20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsبیان القرآن

Ayahs 20:40–41

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

(یہ قصہ اس وقت کا ہے) جب کہ تمہاری بہن چلتی ہوئی آئیں پھر کہنے لگیں کہ کیا تم لوگوں کو ایسے شخص کا پتہ دوں جو اس کو (اچھی طرح) پالے رکھے پھر (اس تدبیر سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کو غم نہ رہے اور تم نے غلطی سے ایک شخص (قبطی) کو جان سے مار ڈالا (ف 4) پھر ہم نے تم کو اس غم سے نجات دی اور ہم نے تم کو خوب خوب محنتوں میں ڈالا پھر (مدین پہنچے اور) مدین والوں میں کئی سال رہے پھر ایک خاص وقت پر تم (یہاں) آئے اے موسیٰ ۔

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور (یہاں آنے پر) میں نے تم کو اپنے لیے منتخب کیا۔

ف 4۔ اور مار کر غم ہوا خوف عقاب سے بھی اور خوف انتقام سے بھی۔
Ayahs 20:42–51

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

(سو اب) تم اور تمہارے بھائی دونوں میری نشانیاں (یعنی معجزات) لے کر جاؤ اور میری یادگاری میں سستی مت کرنا۔ (ف 5)

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ بہت نکل چلا ہے۔

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

پھر اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید وہ (برغبت) نصیحت قبول کرلے یا (عذاب الہیٰ سے) ڈر جائے۔

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں نے عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو اندیشہ ہے کہ (کہیں) وہ ہم پر زیادتی نہ کر بیٹھے یا یہ کہ زیادہ شرارت نہ کرنے لگے۔

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

ارشاد ہوا کہ تم اندیشہ نہ کرو (کیونکہ) میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سب دیکھتا سنتا ہوں۔

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

سو تم اس کے پاس جاؤ اور (اس سے) کہو کہ ہم دونوں تیرے پروردگار کے فرستادے ہیں (کہ ہم کو نبی بنا کر بھیجا ہے) سو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کو تکلیفیں مت پہنچا تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے (نبوت کا) نشان (یعنی معجزہ بھی) لائے ہیں اور ایسے شخص کے لیے سلامتی ہے (جو سیدھی) راہ پر چلے۔

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہمارے پاس یہ حکم پہنچا ہے کہ (الله کا) عذاب اس شخص پر ہوگا جو (حق کو) جھٹلا وے اور (اس سے) رو گردانی کرے۔

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

وہ کہنے لگا کہ پھر (یہ بتلاؤ کہ) تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ (علیہ السلام) ۔

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (ہمارا سب کا) رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے مناسب بناوٹ عطا فرمائی پھر رہنمائی فرمائی۔

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

فرعون نے کہا اچھا تو پہلے لوگوں کا کیا حال ہوا۔

ف 5۔ اصل دو معجزے ہیں عصا و ید بیضائ، اور ہر ایک میں وجوہ اعجاز متعدد ہیں۔
Ayah 20:52

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ان لوگوں کا علم میرے پروردگار کے پاس دفتر (اعمال) میں (محفوظ) ہے میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ (ف 1)

ف 1۔ پس ان کے اعمال کا صحیح صحیح علم اس کو حاصل ہے، مگر عذاب کے لئے وقت مقرر کر رکھا ہے، جب وہ وقت آوے گا وہ عذاب ان پر جاری کردیا جاوے گا، پس دنیا میں عذاب نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کفر و تکذیب علت عذاب کی نہ ہو۔
Ayahs 20:53–54

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ (رب) ایسا ہے جس نے تم لوگوں کے لیے زمین کو (مثل) فرش (کے) (ف 2) بنایا اور اس (زمین) میں تمہارے (چلنے کے) واسطے راستے بنائے اور آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس (پانی) کے ذریعے سے اقسام مختلفہ کے نباتات پیدا کیے۔

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

(اور تم کو اجازت دی کہ) خود (بھی) کھاؤ اور اپنے مواشی کو (بھی) چراؤ ان سب چیزوں میں اہل عقل کے واسطے (قدرت الہٰیّہ) کی نشانیاں ہیں۔

ف 2۔ کہ اس پر آرام کرتے ہو۔
Ayah 20:55

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

ہم نے تم کو اسی زمین سے پیدا کیا (ف 3) اور اسی میں ہم تم کو (بعد موت) لے جاویں گے (ف 4) اور (قیامت کے روز) پھر دوبارہ اس سے ہم تم کو نکال لیں گے۔

ف 3۔ چناچہ آدم (علیہ السلام) مٹی سے بنائے گئے، سو ان کے واسطے سے سب کا مادہ بعید خاک ہوئی۔ 4۔ چناچہ کوئی مردہ کسی حالت میں ہو لیکن آخر کو گو مدتوں کے بعد سہی مگر مٹی میں ضرور ملے گا۔
Ayah 20:56

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اپنی وہ سب نشانیاں دکھلائیں (ف 5) سو وہ جھٹلایا ہی کیا اور انکار کرتا رہا۔

ف 5۔ جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھیں۔
Ayahs 20:57–60

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

اور کہنے لگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تم ہمارے پاس اس واسطے آئے ہو (گے) کہ ہم کو ہمارے ملک سے اپنے جادو (کے زور) سے نکال باہر کرو۔ (ف 6)

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

سو اب ہم بھی تمہارے مقابلہ میں ایسا ہی جادو لاتے ہیں تو ہمارے اور اپنے درمیان میں ایک وعدہ مقرر کرلو جس کا نہ ہم خلاف کریں اور نہ تم خلاف کرو کسی ہموار میدان میں (تاکہ سب دیکھ لیں) ۔

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تمہارے (مقابلہ کے) وعدہ کا وقت وہ دن ہے جس میں (تمہارا) میلہ ہوتا ہے اور (جس میں) دن چڑھے لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

غرض (یہ سن کر) فرعون (دربار سے) لوٹ گیا پھر اپنا مکر کا (یعنی جادو کا) سامان جمع کرنا شروع کیا۔

ف 6۔ اور خود عوام کو فریفتہ اور تابع بنا کر رئیس بن جاو۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

پھر آیا (ف 7) (اس وقت) موسیٰ (علیہ السلام) نے ان (جادوگر) لوگوں سے فرمایا کہ ارے کمبختی مارو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افتراء مت کرو (ف 8) کبھی خدا تعالیٰ تم کو کسی قسم کی سزا سے بالکل نیست و نابود ہی کر دے اور جو جھوٹ باندھتا ہے وہ (آخر کو) ناکام رہتا ہے۔

ف 7۔ یعنی اس میدان میں جہاں وعدہ ٹھہرا تھا آیا۔ 8۔ کہ اس کے وجود یا توحید کا انکار کرنے لگو، یا اس کے ظاہر کئے ہوئے معجزات کو سحر بتلانے لگو۔
Ayahs 20:62–65

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پس جادوگر (یہ بات سن کر) باہم اپنی رائے میں اختلاف (ف 9) کرنے لگے اور خفیہ گفتگو کرتے رہے۔

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

(آخرکار سب متفق ہو کر) کہنے لگے کہ یہ بیشک دونوں جادوگر ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہاری زمین سے نکال باہر کریں اور تمہارے عمدہ (مذہبی) طریقہ کا دفتر ہی اٹھا دیں۔

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

سو اب تم مل کر اپنی تدبیر کا انتظام کرو اور صفیں آراستہ کر کے مقابلہ میں آؤ اور آج وہی کامیاب ہے جو غالب ہوا۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

پھر انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ (اپنا عصا) پہلے ڈالیں گے یا ہم پہلے ڈالنے والے بنیں۔

ف 9۔ ان دونوں حضرات کے بارہ میں۔
Ayah 20:66

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

آپ نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے ڈالو (ف 1) پس یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کی نظر بندی سے موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال میں ایسی معلوم ہونے لگیں جیسے (سانپ کی طرح) چلتی دوڑتی ہوں۔

ف 1۔ چناچہ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور نظر بندی کردی۔
Ayahs 20:67–68

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

سو موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں تھوڑا سا خوف ہوا۔ (ف 2)

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا تم ڈرو نہیں تم ہی غالب رہو گے۔

ف 2۔ یعنی خوف ہوا کہ جب دیکھنے میں یہ رسیاں اور لاٹھیاں بھی سانپ معلوم ہوتی ہیں، اور میرا عصا بھی بہت سے بہت سانپ بن جاوے گا تو دیکھنے والے تو دونوں چیزوں کو ایک ہی سا سمجھیں گے، تو حق و باطل میں امتیاز کس طرح کریں گے۔
Ayah 20:69

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور (اس کی صورت یہ ہے کہ) یہ تمہادے داہنے ہاتھ میں جو (عصا) ہے اس کو ڈال دو ان لوگوں نے جو کچھ (سانگ) بنایا ہے یہ (عصا) سب کو نکل جاوے گا یہ جو کچھ بنایا ہے جادوگروں کا سانگ ہے اور جادوگر کہیں جاوے کامیاب نہیں ہوتا۔ (ف 3)

ف 3۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی تسلی ہوگئی کہ اب امتیاز خوب ہوسکتا ہے۔ چناچہ انہوں نے عصا ڈالا اور وہ واقعی سب کو نگل گیا۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

سو جادوگر سجدے میں گر گئے (ف 4) کہا ہم تو ایمان لے آئے ہارون (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے پروردگار پر۔

ف 4۔ انہوں نے جو فعل فوق السحر دیکھا سمجھ گئے کہ یہ بیشک معجزہ ہے۔
Ayahs 20:71–73

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

فرعون نے کہا بدون اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں تم موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے واقعی (وہ سحر میں) تمہارے بھی بڑے ہیں کہ انھوں نے تم کو سحر سکھلایا ہے (ف 5) سو میں تم سب کے ہاتھ پاؤں کٹواتا ہوں ایک طرف کا ہاتھ اور ایک طرف کا پاؤں اور تم سب کو کھجوروں کے درختوں پر ٹنگواتا ہوں اور یہ بھی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ ہم دونوں میں (یعنی مجھ میں اور رب موسیٰ (علیہ السلام) میں) کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر پا ہے۔

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

ان لوگوں نے صاف جواب دے دیا کہ ہم تجھ کو کبھی ترجیح نہ دیں گے بمقابلہ دلائل کے جو ہم کو ملے ہیں اور بمقابلہ اس ذات کے جس نے ہم کو پیدا کیا ہے تجھ کو جو کچھ کرنا ہے (دل کھول کر) کر ڈال تو بجز اس کے کہ اس دنیاوی زندگی میں کچھ کرلے اور کر ہی کیا سکتا ہے۔

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

پس اب تو ہم اپنے پروردگار پر ایمان لا چکے تاکہ ہمارے (پچھلے گناہ کفر وغیرہ معاف کردیں اور تو نے جو جادو (کے مقدمہ) میں ہم پر زور ڈالا اس کو بھی معاف کردیں اور اللہ تعالیٰ (تجھ سے) بدجہا اچھے ہیں اور زیادہ بقا والے ہیں۔

ف 5۔ فرعون کا یہ کہنا کہ علمکم السحر عوام کو فریب دینے کے لئے تھا، ورنہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی بےتعلقی وہ بھی جانتا تھا۔
Ayahs 20:74–76

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

جو شخص (بغاوت کا) مجرم ہو کر اپنے رب کے پاس حاضر ہوگا سو اس کے لیے دوزخ (مقرر) ہے اسمیں نہ مرے گا نہ جیئے گا۔ (ف 6)

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو شخص رب کے پاس مومن ہو کر حاضر ہوگا جس نے نیک کام بھی کیے ہوں سو ایسوں کے لیے بڑے اونچے درجے ہیں۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے اور جو شخص (کفر و معصیت سے) پاک ہو اس کا یہی انعام ہے۔

ف 6۔ نہ مرنا تو ظاہر ہے، اور نہ جینا یہ کہ جینے کا آرام نہ ہوگا۔
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ ہمارے (ان) بندوں (یعنی بنی اسرائیل کو مصر سے) راتوں رات (باہر) لے جاؤ (ف 1) پھر ان کے لیے دریا میں (عصا مار کر) خشک رستہ بنادینا نہ تو تم کو کسی کے تعاقب کا اندیشہ ہوگا اور نہ اور کسی قسم کا خوف ہوگا۔ (ف 2)

ف 1۔ اور دور چلے جاو تاکہ فرعون کے ظلم و شدائد سے ان کو نجات ہو۔ 2۔ کیونکہ اہل تعاقب کامیاب نہ ہوں گے گو تعاقب کریں گے۔
Ayah 20:78

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پس فرعون اپنے لشکروں کو لے کر ان کے پیچھے چلا (ف 3) تو دریا ان پر جیسا ملنے کو تھا آ ملا۔ (ف 4)

ف 3۔ بنی اسرائیل موافق وعدہ الہیہ کے دریا سے پار ہوگئے اور ہنوز وہ راستے اسی طرح اپنی حالت پر تھے تو فرعونیوں نے کچھ آگا پیچھا سوچا نہیں ان کے راستہ پر ہولئے۔ 4۔ اور سب غرق ہو کر رہ گئے۔
Ayah 20:79

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون اپنی قوم کو بری راہ لایا اور نیک راہ ان کو نہ بتلائی۔ (ف 5)

ف 5۔ بری راہ ہونا ظاہر ہے کہ دنیا کا بھی ضرر ہوا اور آخرت کا بھی۔