44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 44:34–42

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

اور ( کفار قریش) یہ کہتے ہیں

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

کہ بس یہی ( اسی دنیا میں) پہلی مرتبہ کا مر جانا ہے اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو ہمارے گزرے ہوئے باپ داد کو ( زندہ کر کے) لے آئو۔

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

( اللہ نے فرمایا) کیا یہ ( کفار مکہ) بہتر ہیں یا قوم تبع جو پہلے ہو گزرے ہیں ۔ ہم نے ان کو اس لئے ہلاک کیا تھا کہ وہ مجرم ( نافرمان ، گناہ گار ) تھے۔

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے محض کھیل کود کے لئے نہیں بنایا ہے

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ہم نے ان کو ٹھیک ٹھیک پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

یقینا وہ فیصلے کا دن ان سب کے لئے وعدے کا دن ہے۔

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ Open ayah 44:41 in the Quran reader

سوائے اس کے کہ اللہ ہی رحم کر دے جس دن کوئی رشتہ دار اپنے رشتہ دار کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا اور نہ وہ مدد کئے جائینگے۔

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 44:42 in the Quran reader

بیشک وہی زبردست اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 42 : منشرین (دوبارہ اٹھنے والے) میقات ( مقررہ وقت) لا یغنی (کام نہ آئے گا) مولی ( ساتھی ، دوست) تشریح : آیت نمبر 34 تا 42 : جس طرح نمرود ، فرعون ، قیصر و کسریٰ مختلف ملکوں کے بادشاہوں کے لقب تھے اسی طرح قبیلہ حمیر کے بادشاہ کا لقب تبع تھا۔ تبع نام کے بہت سے بادشاہ گزرے ہیں ، چونکہ حجاز سے قریب تر علاقے ملک یمن اور سباپر قوم تبع کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے دو ڈھائی سو سال پہلے اور نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیدائش سے تقریباً سات سو سال پہلے حکمرانی کا موقع ملا تھا اس لئے عرب میں قوم تبع کا کا فی چرچا تھا اور جزریۃ العرب کے لوگ تبع اور قوم تبع سے اچھی طرح واقف تھے۔ قرآن کریم میں جس قوم تبع کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کے بادشاہ کا نام اسعد یا سعد ابن ملکا کرب اور کنیت ابو کرب تھی۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بادشاہ ( تبع) توریت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے مومن تھا لیکن اس کی قوم شرک و بت پرستی میں مبتلا ہوگئی تھی ۔ اس تبع بادشاہ کے لئے مفسرین نے دو واقعے لکھے ہیں ۔ ایک تو یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے میں بہت سے علاقے فتح کرتا ہوا سمر قند تک پہنچ گیا تھا۔ محمد ابن اسحاق کی تحقیق یہ ہے کہ وہ ان فتوحات کے دوران جب مدینہ منورہ کی بستی سے گزرا تو اس نے اس سر سبز و شاداب بستی پر چڑھائی کا ارادہ کیا ۔ اہل مدینہ نے اس کا زبردست مقابلہ کیا اور یہ عجیب طریقہ اختیار کیا کہ دن بھر تو وہ قوم تبع سے جنگ کرتے اور رات کو ان کی مہمان نوازی کرتے تھے۔ اس بات سے تبع اور اس کی قوم کو شرم آئی اور اس نے مدینہ پر چڑھائی کا ارادہ ملتوی کردیا ۔ اسی عرصے میں دو یہودی عالموں نے اس کو بتایا کہ اس شہر پر چڑھائی سے اسے کامیابی نصیب نہ ہوگی کیونکہ یہ آخری نبی کا مقام ہجرت ہے۔ یہ سن کر وہ ان دونوں یہودی عالموں کو اپنے ساتھ لے آیا اور اس نے ان یہودی عالموں کی تعلیم و تربیت سے متاثرہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دین قبول کرلیا جو اس وقت دین بر حق تھا ۔ پھر اس کی قوم بھی ایمان لے آئی مگر زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ قوم تبع نے پھر سے شرک و بت پرستی شروع کردی اور نا فرمانیوں کی انتہاء کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید ترین عذاب آیا جس کا ذکر سورة سبا میں کیا گیا ہے ( ابن کثیر) دوسراروایت یہ ہے کہ تبع بادشاہ نے جب توریت میں نبی کریم ﷺ کے فضائل پڑھے تو وہ غائبانہ حضور اکرم ﷺ پر ایمان لے آیا اور اس نے نبی مکرم ﷺ کے نام ایک خط بھی لکھا ۔ اس نے وصیت کی کہ جب وہ آخری نبی تشریف لائیں تو ان کی خدمت میں میرا یہ خط پہنچا دیا جائے چناچہ اس کی یہ وصیت اس کی اولاد میں چلتی رہی۔ تبع کی اکیسویں پشت کے وقت نبی کریم ﷺ نے جب اعلان نبوت فرمایا تو تبع خاندان کے ایک فرد شامول نے حضرت ابو ایوب انصاری کی معرفت تبع کا خط حضور اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کیا ۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا ” مرحبابالاخ الصالخ “ دوسری روایت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” لا تسبوا تبعا فانہ قد کان اسلم “ یعنی تبع کو برا بھلا مت کہو کیونکہ وہ اسلام لے آیا تھا ( طبرانی ، ابن حاتم ، امام احمد) خلاصہ یہ ہے کہ یہ تبع اور اس کی قوم بہت ترقی یافتہ قوم تھی ۔ اس نے اپنے زمانہ میں زبردست عروج حاصل کیا تھا ۔ مال و دولت ، شان و شوکت ، حکومت و سلطنت ، قوت و طاقت اور تجارت و زراعت میں دنیا کی قوموں سے بہت آگے تھی مگر جب ان کے اخلاق اور کردار پر زوال آیا اور انہوں نے ایک اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنا معبود بنا لیا اور نا فرمانیوں اور انبیاء کرام کے جھٹلانے میں حد سے گزر گئی تب وہ قوم اپنے بد ترین انجام سے دو چار ہوئی اور تباہ و برباد کر کے رکھ دی گئی ۔ لیکن تبع بادشاہ نے دین اسلام کو قبول کر کے اپنے لئے آخرت کی ابدی راحتوں اور کامیابیوں میں نام پیدا کرلیا تھا۔ قرآن کریم کے اولین مخاطب مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے ان سے کہا جا رہا ہے کہ بنو قریش اور اہل مکہ اپنی شان و شوکت اور مال و دولت میں بڑھے ہوئے ہیں یا قوم تبع جو دنیا کی انتہائی طاقت و قوم تھی ۔ اگر اتنی زبردست اور طاقت و قوم اللہ کی نا فرمانیوں کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹا دی گئی تو کفار مکہ اور بنو قریش کی ان کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے۔ اس آیت اور حدیث سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ تبع بادشاہ اکیس پشت پہلے نبی کریم ﷺ پر محض فضائل سن کر آپ ﷺ پر ایمان لے آیا تھا لیکن ( اے قریش مکہ) تم کتنے بد نصیب لوگ ہو کہ تمہارے اندر خود اللہ کے رسول ﷺ موجود ہیں جن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور اعلیٰ ترین کردار تمہارے سامنے ہے۔ مگر تم ان کی قدر کرنے کی بجائے ان کی ناقدری کر رہے ہو۔ فرمایا کہ جس طرح قوم تبع اللہ کی نا فرمانیوں کی وجہ سے عذاب الٰہی سے نہ بچ سکی اگر تم بھی ان ہی کے طریقوں پر چلے تو تم اس انجام سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ ہر انسان کو آخرت کے دن کی فکر ہونی چاہیے جب کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا ۔ تاریخ انسانی اس بات کی گواہ ہے کہ جس قوم ، گروہ یا افراد نے آخرت کا انکار کیا اور دنیا کو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دی وہ برے انجام سے نہ بچ سکی۔ فرمایا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے اور جب ہم مرنے کے بعد مٹی میں رل مل جائیں گے ، ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی اور ہمارے وجود کے ذرے کائنات میں بکھر جائیں گے تو ہم دوبارہ پیدا نہ کئے جائیں گے۔ فرمایا کہ اللہ نے یہ نظام قائم کیا ہے کہ اس زندگی کے بعد آخرت کی زندگی ہے جس میں سب کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قوم سبا ، قوم فرعون اور قوم تبع وغیرہ جو دنیا کی عظیم ترین اور طاقت و قومیں تھیں جب انہوں نے اس جاہلانہ عقیدے کو قائم کیا کہ اس دنیا کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے تو ان کی ترقیات ، تجارت و زراعت حکومت و سلطنت اور رشتے داریاں ان کو ان کے برے انجام سے نہ بچا سکیں ۔ کفار کا یہ کہنا کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے مرے ہوئے باپ دادا کو زندہ کر کے لے آئو تو فرمایا کہ وہ سب کے سب قیامت کے دن دوبارہ پیدا کئے جائیں گے اور قیامت انسان سے دور نہیں ہے۔ لہٰذا اس دن اگر ان کے باپ دادا نیکیوں پر اٹھیں گے تو ان کی نجات ہے ورنہ وہ آخرت کی ابدی راحتوں سے محروم رہیں گے اور کوئی شخص یا کوئی چیز ان کے کام نہ آسکے گی وہاں تو اللہ کے فرماں برداروں پر ہی اللہ کا رحم و کرم ہوگا ۔
Ayahs 44:43–59

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ Open ayah 44:43 in the Quran reader

بیشک زقوم کا درخت

طَعَامُ الْاَثِیْمِ٤ۖۛۚ Open ayah 44:44 in the Quran reader

گناہ گاروں کی غذا ہو گی

كَالْمُهْلِ١ۛۚ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ Open ayah 44:45 in the Quran reader

جیسے پگھلا ہوا تانبا جو پیٹ میں جوش مارے گا۔

كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ Open ayah 44:46 in the Quran reader

کھولتے پانی کی طر ح

خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ Open ayah 44:47 in the Quran reader

( فرشتوں سے کہا جائے گا کہ) ان کو پکڑو اور گھسیٹتے ہوئے جہنم کے درمیان میں لے جائو ۔

ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ Open ayah 44:48 in the Quran reader

پھر انکے سر پر عذاب کا کھولتا ہوا پانی انڈیل دو ( کہا جائے گا کہ) مزا چکھ کیونکہ تو بڑی عذاب کا کھولتا ہوا پانی انڈیل دو ۔

ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ Open ayah 44:49 in the Quran reader

( کہا جائے گا کہ) مزا چکھ کیونکہ تو بڑی عزت والا اور بڑی شان والا تھا

اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 44:50 in the Quran reader

یہی وہ چیز تھی جس میں تم شک کیا کرتے تھے۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ Open ayah 44:51 in the Quran reader

اور بیشک تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے پر سکون مقام ہو گا

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ Open ayah 44:52 in the Quran reader

وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ Open ayah 44:53 in the Quran reader

وہ باریک اور دبیز ریشم کا لباس پہنے ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے

كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ Open ayah 44:54 in the Quran reader

سب باتیں اسی طرح ہوں گی اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حسین عورتوں سے ان کا نکاح کردیں گے

یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 44:55 in the Quran reader

وہ اطمینان و سکون سے ہر طرح کے پھل طلب کررہے ہوں گے

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى١ۚ وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 44:56 in the Quran reader

اور وہاں سوائے اس موت کے جو دنیا میں آ چکی تھی کسی اور موت کا مزہ نہ چکھیں گے۔ اور اللہ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا

فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 44:57 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ یہ آپ کے رب کا فضل و کرم ہوگا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 44:58 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ہم نے اس ( قرآن مجید) کو آپ کی زبان میں آسان اور سہل بنا کر نازل کیا ہے تا کہ وہ دھیان دے سکیں

فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠ Open ayah 44:59 in the Quran reader

( آپ ( نتیجے کا) انتظار کیجئے۔ بیشک وہ بھی انتظار کرنے والوں میں سے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 59 : شجرت الزقوم ( زقوم ( جہنمیوں کی غذا) کا درخت) الاثیم ( گناہ گار) المھل (پگھلا ہوا تانبہ) یغلی (ابل رہا ہے ، کھول رہا ہے) البطون ( بطن) ( پیٹ) الحمیم (کھولتا پانی) اعتلوا ( گھسیٹتے لے جائو) صبوا (انڈیل دو ) ذق (چکھ) مقام امین ( امن و سکون کی جگہ) سندس ( باریک ریشم) استبرق (دبیر ریشم) تشریح : آیت نمبر 43 تا 59 : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نصیحت و عبرت کے لئے نہایت آسان اور سہل بنا کر بھیجا ہے جس میں اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ برے اور اچھے اعمال کا نتیجہ کیا ہے۔ جو لوگ دنیا میں زندگی بھر وقتی لذتوں ، خواہشوں ، تمناؤں اور جھوٹی عزت کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں انہیں اپنا ہر عمل اچھا ہی لگتا ہے اور انہیں اس بات پر سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی کہ آخرت کی زندگی میں ان کا انجام کیا ہوگا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں انہیں جو کچھ حاصل ہے وہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے غافل اور برے اعمال میں بد مست لوگوں کو بتایا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے برے اعمال سے توبہ نہ کی تو قیامت کے دن ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا جہاں ان کی غذا زقوم کا درخت ہوگا جس کا مزہ پگھلی ہوئی دھات ، پیپ ، لہو اور تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا ۔ کہتے ہیں کہ مکہ معظمہ میں کسی جگہ یہ درخت پایا جاتا ہے جس کا مزہ بہت کڑوا اور تلخ ہوتا ہے وہ جہنمیوں کی غذا ہوگی ۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کی جنہیں ” زبانیہ “ کہا جاتا ہے اور وہ جہنم پر مقرر ہیں حکم دیا جائے گا کہ اس مجرم کو پکڑو اور گھسیٹتے ہوئے اس کو جہنم کے بیچ میں لے جائو اور اس پر کھولتا ہوا پانی انڈیل دو اور پھر اس سے کہو کہ تو دنیا میں بڑا آبرو مند ، عزت والا اور رتبے والا تھا ۔ تجھے آخرت اور اس برے انجام کا یقین نہ تھا اب اس کا مزہ چکھ ۔ زقوم کا درخت کیا ہے اس کی تفصیل سورة صافات میں بیان کردی گئی ہے۔ جب ابو جہل کو معلوم ہوا کہ کافروں کو سزا کے طور پر زقوم کا درخت کھلایا جائے گا تو اس نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اب آگ کے اندر بھی درخت پیدا ہوں گے ۔ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کھجوریں اور مکھن لائو ہمارا زقوم تو یہی ہے جس کا محمد ﷺ تم سے وعدہ کر رہے ہیں ۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جو دنیا میں خوف الٰہی رکھتے تھے اور انہیں اللہ کے وعدوں کا یقین کامل تھا ان کو ایسی راحت بھری جنتوں میں داخل کیا جائے گا جہاں حسین ترین باغ ، بہتی ہوئی نہریں اور چشمے ہر طرح کی غذائیں ، باریک اور دبیز ریشم کا لباس ہوگا ۔ وہ مسہریوں پر تکیہ لگائے ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔ بڑی بڑی آنکھوں والی حسین ترین حوریں ان کی زوجیت میں دے دی جائیں گی وہاں جس نعمت کو طلب کریں گے جو چاہیں گے وہ ان کو اسی وقت عطاء کیا جائے گا ۔ وہ نہایت امن و سکون سے جنت کی راحتوں سے لطف اندوز ہوں گے نہ ان کو جنتوں سے نکلنے کا خوف ہوگا اور وہ موت جو دنیا میں آ چکی تھی اب دوبارہ اس کے آنے کا اندیشہ تک نہ ہوگا ۔ اگرچہ یہ بات جہنم والوں کو بھی حاصل ہوگی کہ ان کو موت نہ آئے گی مگر فرق یہ ہوگا کہ اہل جنت کو ابدی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی انعام کے طور پر دی جائے گی جب کہ اہل جہنم کو سزا کے طور پر ہمیشہ کی زندگی دی جائے گی۔ جنت ایک ایسے امن و سکون کی جگہ ہوگی جہاں کسی قسم کا غم ، پریشانی ، خطرہ ، اندیشہ اور کوئی محبت ، مشقت اور تکلیف نہ ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ اہل جنت سے کہا جائے گا کہ تم یہاں ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے ۔ ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے ۔ ہمیشہ خوش حال رہو گے کبھی خستہ حال نہ رہو گے۔ ہمیشہ جوان رہو گے اور کبھی بوڑھے نہ ہو گے۔ ( صحیح مسلم) فرمایا گیا کہ ہم نے نصیحت کے لئے اس قرآن مجید کو آسان کردیا ہے۔ آپ بھی ان کے سامنے ساری حقیقت کو رکھ دیجئے اگر یہ مانتے ہیں تو ان کی زبردست کامیابی ہوگی لیکن اگر وہ اس سے منہ پھیر تے ہیں تو آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے اور اس بات کا انتظار کیجئے کہ اللہ کی لعنت ان پر کس طرح مسلط ہوتی ہے۔ وہ بھی آپ کی تحریک اور کام کو دیکھ رہے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ بہر حال اللہ آپ کے ساتھ ہے آپ اسی پر بھروسہ کیجئے وہی انجام بخیر کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔۔۔۔ ۔