56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsبیان القرآن

Ayahs 56:85–86

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

اور ہم (اس وقت) اس (مرنے والے) شخص کے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم سمجھتے نہیں ہو۔ (ف 4)

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

تو (فی الواقع) اگر تمہارا حساب کتاب ہونے والا نہیں ہے۔

ف 4۔ یعنی تم سے زیادہ اس شخص کے حال سے واقف ہوتے ہیں، کیونکہ تم تو صرف ظاہری حالت دیکھتے ہو اور ہم اس کی باطنی حالت پر بھی مطلع ہوتے ہیں۔
Ayahs 56:87–96

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

تو تم اس روح کو (بدن کی طرف) پھر کیوں نہیں لوٹاتے ہو اگر تم سچے ہو۔ (ف 5)

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

پھر (جب قیامت واقع ہوگی تو) جو شخص مقربین میں سے ہوگا۔

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

اس کے لئے تو راحت ہے اور (فراغت کی) غذائیں ہیں اور آرام کی جنت ہے۔

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

اور جو شخص داہنے والوں میں سے ہوگا۔

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

تو اس سے کہا جائے گا کہ تیرے لئے امن وامان ہے کہ تو داہنے والوں میں سے ہے۔

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader

اور جو شخص جھٹلانے والوں (اور) گمراہوں میں سے ہوگا۔

فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader

تو کھولتے ہوئے پانی سے اسکی دعوت ہوگی۔

وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader

اور دوزخ میں داخل ہونا ہوگا۔

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader

بیشک یہ (جو کچھ مذکور ہوا) تحقیق یقینی ہے۔

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:96 in the Quran reader

سو اپنے (اس) عظیم الشان پروردگار کے نام کی تسبیح کیجئے۔

ف 5۔ مطلب یہ کہ قرآن صادق ہے، اور وہ وقوع بع کا ناطق ہے، پس مقتضی وقوع متحقق ہوا، اور مانع کوئی امر ہے نہیں، پس وقوع ثابت ہوگیا، اور اس پر بھی تمہارا انکار اور نفی کئے چلا جانا بدلالت حال اس کو مستلزم ہے، کہ گویا تم روح کو اپنے بس میں سمجھتے ہو کہ گو قیامت میں خدا دوبارہ روح ڈالنا چاہئے جیسا مقتضا قرآن کا ہے، مگر ہم نہ ڈالنے دیں گے اور بعض نہ ہونے دیں گے جب ہی تو ایسی زور سے نفی کرتے ہو، ورنہ جو اپنے کو عاجز جانے وہ دلائل وقوع کے بعد ایسے زور کی بات کیوں کہے۔