51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsبیان القرآن

Ayahs 51:36–42

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

سو بجز مسلمانوں کے ایک گھر کے اور کوئی گھر (مسلمانوں کا) ہم نے نہیں پایا۔ (ف 1)

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور ہم نے اس واقعہ میں (ہمیشہ کے واسطے) ایسے لوگوں کے لئے ایک عبرت رہنے دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان کو فرعون کے پاس ایک کھلی ہوئی دلیل (یعنی معجزہ) دے کر بھیجا۔

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

سو اس نے مع اپنے ارکان سلطنت کے سرتابی کی اور کہنے لگا کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

سو ہم نے اسکو اور اسکے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا (یعنی غرق کردیا) اور اس نے کام ہی ملامت کا کیا تھا۔

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد کے قصہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی۔

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

جس چیز پر گزرتی تھی (یعنی ان اشیاء میں سے کہ جنکے ہلاک کا حکم تھا) اسکو ایسا کر چھوڑتی تھی جیسے کوئی چیز گل کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔

ف 1۔ یہ کنایہ ہے کہ وہاں تھا ہی نہیں کیونکہ وجود کو وجدان بمعنی علم الہی لازم ہے اور انتفاء لازم دلیل ہے اور انتفاء ملزوم کی۔
Ayahs 51:43–47

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود کے قصہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ان سے کہا گیا اور تھوڑے دنوں چین کرلو۔ (ف 2)

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

سو (اس ڈرانے پر بھی) ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی سو انکو عذاب نے آلیا اور وہ (اس عذاب کے آثار کو) دیکھ رہے تھے۔

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

سو نہ تو کھڑے ہی ہو سکے اور نہ (ہم سے) بدلہ لے سکے۔

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور ان سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) کا یہی حال ہوچکا تھا (یعنی اس سبب سے کہ) وہ بڑے نافرمان لوگ تھے۔

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں کو (اپنی) قدرت سے بنایا اور ہم وسیع القدرت ہیں۔

ف 2۔ یعنی فکر سے باز نہیں آوگے تو بعد چندے ہلاک ہوگے۔
Ayah 51:48

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور ہم نے زمین کو فرش ( کے طور پر) بنایا سو ہم (کیسے) اچھے بچھانے والے ہیں۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی اس میں کیسے کیسے منافع رکھے ہیں۔
Ayah 51:49

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم بنایا (ف 4) تاکہ تم (ان مصنوعات سے توحید کو) سمجھو۔

ف 4۔ دو قسم سے مراد مقابل ہے سو ظاہر ہے کہ ہر شے میں کوئی نہ کوئی صفت ذاتیہ یا عرضیہ ایسی معتبر ہوتی ہے جس سے دوسری چیز جس میں اس صفت کی نقیض یا ضد ملحوظ ہو، اس کے مقابل شمار کی جاتی ہے جیسے آسمان و زمین، جو ہر و عرض، گرمی سردی، شیریں تلخ، چھوٹی بڑی، خوشنما بد نما، سفیدی سیاہی، روشنی تاریکی، وعلی ہذا۔
Ayahs 51:50–52

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

تو تم اللہ ہی کی (توحید کی) طرف دوڑو میں تمہارے (سمجھانے کے) واسطے اللہ کی طرف سے کھلا ڈرانیوالا (ہوکر آیا) ہوں۔ (ف 5)

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود مت قرار دو میں تمہارے واسطے اللہ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہوگزرے ہیں انکے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جس کو انہوں نے ساحر یا مجنون نہ کہا ہو۔

ف 5۔ آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ آپ واقع میں بلا شبہ نذیر مبین ہیں، جیسا ابھی مذکور ہوا، لیکن یہ آپ کے مخالفین ایسے جاہل ہیں کہ نعوذ باللہ آپ کو کبھی ساحر کبھی مجنون بتاتے ہیں سو آپ صبر کیجئے۔
Ayahs 51:53–55

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے آتے ہیں (ف 6) بلکہ یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں۔ (ف 7)

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

سو آپ انکی طرف التفات نہ کیجئے ․آپ پر کسی طرح کا الزام نہیں۔

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

اور سمجھاتے رہیئے کیونکہ سمجھانا ایمان (لانے) والوں کو (بھی) نفع دے گا۔

ف 6۔ یعنی یہ اجماع تو ایسا ہوگیا جیسے ایک دوسرے کو کہتے چلے آتے ہوں کہ دیکھو جو رسول آئے تم بھی ہماری طرح کہنا۔ 7۔ یعنی سبب اس قول کا طغیان ہے۔
Ayahs 51:56–57

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور میں نے جن اور انسان کو اسی واسطے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کیا کریں۔ (ف 1)

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

میں ان سے (مخلوق کی) رزق رسانی کی درخواست نہیں کرتا اور نہ یہ کہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ مجھکو کھلایا کریں۔

ف 1۔ حاصل ارشاد کا یہ ہے کہ مجھ کو مطلوب شرعی ان سے عبادت ہے۔
Ayahs 51:58–60

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

اللہ خود ہی سب کو رزق پہنچانے والا قوت والا نہایت قوت والا ہے۔ (ف 2)

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

تو ان ظالموں کی (سزا کی) بھی باری (علم الہٰی) میں مقرر ہے جیسے ان کے (گذشتہ) ہم مشربوں کی باری (مقرر) تھی۔ سو مجھ سے (عذاب) جلدی طلب نہ کریں۔

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

غرض ان کافروں کے لئے اس دن کے آنے سے بڑی خرابی ہوگی جسکا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

ف 2۔ حاصل یہ کہ جب اس عبادت کے مشروع کرنے سے ہماری کوئی غرض نہیں بلکہ خود بندوں ہی کا نفع ہے تو ان کو اس میں پس و پیش نہ کرنا چاہئے۔