Ayahs 18:46–481:۔ ابن ابی حاتم نے اور خطیب نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا ہے کہ مال کو اس لئے مال کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں اور دنیا اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ قریب ہے (آخرت کے مقابلہ میں)
مال واولاددنیا کی زینت ہے :
2:۔ ابن ابی حاتم نے عیاض بن عتبہ (رح) سے روایت کیا کہ اس کا بیٹا مرگیا جس کو یحییٰ کہا جاتا تھا جب وہ اسے قبر میں اتارا گیا تو اس کو ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم اگر وہ لشکر کا سردار ہوتا تو میں اسے روک لیتا تو (اس کے والد نے) کہا مجھے اس کے روکنے سے کیا چیز مانع ہے ؟ کل یہ دنیا کی زینت میں سے تھا اور آج باقی رہنے والی نیکیوں میں سے ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” المال والبنون “ مال اور بیٹے دنیا کی کھیتی ہے اور نیک عمل آخرت کی کھیتی ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے دونوں کو جمع فرمائے گا۔
4:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والبقیت الصلحت “ سے مراد ہے ” سبحان اللہ والحمد للہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “
5:۔ سعید بن منصور، احمد، ابویعلی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، حاکم اور ابن مردویہ نے (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا باقی رہنے والی نیکیوں میں سے کثرت کرو کہا گیا یارسول اللہ ﷺ وہ باقی رہنے والی نیکیاں کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تکبیر کہنا : ” لا الہ الا اللہ “ کہنا اور ” سبحان اللہ اور “ ” والحمد للہ “ کہنا اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کہنا۔
6:۔ سعید بن منصور، احمد اور ابن مردویہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار ” سبحان اللہ والحمد للہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “ الباقیات الصالحات میں سے ہیں۔
دوزخ سے نجات پانے والے کلمات :
7:۔ نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی نے صغیر میں، حاکم ابن مردویہ اور بیہقی نے (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی اپنی ڈھال پکڑو پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ کیا دشمن کے خلاف جو حاضر ہوچکا ہے فرمایا نہیں بلکہ دوزخ کی آگ سے بچاؤ کے لئے اپنی ڈھال پکڑو تم ” سبحان اللہ والحمد للہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “ کیونکہ یہ (کلمات) قیامت کے دن آئیں گے مقدمات (یعنی آگے سے) معقبات (یعنی پیچھے سے) اور محسنات (یعنی نیکیاں بن کر) اور یہ باقیات صالحات ہیں۔
8:۔ طبرانی، ابن شاہین نے ترغیب فی الذکر میں اور ابن مردویہ نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” سبحان اللہ والحمد للہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “ اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ “ (یہ کلمات) باقیات صالحات ہیں اور یہ نیکیاں گرا دیتی ہیں گناہوں کو جیسے درخت گرا دیتا ہے اپنے پتوں کو اور یہ جنت کے خزانوں میں سے ہیں۔
9:۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک خشک درخت کے پاس سے گذرے اس کی ٹہنیوں میں سے ایک ٹہنی کو پکڑ کر حرکت دی تو اس کے سارے پتے گرگئے آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جب کوئی کہنے والا یہ کہتا ہے ” سبحان اللہ والحمد للہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “ تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں اس کے کہنے والے سے جیسے اس درخت سے پتے جھڑگئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ” الباقیات الصالحات “ (یعنی باقی رہنے والی نیکیاں)
10:۔ احمد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ ” سبحان اللہ والحمد للہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “ گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتے ہیں جیسے درخت اپنے پتوں کو جھاڑ دیتا ہے۔
11:۔ ابن ابی شیبہ، مسلم، نسائی اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کلام میں سے سب سے زیادہ محبوب کلام ” الحمدللہ، سبحان اللہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “ یہ چار کلمات ہیں پس تو ان کی کثرت کر اور تجھے کوئی ضرر نہیں کہ جس کلمہ کے ساتھ بھی تو شروع کرے۔
12:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم عاجز ہو راتوں کو اٹھ کر محنت کرنے سے اور دشمن سے جہاد کرنے سے تو (یہ کلمات) کہنے سے عاجز نہ بنوں ” سبحان اللہ والحمد للہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “ کیونکہ یہ الباقیات الصالحات ہیں۔
13:۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ سے بچاؤ کے لئے ڈھال لے لو تم کہو ” سبحان اللہ والحمد للہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “ اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کیونکہ (یہ کلمات) آگے آنے والے پیچھے آنے والے اور نجات دینے والے ہیں اور یہ الباقیات الصالحات ہیں۔
14:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے ایک دن فرمایا اپنی اپنی ڈھال کو لے لو دو مرتبہ یا تین مرتبہ فرمایا صحابہ ؓ نے عرض کیا دشمن جو پہنچ چکا ہے ؟ فرمایا نہیں بلکہ آگ سے بچاؤ کے لئے کہو تم ” سبحان اللہ والحمد للہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “ اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ “ کیونکہ (یہ کلمات) قیامت کے دن آئیں گے مقدمات بن کر محسنات بن کر اور موخرات بن کر اور یہ ” الباقیات الصالحات “ ہیں۔
15:۔ ابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الباقیات الصالحات “ یہ ہیں جو شخص یہ (کلمات) کہے ” لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر، سبحان اللہ والحمد للہ “ لا حول ولا قوۃ الا باللہ “
16:۔ ابن مردویہ نے ضحاک (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم کو رات قیام سے روک دے اور تم (عبادت کے لئے) کھڑے نہ ہو سکو اور تم عاجز ہوجاؤ دن میں اور تم روزے بھی نہ رکھ سکو اور تم مال میں بخیل بن جاؤ اور خرچ نہ کرو اور تم بزدل ہوجاؤ دشمن سے کہ جہاد نہ کرسکو تو کثرت کرو ” سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اللہ اکبر کی۔
17:۔ طبرانی نے سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہو کر مسلمان ہوگیا اور آپ نے مجھ کو سکھایا ” قل ھو اللہ احد “ ، اذا زلزلت الارض اور قل یایھا الکفرون “ اور مجھے یہ کلمات سکھائے ” سبحان اللہ، والحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر،۔
18۔ احمد، ابن جریر، اور ابن منذر نے عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ ان سے (آیت) ” والبقیت الصلحت “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ یہ ہیں۔ ” لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر، سبحان اللہ والحمد للہ “ لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔
19:۔ بخاری نے تاریخ میں اور ابن جریر نے ابن عمر ؓ سے ” والبقیت الصلحت “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا (وہ یہ ہیں) ” لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر، سبحان اللہ والحمد للہ “ لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔
20:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ (آیت) ” والبقیت الصلحت “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے ” لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر، سبحان اللہ والحمد للہ، تبارک اللہ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ، استغفر اللہ، و صلی اللہ علی محمد، رسول اللہ، نماز، روزہ، حج، صدقہ، آزاد کرنا، (غلام کا) جہاد اور صلہ رحمی اور سارے نیک اعمال اور یہ (آیت) ” والبقیت الصلحت “ ہیں جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے جنت میں باقی رہیں گی۔
21:۔ ابن ابی شیبہ اور احمد نے زہد میں سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ ہم سعد بن ابی وقاص ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان پر سکتہ طاری ہوگیا پھر فرمایا میں نے اپنی خاموشی میں یہ (کلمات) کہے ہیں جو نیل اور فرات کی سیرابی سے بہتر ہیں ہم نے ان سے عرض کیا آپ نے کیا (کلمات) کہے ہیں ؟ فرمایا میں نے کہا ” لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر، سبحان اللہ والحمد للہ “۔
22:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والبقیت الصلحت “ سے مراد ہے پاکیزہ کلام۔
23:۔ ابن ابی شیبہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لوگ اللہ کے جلال کی وجہ سے اس کی تسبیح، اس کی تحمید، اس کی تکبیر اور اس کی تہلیل کرتے ہیں (یہ کلمات) عرش کے اردگرد چکر لگاتے ہیں ان کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح اپنے پڑھنے والوں کا ذکر کرتی ہیں کیا تم میں سے اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ رحمان کے پاس ہمیشہ کوئی چیز ایسی ہو جو اس کا ذکر کرتی رہے۔
24:۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں قرآن مجید یاد نہیں کرسکتا اور آپ سے ایسی چیز کا سوال کرتا ہوں جو قرآن کے بدلے کافی ہوجائے آپ نے اس سے فرمایا تو (یہ کلمات) کہا کر ” سبحان اللہ الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر، ، اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ “
فرشتوں کے محبوب کلمات :
25:۔ ابن ابی شیبہ اور مسلم نے موسیٰ بن طلحہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چند کلمات ایسے ہیں ان کو جب بندہ کہتا ہے تو فرشتہ ان کو اپنے پروں پر رکھ لیتا ہے پھر ان کو لے کر اوپر جاتا ہے تو فرشتوں کی جس جماعت پر سے گذرتا ہے تو ان کلمات پرا ور ان کے کہنے والے پر صلاۃ بھیجتے ہیں یہاں تک کہ یہ کلمات رحمان کے سامنے رکھ دیئے جاتے ہیں (وہ کلمات یہ ہیں) ’ سبحان اللہ الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر، ، اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کو ہر مصیبت اور برائی سے بچا لیتا ہے۔
26:۔ ابن ابی شیبہ نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نیند میں دیکھا کہ ایک پکارنے والا آسمان میں سے پکار رہا ہے اے لوگو اپنی گھبراہٹ کا ہتھیار لے لو لوگوں نے ہتھیار لے لئے یہاں تک کہ ایک آدمی آیا اور اس کے ساتھ لاٹھی ہوگی تو ایک آواز لگانے والا آسمان سے آواز لگائے گا یہ تمہاری گھبراہٹ کا سامان نہیں ہے اس زمین والے شخص نے کہا ہماری گھبراہٹ کا ہتھیار کیا ہے تو اس نے کہا ’ سبحان اللہ الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “۔
27:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں (یہ کلمات) کہوں ’ سبحان اللہ الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “۔ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہیں کہ میں اتنی تعداد میں تیر صدقہ کروں۔
28:۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت کیا کہ میرے نزدیک ’ سبحان اللہ الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “ اس سے زیادہ محبوب ہیں کہ میں اتنی مقدار میں گھوڑوں پر اس کی رسیوں کے ساتھ مجاہدین کو سوار کروں۔
29:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے اپنی طرف سے (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ کہا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے تیس نیکیاں لکھ دیتے ہیں اور اس سے تیس برائیاں مٹا دیتے ہیں اور جس نے کہا اللہ اکبر تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے بیس نیکیاں لکھ دیتے ہیں اور اس سے بیس برائیاں مٹا دیتے ہیں۔ اور جس نے کہا ” الا الہ الا اللہ “ تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے بیس نیکیاں لکھ دیتے ہیں اور اس سے بیس برائیاں مٹا دیتے ہیں۔
30:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والبقیت الصلحت “ (ھود آیت : 114) اور (آیت) ” ان الحسنت یذھبن السیئت “ سے مراد پانچ نمازیں ہیں۔
31:۔ ابن منذر، ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” والبقیت الصلحت “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر وہ چیز اللہ کی اطاعت میں سے وہ باقیات الصالحات ہے۔
32:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سے (آیت) ” والبقیت الصلحت “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا وہ عبادت جس سے اللہ کی رضا مندی کا ارادہ کیا گیا ہو وہ (آیت) ” والبقیت الصلحت “ ہے۔
33:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” خیر عند ربک ثوابا “ سے مراد ہے کہ مشرکین کی جزاء سے بہتر جزاء۔
34:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ نے فرمایا (آیت) ” وخیراملا “ سے مراد ہے کہ ہر عامل کے لئے ایک امید ہے جو وہ اس کی امید کرتا ہے اور مومن لوگوں میں سب سے بہتر ہے امید کے لحاظ سے۔
35:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتری الارض بارزۃ “ سے مراد ایسی زمین ہے جس میں کوئی آبادی نہ ہو اور نہ کوئی علامت ہو۔
36:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وتری الارض بارزۃ “ سے مراد ایسی زمین ہے جس میں نہ کوئی عمارت ہو اور نہ اس پر کوئی درخت ہو۔
37:۔ ابن مندہ نے توحید میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آوازدیں گے اے میرے بندو میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی اللہ نہیں ہیں میں سب رحم کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں اور تمام حکم کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ حکم کرنے والا ہوں اور حساب کرنے والوں میں سے سب سے جلدی حساب کرنے والا ہوں اپنی حجتوں کو پیش کرو اور جواب کو آسان کرو کیونکہ تم سے باز پرس ہوگی اور محاسبہ ہوگا اے میرے ملائکہ میرے بندوں کے قدموں کے پوروں کے اطراف پر حساب کے لئے سیدھا کھڑا کردو صفوں میں۔
Ayah 18:49اعمال نامہ کے دفتر پیش ہونا :
1:۔ بزار نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ابن آدم کے لئے تین دفتر نکالے جائیں گے ایک دفتر میں نیک عمل (لکھے) ہوں گے ایک دفتر میں اس کے گناہ لکھے ہوں گے اور ایک دفتر میں نعمتیں لکھی ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو ملی تھیں (دنیا میں)
2:۔ طبرانی نے سعد بن جنادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو ہم ایک چٹیل میدان میں اترے جس میں کوئی چیز نہ تھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کچھ جس کے پاس ہے اس کو لے آئے راوی نے کہا کچھ دیر نہ گذری تھی کہ ہم نے مال کے ڈھیر کو دیکھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم اس کو دیکھ رہے ہو ؟ اسی طرح تم میں سے ہر شخص کے گناہ جمع ہوں گے جیسے تم نے ڈھیر کو جمع کردیا چاہئے کہ اللہ ڈرتے رہو نہ چھوٹا گناہ کر اور نہ بڑا کر یہ سب جمع کردیئے جائیں گے۔
3:۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بچو تم چھوٹے گناہوں سے بھی اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف ان کا بھی مطالبہ ہوگا۔
4:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ صغیرہ سے مراد ہے مسکرانا (مذاق کرتے ہوئے) اور ” کبیرۃ “ سے مراد ہے ہنسنا (قہقہہ لگاتے ہوئے ) ۔
5:۔ ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبہ میں اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الصغیرہ “ سے ایمان والوں کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے مسکرانا مراد ہے اور ” الکبیرہ “ سے قہقہہ مارنا مراد ہے۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” ویقولون یویلتنا “ (الآیۃ) کے بارے میں روایت کیا کہ لوگ شکایت کریں گے شمار کرنے کو جیسے تم سنتے ہو اور کوئی آدمی ظلم کی شکایت نہیں کرے گا پس بچو تم چھوٹے گناہوں سے بھی کیونکہ یہ بھی اس کے کرنے والے پر جمع ہوں گے یہاں تک کہ اس کو ہلاک کردیں گے۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ثوری (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ تم لوگ مسکراہٹ کے بارے میں پوچھے جاوگے اور پوچھا جائے گا فلاں فلاں دن کیوں مسکرایا تھا۔
Ayah 18:501:۔ ابن جریر ابن منذر ابوالشیخ نے عظمہ میں اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فرشتوں میں سے ایک قبیلہ ہے جس کو جن کہا جاتا ہے ابلیس ان میں سے تھا اور آسمان و زمین میں جو (مخلوق) ہے ان (کے دلوں) میں وسوسے پیدا کرتا تھا پھر اس نے نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو شیطان مردود بنا دیا۔
2:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کان من الجن “ کے بارے میں روایت کیا کہ جنت کے خازن کو جن کہا جاتا ہے۔
3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اور ابن مسعود ؓ نے شیطان کے بارے میں اختلاف کیا ان میں سے ایک نے فرمایا وہ فرشتوں کے ایک قبیلہ میں سے تھا کہ ان کو جن کہا جاتا ہے۔
4:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس عزت والے فرشتوں میں سے تھا اور اس کا قبیلہ بھی بڑی عزت والا تھا اور جنتیوں کا خازن تھا اور آسمان دنیا پر اس کی بادشاہت تھی اور اس کو مجمع البحرین پر تسلط حاصل تھا یعنی بحر روم اور بحر فارس ان میں سے ایک مشرق کی جانب اور دوسرا مغرب کی جانب ہے اور زمین کی بادشاہت بھی حاصل تھی اور اس کے نفس نے اس کو مزین کردکھایا قضاء الہی کے ساتھ اس نے (جب) دیکھا کہ اس کے لئے عظمت ہے اور عزت ہے آسمان والوں پر تو اس کے دل میں تکبر واقع ہوگیا جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت اس کے تکبر کو ظاہر کردیا پس اس پر قیامت کے دن تک لعنت ہے (آیت) ” کان من الجن “ جنان بھی کہا گیا ہے۔
5:۔ عبدالرزاق ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” الا ابلیس، کان من الجن “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ فرشتوں کے اس قبیلہ سے تھا جسے جن کہا جاتا ہے اور ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے اگر وہ فرشتوں میں سے نہ ہوتا تو اس کو سجدہ کا حکم نہ دیا جاتا اور وہ آسمان دنیا کے خزانہ پر (مقرر) تھا۔
6:۔ ابن جریر ابن انباری نے کتاب الاضداد میں اور ابوالشیخ نے عظمہ میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ آنکھ جھپکنے کی دیر بھی ابلیس فرشتوں میں سے نہ تھا کیونکہ وہ جنات کی اصل (یعنی باپ) ہے جیسے آدم (علیہ السلام) انسان کی اصل (یعنی باپ) ہیں۔
7:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) نے فرمایا اللہ تعالیٰ غارت کرنے ان لوگوں کو جو یہ گمان کرتے ہیں کہ ابلیس اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” کان من الجن “۔
8:۔ ابن ابی حاتم نے اور ابوالشیخ نے عظمہ میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کان من الجن “ یہ جن فرشتوں کا ایک قبیلہ ہے وہ برابر اہل جنت کے زیورات تیار کرتے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگی۔
9:۔ ابن ابی حاتم ابوالشیخ اور ابن انباری نے الاضداد میں ایک دوسرے طریق سے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کان من الجن “ یعنی ان جنات میں سے تھا جو جنت میں کام کرتے تھے۔
11:۔ ابن ابی حاتم اور ابوایشخ نے عظمہ میں ابن شہاب (رح) سے (آیت) ” الا ابلیس، کان من الجن “ کے بارے میں فرمایا کہ ابلیس جنوں کا باپ ہے جیسے آدم (علیہ السلام) انسانوں کے باپ ہیں آدم انسانوں میں سے ہیں اور وہ ان کے باپ ہیں اور ابلیس جنات میں سے اور وہ ان کا باپ ہے اور لوگوں پر یہ معاملہ واضح ہوگیا جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” افتتخذونہ وذریتہ اولیآء من دونی “۔
12:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ ابلیس آسمان دنیا میں فرشتوں میں سے ریئس تھا۔
13:۔ ابن جریر نے سعید بن منصور (رح) سے روایت کیا کہ فرشتے نے جنات سے جنگ کی اور ابلیس بن گیا یہ چھوٹا بچہ تھا تو فرشتوں کے ساتھ رہ کر (اللہ تعالیٰ کی) عبادت کرتا تھا۔
ابلیس جنات میں سے تھا :
14:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے شہر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ ابلیس ان جنات میں سے تھا جن کو فرشتوں نے (اپنے پاس سے) ہٹا دیا تھا (لیکن) اس کو بعض فرشتوں نے قیدی بنا لیا تھا اور اس کو آسمان پر لے گئے تھے۔
15:۔ ابوالشیخ نے عظمہ میں قتادہ ؓ سے (آیت) ” الا ابلیس، کان من الجن “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ چھپ گیا تھا اللہ کی اطاعت سے۔
16:۔ ابوالشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ جب ابلیس لعنت کیا گیا تو فرشتوں کی صورت سے اس کی صورت بدل گئی تو اس سے وہ بہت گھبرایا اور بلند آواز سے چیخ ماری (اس لئے) ہر چیخ دنیا میں قیامت کے دن تک اس کی چیخ میں سے ہے۔
17:۔ ابوالشیخ نے نوف (رح) سے روایت کیا کہ ابلیس آسمان دنیا کا رئیس تھا۔
18۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ففسق عن امر ربہ “ یعنی اس نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کرکے اپنے رب کی نافرمانی کی۔
19:۔ ابن منذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ان سے ابلیس کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس کی بیوی ہے ؟ انہوں نے فرمایا اس کی شادی کے متعلق میں نے نہیں سنا
20:۔ ابن ابی الدنیا نے مکاید الشیطان میں اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” افتتخذونہ وذریتہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ابلیس کے پانچ بیٹے ہیں ثبر، اعور، زنبور، مسوط اور داسم شوروہنگامہ کرنے والا ہے اوعور اور داسم کے بارے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کرتے ہیں اور ثبر مصائب لاتا ہے اور زنبور لوگوں کے درمیان جدائی ڈالتا ہے اور انسان کو اپنے گھروالوں کے عیوب دکھاتا ہے۔
21:۔ ابن ابی الدنیا اور ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” افتتخذونہ وذریتہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ابلیس نے پانچ انڈے دیئے زنبور، داسم، ثبر اور مسوط اور اعور اعور زنا پر اکساتا ہے ثبر مصائب لاتا ہے مسوط جھوٹی افواہیں پھیلاتا ہے وہ ان کو لوگوں کے مونہوں ڈالتا ہے اور اس کی اصل (حقیقت) کو کوئی نہیں پاتا اور داسم گھروں والا ہے کہ جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور سلام نہیں کرتا تو یہ بھی اس کے ساتھ داخل ہوجاتا ہے اور جب وہ کھاتا ہے تو یہ بھی اس کے ساتھ کھاتا ہے اور شیطان نے اس کو گھر کا سامان دکھاتا ہے اس کی حفاظت نہیں کی گئی اور زنبور بازاروں والا ہے (یعنی بازاروں میں گھومتا ہے) وہ اپنے سر کو ہر بازار پر رکھتا ہے آسمان اور زمین کے درمیان۔
22:۔ ابن ابی حاتم نے اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” افتتخذونہ وذریتہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ شیطان کی اولاد ہے اور اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں جیسے بنوآدم کے بچے پیدا ہوتے ہیں اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہیں۔
23:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان (رح) نے فرمایا کہ ابلیس نے پانچ انڈے دیے اور ان سے اس کی اولاد پیدا ہوئی اور فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ایک مومن پر اکٹھے ہوتے ہیں ربیعہ اور مضر (کے قبیلوں) سے بھی زیادہ (تعداد میں )
24:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بئس للظلمین بدلا “ سے مراد ہے برا ہے جو انہوں نے رب کی عبادت کو تبدیل کیا اچانک انہوں نے ابلیس کی اطاعت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی۔
Ayahs 18:51–52اللہ تعالیٰ کو کسی مخلوق کی مدد کی ضرورت نہیں :
1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مآاشھدتہم خلق السموت والارض ولا خلق انفسہم “ سے مراد ہے کہ میں نے شیاطین سے مدد نہیں لی تھی کہ جن کو تم نے میرا شریک بنا رکھا ہے (آیت) ” وما کنت متخذ المضلین عضدا “ یعنی میں نے ان کو کسی چیز پر مددگار نہیں بنایا کہ وہ اس پر میری مددکریں۔
2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت متخذالمضلین عضدا “ یعنی مددگار۔
3:۔ ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت متخذالمضلین عضدا “ یعنی مددگار۔
4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا بینہم موبقا “ یعنی ہلاکت کا مقام۔
5:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” موبقا “ سے مراد ہے ہلاکت کا مقام۔
6:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” موبقا “ سے مراد ہے جہنم کی ایک وادی۔
7:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے بعث میں انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا بینہم موبقا “ سے جہنم کی ایک وادی مراد ہے پیپ اور خون والی۔
8:۔ احمد نے زہد میں ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا بینہم موبقا “ وہ دوزخ میں گہری وادی ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ قیامت کے دن ہدایت والے اور گمراہی والوں کے درمیان فرق کریں گے۔
9:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عمرو بکائی (رح) سے روایت کیا کہ موبق جس کو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے وہ دوزخ میں ایک وادی ہے جو بہت گہری ہے قیامت کے دن اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو اور اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کے درمیان فرق کریں گے۔
دوزخ کے سانپ کی شکل :
10:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” موبقا “ ایک نہر ہے دوزخ میں جس میں آگ بہتی ہے اس کے کناروں پر سانپ ہیں کالے خچروں کی طرح جب وہ سانپ ان کو پکڑنے کے لئے ان کی طرف بڑھیں گے تو لوگ ان سے بچنے کے لئے آگ میں گھس جائیں گے۔
11:۔ ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ دوزخ میں چار وادیاں ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اس کے رہنے والوں کو عذاب دیں گے (چار وادیاں یہ ہیں) موبق، غلظ، اثام، اور غی۔
Ayahs 18:53–541:۔ عبدالرزاق ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فظنوا انہم مواقعوھا “ یعنی انہوں نے جان لیا (کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں )
2:۔ احمد ابو یعلی ابن جریر ابن حبان حاکم اور ابن مردویہ نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کافر کا پچاس ہزار سال کھڑا رکھا جائے گا جیسے اس نے اس دنیا میں کوئی عمل نہیں کیا اور وہ جہنم دیکھے گا اور چالیس بس کی مسافت سے بھی یوں محسوس کرے گا کہ وہ دوزخ میں بھی گرا۔
3:۔ بخاری، مسلم، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ اس کے اور فاطمہ ؓ کے پاس رات کے وقت تشریف لائے اور فرمایا کیا تم (تہجد کی) نماز نہیں پڑھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہماری روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں اگر ہم کو اٹھانا چاہتے ہیں تو ہم اٹھ جاتے ہیں جب میں نے یہ کہا تو آپ واپس تشریف لے گئے اور آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا پھر میں نے سنا کہ آپ اپنی ران مبارک کو مارتے ہوئے یہ ارشاد فرما رہے تھے (آیت) ” وکان الانسان اکثر شیء جدلا “۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وکان الانسان اکثر شیء جدلا “ کے بارے میں فرمایا کہ جدل سے مراد ہے جھگڑا کرنا اپنے انبیاء سے قوم کا جھگڑا کرنا اور ان کا رد کرنا (اس دین کو) جو وہ لے کر آئے اور قرآن میں جدل کا لفظ جہاں بھی استعمال ہوا ہے وہ اسی معنی میں ہے۔
Ayahs 18:55–591:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا ان تاتیہم سنۃ الاولین “ یعنی پہلے لوگوں کی سزا (کی خبر ان کے پاس آچکی تھی)
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ پڑھا یعنی قبائل (پر عذاب کی خبریں ان کے پاس آچکی تھیں )
3:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ سے مراد ہے اچانک (ان کے پاس عذاب آیا)
4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ سے مراد ہے روبرو آمنے سامنے۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قبلا “ سے مراد ہے اعلانیہ۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ یعنی وہ اپنے سامنے عذاب کو دیکھ رہے ہوں گے۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونسی ما قدمت یدہ “ یعنی اس نے جو کثیر تعداد میں پہلے گناہ کئے وہ بھول گیا۔
8:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بما کسبوا “ سے مراد ہے جو انہوں نے عمل کیا۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بل لہم موعد “ یعنی قیامت کے دن کا وعدہ۔
10:۔ ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لن یجدوا من دونہ موئلا “ سے مراد ہے پناہ کی جگہ۔
11:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لن یجدوا من دونہ موئلا “ یعنی پاس گذرتے ہوئے (آیت) ” وجعلنا لمھلکہم موعدا “ یعنی موت۔
12:۔ ابن ابی حاتم نے عباس بن عزوان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وتلک القری اھلکنہم لما ظلموا وجعلنا لمھلکہم موعدا “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا کا حکم فرمایا جب انہوں نے نافرمانی کی پھر اس سزا کو موخر کردیا یہاں تک کہ ان کی سزا کا وقت آگیا تو پھر ان کو سزا دی۔
Ayah 18:601:۔ ابن عساکر نے ابن سمعان کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اس آیت کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ (فرمایا) (آیت) ” واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح “ یعنی میں ہمیشہ رہوں گا (آیت) ” حتی ابلغ مجمع البحرین “ یعنی دو دریاوں کے ملنے کی جگہ (آیت) ” اوامضی حقبا “ یا میں ستر سال تک چلتا رہوں گا (آیت) ” فلما بلغا مجع بینہما “ یعنی دو دریاوں کے درمیان پہنچے (آیت) ” نسیا حوتھما “ یعنی مچھلی ان دونوں کے درمیان سے نکل گئی اور گم ہوگئی اور مچھلی نمک لگی ہوئی تھی جو ان کے پاس تھی اور وہ اس کو اٹھائے ہوئے تھے وہ ٹوکری سے کود کر پانی میں جاپڑی (آیت) ” فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا “ شیطان نے موسیٰ (علیہ السلام) کے نوجوان کو بھلا دیا کہ وہ اس کو یاد کرے اور موسیٰ کے نوجوان یوشع بن نون تھے (آیت) ” واتخذ سبیلہ فی البحر، عجبا “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو مچھلی کے ا ثر اور سمندر میں اس کے چلنے نے تعجب میں ڈال دیا (آیت) ” قال ذلک ما کنا نبغ “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو خبر دی گئی تھی کہ میں خضر (علیہ السلام) کو پاوں گا جہاں مچھلی مجھ سے جدا ہوگی (آیت) ” فارتدا علی اثارھما قصصا “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور یوشع مچھلی کے نشان کے پیچھے آئے دریا میں اور وہ دونوں لوٹے آئے ساحل سمندر پر (آیت) ” فوجدا عبدامن عبادنا “ یعنی انہوں نے خضر (علیہ السلام) کو پایا (آیت) ” اتینہ رحمۃ من عندنا وعلمنہ من لدنا علما “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وفوق کل ذی علم علیم “ (یوسف آیت 76) موسیٰ (علیہ السلام) خضر (علیہ السلام) کے ساتھی بن گئے ان کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا واقعہ :
2:۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ نوف البکالی یہ گمان کرتا ہے کہ موسیٰ خضر والے یہ بنی اسرائیل والے موسیٰ نہیں تھے ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہم کو ابی بن کعب ؓ عنہنے بیان فرمایا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا میں ہوں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا جو تجھ سے زیادہ جاننے والا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب میں اس سے کیسے ملاقات کرسکتا ہوں ؟ فرمایا اپنے ساتھ ایک مچھلی لے لو اور اس کو ٹوکری میں رکھ دو جہاں مچھلی گم ہوجائے وہاں وہ ملے گا موسیٰ (علیہ السلام) نے مچھلی لی اور اس کو ایک ٹوکری میں رکھ لیا پھر چلے آپ کے ساتھ آپ ایک نوجوان یوشع بن نون بھی تھے یہاں تک کہ جب وہ ایک بڑے پتھر کے پاس آئے تو اپنے سر کو اس پر رکھ کر سوگئے مچھلی نے حرکت کی ٹوکری میں اور اس میں نکل کر دریا میں گرگئی (آیت) ” فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا “ اور درمیان میں سرنگ کی طرح راستہ بنالیا اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پانی میں چلنے کو روک دیا اور وہ اس پر محراب کی طرح ہوگیا جب نیند سے بیدار ہوئے تو ان کے ساتھی موسیٰ (علیہ السلام) کو مچھلی کی خبر بتانے سے بھول گئے باقی دن اور رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ اگلا دن ظاہر ہوا (آیت) ” قال “ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” لفتہ اتنا غدآءنا لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا “ صبح کا کھانا لاؤ اس سفر میں ہمیں بڑی مشقت برداشت کرنی پڑی ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے تھکان کو نہیں پایا یہاں تک کہ اس جگہ سے آگے بڑھ گئے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ان کے نوجوان نے ان سے کہا (آیت) ” قال ارء یت اذاوینا الی الصخرۃ فانی نسیت الحوت، وما انسنیہ الا الشیطان ان اذکرہ، واتخذ سبیلہ فی البحر عجبا “ راوی نے کہا مچھلی چل دی تھی اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے نوجوان کے لئے یہ عجیب بات تھی موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” قال ذلک ماکنا نبغ فارتدا علی اثارھما قصصا “ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وہی تو جگہ تھی جس کی ہم تلاش میں تھے وہی ہماری منزل مراد تھی دونوں اپنے نشانات پر واپس لوٹے یہاں تک کہ وہ اس پتھر تک پہنچ گئے سفیان نے کہا لوگ گمان کرتے ہیں کہ اس بڑے پتھر کے پاس چشمہ حیات (زندگی کا چشمہ) ہے جس مردوہ کو اس کا پانی پہنچتا ہے وہ زندہ ہوجاتا ہے فرمایا کہ اس مچھلی کا کچھ حصہ کھایا گیا تھا جب اس پر چشمہ حیات کے قطرے پڑے تو وہ زندہ ہوگئی فرمایا وہ دونوں اس بڑے پتھر کے پاس پہنچ گئے وہاں ایک آدمی کپڑا اوڑھے سو رہا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو سلام کیا تو خضر (علیہ السلام) نے فرمایا تمہاری زمین میں یہ سلام کہاں ؟ فرمایا میں موسیٰ ہوں پوچھا موسیٰ بنی اسرائیل والے ؟ فرمایا ہاں میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو آپ ہدایت کا علم سکھائے گئے ہیں انہوں نے کہا (آیت) ” قال انک لن تستطیع معی صبرا “ اے موسیٰ (تو صبر نہیں کرسکے گا) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” ستجدنی ان شآء اللہ صابرا ولا اعصی لک امر “ خضر (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا (آیت) ” فان اتبعتنی فلا تسئلنی عن شیء حتی احدث لک منہ ذکر (70) فانطلقا “ دونوں ساحل سمندر پر چلے ان کے ساتھ ایک کشتی گذری انہوں نے ان سے بات کی کہ وہ ان کو سوار کرلیں وہ لوگ خضر (علیہ السلام) کو جانتے تھے انہوں نے ان کو بغیر کرایہ کے سوار کرلیا جب یہ دونوں حضرات سوار ہوگئے تو تھوڑی دیر بعد خضر (علیہ السلام) کشتی کا ایک تختہ ہتھوڑے سے اکھاڑنے لگے موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا قوم نے ہم کو بغیر کرایہ کے سوار کیا ہے آپ ان کی کشتی کا ایک تختہ نکال رہے ہیں تاکہ آپ کشتی کو غرق کریں فرمایا (آیت) ” لقد جئت شیئا امرا “ یعنی آپ نے بڑی بری حرکت کی تو خضر (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” الم اقل انک لن تستطیع معی صبرا “ (72) قال لاتواخذنی بمانسیت ولا ترھقنی من امری عسرا (73) “ (یعنی کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکیں گے کہنے لگے بھول پر آپ میری گرفت نہ کریں اور میرے اس معاملہ میں مجھ پر زیادہ تنگی نہ ڈالئے) آپ ﷺ نے فرمایا پہلی خلاف ورزی موسیٰ (علیہ السلام) نے بطور بھول کے تھی راوی نے کہا ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی اس نے سمندر سے پانی کی چونچ بھری خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا مرا علم اور تیرا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں اس قطرے کی مانند ہے جو اس چڑیا نے اس سمندر سے کم کیا ہے پھر دونوں کشتی سے نکلے اور اس درمیان کے دونوں سمندر کے ساحل پر چل رہے تھے اچانک خضر (علیہ السلام) نے ایک لڑکے کو دیکھا جو لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خضر (علیہ السلام) نے اس کا سر پکڑا اپنے ہاتھ سے اور اس کو قتل کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا (آیت) ” اقتلت نفسا زکیۃ بغیر نفس، لقد جئت شیئا نکرا (74) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ آپ نے پہلے سے زیادہ سخت کام کیا ہے اور خضر (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” الم اقل انک لن تستطیع معی صبرا “ (72) قال ان سالتک عن شیء بعدھا فلا تصحبنی، قد بلغت من لدنی عذرا (76) فانطلقا، حتی اذا اتیا اھل قریۃ استطعما اھلھا فابوا ان یضیفوھما فوجدا فیھا جدارا یرید ان ینقص فاقامہ “ پھر وہ چل پڑے اور ان کا گذر ایک گاؤں پر ہوا، اہل گاؤں سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے میزبانی سے انکار کردیا، اس گاؤں میں ایک دیوار تھی جو گرنے کے قریب تھی تو خضر (علیہ السلام) نے (گرتی ہوئی دیوار کو) اس طرح سے پکڑا اور اس کو سیدھا کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہم اس قوم کے پاس آئے انہوں نے نہ کھانا کھلایا اور نہ ہماری مہمانی کی (آیت) ” لو شئت لتخذت علیہ اجرا (77) قال ھذا فراق بینی وبینک سانبئک بتاویل مالم تستطع علیہ صبرا (78) آپ ﷺ نے فرمایا ہم کو یہ بات پسند ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) صبر کرتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی خبروں میں سے ہم پر قصے بیان فرماتے۔
3:۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم ابن مردویہ نے ایک اور طریق سے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس ان کے گھر میں تھا اچانک فرمایا مجھ سے سوال کرو میں نے عرض کیا اے ابن عباس ؓ اللہ مجھے تجھ پر فدا کرے کوفہ میں قاص (سخت) ایک آدمی ہے جس کو نوف کہا جاتا ہے وہ گمان رکھتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل والے نہیں تھے فرمایا اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا مجھے ابی بن کعب ؓ نے بیان فرمایا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک دن لوگوں کو نصیحت فرمائی یہاں تک کہ لوگوں کی آنکھیں بہہ پڑیں اور دل نرم ہوگئے آپ واپس آئے تو ایک آدمی نے ان کو پایا اور کہا اے اللہ کے رسول ! کیا زمین میں کوئی ہے جو آپ سے زیادہ جاننے والا ہے ؟ فرمایا نہیں اللہ تعالیٰ نے اس پر عتاب فرمایا کیونکہ آپ نے علم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا تھا موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا گیا کیوں نہیں ( آپ سے زیادہ جاننے والا بھی ہے) فرمایا اے میرے رب وہ کہاں ہے ؟ فرمایا وہ مجمع البحرین کے پاس ہے پوچھا اے میرے رب میرے لئے ایسی علامت بنا دیجئے جس کے ذریعہ میں اس شخص کو پہچان لوں فرمایا مچھلی ٹوکری میں رکھ لو اس طرح پر کہ جہاں اس میں روح پھونکی جائے گی (وہیں وہ ملیں گے) انہوں نے مچھلی لی اور اس کو ایک ٹوکری میں رکھ لیا اور اپنے نوجوان ساتھی سے فرمایا میں تجھ کو یہ تکلیف نہ دیتا مگر یہ کہ تو مجھ کو بتاد ینا جب یہ مچھلی تجھ سے جدا ہوجائے فرماتے ہیں مجھے زیادہ تکلیف نہیں دی گئی اس درمیان کہ یہ حضرات ایک بڑے پتھر کے سائے میں تھے ایک ایسی جگہ میں جہاں پانی جاری تھی کہ وہ مچھلی اچھل پڑی اور موسیٰ (علیہ السلام) سو رہے تھے ان کے نوجوان نے کہا میں ان کو نہیں جگاوں گا یہاں تک کہ جب وہ جاگے تو وہ بتلانا بھول گئے اور مچھلی سمندر میں چلی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے پانی کا بہاؤ روک لیا تھا یہاں تک کہ اس کا اثر دریا میں بھی تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا (62) “ نوجوان نے اللہ تعالیٰ نے تمہاری مشقت ختم کردی ہے دونوں واپس لوٹے اور خضر (علیہ السلام) کو پایا ایک سبز چٹائی پر سمندر کے وسط میں چٹان پر کپڑا لپیٹے ہوئے سو رہے تھے کپڑے کی ایک طرف کو اپنے پاوں کے نیچے کر رکھا تھا اور ایک طرف کو اپنے سر کے نیچے کر رکھا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو سلام کیا انہوں اپنے چہرے کو کھولا اور فرمایا کیا اس زمین کا سلام ہے ؟ پوچھا تو کون ہے ـ؟ فرمایا میں موسیٰ (علیہ السلام) ہوں پوچھا کیا موسیٰ بنی اسرائیل والے ـ؟ فرمایا ہاں پوچھا کیسے آنا ہوا ؟ فرمایا میں آیا ہوں کہ آپ مجھے وہ رشد و ہدایت کا خصوصی علم سکھائیے جو آپ کو سکھایا گیا پوچھا گیا یہ کیا آپ کو یہ کافی نہیں تھا کہ تورات آپ کے ہاتھ میں ہے اے موسیٰ (علیہ السلام) وحی تیرے پاس آتی ہے میرے پاس وہ علم ہے جس کا سیکھنا آپ کے لئے مناسب نہیں آپ اور آپ کے پاس جو علم ہے وہ میرے لئے سیکھنا مناسب نہیں ایک پرندہ نے سمندر میں سے اپنی چونچ بھری خضر (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کی قسم میرا علم اور تیرا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں اسی طرح ہے جیسے کہ اس پرندہ نے اپنی چونچ سمندر میں سے بھری ہے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو دونوں نے چھوٹے چھوٹے ملاح دیکھے جو ایک ساحل والوں کو دوسرے ساحل والوں کے پاس پہنچا رہے تھے ان دوسرے ملاحوں نے خضر (علیہ السلام) کو پہچان لیا اور کہا کہ ہم عبداللہ الصالح کو نہیں اٹھائیں گے اجرت (یعنی کرایہ) کے ساتھ (بلکہہم ان کو مفت میں اٹھائیں گے) تھوڑا سا سفر کرنے کے بعد (خضر (علیہ السلام) نے) کشتی کو توڑڈالا اور اس میں ایک کیل لگا دی موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” اخرقتھا لتغرق اھلھا، لقد جئت شیئا امرا (71) ” قال الم اقل انک لن تسطیع معی صبرا “ موسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا سوال بھول کر تھا اور دوسرا اور تیسرا سوال عمدا تھا (آیت) ” قال لا تواخذنی بما نسیت ولا ترھقنی من امری عسرا (73) فانطلقا، حتی اذا لقیا غلما فقتلہ “ ایک لڑکے کو پایا جو کھیل رہا تھا اس کافر لڑکے کو پکڑا جو ذہین اور چالاک تھا اس کو لٹایا اور اس کو چھری سے ذبح کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” اقتلت نفسا زکیۃ “ آپ نے نیک کام نہیں کیا ابن عباس ؓ نے اس کو یوں پڑھا ” زکیۃ “ یعنی زاکیۃ مسلمۃ “ جیسے کہ تیرا قول پاکیزہ لڑکا پھر دونوں چلے اور پایا (آیت) ” جدارا یرید ان ینقض فاقامہ “ (یعنی دیوار کو پایا جو گرنے والی تھی پھر اس کو کھڑا کردیا فرمایا اپنے ہاتھ سے اس طرح اوپر اٹھایا تو وہ کھڑی ہوگئی (آیت) ” قال لو شئت لتخذت علیہ اجرا “ (یعنی اگر آپ چاہتے تو) اس سے مزدوری لے لیتے کہ اس سے کھانا کھاتے (آیت) ” وکان ورآء ھم ملک “ اور اس کو ابن عباس ؓ نے یوں پڑھا (آیت) ” وکان امامہم ملک ‘ وہ گمان کرتے ہیں کہ اس بادشاہ کا نام مرد بن ندد تھا اور وہ لڑکا جو قتل کیا گیا وہ گمان کرتے ہیں کہ اس کا نام جیسور تھا (آیت) ” یاخذ کل سفینۃ “ یعنی بادشاہ صحیح وسالم کشتی لیتا تھا ” غضبا “ یعنی غصب کرتے ہوئے تو میں نے ارادہ کیا کہ جب یہ بادشاہ کے پاس سے گذرے تو اس کو اس کے عیب کی وجہ سے چھوڑ دے جب وہ لوگ (بادشاہ سے) آگے گذر جائیں گے تو اس کو ٹھیک کرلیں گے اور اس سے نفع اٹھائیں گے اور ان میں سے ایک آدمی نے یہ کہا کہ اس کو تارکول سے بند کردو (آیت) ” فکان ابوہ مومنین “ اور وہ لڑکا کافر تھا (آیت) ” فخشینا ان یرھقھما طغیانا وکفرا “ کی ان دونوں کو اس کی محبت اس لڑکے کے دین کا تابعدار بنا دیتی (یعنی والدین کافر ہوجاتے) (آیت) ” فاردنا ان یبدلھما ربھما خیرامنہ زکوٰۃ واقرب رحما “ یہ ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب (ایسا بیٹا) جو بہتر ہو پاکیزگی میں اور ان سے زیادہ مہربان ہو یعنی اس بیٹے سے دوسرا بیٹا زیادہ رحم کرنے والا ہو سعید بن جبیر (رح) کے علاوہ دوسرے علماء فرماتے ہیں کہ ان کے والدین کو بدلے میں ایک بچی عطا کی گئی۔
4:۔ عبدبن حمید، مسلم اور ابن مردویہ نے ایک اور سند سے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ہم ابن عباس ؓ کے پاس تھے لوگوں نے کہا شامی یہ گمان کرتا ہے کہ وہ آدمی جو علم طلب کرنے گیا تھا وہ موسیٰ بنی اسرائیل والے نہیں تھے ابن عباس ؓ ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نوف نے جھوٹ کہا ابی بن کعب ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ (علیہ السلام) پر اگر وہ جلدی نہ کرتے اور نہ شرماتے اور ان کو ملامت ومذمت کا خوف نہ پکڑ لیتا (جس کی وجہ سے) انہوں نے خضر (علیہ السلام) سے فرمایا اگر اس کے بعد میں آپ سے سوال کروں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا تو اپنے ساتھی (یعنی خضر (علیہ السلام) سے عجیب و غریب واقعات) دیکھتے ابی بن کعب ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ جب انبیاء میں سے کسی نبی کا تذکرہ فرماتے تو اپنی ذات سے شروع کرتے ہوئے فرماتے اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور صالح (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ہم پر اور میرے بھائی عاد پر پھر فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ایک دن اپنی قوم میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اچانک انہوں نے ان سے فرمایا زمین میں مجھ سے زیادہ علم والا کوئی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ زمین میں ایک ایسا آدمی ہے جو تجھ سے زیادہ علم والا ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ تم ایک نمک لگی ہوئی مچھلی زاد راہ لے چلوجب وہ تم سے گم ہوجائے تو وہاں تمہارا ساتھی ہے جس کی تم تلاش میں ہو موسیٰ (علیہ السلام) نے نمک لگی ہوئی مچھلی زاد راہ لی اور اپنے ایک نوجوان کو لے کر چل دیئے یہاں تک کہ جب اس جگہ پہنچے جہاں کا حکم دیئے گئے تھے اور ایک بڑے پتھر کی طرف پہنچے موسیٰ (علیہ السلام) (خضر (علیہ السلام) کو) تلاش کرنے کے لئے چل دیئے اور ان کے نوجوان نے وہ مچھلی اس پتھر پر رکھ دی اس مچھلی نے حرکت کی (آیت) ” فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا “ اور سرنگ کی طرح درمیان میں راستہ بنایا اس نوجوان نے کہا جب اللہ کے نبی آئیں گے تو میں ان کو بتادوں گا شیطان نے اس کو بھلا دیا دونوں (وہاں سے) چل دیئے ان کو تکلیف پہنچی جیسے مسافر کو پہنچتی ہے اور تھکان بھی اس وقت ہوئی جب وہ اس جگہ سے آگے بڑھ گئے جس کا حکم کیا گیا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” لفتہ اتنا غدآءنا، لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا “ اس نوجوان نے کہا اے اللہ کے نبی (آیت) ” ارءیت اذ اوینا الی الصخرۃ فانی نسیت الحوت “ (میں بھول گیا) کہ آپ کو بیان کروں (آیت) ” الحوت، وما انسنیہ الا الشیطان ان اذکرہ، واتخذ سبیلہ فی البحر عجبا (63) قال ذلک ماکنا نبغ “ دونوں واپس لوٹے ” علی اثارھما قصصا “ اپنے نقش قدم پر چلتے رہے یہاں تک کہ اسی پتھر تک پہنچ گئے وہاں چکر لگایا اچانک ایک آدمی تھا کپڑا لپیٹے ہوئے وہاں سو رہا تھا موسیٰ نے ان کو سلام کیا اس نے اپنا سر اٹھایا اور ان سے فرمایا آپ کون ہیں ؟ فرمایا موسیٰ ہوں پوچھا کون موسیٰ ؟ فرمایا بنی اسرائیل والے۔ موسیٰ (علیہ السلام) پوچھا آپ کو کیا کام ہے ؟ فرمایا مجھے خبر دی گئی کہ آپ کے علم ہے تو میں نے آپ کے ساتھ رہنے کا ارادہ کیا انہوں نے فرمایا (آیت) ” انک لن تستطیع معی صبرا “ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ” ستجدنی ان شآء اللہ صابرا ولا اعصی لک امرا “ قال وکیف تصبر علی ما لم تحط بیہ خبرا “ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایسا کروں گا (آیت) ” قال فان اتبعتنی فلا تسئلنی عن شیء حتی احدث لک منہ ذکر ا (70) فانطلقا حتی اذا رکبا فی السفینۃ خرقھا (کشتی میں) یہاں تک کہ وہ سوار ہوئے پھر جو لوگ کشتی میں تھے وہ باہر نکل آئے خضر (علیہ السلام) پیچھے رہ گئے تاکہ کشتی کو پھاڑ دیں موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آپ نے اس کو پھاڑ دیا (آیت) ” لتغرق اھلھا، لقد جئت شیئا امرا (71) قال الم اقل انک لن تستطیع معی صبرا (72) قال لا تواخذنی بما نسیت ولا ترھقنی من امری عسرا (73) “ پھر دونوں چلے یہاں تک کہ لڑکوں پر آئے جو کھیل رہے تھے ساحل سمندر پر اور ان میں ایک لڑکا تھا ان لڑکوں میں اس سے زیادہ خوبصورت اور لطیف اور کوئی نہ تھا خضر (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ کر قتل کردیا موسیٰ (علیہ السلام) سے رہا نہ گیا اور فرمایا (آیت) ” اقتلت نفسا زکیۃ بغیر نفس، لقد جئت شیئا نکرا “ الم اقل انک لن تستطیع معی صبرا “ موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ساتھی (یعنی خضر (علیہ السلام) سے مذمت و ملامت کے اندیشہ نے پکڑ لیا تو فرمایا (آیت) ” قال ان سالتک عن شیء بعدھا فلا تصحبنی، قد بلغت من لدنی عذرا (76) فانطلقا، حتی اذا اتیا اھل قریۃ “ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت تھکان اور محنت پہنچ چکی تھی مگر بستی والوں نے مہمان نوازی نہ کی ” فوجدا فیھا جدارا یرید ان ینقض فاقامہ “ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کیونکہ وہ تھک چکے تھے (آیت) ” لو شئت لتخذت علیہ اجرا (77) قال ھذا فراق بینی وبینک، سانبئک بتاویل مالم تستطیع علیہ صبرا “ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے کپڑے کے ایک کنارے کو پکڑا اور فرمایا کہ مجھے بیان فرمائیے (اپنے کاموں کی حقیقت) تو خضر (علیہ السلام) نے فرمایا ” صبرا (78) اما السفینۃ فکانت لمسکین یعملون فی البحر فاردت ان اعیبھا وکان ورآءہم ملک یاخذ کل سفینۃ عصبا “ جب کشتی اس بادشاہ پر سے گذرے گی تو وہ (کشتی کو) پھٹا ہوا دیکھ کر اس کو چھوڑ دے گا (بادشاہ سے چھوٹنے کے بعد) پھر اس کے مالک لکڑی کے ایک ٹکڑے سے اس کی مرمت کردیں گے اور اس کشتی سے نفع اٹھالیں گے لیکن وہ لڑکا (جس کو میں نے قتل کیا تھا وہ طبعا کافر تھا اس کی محبت والدین کے دلوں میں ڈال دی گئی تھی وہ اس کی کسی بات کو نہ ٹالتے تھے تو البتہ یہ لڑکا بڑا ہو کر سرکشی اور کفر پر مجبور کرتا (اور والدین محبت کے دباؤ میں آکر کافر بن جاتے) تو تمہارے رب نے ان کو نعم البدل دینے کا ارادہ کیا ” خیرا منہ زکوٰۃ واقرب رحما “ تو اس لڑکے کے والد اس کی ماں پر واقع ہوئے (یعنی اس سے جماع کیا) تو اللہ تعالیٰ نے اسے پاکیزہ اور رحیم بچہ عطا فرمایا۔