13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جو تمہیں بجلی دکھاتا ہے جس سے تمہیں ڈر لگتا ہے اور امید بندھتی ہے اور وہ بھاری بادلوں کو پیدا فرماتا ہے

1:۔ عبدالرزاق وابن جریروابن منذر وابن وابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” ھوالذی یریکم البرق خوفا وطمعا “۔ سے مراد بجلی خوف ہے مسافر کے لئے جو ڈرتا ہے اس کی تکلیف اور اس کی مشقت سے۔ (آیت) ” وطعما “ (اور امید دلانا ہے) مقیم کے لئے جو امید کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رزق ملنے کی وہ امید کرتا ہے بارش کی برکت کی اور اس کے نفع کی۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یریکم البرق خوفا وطمعا “ میں خوف ہے سمندر میں سفر کرنے والوں کے لئے اور امید ہے خشکی والوں کے لئے۔ 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یریکم البرق خوفا وطمعا “ میں خوف سے مراد ہے جو خوف کیا جاتا ہے کڑک سے اور طمع سے مراد بارش ہے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ابو جہضم موسیٰ بن سالم سے روایت کیا کہ جو آزاد کردہ غلام تھے ابن عباس کے وہ روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس نے ” ابوالجلا “ کی طرف لکھا برق کے بارے میں پوچھنے کے لئے تو انہوں نے فرمایا البرق سے مراد ہے پانی۔ 5:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” یریکم البرق “ کے بارے میں فرمایا کہ شعب الجیالی کتاب اللہ میں فرماتے ہیں کہ فرشتے کو اٹھانے والے ان کے نام اللہ کی کتاب میں الحیات ہیں ہر فرشتے کا چہرہ انسان کا شیر کا اور گدھ کا ہے۔ جب وہ حرکت دیتے ہیں اپنے پروں کو تو بجلی پیدا ہوتی ہے۔ امیہ بن ابی الصت نے کہا۔ رجل وثوز تحت رجل یمینہ والنسر للاخری ولیث مرصد۔ ترجمہ : آدمی اور بیل اس کے دائیں پاوں کے نیچے ہے اور دوسرے پاوں کے نیچے گدھ اور شیر کا چہرہ ہے۔ 6:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” یریکم البرق “ کے بارے میں فرمایا کہ فرشتے اپنے پروں کے ساتھ بجلی چمکاتے ہیں لوگ گمان کرتے ہیں کہ ان کو حیات کہا جاتا ہے۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے محمد بن مسلم (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ بجلی کے لئے چار چہرے ہیں انسان کا چہرہ بیل کا چہرہ، گدھ کا چہرہ، اور شیر کا چہرہ جب وہ اپنی دم کو ہلاتا ہے تو بجلی چمکتی ہے۔ 8:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابو الشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بجلی فرشتے کی چمک ہے جس کے ساتھ وہ بادل کو چلاتا ہے۔ 9:۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب المطر میں وابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بجلی وہ فرشتہ ہے جو دکھائی دیتا ہے۔ 10:۔ عبدبن حمید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والخرائطی نے مکارم الاخلاق میں والبیہقی (رح) نے اپنی سنن میں چند طریق سے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ بجلی بادل کے فرشتوں کے ہاتھ میں آگ کے کوڑے میں جس کے ذریعہ وہ بادلوں کو ہانکتے ہیں۔ 11:۔ ابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بجلی آگ کے کوڑے ہیں جس کے ذریعہ رعد (یعنی کڑک) بادلوں کو ہانکتی ہے۔ 12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ بجلی اولوں کو مارنے سے پیدا ہوتی ہے۔ 13:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے کتاب العظمۃ میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ بجلی فرشتے کے اولوں کو مارنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اور وہ ظاہر ہوجائے زمین والوں کے لئے تو وہ البتہ بیہوش ہوجائیں۔ 14:۔ شافعی (رح) نے عروہ بن زبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب کوئی تم میں سے بجلی کو یا سخت بارش کو دیکھے تو اس کی طرف اشارہ نہ کرے اور نہ اس کا وصف بیان کرے۔ 15:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وینشئ السحاب الثقال “ سے مردا بادل ہے جس میں پانی ہو۔ 16:۔ احمد وابن ابی الدنیا نے کتاب المطر میں وابوالشیخ نے کتاب العظمۃ میں والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابوذر غفاری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اٹھاتا ہے بادلوں کو اور وہ بہت عمدہ کلام فرماتا ہے اور بہت عمدہ ہنستا ہے۔ ابراہیم بن سعدرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ النطق سے مراد ہے رعد یعنی کڑک اور الضحک سے مراد ہے بجلی۔ بارش برسانی انتظام : 17:۔ عقلی (رح) نے اور آپ نے اس کو ضعیف کہا وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بادلوں کو اٹھاتا ہے پھر اس میں سے پانی کوا تارتا ہے اللہ تعالیٰ کے ہنسنے سے کوئی چیز زیادہ حسین نہیں اور اس کے بولنے سے کوئی چیز خوبصورت نہیں اور اس کے بولنے سے مراد کڑک ہے اور اس کے ہنسنے سے مراد بجلی ہے۔ 18۔ ابن مردویہ (رح) نے عمر وبن بجاد اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بادل کا نام عنان ہے اور رعد وہ فرشتہ ہے جو بادل کو ڈانٹتا ہے۔ اور بجلی اس فرشتے کا ایک ہاتھ ہے جس کو روقیل کہا جاتا ہے۔ 19:۔ ابن مردویہ (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ خزیمہ بن ثابت ؓ جو انصاری نہیں ہیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بادل کے اٹھانے کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا کہ ایک فرشتہ جو مقرر کیا گیا ہے بادل پر جو دور والے بادل کے ٹکڑوں کو جمع کرتا ہے اور جو قریب ہوتے ہیں ان کو مزید قریب کرتا ہے۔ اور اس کے ہاتھ میں ایک کوڑا ہوتا ہے۔ جب اس کو بلند کرتا ہے تو بادل چمکتا ہے اور جب اس کو ڈانٹتا ہے تو بادل گرجتا ہے۔ اور جب اس کو مارتا ہے تو آسمانی بجلی گر پڑتی ہے۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور رعد اس کی تسبیح کے ساتھ اس کی تعریف بیان کرتا ہے، اور فرشتے بھی اس کے خوف سے، اور وہ بجلیاں بھیجتا ہے پھر جسے چاہے پہنچا دیتا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور وہ سخت قوت والا ہے۔

یہود کے پانچ سوالات : 1:۔ احمد والترمذی نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا والنسائی وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے العظمۃ میں وابن مردویہ و ابونعیم نے دلائل میں والضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودی رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابوالقاسم ! ہم آپ سے پانچ چیزوں کا سوال کرتے ہیں اگر آپ نے ان کا جواب دے دیا تو ہم پہچان لیں گے کہ آپ نبی ہیں اور ہم آپ کی تابعداری بھی کرلیں گے۔ آپ نے ان سے اسی طرح عہد لیا۔ جیسے اسرائیل (یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے عہد لیا جب آپ نے کہا تھا (آیت ) ” واللہ علی مانقول وکیل “ آپ نے فرمایا اپنے سوال پیش کرو انہوں نے کہا ہم کو نبی کی نشانی کے بارے میں بتاؤ آپ نے فرمایا اس کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا۔ پھر انہوں نے کہا ہم کو بتائیے ماں کے پیٹ میں بچے کیسے ہوتے ہیں آپ نے فرمایا دو آپس میں ملتے ہیں (یعنی مرد اور عورت کی منی آپس میں ملتی ہے) جب مرد کا پانی غالب آجائے عورت کے پانی پر تو بچہ پیدا ہوتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچی پیدا ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے کہا ہم کو بتائیے کہ جن چہروں کو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا آپ نے فرمایا ان کو عرق النساء کی بیماری تھی آپ نے اس کے مناسب کوئی چیز نہ پائی۔ سوائے اونٹ کے گوشت اور دودھ کے اسی لئے انہوں نے نے ان کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے یہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جو بادل پر مقرر ہے۔ اس کے ہاتھوں میں آگ کا ایک کوڑا ہوتا ہے جس سے بادل کو ہانکتا ہے اسے وکیل لے جاتا ہے۔ آگ کا ایک کوڑا ہوتا ہے۔ پھر انہوں نے کہا یہ آواز کیا ہے جو ہم بادل سے سنتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ اس کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا آپ نے سچ فرمایا اب ایک سوال باقی ہے اگر آپ نے اس کا جواب دے دیا تو ہم آپ کی تابعداری کرلیں گے کہ کوئی ایسا نبی نہیں مگر اس کے لئے ایک فرشتہ ہوتا ہے جو اس کے پاس (آسمان سے) خبر لاتا ہے۔ ہم کو بتائیے کہ آپ کے ساتھ کون سا فرشتہ ہے آپ نے فرمایا جبرئیل (علیہ السلام) انہوں نے کہا جبرائیل (علیہ السلام) نازل کرتا ہے جنگ وجدل کو اور عذاب کو (اس لئے) وہ ہمارا دشمن ہے اگر آپ میکائیل کا فرماتے ہیں جو رحمت کو اتارتا ہے۔ اور سبزے کو اور بارش کو تو پھر بات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ” من کان عدوالجبریل “ (البقرہ آیت 97) آیت کے آخر تک اتارا۔ 2:۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب المطر میں وابن جریر وابن منذر والبیہقی نے اپنی سنن میں والخرائطی (رح) نے مکارم الاخلاق میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رعد ایک فرشتہ ہے اور برق اس کے بادل کو لوہے کے ایک کوڑے سے مارتا ہے۔ 3:۔ ابن منذر وابوالشیخ والخرئطی رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رعد ایک فرشتہ ہے جو بادل کو تسبیح کے ساتھ چلاتا ہے جیسے اونٹ کو چلانے والا اپنے گانے کے ساتھ اونٹ کو چلاتا ہے۔ 4:۔ بخاری نے الادب الفرد میں ابن ابی الدنیا نے المطر میں وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ جب رعد کی آواز سنتے تھے تو فرماتے ” سبحان الذی سبحت لہ “ یعنی وہ ذات پاک ہے جس کی تو نے تسبیح بیان کی ہے اور فرمایا کہ رعد ایک فرشتہ ہے جو بادل کو آواز دیتا ہے جیسے چرواہا اپنی بکریوں کو آواز دیتا ہے۔ 5:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جس کا نام رعد ہے اور وہ جو تم اس کی آواز کو سنتے ہو اور برق نور کا ایک کوڑا ہے کہ جس کے ذریعہ فرشتہ بادل کو ہانکتا ہے۔ 6:۔ ابن منذر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رعد کے بارے میں فرمایا کہ ایک فرشتے کا نام رعد ہے اور اس کی آواز اس کی تسبیح ہے جب وہ سختی سے ڈنٹتا ہے تو بادل چل دیتے ہیں اور اس کے خوف سے باہم ٹکراتے ہیں اس کی وجہ سے درمیان میں کڑک پیدا ہوتی ہے۔ رعد ایک فرشتہ کا نام ہے :۔ 7:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رعد ایک فرشتہ ہے جو بادل کو ڈانٹتا ہے تسبیح اور تکبیر کے ساتھ۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بادل سے زیادہ تیز چلنے والا کوئی چیز پیدا نہیں فرمائی ایک فرشتہ اس کو ہانکتا ہے اور بادل کا گرجنا یہ اس فرشتے کی آواز ہے جو اس کو ڈانٹتا ہے اور کوڑے کے ذریعہ اس کو ہانکتا ہے۔ 9:۔ ابوالشیخ (رح) نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کیا کہ رعد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا یہ ایک فرشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بادل کو چلانے کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتے ہیں کہ اس کو فلاں شہر کی طرف لے جائیں۔ اس فرشتے کو حکم فرماتے ہیں تو وہ اس کو لے جاتا ہے۔ جب وہ اس پر بکھر جاتے ہیں تو وہ اپنی آواز سے اس کو ڈانٹتا ہے یہاں تک کہ وہ اکھٹے ہوجاتے ہیں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) ” ویسبح الرعد بحمدہ “۔ 10:۔ عبدبن حمید وابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ رعد ایک فرشتہ ہے جو بادل کو چلاتا ہے اور اس کی کی گونج اس کی آواز ہے۔ 11:۔ ابن منذر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ اس نے اس نے (آیت ) ” ویسبح الرعد بحمدہ “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک فرشتہ ہے جس کا نام رعد رکھا گیا ہے۔ اور اس کی آواز ایک تسبیح ہے۔ 12:۔ ابن جریر والخرائطی وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویسبح الرعد بحمدہ “ میں رعد فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے۔ 13:۔ عبدبن حمید وابن منذر والبیہقی رحمہم اللہ نے اپنی سنن میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رعد فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جو بادلوں پر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ بادل کو چلاتا ہے۔ جیسے کہ چرواہا اونٹوں کو چلاتا ہے۔ 14:۔ عبدبن حمید وابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے العظمۃ میں شھربن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ رعد ایک فرشتہ ہے جو بادل کو ہانکتا ہے جیسے کہ چرواہا اونٹوں کو ہانکتا ہے۔ جب (کوئی) بادل بکھرتا ہے تو اس کی جمع کردیتا ہے۔ (دوسرے بادلوں میں) جب اس کا غصہ سخت ہوجاتا ہے۔ تو آگ اس سے نکلتی ہے اور یہ کثرت ہے۔ 15:۔ عبدبن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اسے ایک آدمی نے رعد کے بارے میں پوچھا فرمایا وہ ایک فرشتہ ہے جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتا ہے۔ 16:۔ خرائطی (رح) نے مکارم الاخلاق میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رعد ایک فرشتہ ہے اور برق پانی ہے۔ 17:۔ خرائطی (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ رعد ایک فرشتہ ہے جو بادل کو ڈانٹتا ہے اپنی آواز کے ساتھ۔ 18۔ ابوالشیخ نے العظمۃ میں خرائطی نے مجاہد (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا عمرو ابن ابی عمرو سے روایت کیا کہ ایک ثقہ صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ بادل ہے جس کو اللہ تعالیٰ پیدا فرماتے ہیں اور اس میں سے پانی کو نازل فرماتے ہیں کوئی کلام اس کی کلام سے حسین نہیں ہے۔ کوئی ہنسنا اس کے ہنسنے سے زیادہ حسین نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا بولنا رعد ہے اور اس کا ہنسنا برق ہے۔ بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے : 19:۔ احمد والحاکم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ تمہارے رب فرماتے ہیں اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں ان کو رات کے وقت بارش سے سیراب کروں گا اور دن کو ان پر سورج کو طلوع کروں اور ان کو بادل کے گرجنے کی آواز نہ سناوں۔ 20:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری نے الادب میں والترمذی والنسائی وابن منذر وابوالشیخ نے العظمۃ میں الحاکم وابن مردویہ والخرائطی نے مکارم الاخلاق میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب بادل کے گرجنے اور بجلی کی آواز کو سنتے تو فرماتے اے اللہ ہم کو اپنے غصہ سے قتل نہ فرما اور اپنے عذاب سے ہم کو ہلاک نہ فرما اور اس سے پہلے ہم کو عافیت عطا فرما۔ 21:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ مرفوع حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ جب آپ بادل کے گرجنے کی آواز کو سنتے تو فرماتے پاک ہے وہ ذات جس کے لئے رعد اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتی ہے۔ 22:۔ ابن مردویہ وابن جریر رحمہما اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب ہوا چلتی یا بادل کے گرجنے کی آواز کو سنتے تو آپ کا رنگ تبدیل ہوجاتا اور یہی چیز آپ کے چہرہ مبارک سے پہچانی جاتی ہے پھر آپ رعد کے لئے فرماتے پاک ہے وہ ذات جس کے لئے تو تسبیح بیان کررہی ہے اور ہوا کے لئے فرماتے اے اللہ اس کو ہمارے لئے رحمت بنادے اور اس کو ہمارے لئے عذاب نہ بنا۔ 23:۔ الشافعی (رح) نے مطلب بن حنطب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جب آسمان پر بجلی چمکتی یا بادل کی گرج ہوتی تو آپ کے چہرے مبارک میں (پریشانی پہچانی جاتی۔ جب بارش ہوجاتی تو آپ کی پریشانی جاتی رہتی۔ 24:۔ الطبرانی وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم بادل کی گرج کو سنو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کیونکہ یہ ذکر کرنے والے کو نہیں پہنچتی۔ 25:۔ ابوداود نے اپنی مراسیل میں عبداللہ بن ابی جعفر ؓ سے روایت کیا کہ ایک قوم نے بادل کی گرج کو سنا تو انہوں نے تکبیر کہی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم بادل کی گرج کو سنو تسبیح بیان کرو اور تکبیر نہ کہو۔ 26:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب آپ رعد کی آواز سنتے تو آپ یہ کہتے تھے ” سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم “ 27:۔ ابن جریر (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ جب آپ رعد کی آواز کو سنتے تو یہ کہتے تھے پاک ہے وہ ذات جس نے اس کے لئے تسبیح بیان کی۔ 28:۔ مالک وابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد نے الزہد میں البخاری نے الادب میں وابن منذر والخرائطی وابوالشیخ نے عظمۃ میں عبداللہ بن زیبر ؓ سے روایت کیا کہ جب وہ بادل کے گرجنے کو سنتا تھا تو بات کرنا ترک کردیتا تھا اور کہتا تھا پاک ہے وہ ذات کہ رعد اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کررہی ہے۔ اور فرشتے بھی اس کے خوف سے تسبیح بیان کررہے ہیں۔ پھر وہ فرماتے تھے یہ سخت وعید ہے زمین والوں کے لئے۔ 29:۔ ابن ابی حاتم نے علی بن حسین ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بادل کا گرجنا وعید ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب تم اس کو سنو تو بات کرنے سے چپ ہوجاؤ۔ 30:۔ سعید بن منصور وابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو بادل کے گرجنے کی آواز سنے تو یوں کہے پاک ہے وہ ذات کے رعد اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر پھر بھی بجلی اس پر گرجائے تو اس کی دیت میرے ذمہ ہے۔ 31:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابوالشیخ نے عبداللہ بن ابی زکریا (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جو شخص بادل کے گرج کو سنے کو یوں کہے سبحان اللہ وبحمدہ اس پر بجلی نہیں گرے گی۔ 32:۔ الخرائطی (رح) نے مکارم الاخلاق میں احمد بن داود سے روایت کیا کہ اس درمیان سلیمان (علیہ السلام) ابھی لڑکے تھے کہ اپنے والدین کے ساتھ چل رہے تھے اچانک انہوں نے بادل کے گرجنے کی آواز سنی آواز سن کر گرپڑے اور اپنے والد کی ان سے چمٹ گئے۔ والد نے فرمایا اے میرے بیٹے یہ آواز اس کی رحمت کے مقامات میں سے ہے۔ اور پھر تیری کیا حالت ہوگی جب تو اس کے غصہ کے مقامات کی آواز کو سنے گا۔ 33:۔ ابوالشیخ رحمۃ اللہ علیہنے العظمۃ میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص بادل کے گرجنے کی آواز کو سن کر یوں کہے (آیت ) ” ویسبح الرعد بحمدہ والملئکۃ من خیفتہ “ تین مرتبہ تو عافیت دیا جائے گا جو مصیبت ہو اس رعد میں۔ 34:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ بادل کے گرجنے کی آواز سنی آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا جانتے ہو کہ یہ کیا کہتا ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا یہ کہتا ہے تیرے پہنچنے کی جگہ فلاں شہر ہے۔ زکوۃ ادا کرنے کی برکت سے بارش : 35:۔ مسلم (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس درمیان کہ ایک آدمی زمین کے صحرا میں تھا اس نے بادل میں سے ایک آواز سنی کہ فلاں کے باغ کو پانی پلا دو وہ بادل چلا اور اس نے ایک پتھروں والی زمین پر اپنا پانی گرا دیا اچانک نالوں میں سے ایک نالہ اس سارے پانی سے بھر گیا۔ وہ آدمی اس پانی کے پیچھے چلا اس نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے باغ میں کھڑے ہو کر پانی کو پھیر رہا ہے کسی کے ذریعہ اس نے کہا اے اللہ کے بندے تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے وہی نام بتایا جو اس نے بادل میں سے سنا تھا اس نے کہا تو نے میرا نام کیوں پوچھا اس نے کہا میں نے (یہ نام) سنا تھا اس بادل میں ہے۔ جس کا یہ پانی ہے۔ کہ فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلادو۔ تو اس میں کیا کرتا ہے۔ اس نے کہا جب تو نے پوچھ لیا (تو سنو) کہ میں اس باغ کے پھل کی طرف دیکھتا ہوں جو اس میں سے نکلتا ہے تو اس کا ایک تہائی حصہ صدقہ کردیتا ہوں اور ایک تہائی میں سے میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور ایک تہائی پھر اس باغ پر خرچ کردیتا ہوں۔ 36:۔ النسائی والبزار وابویعلی وابن یعلی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والبطرانی نے الاوسط میں وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ میں سے ایک صحابی کو مکہ کے سرداروں میں سے ایک سردار کے پاس بھیجا (تاکہ) ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائے۔ اس مشرک نے کہا یہ خدا جس کی طرف تو مجھ کو بلاتا ہے وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ہے۔ یا تانبے کا ہے۔ اس صحابی کو اس کی یہ بات ناگوار گزری وہ صحابی نبی کریم ﷺ کے پاس واپس لوٹ کر آئے۔ اور ساری بات عرض کی آپ نے فرمایا اس کی طرف دوبارہ لوٹ جاؤ۔ وہ اس کی طرف دوبارہ لوٹ کر گئے اور اس نے وہی بات کہی وہ صحابی واپس آئے اور سارا واقعہ سنایا رسول اللہ ﷺ نے اس کو تیسری مرتبہ بھیجا وہ صحابی اور مشرک آپس میں باتیں کررہے تھے اچانک اللہ تعالیٰ نے اس کے سرکے برابر ایک بادل بھیج دیا وہ گرجا اور بجلی چمکائی اور اس میں سے بجلی اس پر گری اور اس کے سر کو اڑا دیا اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ” ویرسل الصواعق فیصیب بھا من یشآء “ نازل فرمائی۔ جھگڑالوشخص پر بجلی کا گرنا : 37:۔ ابن جریر والخرائطی نے مکارم الاخلاق میں عبدالرحمن بن صحابہ عبدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک جابر آدمی کی طرف (ایک صحابی) کو بھیجا تاکہ اس کو (اللہ کے دین کی طرف) دعوت دے اس نے کہا تم مجھ کو بتاؤ تمہارا رب سونے کا ہے۔ چاندی کا ہے۔ یا موتی کا ہے۔ اس درمیان کہ وہ مسلمانوں سے جھگڑا کررہا تھا اچانک اللہ تعالیٰ نے ایک بادل کو بھیجا وہ گرجا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر بجلی کو گرا دیا جس نے اس کے سر کو اڑا دیا اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” ویرسل الصواعق فیصیب بھا من یشآء “ وھو شدید المحال ‘۔ 38:۔ حکیم ترمذی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا مجھے اپنے رب کے بارے میں بتائیے کہ وہ سونے کا ہے یا موتی کا ہے یا یاقوت کا ہے ؟ تو اس پر بجلی گری اور اس کو پکڑ لیا (یعنی اس کو ختم کردیا) تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ویرسل الصواعق فیصیب بھا من یشآء “ 39:۔ ابن جریر (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے محمد ﷺ مجھے اپنے خدا کے بارے میں جس کی طرف آپ بلاتے ہیں وہ یاقوت کا ہے، یا سونے کا ہے یا کسی چیز کا (بناہو ا) ہے۔ تو ایک بجلی اس سوال کرنے والے پر گری اور اس کو جلا دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اتار (آیت) ” ویرسل الصواعق فیصیب بھا من یشآء “۔ 40:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوکعب مکی (رح) سے روایت کیا کہ قریش کے برے لوگوں میں سے ایک برے آدمی نے کہا کہ ہم کو بتائیے اپنے رب کے بارے میں وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ہے یا پیتل کا ہے (اس گستاخی پر) آسمان زور سے گرجا۔ اچانک اس کا سرکٹ کر اس کے سامنے گرپڑا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” ویرسل الصواعق فیصیب “ الآیہ۔ 41:۔ ان جریر والخرائطی رحمہما اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ ذکر کیا گیا کہ ایک آدمی نے قرآن کا انکار کیا اور نبی کریم ﷺ کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک بجلی گرائی اور اس کو ہلاک کردیا اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت فرمائی (آیت) ” وھم یجادلوں فی اللہ “ الآیہ۔ 42:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ویرسل الصواعق “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) عامر بن طفیل اور اربد بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی عامر آیا اور کہا کہ میری ایک حاجت ہے نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا قریب ہوجا۔ وہ قریب ہوا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اربد نے آپ کو شہید کرنے کے لئے اپنی تلوار سونت لی نبی کریم ﷺ نے اس کی تلوار کی چمک کو دیکھا تو پناہ مانگی قرآن کی ایک آیت کے ساتھ کہ جس کے ذریعہ آپ پناہ مانگا کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اربد کے ہاتھ کو تلوار کے دستہ میں خشک کردیا (یعنی اس کا ہاتھ سوکھ گیا) پھر اس پر بجلی کو گرادیا جس سے وہ جل گیا اس وجہ سے اس بھائی کا شعر ہے۔ اخشی علی اربد الخشوف ولا ارھب نوی السمائ والاسد : ترجمہ : موت سے ڈرتا ہوں میں اربد کے لئے جبکہ میں آسمانی آفت اور شیر سے بھی نہیں ڈرتا۔ فجعنی البرق والصواعق بالفا رس یوم الکریھۃ النجد ترجمہ : بجلی کی چمک اور کڑک نے مجھے دکھ پہنچایا اس شہسوار کی موت کے ساتھ نجد کے باپسندیدہ دن۔ 43:۔ ابن ابی حاتم والخرائطی وابوالشیخ نے العظمۃ میں ابوعمر جونی سے روایت کیا کہ عرش کے نیچے آگ کے سمندر ہیں جن میں گرجنے والی بجلیاں ہوتی ہیں۔ 44:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الصواعق “ سے مراد ہے آگ۔ 45:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الصواعق “ جلادینے والی آگ میں سے ہے اور یہ آواز ان پردوں کی ہے۔ جو ہمارے اور اس کے درمیان ہے۔ بادل کو ان کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ 46:۔ ابوالشیخ (رح) نے عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے نہیں سنا کہ بجلی لے گئی ہو اس کی آنکھ کو اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق (آیت) ” یکاد البرق یخطف ابصارھم “ (البقرہ آیت 20) (قریب کہ بجلی ان کی آنکھیں اچک لے) لیکن کڑکتی بجلیاں جلادیتی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ویرسل الصواعق فیصیب بھا من یشآء “ 47:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن ابی نجیح سے روایت کیا کہ میں نے کڑکتی بجلی کو دیکھا کہ وہ عرفہ کے مقام پر دو کھجوروں پر پڑی اور ان کو جلا دیا۔ آسمانی بجلی ہر کسی پر گر سکتی ہے : 48:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابو جعفر (رح) سے روایت کیا کہ (آسمانی) بجلی مومن اور کافر دونوں پر گرتی ہے اور اللہ کے ذکر کرنے والے پر نہیں گرتی۔ 49:۔ ابوالشیخ (رح) نے نصر بن عاصم تفقی (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص یہ کلمات کہے ” سبحان اللہ شدید المحال “ اس پر (دنیا میں) عذاب (یعنی بجلی) نہیں گرے گی۔ 50:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھو شدید المحال “ سے مراد ہے سخت قوت والے۔ 51:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے ابن عباس سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھو شدید المحال “ سے مراد ہے سخت تقدیر کرنے والا اور سخت قوت والا۔ 52:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایتک کیا کہ (آیت) ” وھو شدید المحال “ سے مراد شدید طاقت۔ 53:۔ ابن جریر (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھو شدید المحال “ سے مراد ہے سخت پکڑوالا۔ 54:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھو شدید المحال “ سے مراد ہے سخت انتقام لینے والا۔ 55:۔ ابوالشیخ (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھو شدید المحال “ سے مراد ہے سخت انتقام لینے والا۔ 56ـ:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھو شدید المحال “ سے مراد ہے سخت قوت والا اور سخت تدبیر والا۔ 57ـ:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا (آیت) ” وھو شدید المحال “ سے مراد ہے سخت قدرت اور قوت والا۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

سچا پکارنا اسی کے لئے خاص ہے اور جو لوگ اس کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں وہ ذرا بھی ان کی درخواست کو منظور نہیں کرتے مگر جیسے کوئی شخص پانی کی طرف اپنی ہتھیلیاں پھیلائے ہوئے ہوتا کہ پانی اس تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس تک پہنچنے والا نہیں اور کافروں کی پکار بس ضائع ہے۔

بتوں میں حاجت روائی کی طاقت نہیں : 1:۔ ابن جریر وابوالشیخ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ دعوۃ الحق “ سے مراد ہے التوحید یعنی لا الہ الا اللہ۔ 2:۔ عبدالرزاق والفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ دعوۃ الحق “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے لا الہ الا اللہ کی شہادت۔ 3:۔ ابن جریر وابوالشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لہ دعوۃ الحق “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے لا الہ الا اللہ اس کے علاوہ کسی کو یہ لائق نہیں اور کسی کو یہ لائق نہیں کہ یہ کہا جائے کہ بنو فلاں کا فلاں خدا ہے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا کباسط کفیہ الی المآء لیبلغ فاہ وما ھو ببالغہ “ یہ مثال اس شخص کہ ہے جو پیاسا ہو اور اپنے ہاتھ کو پھیلاتا ہے کنویں کی طرف تاکہ وہ پانی اس کی طرف اونچا ہوجائے حالانکہ وہ (اس کے ہاتھ میں) پہنچنے والا نہیں ہے۔ 5:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا کباسط کفیہ الی المآء “ سے مراد ہے کہ ایک آدمی ملاتا ہے پانی کو اپنی زبان سے اور اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتا ہے تو اس طرح کبھی بھی اس کے پاس نہیں آئے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی (جھوٹا معبود) اس کی پکار کو نہیں پہنچے گا۔ 6:۔ ابن جریر وابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین یدعون من دونہ لا یستجیبون لہم بشیء الا کباسط کفیہ الی المآء لیبلغ فاہ وما ھو ببالغہ “ سے مراد ہے کہ وہ (پانی) اسکو کبھی نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ اس کی گردن ٹوٹ جائے اور وہ پیاس سے ہلاک ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” وما دعآء الکفرین الا فی ضلل “ (14) “ یہ اللہ تعالیٰ نے مثال بیان فرمائی کہ یہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کا پکارتا ہے (چاہے) یہ آیت ہے یا یہ پتھر ہے دنیا میں کبھی یہ ان کو جواب نہیں دیں گے۔ اور نہ اس کی طرف خیر کو لائیں گے اور نہ اس سے کسی تکلیف کو دور کریں گے یہاں تک اس کو موت آجائے گی۔ جیسے مثال اس شخص کی جس نے اپنے ہاتھوں کو پھیلا یا پانی کی طرف تاکہ اس کے منہ میں پہنچ جائے اور وہ اس کے منہ کو نہ پہنچے گا اور نہ یہ پہنچے گا اس کی طرف یہاں تک کہ پیاسا مرجائے۔ 7:۔ ابوعبید وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” والذین یدعون من دونہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس آیت میں اس شخص کی مثال ہے جو بیٹھا ہوا ہے کنویں کے کنارے پر اور وہ اپنا ہاتھ کھول کر کنویں کے پاس لے جاتا ہے۔ تاکہ وہ اس کو پہنچ جائے تو اس کا ہاتھ پانی تک نہیں پہنچتا نہ پانی اس کے ہاتھ تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح نہیں نفع دیں گے ان کو جھوٹے معبودوں کو جن کو یہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ پکارتے تھے۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) بکیربن معروف (رح) سے روایت کیا کہ جب قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی پیشانی کو سمندر میں کردیا۔ اس کے اور اسکے پانی کے درمیان (صرف) ایک انگلی کا فاصلہ ہے۔ اور وہ پانی کی ٹھنڈک کو اپنے قدموں کے نیچے سے پاتا ہے۔ لیکن وہ پانی کو نہیں پاسکتا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” الا کباسط کفیہ الی المآء لیبلغ فاہ وما ھو ببالغہ “ جب گرمی کا موسم ہوتا ہے تو اس پر جھلسنے والی گرم ہوا کی سات دیواریں لگا دی جاتی ہیں۔ اور جب سردی کا موسم ہوتا ہے تو اس پر برف کی سات دیواریں لگا دی جاتی ہیں۔ 9:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” الا کباسط کفیہ الی المآء لیبلغ فاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ مثال مشرک کی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی غیر کی بھی عبادت کرتا ہے اس کی مثال جیسے پیاسے آدمی کی مثال ہے جو اپنے خیال میں پانی کو دور سے دیکھتا ہے۔ ؛ اور وہ ارادہ کرتا ہے کہ وہ اس کو پہنچ جائے اور وہ اس پر قادر نہیں ہوتا۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے اور ان کے سائے بھی صبح اور شام کے اوقات میں

1:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا وظللہم بالغدو والاصال (15) سے مراد ہے کہ مومن کا سایہ سجدہ کرتا ہوے خوشی سے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لئے اور کافریہ سایہ سجدہ کرتا ہے مجبوری سے اور وہ اس کو ناپسند کرتا ہے۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا “ سے مراد ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کے خوشی سے سجدہ کرتا ہے۔ اور کافر سجدہ کرتا ہے مجبوری سے اس کا سایہ بھی سجدہ کرتا ہے (مجبوری سے) 3:۔ ابوالشیخ رحمۃ اللہ علیہنے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ مومن خوشی سے سجدہ کرنے والا ہے۔ اور کافر کا سایہ مجبوری سے سجدہ کرنے والا ہے۔ آسمانی مخلوق خوشی سے سجدہ کرتی ہے : 4:۔ ابوالشیخ رحمۃ اللہ علیہنے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں جو خوشی سے سجدہ کرتی ہے اور جو زمین میں ہے وہ بعض خوشی سے اور بعض مجبوری سے سجدہ کرتی ہے۔ 5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ جو خوشی سے (اسلام سے) داخل ہوا وہ خوشی سے سجدہ کرنے والا ہے اور جو (مجبوری سے) یعنی تلوار کے ذریعہ اسلام میں داخل ہوا۔ اور مجبوری سے سجدہ کرنے والا ہے۔ 6:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے منذر (رح) سے روایت کیا کہ ربیع بن خیثم رحمۃ اللہ علیہجب رعد (سورۃ) میں سجدہ کرتے تو فرماتے اے پیارے رب ! ہم خوشی سے تیرے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔ 7:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” وطلالہم بالغدو والاصال “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے جب ان میں سے کسی کا سایہ اس کے داہنی طرف یا اس کے بائیں طرف جھکتا ہے تو وہ سجدہ کرتا ہے۔ 8:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وظللہم بالغدو والاصال “ کے بارے میں ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ساری چیزوں کے سائے اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہیں۔ 9:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وظللہم بالغدو والاصال “ سے مراد ہے کہ کافر کا سایہ نماز پڑھتا ہے اور وہ (خود) نماز نہیں پڑھتا۔ 10:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز کا سایہ مغرب کی طرف سجدہ کرتا ہے جب سورج ڈھلتا ہے تو ہر چیز کا سایہ مشرق کی طرف سجدہ کرتا ہے یہاں تک کہ وہ غروب ہوجاتا ہے۔ 11:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” وظللہم “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کیا تو نے کافر کی طرف نہیں دیکھا کہ اس کا سایہ اس کا سارا جسم اور اس کے اعضاء اللہ کے لئے اطاعت کرنے والے ہیں اس کے دل کے علاوہ۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

آپ سوال کیجئے کہا آسمانوں کا اور زمین کا رب کون ہے ؟ آپ جواب دیجئے کہ اللہ ہے آپ سوال کیجئے کیا تم لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے مددگار تجویز کر رکھے ہیں جو اپنی جانوں کے لئے نفع اور ضرر کے مالک نہیں ہیں آپ سوال کیجئے کیا نابینا اور بینا برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا اندھیریاں اور روشنی برابر ہوسکتی ہیں ؟ کیا یہ بات ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کے لئے تجویز کئے ہیں جنہوں نے کوئی چیز پیدا کی ہو جیسے کہ اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے ان پر مخلوق میں اشتباہ پیدا ہوگیا، آپ فرمادیجئے اللہ ہر چیز کا پیدا فرمانے والا ہے اور وہ تنہا ہے غالب ہے

اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی نفع نقصان کا مالک نہیں :ـ 1:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہم آپ کے پاس ایک خاص حالت پر ہوتے ہیں جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہم اس کے علاوہ دوسری حالت پر ہوجاتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ یہ نفاق نہ ہو آپ نے فرمایا تم اپنے رب کے بارے میں کیسے ہو (یعنی کیا عقیدہ رکھتے ہو) عرض کیا اللہ تعالیٰ ہمارے رب ہیں چھپے ہوئے بھی اور ظاہری طور پر تھی پھر تم اپنے نبی کے بارے میں کیسے ہو (یعنی کیا عقیدہ رکھتے ہو) عرض کیا آپ ہمارے نبی ہیں چھپے ہوئے (حال میں) بھی اور ظاہری (حال میں) بھی آپ نے فرمایا پھر تم میں نفاق نہیں ہے۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل یستوی الاعمی والبصیر “ سے مراد ہے مومن اور کافر۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل یستوی الاعمی والبصیر “ ام ھل تستوی الظلمت والنور “ میں ” اعمی اور بصیر “ سے مراد ہے کافر اور مومن اور ” ظلمات اور نور “ سے مراد ہے ہدایت اور گمراہی۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ام جعلوا للہ شرکآء خلقوا کخلقہ فتشابہ الخلق علیہم “ سے مراد ہے کہ (ان خدا نے پیدا کیا جیسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ( اور ان باتوں کے بارے میں شک تھا کہ (شاید یہ بھی خالق ہیں) 5:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ام جعلو اللہ شرکآء خلقوا کخلقہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک مثال بیان کی گئی۔ صدیق اکبر ؓ کا شرک سے دور ہونا :ـ۔ 6:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ام جعلو اللہ شرکآء خلقوا کخلقہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے لیث بن ابی سلیم نے خبر دی ابن محمد سے اور انہوں نے روایت کیا کہ حذیفہ بن یمان سے اور انہوں نے رواتی کیا ابوبکر سے کہ جب یہ حذیفہ حاضر ہوئے نبی کریم ﷺ کے پاس ابوبکر ؓ کے ساتھ اور اس کو بیان کیا خاص طور پر ابوبکر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شرک تمہارے اندرچلتا ہے۔ چیونٹی کی چال سے بھی خفیف چال میں ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا شرک یہی نہیں ہے مگر جو اللہ کے علاوہ دوسرے کی عبادت کی جائے یا اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارا جائے آپ نے فرمایا تیری ماں تجھ کو گم کرے۔ مشرک تمہارے تمہارے اندر چیونٹی کی چال سے بھی خفیف چال میں چلتا ہے۔ کیا میں تجھ کو نہ بتاوں ایسی بات کہ جس نے شرک کا چھوٹا اور بڑا گناہ ختم ہوجائے۔ یا فرمایا اس کے چھوٹے اور بڑے (مشرک کو) لے جاتا ہے۔ عرض کیا ضرور بتائیے فرمایا دن میں تین مرتبہ یہ دعا کہو۔ اللہم انی اعوذبک ان اشرک بک وانا اعلم واستغفرک لما لا اعلم : ترجمہ : اے اللہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں آپ کے ساتھ شرک کروں اور میں اس کو جانتابھی ہوں اور میں مغفرت طلب کرتا ہوں (اس شرک سے) جس کو میں نہیں جانتا۔ اور شرک یہ ہے کہ تو اس طرح کہے کہ مجھ کو عطا فرمایا اللہ تعالیٰ نے اور فلاں نے بھی اور (اس کی) نظیر یہ ہے انسان کہتا ہے اگر فلاں نہ ہوتا تو فلاں مجھ کو قتل کردیتا۔ 7:۔ بخاری (رح) نے الادب المفرد میں معقل بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ میں ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا آپ نے فرمایا اے ابوبکر ! تمہارے اندر شرک چیونٹی کی چال سے بھی خفیف چال سے چلتا ہے۔ ابوبکر ؓ نے عرض کیا نہیں ہے شرک مگر جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور خدا بنالے نبی کریم ﷺ فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تمہارے اندر شرک چیونٹی کی چال سے بھی خفیف چال میں چلتا ہے کیا میں تم کو ایسی چیز نہ بتاوں کہ جب تم اس کو کہو گے تو شرک کا تھوڑا اور زیادہ سب چلا جائے گا۔ (یہ دعاپڑھ لیا کرو) اللہم انی اعوذبک ان اشرک بک وانا اعلم واستغفرک لما لا اعلم : جمہ : اے اللہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں آپ کے ساتھ شرک کروں اور میں (اس بات کو) جانتابھی ہوں اور میں آپ سے مغفرت طلب کرتا ہوں جس کو میں نہیں جانتا۔
Ayahs 13:17–18

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر نالے اپنی مقدار کے موافق بہنے لگے پھر بہتے ہوئے پانی نے اپنے اوپر جھاگ کو اٹھایا جو پانی پر بلند ہے اور جن چیزوں کو آگ میں ڈال کر اوپر سے جلاتے ہیں تاکہ زیور یا کوئی دوسری نفع کی چیز حاصل کریں اس میں بھی اسی طرح کی جھاگ ہیں اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

سو جو جھاگ ہے وہ تو بےفائدہ ہو کر چلا جاتا ہے اور جو لوگوں کو نفع دیتا ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتا ہے اللہ تعالیٰ ایسے ہی مثالیں بیان فرماتا ہے جن لوگوں نے اپنے رب کی اطاعت کی ان کے لئے جنت ہے اور جن لوگوں نے اللہ کی فرماں برداری نہ کی اگر ان کے لئے وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اس جیسا اور بھی ہو تو وہ اس سب کو اپنی جان کے بدلہ دے دیں گے یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے براحساب ہے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ رہنے کی بری جگہ ہے

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) انزل من السمآء مآء “ الآیہ کے بارے میں فرمایا یہ مثال اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ اس میں دل فائدہ اٹھاتے ہیں اپنے یقین اور شک کے بقدر لیکن شک کے ساتھ عمل مفید نہیں ہوتا۔ لیکن یقین تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ یقین والوں کو نفع دیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” فاما الذبد فیذھب جفآء واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض “ اور وہ ہے یقین جیسے زیور کو آگ میں ڈال دیا جاتا ہے پھر اس کے ذریعہ جو خالص سونا ہوتا ہے۔ اس کو لے لیا جاتا ہے اور جو کھوٹ ہوتا ہے اسے آگ میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ قبول کرلیتے ہیں یقین کو اور چھوڑ دیتے ہیں شک کو۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسالت اودیۃ بقدرھا “ یعنی چھوٹا نالہ بہتا ہے اپنی مقدر سے اور بڑا نالہ بہتا ہے اپنی مقدار سے۔ حق اور باطل کی مثال : 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے درمیان بیان فرمائی۔ فرماتے ہیں کہ سیلاب نے اٹھالیا جو کچھ وادی میں تھا لکڑی اور گھاس پھوس میں سے اور ان چیزوں میں سے جن کو تم آگ میں ڈالتے ہو اور وہ سونا ہے چاندی ہے زیور ہے اور تانبا اور لوہے کا سامان ہے۔ تانبا اور لوہے کے لئے میل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے قبل کی مثال کو بیان فرمایا کہ جیسے مثال ہے پانی کے قبل کی اور وہ چیز جس سے لوگ نفع اٹھاتے ہیں وہ سونا اور چاندی ہے اور وہ پانی ہے جو زمین کو نفع دیتی ہے جس سے وہ سیراب ہوتی ہے اور سبزہ اگاتی ہے پس نیک عمل کیا ایسی مثال ہے وہ باقی رہتا ہے۔ اس کے کرنے والے کے لئے اور برا عمل نیست ونابود ہوجاتا ہے۔ اپنی جگہ پر اور جھاگ کی طرح ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ہدایت اور حق ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا جس نے حق کے ساتھ عمل کیا تو وہ اس کے لئے ہوگا اور جو کچھ باقی رہتی ہے۔ وہ چیز کہ جس سے لوگ زمین میں نفع اٹھاتے ہیں اسی طرح لوہا ہوتا ہے کہ اس سے کوئی چھری یا تلوار نہیں بنا سکتا جب تک کہ وہ (لوہا) آگ میں داخل نہ ہوگا (وہ آگ) اس کے میل کو کھا جاتی ہے۔ اور اس کے عمدہ (حصے) نکال دیتی ہے۔ جس سے نفع اٹھایا جاتا ہے۔ اسی طرح باطل کمزور ہوتا ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا۔ اور لوگوں کو اٹھایا جائیگا اور اعمال پیش کئے جائیں گے تو باطل ختم ہوجائے گا اور اس کو ہلاک کردیا جائے گا۔ اور حق والے حق سے نفع اٹھائیں گے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) کے راستہ سے ابومالک اور ابو صالح سے مرۃ کے راستہ سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” فسالت اودیۃ بقدرھا “ کے بارے میں فرمایا کہ مٹی اور کوڑے کا سیلاب آیا یہاں تک کہ ٹھہرنے کی جگہ میں ٹھہر گیا اور اوپر جھاگ تھی یہاں تک کہ (جب) وہ ٹھہرنے کی جگہ پر ٹھہرتا ہے اور اس پر میل ہوتا ہے ایک ہوا چلتی ہے تو جھاگ کو پانی کے کناروں میں کردیتی ہے۔ اور خشک کردیتی ہے کہ جس سے کوئی نفع نہیں اٹھاتا۔ اور وہ پانی باقی رہ جاتا ہے کہ جس سے لوگ نفع اٹھاتے ہیں لوگ اس میں سے خود بھی پیتے ہیں اور اپنے جانوروں کو پلاتے ہیں جیسا کہ جھاگ ختم ہوگئی اور اس نے کسی کو نفع نہیں پہنچایا۔ اسی طرح باطل قیامت کے دن کمزور ہوجائے گا اور وہ اپنے لوگوں کو نفع نہیں دے گا جس طرح پانی سے لوگوں کو نفع پہنچایا اسی طرح حق اپنے لوگوں کو نفع دے گا۔ یہ مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا۔ 5:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عطارحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انزل من السمآء مآء “ کے بارے میں فرمایا یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومن اور کافر کے لئے بیان فرمائی (آیت) فسالت اودیۃ بقدرھا “ یعنی وادیاں اپنی مقدار کے مطابق بہنے لگیں حتی کہ بھر گئیں۔ اپنی وسعت کے بقدر (آیت ) ” فاحتمل السیل زبد رابیا “ یعنی پانی کی جھاگ (آیت) ” ومما یوقدون علیہ فی النار “ یعنی وہ جھاگ اس چیز میں سے جس پر تم آگ جلاتے ہو زیور بنانے کے لئے اور جو کچھ (میل میں سے) گر جاتا ہے وہ پانی کی جھاگ کی طرح ہے اور وہ مثال ہے جس کو حق اور باطل کے لئے بیان کیا گیا لیکن لوہے اور سونے کی قبل اور پانی کا جھاگ تو وہ باطل ہے اور جو کچھ تم بناتے ہو زیور میں سے پانی اور استعمال کرتے ہو وہ مثال ہے حق کی۔ 6:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کی مثال بیان فرمائی اور حق کی مثال اس سیلاب سے دی جو زمین میں ٹھہرجاتا ہے اور لوگ اس سے نفع اٹھاتے ہیں اور باطل کی مثال وہ جھاگ ہے جس سے لوگ نفع اٹھاتے۔ اور حق کی مثال اس زیور کی مثال ہے جس کو آگ میں ڈال دیتے ہیں۔ جو اس میں سے خالص ہوتا ہے۔ اس سے لوگ نفع اٹھاتے۔ اور حق کی مثال اس زیور کی مثال ہے جس کو آگ میں ڈال دیتے ہیں۔ جو اس میں سے خالص ہوتا ہے۔ اس سے لوگ نفع اٹھاتے ہیں اور جو اس میں ناکارہ (کھوٹ وغیرہ) ہوتا ہے۔ وہ مثال ہے باطل کی جھاگ اور کھوٹ سے لوگ نفع نہیں اٹھاتے اور نہ وہ لوگوں کو نفع دیتا ہے۔ اسی طرح باطل وہ باطل پرستوں کو نفع نہیں دیتا۔ 7:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” انزل من السمآء مآء فسالت اودیۃ بقدرھا “ کے بارے میں فرمایا یہ بڑی چھوٹی وادی اپنی مقدار کے مطابق بہہ پڑی۔ (آیت) ” فاحتمل السیل زبدا رابیا “ یعنی وہ جھاگ جو پانی کے اوپر تیر رہا ہوتا ہے۔” ومما یوقدون “ سے لے کر ” فیذھب جفآء “ تک ” واجفاء “ (وہ کوڑا) جو درخت کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔ حق باقی رہتا ہے اور باطل مٹ جاتا ہے : (آیت) ” واما ما ینفع الناس میمکث فی الارض “ یہ تین مثالیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایک مثال میں بیان فرماتے ہیں ہیں جیسے یہ جھاگ گمزور ہے۔ پھر یہ ضائع ہوجاتا ہے۔ جس سے کوئی نفع نہیں اٹھایا جاتا۔ اور نہ اس کے برکت کی امید کی جاتی ہے اس طرح باطل کے بچاریوں کے لئے غیر معینہ ہوگیا۔ اور جیسا کہ ٹھہر جاتا ہے یہ پانی زمین میں جس سے وہ سرسبز ہوجاتی ہے۔ اور اس کی جڑ تک بڑھتی ہے۔ اور اس کی جڑ تک بڑھتی ہے۔ اور اس کا سبزہ نکل آتا ہے۔ اسی طرح حق باقی رہتا ہے اس کے اپنا نے والوں کے لئے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت ) ” ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ “ یعنی جس طرح باقی رہتا ہے خالص سونے اور چاندی جس آگ میں ڈالے جاتے ہیں اس کا میل کچیل چلا جاتا ہے۔ اسی طرح باقی رہتا ہے حق اس کے اپنانے والوں کے لئے۔ اور جس طرح اس سونے اور چاندی کا میل کچیل نیست ونابود ہوجاتا ہے۔ جب آگ میں داخل کیا جاتا ہے اسی طرح باطل نیست ونابود ہوجاتا ہے۔ اس کے اپنانے والوں کے لئے اور فرمایا (آیت) ” اومتاع زبد مثلہ “ یعنی یہ لوہا اور یہ تانبا جب آگ میں داخل کئے جاتے ہیں اور ان کی میل کچیل چلی جاتی ہے۔ اسی طرح حق باقی رہتا ہے۔ اس تانبے والوں کے لئے جیسے کہ ان دونوں (لوہے اور تانبے کا خالص (حصہ) باقی رہتا ہے۔ 8:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) فسالت اودیۃ بقدرھا “ کے بارے میں فرمایا کہ بڑا (نالہ) اپنی مقدار کے ساتھ (بہتا ہے) اور چھوٹا (نالہ) اپنی مقدار کے ساتھ (بہتا ہے) (آیت) ” زبدا رابیا “ میں رابیا سے مراد ہے وہ کوڑا کرکٹ جو پانی کے اوپر ہوتا ہے۔ (آیت ) ” ومما یوقدون علیہ فی النار “ سے مرادوہ سونا ہے جب آگ میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کا خالص حصہ باقی رہتا ہے۔ اور جو اس میں میل کچیل ہوتا ہے وہ چلا جاتا ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے لئے بیان فرمایا (آیت ) ” فاما الزبد فیذھب جفآء “ یعنی جو کوڑا کرکٹ درخت سے چمٹ جاتا ہے۔ اس کی کچھ بھی (قیمت) نہیں ہوتی۔ یہ مثال ہے باطل کی (آیت) ” واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض ‘ جو لوگوں کے لئے نفع بخش ہوتا ہے وہ زمین میں باقی رہتا ہے وہ زمین سے کھیتیاں اگاتا ہے اور یہ مثال حق کی (آیت ) ” اومتاع زبد مثلہ “ یعنی پیتل اور لوہے کا سامان (اس میں بھی ایسے بھی جھاگ اٹھتا ہے۔ 9:۔ ابوعبیدہ وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” انزل من السمآء مآء فسالت اودیۃ بقدرھا “ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا اور وادیاں اپنی طاقت کے مطابق بہنے لگی۔ (یعنی جتنی ان میں گنجائش تھی) ” فاحتمل السیل زبد رابیا “ فرمایا کہ یہاں پہلی کلام ختم ہوئی۔ نئی کلام شروع ہوئی۔ فرمایا (آیت ) ” ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ اومتاع “ یعنی سامان لوہے کا تانبے کا شیشہ کا اور اسی طرح (اور دھاتوں کا سامان) (آیت ) ” زبد مثلہ “ یعنی لوہے اور زیور کا جھاگ سیلاب کی جھاگ کی طرح ہے۔ (بےقیمت) (آیت ) ” واما ما ینفع الناس “ یعنی پانی سے (آیت) ” فیمکث فی الارض “ زمین کی باقی رہتا ہے۔ (آیت) ” فیذھب جفآء “ یعنی (وہ کوڑا کرکٹ) جما رہتا ہے زمین میں اور رائیگاں چلا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ مثال ہے حق اور باطل کی۔ 10:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” انزل من السمآء مآء الآیہ “ کے بارے میں فرمایا کہ سونے اور چاندی کا زیور یا تانبے اور لوہے کا سامان بنانے کے لئے آگ میں ڈالے جاتے ہیں جیسے کہ آگ جلائی جاتی ہے۔ سونے پر چاندی پر تانبے پر لوہے پر اور اس کا خالص (حصہ) الگ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح حق باقی رہتا ہے۔ ان اپنے ماننے والوں کے لئے اور وہ اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ 11:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عیینہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” انزل من السمآء مآء فسالت اودیۃ بقدرھا “ کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان سے قرآن اتارا اور اس کو کامل مردوں کی عقل نے قبول کیا۔ 12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ (آیت ) ” للذین استجابوا لربھم الحسنی “ سے مراد ہے زندگی اور رزق “ 13:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” للذین استجابوا لربھم الحسنی “ سے مراد ہے جنت۔ 14:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے فرقد سنجی (رح) سے روایت کیا کہ مجھے شھرین بن خوشب نے فرمایا کہ (آیت ) ” سوٓء الحساب “ سے مراد ہے کہ کسی چیز سے بھی درگزر نہ کیا جائے (یعنی کسی عمل کو نہیں چھوڑا جائے گا) 15:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابوالشیخ نے فرقد سنجی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو ابراہیم نخعی (رح) نے فرمایا اے فرقد کیا تو جانتا ہے کہ سوء الحساب کی ہے۔ میں نے کہا نہیں فرمایا وہ یہ ہے کہ کسی آدمی کا ہر گناہ سے حساب لیا جائے۔ اس میں سے ایک چیز کو بھی معاف نہ کیا جائے۔ 16:۔ ابن منذر وابوالشیخ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سوء الحساب “ سے مراد ہے کہ کسی بندے کو اس کے سارے گناہوں کے ذریعہ پکڑا جائے اور اس میں ایک گناہ کو بھی معاف نہ کیا جائے۔ 17:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابو الجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ (آیت) ” سوء الحساب “ سے مراد ہے۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ کے رب کی طر سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے کیا یہ شخص اس شخص کی طرح سے ہوسکتا ہے جو اندھا ہو، نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں

خوب جانچ پڑتال کرکے حساب لینا (سب) اعمال میں : 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نفع اٹھایا جو انہوں نے سنا اللہ کی کتاب میں سے اور اس کو سمجھا اور اس کو یاد رکھا۔ (آیت ) ” کمن ھو اعمی “ (اس شخص کی مانند نہیں ہوسکتا جو اندھا رہا) حق سے نہ اس کو دیکھتا ہے اور نہ اس کو سمجھتا ہے۔ (آیت ) ” انما یتذکراو الوالالباب “ پھر ان کے بارے میں بیان فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں (آیت ) ” الذین یوفون بعھد اللہ “ (یعنی جنہوں نے اللہ کا وعدہ کو پورا کیا ) ۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اولوالالباب “ سے مراد ہے وہ شخص جس کو سمجھ ہو یا عقل ہو۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے عقل والوں کو عتاب فرمایا کیونکہ وہ ان سے محبت رکھتے ہیں اور یہ بات اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت میں میں نے اس کو پایا یعنی یہ (آیت ) ” انما یتذکراو الوالالباب “