43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 43:68–78

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے کہ) اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں ہے اور نہ رنجیدہ ہو گے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

وہ لوگ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور ( ہماری) فرماں برداری کرتے رہے تھے

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

( ان سے کہا جائے گا کہ) تم اور تمہاری والی) بیویاں خوشی خوشی جنت میں داخل ہو جائو ۔

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

ان ( اہل جنت) کے سامنے سونے کے برتن اور جام پیش کئے جائیں گے اور وہاں ہر وہ چیز جس کی وہ خواہش کریں گے اور جن سے آنکھیں ٹھنڈک محسوس کریں گی ان کے لئے موجود ہوں گی اور ( کہا جائے گا کہ) تم ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے۔

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

یہی وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو ( یہ ان اعمال کا بدلہ ہے) جو تم کیا کرتے تھے۔

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

تمہارے لئے ان میں بہت کثرت سے فواکھ ( ہر طرح کی لذیذ غذائیں) موجود ہوں گے جنہیں تم کھائو گے

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

( اس کے بر خلاف) نافرمان لوگ ہمیشہ کی جہنم کے عذب میں مبتلا ہوں گے۔

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

ان سے کسی وقت بھی عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس پڑے رہیں گے ۔

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم و زیادتی کیا کرتے تھے۔

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

اور وہ ( داروغہ جہنم) کو آواز دے کر کہیں گے کہ اے مالک ! ( کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ اس عذاب سے بجات کے لئے) تیرا رب ہمارا کام تمام کردے۔ ( یعنی موت دیدے) تو وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ اسی حال میں رہو گے۔

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) کیونکہ بیشک ہم نے تمہارے پاس حق اور سچائی کا پیغام بھیجا تھا مگر تم میں سے اکثر نے اس حق و صداقت کے ساتھ نفرت کا اظہار ہی کیا ۔

لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 78 : تحبرون ( تم خوش کئے جائو گے) صحاف ( پلٹیں، رکابیاں) لا یفتر (ہلکا نہ کیا جائے گا) مبلسون ( ناامید ہوجانے والے) ما کثون (ٹھہرنے والے ، رکنے والے) تشریح : آیت نمبر 67 تا 78 : جو لوگ دنیا میں تقویٰ ، پرہیز گاری اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں اس کے بندے بن کر رہے تھے قیامت کے دن ان سے ارشاد فرمایا جائے گا کہ اے میرے بندو ! آج تمہارے لئے نہ تو ماضی کا خوف ہوگا اور نہ مستقبل کا رنج و غم ، تم اور تمہاری بیویاں اس جنت کے مستحق بنا دیئے گئے ہیں جن میں تمہاری ایسی خاطر تواضع کی جائے گی جس سے تم خوش ہو جائو گے اور خوشی کے آثار تمہارے چہروں پر نمایاں ہوں گے وہاں نو عمر خادم سونے کی پلٹیں اور گلاس لئے گھوم رہے ہوں گے۔ اور ان جنتوں میں ہر وہ چیز عطاء کی جائے گی جس سے دلوں کو چین اور آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہوگی اور یہ سب کچھ تھوڑی سی مدت اور وقت کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوگی ۔ اللہ کی طرف سے اعلان کیا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس میں تمہارے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کو رکھا گیا تھا۔ لیکن ایک بھول کی وجہ سے جب ان کو جنت سے نکالا گیا تو یہ کہہ دیا گیا تھا کہ اگر دنیا میں جا کر تم نے اللہ کی ہدایت کے مطابق بہترین اعمال سر انجام دیئے تو پھر سے تمہیں اس جنت میں داخل کیا جائے گا ۔ چونکہ تم نے دنیا میں رہ کر ہمارے سارے حکم مانے اور ہمارے رسولوں کی پیروی کی اس لئے اب یہ جنت تمہیں پھر سے مل گئی ہے ۔ تم ان جنت کی راحتوں سے جتنا فائدہ چاہو اٹھا لو ، کھائو ، پیو تمہارے لئے ہر طرف ہر طرح کی نعمتیں بکھیر دی گئی ہیں۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کرتے کرتے مجرم بن گئے تھے ان کو ایسی جہنم اور اس کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ نہ تو ان پر سے کسی عذاب کو ہلکا کیا جائے گا اور نہ کسی قسم کی رعایت کی جائے گی جس سے وہ مایوسی کی انتہاؤں پر پہنچ جائیں گے۔ وہ نہایت مایوسی اور نا امیدی کے ساتھ جہنم کے ایک فرشتے جس کا نام مالک ہوگا اس سے چلا چلا کر یہ کہیں گے کہ تم اپنے پروردگار سے یہ دعا کرو کہ وہ ہمیں جہنم کی اس شدید ترین تکلیف سے نجات کے لئے ہم پر موت طاری کر دے تا کہ اس اذیت سے ہم بچ سکیں گے۔ جہنم کا یہ فرشتہ یا داروغہ ان کے رونے چلانے کا سنتا رہے گا اور ایک ہزار سال کے بعد یہ جواب دے گا کہ تم دنیا اور اس کی لذتوں میں الجھے رہے اور تمہیں آخرت کا کبھی خیال تک نہ آیا اب تم ہمیشہ کے لئے اسی حالت میں رہو گے نہ مرو گے نہ جیو گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آج اگر یہ لوگ یہ لوگ اس حالت کو پہنچے ہیں تو اس میں ان کا اپنا قصور ہے اللہ نے ان پر ظلم و زیادتی نہیں کی بلکہ انہوں نے خود ہی اس راستے کو منتخب کیا تھا جس کی سزا آج یہ بھگت رہے ہیں ۔ فرمایا جائے گا کہ ہم نے اپنے رسولوں کے ذریعہ حق و صداقت کی بات کو پہنچا دیا تھا مگر جب بھی ان سے اس سچائی پر چلنے اور ماننے کے لئے کہا تو انہوں نے اس سے منہ پھیرا اور نفرت کا اظہار کیا
Ayahs 43:79–89

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

کیا انہوں نے ( کوئی نقصان پہنچانے کی کارروائی) طے کرلی ہے تو ( یاد رکھو) ہم نے بھی ایک بات طے کر رکھی ہے۔

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی خفیہ باتوں اور چپکے چپکے مشوروں کو سنتے نہیں ہیں ؟ (ہم ضرور سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے جو ان کے پاس ہیں وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں۔

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ Open ayah 43:81 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر رحمن کے بیٹا ہوتا تو سب عبادت کرنے والوں میں سے پہلے میں اس کی عبادت کرتا

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 43:82 in the Quran reader

حالانکہ یہ مشرک اللہ کی شان میں جو باتیں بنا رہے ہیں ان سے آسمان اور زمین کا مالک جو عرش کا بھی مالک ہے بالکل پاک اور بےعیب ہے۔

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ Open ayah 43:83 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ ان کو ان کے بےہودہ مشغلوں اور کھیل کود میں لگا رہنے دیجئے یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ پیش آجائے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 43:84 in the Quran reader

وہی آسمانوں میں عبادت کے لائق ہے اور وہی زمین میں بھی لائق عبادت ہے ۔ وہ بڑی حکمت والا اور بہت علم والا ہے۔

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

وہ ذات بڑی شان والی ذات ہے جس کے لئے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی ملکیت اسی کی ہے۔ اس کے پاس قیامت واقع ہونے کا علم بھی ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اور اللہ کو چھوڑ کر وہ جنہیں پکارتے ہیں ان کو ( اللہ کی بارگاہ میں) سفارش تک کرنے کا حق نہ ہوگا سوائے ان کے جو حق و صداقت کے گواہ ہیں اور وہ اس کو جانتے ہیں۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو وہ یقینا یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے ( پیدا کیا ہے) تو پھر (اے نبی ﷺ ان سے کہئے کہ تم یہ الٹے کہاں جا رہے ہو ؟

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

(فرمایا کہ) اللہ کو رسول کے یہ کہنے کی بھی خبر ہے کہ اے میرے رب یہ ایسے لوگ ہیں کہ ( سمجھانے کے باوجود ) ایمان نہیں لاتے۔

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

( تو اے نبی ﷺ آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے اور یہ کہہ دیجئے کہ تم سلامت رہو۔ پھر وہ بہت جلد سب کچھ سمجھ جائیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 89 : ابرمو (انہوں نے ٹھان لی ، طے کرلی) یخرضوا (وہ گھستے ہیں) یلعبوا ( وہ کھیلتے ہیں) اصفح (در گزر کرلے ، منہ پھیر لے) سلام ( سلامتی ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 79 تا 89 : کفار مکہ اس بات سے بہت ڈرے ہوئے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی مقناطیسی شخصیت اور کلام الٰہی سے عرب کے نوجوان بڑی تیزی سے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ جو بھی ان کی زبان سے کلام سنتا ہے تو وہ فوراً ہی اسلام کی سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ کفار قریش نے نہایت خاموشی سے مکہ کے اہم لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے ان سے خفیہ مشورے کرنا شروع کردیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے اور اس تحریک کا مقابلہ نہ کیا تو مسلمان دندناتے پھریں گے اور سارا عرب مسلمان ہوجائے گا لہٰذا کوئی ایسی تدبیر کی جائے کہ ہم میں سے جس نے بھی اسلام قبول کرلیا ہے ہر رشتہ دار اور دوسرے رشتہ دار کو اس راستے سے روکنے کی کوشش کرے۔ اگر کسی غلام نے اس طرفقدم بڑھایا تو اس کا آقا پوری طاقت و قوت سے اس کو کچلنے اور روکنے کی کوشش کرے اور باہر سے آنے والے ہر شخص کو یہ سمجھا دیا جائے کہ ہمارے اندر ایک ایسا شخص آگیا ہے جو اپنی دیوانگی میں نئی نئی باتیں کررہا ہے لہٰذا اس کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ وہ گمراہ کر دے گا ۔ یہ اور اسی قسم کی بہت سی تدبیروں پر ایک خفیہ معاہدہ طے پا گیا اور ہر ایک نے اس معاہدے پر پوری دیانت داری سے عمل کرنے کی ٹھان لی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خفیہ تدبیروں اور اسلام کو مٹانے کی کوششوں کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ اگر کفار نے اس بات کا پکا ارادہ کرلیا ہے کہ وہ لوگوں کو نبی کریم ﷺ اور قرآن کی طرف نہ آنے دیں گے اور دنیا سے اسلام کی ہر ممکن کوشش کریں گے تو ہم نے بھی ان کو سخت ترین سزائیں دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ فرمایا کہ ہم ان کی خفیہ تدبیروں اور رازوں سے اچھی طرح واقف ہیں ہم سب کچھ سنتے اور جانتے ہیں اور ہمارے فرشتے ہر وقت ان کے پاس ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں اسے وہ لکھتے جا رہ ہیں جو قیامت کے دن ان کے سامنے آئے گا اور یہ اپنے انجام اور سخت سزاؤں سے نہ بچ سکیں گے۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان کفار سے کہہ دیجئے کہ میں تو تمہاری بھلائی اور خیر خواہی میں تمہارے غلط عقیدوں کی اصلاح کرتا رہوں گا اور تم نے جو اللہ کے لئے بیٹے کا تصور گھڑ رکھا ہے کہ اس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا بیٹا بنایا ہوا ہے وہ بالکل غلط اور بےبنیاد ہے۔ اللہ کی ذات بیٹا ، بیٹی اور بیوی کے ہر تصور سے بےنیاز ہے اگر فرض کرلیا جائے کہ اللہ نے دنیا کے گناہوں کے کفارے کے لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بیٹا بنا کر بھیجا ہے۔ میں جو اللہ کا سب سے بڑا عبادت گزار ہوں اس کا پورا پورا احترام کرتے ہوئے میں تم سب سے پہلے اس کے سامنے اپنا سر جھکا دیتا لیکن یہ تصور بنیادی طور پر غلط ہے کیونکہ اللہ کے نہ تو کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی ۔ اللہ وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے۔ عراش الٰہی کا مالک و مختار ہے اس کا حکم ہر ایک پر چلتا ہے ۔ اسی کو قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس کی ذات ہر طرح کی تمام خوبیوں کا سر چشمہ ہے۔ ہر چیز اس کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہے وہی علم و حکمت والا ہے۔ قیامت میں صرف اسی کی حکمرانی ہوگی ۔ وہاں کسی کی محال نہ ہوگی کہ بغیر اجازت کسی کی سفارش بھی کی جاسکے۔ البتہ جن لوگوں نے دنیا میں حق کے کلمہ کو بلند کیا ہوگا یعنی دل اور زبان سے ایمان کا اقرار کیا ہوگا جیسے انبیاء کرام (علیہ السلام) ، صلحائے امت اور خاص خاص ممن بندے ان کو گناہگاروں کی سفارش کا اختیار دیا جائے گا کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں ان کی سفارش کریں ۔ فرمایا کہ کفار کے دل بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ اس کائنات کا خالق ومالک صرف اللہ ہے اسی لئے اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ بےساختہ کہہ اٹھیں گے کہ ہمیں اللہ نے پیدا کیا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ان سے آپ کہئے کہ جب تمہارا خالق اللہ ہے تو پھر تم یہ منہ اٹھائے کدھر جا رہے ہو ؟ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان کے کھیل کود اور تماشوں میں لگا رہنے یجئے بہت جلد ان پر ساری حقیقت کھل جائے گی ۔ اس وقت یہ اپنے اعمال پر شرمندہ ہوں گے۔ فرمایا کہ آپ اپنا خیر و فلاح کا مشن جاری رکھئے ۔ اگر وہ راستے کی رکاوٹ بن کر کھڑے ہوجائیں تو آپ نہایت سلامتی کے ساتھ ان کے پاس سے گزر جائیے اور ان سے در گزر کیجئے ، کیونکہ قیامت کا دن جو ان سے زیادہ دور نہیں ہے اس میں ہر بات کھل کر ان کے سامنے آجائے گی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔۔۔۔