40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 40:38–46

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور وہ شخص جو ایمان لا چکا تھا اس نے کہا کہ اے میری قوم ! تم میرا کہا مانو ۔ میں تمہیں بھلائی کا راستہ دکھانا چاہتا ہوں ۔

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے میری قوم (کے لوگو ! ) اس دنیا کے سامان میں بہت تھوڑا سا فائدہ ہے اور بیشک آخرت ہمیشہ رہنے کا گھر ہے

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جس نے کوئی برا عمل کیا اسے اسی جیسا بدلہ ملے گا اور جس نے عمل صالح کیا خواہ وہ مراد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو یہ لوگ ہیں جو ایسی جنتوں میں داخل ہوں گے جن میں بےحساب رزق دیا جائے گا۔

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اے میری قوم ( کے لوگو ! ) کیسی عجیب بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے جہنم کی طرف بلا رہے ہو

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس طرف بلا رہے ہو کہ میں اللہ کا انکار کر دوں اور انہیں شریک ٹھہرائوں جن کا مجھے کوئی علم نہیں ہے۔ جب کہ میں تمہیں اس اللہ کی طرف دعوت دے رہا ہوں جور زبردست اور معاف کرنے والا ہے۔

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

یقینا جس چیز کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو وہ نہ تو دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے اور نہ آخرت میں اور بیشک ہم سب کو اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے اور بیشک حد سے بڑھنے والے ہی سب کے سب اہل جہنم ہیں۔

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

پھر جو کچھ میں کہتا ہوں ( آئندہ) تم اس کو یاد کرو گے ۔ اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سرپد کرتا ہوں اور بیشک اللہ اپنے بندوں ( کے حالات سے) خوب واقف ہے۔

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

پھر اللہ نے اس مومن بندے کو ان کی سازشوں سے بچا لیا

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

اور پھر قوم فرعون کو بد ترین عذاب نے گھیر لیا پھر صبح و شام ان پر ( قیامت تک) عذاب پیش کیا جاتا رہے گا اور قیامت کے دن قوم فرعون سے کہا جائے گا کہ وہ ( جہنم کے) سخت عذاب میں داخل ہوجائیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 46 :۔ دارالقرار ( ہمیشہ رہنے والا ، سکون والا گھر) مالی ( تعجب کے لئے) مجھے کیا ہوا ؟ ) لا جرم ( شک نہیں) ( یقینا ) افوض ( میں سپرد کرتا ہوں) مکروا ( انہوں نے تدبیر کی) حاق ( چھا گیا) یعرضون (پیش کیا جاتا ہے) غدوا ( صبح) عشی ( شام ( رات) اشد ( سخت ، شدید) تشریح : آیت نمبر 38 تا 46 :۔ آل فرعون میں سے جو مرد مومن ایمان لا چکا تھا اس نے فرعون کے دربار میں فرعون اور درباریوں کے دبائو ، دھمکی اور لالچ دیئے جانے کے باوجود اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم میری باتوں کو غور سے سنو اور میں تمہیں جس راستے پر چلنے کی دعوت دے رہا ہوں اس پر چلو کیونکہ میں تمہیں سیدھا راستہ بتا رہا ہوں جس میں دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کا راز پوشیدہ ہے۔ مرد مومن نے کہا کہ دنیا تو فانی ہے جو ایک وقت آنے پر ختم ہوجائے گی ۔ یہاں کا عیش و آرام یہ سب عارضی ، وقتی اور چندہ روزہ ہے۔ یہاں کے عیش و آرام کی وجہ سے اپنے آخرت کے حقیقی فائدے کا نقصان نہ کرو تم اس دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی ابدی راحتوں کی فکر کرو کیونکہ آخرت کی زندگی کو قرار ہے۔ اللہ کا دستور ہے کہ جو آدمی جیسا کرے گا اس کو ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا ۔ اگر کوئی شخص صاحب ایمان اور عمل صالح کا پیکر ہو خواہ وہ مرد ہو یا عورت تو اللہ ایسے لوگوں کو ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن میں بےحساب رزق عطاء کیا جائے گا ۔ اس تقریر کے بعد فرعون اور اس کے درباریوں نے اس مرد مومن کو نصیحت کی ہوگی کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں میں نہ آئے اور اپنے قدیم مذہب کی طرف لوٹ جائے ۔ اس پر اس مرد مومن نے کہا کتنے افسوس کا مقام ہے کہ میں تو تمہیں ہدایت اور نجات کا راستہ دکھا رہا ہوں اور تم مجھے اللہ کی نافرمانی پر اکسا رہے ہو اور تم چاہتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کروں جو اپنی ذات میں واحد و یکتا ہے ۔ یہ شرک ایسی بد ترین چیز ہے جس کا فائدہ نہ تو دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں ۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے وہ لوگ جو حد سے گزر جائیں گے اور کفر و شرک سے توبہ نہ کریں گے وہ جہنمی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس مرد مومن نے کہا کہ ابھی تم لوگوں کو میری ان باتوں کی پرواہ نہیں ہے لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب تم میری ان باتوں کو یاد رکھو گے۔ اس مرد مومن نے کہا کہ میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں کیونکہ وہی اپنے بندوں کا نگہان اور محافظ ہے۔ فرعون اور اس کے درباریوں نے ایسی سچی باتوں پر اس مرد مومن کو ہر طرح سے دھمکایاہو گا مگر اس مرد مومن پر اس کی دھمکیوں کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔ اور اللہ نے اس مرد مومن کو آل فرعون کی سازشوں اور فریب سے محفوظ فرما دیا اور اللہ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں پر زبردست عذاب نازل فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہ صرف فرعون اور آل فرعون کو پانی میں غرق کردیا گیا اور اس طرح ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوگیا ۔ بلکہ اس سے بڑا عذاب یہ ہے کہ ان فرعونیوں پر قیامت کے دن تک ہر روز صبح و شام اسی عذاب کو پیش کیا جاتا رہے گا اور قیامت میں فرعون اور آل فرعون سے کہا جائے گا کہ وہ سخت ترین عذاب میں داخل ہوجائیں۔ ان آیات کے سلسلہ میں حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا ہے کہ آل فرعون کی روحیں سیاہ پرندوں کی شکل میں ہوں گی ۔ ہر روز صبح و شام دو مرتبہ جہنم ان کے سامنے لائی جاتی ہے اور جہنم دکھا کر کہا جاتا ہے کہ یہ ہے تمہارا ٹھکانہ ( ابن ابی حاتم) ۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ سے بھی ایک روایت نقل کی گئی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرمی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو عالم برزخ میں صبح و شام اس کو وہ مقام دکھایا جاتا ہے جہاں قیامت کے دن حساب کتاب کے لئے پہنچتا ہے یہ مقام دکھا کر روزانہ کہا جاتا ہے کہ تجھے آخر کار اس جگہ پہنچنا ہے اگر یہ شخص اہل جنت میں سے ہے تو اس کو مقام جنت دکھایا جاتا ہے اور اگر وہ اہل جہنم میں سے ہے تو اس کو مقام جہنم دکھایا جاتا ہے۔ (معارف)
Ayahs 40:47–50

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور جب (وہ سب کفار) جہنم میں آپس میں جھگڑیں گے تو جو لوگ کمزور تھے وہ تکبر اور بڑائی اختیار کرنے والوں سے کہیں گے کہ ہم نے (دنیا میں) تمہاری تابع داری کی تو کیا تم ہمیں جہنم کی تکلیف سے کچھ بھی بچا سکتے ہو ؟

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

وہ متکبرین کہیں گے ہم سب ہی جہنم میں ہیں۔ اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور اس کے بعد جتنے لوگ جہنم میں ہوں گے وہ جہنم کے فرشتوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ کسی دن تو ہم سے عذاب میں کمی کردے

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

(فرشتے) کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول کھلی نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے ؟ وہ کیں گے کہ جی ہاں ( آئے تھے) ( فرشتے ) کہیں گے کہ تم ہی دعا کرو لیکن ان کفار کی دعا اور پکار فضول ہی رہے گی۔ (کوئی فائدہ نہ دے گی)

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 50 :۔ یتحاجون ( وہ جھگڑتے ہیں) مغنون ( بےنیازی کرنے والے ( بچانے والے) حکم ( اس نے فیصلہ کردیا) خزنۃ ( جہنم پر مقرر ( فرشتہ) یخفف ( وہ کمی کرتا ہے) دعائ ( پکار ، بلانا) تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 :۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ حق و باطل کا فیصلہ فرمادیں گے ۔ اہل جنت اللہ کی رحمتوں کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ اور جن لوگوں پر ان کا جرم ثابت ہوجائے گا ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا تب وہ لوگ جو دنیا میں اپنے پیشواؤں کی تابع داری کرتے تھے اور ان کے کہنے پر چلتے تھے عذاب کی شدت سے بوکھلا کر اپنے بڑوں سے یہ کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھروہی کیا جو تم نے ہمیں حکم دیا تھا۔ ہم ہر جگہ تمہارے کام آئے آج ہماری یہ مدد کردو کہ ہم سے اس عذاب کی شدت کو کم کرا دو ۔ وہ باطل پرست لوگ جو دنیا میں کمزوروں پر مسلط تھے اور اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کیا کرتے تھے وہ اس وقت اپنی بڑائی کو بھول جائیں گے اور کہیں گے کہ اب تو اللہ کا فیصلہ آچکا ہے اب ہم کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ تمہارا جتنا برا حال ہے اتنا ہی ہمارا بھی ہے تم اور ہم دونوں ہی اس عذاب کی تکلیف میں مبتلا ہیں ۔ گویا آج ہم تمہارے کام نہیں آسکتے ۔ کمزور لوگ اپنے پیشواؤں سے مایوس ہو کر جہنم کے نگران فرشتوں سے کہیں گے کہ کیا تم ہماری سفارش کرسکتے ہو کہ ہم سے کم از کم کسی ایک دن تو عذاب ہلکا ہوجایا کرے۔ فرشتے ان سے یہ پوچھیں گے کہ یہ بتائو کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر واضح دلائل ، روشن نشانیوں اور معجزات کے ساتھ نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ وہ آئے تھے مگر زندگی بھر ہم ان کو جھٹلاتے رہے۔ فرشتے کہیں گے کہ پھر ہم کیا کرسکتے ہیں ( تم نے خود ہی اپنے لئے گڑھا کھودا تھا) ہم تو اللہ کے سامنے بےبس ہیں تم خود ہی اپنے پروردگار کو پکار کر دیکھ لو ۔ جب وہ اللہ کو پکاریں گے تو ان کی پکار اور دعا سب بےاثر اور بےنتیجہ رہے گی کیونکہ اس دن کفار کا رونا چلانا اور اللہ کو پکارنا سب بیکار ہوگا ۔