13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 13:31–34

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر قرآن ایسا ہوتا جس کی وجہ سے پہاڑ چلا دیئے جاتے یا اس کے ذریعہ زمین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جاتے یا اس کے ذریعہ مردوں سے بات کرا دی جاتی تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں، بلکہ تمام امور اللہ ہی کے لئے ہیں، کیا اہل ایمان ناامید نہیں ہوئے حالانکہ یہ جانتے ہیں کہ اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال بد کی وجہ سے انہیں برابر کوئی نہ کوئی مصیبت پہنچتی رہے گی یا ان کے مکانوں کے قریب مصیبت نازل ہوجائے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ آجائے بلاشبہ اللہ وعدہ خلاف نہیں فرماتا

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے گزر چکے ہیں بلاشبہ ان کا مذاق بنایا گیا پھر میں نے ان لوگوں کو مہلت دی جنہوں نے کفر کیا، پھر میں نے ان کو پکڑ لیا سو میرا عذاب دینا کیسا تھا ؟

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

سو جو ذات ہر شخص کے اعمال پر مطلع ہو کیا اس کے برابر وہ ہوسکتا ہے جس کی یہ صفت نہ ہو۔ اور لوگوں نے اللہ کے لئے شریک تجویز کرلیے آپ فرمایا دیجئے کہ تم ان کے نام لو کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ زمین میں نہیں جانتا یا محض ظاہری لفظ کے اعتبار سے، بلکہ کافروں کے لئے ان کا مکر مزین کردیا گیا اور وہ لوگ راستہ سے روک دیئے گئے، اور اللہ جسے گمراہ کرے سوا سے کوئی ہدایت دینے والا نہیں

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا زندگی میں عذاب ہے اور البتہ آخرت کا عذاب بہت زیادہ سخت ہے، اور انہیں کوئی اللہ سے بچانے والا نہیں۔

ضدی منعت کو ہدایت نہیں ملتی : 1:۔ الطبرنی وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش مکہ نے نبی ﷺ سے کہا اگر تو ایسا ہی ہے جیسے تو کہتا ہے تو ہم کو دکھا دے ہمارے ان سرداروں کو جو مرچکے ہیں (تاکہ) ہم ان سے باتیں کریں اور ان پہاڑوں کو ہم سے دور کردیجئے۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت ) ” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال او قطعت بہ الارض اوکلم بہ الموتی “ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ قریش مکہ نے محمد ﷺ سے کہا اگر ہمارے لئے نہ مکہ کے پہاڑ چلے جائیں یہاں تک کہ ( جگہ) کشادہ ہوجائے اور ہم اس میں کھیتی کریں یا ہمارے لئے زمین پھٹ جائے، جیسے سلیمان (علیہ السلام) اپنی قوم کے لئے ہوا کے ذریعہ زمین کو طے کرتے تھے۔ یا ہمارے لئے مردوں کو زندہ کردیا جائے جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے لئے مردوں کو زندہ کردیتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت ) ” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال “ سے لے کر ”(آیت ) ” افلم یایئس الذین امنوا “ تک فرمایا کیا ایمان والوں کے لئے (یہ بات) ظاہر نہیں ہوئی لوگوں نے پوچھا کیا یہ حدیث نہیں کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کسی صحابہ میں سے کسی صحابہ سے مروی ہے تو فرمایا ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ 3:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے عوفی (رح) سے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش میں سے مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اگر ہمارے لئے مکہ کی وادیاں وسیع ہوجائیں۔ ہمارے لئے چل پڑی تو ہم کھیتی باڑی کریں اور ہم سے جو مرچکے ہیں ان کو زندہ کردیں اور اس کے ذریعہ زمین کو پھاڑ دیں یا اس کے ذریعہ سے مردے بات کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ نے (آیت ) ” ولو ان قرانا “ (الآیہ) کو اتارا۔ اپنے خاندان والوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا : 4:۔ ابویعلی و ابونعیم نے دلائل میں وابن مردویہ رحمہم اللہ نے زبیر بن عوام ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت ) ” وانذر عشیرتک الاقربین (214) “ (الشعراء آیت 214) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ابوقیس (پہاڑ) پر کھڑے ہو کر آواز لگائی۔ اے آل غیر مناف بلاشبہ میں ڈرانے والا ہوں تو قریش آگئے اور اپنے ان کو ڈرایا انہوں نے کہا تو یہ خیال کرتا ہے کہ تو نبی ہے کہ تیری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کیا گیا تھا ہوا کو اور پہاڑوں کو اور موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے دریا کو مسخر کردیا گیا۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کردیتے تھے (تو) اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ کہ یہ پہاڑ یہاں سے چل پڑیں۔ اور ہمارے لئے زمین سے نہریں پھوٹ پڑیں تاکہ ہم اس کو کھیتیاں کرنے کی جگہ بنالیں ہم کھیتی کریں اور ہم (اس میں سے) کھائیں ورنہ اللہ تعالیٰ سے دعا کر کہ وہ ہمارے لئے مردوں کو زندہ کردے کہ ہم ان سے باتیں کریں اور وہ ہم سے باتیں کریں ورنہ اللہ تعالیٰ سے دعا کر، کہ اس چٹان کو جو تیرے نیچے ہے سونے کا بنا دے تاکہ ہم اس میں سے تراش لیں اور ہم گرمی سردی کے سفر سے بےنیاز ہوجائیں۔ بلاشبہ تو گمان کرتا ہے کہ تو ان (سابقہ پیغمبروں) کی طرح ہے اس درمیان کہ ہم آپ کے اردگرد تھے اچانک آپ پر وحی نازل ہونے لگی۔ جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو عطا فرما دیا جو کچھ تم نے سوال کیا اگر میں چاہوں تو ہوجائے گا لیکن مجھ کو اختیار دیا گیا ہے درمیان ان (دو کاموں) کے کہ یا تم رحمت کے دروازہ میں داخل ہوجاؤ اور تمہارے ایمان لانے والے ایمان لانے والے ایمان نہ لائیں تو میں نے رحمت کے دروازے کو اختیار کیا اور تمہارے ایمان لانے والے ایمان لائیں اور مجھ کو خبردی گئی اگر تم کو (مانگی ہوئی چیزیں) عطا کردوں پھر تم نے کفر کیا تو تم کو ایسا عذاب دیا جائے گا کہ جہاں والوں میں سے کسی کو ایسا عذاب نہیں دیا جائے گا تو یہ (آیت ) ” وما منعنا ان نرسل بالایت الا ان کذب بھا الاولون “ نازل ہوئی یہاں تک کہ آپ نے تین آیات پڑھیں اور یہ (آیت ) ” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال ‘ ‘ 5:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس (آیت ) ” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال او قطعت بہ الارض اوکلم بہ الموتی “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت مکی ہے۔ 6:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال “ کے بارے میں فرمایا کہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کفار نے محمد ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ہمارے پہاڑوں کو چلایا جائے تاکہ ہماری زمینیں کشادہ ہوجائیں کیونکہ وہ تنگ ہیں (پہاڑوں کی وجہ سے) یا ہمارے لئے شام کو قریب کردے تاکہ ہم اس کی طرف تجارت کریں یا ہمارے لئے آباواجداد کو قبروں سے نکال دیں تاکہ ہم ان سے باتیں کریں۔ 7:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار قریش نے کہا اس قریش نے کہا اس قرآن کے ذریعہ ہمارے لئے پہاڑ چلائے جائیں (اور) قرآن کے ذریعہ سے زمین پھاڑ دی جائے اور اس کے ذریعہ ہمارے مردوں کو (قبروں سے نکالا جائے) 8:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ مکہ کے کافروں نے محمد ﷺ سے کہا ہمارے لئے پہاڑوں کو چلایا جائے جیسے (داود (علیہ السلام) کے لئے پہاڑ مسخر تھے اور ہمارے لئے زمین (جلدی) طے ہوجائے جیسے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لئے طے ہوتی تھی۔ اس کے ذریعہ (یعنی ہوا کے ذریعہ) وہ صبح کو ایک ماہ کا سفر (طے کرلیتے تھے اور ان کے ذریعہ شام کو بھی ایک ماہ کا سفر طے کرلیتے تھے یا ہم سے مردے بات کریں جیسے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ان سے باتیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کتاب کو اس لئے نہیں اتارا گیا لیکن ایک چیز تھی میں نے اپنے انبیاء رسولوں کو عطا فرمائی تھی۔ کفار کے بےجا مطالبات : س 9:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مصنف میں وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اگر تو نبی ہے جیسے کہ تو (خود) گمان کرتا ہے تو ان کھردرے اور بلند پہاڑوں کو مکہ سے دور کردے چار دن یا پانچ دنوں کی مسافت پر۔ کیونکہ وہ تنگی کا باعث ہیں یہاں تک کہ وہ ہم سے باتیں کریں۔ اور وہ ہم کو خبر دیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں یا ہم کو سوار کردے شام کی طرف یا حیرہ کی طرف یہاں تک کہ ہم جائیں اور ہم ایک ہی رات میں واپس آجائیں گے جیسے کہ تو نے گمان کیا کہ تو نے بھی (معراج کی رات میں ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال “ نازل فرمائی۔ 10:۔ ابن اسحاق ابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بل للہ الامر جمیعا “ سے مراد ہے کہ وہ اس میں سے کوئی کام نہیں ہوتا مگر جو اللہ تبارک وتعالیٰ چاہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ یہ کسی کا مطالبہ پورا کرے۔ 11:۔ ابوعبید و سعید بن منصور وابن منذر رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” افلم یی اس الذین امنوا “ 12:۔ ابن جریر وابن الانباری نے مصاحف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا آیت ” افلم بیناس الذین امنوا “ ان سے کہا گیا کہ مصحف میں یوں ہے ” افلم یایئس “ تو انہوں نے فرمایا میں کاتب کو گمان کرتا ہوں تو اس نے ( اس حال میں) لکھا کہ وہ اونگھ رہا تھا۔ 13:۔ ابن جریر (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” افلم یباس الذین امنوا “۔ 14:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افلم یایئس “ یعنی وہ جانتا ہے۔ 15:۔ الطستی (رح) نے نافع بن ارزق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” افلم یایئس الذین امنوا “ کے بارے میں فرمایا (آیت ) ” افلم یایئس “ بنومالک کی لغت میں پھر پوچھا گیا عرب کے لوگ اس (معنی) کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو مالک بن عوف کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ لقد یئس الاقوامانی اناابنہ وان کنت عن ارض العشیر ۃ نائبا۔ ترجمہ : بہت ہی قومیں ناامید ہوچکی ہیں (اس کے مقابلے میں) اس لئے کہ میں اس کا بیٹا ہوں چاہے میں اپنے خاندان کی زمین سے دور کیوں نہ ہوں۔ 16:۔ ابن الانباری (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” افلم یایئس الذین امنوا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے (آیت ) ” افلم یایعلم “ ھوازن کی لغت میں اور مالک بن عوف نصری نے شعر کہا : أقول لہم بالشعب اذیسوننی الم تعلموا انی فارس زھدم : ترجمہ : جب وہ میرے مقابلہ سے مایوس ہوگئے تو میں نے گھاٹی میں ان سے کہا تمہیں پتہ نہیں میں فرس کے زھدم کا بیٹا ہوں : 17:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افلم یایئس الذین امنوا “ سے مراد ہے کیا ایمان والوں نے نہیں جانا ؟ 18:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افلم یایئس الذین امنوا “ سے مراد ہے کیا ایمان والوں نے نہیں پہچانا ؟ 19:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افلم یایئس “ کا معنی ” افلم یعلم “ ہے کچھ لوگ اسے ” افلم یتبین “ پڑھتے ہیں، کہ انکو عقل نہیں تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ یہ کرسکتا ہے وہ اس ناامید نہیں ہوتے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو ایسا کردے۔ 20:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افلم یایئس الذین امنوا “ سے مراد ہے کہ تحقیق ایمان والے لوگ اس بات سے ناامید ہوگئے کہ وہ لوگ ہدایت پائیں گے اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو (آیت ) ” لھدی الناس جمیعا “ (سب کو ہدایت عطا فرمادیں) 21:۔ الفریابی وابن جریر وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تصیبہم بما صنعوا قارعۃ “ سے مراد ہے لشکر۔ 22:۔ الطیالسی وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں سعید بن جبیر کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولایزال الذین کفروا تصیبہم بما صنعوا قارعۃ “ سے مراد ہے لشکر ” قارعۃ اوتحل قریبا من دارہم “ (یعنی آپ خود اے محمد ﷺ انکی بستیوں کے قریب جاکر اتریں گے) (آیت ) ” حتی یاتی وعداللہ یعنی (اللہ کا وعدہ) فتح مکہ (کا آجائے) 23:۔ ابن مردویہ رحمۃ اللہ علیہنے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تصیبہم بما صنعوا قارعۃ “ یعنی رسول اللہ ﷺ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ” اوتحل “ یعنی اے محمد ﷺ آپ خود ہی اتریں گے) ” قریبا من دارہم یعنی ان کے گھروں میں کے قریب۔ 24:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابوالشیخ والبیہقی نے دلائل میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” القارعۃ “ سے مراد ہے لشکر (آیت ) ” اوتحل قریبا من دارہم “ یعنی حدیبہ ” حتی یاتی وعداللہ “ یعنی فتح مکہ۔ 25:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولا یزال الذین کفروا “ کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ کے لشکروں کے متعلق مدینہ منورہ میں نازل ہوئی (آیت ) ” اوتحل “ یعنی اے محمد ﷺ آپ خود (ہی اتریں گے) (آیت ) ” قریب من دارہم “ یعنی ان کے گھروں کے قریب “ 26:۔ عبد بن حمید وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ کے راستے سے ابن عباس ؓ سے رویت کیا کہ (آیت) ” تصیبہم بما صنعوا قارعۃ “ یعنی مصیبت یا آفت۔ 27:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے عوفی (رح) کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تصیبہم بما صنعوا قارعۃ “ یعنی عذاب آسمان سے (آیت ) ” اوتحل قریبا من دارھم “ یعنی رسول اللہ ﷺ کا انکے پاس نازل ہونا اور ان سے قتال کرنا۔ 28:۔ ابن جریر (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اوتحل قریبا من دارھم “ یعنی مصیبت نازل ہوگئی ہے انکے گھر کے قریب۔ (آیت ) ” حتی یاتی وعداللہ “ یعنی قیامت کے دن۔ اماقولہ تعالیٰ : ولقد استھزی برسل من قبلک : کسی کی نقل اتارنا گناہ ہے۔ 29:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پیچھے ایک آدمی آپ کی نقل اتار رہا تھا اور آپ کا مذاق اڑا رہا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے جب اس کو دیکھا تو فرمایا اسی طرح تو ہوجا۔ وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹا تو زمین پر گرپڑا اور ایک ماہ بیہوش پڑا رہا۔ پھر جب اس کو افاقہ ہوا تو اسی طرح کی حرکتیں کررہا تھا، جیسے رسول اللہ ﷺ نے اس کو فرمایا تھا۔ 30:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افمن ھو قآئم علی کل نفس بما کسبت “ یعنی جو اس کے نفس نے خود اعمال کئے اس پر وہ نگران ہے۔ 31: عطاء (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افمن ھو قآئم علی کل نفس بما کسبت “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر نفس کا نگران ہے۔ عدل و انصاف کے ساتھ۔ 32:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افمن ھو قآئم علی کل نفس بما کسبت “ سے مراد ہے یہ تمہارا رب تبارک وتعالیٰ ہے جو نگرانی کررہا ہے آدم کی اولاد پر ان کے رزق کی اور ان کی مدت (زندگی) کی۔ 33:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افمن ھو قآئم علی کل نفس بما کسبت “ یعنی اللہ عزوجل ہر جاندار کی نگرانی کررہا ہے۔ آیت ” بما کسبت “ یعنی اس کے رزق پر اور اس کے عمل پر اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ وہ نگرانی کررہا ہے ہر نیک اور برے آدمی کی انکو رزق دیتا ہے اور ان کی نگرانی کرتا ہے پھر مشرک اس کا شریک ٹھہراتا ہے۔ ا سی کو فرمایا (آیت ) ” وجعلوا للہ شرکآء “ یعنی (انسان) کہتا ہے کہ اس کے ساتھ اور معبود بھی ہے ” قل سموھم “ (یعنی فرما دیجئے ان کے نام لو) اور اگر انہوں نے کسی معبود کا نام لیا بھی تو انہوں نے جھوٹ بولا۔ اور انہوں نے اس بارے میں حق کے علاوہ بات کہی کیونکہ اللہ تعالیٰ ایک ہے ان کا کوئی شریک نہیں (آیت ) ” ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض “ یعنی (کیا) اللہ تعالیٰ نہیں جانتے اپنے علاوہ کسی اور خدا کو (آیت ) ” ام بظاہر من القول “ یعنی باطل اور جھوٹی بات کہہ رہے ہو۔ 34:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افمن ھو قآئم علی کل نفس بما کسبت “ یعنی جو اس نے خود کیا ہے اس پر نگران ہے (آیت ) ” قآئم علی کل نفس “ یعنی ہر نیک اور برے (کی نگرانی کرتا ہے) (آیت ) ” بما کسبت “ یعنی ان کے رزق کی ان کے کھانے کی میں اس صفت کے ساتھ ہوں۔ وہ میرے بندے ہیں پھر وہ میرا شریک بنا لیتے ہیں ” قل سموھم “ فرما دیجئے کہ ان کے نام تو لو اگر وہ نام لیتے ہیں تو جھوٹ بولتے کیا اللہ تعالیٰ اپنے علاوہ کسی اور کو معبود نہیں جانتے (آیت ) ” ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض “ جس کے متعلق تم اسے آگاہ کرتے ہو۔ 35:۔ ابوالشیخ (رح) نے ربیعہ جرشی (رح) سے روایت کیا کہ وہ ایک دن لوگوں میں کھڑے تھے (اسی لئے) فرمایا تم لوگ ڈرو اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئے حالات میں اور نہیں لٹکائے جاتے اس پر پردے تم کو کیا ہوا کہ تم سے زیادتی کرتے ہو جو تم میں سے کسی کے پاس سے گزرتا ہے۔ اور اس کی بندیوں میں سے کسی سے شرارت کرتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت ) ” افمن ھو قآئم علی کل نفس بما کسبت “ یعنی وہ حکم فرماتا ہے پس تم احترام رکھو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے مقام کو تم میں سے کوئی اس بات سے امن میں نہیں ہے کہ وہ اس کو مسخ کردے بندر میں یا خنزیر میں خاص کر اس کے گناہوں کی وجہ سے پس وہ رسوائی ہے دنیا میں اور سزا ہے آخرت میں ایک آدمی نے قوم میں سے کہا اور اللہ کی قسم کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ اے ربیعہ ایسا ہوگا قوم نے اس شخص کو دیکھا جو قسم کھانے والا تھا تو وہ عبدالرحمن بن غنم تھا۔ 36:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام بظاہر من القول “ یعنی گمان کے ساتھ (آیت) ” بل زین للذین کفروا مکرھم “ میں ” مکرھم “ سے مراد ہے ” قولہم “ (یعنی ان کی بات) 37:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام بظاہر من القول “ یعنی ظاہر میں القول سے مراد ہے باطل۔
Ayah 13:35

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

متقیوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان کے پھل اور ان کا سایہ دائمی ہوگا یہ انجام ہے، (ان) لوگوں کا جنہوں نے تقوی اختیار کیا، اور کافروں کا انجام دوزخ ہے

جنت کی نعمت دائمی ہوگی : 1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثل الجنۃ “ سے مراد ہے جنت کی صفت اور جنت کی کوئی مثال نہیں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اکلھا دآئم “ سے مراد ہے کہ اس کے پھلوں کی لذت ہمیشہ ہوگی ان کے مونہوں میں۔ 3:۔ ابن منذر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے خارجہ بن مصعب (رح) سے روایت کیا کہ جھیمہ فرقہ نے قرآن کی آیات کا انکار کیا انہوں نے کہا کہ جنت ختم ہوجائے گی۔ اور جس شخص نے کہا کہ ختم ہوجائے گی اس نے قرآن کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ان ھذا لرزقنا مالہ من نفاذ (54) “ (ص آیت : 54) (یعنی یہ ہمارا رزق ایسا ہے جو ختم نہیں ہوگا ہمیشہ جنتی لوگوں کو ملے گا) اور فرمایا (آیت) ” لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ (33) (الواقعہ آیت 33) (یعنی جنت کی نعمتیں نہ ختم ہوں گی اور نہ منع ہوں گی) جس نے کہا کہ وہ ختم ہوجائیں گی تو اس نے کفر کیا اور عطا نے فرمایا (آیت) ” غیر مجذوذ “ (یعنی نہ ختم ہونے والی) اب جو شخص یہ کہے کہ ہو ختم ہوجائے گی، تو اس نے کفر کیا اور فرمایا (آیت) ” اکلھادآئم وظلھا “ (یعنی اس کا کھانا ہمیشہ ہوگا اور اس کا سایہ بھی) اب جو شخص یہ کہے کہ وہ ہمیشہ نہیں ہوگا تو اس نے کفر کیا۔ 4:۔ ابن منذر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے مالک بن انس ؓ سے روایت کیا کہ دنیا کے پھلوں میں سے کوئی چیز زیادہ مشابہ نہیں ہے جنت کے پھلوں سے اس لئے کہ تو اس کا نہیں طلب کرے گا گرمی میں اور نہ سردی میں مگر اس کو پائے (یعنی) جنت کا پھل دائمی ہے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” اکلھا دآئم “
Ayahs 13:36–40

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ اس کی وجہ سے خوش ہوتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا، اور گروہوں میں بعض ایسے ہیں جو اس کے بعض حصے کا انکار کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے مجھے تو بس یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ کی عبادت کروں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراوں، میں اس کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس کو اس طور پر نازل کیا کہ عربی زبان میں خاص حکم ہے، اور اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آگیا اگر آپ نے انکی خواہش کا اتباع کیا تو کوئی ایسا نہیں جو اللہ کے مقابلہ میں آپ کی مدد کرنے والا ار بچانے والا ہو

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیویاں دیں اور ذریت بھی اور کسی رسول کو یہ قدرت حاصل نہیں ہوئی کہ کوئی آیت لے کر آئے الا یہ کہ اللہ کا حکم ہو، ہر زمانہ کے لئے لکھے ہوئے احکام ہیں

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ مٹاتا ہے جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے جو چاہتا ہے اور اس کے پاس اصل کتاب ہے

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر ہم آپ کو بعض وہ و عدے دکھا دیں جو اللہ ہم ان کررہے ہیں یا ہم آپ کو اٹھالیں آپ کے ذمہ پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اتینہم الکتب یفرحون انزل الیک “ سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کے ساتھ خوش ہوئے اور ان کی تصدیق بھی کی۔ (آیت ) ” ومن الاحزاب من ینکر بعضہ “ یعنی یہود نصاری اور مجوس (جو انکار کرنے والے ہیں ) 2:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اتینہم الکتب یفرحون انزل الیک “ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اہل کتاب میں سے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور وہ اس سے خوش ہوئے ہیں اور (یہ آیت) ” ومن الاحزاب “ سے یہود نصاری اور مجوس کی امتیں مراد ہیں۔ ان میں سے بعض ایمان لے آئے اور ان میں سے بعض نے اس کا انکار کردیا۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن الاحزاب “ یعنی اہل کتاب میں سے بعض لوگ (آیت) ” من ینکربعضہ “ یعنی قرآن کے بعض حصے کا ( انہوں نے انکار کردیا ) 4:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” والیہ ماب “ یعنی ہر بندہ اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ 5:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مالک من اللہ من ولی ولا واق “ یعنی تم کو کوئی بچانے والا نہیں اللہ کے عذاب سے۔ 6:۔ ابن ماجہ وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ کے راستہ سے حسن اور سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ الگ تھلگ رہنے (یعنی شادی نہ کرنے سے) منع فرمایا پھر قتادہ ؓ عنہنے (یہ آیت) ” والقد ارسلنا رسلا من قبلک وجعلنا لہم ازواجا وذریۃ “ پڑھی۔ 7:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہما اللہ نے سور بن ہشام (رح) نے فرمایا کہ میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں الگ تھلگ رہوں یعنی شادی نہ کروں) حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ایسا مت کر کیا تو اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا (آیت) ” ولقد ارسلنا رسلا من قبلک وجعلنا لھم ازواجا وذریۃ “۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والترمذی نے ابوایوب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چارچیزیں ہیں رسولوں کے طریقوں میں سے عطر لگانا نکاح کرنا مسواک کرنا اور ختنہ کرنا۔ 9:۔ عبدالرزاق (رح) نے اپنی کتاب المصنف میں فرمایا کہ ختنہ کرنا مسواک کرنا عطر لگانا اور نکاح کرنا میرے طریقہ میں سے ہے (یعنی رسول اللہ ﷺ کے طریقہ میں سے ہے ) 10:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکل اجل کتاب “ سے مراد ہے کہ ہر کتاب جو آسمان سے نازل ہوئی ہے۔ اس کی ایک مدت ہوتی ہے پھر اللہ تعالیٰ اس میں سے جو چاہتے ہیں مٹا دیتے ہیں (اور) جو چاہتے ہیں باقی رکھتے ہیں اسی کو فرمایا (آیت) ” ویثبت وعندہ ام الکتب “ 11:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت ) ” وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ “ نازل ہوئی تو قریش نے کہا اے محمد ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں تمام معاملے سے فراغت ہوچکی تو یہ آیت (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ نازل ہوئی ان کو ڈرانے کے لئے اور دھمکانے کے لئے (مطلب یہ ہے) اگر ہم چاہیں تو نیا حکم دے دیں۔ اور اللہ تعالیٰ نیا حکم طے فرماتے ہیں ہر رمضان میں اور اللہ تعالیٰ مٹا دیتے ہیں جو چاہتے ” ویثبت “ اور جو چاہتا ہے ثابت کرتا ہے لوگوں کے ارزاق میں سے ان کے مصائب میں سے اور جو کچھ ان کو عطا کرنا ہے اور جو ان میں تقسیم کرنا ہے۔ 12:۔ عبدالرزاق والفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نزول فرماتے ہیں ہر رمضان کے مہینہ میں آسمان دنیا کی طرف تدبیر فرماتے ہیں ایک سال سے دوسرے سال کے کاموں کی لیلۃ القدر میں سو مٹا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں اور ثابت رکھتے ہیں (جو چاہتے ہیں) بدبختی، نیک بختی، زندگی اور موت کے علاوہ۔ 13:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء “ سے مراد آدمی ہے جو ایک زمانے تک اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کرتا ہے پھر وہ اللہ کی نافرمانی کی طرف لوٹ آتا ہے اور گمراہی پر مرجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے۔ اور جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور دوسرا آدمی جو اللہ کی نافرمانی کے ساتھ عمل کرتا ہے اور اس کے لئے خیر آگے بڑھ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس حال میں مرتا ہے کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اطاعت میں ہوتا ہے۔ 14:۔ ابن جریر ومحمد بن نصر وابن منذر وابن ابی حاتم والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ سے مراد ہے کہ دو کتابیں ہیں ایک میں سے اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں مٹا دیتے ہیں اور (جو چاہتے ہیں) ثابت رکھتے ہیں۔ (آیت ) ” وعندہ ام الکتب “ یعنی پوری کتاب اس کے پاس ہے۔ 15:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ایک لوح محفوظ ہے جو سفید موتی کی ہے اور پانچ سال کے چلنے کا راستہ ہے۔ اس کی یاقوت کے دو گتے اللہ کی دو تختیاں ہیں ہر دن تریسٹھ جو چاہتے ہیں ان سے مٹا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں باقی رکھتے ہیں اسی کو فرمایا (آیت) ” ویثبت وعندہ ام الکتب “ اور اس کے پاس اصل کتاب ہے۔ 16:۔ ابن جریر وابن وابی حاتم وابن مردویہ والطبرانی رحمہم اللہ نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نزول فرماتے ہیں ہر رات کی آخری تین گھڑیوں میں (اپنی شان کے لائق) پہلی گھڑی میں ذکر چھپا دیتے ہیں اور اس ذکر کو دیکھتے ہیں کہ جس میں ان کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں دیکھتا پس مٹا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں اور ثابت رکھتے ہیں (جو چاہتے ہیں) پھر دوسری گھڑی میں وہ جنت عدن کی طرف نزول فرماتے ہیں اور یہ ایسا گھر ہے جس کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور کسی آدمی کے دل پر اس کا خیال نہیں گزرا آدم کی اولاد میں سے تین طبقوں کے علاوہ کوئی وہاں نہیں ٹھہرے گا یعنی انبیاء صدیقین اور شہداء پھر فرماتے ہیں خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو تجھ میں اترا پھر تیسری گھڑی میں آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں اپنی روح اور اپنے فرشتوں کے ساتھ آسمان کانپنے لگتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ٹھہر جا میری عزت کی وجہ سے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کیا ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ میں اس کی مغفرت کردوں ہے کوئی مجھے پکارنے والا کہ میں اس کی پکار کو قبول کروں یہاں تک کہ صبح کی نماز ادا ہوجاتی ہے۔ اسی کو فرمایا (آیت ) ” ان قرآن الفجر کان مشہودا، پھر فرماتے ہیں کہ (اس وقت میں) اللہ تعالیٰ اور رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں (اپنی شان کے لائق) 17:۔ الطبرانی نے الاوسط میں وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ایک ضعیف سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے مٹا تا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے نیک بختی زندگی اور موت کے علاوہ۔ 18:۔ ابن سعد ابن جریر وابن مردویہ رحمہم اللہ نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ (اللہ تعالیٰ ) مٹا دیتے ہیں (یعنی گھٹا دیتے ہیں) رزق میں سے اور اس میں زیادہ بھی کردیتے ہیں اور مٹا دیتے ہیں (یعنی کم کردیتے ہیں) عمر میں سے اور اس میں سے بھی فرمادیتے ہیں ان سے پوچھا گیا یہ بات آپ کو کس نے بیان کی تو انہوں نے فرمایا ابوصالح نے روایت کیا جابر بن عبداللہ بن رباب انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے۔ 19:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ معاملہ لیلۃ القدر میں ہوتا ہے اور اونچا کردیتے ہیں (جس کو چاہتے ہیں) اور گرادیتے ہیں (جس کو چاہتے ہیں) اور رزق دیتے ہیں سوائے زندگی اور موت کے اور بدبختی اور سخاوت مندی سے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ 20:۔ ابن مردویہ وابن عساکر رحمہما اللہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا میں ٹھنڈا کروں گا تیری آنکھوں کو اس کی تفسیر کے ساتھ اور تو ٹھنڈا کرنا میری امت کی آنکھوں کو اس کی تفسیر سے میرے بعد۔ صدقہ کرنا صحیح جگہ پر والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اور بھلائی کا کام کرنا (تو یہ کام بدل دیتے ہیں بدبختی کو نیک بختی سے اور زیادہ کردیتے ہیں عمر میں، اور بری جگہ مرنے سے بچاتے ہیں۔ 21:۔ حاکم (رح) نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بچاؤ تقدیر میں نفع نہیں دیتا لیکن اللہ تعالیٰ مٹا دیتے ہیں اس میں سے جو چاہیں۔ 22:۔ ابن جریر (رح) نے قیس بن عباد (رح) سے روایت کیا کہ دسواں دن رجب میں سے یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ مٹادیتے ہیں اس میں سے جو چاہتے ہیں۔ 23:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی رحمہم اللہ نے الشعب میں قیس بن عباس (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا امر ہوتا ہے۔ ہر دسویں رات میں عزت والے مہینوں میں سے لیکن دسواں دن اضحی میں سے تو یہ دن قربانی کا ہے۔ اور محرم میں سے دسواں دن تو یہ دن عاشوراء کا ہے اور رجب میں سے دسواں دن تو اس میں (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ (اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں مٹاتے ہیں اور جو چاہتے ہیں باقی رکھتے ہیں راوی کہتے ہیں کہ ذی القعد کے بارے میں جو فرمایا وہ بھی بھول گیا۔ ہدایت و گمراہی اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔ 24:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن منذر رحمہم الہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ وہ بیت اللہ کا کررہے تھے اے اللہ اگر تو نے میرے اوپر بدبختی یا گناہ کو لکھ دیا ہے تو اس کو مٹادے بلاشبہ آپ جو چاہتے ہیں مٹاتے ہیں اور جو چاہتے ہیں برقرار رکھتے ہیں اور اصل کتاب آپ کے پاس ہے پس اس کو نیک بختی اور مغفرت والا بنا دے۔ 25:۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن ابی الدنیا نے دعاء میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان دعاوں کے ساتھ جو بندہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کی روزی میں وسعت فرما دیتے ہیں (وہ دعا یہ ہے) یاذالمن ولا یمن علیہ یا ذالجلال والاکرام یاذالطول لا الہ الا انت ظھر اللاجین وجار المستجیرین وما من الخائفین ان کنت کتبتنی عندک فی ام الکتب شقیا فامح عنی اسم الشقاء واثبتنی عندک سعید وان کنت کتبتنی عندک فی ام الکتب محروما مقترا علی رزقی فافح حرمانی ویسررزقی واتبنی عندک سعیدا موفقا للخیر فانک تقول فی کتابک الذی انزلت یمحواللہ ما یشآء ویثبت وعندہ ام الکتب۔ ترجمہ : اے احسان کرنے و الا کہ جس پر کوئی احسان نہیں کیا جاتا اے بزرگی اور بخشش والے اے طاقت والے تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے پناہ طلب کرنے والوں کے سہارے اے بےسہاروں اے خوف زدہ لوگوں کی امن گاہ اگر تو نے اپنے پاس اصل کتاب میں مجھے بدبخت لکھ دیا ہے تو اس کو مجھ سے بدبختوں کے نام سے مٹا دے اور مجھے اپنے پاس اصل کتاب میں محروم اور مجھ پر تنگی کا رزق لکھ دیا ہے تو میرے محروم ہونے کو مٹا دے اور میرے رزق کو آسان کردے اور اپنے پاس سے مجھے نیک بخت اور خیر کی توفیق دیا ہوا لکھ دے کیونکہ تو نے اپنے کتاب میں فرمایا ہے جو آپ نے نازل فرمائی ہے (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت وعندہ ام الکتب “ کہ اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔ 26:۔ ابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں سائب بن ملجان جو اہل شام میں سے تھے اور انہوں نے صحابہ کو پایا (گویا تابعین میں سے تھے) ان سے روایت کیا جب حضرت عمر ؓ شام میں داخل ہوئے۔ تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان فرمائی پھر وعظ نصیحت فرمائی نیک کام کا حکم فرمایا اور برائی سے روکا پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کھڑے ہوئے جیسے میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں پھر آپ نے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا صلہ رحمی کرنے کا اور آپس میں جھگڑے کی صلح کرنے کا حکم فرمایا اور فرمایا جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور اکیلے شخص کے ساتھ شیطان ہے اور وہ دو سے زیادہ دور ہے کوئی آدمی کسی (اجنبی) عورت سے علیحدگی میں ہوتا ہے تو شیطان اس کا تیسرا ہوتا ہے اور جس آدمی کو اس کی برائی بری لگے اور جس کو اس کی نیکی خوش لگے تو یہ مسلمان مومن کی نشانی ہے اور منافق کی نشانی یہ ہے کہ اس کو اس کی برائی بری نہ لگتی اور نہ اس کو نیکی خوش لگتی ہے اگر کوئی خیر کا عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس بارے میں ثواب کی امید نہیں رکھتا اور اگر کوئی برا عمل کرے تو اللہ تعالیٰ سے اس بارے میں کسی سزا سے نہیں ڈرتا اور دنیا کی طلب عمدہ طریقے سے کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کفیل ہیں اور تمہارے رزقوں کے اوپر ایک کے لئے اس کا عمل مکمل ہوگا جو وہ عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ سے اپنے اعمال پر مدد طلب کرو کیونکہ وہ مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے اور باقی رکھتا ہے جو چاہتا ہے اور اس کے پاس اصلی کتاب ہے صلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ و (علیہ السلام) ورحمۃ اللہ السلام علیکم بیہقی نے فرمایا کہ یہ عمر بن خطاب ؓ شام والوں کو خطاب فرمایا تھا اور انہوں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا تھا۔ ابورومی ؓ کی توبہ کا واقعہ : 27:۔ ابن مردویہ والدیلمی رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو رومی اپنے زمانہ کے شریر لوگوں میں سے تھا اور حرام کاموں میں سے کسی کو نہ چھوڑتا تھا مگر یہ اس کا ارتکاب کرلیتا تھا۔ اور نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے اگر میں ابورومی کو دیکھ لوں مدینہ کی بعض گلیوں میں تو میں ضرور اس کی گردن اڑا دوں گا۔ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی کے پاس مہمان آیا اور اس نے اپنی بیوی سے کہا ابورومی کے پاس جا اور اس سے ہمارے لئے ایک درہم کا کھانا لے کر آ اللہ تعالیٰ آسانی اور خوشحالی پیدا فرمائے گا تو اس کا درہم دے دیں گے اس عورت نے اس صحابی سے کہا کہ تو مجھے بھیج رہا ہے ابورومی کی طرف اور وہ مدینہ والوں میں سے سب سے زیادہ بدکار ہے اس نے کہا تو چلی جا تجھے اس سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ان شآء اللہ تعالیٰ وہ عورت اس کی طرف گئی اور اس نے ابورومی کا دروازہ کھٹکھٹایا اس نے کہا کون ہے ؟ عورت نے کہا میں فلانی ہوں اس نے کہا تو تو ہمارے پاس نہیں آئی تھی۔ اس کے لئے دروازہ کھول دیا اور اس عورت سے فحش کلامی شروع کردی اور اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اس عورت کو شدید کپکپی لگ گئی اس نے اس عورت سے کہا تجھے کیا ہوا اس نے کہا کہ یہ عمل میں کبھی نہیں کروں گی ابورومی نے اپنے آپ سے کہا اب رومی تجھ پر تیری ماں روئے تو نے یہ عمل بچپن سے شروع کیا ہے اور کبھی کپکپی طاری نہیں ہوئی۔ اور نہ میں نے کبھی پرواہ کی (لیکن اب) ابورومی پر اللہ تعالیٰ کا عہد ہے (یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے عہد کرتا ہے کہ وہ نہیں لوٹے گا اس برے کام کی طرف کبھی جب صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ کے پاس صبح سویرے آیا آپ نے فرمایا مرحبا اے ابو رومی اور اس کے لیے کشادہ جگہ بنائی اور اس سے فرمایا اے ابو رومی تو نے گزشہ رات کو کیا کام کیا تھا اس نے کہا اے اللہ کے نبی میں ایسا کوئی نیک کام کرسکتا تھا میں زمین والوں میں سے سب سے زیادہ برا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرا ٹھکانہ جنت کی طرف لوٹا دیا ہے اور فرمایا (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “۔ 28:۔ یعقوب بن سفیان و ابونعیم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابورومی اپنے زمانہ کے رہنے والے (سب سے) شریر لوگوں میں سے تھا حرام کردہ کاموں میں سے کسی چیز کو نہیں چھوڑتا تھا مگر اس کا ارتکاب کرتا تھا جب صبح کو نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو نبی کریم ﷺ نے اس کو دور سے دیکھ کر فرمایا خوش آمدید ہو اے رومی اور اس کے لئے کشادہ جگہ بنائی اور فرمایا اے ابو رومی۔ تو نے گزشتہ رات کیا عمل کیا ؟ اس نے کہا اے اللہ کے نبی قریب ہے کہ میں اب برے کام نہیں کروں گا۔ میں زمین والوں میں سب سے زیادہ برا تھا نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے لکھے ہوئے کو جنت کی طرف پلٹ دیا ہے اور فرمایا (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت۔ ، وعندہ ام الکتب “ اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹا دے : 29:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پورے سال میں ہونے والی ہر چیز کو نازل فرماتے ہیں لیلۃ القدر میں اور مٹادیتے ہیں جو چاہتے ہیں عمر میں سے رزقوں میں سے اور تقدیروں میں سے مگر بدبختی اور نیک بختی کو (نہیں مٹاتے) کیونکہ یہ دونوں باقی رہتی ہیں۔ 30:۔ ابن جریر (رح) نے منصور (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مجاہد (رح) سے پوچھا کہ مجھے بتائیے کہ ہم میں سے اس کو نیک بختوں میں کردے۔ حسن نے فرمایا پھر سال یا اس سے زائد عرصہ کے بعد میری ملاقات مجاہد سے ہوئی تو میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا (آیت) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ انا کنا منذرین (3) فیھا یفرق کل امر حکیم (4) ۔ (دخان آیت 4) یعنی لیلۃ القدر میں سال کے اندر جو رزق اور مصیبت ملنی ہوتی ہے وہ نازل فرماتے ہیں پھر آگے کردیتے ہیں جو چاہتے ہیں اور پیچھے کردیتے ہیں جو چاہتے ہیں لیکن بدبختی اور نیک بختی کی کتاب میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی باقی رہتا ہے اس کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔ 31:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے مجاہد رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ کے بارے میں فرمایا اگر زندگی اور موت بدبختی اور نیک بختی ان میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ 32:۔ ابن جریر (رح) نے شقیق بن ابی وائیل (رح) سے روایت کیا کہ اکثر ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے ’ ’ اللہم ان کنت کتبنا شقیاء فامسحنا “ اے اللہ اگر تو نے ہم کو بدبختوں میں لکھ دیا ہے تو ہم کو ” واکتبنا سعداء وان کنت کتبنا “ ان سے مٹا دے اور ہم کو نیک بختوں میں سے دو ” سعداء فاثبتنا فانک تمحوا ماتشاء “ اور اگر تو نے ہم کو نیک بختوں میں لکھ دیا ہے ہم کو (ان میں) ” ویثبت وعندک ام الکتاب “ برقرار رکھ کیونکہ تو مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے اور باقی رکھتا ہے (جو چاہتا ہے) اور آپ کے پاس اصل کتاب ہے۔ 33:۔ ابن جریر وابن منذر والطبرانی رحمہم اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ فرمایا کرتے تھے اے اللہ اگر تو نے مجھے نیک بختوں میں لکھ دیا ہے تو مجھے باقی رکھ نیک بختوں میں اور اگر تو نے مجھے بدبختوں میں لکھ دیا ہے تو مجھے بدبختوں میں سے مٹادے اور مجھے نیک بختوں میں رکھ دے۔ کیونکہ آپ جو چاہتے ہیں مٹادیتے ہیں (جو چاہتے ہیں) باقی رکھتے ہیں اور آپ کے پاس اصل کتاب ہے۔ 34:۔ ابن جریر (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عمر ؓ سے عرض کیا اے امیر المومینن ! اگر ایک آیت اللہ کی کتاب میں نہ ہوتی تو البتہ میں آپ کو خبر دیتا ہوں جو کچھ ہونے والا ہے قیامت کے دن تک عمر نے فرمایا وہ (آیت) ” کیا ہے عرض کیا اللہ کا یہ قول (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت وعندہ ام الکتب “ 35:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا جو تو چاہے مٹا دے۔ اور عمدوں میں جو چاہے زیادتی کر دے اور اگر چاہے تو اس میں کمی کردے (آیت) ” وعندہ ام الکتب “ یعنی اس کے پاس اصل کتاب ہے جو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ 36:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے المدخل میں ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ یعنی اللہ تعالیٰ تبدیل کردیتے ہیں جو چاہتے ہیں قرآن میں سے اور اس کو منسوخ کردیتے ہیں اور باقی رکھتے ہیں جو چاہتے ہیں اور اس کو تبدیل تبدیل نہیں فرماتے (آیت ) ” وعندہ ام الکتب “ یعنی یہ سب کچھ ان کے پاس ہے ناسخ اور منسوخ میں سے اصل کتاب میں جو کچھ وہ تبدیل کرتے ہیں اور جو کچھ وہ باقی رکھتے ہیں یہ سب کچھ اللہ کی کتاب میں ہے۔ 37:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اس قول کی طرح ہے یعنی (آیت ) ” ماننسخ من آیۃ اور ننسھا نات بخیر منھا او مثلھا “ (البقرہ آیت 106) اور فرمایا (آیت) ” وعندہ ام الکتب “ یعنی ساری کتاب اور اس کی اصل اس کے پاس ہے۔ 38:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء “ یعنی ان (احکام) میں سے جو انبیاء پر نازل ہوتے ہیں اس میں سے جو چاہتے ہیں مٹاتے ہیں (آیت) ” یثبت “ اور جو چاہتے ہیں باقی رکھتے ہیں جو انبیاء پر نازل فرماتے ہیں (آیت ) ” عندہ ام الکتب “ اس کے پاس اصل کتاب ہے تبدیل ہوتی ہے۔ اور نہ بدلی جاتی ہے۔ 39:۔ ابن جریر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء “ کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں منسوخ کردیتے ہیں (آیت ) ” وعندہ ام الکتب “ اور ام الکتاب ‘ سے مراد ہے ذکر۔ 40:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک آیت کو بدلے دوسری آیت کے مٹا دیتے ہیں (آیت) ” وعندہ ام الکتب “ یعنی اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔ 41:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لکل اجل کتاب “ کے بارے میں فرمایا کہ آدم کی اولاد کی عمریں کتاب میں ہے (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء “ یعنی جس کو موت کا وقت آجاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ مٹا دیتا ہے۔” ویثبت “ یعنی جس کی موت کا وقت نہیں آیا ہوتا اسے اپنے وقت تک باقی رکھتا ہے۔ 42:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ” یمحواللہ “ (یعنی اللہ تعالیٰ مٹا دیتے ہیں) میت کے رزق کو ” ویثبت “ یعنی اس زندہ مخلوق کے رزق کو باقی رکھتے ہیں۔ 43:۔ ابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ثابت قدم کرتا ہے ماں کے پیٹ میں بدبختی اور نیک بختی کو اور ہر وہ چیز جو ہونے والی ہے پس آگے کرتے ہیں اس میں جو چاہتے ہیں اور پیچھے کردیتے ہیں جو چاہتے ہیں۔ 44:۔ الحاکم (رح) نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا (آیت) ” یمحواللہ ما یشآء ویثبت “ کو تخفیف کے ساتھ۔ 45:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وعندہ ام الکتب “ سے مراد ہے ذکر۔ 46:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وعندہ ام الکتب “ سے مراد ہے ذکر۔ 47:۔ عبدالرزاق وابن جریر رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کعب سے سوال کیا ام الکتاب کے بارے میں تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا ان چیزوں کے بارے میں علم ہے جس کو اس نے پیدا کرنا تھا اور جو انہوں نے کام کرنے تھے اور اپنے علم سے فرمایا کتاب بن جا تو وہ کتاب بن گئی۔ 48:۔ سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وعندہ ام الکتب “ کے بارے میں فرمایا اور ان کے پاس وہ کتاب جو تبدیل نہیں ہوئی۔
Ayahs 13:41–42

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے اطراف سے کم کرتے چلے آرہے ہیں اور اللہ حکم فرماتا ہے اس کے حکم کو کوئی ہٹانے والا نہیں، اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے مکر کیا سو اللہ ہی کے لئے ہے اصل تدبیر جو بھی کوئی شخص عمل کرتا ہے وہ اسے جانتا ہے، اور کافر عنقریب جان لیں گے کہ بعد میں آنے والے گھر کا انجام کس کے لئے ہے

علماء کی موت اجل دنیا کے لئے نقصان دہ ہے : 1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ننقصھا من اطرافھا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے علماء کا (اس دنیا سے) چلے جانا۔ 2:۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ ونعیم بن حماد نے الفتن میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ننقصھا من اطرافھا “ سے مراد ہے ان کے علماء کی موت ان کے فقہا کی موت اور ان کے نیک لوگوں کا (اس دنیا) سے چلے جانا۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ننقصھا من اطرافھا “ سے مراد ہے علماء کی موت۔ 4:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول (آیت ) ” اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا “ کے بارے میں فرمایا کہ عکرمہ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اس سے مراد ہے لوگوں کا (اس دنیا سے) چلے جانا اور حسن فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے مسلمانوں کا غالب آنا مشرکین پر۔ 5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا “ سے مراد ہے کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم محمد ﷺ کو فتح دے رہے ہیں ایک زمین کے بعد دوسری زمین کی۔ 6:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا “ یعنی اس سے مراد وہ زمین ہے جو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو فتح عطا فرمائی اور یہ اس کا نقصان ہے۔ 7:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کے نبی ﷺ کے لئے اردگرد کا علاقہ کم ہورہا ہے اور وہ مشرک لوگ اس کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ نے سورة انبیاء میں فرمایا (آیت ) ” ننقصھا من اطرافھا افھم الغلبون (44) ۔ (الانبیاء آیت 44) فرمایا بلکہ اللہ کے نبی ﷺ آپ کے اصحاب وہی غلبہ پا رہے ہیں۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذررحمہما اللہ نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کم کرتے جارہے ہیں (زمین کو) مشرکین سے مسلمانوں کو (یعنی قبضہ کرتے جارہے ہیں) 9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ننقصھا من اطرافھا “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم آپ کو فتح عطا فرما رہے ہیں اس کی اطراف پر۔ مسلمانوں کی فتح و کامرانی : 10:۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا “ سے مراد ہے انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم محمد ﷺ کے لئے زمین کو بعد زمین کے فتح کررہے ہیں۔ 11:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ننقصھا من اطرافھا “ سے مراد ہے کہ یہ نقصان ہے کہ ہم اس زمین پر رہنے والوں اور اس کی برکت کو کم کررہے ہیں۔ 12:۔ ابن منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ہم کم کررہے ہیں جانوں کو اور پھلوں کو لیکن زمین وہ کم نہیں ہوتی۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اگر زمین کم ہوجاتی تو تجھ پر تیری گھاس بھی کم ہوجاتی لیکن (اس سے مراد ہے) کہ جانیں اور پھل کم ہوجاتے ہیں۔ 14:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد موت ہے اگر زمین کم ہوجاتی تو کئی جگہ تو نہ پاتا کہ اس میں تو بیٹھ جائے۔ 15:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا “ سے مراد ہے کیا نہوں نے نہیں دیکھا اس بستی کی طرف جو برباد ہوگئی یہاں تک کہ اس کی آبادی اور اس کے ایک گوشہ میں رہ گئی۔ 16:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ننقصھا من اطرافھا “ سے مراد ہے کہ اس بستی کے ایک گوشہ کا ویران ہونا۔ 17:۔ سعید بن منصور وابن منذر رحمہا اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ننقصھا من اطرافھا “ سے مراد ہے کہ اس بستی کے ایک گوشہ کا ویران ہونا۔ 18:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واللہ یحکم لا معقب لحکمہ “ سے مراد ہے کہ کوئی ایسا نہیں جو اس کے حکم کو ردوبدل کردے اور اس کو ردکردے جس طرح لوگ دنیا میں ایک دوسرے کے حکم کو بدل دیتے ہیں اور اس کو رد کردیتے ہیں۔ اما قولہ تعالیٰ : فللہ المکر جمعیا : 19:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے۔ رب اعنی ولا تعن علی وانصرنی ولا ننصرعلی وام کرلی ولا تمکر علی واھدنی ویسر الھدی الی وانصرنی علی من بغی علی۔ ترجمہ : اے میرے رب میری مدد فرمائیے اور میرے خلاف مدد نہ فرمائیے اور مجھے نصرت عطا فرما اور میرے خلاف نصرت نہ فرما اور میرے لئے تدبیر فرما اور میرے خلاف تدبیر نہ بنا اور مجھ کو ہدایت دیجئے اور میری طرف ہدایت کو آسان فرما دیجئے اور میری مدد فرما اس شخص کے مقابلہ میں جو مجھ پر بغاوت کرے۔
Ayah 13:43

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا انہوں نے کہا کہ تم پیغمبر نہیں ہو۔ آپ فرما دیجئے کہ میرے درمیان گواہ ہونے کے لئے اللہ کافی ہے اور یہ لوگ کافی ہیں جن کے پاس کتاب کا علم ہے

آیت کا شان نزول : 1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عیسائیوں کا مجتہدیمن سے آیا اس سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے مجھے انجیل میں رسول ہونے کا (لکھا ہوا) پایا ہے۔ اس نے کہا نہیں (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ ( آیت) قل کفی باللہ شھیدا بینی وبینکم ومن عندہ علم الکتب “ نازل فرمائی اور (آیت ) ” ومن عندہ علم الکتب “ سے مراد ہے عبداللہ بن سلام ؓ ہیں۔ 2:۔ ابن جریر وابن مرودیہ رحمہما اللہ نے عبدالمالک وابن عمیر کے راستہ سے محمد بن یوسف بن عبداللہ بن سلام (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ میرے بارے میں قرآن میں نازل فرمایا ( آیت ) ” قل کفی باللہ شھیدا بینی وبینکم ومن عندہ علم الکتب “ (آپ فرما دیجئے میری رسالت پر) اللہ کی گواہی کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان اور وہ لوگ گواہی کے لئے کافی ہیں جن کے پاس کتاب کا علم ہے) 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبدالمالک بن عمیر کے راستہ سے جندب ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن سلام ؓ تشریف لائے یہاں تک کہ مسجد کے دروازے کے کواڑ کو پکڑ کر کھڑے ہوگئے پھر فرمایا میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ میں وہ ہوں کہ جس کے بارے میں یہ ( آیت ) ” ومن عندہ علم الکتب “ نازل ہوئی سب نے کہاں ہاں۔ 4:۔ ابن مردویہ نے عبدالرحمن بن زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے وہ عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں سے ملے جنہوں نے عثمان ؓ کے قتل کا ارادہ کیا ہم نے ان کو اللہ کی قسم دی تم جانتے ہو کس کے بارے میں یہ ( آیت ) ” قل کفی باللہ شھیدا بینی وبینکم ومن عندہ علم الکتب “ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا آپ کے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی۔ 5:۔ وابن سعد وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے ( آیت ) ” ومن عندہ علم الکتب “ اور فرمایا کہ اس سے مراد عبداللہ بن سلام ؓ ہیں۔ 6:۔ ابن جریر (رح) نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ( آیت ) ” ومن عندہ علم الکتب “ سے یہود و نصاری میں سے اہل کتاب مراد ہیں۔ 7:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو گواہی دیتے تھے حق کے ساتھ اور حق کو پہنچاتے بھی تھے ان میں سے عبداللہ بن سلام ؓ جارود، تمیم داری اور سلمان فارسی ؓ تھے۔ 8:۔ ابویعلی ابن جریر وابن مردویہ وابن عدی نے ایک ضعیف سند سے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یوں پڑھا ( آیت ) ” ومن عندہ علم الکتب “ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کتاب کا علم۔ 9:۔ تمام اہم فوائد میں وابن مردویہ (رح) نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ( آیت ) ” ومن عندہ علم الکتب “ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کتاب کا علم۔ 10:۔ ابوعبیدہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ یہ آیت پڑھتے تھے۔ ( آیت ) ” ومن عندہ علم الکتب “ اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کتاب کا علم۔ 11:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ( آیت ) ” ومن عندہ علم الکتب “ کے بارے پوچھا گیا کہ یہ عبداللہ بن سلام ؓ کے بارے میں ہے ؟ انہوں نے فرمایا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ سورة تو مکی ہے۔ 12:۔ ابن منذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن کی کوئی آیت عبداللہ بن سلام ؓ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی۔ 13:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ( آیت ) ” ومن عندہ علم الکتب “ سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ 14:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت ) ” ومن عندہ علم الکتب “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد اللہ عزوجل ہیں۔ 15:۔ عبدالرزاق وابن منذر رحمہما اللہ نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں سخت تھے مسلمان ہونے پہلے ایک دن چلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوگئے اور آپ نماز پڑھ رہے تھے عمر نے سنا کہ آپ پڑھ رہے تھے (آیت ) ” وما کنت تتلو من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک اذا الارتاب المبطلون (48) “ (العنکبوت آیت 48) یہاں تک کہ پہنچے ” الا الظلمون (49) “ اور ان کو سنا کر آپ پڑھ رہے تھے (آیت) ” الذین کفروا لست مرسلا “ سے لے کر ” علم الکتب “ تک حضرت عمر ؓ انتظار کرنے لگے یہاں تک کہ آپ نے سلام پھیرا (یعنی نماز سے فارغ ہوگئے) تو حضرت عمر ؓ فورا خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہوگئے۔ الحمد اللہ سورة رعد کے ساتھ چوتھی جلد ختم ہوئی :