20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsبیان القرآن

Ayahs 20:120–123

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

پھر ان کو شیطان نے بہکایا کہنے لگا کہ آدم (علیہ السلام) کیا میں تم کو ہمیشگی (کی خاصیت) کا درخت بتلاؤں (ف 3) اور ایسی بادشاہی کہ جس میں کبھی ضعف نہ آوے۔

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

سو (اس کے بہکانے سے) دونوں نے اس درخت سے کھالیا تو ان دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور (اپنا بدن ڈھاپنے کو) دونوں اپنے اوپر جنت کے (درختوں کے) پتے چپکانے لگے اور آدم (علیہ السلام) سے اپنے رب کا قصور ہوگیا سو غلطی میں پڑگئے۔

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر ان کو ان کے رب نے (زیادہ) مقبول بنا لیا سو اس پر توجہ فرمائی اور راہ (راست) پر (ہمیشہ) قائم رکھا۔

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا دونوں کے دونوں جنت سے اترو اور (دنیا میں) ایسی حالت سے (جاؤ) کہ ایک کا دشمن ایک ہوگا پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو (تم میں) جو شخص میری اس ہدایت کا اتباع کرے گا تو وہ نہ دنیا میں گمراہ ہوگا اور نہ آخرت میں شقی ہوگا۔

ف 3۔ کہ اس کے کھانے سے ہمیشہ شادو آباد رہو۔
Ayahs 20:124–127

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو شخص میری اس نصیحت سے اعتراض کرے گا تو اس کے لیے تنگی کا جینا ہوگا (ف 4) اور قیامت کے روز ہم اس کو اندھا کر کے (قبر سے) اٹھائیں گے۔

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ (تعجب سے) کہے گا اے میرے رب آپ نے مجھ کو اندھا کر کے کیوں اٹھایا میں تو (دنیا میں) آنکھوں والا تھا۔

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

ارشاد ہوگا کہ ایسا ہی تیرے پاس ہمارے احکام پہنچے تھے پھر تو نے ان کا کچھ خیال نہ کیا اور ایسا ہی آج تیرا کچھ خیال نہ کیا جاوے گا۔

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور اسی طرح (ہر) اس شخص کو ہم (مناسب عمل کے) سزا دیں گے جو حد (اطاعت) سے گزر جاوے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاوے اور واقعی آخرت کا عذاب ہے بڑا سخت اور بڑا دیرپا ہے۔

ف 4۔ یعنی قیامت سے پہلے دنیا اور قبر میں۔ فائدہ : معیشة ضنک قبر میں تو ظاہر ہے کہ قبر کافر پر تنگ ہوگی اور طرح طرح سے اس پر عذاب ہوگا، اور دنیا میں تنگی باعتبار قلب کے ہے کہ ہر وقت دنیا کی حرص میں، ترقی کی فکر میں، کمی کے اندیشہ میں بےآرام رہتا ہے، گو کوئی کافر بےفکر بھی ہو لیکن اکثر کی حالت یہی ہے۔
Ayah 20:128

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو (اب تک) اس سے بھی ہدایت نہیں ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کرچکے ہیں کہ ان (میں بعض) کے رہنے کے مقامات میں یہ لوگ بھی چلتے (پھرتے) ہیں اس میں تو اہل فہم کے لیے (کافی) دلائل موجود ہیں۔ (ف 1)

ف 1۔ شام کو جاتے ہوئے اہل مکہ کے رستہ میں بعض ان قوموں کے مساکن آتے تھے۔
Ayah 20:129

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے فرمائی ہوئی نہ ہوتی اور (عذاب کے لیے) ایک معیاد معین نہ ہوتی (کہ وہ قیامت کا دن ہے) تو عذاب لازمی طور پر ہوتا۔ (ف 2)

ف 2۔ خلاصہ یہ کہ کفر تو مقتضی عذاب کا ہے، لیکن ایک مانع سے توقف ہورہا ہے پس ان کا وہ شبہ اور تمسک عدم وقوع عذاب سے غلط ہے۔
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

سو آپ ان کی باتوں پر صبر کیجیئے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ (اس کی) تسبیح کیجیئے (اس میں نماز بھی آگئی) آفتاب نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے اور اوقات شب میں (بھی) تسبیح کیا کیجیئے (مثلاً نماز مغرب عشاء) اور دن کے اول و آخر میں تاکہ (آپ کو جو ثواب ملے) آپ (اس سے) خوش ہوں۔ (ف 3)

ف 3۔ مطلب یہ کہ آپ اپنی توجہ معبود حقیقی کی طرف رکھیئے ان کی فکر نہ کیجئے۔
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور ہرگز ان چیزوں کی طرف آپ آنکھ اٹھا کر مت دیکھیئے جن سے ہم نے کفار کے مختلف گروہوں کو ان کی آزمائش کے لیے متمتع کر رکھا ہے (وہ محض) دنیوی زندگی کی رونق ہے (ف 4) اور آپ کے رب کا عطیہ (جو آخرت میں ملے گا) بدجہ بہتر ہے اور دیرپا ہے۔ (ف 5)

ف 4۔ مطلب اوروں کو سنانا ہے، کہ جب معصوم کے لئے یہ ممانعت ہے جنہیں احتمال بھی نہیں تو غیر معصوم کو تو اس کا اہتمام کیونکر ضروری نہ ہوگا، آزمائش یہ کہ کون احسان مانتا ہے اور کون سرکشی کرتا ہے۔ 5۔ خلاصہ کلام کا یہ ہوا کہ نہ ان کی اعراض کی طرف التفات کیا جاوے نہ ان کے اعراض کی طرف، سب کا انجام عذاب ہے۔
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے متعلقین کو بھی نماز کا حکم کرتے رہیئے اور خود بھی اس کے پابند رہیئے (ف 6) ہم آپ سے معاش (کموانا) نہیں چاہتے معاش تو ہم آپ کو دیں گے (ف 7) اور بہتر انجام تو پرہیزگاری ہی کا ہے۔

ف 6۔ یعنی زیادہ توجہ کے قابل یہ امور ہیں۔ 7۔ یعنی مقصود اصلی اکتساب نہیں بلکہ دین اور طاعت ہیں، اکتساب کی اسی حالت میں اجازت یا امر ہے کہ ضروری طاعت میں وہ مخل نہ ہو۔
Ayahs 20:133–135

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور وہ لوگ (عناداً ) یوں کہتے ہیں کہ یہ (رسول) ہمارے پاس کوئی نشانی (اپنی نبوت کی) کیوں نہیں لاتے (جواب یہ ہے کہ) کیا ان کے پاس پہلے کتابوں کے مضامین کا ظہور نہیں پہنچا۔ (ف 8)

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم ان کو قبل قرآن آنے کے (سزائے کفر میں) کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ لوگ (بطور عذر کے) یوں کہتے اے ہمارے رب آپ نے ہمارے پاس کوئی رسول دنیا میں کیوں نہیں بھیجا کہ ہم آپ کے احکام پر چلتے قبل اس کے کہ ہم (یہاں خود) بےقدر ہوں اور (دوسروں کی نگاہوں میں) رسوا ہوں۔

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ (ہم) سب انتظار کر ہے ہیں سو (چندے) اور انتظار کرلو اب عنقریب تم کو (بھی) معلوم ہوجاوے گا کہ راہ راست والے کون ہیں اور وہ کون ہے جو (منزل) مقصود تک پہنچا۔

ف 8۔ مطلب یہ کہ کیا ان کے پاس قرآن نہیں پہنچا جس کی پہلے سے شہرت تھی کہ وہ نبوت پر کافی دلیل ہے۔