Ayahs 56:57–74لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74
تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 57 تا 74
ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ دنیا چاہے تو اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور اگر نہ دینا چاہے تو اس کو کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔
فرمایا کہ اس نے رزق عطا فرمایا جس کے حاصل کرنے میں انسان کو زیندہ محنت نہیں کرنا پڑی بلکہ ایک کام وہ کرتا ہے اور نناوے کام اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مثلاً نطفہ جو ایک معملوی سا بےجان قطرہ ہے وہ میاں بیوی کے تعلق کے بعد رحم مادر میں ٹھہر جاتا ہے جو اللہ کے نظام کے تحت آہستہ آہستہ انسانی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ ہڈیاں ، گوشت پوست بننے کے بعد اللہ اس کو جیسی صورت شکل دینا چاہتا ہے وہ بن جاتی ہے اللہ کی یہ قدرت و طاقت ہے کہ وہ نطفہ کو کوئی اور شکل صورت دے سکتا تھا لیکن یہ اس کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے انسانی شکل و صورت عطا فرما دی۔ رحم مادر میں یہ سارا عمل محض اللہ کے نظام کے تحت تکمیل تک پہنچا ہے اس میں انسانی کوشش کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ آدمی کے دنیا میں قدم رکھنے کے بعد اس کی عمر کتنی ہے وہ کب تک دنیا میں زندہ رہے گا اور کب اس دنیا سے رخصت ہوجائے گا یہ سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایک ڈاکٹر اور حکیم بھی اس وقت تک اپنی جدوجہد کرسکتا ہے جب تک آدمی زندہ ہے لیکن اس کے مرنے کے بعد ہر ایک بڑے سے بڑا ماہر ڈاکٹر اور انسانی ہاتھوں سے بنائی گیء دوائیں سب بیکار ہوجاتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی پیدئاش اور موت کا سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت سے ہم کنار کردیتا ہے۔ اسی طرح زندگی گذارنے کے تمام اسباب کا بھی یہی حال ہے کہ ان میں انسانی کوششوں کا دخل بہت کم ہے مثلاً جب آدمی کھیتی اگانا چاتہا ہے تو زمین کو تیار کر کے اس میں دانہ کھاد اور پانی ڈالتا ہے لیکن اس کے بعد اس دانہ کا زمین میں ایک عرصہ تک محفوظ رہنا، نرم و نازک کونپل کا سخت زمین کو پھاڑ کر باہر نکلنا، پھر ایک پودے کی شکل اختیار کرنا اور پھل دینا یہ سب انسانی ہاتھوں کا کمال نہیں ہے بلکہ اللہ کی کامل قدرت ہے کہ وہ ایک بےجان نطفہ کو انسان اور ایک بےجان دانے سے زندگی کو پیدا کرتا ہے۔ فرمایا کہ تم اس پودے کو ابھرتے دیکھتے ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے پھر تم اس میں کیوں شرک کرتے ہو کہ آدمی کے مرجانے کے بعد اللہ اس کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا ؟ یقینا اللہ اپنے حکم سے تمام مردوں کو دوبارہ زندہ کر کے میدان حشر میں جمع فرمائے گا اور پھر ہر ایک کا حساب کتاب ہوگا۔
فرمایا کہ یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ چند دانوں سے ایک لہلہاتا کھیت اور بلند وبالا درخت اور پودے بنا دیتا ہے اگر وہ چاہے تو انسانی کوششوں کو ایک لمحے میں راکھ کا ڈھیر بنا دے پھر انسان کو پچھتانے کے سوا اور کوئی کام نہ ہوگا اور وہ یہ کہہ اٹھے گا کہ سارے موسم میں محنت کرنے کے باوجود میں تو سخت نقصان اور گھاٹے میں آگ یا اور بجائے کچھ ملنے کے دوسروں کا قرض دار ہوگیا۔ فرمایا کہ انسان کی محنت اور اس کے بہترین نتائج یہ بھی اللہ یہ کے ہاتھ میں ہیں اس کے سوا کوئی کار ساز اور مشکل کشا نہیں ہے۔
فرمایا کہ یہ پانی جس کو تم پیتے ہو جمع کر کے رکھتے ہو جس سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہو یہ کس نے پیدا کیا ؟ درحقیقت اللہ نے ایک ایسا نظام بنا دیا ہے کہ سمندر جیسے کڑوے اور نمکین پانی میں حرارت اور گرمی پیدا ہوتی ہے اس سے ایک بھاپ بن کر بلندیوں کی طرحف بادلوں کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور پھر اللہ جہاں چاتہا ہے اس کو برسا دیتا ہے۔ یہ اس کی قدرت کا کمال ہے کہ کڑوے اور نمکین پانی سے ابھرنے والی بھاپ میں کوئی کڑواہٹ نہیں ہوتی بلکہ بادلوں سے برسنے والا پانی میٹھا ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ پانی نمکین اور کڑوا ہوتا تو نہ انسانوں کے کام آتا اور نہ کھیتیاں ابھرتیں پھر اس پانی سے ندی نالے بنتے ہیں جو دریاؤں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور وہی پانی پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف بن کر جم جاتا ہے جس سے انساین ضروریات اور اس کے کھیتوں کو زندگی ملتی ہے۔ اگر اللہ اس پانی کو کھارا بھی بنا دیتا تو انسانی زندگی ویران ہوجاتی لہٰذا اس پانی کے پیدا کرنے میں بھی انسان کا کوئی دخل نہیں ہے یہ سب اللہ کی قدرت سے انسان کو نعمت کے طور پر عطا کیا گیا ہے۔
فرمایا کہ آگ اور اس کا درخت کس نے پیدا کیا اللہ ہی نے سبز درختوں سے ایک آگ (آکسیجن) پیدا کی، پت ھروں اور سوکھی لکڑیوں میں آگ کا عنصر رکھ دیا۔ پہلے جب انسان کا ابتدائی دور تھا تو وہ پتھروں کو رگڑکر یا بعض درختوں کو ٹکرا کر اس میں دبی ہوئی چنگاریوں کو ابھارتا اور اس سے آگ بنا لیتا تھا۔ پھر آدمی نے ترقی کی اور اب تو انسان نے آگ کی بہت سی شکلیں معلوم کرلیں لیکن سب چیزوں میں صلاحیت اللہ ہی نے پیدا کی ہے اگر وہ ان میں آگ کی صلاحیت پیدا نہ کرتا تو آگ کیسے پیدا ہوتی۔ اب آدمی آگ سلگاتا ہے اپنے گھر کے چولہے جلاتا ہے اپنی بھٹیاں روشن کرتا ہے اور اپنے کارخانے اسی آگ سے چلاتا ہے یہ سارا ایندھن اور آگ اللہ ہی نے پیدا کی ہے جس سے مقیم ہو یا مسافر ہر ایک فائدہ حاصل کر ہا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ ! آپ کائنات کی ہر چیز کو پیدا کرنے والے رب کی حمد و ثنا کیجیے اور یہ اعلان عام کردیجیے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خلاق، مالک اور ان تمام عیبوں سے پاک ہے جو کفار و مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
Ayahs 56:75–96لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96
لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔
تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96
کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے باوجود کبھی آپ کو شاعر، کاہن اور مجنون کہتے اور کبھی یہ الزام لگاتے کہ آپ جس کلام کو اللہ کا کلام کہہ کر اس کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ (نعوذ باللہ) اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ کوئی جن یا کوئی شیطان آ کر آپ کو سکھا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے کفار کی ان بےہودہ، بےبنیاد، جھوٹی، اور من گھڑت باتوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نظام کائنات میں ستاروں اور سیاروں کے چھپنے اور ظاہر ہونے کی قسم کہ یہ قرآن حکیم وہ باعظمت کلام ہے جس کو جن یا شیطان تو ایک طرف لوح محفوظ سے نبی کریم ﷺ کے قلب مبارک پر جو فرشتے لے کر نازل ہوتے ہیں وہ اللہ کے پاک فرشتے ہیں۔ ان پاک فرشتوں کے سوا کوئی اس کو ہاتھ تک نہیں لگا سکتا اور اسی لئے قرآن کریم کا یہ ادب ہے کہ جو بھی اسکو ہاتھ لگائے اس کو ہر طرح کی ظاہری نجاست اور گندگی سے پاک ہونا چاہئے۔
ستاروں اور سیاروں کے چھپنے، ڈوبنے اور روشن ہونے کی قسم اس لئے کھائی گئی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کا ایک نظام ہے جس کو ہر انسان ہر رات میں کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ ستارے کبھی سامنے ہوتے ہیں اور کبھی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ اسی طر اللہ کا کلام بھی ہے کہ اللہ نے اس کو اپنے نبی ﷺ کے دل پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ کبھی وحی آتی ہے اور کبھی رک جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح آسمان پر چمکنے والے ستارے بکھرے ہئے نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ایک نظام میں بندے ہوئے مرتب اور منظم ہیں اسی طرح قرآن کریم کی آیات ظاہری طور پر بکھری ہوئی نظر اتٓی ہیں لیکن وہ ایسی مرتب اور منظم ہیں کہ ایک آیت کا دوسری آیت سے انتہائی ربط اور تعلق واضح ہے۔ اسی لئے قرآن کریم پر بہت سے اعتراضات کئے گئے مگر کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ یہ تو ایک بےترتیب آیات اور بےربط مضامین ہیں بلکہ عرب جو اہل زبان تھے وہ جانتے تھے کہ ایک آیت کا دوسری آیت سے اور ایک مضمون کا دوسرے مضمون سے کیا تعلق ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس ذات کے ہاتھ میں پورا نظام کائنات ہے اسی نے اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے تاکہ راستہ سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ ہدایت دکھائی جاسکے۔ لیکن دنیا پرستوں اور ہر چیز کو مال و دولت اور پیٹ کے دھندوں کی ترازو پر تولنے والوں نے اس قرآن کریم کو جھٹلانے اور تردید کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ ایسے لوگوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم کی سچائیوں سے بےتوجہی اور انکار ایک بری عادت ہے۔ شاید ان کو اس دنیا میں اس کے نقصان کا اندازہ نہ ہو لیکن موت کے بعد جب وہ قیامت میں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو ان کو پچھتانے اور شرمندگی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہ آئیگا۔ فرمایا کہ تم دن رات دیکھیت ہو کہ تمہارے وہ رشتہ دار جن پر موت طاری ہونا شروع ہوجاتی ہے ان کی جان گلے میں اٹک جاتی ہے تم ان کی محبت میں ہر طرح ان کو مرنے سے بچانے کی کوشش کرتے ہو دواؤں اور علاج میں کمی نہیں کرتے ہو لیکن جب تم دیکھتے ہو کہ ہر طرح کی کوششوں کے باوجود تمہارا کوئی عزیز اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہے اور اس کو ساری دنیا مل کر بھی موت کے منہ سے واپس نہیں لاسکتی تو تمہارے اوپر کیسی نا امیدی اور بےبسی چھا جاتی ہے لیکن یہ سب کچھ دیکھ کر بھی تمہیں ہوش نہیں آتا اور تمہیں اپنی موت یاد نہیں آتی۔ اللہ نے فرمایا کہ اس مایوسی اور بےبسی کے وقت ہم اور ہمارے فرشتے اس شخص سے اتنے فریب ہوتے ہیں کہ تم بھی نہیں ہوتے۔ تم مرنے والے کو دیکھتے ہو لیکن ہمیں اور ہمارے فرشتوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ تم زندگی بھر اپنے آپ کو مضبوط اور بہادر سمجھتے رہے ہو، جس نے تمہیں غرور وتکبر کا پیکر بنا دیا ہے آج تم موت کے سامنے اتنے بےبس کو یں ہو ؟ کوشش کر کے دیکھ لو کہ دنیا سے جانے والا شخص بچ جائے۔ فرمایا کہ جب تم دوسروں کو موت کے پنجے سے نہیں بچا سکتے تو پھر تم اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے باہر کیوں سمجھتے ہو۔ اگر ان حقائق کی موجودگی میں تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا یقین نہیں کھتے تو یہ صرف تمہاری نادانی، جہالت اور بےعقلی کے سوا اور کیا ہے ؟
فرمایا کہ اصل بات جس پر انسان کی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ ہونا ہے وہ بہتر یا بدترین انجام پر ہے۔
(1) اگر ایک شخص تقویٰ ، پرہیز گاری اور نیکیوں میں سب سے آگے ہونے کی وجہ سے ان لوگوں میں شامل تھا جو اللہ کے مقربین میں تھا تو اس کو آخرت میں ہر طرح کا سکون و اطمینان اور راحت و آرام نصیب ہوگا اور جنت کی وہ راحتیں نصیب ہوں گی جن کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا اللہ کے ہاں بہترین اور اعلیٰ ترین مقام ہوگا۔
(2) اور اگر وہ اپنی نیکیوں اور زندگی بھر بھلائیوں اور اللہ و رسول کی اطاعت میں رہنے کی وجہ سے اصحاب الیمین (جن کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے) تھے تو وہ بھی جنت کی تمام راحتیں اور نعمتیں حاصل کریں گے اور ان پر سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔
(3) لیکن اگر وہ ان لوگوں میں سے تھے جو زنگدی بھر اللہ کے دین اور رسول کی رسالت کو جھٹلاتے جھٹلاتے خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا ہوگا تو ان کی آئو بھگت جہنم کی آگ اور کھولتے پانی سے کی جائیگی جو ان کی انتہائی بد نصیبی ہوگی۔
آخر میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے جو کچھ نازل کیا ہے وہ سراسر حق اور سچ ہے آپ اس سچائی کو پھیلاتے رہیے کسی کی پرواہ نہ کیجیے اور اپنے عظیم رب کی حمد و ثنا کیجیے۔ ہر کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” لایمسہ الا المطھرون “ یعنی اس کو صرف وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں۔ اگرچہ یہاں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ کلام جنتا یا شیاطین کے ناپاک ہاتھوں سے نہیں بلکہ اللہ کے پاک فرشتوں کے ہاتھوں سے آپ تک پہنچا ہے لیکن مفسرین نے اس آیت کے ضمن میں چند احادیث کو نقل فرمایا ہے جن کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے اپنے پاکیزہ فرشتوں کے ذریعہ اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے لیکن اب وہ لوگ جو حامل قرآن ہیں ان کو بھی اس قرآن کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہر طرح کی ظاہری نجاستوں سے پاک ہونا چاہئے۔ اس سلسلہ میں مفسرین نے بہت سی روایات نقل کر کے ان سے مسائل پیش فرمائے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے ۔
نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت عمرو ابن حزام کو ایک خط لکھوایا جس میں یہ حکم بھی دیا تھا کہ ” لایمس القرآن الا طاھر “ (ابن کثیر روح المعانی) یعنی قرآن کو وہ شخص ہاتھ نہ لگائے جو پاک نہ ہو۔ پاکی کیا ہے اس کی وضاحت بھی مفسرین نے ہی فرمائی ہے کہ قرآن کریم کو ہاتھ لگانے کی شرط یہ ہے کہ وہ جنابت ، حیض اور نفاس سے پاک ہو اور با وضو ہو۔ قرآن کریم کو ہاتھ لگایا جائے تو یہ ایک ناجائز حرکت ہوگی۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر چاروں اماموں کا مکمل اتفاق ہے۔
اگر ایک شخص پر غسل واجب ہے یا کوئی خاتون اپنے ایام میں ہے تو وہ پہلے غسل کرے اور پھر قرآن شریف کو ہاتھ لگائے۔ اگر وہ شرعی طور پر پاک ہے اور اس کا وضو نہیں ہے تو اس کو زبانی قرآن کریم پڑھنے کی اجازت ہے۔ ہاتھ لگانے کے لئے وضو ہونا شرط ہے۔
وہ بچے جو قرآن کریم حفظ کرتے ہیں یا قرآن کریم پڑھتے ہیں اسی طرح سے وہ لوگ جو کسی ایسے چھاپے خانے میں کام کرتے ہیں جہاں قرآن کریم چھپتا ہے ان کو چاہئے کہ جب وہ قرآن کریم پڑھنے آئیں یا کوئی اپنے پریس یا دوکان میں جہاں قرآن کریم ہی ہوتے ہیں آئیں تو وہ وضو کرلیں ہر وقت وضو کرنا ایسے لوگوں کے لئے شرط نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ وضو کا اہتمام کریں تو ان کو بہت زیادہ اجر وثواب ملے گا۔
واخر دعوانا الحمد للہ رب العالمین