68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 68:34–41

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

یقینا پرہیز گاروں کے لئے ان کے رب کے پاس نعمتوں سے بھرپور جنتیں ہیں۔

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم فرماں برداروں اور نافرمانوں کو برابر کردیں گے ؟

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا تم کیسے فیصلے کرتے ہو ؟

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ تمہیں وہ سب کچھ مل جائے گا جس کی تم خواہش کرتے ہو۔

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

کیا تم نے ہم سے قیامت تک کے لئے قسم لے لی ہے کہ جو تم فیصلہ کرر ہے ہو وہی تمہیں ملے گا ؟

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان سے پوچھئے کہ ان میں اس طرح کی (غیر زمہ دارانہ) باتوں کا ذمہ دار کون ہے ؟

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا انہوں نے اللہ کے ساتھ جنہیں شریک کر رکھا ہے (انہوں نے یہ تجویز کیا ہے) تو پھر تم اپنے شریک معبودوں کو لے آؤ اگر تم سچے ہو۔

لغات القرآن۔ تدرسون۔ تم پڑھتے ہو۔ تخیرون۔ تم پسند کرتے ہو۔ ایمان۔ قسمیں۔ تشریح : مکہ کے کفار و مشرکین اپنی معمولی دولت اور چھوٹی چھوٹی سرداریوں کی وجہ سے اس طرح غرور وتکبر کے پیکر بنے ہوئے تھے کہ اپنے سوا ہر ایک کو حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ جس طرح وہ اس دنیا مین عیش و آرام سے زندگی گزار رہے ہیں آخرت میں بھی اسی طرح راحت و آرام سے رہیں گے اور ان کے دیوی دیوتا ان کی سفارش کرکے جنت کی راحتوں سے ہم کنار کرادیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے خوش فہمی میں مبتلا ایسے لوگوں سے فرمایا ہے کہ جنت اور اس کی بھرپور نعمتوں کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ایمان، عمل صالح، تقویٰ اور پرہیز گاری کو اختیار کر رکھا تھا لیکن جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو معبود بنا رکھا تھا اور وہ لوگ جو اس کی ذات اور صفات میں شرک کیا کرتے تھے ان کو جنت کی راحتوں ، عیش و آرام کے بجائے جہنم کی اس آگ میں جھلسنا ہوگا جس میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ فرمایا کہ یہ بات اللہ کے عدل و انصاف کے خلاف ہے کہ وہ فرماں برداروں اور نافرمانوں کے ساتھ ایک جیسا معاملہ کرکے ان کا انجام یکساں کردے۔ بلکہ اس کے عدل و انصاف کا تقاضا یہ یہ کہ وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے۔ فرمایا کہ جو لوگ ایسا سمجھتے یا کہتے ہیں ان کے پاس اپنی بات کو ثابت کرنے کی کیا دلیل ہے ؟ کیا ان پر کوئی ایسی کتاب اتاری گئی ہے جسے پڑھ کر یہ ایسی بہکی بہکی نادانی کی باتیں کر رہے ہیں۔ یا اللہ نے ان کے لئے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ کیسے ہی اعمال کرتے رہیں مگر جنت کی راحتیں ہر حال میں ان کو دی جائیں گی بہتر ہے کہ ایسے لوگ اپنے خیال کی اصلاح کرلیں اور ایسی غیر ذمہ دارانہ باتوں سے اپنی دنیا اور اخرت کو برباد نہ کریں۔ آخر وہ کون سے معبود ہیں جو ان کی سفارش کرکے انکو جنت کی راحتوں سے ہمکنار کردیں گے۔ اگر وہ اپنے دعوے اور باتوں میں سچے ہیں تو وہ گواہی کیلئے پیش کریں۔
Ayahs 68:42–52

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

وہ دن جب پنڈلی کھول دی جائے گی (اللہ تجلی فرمائیں گے) اور لوگوں کو سجدے کی طرف بلایا جائے گا۔ پھر وہ (کافر) سجدہ نہ کرسکیں گے۔

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

ان کی نظریں جھکی ہوئی ہونگی اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ وجہ یہ ہے کہ جب انہیں (دنیا میں) سجدے کی طرف بلا یا جاتا تھا ( اور نہیں آتے تھے) حالانکہ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھے۔

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ میرے اور ان لوگوں کے معاملے کو مجھ پر چھوڑئیے۔ ہم انہیں بہت جلد ایک ایسے عذاب کے قریب لے آئیں گے جس کی انہیں خبر تک نہ ہوگی۔

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

(اگرچہ) میں ان کو مہلت (ڈھیل) دے رہا ہوں۔ بیشک میری تدبیر بہت مضبوط ہے۔

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا آپ ان سے ( اس تبلیغ دین پر) کوئی اجرت مانگ رہے ہیں کہ جس کے بوجھ تلے یہ دبے جا رہے ہیں۔

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

یا ان کے پاس غیب کا کوئی علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں۔

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ صبر سے اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجئے۔ اور آپ مچھلی والے (حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح نہ ہوجائیے۔ جب انہوں نے اپنے پروردگار کو اس طرح پکارا تھا کہ وہ غم و غصے سے بھرے ہوئے تھے۔

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اور اگر اس پروردگار کا کرم ان کی دستگیری نہ کرتا تو وہ (مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد) چٹیل میدان میں پھینک دئیے گئے ہوتے اور ان کا برا حال ہوجاتا۔

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر ان کے رب نے انہیں نوازا اور ان کو صالحین میں سے کردیا۔

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور جب یہ کفار قرآن سنتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تیز تیز نظروں سے آپ کو ڈگمگا دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ ایک دیوانہ آدمی ہے۔

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

حالانکہ وہ قرآن تو سارے جہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے۔

لغات القرآن۔ یکشف۔ کھول دیا جائے گا۔ ساق۔ پنڈلی۔ یدعون۔ وہ بلائے جائیں گے۔ خاشعۃ۔ جھکنے والی۔ ترھق۔ وہ ڈھانپ لیتی ہے۔ سالمون۔ صحیح سالم۔ ہٹے کٹے۔ ذرنی۔ مجھے چھوڑو۔ نستدرج۔ ہم آہستہ آہستہ لئے جاتے ہیں۔ املی۔ میں نے مہلت دی۔ کیدی۔ میری تدبیر۔ مغرم۔ تاوان۔ مثقلون۔ بوجھ کے نیچے دبے ہوئے۔ صاحب الحوت۔ مچھلی والا (حضرت یونس (علیہ السلام) ) ۔ مکظوم۔ غم میں گھونٹ دیا گیا۔ العرائ۔ چٹیل میدان۔ یزلقون۔ وہ جگہ سے ہٹے ہیں۔ پھسل جاتے ہیں۔ تشریح : جب کفار و مشرکین اور منافقین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کلام اللہ کو پیش کرتے تو وہی مکہ کے لوگ جو ان کو صادق و امین کہتے اور ان کی فہم و فراست کے گن گایا کرتے تھے آپ پر طرح طرح کے اعتراض اور طعنے دیتے۔ گستاخی اور جہالت کی انتہا یہ تھی کہ وہ آپ کو دیوانہ تک کہہ دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی سچائیوں کو ان کے سامنے رکھ کر یہ فرمایا تھا کہ جو نبی ﷺ ” خلق عظیم “ کے مالک ہیں وہ دیوانے کیسے ہوسکتے ہیں ؟ قسم کھا کر فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ دیوانے نہیں ہیں بلکہ وہ بہت جلد دیکھ لیں گے کہ اللہ کے نبی کو دیوانہ کہنے والے خود ہی دیوانگی کا شکار تھے۔ فرمایا کہ ” یوم یکشف عن ساق “ اس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی جن حقیقتوں پر اب تک غیب کے پردے پرے ہوئے تھے وہ ساری حقیقتیں بےنقاب ہوجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ایسی صورت میں تجلی فرمائیں گے جو اب تک ظاہر نہ ہوئی تھی۔ اس تجلی الٰہی کو دیکھ کر وہ تمام مومن مرد اور مومن عورتیں جو دنیا میں اللہ کے سامنے سجدے کیا کرتے تھے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے لیکن وہ منافقین جو جھوٹے اور دکھاوے کے سجدے کرتے تھے وہ اس سجدے سے محروم رہیں گے۔ وہ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں گے۔ اہل ایمان کے سجدوں کی قبولیت تو یہ ہوگی کہ اللہ ان کے سجدوں کو قبول و منظور فرمائیں گے اور جو سجدہ نہ کرسکیں گے دہشت اور شرمندگی سے ان کی نظریں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ہر طرف سے ذلت و رسوائی اور عذاب کا خوف مسلط ہوگا۔ یہ اس بات کی سزا ہوگی کہ دنیا میں جب ان کو اللہ کے سامنے سجدہ کرنے کی طرف بلا یا جاتا تھا تو صحت و تندرستی کے باوجود وہسجدہ کرنے سے گریز کیا کرتے تھے اور دنیا دکھاوے کے لئے سجدہ کرلیا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ ! آپ پوری طرح سے اللہ پر بھروسہ کیجئے اور جو لوگ میرے کلام کو جھٹلا رہے ہیں ان سے میں خود ہی نبٹ لوں گا اور ان کو میں اس طرح ان کو تباہی و بربادی کی طرف لے جاؤں گا کہ ان کو خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کی رستی دراز کرکے ڈھیل دیتا چلا جاؤں گا اور ایک دن ان کو پکڑ کر سخت سزا دوں گا اور میری اس تدبیر کی ان کو ہوا تک نہ لگے گی کیونکہ میری تدبیر زبردست تدبیر ہوا کرتی ہے۔ فرمایا کہ جب آپ ان کفار و مشرکین اور منافقین کو اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں تو وہ آپ کا احسان ماننے کے بجائے یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے آپ ان سے کسی ایسی اجرت کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ جس کے بوجھ تلے یہ دبے جا رہے ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ ان سے بالکل واضح طریقے پر کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ دین پر کوئی اجرت اور معاوضہ تو نہیں مانگ رہا ہوں کہ جس کے نیچے تم دبے جا رہے ہو۔ اور ان سے پوچھئے کہ کہا تمہارے پاس کوئی غیب کا علم ہے جس کی تمہیں خبر ہے کہ تمہارے ساتھ بہترین معاملہ کا جائے گا ؟ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ صبر و تحمل سے کام لیجئے اور اپنے پروردگار کے حکم کا انتظار کیجئے اور مچھلی والے پیغمبر یعنی حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح فیصلے میں جلدی نہ کیجئے کہ جسطرح انہوں نے اپنی قوم کو نافرمانیوں سے تنگ آخر اپنے پروردگار سے عرض کیا الٰہی ! یہ قوم توبہ کے لئے تیار نہیں ہے آپ اپنا فیصلہ فرما دیجئے (یعنی عذاب بھیج دیجئے) وہ اس وقت شدید کرب اور غم و غصہ سے بھرے ہوئے تھے چناچہ اللہ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا وعدہ کرلیا۔ جب حضرت یونس (علیہ السلام) کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ اب اس قوم پر اللہ کا عذاب آنے والا ہے تو آپ اللہ کی اجازت کے بغیر وہاں چے چل دئیے حالانکہ انہیں اشارہ الٰہی کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ وہاں چل کر وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی والوں نے کسی وجہ سے ان کو پانی میں پھینک دیا۔ ادھر اللہ کے حکم سے ایک بہت بڑی مچھلی نے ان کو نگل لیا۔ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں اللہ سے فریاد کرنے لگے تو اس مچھلی نے انکو ایک کنارے پر اگل دیا۔ اس کنارے اور چٹیل میدان میں اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی۔ شدید تکلیفیں اٹھائیں ان کی قوم نے توبہ کرلی اور حضرت یونس (علیہ السلام) پھر اپن قوم میں پہنچ گئے اور اس طرح اللہ نے ان کی دستگیری فرمائی۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا کہ آپ اپنی قوم کی نافرمانیوں سے مایوس نہ ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ خودہی آپ کی دستگیری فرمائیں گے۔ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے اس طعنے کا ذکر کیا تھا جو آپ کو دیوانہ کہتے تھے۔ اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر آپکو ان کے طعنوں پر تسلی دی ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! جب یہ کفار قرآن کریم کو سنتے ہیں تو وہ آپ کو ایسی تیز اور غضب ناک آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جیسے وہ اپنی تیز نظروں سے آپ کو راہ مستقیم سے ڈگمگا دیں گے اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ ان کی باتیں نہ سنو یہ دیوانے کی باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سنو ! یہ اللہ کا کلام ہے جو سارے جہاں والوں کے لئے ایک نصیحت ہے لیکن بدقسمت لوگ اس سے فائدہ اتھانے کے بجائے اس پیغام حق کے لئے رکاوٹیں پید اکر رہے ہیں لیکن ان کو اس میں کامیابی نہ ہوگی بلکہ یہ پیغام حق ساری دنیا تک پہنچ کر رہے گا۔ ان آیات پر سورة القلم کو ختم کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں نبی مکرم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی عظمت نصیب فرمائے اور ہمیں اس پیغام حق کو ساری دنیا تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔