55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 55:46–78

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:46 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لئے بہت عمدہ دو باغ ہوں گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:47 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ Open ayah 55:48 in the Quran reader

وہ دونوں باغ بہت زیادہ شاخوں والے ہوں گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:49 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ Open ayah 55:50 in the Quran reader

ان دونوں باغوں میں دو بہتے ہوئے چشمے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:51 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ Open ayah 55:52 in the Quran reader

ان دونوں باغوں میں ہر طرح کے میوے دو دو قسموں پر ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:53 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ١ؕ وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ Open ayah 55:54 in the Quran reader

(اہل جنت) فرش پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استردبیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں باغوں کے پھل بہت ہی قریب ہوں گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:55 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ١ۙ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:56 in the Quran reader

ان میں نیچی نگاہ رکھنے والی ایسی (حوریں ہوں گی) جنہیں الہ جنت سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھواتک نہ ہوگا۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:57 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:58 in the Quran reader

وہ ایسی خوبصورت ہوں گی جیسے یاقوت اور مونگے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:59 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ Open ayah 55:60 in the Quran reader

نیکی کا بدلہ سوائے نیکی کے اور کیا ہو سکتا ہے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:61 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:62 in the Quran reader

ان دو باغوں کے علاوہ (ذرا کم درجہ کے) دو باغ اور ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:63 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

مُدْهَآ مَّتٰنِۚ Open ayah 55:64 in the Quran reader

وہ دونوں خوب گہرے سبز رنگ کے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:65 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ Open ayah 55:66 in the Quran reader

ان دونوں میں دو ابلتے ہوئے چشمے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:67 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ Open ayah 55:68 in the Quran reader

ان دونوں میں میوے، کھجوریں اور انار ہوں گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:69 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ Open ayah 55:70 in the Quran reader

ان میں نیک سیرت اور خوبصورت حوریں ہوں گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:71 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ Open ayah 55:72 in the Quran reader

وہ حوریں خوبصورت رنگت والی اور خیموں میں محفوظ ہوں گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:73 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:74 in the Quran reader

ان اہل جنت سے پہلے ان کو نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہوگا نہ کسی جن نے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:75 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ Open ayah 55:76 in the Quran reader

وہ اہل جنت بہترین اور خوش نما فرش پر سبز رنگ کے تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:77 in the Quran reader

پھر تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠ Open ayah 55:78 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کے پروردگار کا نام بڑاب رکت والا ہے جو صاحب عظمت اور صاحب کرم ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا وعدہ کیا جا رہا ہے جنہوں نے زندگی بھر اللہ کی رضا و خوشنودی کے سامنے زندگی کی تمام لذتوں اور آسائشوں کو چھوڑ کر حق و صداقت کیلئے ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں۔ جنت میں ان کا سب سے بڑا اعزازو اکرام یہ ہوگا کہ ان کو دو ایسے باغ دیئے جائیں گے جن کی خوبصورتی اور حسن و جمال کا تصور ناممکن ہے۔ خوبصورت ہرے بھرے باغات جن کے درختوں کا گھنا سایہ، کثرت سے طرح طرح کے پھل، صاف شفاف پانی کے ایسے دو چشمے جو دور تک بہتے چلے جائیں گے۔ لذت اور مٹھاس کے اعتبار سے ان کے پھلوں کی بھی دو قسمیں ہوں گی تاکہ یہ ہر طرح کے پھلوں کی مٹھاس اور لذت سے اچھی طرح لطف اندوز ہو سکیں ۔ یہ لوگ ان باغوں میں تکیہ لگائے ایسے فرشوں پر بیٹھے ہوں گے جن کی ظاہری خوبصورتی تو اپنی جگہ اس کے استر بھی دبیز ریشم کے ہوں گے۔ درختوں پر لگے ہوئے پھلوں کی شاخیں اتنے قریب کردی جائیں گی کہ کسی بھی پھل کو کھانے میں کسی طرح کی مشقت نہ اٹھانی پڑے گی۔ شرم و حیا کی پیکر، شرمیلی نیچے نظریں رکھنے والی کنواری حوریں ہوں گی جنہیں جنات انسانوں میں کسی نے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا۔ وہ حوریں حسن و جمال، صفائی ستھرائی اور چمک دمک میں یاقوت کی طرح اور سرخی و سفیدی میں مرجان موتی کی طرح ہوں گی۔ اہل تقویٰ کی نیکیوں اور بہترین اعمال کا بدلہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا۔ یہ اجر و مقام تو ان لوگوں کے لئے ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور حساب کتاب کے ڈر سے لرزتے کا نپتے ہوں گے وہ اللہ کے خاص بندے ہیں لیکن عام مومنین صالحین کے بھی دو باغ ہوں گے جو اگرچہ ان کے اعمال کے لحاظ سے پہلے والے باغوں کی طرح نہیں ہوں گے لیکن اعزازو اکرام اور جنت کی کیفیات، لذت اور حسن و جمال میں ان کے قریب قریب ہی ہوں گے۔ وہ دونوں باغ بھی سرسبز و شاداب ایسے گہرے سبز رنگ کے ہوں گی جن میں ہلکی سی سیاہی جھلکتی ہوگی۔ ان کیلئے جوش مارتے ابلتے ہوئے دو چشمے ہوں گے جو غالباً سلسبیل اور تسنیم کے ہوں گے۔ اتنے لذیذ اور عمدہ میوے، کھجوریں اور انار ہوں گے جن کے مزے اور لذت کا اس دنیا میں تصور بھی ممکن نہیں ہے ایسی نیک سیرت، حسین و خوبصورت کنواری حوریں ہوں گی جو خیموں میں محفوظ ہوں گی جنہیں کسی جن یا انسان نے ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ یہ اہل جنت خوبصورت سبز رنگ کے تکیے لگائے شاہانہ اندازے بیٹھے ہوں گے اور یہ سب کچھ اس پروردگار کی طرف سے تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارنے والوں کا انعام ہوگا جس پر پروردگار کا نام ہی برکت والا ہے۔ وہی صاحت عظمت اور صاحب کرم ہے۔ اللہ نے ان چیزوں کو نعمت قرار دے کر باربار ایک ہی سوال کیا ہے کہ اے انسانوں اور جنات یہ اللہ کی عظیم نعمتیں ہیں ان میں سے تم کس کس نعمت کا انکار کرو گے ؟ واخر دعوانا ان الحمد للہ ورب العالمین