہوں گے وہ بہت اچھا بدلہ ہے اور آرام کی اچھی جگہ ہے۔

1:۔ ابن مبارک اور ابن ابی حاتم نے مقبری (رح) سے روایت کیا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے اے ابن آدم (علیہ السلام) جب تو نیک کام کرے تو اس غافل ہوجا کیونکہ وہ اس ذات کے پاس پہنچ چکی ہے جو اس کو ضائع نہیں کرے گا پھر یہ (آیت) ” انا لا نضیع اجر من احسن عملا “ پڑھی اور جب تو کوئی برا عمل کربیٹھے تو اسے ہمیشہ اپنی نظروں کے سامنے رکھ۔ 2:۔ ابن مردویہ نے سعدؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی آدمی اہل جنت میں سے جھانک اور اس کے کنگن ظاہر ہوجائیں تو مٹا دے گی اس کی روشنی سورج کی روشنی کو جیسے سورج ستاروں کی روشنی کو مٹا دیتا ہے۔ 3:۔ طبرانی نے اوسط میں اور بیہق نے بعث میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر اہل جنت میں سے ادنی جنتی کا زیور کا مواز نہ کیا جائے اہل دنیا کے سارے زیورات کے ساتھ تو وہ زیور جو اللہ تعالیٰ اس کو آخرت میں پہنائیں گے وہ ساری دنیا کے زیورات سے افضل ہوگا۔ اہل جنت کے لئے زیورات تیار کرنے والا فرشتہ : 4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے عظمہ میں کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کا ایک فرشتہ ہے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ جنت میں ایک فرشتہ ہے اگر تو چاہے تو میں اس کا نام لے لوں تو میں اس کا نام لے لوں گا وہ جنت والوں کے لئے زیورات تیار کر رہا ہے جس دن سے وہ پیدا ہوا تو قیامت کے دن تک (زیور بناتا رہے گا) اگر اس میں سے ایک زیور (باہر) نکال دیا جائے تو سورج کی روشنی ختم کردے اور جنت والوں کے تاج موتیوں سے بنے ہوں گے اگر ان میں سے ایک تاج بھی لٹکا دیا جائے آسمان دنیا سے تو سورج کی روشنی ختم ہوجاتی جائے جیسے سورج چاند کی روشنی کو ختم کردیتا ہے۔ 5:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جنت والوں کو کنگن سونے چاندی اور موتیوں کے پہنائے جائیں گے یہ ان پر زیادہ ہلکے ہوں گے ہر چیز سے (کیونکہ) یہ نور ہوں گے۔ 6:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من اساور من ذھب “ میں اساور سے مراد ہے مشک (یعنی ان زیورات سے کستوری کی خوشبوآئے گی) 7:۔ بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کا زیور وضو کی جگہ تک پہنچے گا (یعنی جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے) 8:۔ نسائی نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں مردوں کو زیور اور ریشم سے منع فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے اگر تم محبوب رکھتے ہو جنت کے زیور اور اس کے ریشم کو تو ان کو دنیا میں نہ پہنو۔ 9:۔ طیالسی، بخاری نے تاریخ میں نسائی، بزار اور ابن مردویہ نے اور بیہقی نے بعث میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم کو اہل جنت کے کپڑوں کے بارے میں بتائیے کیا بنے بنائے پیدا ہوں گے یا بنے ہی نہ ہوں گے جن کو بعد میں بنایا جائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ جنت کے پھل ان کے کپڑوں سے پھٹ کر نکلیں گے (یعنی جنت والوں کا لباس درختوں کے پھلوں سے پیدا ہوگا) ابن مردویہ نے جابر ؓ کی حدیث سے اسی طرح روایت کیا۔ 10:۔ بیہقی ابوالخیر مرثد (رح) سے روایت کیا کہ جنت میں ایک درخت ہے جس میں ریشم اگے گا اور اس میں اہل جنت کا لباس ہوگا۔ 11:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستبرق “ سے موٹا ریشم مراد ہے اور عجم کی لغت میں اس کو استبرہ کہتے ہیں۔ 12:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستبرق متکئین “ سے موٹا ریشم مراد ہے۔ 13:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستبرق “ سے مراد ہے موٹا ریشم۔ 14:۔ ابن ابی حاتم نے عبدالرحمان بن سابط (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت میں سے ایک بندے کی طرف لباس بھیجیں گے تو وہ اس کو پسند کرے گا اور کہے گا میں نے باغات دیکھے ہیں لیکن میں ایسا لباس کبھی نہیں دیکھا تو وہ قاصدک ہے گا جو لباس کہ تیرے رب نے حکم دیا تھا کہ اس بندے کے لئے اس لباس کی طرح (اور لباس) تیار کرو جو وہ چاہے۔ 15:۔ ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اہل جنت کے کپڑوں میں سے ایک کپڑا آج دنیا میں پھیلا دیا جائے جو اس کی طرف دیکھے گا تو بےہوش ہوجائے گا اور ان کی آنکھیں اس کی تاب نہ لاسکیں گی۔ 16:۔ ابن ابی حاتم نے سلیم بن عامر (رح) سے روایت کیا کہ اہل جنت میں سے ایک آدمی اہل جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنے گا اس کو اپنی انگلیوں کے درمیان رکھ لے گا اور اس کی انگلیوں میں کچھ نظر نہیں آئے گا وہ اس کو پہنے گا تو وہ جوڑا شقیق النعمان گل لالہ کی طرح (خوبصورت) ہوگا اور وہ ستر کپڑے پہنے گا قریب ہے کہ ہو چھپ جائے کوئی آدمی دنیا میں اس بات کی طاقت نہیں رکھتا کہ وہ سات کپڑے پہنے کہ جس کی اس کی گردن میں وسعت ہو۔ 17:۔ حاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح بھی قرار دیا) ابو رافع (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی میت کو کفن دیا تو اللہ تعالیٰ اس کو باریک اور موٹے ریشم کا کپڑا جنت میں پہنائیں گے۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے ھیثم بن مالک الطائی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی (جنت میں) اپنے صوفے پر چالیس سال کی مقدار ٹیک لگائے گا نہ ادھر سے ادھر ہوگا اور نہ اس سے اکتائے گا اس کے پاس ہر وہ چیز آئے گی جو اس کا دل چاہے گا اور اس کی آنکھیں اس سے لذت اٹھائیں گی۔ جنت میں حسن و جمال میں اضافہ : 19:۔ ابن ابی حاتم نے ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ایک جنت میں ستر سال تک تکیہ لگائے گا اس کے پاس اس کی بیویاں اور اس کے خادم اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اعزازات اور نعمتیں ہوں گی جب تھوڑی دیر کے لئے اس کی نظر غافل ہوگی تو اچانک اس کی بیویاں اس کے لئے ایسی ہوں گی کہ گویا اس نے اسے سے پہلے دیکھی ہی نہ تھیں وہ بیویاں اس سے کہیں گی تیرے لئے یہ وقت آچکا ہے کہ تو ہمارے لئے اپنی ذات سے حصہ بنائے۔ 20:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” علی الارآئک “ سے مراد وہ پلنگ ہیں جو حجلہ عروسی کے درمیان لگے ہوئے ہوتے ان پر بچھونے ہوں گے تہہ بہ تہہ جو آسمان میں ایک فرسخ بلند ہوں گے۔ 21:۔ بیہقی نے بعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اریکہ وہ تخت ہوتا ہے جو حجلہ عروسی میں سجایا گیا ہوا تخت بغیر حجلہ عروسی کے ہو تو اس کو اریکہ نہیں کہتے اور اگر حجلہ عروسی بغیرتخت کے ہو تو اسے اریکہ نہیں کہا جاتا جب دونوں چیزیں جمع ہوں تو اس مجموعہ کو اریکہ کہتے ہیں۔ 22:۔ ابن ابی شیبہ، ھناد عبد بن حمید اور ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” علی الارآئک “ سے مراد ہے وہ تخت جس پر حجلہ عروسی بنایا جاتا ہے۔ 23:۔ عبد بن حمید اور بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الارآئک “ موتی اور یاقوت کے ہوں گے۔ 24:۔ عبد بن حمید اور ابن انباری نے وقف والابتداء میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ ہم نہ جانتے تھے کہ ارائک کیا چیز ہے ؟ یہاں تک کہ ہم یمن کے ایک آدمی سے ملے اس نے ہم کو بتایا کہ ان کے نزدیک ” اریکہ “ اس حجلہ عروسی کو کہتے ہیں جس میں تخت بھی سجایا گیا ہو۔ 25:۔ عبد بن حمید نے ابو رجاء (رح) سے روایت کیا کہ حسن (رح) سے (آیت) ” علی الارآئک “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ حجلہ عروسی کو کہتے ہیں یمن والے کہتے ہیں ” اریکۃ فلاں۔ 26:۔ عبد بن حمید اور ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے (آیت) ” علی الارآئک “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ تختوں پر حجلہ عروسی ہیں۔ 27:۔ عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” علی الارآئک “ سے مراد ہے حجلہ عروسی جس میں تخت موجود ہوں۔
Ayahs 18:32–37

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور آپ ان سے دو شخصوں کا حال بیان کیجئے، ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دئے اور ان کو ہم نے کجھور کے درختوں سے گھیر دیا اور ان دونوں کے درمیان ہم نے کھیتی بھی اگا دی تھی

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ اپنا پورا پورا پھل دیتے تھے اور پھلوں میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ہم نے ان دونوں کے درمیان نہر جاری کردی تھی

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اس کے لئے اور بھی پھل تھے، سو اس نے باتیں کرتے ہوئے اپنے ساتھی سے کہا کہ میں تجھ سے زیادہ مال والا ہوں اور میرے افراد بھی غلبہ والے ہیں

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور وہ اس حال میں اپنے باغ میں داخل ہوا کہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا اس نے کہا کہ میں یہ گمان نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی ہلاک ہوگا

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور نہ میں یہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹا دیا گیا تو اس سے بہتر لوٹنے کی جگہ ضرور ضرور پالوں گا

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

اس کے ساتھی نے جواب دیتے ہوئے کہا کیا تو نے اس ذات کے ساتھ کفر کیا جس نے تجھے مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا پھر تجھے صحیح سالم آدمی بنا دیا

ایک مومن و کافر کا مکالمہ : 1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” جعلنا لاحدھما جنتین من اعناب “ کے بارے میں روایت کیا کہ جنت سے مراد باغ ہے اسی کا ایک باغ اور ایک دیوار تھی اور ان کے درمیان ایک نہر تھی اس لئے دو باغ فرمایا اور دیوار سے ایک ہونے کی وجہ سے ایک باغ فرمایا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن ابوعمر والشیبانی (رح) سے روایت کیا کہ نہرابی فرطس ان دو باغوں کی نہر تھی ابن ابی حاتم نے فرمایا وہ رملہ کی مشہور نہر ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اتت اکلھا ولم تظلم منہ شیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا پھل کبھی ختم نہ ہوتا تھا باغ کے ہر درخت کا پھل کھایا جاتا تھا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفجرنا خللھما نھرا “ سے مراد ہے ان کے درمیان (نہر تھی) 5:۔ ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکان لہ ثمر “ سے مراد ہے مال۔ 6:۔ ابوعبید ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اس کو ابن عباس ؓ نے یوں پڑھا (آیت) ” وکان لہ ثمر “ ثا کے ضمہ کے ساتھ یعنی مال کی قسمیں۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکان لہ ثمر “ سے مراد ہے سونا اور چاندی۔ 8:۔ ابن ابی حاتم نے بشیر بن عبید (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وکان لہ ثمر “ ثا کے رفع کے ساتھ اور فرمایا ثمر سے مراد ہے مال اولاد غلام اور ثمر سے مراد ہے پھل۔ 9:۔ ابن ابی حاتم نے ابویزید المدنی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وکان لہ ثمر “ اور اس کا مطلب اصل مال اور پھل ہے۔ 10:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” ودخل جنتہ وھو ظالم لنفسہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ناشکری کرنے والا ہے اپنے رب کی نعمتوں کی۔ 11:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال ما اظن ان تبید ھذہ ابدا “ سے مراد ہے ہلاک ہونا (آیت) ” وما اضن الساعۃ قآئمۃ ولئن “ (یعنی میں اس بات کو نہیں مانتا) کہ قیامت قائم ہوگی پھر (آیت) ” رددت الی ربی لاجدن خیرا منھا منقلبا “ (یعنی قیامت قائم ہو بھی گئی اور بفرض محال مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو میں اپنے رب کے پاس اس سے بھی بہتر پاوں گا) ۔
Ayahs 18:38–39

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

لیکن میری بات تو یہ ہے کہ وہ اللہ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو نے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کیوں نہ کہا ؟ اگر تو مجھے اس حال میں دیکھ رہا ہے۔ کہ میں تجھ سے مال اور اولاد کے اعتبار سے کم ہوں۔

1:۔ ابن ابی حاتم نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یہ کلمات سکھائے تھے کہ میں ان کو تکلیف اور مصیبت کے وقت کہتی ہوں۔” اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیئا “ (اللہ ہی میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی ) ۔ 2:۔ سعید بن منصور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں عروہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے مال میں سے کسی چیز کو دیکھتے جو ان کو خوش (اچھی) لگتی یا اپنے باغوں میں سے کسی باغ میں داخل ہوتے تو یہ پڑھتے ” ماشآء اللہ لا قوۃ الاباللہ “ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے استدلال کرتے تھے (آیت) ” ولولا اذ دخلت جنتک قلت ماشآء اللہ لا قوۃ الاباللہ “۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے زیاد بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ ابن شہاب جب اپنے مال پر داخل ہوتے تو فرمایا (آیت) ” ماشآء اللہ لا قوۃ الاباللہ “ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولولا اذ دخلت جنتک “ کی تاویل کرتے تھے (یعنی دلیل لیتے تھے) 4:۔ ابن ابی حاتم نے مطرف (رح) سے روایت کیا کہ مالک (رح) جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو فرماتے (آیت) ” ماشآء اللہ “ میں نے مالک ‘ سے کہا یہ آپ کیوں کہتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کیا آپ اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنتے (آیت) ” ولولا اذ دخلت جنتک قلت ماشآء اللہ “۔ اچھی حالت دیکھ کر ماشاء اللہ کہنا : 5:۔ ابن ابی حاتم نے حفص بن میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے وھب بن منبہ (رح) کے دروازے پر ” ماشآء اللہ “ لکھا ہوا دیکھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” ولولا اذ دخلت جنتک قلت ماشآء اللہ “۔ 6:۔ ابن ابی حاتم نے عمرو بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ کسی آدمی کا یہ کہنا ” ماشآء اللہ “ افضل دعا میں سے ہے۔ 7:۔ ابن ابی حاتم نے ابراہیم بن ادہم (رح) سے روایت کیا کہ کوئی آدمی کسی مسئلہ میں سوال کرتا ہے وہ ” ماشآء اللہ “ کہنے سے جلدی کامیاب ہونے والا ہوتا ہے۔ 8:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں یحییٰ بن سلیم طائفی (رح) سے اور وہ اس شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے ذکر کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ایک حاجت کا سوال کیا لیکن اس کے پورا ہونے میں دیر ہوگئی تو انہوں نے فرمایا ” ماشآء اللہ “ تو ان کی حاجت پوری ہو کر سامنے آگئی (یعنی جلدی ہی پوری ہوگئی) عرض کیا اے میرے رب کہ میں اپنی حاجت کو اتنے اور اتنے عرصے سے طلب کررہا تھا اب آپ نے مجھے وہ عطا فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اے موسیٰ کیا تجھے علم نہیں ہے کہ تیرا ماشاء اللہ کہنا زیادہ جلدی پورا کرنے والا ہے ان ضرورتوں کو جو تو اس کے ذریعے طلب کرلے۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ، احمد، اور نسائی نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تجھ کو جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کے بارے میں نہ بتاوں ؟ عرض کیا وہ کیا ہے فرمایا ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ 10:۔ ابن سعد، احمد، ترمذی اور نسائی نے (ترمذی نے صحیح بھی کہا) قیس بن سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا کہ ان کے والد نے ان کو نبی کریم ﷺ کی خدمت کے لئے آپ کے پاس چھوڑ آئے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں دو رکعت پڑھ کر لیٹ چکا تھا آپ نے مجھے پاوں سے مارا اور فرمایا کیا میں تجھ کو جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کا نہ بتاوں ؟ میں نے عرض کیا ضرور بتائیے فرمایا (وہ ہے) ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ 11:۔ احمد نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوذر ؓ سے فرمایا اے ابوذر کیا میں تجھ کو جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ نہ بتاوں ؟ عرض کیا ضرور بتائیے فرمایا (وہ ہے) ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ 12:۔ ابن ابی شبیہ اور احمد نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تجھ کو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کا نہ بتاوں ؟ عرض کیا ضرور بتائیے آپ نے فرمایا ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ کو کثرت سے پڑھو کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کیا میں تم کو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کے بارے میں نہ بتاوں ؟ تم ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ کی کثرت کرو۔ 15:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کہنے سے آفات سے حفاظت ہوتی ہے : 16:۔ ایویعلی ابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس بندہ پر کوئی انعام فرماتے ہیں اہل عیال میں یا مال میں اور وہ (اس کو دیکھ کر) کہتا ہے۔” ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ “ تو ( اس کی برکت سے) اللہ تعالیٰ اس کی ہر آفت کو دور فرما دیتے ہیں یہاں تک کہ اس پر موت آجائے اور یہ (آیت) ” ولولا اذ دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ “۔ 17:۔ ابن ابی حاتم نے دوسری سند کے ساتھ انس ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص اپنے مال میں کوئی ایسی چیز دیکھے جس کو وہ پسند کرے اور وہ کہہ دے (آیت) ” ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ “ اس مال کو کبھی کوئی آفت نہیں پہنچے گی اور یہ (آیت) ” ولولا اذ دخلت جنتک قلت “ پڑھی۔ 18۔ ابن مردویہ نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس بندے پر اللہ تعالیٰ کسی نعمت کا اکرام فرمائیں اور وہ اس کو باقی رکھنے کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ کثرت سے ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ پڑھے پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) ” ولولا اذ دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ “ پڑھی۔ 19:۔ احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تجھ کو عر ش کے نیچے سے جنت کا ایک خزانہ نہ بتاوں ؟ میں نے کہا ہاں (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا تو کہہ ” لا قوۃ الا باللہ “ عمرو بن میمون (رح) نے کہا میں نے ابوہریرہ ؓ سے کہا ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کا کلمہ مراد ہے تو انہوں نے فرمایا نہیں یہ سورة کہف میں ہے (آیت) ” ولولا اذ دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ “۔ 20:۔ ابن مندہ نے صحابہ میں حماد بن سلمہ کے طریق سے سماک سے اور انہوں نے جریر (رح) سے روایت کیا کہ میں فارس کی طرف نکلا تو میں نے کہا ” ماشآء اللہ، لا قوۃ الا باللہ “ ایک آدمی نے سن لیا اور کہا یہ کیا کلام ہے میں نے اس کو نہیں سنا کسی ایک سے جب سے میں نے اس کو آسمان سے سنا ہے ؟ میں نے اس کو کہا تو وہ آسمانوں کی خبر یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس نے کہا میں کسری کے ساتھ تھا اس نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا میں گیا شیطان میرے گھر میں میرے پیچھے میری شکل و صورت میں رہا وہ میرے سامنے آیا اور کہنے لگا میرے ساتھ شرط لگاؤ اس بات پر کہ ایک دن میرے لئے ہوگا اور ایک دن تیرے لئے ہوگا ورنہ میں تجھ کو ہلاک کردوں گا میں بات پر راضی ہوگیا وہ میرا ساتھی بن گیا وہ مجھ سے باتیں کرتا تھا اور میں اس سے باتیں کرتا تھا ایک دن وہ مجھے سے کہنے لگا میں ان شیطانوں میں سے ہوں جو چوری چھپے آسمان کی باتیں سنتے ہیں اور آج رات میری باری ہے میں نے کہا کیا تیرے لئے ممکن ہے کہ میں تیرے ساتھ چھپ جاوں اس نے کہا ہاں وہ تیار ہوا اور میرے پاس آیا اور کہا میری معرفت سیکھ لے اس کو نہ چھوڑنا ورنہ ہلاک ہوجائے گا میں نے اس کی معرفت حاصل کی مجھ کو وہ اوپر لے گیا یہاں تک کہ میں نے آسمان کو ہاتھ لگایا اچانک ایک کہنے والے نے کہا ” ماشآء اللہ، لا قوۃ الا باللہ “ پس یہ سنتے ہی سارے شیطان مونہوں کے بل گرپڑے اور میں بھی گرپڑا میں اپنے گھروالوں کے پاس لوٹا کچھ دنوں کے بعد وہ بھی آگیا میں نے کہنا شروع کیا ” ماشآء اللہ، لا قوۃ الا باللہ “ روای نے کہا اس سے وہ پگھل گیا یہاں تک کہ مکھی کی طرح ہوگیا پھر مجھ سے کہا تو نے اس کلمہ سے اپنی حفاظت کرلی پھر وہ ہم کو چھوڑ کر چلا گیا۔ 21:۔ احمد نے یحییٰ بن سلیم طائفی (رح) سے اور وہ اپنے شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا وہ کلمہ کہ جس کے ذریعہ فرشتے شیطانوں کو جھڑکتے ہیں جب وہ چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں ” ماشآء اللہ “ ہے۔ 22:۔ ابونعیم نے حلیہ میں صفوان بن سلیم (رح) سے روایت کیا کہ کوئی فرشتہ زمین سے نہیں اڑ سکتا یہاں تک کہ وہ ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کہہ لے۔ 23:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ ننانوے بیماریوں کی دوا ہے اور اس کا سب سے آسان غم (کو دور کرنا) ہے۔ 24:۔ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کی یہ تفسیر بتائی کہ اللہ کی نافرمانی سے بچنے کی کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی قوت سے اور اللہ کی اطاعت کے بھی کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی مدد کے ساتھ۔ 25:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو کوئی طاقت نہیں اطاعت کی مگر اللہ کی مدد کے ساتھ اور ہم کو کوئی طاقت نہیں گناہ چھوڑنے کی مگر اللہ کے ساتھ۔ 26:۔ ابن ابی حاتم نے زہیربن محمد (رح) سے روایت کیا کہ ان سے ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کی تفسیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا تو اللہ کی توفیق کے بغیر اپنی آرزو پورا نہیں کرسکتا اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کسی مصیبت سے نہیں بچ سکتا۔
Ayahs 18:40–45

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو وقت نزدیک ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرما دے اور تیرے باغ پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس کی وجہ سے تیرا باغ ایک صاف میدان ہو کر رہ جائے

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے پھر تو اسے طلب کرنے کی کوشش نہ کرسکے

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور اس کے پھلوں کو آفت سے گھیر دیا گیا سو وہ اس حال میں ہوگیا کہ جو کچھ اس میں خرچ کیا تھا اس پر کف افسوس ملنے لگا اور حال یہ تھا کہ اس کا باغ اپنی ٹیٹوں پر گرا ہوا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ ہائے کاش میں اپنے رب کی ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور اس کے ایسا کوئی گروہ نہ تھا جو اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود بدلہ لینے والا تھا

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

ایسے موقعہ پر اللہ کے سوا میں اللہ ہی کی مدد ہوتی ہے جو حق ہے وہ بہتر ہے ثواب کے اعتبار سے اور بہتر ہے انجام کے اعتبار سے۔

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں سے دنیاوی زندگی کی حالت بیان کیجئے، جیسے کہ پانی ہو جو ہم نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ذریعہ زمین سے اگنے والی چیزیں خوب گنجان ہوگئیں، پھر وہ چورا چورا ہو کر رہ گیا، جسے ہوائیں اڑا رہی ہیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الحسبان “ سے مراد ہے عذاب۔ 2:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حسبانا من السمآء “ کے بارے میں بتائیے فرمایا اس سے مراد ہے آگ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حسان بن ثابت ؓ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : بقیۃ معشر صبت علیہم شابیب من الحسبان شھب : ترجمہ : باقی جماعت پر انڈیلا گیا آگ میں سخت گرمی کو جس نے ان کو جھلسادیا۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حسبانا من السمآء “ سے مراد ہے آگ۔ 4:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فتصبح صعیدا زلقا “ یعنی بنجرزمین کی طرح۔ 5:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حسبانا من السمآء “ سے مراد ہے عذاب (آیت) ” فتصبح صعیدا زلقا “ یعنی اس طرح وہ باغ کاٹا جائے کہ اس زمین میں کوئی چیز نہ چھوڑی گئی ہو (آیت) ” او یصبح مآوھا غورا “ یعنی (اس کا پانی) چلا گیا اور زمین میں نیچے اتر گیا (آیت) ” واحیط بثمرہ فاصبح یقلب کفیہ “ ہاتھ پر ہاتھ مارنے لگے (آیت) ” علی ماانفق فیھا “ افسوس کرتے ہوئے اپنے ضائع شدہ باغ پر۔ 6:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” صعیدا زلقا “ سے مراد ہے پھسلنی زمین جس میں کوئی پودا نہیں اگتا (آیت) ” واحیط بثمرہ “ یعنی دونوں باغوں کا پھل تباہ و برباد ہوگیا (آیت) ” فاصبح یقلب کفیہ “ یعنی اس پر ندامت اور شرمندگی سے ہاتھ ملنے لگا (آیت) ” وھی خاویۃ علی عروشھا “ وہ گرا پڑا تھا اپنے چھپروں پر یعنی اس کے نیچے والا حصہ اوپر کردیا گیا۔ 7:۔ ابن منذر نے ضحاک (رح) سے روایت کہ (آیت) ” واحیط بثمرہ “ یعنی اللہ کے حکم نے اس کو گھیر لیا اور وہ ہلاک ہوگیا۔ 8:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولم تکن لہ فئۃ “ یعنی اس کا کنبہ نہ تھا (جو اس کو بچالیتا) ۔ 9:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولم تکن لہ فئۃ “ سے مراد ہے (اس کا) کنبہ۔ 10:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولم تکن لہ فئۃ “ کہ اس کا کوئی لشکر نہ تھا جو اس کی مدد کرتا (آیت) ” ینصرونہ من دون اللہ وما کان منتصرا “ یعنی روکنے والا عذاب کو۔ 11:۔ ابن ابی حاتم نے مبشر بن عبید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الولایۃ “ سے مراد ہے دین اور ” الوالایۃ “ کے معنی امارت کے بھی ہیں۔ 12:۔ حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) صہیب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کسی بستی میں داخل ہونا چاہتے تو اسے دیکھتے ہی یہ دعا پڑھتے : اللہم رب السموت السبع وما اظللن ورب الارضین السبع وما اقللن ورب الشیاطین وما اضللن ورب الریاح وما ذرین فانا نسئلک خیر ھذہ القریۃ وخیراھلھا ونعوذ بک من شرھا وشرمافیھا۔ ترجمہ : اے اللہ جو ساتوں آسمانوں اور ان سب چیزوں کا مالک ہے جو آسمانوں کے نیچے ہیں اور جو ساتوں زمینوں کا اور ان سب چیزوں کا رب ہے جو ان کے اوپر ہیں اور جو شیطانوں کا اور ان سب کا رب ہے جن کو شیطانوں نے گمراہ کیا ہے اور جو ہواوں کا اور ان سب چیزوں کا رب ہے جنہیں ہواوں نے اڑایا ہے سو ہم تجھ سے اس بستی کی اور اس کے باشندوں کی خیرکا سوال کرتے ہیں اور اس کے شر سے اور اس کے شر سے اور ان چیزوں کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں جو اس کے اندر ہیں۔