40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 40:51–78

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

بیشک ہم اپنے رسولوں اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ہیں دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی ( مدد کریں گے) جب گواہی دینے والے ( فرشتے) کھڑے ہوں گے۔

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

اس دن جب کہ ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور ان کے لئے لعنت ہوگی اور ان کے لئے بدترین ٹھکانہ ہو گا

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی رہنمائی ( توریت کے ذریعہ) کی تھی ۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کتاب کا ذمہ داری بنایا تھا

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

جو ہدایت اور اہل عقل و فہم لوگوں کے لئے نصیحت تھی

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

آپ صبر کیجئے۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اپنی کوتاہی پر معافی مانگتے رہیے اور صبح و شام اپنے رب کی حمد وثناء کیجئے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

بیشک جو لوگ بغیر کسی مضبوط دلیل کے اللہ کے آیات میں جھگڑے پیدا کرتے ہیں دراصل ان کے دلوں میں تکبر اور بڑائی کا ( جذبہ) ہے جس کا انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔ بس آپ اللہ کی پناہ مانگئے۔ بیشک وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ساری مخلوق کو پیدا کرنے سے بڑا کام تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

ایک اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہو سکتا اسی طرح وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے اور وہ لوگ جنہوں نے برے کام کئے وہ دونوں بھی برابر نہیں ہو سکتے ۔ تم میں سے بہت کم لوگ اس پر دھیان دیتے ہیں

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

قیامت تو آ کر رہے گی جس میں کسی طرح شک ( کی گنجائش ) نہیں ہے ، لیکن اکثر لوگ وہ ہیں جو یقین نہیں رکھتے ہیں

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھے پکارو تو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا ۔ بیشک جو لوگ میری عبادت و بندگی سے سر کشی کرتے ہیں۔ بیشک وہ ذلیل کردینے والی جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تا کہ اس میں سکون حاصل کرسکو ۔ اور اسی نے دن کو دیکھنے بھالنے کے لئے روشن کیا ۔ بیشک لوگوں پر اللہ کا یہ فضل و کرم ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

یہ ہے اللہ جو تمہارا پروردگار ہے ہر چیز کو پیدا کرنے والا ۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پھر تم کہاں الٹے پھرے جا رہے ہو ؟

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح وہ لوگ بھی الٹا چلا کرتے تھے جو اللہ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ تو وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار و سکون ( کی جگہ بنایا) ہے ۔ اور آسمان کو (محفوظ) چھت کی طرح ۔ پھر اسی نے تمہارا خوبصورت ناک نقشہ بنایا ۔ اس نے تمہیں کھانے کے لئے بہترین رزق عطاء کیا ۔ یہ ہے تمہارا رب اللہ جو بڑی شان والا ہے

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے ، وہ زندہ رہنے والا ہے ، جس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ تم خالص اعتقاد کے ساتھ اسی اللہ کو پکارو ۔ در حقیقت تمام خوبیاں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس سے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ۔ جب کہ میرے پاس میرے رب کی کھلی نشانیاں آ چکی ہیں۔ اور ( آپ کہہ دیجئے کہ) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ صرف اللہ رب العالمین کے سامنے اپنی گردن کو جھکائوں ۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ۔ پھر نطفہ سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے اور پھر وہ تمہیں ایک بچے کی حیثیت میں ( اس دنیا میں) نکال کر کے لے آیا ۔ پھر تم اپنی جوانی کی طاقت کو پہنچ جاتے ہو ۔ پھر تم بوڑھے ہوجاتے ہو ، بعض تم میں سے پہلے ہی مر جاتے ہیں تا کہ تم اپنے مقرر وقت تک پہنچ جائو ۔ اور شاید کہ تم اس بات کو سمجھو

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے پھر جب وہ فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ کہتا ہے ” ہوجا “ اور پھر وہ ہوجاتا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں وہ کہاں الٹے جا رہے ہیں ؟

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے اس کتاب ( قرآن مجید) کو اور ان چیزوں کو جو ہم نے اپنے پیغمبروں کو دے کر بھیجا ہے جھٹلایا ہے تو بہت جلد انہیں معلوم ہوجائے گا

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی اور ان کو گھسیٹا جا رہا ہو گا

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

کھولتے پانی کی طرف۔ اور پھر یہ لوگ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ ( بتائو) وہ جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر اس کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے وہ کہاں ہیں ؟

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

وہ (نہایت سے بسی سے) کہیں گے وہ تو ہم سے غائب ہی ہوگئے (اور ایسا لگتا ہے جیسے) اس سے پہلے ہم ان کو پکارتے ہی نہیں تھے۔ اس طرح اللہ کافروں کو بھٹکا کر رہے گا ۔

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

(فرمایا جائے گا کہ) یہ سب کچھ اسی لئے ہے کہ تم ناحق خوشیاں مناتے اور اتریا کرتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

اب تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جائو ۔ جس میں تم ہمیشہ رہو گے ۔ وہ تکبر کرنے والوں کا بد ترین ٹھکانہ ہے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ پھر جس عذاب کا ان سے وعدہ کر رکھا ہے اس کا کچھ حصہ ہم آپ کو ( اسی دنیا میں) دکھا دیں گے۔ یا ہم آپ کو وفات دیدیں گے ( اور آخرت میں) آپ ( ان پر عذاب) کو دیکھیں گے ۔ پھر ہماری ہی طرف سب کو لوٹ کر آنا ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے جن میں بعض ( انبیاء کرام) کے واقعات کو ہم نے بیان کردیا ہے اور بعض واقعات کو ہم نے بیان نہیں کیا ( لیکن یہ بات آپ دیکھیں گے کہ) کوئی بھی رسول اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا ۔ پھر جب فیصلہ ہوگا تو ٹھیک ٹھیک ہی فیصلہ ہوگا اور اس وقت یہ باطل پرست سخت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی جس کا مقصد بنی اسرائیل کی اخلاقی و اصلاحی تربیت تھی کہ وہ اللہ کے احکامات کی روشنی میں اپنی بےترتیب زندگی کی اصلاح و رہنمائی کرسکیں مگر قوم بنی اسرائیل نے اللہ کی اس نعمت کی ناقدری کی اور اپنی بےحسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہر بات سے اختلاف شروع کردیا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو نا فرمانیوں سے روکتے رہے اور ان کی بےحسی پر صبر کرتے رہے۔ تب اللہ نے اس قوم پر اپنا وعدہ پورا کردیا ۔ فرعون ، اس کی قوم اور اس کی سلطنت کو سمندر میں غرق کردیا اور قوم بنی اسرائیل کے صاحبان ایمان کو فرعون کے ظلم و ستم اور زیادتیوں سے نجات عطاء فرما دی ۔ نبی کریم ﷺ کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم بنی اسرائیل کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ بھی صبر اور برداشت سے کام لیجئے اور اسی کی تلقین اپنے صحابہ ؓ کو بھی کرتے رہیے وہ وقت دور نہیں ہے جب اللہ کا سچا وعدہ پورا ہو کررہے گا اور نافرمانوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔ فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ ! اگر اس سچائی کے راستے میں کہیں بھی کوئی اونچ نیچ ہوجائے تو اس پر اللہ کی بارگاہ میں معافی مانگ لیجئے۔ صبح و شام اللہ کی حمد وثناء کیجئے وہ مہربان آپ پر اور اہل ایمان پر اپنی رحمتوں کو نازل کرے گا ۔ رہے وہ لوگ جو اپنے غرور وتکبر اور بڑائی کی تسکین کے لیے بےدلیل مخالفت اور جاہلانہ کج بحثیوں میں لگے رہتے ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے ۔ اللہ کے سچے پیغام کو ہر شخص تک پہنچاتے رہیے جو نافرمان ہیں ان کو یہ باتیں نہ دنیا میں فائدہ دیں گی اور نہ آخرت میں ان کے کام آئیں گی۔ آپ کو ہر جگہ اللہ کی پناہ حاصل ہے اسی سے پناہ کی درخواست کرتے رہیے وہ تو ہر ایک کو سنتا اور ہر شخص کے حال سے پوری طرح با خبر ہے۔ فرمایا کہ کفار کا یہ اعتراض کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے اور ہمارے جسم کے تمام اعضاء کائنات میں بکھر جائیں گے تو ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے ؟ فرمایا کہ ایسے لوگ ذرا بھی عقل اور سمجھ سے کام لیں تو وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ جس اللہ نے اتنی زبردست اور عظیم الشان کائنات کو بنایا ہے، زمین و آسمان کے نظام کو ترتیب و تخلیق کیا ہے جو کائنات کے ذرے ذرے کا مالک اور خالق ہے وہی اس نظام کائنات کو چلا رہا ہے اس کائنات کے مقابلے میں جسمانی طور پر تو انسان بہت چھوٹی سی مخلوق ہے اس کو دوبارہ پیدا کرنا مشکل کام ہے۔ فرمایا کہ جس طرح آنکھوں والا اور اندھابرابر نہیں ہو سکتے اسی طرح جو لوگ ایمان کی دولت سے مالا مال ہیں وہ ان کفار کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں جن کا بھیانک اور بد ترین انجام ہے ؟ اس سامنے کی حقیقت بہت جلد آنے والی ہے جس کے واقع ہونے میں کسی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے لوگو ! مجھے ہی پکارو ، مجھ سے دعائیں کرو میں تمہاری دعاؤں کو سننے والا اور قبول کرنے والا ہوں لیکن وہ لوگ جو ہماری رحمت سے مایوس ہیں اور ہر سچائی کا انکار کرنے والے ہیں وہ قیامت کے دن نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ جہنم کی آگ میں اس طرح جھونک دیئے جائینگے کہ وہاں ان کا کوئی یارو مدد گار نہ ہوگا۔
Ayahs 40:79–85

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے مویشی ( جانور) بنائے تا کہ تم ان میں سے بعض پر سواری کرسکو اور ان میں سے ( بعض کا گوشت ) کھائو۔

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور تمہارے لئے ان میں اور بہت سے نفع ہیں تا کہ تم ان مقاصد ( جگہوں) تک پہنچ سکو جو تمہارے دلوں میں ہیں ، ان پر بھی اور کشتی (جہازوں) پر بھی تم سواری کرتے ہو۔

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

وہی تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ پھر تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے ؟

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

یا پھر وہ زمین پر چل پھر کر نہیں دیکھتے کہ جو ان سے پہلے مشرک گزرے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا ؟ حالانکہ ان میں سے اکثر تعداد اور قوت میں ( تم سے) بڑھ کر تھے۔ جو زمین پر بہت سے آثار ( کھنڈرات ، نشانیاں) چھوڑ کر گئے ہیں۔ لیکن ان کا کیا کرایا ان کے کسی کام نہ آسکا۔

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

اور جب ان کے رسول ( ان کے پاس) کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ اس علم پر اترانے لگے جو انہیں حاصل تھا۔ پھر ان کو اسی عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم ایک اللہ پر ایمان لے آئے۔ اور ہم ان ( تمام چیزوں) کا انکار کرتے ہیں جنہیں ہم ( اللہ کا) شریک ٹھہرایا کرتے تھے۔

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

لیکن جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان لانے سے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچ سکا۔ یہی اللہ کا ( لگا بندھا) دستور ہے جو اس کے بندوں میں پہلے سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اس وقت کا فر نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 85 : الانعام ( مویشی ، جانور) لترکبوا ( تا کہ تم سواری کرو) حاجۃ (ضرورت) تنکرون ( تم انکار کرو گے) ما اغنی (کام نہ آیا) خلت (گزر گئی) سنت اللہ ( اللہ کا قانون ، اللہ کا دستور) تشریح : آیت نمبر 79 تا 85 : سورة مومن کی آخرت آیات میں انسانی زندگی گزارنے کی بہت سی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے مثلاً غذا ، سواری ، صنعتیں ، سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے لے جانے کے اسباب وغیرہ ۔ اگرچہ چیزیں نہ ہوں تو انسان کو اپنی زندگی اور تہذیب و تمدن کے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل ہوجائے۔ اللہ نے انسان کو ان بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے جس پر ہر انسان کو ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے لیکن انسان اللہ کی ان نعمتوں پر شکر کے بجائے نافرمانی اور غرور وتکبر کرنے لگتا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ پھر اللہ ایسی قوموں کو مٹا کر نشان عبرت بنا دیتا ہے۔ اللہ کی بہت سی نعمتوں میں سے طرح طرح کی سواریاں بھی ہیں جو زمانہ کی تبدیلیوں اور تقاضوں کے تخت بدلتی رہتی ہیں مثلاً آجکل کاریں ، ریلیں ، ہوائی جہاز اور کارگو جہاز وغیرہ ہیں جن کے ذریعہ خود انسان اور اس کی بہتر سی ضروریات کو ان کے ذریعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے جو ان کی تہذیبی اور تمدنی ترقی کا ذریعہ ہیں لیکن اس سے پہلے دور میں مویشی ہوا کرتے تھے جن پر لوگ سواری بھی کرتے تھے اور وقت ضرورت ان کو کھایا بھی کرتے تھے اور آج بھی جہاں تک یہ ترقیات نہیں پہنچیں وہاں ان مویشوں کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن نئی نئی سواریوں کی ایجاد اور سہولتوں نے انسان کی چلت پھرت کو بہت سہل بنا دیا ہے جس سے انسان ساری دنیا میں بڑی سہولتوں سے سفر کرتا ہے۔ بہر حال سواری ، غذا اور مختلف صنعتیں اور نئی نئی ایجادات انسان کے لئے اللہ کی نعمتیں ہیں جن پر انسان ان نعمتوں کا انکار کر ہی نہیں سکتا۔ دین اسلام بھی یہی چاہتا ہے کہ اہل ایمان اسلام کے احکامات کی روشنی میں خوب ترقی کریں ، پھلیں پھولیں لیکن نا شکری نہ کریں کیونکہ یہ چیزیں انسانی ضروریات کی ہیں جن کو استعمال کرنا اور برتنا ممنوع نہیں ہے ۔ لیکن اسلام جن چیزوں سے منع کرتا ہے وہ انسان کی یہ سوچ ہے کہ یہ دنیا اور اس کی راحتیں اس کے پاس ہمیشہ کے لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر وہ زمین پر چل پھر کر گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ وہ قومیں تہذیب ، تمدن ، معاشرت اور معیشت میں بہت مضبوط تھیں لیکن جب انہوں نے مال و دولت کی کثرت پر اترانا اور غرور کرنا شروع کردیا اور اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا شریک بنا لیا ، انبیا کرام (علیہ السلام) میں سے جس نے بھی ان کو سمجھانے کی کوشش کی انہوں نے نافرمانی کی تب اللہ کا فیصلہ آگیا جس کے سامنے کسی کی طاقت و قوت کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس طرح نافرمان قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر ان کی زندگیوں کو دوسروں کے لئے نشان عبرت بنا دیا ۔ اللہ نے ان قوموں کی قوتوں اور شان دار ترقیات کے باوجود ان کو تباہ و برباد کردیا اب ان قوموں کے آثار یا تو کھنڈرات کی شکل میں ہیں یا زمین کے نیچے یا سمندر کی گہرائیوں میں دبے ہوئے ہیں۔ ان آیات میں اس طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ جب بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے اور انہوں نے اپنی قوموں کو ان کی نافرمانی پر برے انجام سے آگاہ کیا تو انہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ہر بات کو حقیر سمجھ کر اس کو ٹھکرا دیا اور غرور وتکبر کا طریقہ اختیار کرتے چلے گئے لیکن جب انہوں نے عذاب الٰہی کو آتے دیکھا تو پھر وہ کہنے لگے کہ اب ہم ایمان لاتے ہیں ۔ ایک اللہ کو مانتے اور ہر طرح کے شرک سے توبہ کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اب ان کا ایمان لانا توبہ کرنا اللہ کے ہاں قبول نہیں ہے کیونکہ اللہ کا دستور اور قانون یہ ہے کہ جب عذاب الٰہی سامنے آجائے یا اس کے فرشتے سامنے آجائیں تو پھر یہ مہلت عمل ختم ہونے کا اعلان ہوتا ہے نہ کہ عمل شروع کرنے کا۔ در حقیقت ان آیات میں کفار مکہ سے خاص طور پر اور قیامت تک آنے والی نسلوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ دنیا کی زندگی اور اس کی سہولتوں میں اس طرح مگن نہ ہوجائیں کہ دنیا کو اپنا سب کچھ سمجھنے لگیں بلکہ اس عذاب سے بچنے کی ابھی سے تدبیر کریں جو ان کے برے اعمال کے نتیجے میں ان سے دور نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت نکل جائے اور پھر مہلت عمل نہ مل سکے۔ ان آیات کے ساتھ ہی الحمد للہ سورة المومن کا ترجمہ اور اس کا تشریح تکمیل کو پہنچ گئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔۔۔۔