54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 54:18–42

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

قوم عاد نے بھی جھٹلایا تھا تو پھر (دیکھو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ان پر ایک نحوست والے دن میں نہایت تند و تیز ہوا کو بھیجا۔

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ لوگوں کو (اور ان کے گھروں کو ) اس طرح اکھاڑ کر پھینک رہی تھی جیسے کھجور کے اکھڑے ہوئے تنے

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

(دیکھو) کیسا میرا عذاب اور یکسا ہوا میرا ڈرانا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

ہم نے نصیحت حاصل کرنے کرنے کے لئے اس قرآن کو آسان کردیا ہے۔ تو کیا ہے کوئی دھیان دینے والا۔

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے بھی (برے اعمال کے برے انجام سے) ڈرانے والوں کو جھٹلایا

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ وہ شخص جو ہم ہی میں سے ایک بشر ہے کیا ہم اس کے پیچھے چلیں۔ اگر ایسا کریں گے تو اس وقت ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑجائیں گے۔

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم میں سے یہی ایک شخص (رہ گیا) تھا جس پر وحی اتاری گئی ہے۔ بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بہت جھوٹا اور خودپسند شخص ہے۔

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا کہ ) انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا اور شیخی خورہ ہے۔

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

(فرمایا کہ اے صالح) ہم ان کی آزمائش کے لئے ایک اونٹنی (معجزہ کے طور پر) بھیجنے والے ہیں تم اسے سمجھ داری سے دیکھو اور صبر سے کام لو۔

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور (اپنی قوم کے لوگوں کو) آگاہ کر دو کہ پانی کو ان میں تقسیم کردیا گیا ہے (ایک دن اونٹنی پئے گی اور ایک دن بستی والے) ہر شخص کو اپنی باری میں اس گھاٹ پر جمع ہونا ہے۔

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

پھر (اس قوم نے ایک ظالم شخص قدار کو ) پکارا جس نے اس اونٹنی پر زیادتی کی (وار کیا) اور اس کی کونچیں (پائوں) کاٹ ڈالیں۔

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

پھر دیکھو کہ میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر ایک ہولناک آواز کو مسلط کیا پھر وہ ایسے ہوگئے جیسے کاٹنوں کی باڑہ لگانے والے کی باڑ کا چورا ہے ہوجاتا ہے

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے آسان کردیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنیو الا

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

قوم لوط نے (ہمارے) ڈرانے والاوں کو جھٹلایا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

بیشک ہم نے صبح کے وقت ان پتر پتھر برسانے والی ہوا کو بھیجا سوائے لوط کے گھر والوں کے (جن کو نجات دی گئی)

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

جو ہماری طرف سے ایک نعمت تھی۔ ہم شکر ادا کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور یقینا (لوط نے) ان کو ہماری پکڑ اور گرفت سے آگاہ کردیا تھا مگر وہ آگاہ کرنے والے سے لڑنے جھگڑنے لگے

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور وہ (بری نیت سے) اس کے مہمانوں کو طلب کرنے لگے۔ پھر ہم نے ان (ظالموں) کی آنکھیں بےنور کردیں اور کہا گیا کہ میرے ڈرانے کا مزہ چکھو۔

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور صبح سویرے ہی ان پر دائمی عذاب مسلط ہو گیا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

اور (فرمایا گیا کہ) تم میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور البتہ یقینا ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا ہے۔ کیا ہے کوئی دھیان دینے والا

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ Open ayah 54:41 in the Quran reader

اور یقینا قوم فرعون کے پاس بھی آگاہ کرنے والی چیزیں آئیں۔

كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ Open ayah 54:42 in the Quran reader

پھر انہوں نے ہماری نشانیوں (معجزات) کا انکار کیا۔ پھر ہم نے ان کو ایسا زبردست پکڑا جیسے ایک زبردست صاحب اقتدار پکڑتا ہے

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42 صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔ تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42 قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور روشن ومنور ہے کہ اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں نہ تو عام آدمی کو کسی طرح کی دشواری ہوتی ہے اور نہ کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کو مثلاً قرآن مجید میں اس اصول کو بار بار دھرایا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو حق صداقت کی آواز کو لے کر اٹھتا ہے مشکلات، پریشانیوں اور کانٹوں بھرے راستوں کے باوجود آخر کار اس کو دنیا اور آخرت کی کامیابیاں اور نجات عطا کی جاتی ہے۔ اس کے برخلاف جو بھی دین کی سچائیوں کو جھٹلا کر اور اس کے پاکیزہ نفوس پیغمبروں کی تعلیمات اور ان کی ذات سے ٹکراتا ہے وہ دنیاوی اعتبار سے کتنا ہی مضبوط اور طاقت ور کیوں نہ ہو اس کو دنیا کی ذلت اور آخرت کی بربادی سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ افراد کی طرح قوموں کا معاملہ بھی یہی ہے کہ ان کی نجات کا دار و مدار اللہ کی فرماں برداری اور پیغمبروں کا کہا ماننے میں ہے۔ اگر دنیاوی ترقیات نے کسی قوم کو مکتبر اور مغرور بنا دیا ہو اور وہ کفر و شرک اور اللہ کے رسول کی نافرمانیوں میں حد سے اگٓے بڑھ گئی ہو تو اس قوم کی اصلاح کے لئے اللہ اپنے پیغمبروں کو بھیجتا ہے چناچہ قرآن حکیم ان انبیاء کے واقعات کو بیان کرتا ہے کہ جن لوگوں نے ان کی بات مان کر اپنی اصلاح کرلی تو وہ دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے۔ اب اللہ نے سارے نبیوں اور رسولوں کے آخر میں اپنے محبوب رسول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بھجیا ہے تاکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کی اصلاح و تربیت کا کام مکمل کرلیا جائے۔ اگرچہ دنیاوی اعتبار سے آپ ہماری درمیان موجود نہیں ہے اور روضہ پاک میں آپ کو حیات برزخی حاصل ہے لیکن آپ کی تعلیمات موجود ہیں جن کو امت کے مخلص علماء کرام ہمیشہ سے دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچانے کی جدوجہد کرتے رہے ہیں اور کریں گے ۔ زیر مطالعہ آیات میں ان تمام حقائق کو بیان کرنے کے لئے خاص طور پر ان چار قوموں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کا ذکر فرمایا ہے جو اپنے زمانہ میں انتہائی طاقت وور غرور وتکبر کا پیکر، حومت و سلطنت اور مال و دولت پر ناز کرتے ہوئے اپنے علاوہ سب کو حقیر اور ذلیل سمجھا کرتے تھے لیکن جب کفر و شرک، اللہ کے بندوں پر ظلم و ستم اور طرح طرح کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب آیا تو وہ معمولی کیڑے مکوڑوں کی طرح مار ڈالے گئے جن کے اونچے اونچے محلات ، تجارتی مراکز، مال و دولت کے ڈھیر کھنڈر بن کر عبرت کا نمونہ بنے ہوئے ہیں۔ وہی شہر جو کبھی دن رات عیش و عشرت اور لوگوں کی آمد و رفت سے آباد رہا کرتے تھے اب ایسے ویران ہوگئے ہیں کہ دن کی روشنی میں بھی جاتے ہوئے ڈرلگتا ہے۔ قوم عاد نے دنیا پر سینکڑوں سال تک حکومت کی تھی اور ہر طرح کی دنیاوی ترقیات میں وہ سب سے آگے تھے وہ اپنی طاقت و قوت کے سامنے کسی قوم اور ملک کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے جب کفر و شرک اور لوگوں پر ظلم و زیادتی کی انتہاؤں پر پہنچ گئے تو اللہ نے اس قوم کی اصلاح کے لئے حضرت ھود علیہ اسللام کو بھیجا۔ انہوں نے دن رات ان کو سمجھانے کی کوشش کی اور ان کو کفر و شرک اور اللہ کی مخلوق پر ظلم و ستم کرنے سے روکا تو پوری قوم ان کی دشمن بن گئی اور انہوں نے حضرت ہود کی بات ماننے سے صاف انکار کردیا اور ان کی ہر بات کا مذاق اڑایا۔ جب اس قوم نے کفر و شرک کا راستہ چھوڑنے سے انکار کردیا تو اللہ کا فیصلہ آگیا۔ اسی قوم کی تباہی کا آغاز ایک ایسی تیز و تند آندھی سے ہوا جس سے لوگوں کا زمین پر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا۔ آندھی تیز ہوتی گئی اور کوئی دیوار سے ٹکرا کر، کوئی درخت سے ، کوئی پتھر سے مر گیا اور کسی پر اس کی چھت آ گری۔ وہ لوگ لمبے تڑنگے اور طاقت ور تھے مگر تیز ہوا ان کو اس طرح اٹھا کر پھینک رہی تھی جیسے کھجور کے تنے اکھڑ کر زمین پر پڑے ہوئے ہوں۔ اس طرح وہ تمام عرصہ اور مدت جب ان پر عذاب نازل ہو رہا تھا ہمیشہ کے لئے نحوست بھرا یادگار دن بن گیا۔ اسی طرح قوم ثمود جن کی ترقیات، مال و دولت کے ڈھیر اور عیش و عشرت کے سامانوں کے ساتھ ہر طرف خوشحلای تھی وہ پہاڑوں کو تراش کر اس زمانہ میں بیس بیس منزلہ عمارتیں بناتے تھے جب دو منزلہ مکان بنانا مشکل تھا لیکن کفر و شرک اور اللہ کی نافرمانیوں کی انتہا تک پہنچ گئے تھے۔ جب حضرت صالح نے ان تک سچائی کا پیغام پہنچایا تو انہوں نے نہ صرف ان کو جھٹلایا بلکہ ان کی توہین کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم یہ کیسے مان لیں کہ اے صالح آپ اللہ کے نبی ہیں۔ آپ تو ہمارے جیسے ہی ہیں۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں اور ہم آپ کی اطاعت کرلیں تو ہم سے بڑا بیوقوف اور نادان کون ہوگا ؟ انہوں نے ان کو جھوٹا اور شیخی باز تک کہہ دیا۔ ایک دن کہنے لگے کہا گر تم واقعی اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہو تو اس سامنے کی پہاڑی سے ایک ایسی گابھن اونٹنی نکال کر دکھائو جو ہمارے سامنے بچے جنے اور ہم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں ۔ حضرت صالح نے اللہ کی بارگاہ میں درخواست پیش کردی۔ اللہ نے اپنی قدرت سے پہاڑ چٹان سے اونٹنی کو پیدا کیا۔ اس نے آتے ہی بچے کو جنم دیا۔ کچھ لوگوں نے تو ایمان قبول کرلیا لیکن اکثر نے اس کا انکار کردیا۔ جب ان کو اس بات کا حکم دیا گیا کہ تمہارے کنوئیں سے ایک دن اونٹنی پانی پئے گی اور دوسرے دن تم پانی لے سکتے ہو۔ شروع میں تو انہوں نے اس تقسیم کو قبول کرلیا مگر جب پانی کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا تو انہوں نے عاجز آ کر ایک شخص قدار بن سالت جو کہ بڑا ہی بدبخت ظالم تھا اس کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ اس اونٹنی کو قتل کر دے تاکہ یہ روز روز کا جھگڑا ہی ختم ہوجائے۔ چناچہ اس نے اونٹنی کو ذبح کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح کی طرف وحی بھیجی کہ وہ صبر سے کام لیں اب یہ لوگ عذاب سے نہ بچ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو نجات عطا فرمائے گا اور اس پوری قوم کو تباہ بوبراد کر دے گا چناچہ ایک ایسی ہیبت ناک چھنگاڑ سنائی دی جس سے ان کے کانوں کے پردے پھٹ گئے اور پورے ظالم قوم کے لوگ اس طرح پڑے نظر آئے جیسے باڑہ لگانے والوں کی وہ باڑہ جو جانوروں کی حفاظت کے لئے بنائی جاتی ہے اور ٹوٹ کر چورہ چورہ ہوجاتی ہے۔ اور اس طرح اس قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط کی نافرمان قوم کے متعلق فرمایا ہے کہ اس قوم کا یہ عالم تھا کہ حضرت لوط نے ان کو ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنی غیر فطری خواہشوں میں لگے رہے۔ ایک مرتبہ جب اللہ تعالیٰ نے چند فرشتوں کو نوجوان لڑکوں کی شکل میں بھجیا اور اس قوم کے لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ حضرت لوط کے پاس پہنچ گئے اور اس بات پر زبردستی کرنے لگے کہ وہ نوجوان لڑکے جو آپ کے مہمان ہیں ان کو ہمارے حوالے کر دو ۔ حضرت لوط جو اپنی قوم سے اچھی طرح واقف تھے یہ سن کر گھبرا گئے اور ان کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے۔ فرشتوں نے اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہوئے حضرت لوط سے کہا کہ آپ ہرگز پریشان نہ ہوں کیونکہ ہم اللہ کی طرف سے اس ظالم و بدکاری قوم کیلئے بھیجے گئے ہیں یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ جب اس قوم کے لوگوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو اللہ نے ان کو اندھا کردیا۔ ان کی آنکھیں چوپٹ ہوگئیں اور وہ اندھے ہو کر ادھر ادھر دھکے کھانے لگے۔ فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا کہ صبح ہونے سے پہلے آپ (سوائے اپنی نافرزمان بیوی کے) گھر کے سارے افراد اور اہل ایمان کو لے کر اس شہر سے نکل جائیے اور پلٹ کر نہ دیکھیے جب حضرت لوط ان کے گھر والے اور اہل ایمان ان بستیوں سے نکل گئے تو حضرت جبرئیل نے قوم لوط کی بستیوں کو اٹھایا اور آسمان کی بلندیوں تک لے جا کر پٹک دیا۔ پھر ان پر پتھروں کی زبردست بارش کردی گئی۔ سمندر کا پانی ان کی بستیوں پر چڑھ دوڑا اور اس طرح اللہ کے عذاب نے اس پوری قوم اور ان کی آبادیوں کو سمندر میں ڈبو دیا۔ بحر مردار (ڈیڈ سی) ان ہی بستیوں پر چھایا ہوا ہے۔ یہ سمندر کا وہ حصہ ہے کہ اس پانی میں چھوٹے سے چھوٹا جان ور بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ قوم عاد قوم ثمود اور قوم لوط کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد قوم فرعون کا ذکر فرمایا ۔ فرعون اپنے وقت کا انتہائی طاقت دو بادشاہ تھا۔ اپنے آپ کو معبود بیٹھا اہر طرف اس کی حکوتم کا ظلم و ستم اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو ماؤں کی گود سے چھین کر ان کے سامنے ان کے بیٹوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جاتے مگر ان ماؤں کو اس ظالمانہ کارروائی پر اف تک کرنے یا احتجاج کرنے کی ہمت و طاقت اور اجازت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی حضرت ہارون کو بہت سی نشانیوں کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا۔ حضرت اللہ تعالیٰ نے فرعون کو بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے روکنے کی کوشش کی تو اس نے نہ صرف انکار کردیا بلکہ حضرت موسیٰ کے معجزات کو جادو قرار دے کر ان کو ذلیل کرنے کی کوشش کی۔ اس کفر اور انکار اور ظلم و ستم کی وجہ سے فرعون اسی قدر بےقیمت ہوچکا تھا جب اس پر اور اس کی قوم پر اللہ کا عذاب آیا اور اس کو اور اس کی قوم کو سمندر میں ڈبو دیا گیا تو وہ انتہائی مجبور اور بےبسی کے عالم میں اس طرح سمندر میں غوطے کھا رہا تھا کہ اس کی سلطنت، حکومت، مال و دولت اور فوج اس کے کسی کام نہ آسکی یکنی جب اللہ نے ایک زبردست طاقت اور بادشاہ کی طرح پکڑا تو پھر کوئی بھی اس کی گرفت سے اسے چھڑا نہ سکا۔ اللہ تعالیٰ نے ان ظالم قوموں پر عذاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ وہ سچائیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نہایت آسان اور سہل زبان میں بیان کردیا ہے۔ جس کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ سن کر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ دھیان دینے والا اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے گا کہ اللہ جس برے انجام سے نافرمانوں کو ڈرا رہا ہے وہ ڈرانا کس قدر اہمیت رکھتا ہے ۔ اللہ نے اپنے اس دستور کو بار بار بیان کیا ہے کہ جس سر زمین پر اللہ کے بندوں پر ظلم و ستم کیا جائے گا اور اللہ کی بندگی کے بجائے غیر اللہ کی عبادت و بندگی کی جائے گی اللہ ایسی قوموں کو مٹا کر دوسروں کو ان کی جگہ دے کر کامیاب کر دے گا۔ اسی طرح ہر وہ قوم جو اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کرے گی اس کو نجات عطا کر کے دنیا اور آخرت میں سربلند کردیا جائے گا۔ اللہ کا یہ ایسا دستور ہے جو ابتدائے کائنات سے ہے اور قیامت تک رہے گا اس میں کبھی تبدیلی آئی ہے اور نہ کبھی آئے گی۔
Ayahs 54:43–55

اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ Open ayah 54:43 in the Quran reader

(اہل قریش سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا) کیا تم میں سے کافر ان سب پہلے کافروں سے بہتر ہیں یا کتابوں میں ان کے لئے معافی کا پروانہ ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ Open ayah 54:44 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط جماعت ہیں۔

سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ Open ayah 54:45 in the Quran reader

(یادر کھو) بہت جلد یہ جماعت شکست دی جائے گیا ور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ Open ayah 54:46 in the Quran reader

بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت کا ہے جو قیامت بڑی سخت اور بڑی کڑوی چیز ہے۔

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ Open ayah 54:47 in the Quran reader

بیشک یہ (مشرک) مجرم بڑی گمراہی اور جہالت میں مبتلا ہیں۔

یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ Open ayah 54:48 in the Quran reader

بلکہ جب یہ (مجرمین) منہ کے بل آگے میں گھسیٹے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم جہنم کی آگ کی لپٹ کا مزہ چکھو۔

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ Open ayah 54:49 in the Quran reader

بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازے سے پیدا کی ہے

وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ Open ayah 54:50 in the Quran reader

اور ہمارا حکم تو اس طرح ہوتا ہے جیسے پلک کا جھپکنا

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:51 in the Quran reader

اور بیشک ہم تمہارے بہت سے ہم مذہب لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟

وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ Open ayah 54:52 in the Quran reader

اور انہوں نے جو کچھ کہا وہ سب کا سب کتابوں میں (نامہ اعمال میں) لکھا ہوا ہے

وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ Open ayah 54:53 in the Quran reader

اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ Open ayah 54:54 in the Quran reader

بیشک اہل تقویٰ (جنت کے) باغوں اور نہروں میں (عیش و آرام سے) ہوں گے

فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ Open ayah 54:55 in the Quran reader

ان کو عزت کا ایک مقام حاصل ہوگا اور ان کو ایک ایسے بادشاہ کا قرب ہوگا جو بہت قدرت والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 55 برآءۃ معافی ہے۔ الزبر کتابیں، صحیفے۔ منتصر غالب رہنے والا۔ سیھزم بہت جلد وہ شکست کھائے گا۔ ادھی زیادہ مصیبت والا۔ سعر پاگل پن۔ یسبحون وہ گھسیٹیں گے۔ سقر جہنم کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کا جھپکنا اشیاع ساتھی۔ مستطر لکھا گیا۔ مقعد بیٹھنے کی جگہ، ٹھکانا تشریح : آیت نمبر 43 تا 55 اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چار ایسی طاقت ور اور دنیاوی وسائل سے بھرپور قوموں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کا ذکر کرنے کے بعد مکہ کے رہنے والے کفار و مشرکین سے فرمایا ہے کہ اتنی طاقت ور قوموں کا بدترین انجام اور ان کے کھنڈرات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اللہ کے نظام قدرت کے سامنے دنیا کی کسی طاقت کی ماجال نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ آنے کے بعد ایک لمحے بھی اپنا وجود برقرار کھ سکے۔ فرمایا کہ ان طاقت ور قوموں کے سامنے تمہاری معمولی سرداریوں اور مال و دولت کی کیا حیثیت ہے ؟ بتائو طاقت و قوت کے لحاظ سے وہ بہتر تھے یا تم ہو ؟ تم اپنی شرارتوں اور کفر و شرک کے باوجود اتنے مطمئن بیٹھے ہو اور اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کر رہے ہو کیا تمہارے پاس تمہاری کتابوں میں کوئی ایسا معافی نامہ لکھا ہوا موجود ہے کہ ہر ایک پر عذاب آئے گا اور تمہاری نافرمانیوں کے باوجود تم پر اللہ کا وہ عذاب نہیں آئے گا جو گذری ہوئی قوموں پر آیا تھا۔ فرمایا کہ شاید تمہاری یہ غلط فہمی ہے کہ تمہاری جماعت ، جتھا اور گروہ بہت مضبوط ہے اور تمہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا تو یاد رکھو بہت جلد تمہارا یہ جتھا زبردست شکست سے دوچار ہوگا اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئو گے۔ جب اللہ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں کہ میں حیران تھا کہ آخر یہ کون سی جماعت اور جتھا ہوگا جو شکست کھائے گا۔ مگر غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار مکہ شکست کھا کر بھاگ رہے تھے اس وقت میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ زرہ پہنے ہوئے اگٓے کی طرف جھپٹ رہے ہیں اور آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ تھے ” سیھزم الجمع و یولون الدبر “ حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں کہ تب میں سمجھا کہ یہ تھی کفار کی وہ شکست جس کی پہلے سے خبر دیدی گئی تھی۔ فرمایا کہ یہ تو کفار مکہ کے کفر و شرک کی وہ سزا ہے جو غزوہ بدر اور غزوہ احزاب میں دی گئی اصل سزا تو قیامت کے دن دی جائے گی جب ان کافروں کو اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹتے ہوئے کہا جائے گا کہ لو اب اس عذاب کا مزہ چکھو جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔ قیامت کے دن کا انکار کرنے والوں نے سے فرمایا ہے کہ اس دنیا میں ہم نے ایک قانون اور ضابطہ بنا رکھا ہے جو ” تقدیر الٰہی “ ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز پیدا ہوتی ہے بڑھتی، گھٹتی اور آخر کار ختم ہوجاتی ہے۔ یہی تقدیر الٰہی اس دنیا کے ساتھ بھی مقرر ہے کہ یہ دنیا چلتی رہے گی لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب اس دنیا کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا تو یہ دنیا ختم ہوجائے گی کیوں کہ جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس کے ہونے کا حکم دیتا ہے اور جتنی دیر میں پلک جھپکتی ہے اس سے بھی پہلے وہ چیز واقع ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جب قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون اور دوسری نافرمان قوموں کو تباہ و برباد کردینے کا فیصلہ کیا گیا تو اللہ کے ایک حکم سے پلک جھپکتے ان قوموں اور ان کی طاقتوں کو تباہ برباد کردیا گیا۔ فرمایا کہ ان تاریخی واقعات سے اور قرآن کریم کی آیات سے اگر کوئی نصیحت حاصل کر کے اپنی اصلاح کرلیتا ہے تو یہ اس کی خوش نصیبی ہے ورنہ ہر وہ کام جو انہوں نے دنیا میں کئے ہیں جن کا پورا پورا ریکارڈ اللہ کے پاس محفوظ ہے خواہ وہ بات چھٹوی تھی یا بڑی ہر چیز لکھی لکھائی محفوظ ہے اس کے مطابق اس قیامت کے دن سزا یا جزا دی جائے گی۔ آخر میں فرمایا کہ وہ لوگ جنہوں نے تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذاری ہوگی وہ قیامت کے دن جنت کے خوبصورت باغوں اور بہتے ہئوے حسین چشموں کے درمیان عیش و آرام سے ہوں گے۔ انہیں عزت کا مقام عطا کیا جائے گا اور ان کو ایک ایسے بادشاہ (یعنی اللہ) کا قرب نصیب ہوگا جو بڑی قدرت و طاقت والا ہے۔ واخر دعانا ان الحمد للہ رب العالمین