43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 43:36–45

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو شخص بھی رحمن کے ذکر سے آنکھیں بند کرلیا ہے تو ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

پھر وہ ( اور اس کے ساتھی) شیاطین اس کو صحیح راستے سے روکتے ہیں ۔ اور کافر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ ہدایت کے راستے پر ہیں۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ ( کافر) ہمارے پاس آئے گا اس ( ساتھی) سے کہے گا کہ کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا ( جیسا) فاصلہ ہوتا کیونکہ تو بد ترین ساتھی نکلا ۔

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

( ان سے کہا جائے گا کہ) جب تم ظلم و زیادتی کرچکے تو آج تمہاری بات ( تمہاری شرمندگی) تمہیں کوئی نفع نہ دے گی کیونکہ تم اور یہ شیاطین عذاب میں برابر کے شریک ہیں۔

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں یا آپ اندھوں کو اور جو کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ان کو راہ ہدایت دکھا سکتے ہیں ؟

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

پھر اگر ہم آپ کو لے جائیں ( وفات دیدیں) تب بھی ہم ان کافروں سے انتقام ضرور لیں گے

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا ان کافروں سے ہم نے جو وعدہ کر رکھا ہے وہ آپ کو ( اسی دنیا کی زندگی ہی میں) دکھلا دیں ۔ اس پر ہم پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ اس پر جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اس کو مضبوطی سے تھام لیجئے۔ بیشک آپ صراط مستقیم پر ہیں ۔

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور یہ ( قرآن مجید) آپ کے لئے اور آپ کی امت کے لئے ایک یاددہانی ہے اور بہت جلد تم سب سے پوچھا جائے گا

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور آپ ان پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے ان سے پوچھ لیجئے ( یعنی ان کی کتابوں میں دیکھ لیجئے) کہ کیا ہم نے رحمن کے سوا دوسرے معبود مقرر کئے تھے کہ ان کی عبادت و بندگی کی جائے۔

لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 45 : یعش (جو اندھا بنتا ہے ( آنکھیں بند کرلیتا ہے) نقیض (ہم ساتھ لگا دیتے ہیں ، ہم مقرر کردیتے ہیں) قرین ( ساتھی) یصدون ( وہ روکتے ہیں) یلیت (اے کاش) استمسک (مضبوط تھام لے) تسئلون ( تم پوچھے جائو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 36 تا 45 : اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور دین کے سچے اصولوں کی پابندی انسان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی اور نجات دلانے کا یقینی ذریعہ ہے لیکن جو لوگ ان سچائیوں سے منہ موڑ کر اللہ کی یاد سے غفلت اور کوتاہی اختیار کرتے ہیں ان پر قدرت کی طرف سے ایک ایسے شیطان کو مسلط کردیا جاتا ہے جو ہر وقت ان کے ساتھ رہ کر برے خیالات اور وسوسوں کے ذریعہ انہیں راہ حق و صداقت سے بھٹکانے کی کوشش کرتا رہتا ہے جس سے ان کے سوچنے کا اندازہ بدل جاتا ہے اور انہیں صرف ایسے ہی کاموں میں کامیابی نظر آتی ہے جو غلط اور گمراہی کے خوبصورت راستے ہیں ۔ ان کے نزدیک نیکی اور برائی میں کوئی خاص فرق باقی نہیں رہتا اور اس طرح شیطان ان کے ذہن و فکر کے ہر تصور کو مسخ کر کے رکھ دیتا ہے۔ اللہ نے ایسے ہی لوگوں کے لئے فرمایا ہے کہ ان کو اپنی گمراہی اور بد نصیبی کا اندازہ شاید اس دنیا میں نہ ہو لیکن کل قیامت کے دن جب وہ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور عذاب کی شدت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو انہیں اپنی غلطیوں ، گناہوں اور خطاؤں کا شدت سے احساس پیدا ہوگا اور وہ زندگی بھر جس شیطان کو اپنا مخلص دوست اور ساتھی سمجھتے رہے ہوں گے اس کی دھوکے بازی ، جھوٹ ، فریب اور بےوفائی پوری طرح کھل کر ان کے سامنے آجائے گی اور وہ قیامت کے ہولناک دن میدان حشر میں اس طرح تنہاء کھڑے ہوں گے کہ کوئی ان کے کام نہ آسکے گا ۔ وہ اپنی شرمندگی اور احساس ندامت کے سمندر میں غرق ہو کر یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ کاش ان کے اور ان کے برے ساتھی شیطان کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ وہ کہہ اٹھیں گے کہ اگر وہ شیطان کو اپنا دوست اور ساتھی نہ بناتے تو ان کو اس ذلت اور رسوائی سے واسطہ نہ پڑتا اور یہ بد قسمت دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا لیکن عمل کا وقت نکل جانے کے بعد ان کا پچھتانا ان کے کام نہ آسکے گا ۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ جس سچائی کے راستے پر اپنی جدوجہد اور کوشش کر رہے ہیں وہی راہ حق ہے اور آپ صراط مستقیم پر ہیں ۔ آپ لوگوں کی نا فرمانیوں اور انکار کی وجہ سے مایوس نہ ہوں اور اپنا مشن جاری رکھے جو سعادت مند اور خوش نصیب ہیں وہ آپ کی بات سن کر عمل کریں گے لیکن جو لوگ آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے اور کان رکھنے کے باوجود بہرے بنے ہوئے ہیں ان کو آپ دکھانا اور سنانا بھی چاہیں تب بھی وہ راہ ہدایت کو اختیار نہ کریں گے۔ اللہ نے فرمایا ہو سکتا وہ ایسے ضدی ، ہٹ دھرم اور نافرمان لوگوں کو آپ کی دنیاوی زندگی ہی میں یا بعد میں سخت سے سخت سزا دیدیے بہر حال یہ بات بالکل واضح اور صاف ہے کہ جب بھی ان کو سزا دی جائے گی تو وہ ان کی زندگی کا بد نصیب دن ہوگا ۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ خود اور اپنے کے مخلص صحابہ کرام ؓ کے لئے جو ہدایت و رہنمائی عطاء کی گئی ہے اس پر قائم رہیے کیونکہ اللہ کے ہاں ہر ایک سے اس کے اعمال کے متعلق ضرور پوچھا جائے گا اور جیسا جس کا عمل ہوگا اس کو ویسی ہی جزا اور سزا بھی دی جائے گی ۔ یہ توحید کا وہ راستہ ہے جس پر سارے نبی چلتے آئے ہیں جنہوں نے توحید کی تعلیم دی اور کفر و شرک سے نفرت سکھائی اور انہوں نے اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہیں کی ۔ فرمایا کہ اس پر تمام انبیاء کی تعلیمات گواہ ہیں اور اگر آپ ان منکرین و مشرکین سے پوچھیں تو یہ بھی اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتے کہ اللہ کے سارے پیغمبر اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے اور عبادت و بندگی کے تمام طریقے صرف اللہ کے ساتھ ہی خاص کئے ہوئے تھے۔
Ayahs 43:46–56

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

پھر جب وہ ( موسیٰ (علیہ السلام) ہماری نشانیوں ( معجزات) کو ان کے پاس لے کر آیا تو وہ ان کی ہنسی مذاق میں اڑانے لگے۔

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور ہم ان کو بھی نشانیاں دکھاتے تو وہ پہلی نشانی سے بڑھ چڑھ کر ہوتی تھی اور ہم نے ان ( فرعونیوں) کو مختلف عذابوں میں جکڑ لیا تھا تا کہ وہ ( اپنی حرکتوں سے) باز آجائیں ۔

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

انہوں نے ( حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے) کہا کہ اے جادوگر تو اپنے رب سے اس عہد کی بناء پر جو اس نے تجھ سے کر رکھا ہے ہمارے لئے دعا کر دے ( کہ یہ عذاب ٹل جائے) ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم ضرور ہدایت پر آجائیں گے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

پھر ہم نے جب بھی ان سے وہ سزا جس میں مبتلا کئے گئے تھے دور کردی تو وہ اپنے وعدے کو توڑ ڈالتے تھے

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو پکارا اور کہا کہ اے میری قوم ! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے ؟ اور میرے نیچے جو نہریں بہہ رہی ہیں کیا تمہیں نظر نہیں آرہی ہیں ؟

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

کیا میں اس شخص سے بہتر نہیں ہوں جس کی کوئی عزت بھی نہیں ہے جو صاف طور پر بول بھی نہیں سکتا۔

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

پھر اگر یہ ( اللہ کا ) بھیجا ہوا ہے تو اس پر سونے کے کنگن یا اس کے ساتھ فرشتے جمع ہو کر کیوں نازل نہیں کئے گئے ؟

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

پھر فرعون نے اپنی قوم کو کمزور کردیا ( ان کی عقل کھول دی) انہوں نے اس ( فرعون ہی) کی بات کو مانا ۔ بیشک وہ تھے ہی نافرمان لوگ۔

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور پھر ہم نے ان سب کو ڈبو دیا

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو گئی گزری قوم اور آنے والوں کے لئے نشان عبرت بنا دیا

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 56 : یضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں ، ہنستے ہیں) اخت (بہن ، جنس) ینکثون (وہ توڑ ڈالتے ہیں) مھین (جس کی کوئی عزت نہ ہو) اسورۃ ( سوار) (کنگن ، پہننے کا زیور) مقترنین ( مقترن) (ملے ہوئے ، جڑے ہوئے) استخفف ( اس نے ہلکا کیا ، ذلیل کیا) اسفوا ( انہوں نے بھڑکایا) سلف (گزرے ہوئے) تشریح : آیت نمبر 46 تا 56 : زیر مطالعہ آیات سے پہلے بتا دیا گیا تھا کہ جتنے پیغمبر بھی بھیجے گئے تھے انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو توحید کی تعلیم دے کر ان کے سامنے اس حقیقت کو پیش کیا تھا کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے۔ وہ خود بھی توحید پر عمل کرتے رہے اور انہوں نے زندگی بھر اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہیں کی ۔ جن سعادت مندوں نے ان کی اطاعت کی وہ بھی اللہ کی توحید اور اس کی بندگی کرتے رہے۔ وہی کامیاب و با مراد ہوئے لیکن جنہوں نے توحید کا راستہ چھوڑ کر اللہ کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کر کے ان کی عبادت و پرستش کی ان کو بار بار آگاہ کیا گیا کہ وہ اپنے اس طرز عمل سے توبہ کرلیں لیکن انہوں نے پیغمبروں کی بات کو سمجھنے کی کوشش نہ کی ۔ جب ان کی مہلت کی مدت ختم ہوگئی تو ان پر اتنے شدید عذاب آئے کہ ان کی تہذیب ، ترقیات اور خود ان کا اپنا وجود بھی تہس نہس کردیا گیا ۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ اسی صراط مستقیم پر ہیں جس پر اللہ کے تمام پیغمبر چلتے آئے ہیں لہٰذا آپ کسی کی پرواہ کئے بغیر اللہ کے دین کو پھیلانے کی جدوجہد کرتے رہیے۔ اللہ آپ کو اسی طرح مدد کرے گا جس طرح اس نے اپنے پیغمبروں کی مدد کی تھی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کر کے سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کی تھی جب فرعون اور اس کی فوج کو سمندر میں غرق کردیا گیا تھا۔ پھر کوئی اس کی مدد کو نہ آسکا تھا ۔ فرمایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے بھرے دربار میں اس بات کا اعلان کیا کہ مجھے اللہ نے بھیجا ہے تا کہ اے فرعون تو اور تیری قوم جس گمراہی میں مبتلا ہوگئے ہو اس سے توبہ کرلو ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا اور ید بیضا کے معجزات دکھائے تو پوری قوم اس سے متاثر ہونا شروع ہوگئی۔ فرعون اور اس کے خوشامدی درباریوں نے پہلے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مذاق اڑانا شروع کیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ لوگوں کے دلوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عزت و عظمت بڑھتی جا رہی ہے تو انہیں فکر پیدا ہوگئی۔ انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کو یوں ہی چھوڑ دیا گیا تو ان کی حکومت و سلطنت اور اقتدار و اجارہ داری کا رعب لوگوں کے دلوں سے نکل جائے گا ۔ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اثرات کو مٹانے کی بھر پور کوششیں شروع کردیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کی مسلسل نا فرمانیوں کی وجہ سے ان پر نو ایسے چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے تا کہ بڑے عذاب سے پہلے ان کو آگاہ اور خبردار کردیا جائے۔ سورة اعراف میں اس کی تفصیل آ چکی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سلطنت فرعون میں شدید قحط پڑگیا اتنی شدید بارشیں ہوئیں کہ جن سے بستیاں اور کھیتیاں تباہ و برباد ہو کر رہ گئیں ۔ ٹڈی دل نے اتنا شدید حملہ کیا کہ ان کے کھیت اور کھلیانوں کو چٹ کر گئے ۔ پوری سلطنت میں جوئیں اور سرسریاں پیدا ہونا شروع ہوئیں جن سے انسان ، ان کے مویشی اور غلے کے گودام تک متاثر ہونا شروع ہوگئے۔ مینڈکوں کا ایک سیلاب سا آگیا جس سے پوری قوم کا چلنا پھرنا دشوار ہوگیا۔ پھر خون کا عذاب بھی نازل ہوا جس سے ان کی نہریں ، تالاب ، چشمے اس طرح متاثر ہوئے کہ پوری قوم ایک ہفتے تک صاف پانی سے محروم ہوگئی۔ یہ وہ مسلسل عذاب کی شکلیں تھیں جن سے پوری قوم شدید مشکلات کا شکار ہوگئی تھیں ۔ ان پر جب بھی کوئی عذاب آتا تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آ کر درخواست کرتے کہ اے جادوگر ! اگر یہ عذاب ہم سے ٹل گیا تو ہم آپ کی ہر بات مانیں گے۔ جب وہ عذاب ٹل جاتا تو وہ پھر سے اپنی نا فرمانیوں میں لگ جاتے تھے ۔ ان کی جہالت اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اے جادوگر ! کہہ کر پکارتے تھے ، کیونکہ اس زمانہ میں جادو میں کمال ، علم کا کمال شمار ہوتا تھا لیکن در حقیقت وہ اس لفظ سے احترام کے پردے میں صرف اپنا کام نکالنا چاہتے تھے یعنی ان کے نزدیک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حیثیت ایک جادوگر یا عالم کی تھی مگر وہ ان کو نبی ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے منافقین جب نبی کریم ﷺ کی مجلس میں آتے اور کوئی بات دوبارہ سمجھنا چاہتے تھے تو کہتے تھے ” راعنا “ یعنی ہماری رعایت کیجئے لیکن وہ اس لفظ کو اس طرح زبان دبا کر ادا کرتے تھے کہ جس کے معنی چرواہے اور جاہل و احمق کے ہوجاتے تھے۔ سننے والے یہ سمجھتے کہ وہ ” راعنا “ کہہ رہے ہیں لیکن در حقیقت وہ نبی کریم ﷺ پر ” تبرا “ کرتے تھے یہ الفاظ کے کھلاڑی دنیا میں ہمیشہ یہی طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ فرعون نے ایک دن درباریوں سے کہا ۔ یا ملک بھر میں اپنے نمائندے بھیج کر کہلا دیا کہ کیا میں پوری سلطنت کا مالک نہیں ہوں ؟ کیا میرے نیچے ( دریائے نیل سے) نہریں نہیں بہہ رہی ہیں جن سے ہر طرف سر سبزی و شادابی ہے ؟ اور قوم ترقی کر رہی ہے ؟ اس نے کہا کیا تم یہ نہیں دیکھ رہے ہو کہ میری سلطنت کا رعب ہر شخص کے دل پر چھایا ہوا ہے ؟ اس نے پوچھا کہ یہ بتائو میں بہتر ہوں یا موسیٰ اور ان کے ساتھ بہتر ہیں ؟ جن کا یہ حال ہے کہ نہ تو ان کے پاس حکومت و سلطنت ہے نہ رعب ہے نہ مال و دولت کی کثرت ہے بلکہ ( نعوذ باللہ) وہ ایک معمولی سے آدمی ہیں جو اس طرح باتیں کرتے ہیں کہ ان کی دلیلوں میں کوئی جان نہیں ہوتی ۔ اگر واقعی موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو ان کی سلطنت کا رعب کہاں ہے کیا وہ اس زمانہ کے دستور کے مطابق سونے کے کنگن اور لشکر کے ساتھ نکلتے ہیں ۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں تو ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن اور چاروں طرف ان کے فرشتوں کی فوج ہونا چاہیے تھی ۔ چونکہ فرعون نے دنیا داروں کے سامنے یہ دنیاوی موثر انداز اختیار کیا تو لوگوں نے اس کی بات کو مان لیا کیونکہ زبردست زر پرستوں کی باتوں کو خوب سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک مال و دولت ہی سب کچھ ہوتا ہے وہ اسی زبان کو سمجھتے ہیں ۔ چونکہ پوری قوم دولت پرست ، اللہ کی نافرمان اور سر کش تھی اس لئے فرعون کی باتوں نے ان پر بہت اثر کیا اور اس طرح پوری قوم ایک مرتبہ پھر فرعون کے مکرو فریب اور چکر میں آگئی۔ چونکہ پوری قوم نے توبہ کرنے کے بجائے نافرمانی اور گناہوں کا راستہ اختیار کرلیا تھا اس لئے اللہ نے ساری نافرمان قوم اور فرعون کو پانی میں ڈبو کر ختم کردیا اور ان کی زندگیوں کو ہر ایک کے لئے نشان عبرت بنا دیا ۔ اور وہ بنی اسرائیل جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لے آئے تھے اللہ نے ان کو نجات عطاء فرما کر عظمتیں عطاء فرما دیں۔
Ayahs 43:57–67

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جب ابن مریم کے متعلق ایک بات کہی گئی تو قوم کے لوگ ( کفار مکہ) (خوشی کے مارے) شور مچانے لگے ۔

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ؟ ( یعنی عیسیٰ ابن مریم) یہ بات انہوں نے صرف جھگڑنے کی غرض سے کی تھی ۔ دراصل یہ لوگ ہی سخت جھگڑالو ہیں۔

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

حالانکہ وہ ( عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم) صرف اللہ کے ایک بندے ہیں جن پر ہم نے فضل و کرم کیا تھا اور بنی اسرائیل کے لئے ان کو ( اپنی قدرت کا ایک) نمونہ بنایا تھا

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو فرشتوں کو پیدا کردیتے جو زمین پر تمہاری جگہ ( تمہارے جانشین بن کر) رہتے

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور بیشک وہ ( عیسیٰ ابن مریم) قیامت کی ایک علامت ہیں۔ تم ( اس قیامت کے قائم ہونے) میں شک نہ کرو ۔ تم میری بات مانو یہی صراط مستقیم ہے

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور کہیں شیطان تمہیں ( راہ مستقیم سے) نہ روک دے کیونکہ بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) کھلی ہوئی نشانیاں ( معجزات) لے کر آگئے اور انہوں نے کہا کہ میں تمہاری پاس عقل و سمجھ کی باتیں لے کر آیا ہوں تا کہ بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو ان کی حقیقت سے تمہیں آگاہ کر دوں۔ تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اسی کی عبادت و بندگی کرو یہی صراط مستقیم ہے

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

پھر (بنی اسرائیل کے) بہت سے گروہوں نے آپس میں شدید اختلاف کر ڈالا تو ایسے ظالموں کے لئے درد ناک دن کا عذاب اور بڑی تباہی ( ہونے والی) ہے۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

اب یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ ان پر اچانک قیامت آپہنچے اور ان کو خبر بھی نہ ہو

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

حالانکہ اس دن سوائے اہل تقویٰ کے تمام دوست آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 67 : خصمون ( وہ جھگڑتے ہیں) یخلفون (وہ قائم مقام ہوتے ہیں) لا تمترن ( تم ہرگز نہ کرو گے) لا یصدن ( ہرگز نہ روکنے پائے) الاحزاب ( جماعتیں ، فرقے ، گڑھے) الاخلائ (سارے دوست) تشریح : آیت نمبر 57 تا 67 : ایک مشہور مثال ہے کہ ” بد فطرت انسان کے لئے ایک بہانہ کافی ہوتا ہے “ یعنی جن لوگوں کی عقلیں اوندھی ہوجاتی ہیں اور وہ ہر نیک عمل کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں وہ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کوئی ایسی بات لگ جائے جسے لے کر وہ اپنی انا کی تسکین کرسکیں ۔ کفار و مشرکین کا بھی یہی حال تھا وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے تھے کہ ان کے ہاتھ نبی کریم ﷺ کی کوئی ایسی بات یا کمزوری آجائے جس کو لے کر وہ پروپیگنڈا کرسکیں چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو معبود بنا رکھا ہے وہ معبود اور ان کی بندگی کرنے والے دونوں جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا تھا کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی عبادت و بندگی کرتے ہیں اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کے ساتھ جنہیں شریک کیا گیا ہے وہ قیامت کے دن ان کے کام نہ آسکیں گے اور پتھرکے بےجان بت یا وہ جان دار جو اپنی عبادت کا حکم دیتے اور اس کو پسند کرتے ہوں کہ ان کی عبادت کی جائے جیسے شیاطین ، فرعون اور نمرود وغیرہ یہ سب جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ کفار و مشرکین نے اس سچائی کو ایک غلط رنگ دے کر نبی کریم ﷺ ، آپ پر ایمان لانے والوں اور دین اسلام کے متعلق پروپیگنڈے کا ایک طوفان کھڑا کردیا ۔ کہنے لگے کہ اگر ہم اپنے بتوں کو عبادت و بندگی کرتے ہیں اور ان کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے تو نصاری بھی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ( یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ، کفار مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کو) معبود کا درجہ دیتے ہیں تو کیا ( نعوذباللہ) یہ بھی جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔ جب کفار و مشرکین نے یہ بات سنی تو وہ خوشی سے چلانے اور شور مچانے لگے کہ اب اس کا جواب دیا جائے کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ( عیسیٰ (علیہ السلام) بہتر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس جاہلانہ بات کا جواب دینے سے پہلے یہ بتا دیا کہ ایسی لغو اور فضول باتیں وہی کرسکتے ہیں جن کا کام صرف فساد کرنا اور جھگڑے پیدا کرنا ہے ورنہ وہ اتنی عقل تو رکھتے ہی ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر ہیں جن کی پاکیزہ زندگی کا ہر تصور بہت واضح ہے جن کا وجود قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ( کیونکہ اللہ کے حکم سے وہ آسمانوں پر اٹھا لئے گئے ہیں قیامت کے قریب دنیا میں دوبارہ حضور اکرم ﷺ کے ایک امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے۔ دجال کو قتل کریں گے ، صلیب کو توڑ ڈالیں اور پھر قیامت قائم ہوگی) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) زندگی بھر توحید کی تعلیم دیتے رہے اور جب وہ آسمان سے دوبارہ آئیں گے اس وقت بھی وہ اسی توحید کی تعلیم دیں گے لہٰذا جو لوگ زبردست غلط فہمی کی وجہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت و بندگی کر رہے ہیں ان کی غلط سوچ ، ذاتی رائے اور ان کا اپنا ذاتی فعل ہے اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کوئی قصور نہیں ہے۔ ان کی پوری زندگی گواہ ہے کہ انہوں نے نہ تو ایسا کرنے کا حکم دیا نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خواہش اور مرضی تھی نہ اللہ کا کلام اس کی تائید کرتا ہے۔ اگر موجودہ انجیلوں کا دیانت دار سے مطالعہ کیا جائے تو انہوں نے صرف ایک ہی بات فرمائی کہ لوگو ! تم اللہ سے ڈرو، اس کے سوا کسی سے نہ ڈرو ، صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرو اور زندگی کے تمام معاملات میں اللہ کے رسول کی پیروی کرو۔ اس بنیادی عقیدے کے خلاف جنہوں نے عقیدت و محبت اور عبادت زندگی کے بیشمار طریقے نکال رکھے ہیں وہ من گھڑت ہیں جب تک وہ انہیں نہ چھوڑیں گے اس وقت تک وہ دین کی اصل روح تک نہ پہنچ سکیں گے۔ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مسیح اللہ کے محبوب بندوں میں سے ہیں جنہیں بنی اسرائیل کی ہدایت و رہنمائی کے لئے بھیجا گیا تھا تا کہ عقیدے کی جن گندگیوں میں وہ زندگی گزار رہے ہیں ان کی اصلاح کردی جائے۔ لیکن بنی اسرائیل نے ان سے ہدایت حاصل کرنے کے بجائے خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کو معبود کا درجہ دیدیا ۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے وہ مردوں کو زندہ کردیتے ہیں ، مٹی کا پرندہ بنا کر جب وہ پھونک مارتے ہیں تو وہ جیتا جاگتا پرندہ بند جاتا ہے، پیدائشی نابینا کی آنکھوں پر دم کرتے ہیں تو اس کو بینائی مل جاتی ہے، جب وہ کسی کوڑھی کے بدن پر ہاتھ پھیرتے ہیں تو وہ بھلا چنگا ہوجاتا ہے۔ یہ اور اس قسم کی چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ ( نعوذ باللہ) وہ اللہ کے بیٹے اور معبود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے تو اس میں کوئی تعجب یا حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی حضرت حوا کو اللہ نے بغیر ماں اور باپ کے پیدا کیا ہے یہ تو صرف اسی کی قدرت ہے وہ جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے ۔ فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو فرشتوں کو بھی انسانوں سے پیدا کرسکتے تھے پھر ان کے ہاں بھی اولاد کا سلسلہ ہی قائم ہوجاتا جیسا کہ انسانوں میں جاتا ہے۔ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے اس طرح معجزات دیئے تھے جس طرح ان سے پہلے پیغمبروں کو یا نبی کریم ﷺ کو معجزات عطاء کئے گئے تھے۔ وہ یہ سارے کام اللہ کے حکم سے کرتے تھے۔ مردوں کو زندہ کرنا ، نابینا کو آنکھیں دینا ، کوڑھی کو صحت مند بنانا یہ سب اللہ کی قدرت کے نمونے تھے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں سے ظاہر ہوئے۔ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بالکل واضح ، صاف صاحف اور دو ٹوک الفاظ میں اس اعلان کردیا تھا کہ میرا اور تمہارا رب صرف ایک اللہ ہی ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے۔ اگر کچھ لوگوں نے ان کا معبود کا درجہ دیدیا ہے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ قصور تو ان لوگوں کا ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ تصور کرنے کے بجائے ان کو معبود کا درجہ دیدیا ہے۔ فرمایا کہ ان ظالموں کو عقل سے کام لینا چاہیے کیونکہ اس دنیا کی زندگی بڑی مختصر ہے جب زندگی کا دھارا رک جائے گا یعنی مومت آجائے گی تو قیامت قائم ہوگی اس وقت یہ دنیا کے اسباب اور ساتھ دینے والے دوست احباب ان کا ساتھ نہ دے سکیں گے۔ آج کفار و مشرکین کی آواز میں آواز ملانے والے قیامت میں ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ لیکن ان کے بر خلاف جن لوگوں نے اپنے دلوں میں توحید اور ایمان کی شمع روشن کر رکھی ہوگی وہ بہت جلد بلند ، کامیاب اور با مراد ہوں گے۔