56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 56:9–56

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے وہ کیا بری حالت میں ہوں گے

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور آگے رہنے والے تو آگے ہی رہنے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جو (اللہ کے ) بہت قریب والے ہوں گے

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

راحت بھیر جنتوں میں ہوں گے

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

(ان مقربین کا) ایک بڑا گروہ پہلے لوگوں میں سے ہو گا

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے لوگ بعد والے ہوں گے

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

یہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے جڑائو تخت پر (بیٹھے) ہوں گے

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

تکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

ان کے سامنے ہمیشہ جوان رہنے والے لڑکے ہوں گے

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

جو لبریز پیالے، کو زے اور صاف شراب کے جام (ان کو پلاتے) ہوں گے

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

نہ ان کو اس سے جدا کیا جائے گا اور نہ وہ ختم ہوگا

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور ان کے پسندیدہ پھل اور میوے ہوں گے۔

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جس کی وہ خواہش کریں گے

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

حسین رنگت اور بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہوں گی

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے سیپ میں حفاظت سے رکھے ہوئے موتی۔

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ سب ان کے اعمال کا بدلہ ہوگا جو وہ کرتے تھے۔

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

ان جنتوں) میں نہ وہ کوئی فضول اور بےہودہ بات سنیں گے اور نہ گناہ کی بات۔

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

سوائے سلام سلام کے دوسری کوئی آواز نہ ہو گی

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

داہنے ہاتھ والے۔ وہ داہنے ہاتھ والے کیا خوش نصیب ہوں گے

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

ان (جنتوں) می بغیر کانٹوں والی بیریاں ہوں گی

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

تہہ در تہہ کیلے ہوں گے

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور لمبے سائے ہوں گے

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

بہتا پانی صاف شفاف ہو گا

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

بڑی تعداد میں پھل اور میوے ہوں گے

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

نہ کبھی ختم ہوں گیا ور نہ ان کے استعمال پر کوئی پابندی ہو گی

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اونچے اونچے بچھونے ہوں گے

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

بیشک ہم نے (جنت کی حوروں کو) خاص طور پر (ان کے لئے ) بنایا ہے۔

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

ہم نے ان کو باکرہ (کنواری) بنایا ہے

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

جو ہم عمر اور محبوب ہوں گی

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

یہ سب داہنے ہاتھ والوں کے لئے ہوں گی۔

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

ان (داہنے ہاتھ والوں میں سے) ایک گروہ تو پہلے لوگوں میں سے ہو گا

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور ایک گروہ بعد والوں میں سے ہو گا

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے۔ وہ کیسی (بدترین) حالت میں ہوں گے۔

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

آگ اور کھولتے پانی

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

جو نہ تو ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دینے والا۔

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

بیشک اس سے پہلے وہ (دنیا میں) عیش و آرام کی (زندگی) گذار رہے تھے

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

اور وہ ایک بہت بڑے گناہ (شرک) پر اصرار کیا کرتے تھے

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

اور یہ کہا کرتے تھے کہ جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا دوبارہ اٹھائے جائیں گے

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو گذر چکے ہیں۔

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

(اے نبی ؓ ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ بیشک اگلے پچھلے لوگ

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

ایک ایسے مقرر دن میں جمع کئے جائیں گے اس کی مدت معلوم ہے

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

پھر بیشک اے گمراہو ! اور اے جھٹلانے والو !

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

البتہ تمہیں زقوم کے درخت سے کھانا ہو گا

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

جس سے تم اپنا پیٹ بھرو گے۔

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

پھر اس زقوم کے اوپر سے کھولتا ہوا گرم پانی پینا ہوگا۔

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

پھر تم اس طرح پیو گے جیسے وہ اونٹ پانی پیتے ہیں جن کو پانی پینے کی بیماری ہوتی ہے۔

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

یہ قیامت کے دن ان کی مہمان داری ہوگی۔

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس نے انہیں ایسے دھوکے میں ڈال دیا تھا کہ وہ اللہ کو بھول کر غیر اللہ کی عبادت و بندگی کرنے لگے تھے اور اس پر اصرار کرتے ہوئے کہتے تھے کہ جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیاں بھی ریزہ ریزہ ہو کر دنیا میں بکھر جائیں گی تو کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے اور ہمارے باپ دادا جو مر کر خاک ہوچکے ہیں جن کی ہڈیوں تک کا پتہ نہیں ہے کیا وہ بھی زندہ کئے جائیں گے۔ وہ کہتے تھے کہ آج تک ان میں سے کوئی زندہ ہو کر تو آیا نہیں ہم کیسے یقین کرلیں کہ ہم دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ نے اگلے پچھلے سب لوگوں کے لئے ایک دن مقرر کردیا ہے جب وہ اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر ہمارے سامنے حاضر ہوں گے۔ لیکن وہ دن ان لوگوں کیلئے بڑا سخت اور ذلیل کردینے والا ہوگا جب ان کو جہنم میں دھکیلا جائے گا وہاں ہر طرف آگ ہی آگ، کھولتا ہوا پانی اور سیاہ دھوئیں کے ایسے سائے ہوں گے جس میں نہ تو ٹھنڈک ہوگی اور نہ دل اور بدن کو راحت و آرام پہنچانے والا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا ہے کہ آپ کہہ دیجیے اے گمرا ہوچ اور ہر سچی بات کو جھٹلانے والو ! جہنم میں تمہاری غذا زقوم ہوگی جو ایک بڑا زہریلا کڑوا انتہائی بد مزہ اور بدبو دار درخت ہوگا جو جہنم ہی میں پیدا ہوگا ۔ جب وہ بھوک اور پیاس سے تڑپنے لگیں گے اور زقوم کو کھائیں گے تو وہ ان کے حلق میں پھنس جائے گا۔ پھر وہ پانی کی طرف دوڑیں گے وہ پانی گرم اور کھولتا ہوا ہوگا وہ پانی پر بری طرح گریں گے لیکن اس کے پیتے ہی ان کی آنتیں کٹ کر باہر نکل پڑیں گی۔ وہ پانی کی طرف اس طرح جھپٹیں گے جیسے پیاسے اونٹ جو استقا کی بیماری میں مبتلا ہوں وہ پانی کی طرف جھپٹتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے طنز کے طور پر فرمایا کہ ان جیسے نافرمانوں کی مہمان داری تو اسی طرح ہو سکتی تھی۔ استسقا اونٹوں کی ایسی بیماری کو کہتے ہیں کہ اونٹ پانی پیئے چلا جاتا ہے اور پیاسا ہی رہتا ہے۔ فرمایا کہ اسی طرح قیامت کے دن کفار و مشرکین کا حال ہوگا کہ وہ پیاس سے تڑپ رہے ہوں گے اور جب گرم کھولتا ہوا پانی پئیں گے تو ان کی پیاس نہ بجھے گی اور وہ پانی کے لئے تڑپتے ہی رہ جائیں گے۔