33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 33:51–52

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ ان بیویوں میں سے جسے چاہے اپنے سے دور رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس رکھے اور جسے چاہیں اپنے سے دور رکھنے کے بعد دوبارہ اپنے پاس بلا لیں۔ اس میں آپ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی ۔ وہ رنجیدہ نہ ہوں گی اور وہ اس پر راضی رہیں گی جو آپ انہیں دیں گے۔ اللہ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے ؟ اللہ جاننے والا اور برداشت کرنے والا ہے ۔

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

اسکے بعد آپ کے لئے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں۔ اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ دوسری بیویاں لے آئیں خواہ ان کا حسن آپ کو کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگتا ہو۔ البتہ کنیز (باندی) کی اجازت ہے اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 52 ترجی (ارجاء) : موخر کرنا ۔ دور رکھنا توی (ایواء) : قریب کرنا ابتغیت : تو نے تلاش کیا۔ طلب کیا عزلت : تو نے الگ کردیا ادنی : قریب ان تقر : یہ کہ ٹھنڈی رہیں اعین (عین) : آنکھیں لا یحزن : وہ ہرگز رنجیدہ نہ ہوں گی رقیب : نگران۔ گہری نظر رکھنے والا تشریح : آیات نمبر 51 تا 52 اللہ تعالیٰ نے قرآن کرم میں عدل و انصاف کی بعض شرائط کے ساتھ اس بات کو واضح طور پر بیان فرمادیا ہے کہ ہر مومن زیادہ سے زیادہ چار بیویاں تک رکھ سکتا ہے ۔ ان کے نان و نفقہ (کھانے پینے اور ضروریات زندگی) اور ہر ایک کے پاس شب باشی یعنی رات گذارنے کی باری مقرر کرنا لازمی اور ضروری ہے اس کے خلاف جائز نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بعض دینی مصلیحتوں کی وجہ سے بنی کریم ﷺ کو چار سے زیادہ شادیاں کرنے اور ان کے درمیان باری مقرر کرنے کو آپ کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو اس وقت آپ کے گھر میں نو بیویاں تھیں۔ یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جب ایک ہی وقت میں اتنی بیویاں ہوں گی تو بوض گھریلو مشکلات ، پریشانیاں اور اختلافات کا پیدا ہونا لازمی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اس بات کا اختیار عطا کردیا ہے کہ آپ اپنی ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں اپنے دور رکھیں یعنی جس کی باری ہے آپ اس کے پاس نہ جائیں اور جانا موخر کریں۔ اور جو کو چاہیں قریب رکھیں اور اگر آپ نے کسی کو دور رکھا ہوا ہے اور پھر اس کو قریب لانا چاہیں تو آپ بلاسکتے ہیں۔ آپ پر اس سلسلہ میں کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو اس حقیقت نے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عام قائدہ چھوڑکر بعض عظیم دینی مصلحتوں اور تبلیغ دین میں رکاوٹوں کو دور کرنے کی وجہ سے آپ کو خصوصی اختیارات دیئے گئے ہیں تاکہ آپ کو اپنے گھر والوں کی طرف سے سکون وا طمینان رہے اور اس سلسلہ کی تمام رکاوٹیں دور ہوتی چلی جائیں جن سے باہمی رنجشیں ، شکایتیں اور اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ بنی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو عظمتوں کا شاہکار ہے۔ خاص طو رپر آپ کی گھریلو زندگی آپ کے شفیقانہ برتائو اور محبت بھرے انداز سے نہایت پر سکون زندگی تھی۔ آپ کی خواہش رہتی تھی کہ گھر میں سب ہنسی خوشی باہم مل جل کر محبت پیار سے رہیں اور کسی طرح آپ کے گھر پر غموں کے سائے نہ منڈلائیں ۔ آپ کی طرف سے آپ کی ازواج مطہرات کو جو کچھ ملے وہ اس پیار سے رہیں اور کسی طرح آپ کے گھر پر غموں کے سائے نہ منڈلائیں۔ آپ کی طرف سے آپ کی ازواج مطہرات کو جو کچھ ملے وہ اس پر راضی رہیں کیونکہ اتنی بیویوں کی موجودگی میں کسی کو دور کرنے، کسی کو پاس بلانے ، کسی کی باری میں دوسری بیوی کے پاس چلے جانے میں دلی رنجش پیدا ہوجانا کوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن جب ہر ایک کو یہ معلوم ہوگیا کہ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے سارے اختیارات آپ کو عطا کردیئے ہیں کہ آپ جس طرح چاہیں جسے چاہیں اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ معاملہ اور سلوک کریں تو اب کسی کو شکایت کرنے اور اختلاف کرنے کا موقع نہ رہا کیونکہ سب کچھ اللہ کے حکم کے تحت ہو رہا ہے یہ ایک ایسا بہترین اصول تھا کہ جس سے ازواج مطہرات کے رنجیدہ رہنے کی وجہ نہیں تھی ۔ اس موقع پر اس کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ تو وہ اختیارات تھے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو گھریلو زندگی گذارنے کے لئے عطا فرمائے تھے کہ آپ جس طرح چاہیں جیسے چاہے ان ازواج کے ساتھ سلو کریں لیکن آپ نے ان اختیارات کا نہ ہونے کے برابر استعمال فرمایا ہے۔ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کے درمیان پورا عدل و انصاف کرنے کی ایک ایسی روایت چھوڑی ہے جو اپنی جگہ ایک بہترین مثال ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ ان آیات کے نازل ہونے کے بعد بھی آپ کا طرز عمل اور حسن سلوک کا یہ عالم تھا کہ ہم میں سے کسی کی باری کے دن اگر آپ کسی دوسری بیوی کے پاس تشریف لے جانا چاہتے تو جس کی باری ہوتی اس سے آپ اجازت لے لیا کرتے تھے۔ (بخاری ۔ مسلم ۔ نسائی) دنیاوی حیات کے آخری دور میں جب آپ بہت کمزور ہوگئے اور سہولت کے ساتھ آنے جانے میں دشواری محسوس کرنے لگے تو نے اپنی سب ازواج مطہرات سے یہ کہہ کر اجازت لی کہ مجھے عائشہ کے ساتھ رہنے دیں۔ جب سب نے خوشی سے اجازت دیدی تب آپنے حیات دنیاوی کا آخری حصہ حضرت عائشہ ؓ کے حجرے میں گذارا۔ وہیں آپ کا وصال ہوا اور آج آپ اسی حجرے میں آرام فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ام ا المومنین حضرت عائشہ ؓ کے اس حجرے کو وہ عظمت کا مقام عطا فرما یا کہ اس میں نہ صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ، حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ آرام فرمار ہے ہیں بلکہ بنی اسرائیل کے آخری بغمبر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب آسمانوں سے دنیا میں تشریف لا کر اور عمر طبعی کو پہنچ کر وصال فرمائیں گے تو ان کو بھی نبی کریم ﷺ کے پہلو میں دفن کردیا جائے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو عظیم رتبہ عطا کیا ہے کہ جس سعادت میں کوئی ان کے برابر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو گھریلو زندگی میں دینی مصلحتوں کے پیش نظر جہاں بہت سے اختیارات عطا فرمائے ہیں وہیں آپ کو چند احکامات کا پابند بھی بنایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کی بےمثالی اور عظیم قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اب جتنی ازواج مطہرات آپ کے گھر میں ہیں اب وہی رہیں گی ان کی موجودگی میں کسی دوسری بیوی کو لانے کی اجازت نہیں ہے یعنی باندیوں کے سوا اب مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے ۔ اسی طرح آپ کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ آپ موجودہ ازواج مطہرات میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ دوسری بیوی لے آئیں خواہ وہ حسن و جمال کی پیکر ہی کیوں نہ ہو۔ چناچہ آپ نے اللہ کا حکم آنے کے بعد ان ازواج مطہرات کے بعد کسی سے نکاح نہیں فرمایا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام احوال سے پوری طرح واقف ہے اور وہ ان کے اعمال کی نگرانی کر رہا ہے وہی جانتا ہے کہ کس بات میں کیا مصلحت ہے۔
Ayahs 33:53–54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے ایمان والوں ! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے اس وقت تک نبی ﷺ کے گھروں میں داخل نہ ہو کرو۔ کھانے کے لئے اس کے پکنے کی راہ نہ تکا کرو لیکن جب تمہیں بلا یا جائے تو تم داخل ہو سکتے ہو پھر جب تم کھانے سے فارغ ہو جائو تو اٹھ کر چلے جائو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو ۔ بیشک تمہاری یہ بات نبی ﷺ کو تکلیف پہنچاتی ہے ۔ وہ تم سے کہتے ہوئے شرماتے ہیں لیکن اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا اور جب تم ان کی بیویو سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ بات تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کا بہترین ذریعہ ہے ۔ اور تمہارے لئے یہ بات جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچائو اور نہ یہ کہ ان کے بعد ان کی بیویو (ازواج مطہرات) سے تم نکاح کرو۔ بیشک تمہاری یہ بات اللہ کے نزدیک بڑا (گناہ ) ہے

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی بات کو ظاہر کرتے ہو یا اس کو چھپاتے ہو تو یاد رکھو بیشک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 53 تا 54 لاتدخلوا : تم داخل نہ ہو ان یوذن : یہ کہ اجازت دے دی گئی ہو غیر نظرین : نہ تکنے والے انی : تیار ہوجانے کا وقت دعیتم : تمہیں بلایا گیا لا مستانسین : جی لگا نہ نہ بیٹھنے والے اسئلوا : مانگو۔ سوال کرو وراء الحجاب : پردے کے پیچھے اطھر : زیادہ پاکیزہ تشریح آیات نمبر 53 تا 54 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی گھریلو زندگی اور آپ کے ادب و احترام کے آداب سکھائے ہیں۔ چونکہ آپ کی محبوب ذات اور آپ کے گھرانے کے ہر فرد کی زندگی دوسروں کے لئے بہترین نمونہ زندگی ہے اس لئے آپ کے اور آپ کی ازواج مطہرات کے ذریعہ بعض وہ احکامات دیئے گئے ہیں جو ان کے لئے اور پوری امت ک لئے عام حکم کا درج رکھتے ہیں یعنی اگرچہ ظاہری طور پر ان آیات میں آپ کے لئے اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام اور ازواج مطہرات سے خطاب کیا گیا ہے لیکن یہ احکامات ان کی ذات تک محدود نہیں بلکہ امت کے ہر فرد پر ان احکامات پر عمل کرنا لازمی اور ضروری ہے۔ ان آیات میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے آپ کے میل جول اور ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے کے آداب سکھائے گئے ہیں کیونکہ ہر انسان دن بھر محنت کرنے کے بعد اپنے گھر میں ایک ایسے بےتکلف ماحول کو پسند کرتا ہے جس میں کسی کی مد اخلت نہ ہو اور وہ اپنی مرضی سے اپنے گھر میں آزادی سے رہے۔ اگر ہر شخص وقت بےو قت بغیر کسی پیشگی اجازت کے کسی کے گھر جائے تو ممکن ہے صاحب خانہ کو اس سے کوئی اذیت پہنچے اور اس کی گھریلو بےتکلفی میں فرق آجائے۔ خاص طور پر نبی کریم ﷺ کا ادب یہ سکھایا گیا ہے کہ کوئی شخص آپ کے گھروں میں بےتکلفی نہ گھس جایا کرے۔ اگر کسی ضرورت سے یا کھانے پر بلایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن کھانے کی راہ تکتے رہنا اور کھانے کے بعد بےتکی باتیں کرنا اور جم کر بیٹھ جانا یہ ایک بری عادت ہے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت گھر بہت چھوٹے چھوٹے ہوا کرتے تھے کہ اگر کوئی مہمان آجاتا تو گھر والوں کو کسی کونے میں سر چھپاکر بیٹھنا پڑتا تھا ۔ اگر آنے والے مہمان جم کر بیٹھ جاتے تو اس سے گھر والوں کو سخت تکلیف پہنچتی تھی۔ اللہ نے اس سے منع فرمادیا۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے سے اس بات کی مزید وضاحت ہوجاتی ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ اس آیات کی حقیقت سے میں سب سے زیاداہ واقف ہوں کیونکہ میں اس واقعہ کے وقت وہاں موجود تھا۔ فرمایا کہ جب نبی کریم ﷺ کا نکاح حضرت زینب ؓ بن حجش سے ہوا تو آپ نے ولیمہ کا کھانا بنوایا اور بعض صحابہ کرام ؓ کو آپ نے اس شرکت کی دعوت دی۔ کھانے کے بعد کچھ لوگ وہی جم کر بیٹھ گئے ۔ آپس میں گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ آپ ﷺ بھی موجود تھے۔ دوسری طرف ام المومنین حضرت زینب ؓ اس جگہ شرم و حیا کا پیکر بنی ہوئی دیوار کی طرف منہ کرکے بیٹھی ہوئی تھیں۔ لوگوں کی لمبی چوڑی باتوں اور بیٹھنے سے نبی کریم ﷺ کو سخت تکلیف پہنچ رہی تھی لیکن آپ نے اپنے اخلاق کریمانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے کچھ نہ کہا۔ جب آپ نے دیکھا کہ گفتگو کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہے تو آپ ﷺ گھر سے باہر دوسری ازواج مطہرات سے ملنے اور ان کی خیریت معلوم کرنے کے لئے اٹھ کر تشریف لے گئے تاکہ جم کر بیٹھ جانے والے سمجھ جائیں ۔ جب آپ ازواج مطہرات سے مل کر واپس تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ وہ لوگ اسی طرح جمے بیٹھے ہیں۔ جب صحابہ کرام ؓ نے اس بات کو محسوس کیا تو وہ اٹھ کر چلے گئے۔ ان سب کے جانے کے بعد آپ ﷺ نے کچھ وقت گذارا اور پھر آپ باہر تشریف لائے اور میں بھی موجود تھا۔ اس کے بعد یہ مذکورہ آیات نازل ہوئی جن میں اہل ایمان کو بتایا گیا ہے کہ وہ کوئی بھی ایسا کام نہ کریں جس سے اللہ کے رسول ﷺ کو ادنیٰ سے بھی تکلیف پہنچے۔ اسی بات کو ان آیات میں اہل ایمان سے فرمایا گیا ہے۔ (1) ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب تک تمہیں بلایانہ جاء ے اس وقت تک نبی کریم ﷺ کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو۔ اب یہ حکم تمام مسلمانوں کے لئے لازمی ہے کہ ان کو جب کسی گھر میں بلایا جائے تو وہ ضرور جائیں لیکن بغیر اجازت اور دعوت کے کسی کے گھر جانا مناسب نہیں ہے۔ (2) کھانے کی راہ تکتے نہ رہا کرو۔ مراد یہ ہے کہ کسی کے گھر اتنی دیر بیٹھنا کہ کھانے کا وقت ہوجائے تو ظاہر ہے کہ اہل خانہ کو ان کی تواضع کرنا پڑے گی جس سے گھر والوں کو تکلیف پہنچ سکتی ہے فرمایا کہ اس عادت سے بھی بچنا چاہیے۔ (3) جی لگا کر جم کر نہ بیٹھ جایا کرو۔ فرمایا کہ جب تمہیں بلایا جائے تو دعوت کو قبول کر کے گھروں پر جائو لیکن کھانے کے بعد بہت دیرتک جم کر بیٹھ جانا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔ صحابہ کرام کو نبی کریم ﷺ کا یہ ادب سکھا یا گیا ہے کہ آپ کے گھر (یا کسی کے گھر ) اس طرح جم کر نہ بیٹھا کرو جس سے نبی کریم ﷺ کو سخت اذیت پہنچتی ہے۔ فرمایا کہ آپ تو اپنے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے شرم اور لحاظ میں کسی سے کچھ نہیں فرماتے لیکن اللہ کو کسی کے لحاظ کی ضرورت نہیں ہے۔ لہذا ایسا کام نہ کرو جس سے نبی کریم ﷺ کو کسی طرح کی اذیت پہنچے۔ (4) ازواج مطہرات سے کچھ مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ مقصد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات اگرچہ روحانی ماں کا درجہ رکھتی ہیں لیکن آج کے بعد سے یہ پابندی لگا دی گئی ہے کہ ان قابل احترام ہستیوں سے اگر ضرورت کی کوئی چیز مانگی جائے یا کوئی سوال کیا جائے تو پردے کے پیچھے سے کیا جائے گا۔ یہ امہات المومنین کے لئے پردے کا حکم ہے جو ساری امت کی خواتین کے لئے قیامت تک پردہ کرلینے کا حکم عام ہے۔ اس میں یہ کہنا کہ یہ صرف امہات المومنین کے لئے تھا اس سے زیادہ غلط بات اور کیا ہوسکتی ہے ۔ کیونکہ جن ازواج مطہرات کا درجہ ماں سے بھی بڑھ کر ہے ان سے بھی پردے کے پیچھے سوال کرنے کا حکم ہے تو عام خواتین تو اس سے بھی زیادہ پردے اور احتیاط کر ضرورت ہے ۔ کیونکہ ازواج مطہرات سے تو آپ کی وفات کے بعد بھی کسی کو نکاح کرنا حرام ہے لیکن عام عورتوں سے نکاح ہوسکتا ہے وہ پردے سے مستشنیٰ کیسے ہوسکتی ہیں۔ اس آیات سے اب قیامت تک یہ اصول مقرر کردیا گیا ہے کہ امھات المومنین یا کیس بھی خاتون سے بات کی جائے تو درمیان میں پردہ ضروری ہے۔ البتہ وہ رشتہ دار جو عورت کے محرم ہیں وہ بےتکلف گھروں میں آسکتے ہیں ان سے کوئی پردہ نہیں ہے ۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد تمام ازواج مطہرات نے اپنے دروزوں پر پردے لٹکا لئے ۔ چونکہ آپ ﷺ کا گھرانہ ایک نمونہ تھا اس لئے تمام صحابیات نے بھی اپنے گھروں پر پردے لٹا لئے اور محرموں کو بھی گھروں میں داخل ہنے کی خاص خاص شرطوں کے ساتھ اجازت دی گئی ہے۔ اصل میں ازواج مطہرات کے لئے آیت حجاب کی مزید تشریح کرتے ہوئے دو باتیں ارشاد فرمائی گئیں پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی امھات المومنین سے کسی کو نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے حالانکہ دنیا میں اللہ نے یہ قانون مقرر فرمادیا ہے کہ جب کسی عورت کا شوہر مر جائے تو وہ اس کی عدت گذارنے کے بعد اپنی مرضی سے شریعت کے اصولوں کے مطابق جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے لیکن حضور اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات کے لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے وصال کے بعد بھی کسی کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ ازواج مطہرات میں سے کسی سے نکاح کرنے کا ارادہ بھی کرے کیونکہ یہ تصور بھی ایک گناہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں آپ اس شوہر کی طرح ہیں جو کچھ عرصہ کے لئے چلا گیا ہو۔ اسی لئے آپ کے بعد آپ کی میراث تقسیم نہیں کی گئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات اور دنیا بھر کی تمام خواتین کے لئے یہ اصول مقرر کردیا گیا ہے کہ اگر خواتین سے کچھ مانگا جائے یا ان سے کچھ پوچھا جائے تو پردے کے پیچھے سے پوچھا اور مانگا جائے اور آپ کی ازواج مطہرات جو امت کی مائیں ہیں ان سے آپ کی دنیاوی حیات اور بعد میں نکاح کا تصورحرام ہے۔ آخر میں ایک اصول ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اے مومنو ! تم اپنے دل میں کسی گناہ کا خیال تک نہ لائو کیونکہ دنیا میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی نظروں سے پوشیدہ یا چھپی ہوئی ہو وہ اللہ ہر بات کو اچھی طرح جانتا ہے۔
Ayahs 33:55–58

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

عورتوں پر ( پردہ نہ کرنے میں ) کوئی گناہ نہیں ہے اپنے باپ دادا سے، اپنے بیٹوں سے، اپنے بھائیوں سے ، اپنے بھائی کے بیٹوں سے ، اپنی بہن کے بیٹوں سے، اپنے میل جول کی عورتوں سے اور اپنی کنیزوں سے۔ اللہ سے ڈرتی رہو ۔ بیشک اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر رحمتیں بھیجتے ہیں اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان پر اللہ نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کررکھا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی قصور کے بغیر ایذا پہنچاتے ہیں تو ایسے لوگوں نے اپنے سروں پر ایک بہت بڑا بہتان اٹھایا ہے جو کہ کھلا ہوا گناہ ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 58 لا جناح : کوئی گناہ نہیں ہے اتقین : ڈرتی رہیں یصلون : رحمتیں بھیجتے ہیں۔ درود بھیجتے ہیں سلموا : سلام بھیجو تسلیما : خوب سلما بھیجنا یوذون : تکلیف پہنچاتے ہیں لعن : اس نے لعنت کی ۔ رحمت سے دور کیا اکتسبوا : تم نے کمائی کی۔ تم نے کمایا احتملوا : انہوں نے اٹھا لیا بھتان : بہتان ۔ الزام اثما مبینا : کھلا گناہ تشریح آیت نمبر 55 تا 58 اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کا بےانتہا ادب و احترام کرنے کے احکامات ارشاد فر مائے ہیں ۔ اور اس زمانہ کے رواج کے برخلاف یہ فرمایا تھا کہ جب تک ان کو گھروں پر آنے کی دعوت نہ دی جائے تو اس وقت تک وہ بغیر اجازت کے نبی کریم ﷺ کے گھروں میں داخل نہ ہو اور اگر وہ آئیں اور ان کی ازواج مطہرات سے کچھ پوچھنا ہو تو پردے کے پیچھے سے سوال کریں ۔ حجاب کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے تمام صحابیات ؓ نے بھی اپنے گھروں پر پردے لٹالئے تھے۔ حجاب کے اس حکم کے تحت سوائے محرم رشتہ داروں کے ہر ایک رشتہ دار اور تعلقات والوں پر پردے کی پابندی لگا دی گئی تھی۔ زیر مطالعہ آیات میں سب سے پہلے ان محرم رشتہ داروں کی تفصیل بیان کی گئی ہے جن سے پردہ نہیں ہے اور پھر اس کے بعد نبی کریم ﷺ کی شان ، عظمت اور آپ کا ادب و احترام سکھایا گیا ہے۔ فرمایا کہ باپ، بیٹا ، بھائی ، بھتیجہ، بھانجہ، مسلمان عورتیں اور کنیزیں ان سب کو گھروں میں آنے اور جانے کی اجازت ہے ان پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اس کی کچھ تفصیل سورة نور میں بھی گذر چکی ہے۔ ان ہی آیات میں نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات سے اور ان کے واسطے سے پوری امت کی خواتین سے فرمایا گیا ہے کہ وہ ہر حال میں خوف الہی کا دامن تھامے رہیں اور اپنے ہر عمل کی نگرانی کرتی رہیں کیونکہ اللہ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں ہے۔ وہ ہر ایک کے احوال سے پوری طرح واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کا ادب احترام اور تعظیم و تکریم کے آداب سکھاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک آپ کی شان عظمت اتنی زیادہ ہے کہ اللہ ان پر دن رات اپنی رحمتوں کی بارش فر ما رہا ہے اس کے پاکیزہ فرشتے ہر آن ان کے لئے دعائے رحمت کر رہے ہیں لہذا اہل ایمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ پر کثرت سے صلوۃ وسلام بھیجنے کی سعادت حاصل کریں اور کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے اللہ کو اور اس کے رسول کو ذہنی ، جسمانی یا روحانی اذیت پہنچنے کا امکان بھی ہو کیونکہ جو لوگ ایسا کریں گے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنتیں برستی رہیں گی۔ ان آیات کی کچھ وضاحتیں : (1) باپ ، بھائی، اور بھانجوں کے حکم میں وہ سب رشتہ دار شامل ہیں جو ایک عورت کے لئے محرم کا درجہ رکھتے ہیں خواہ وہ نسب کے اعتبار سے رشتہ دار ہوں یا رضاعی (دودھ شریک ) لحاظ سے ہوں ۔ (محرم اس کو کہتے ہیں جس سے ہمیشہ کے لئے نکاح کرنا حرام ہو) ان آیات میں دادا ، چچا اور ماموں کا ذکر نہیں ہے حالانکہ وہ بھی ایک عورت کے محرم ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک عورت کے لئے ماں اور باپ کا درجہ رکھتے ہیں ۔ جب بھانجوں اور بھتیجوں کا ذکر فرمادیا تو اب ان کا نام لینے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ بھتیجے اور بھانجے سے پردہ نہ کرنے کا جو سبب ہے وہی چچا اور ماموں سے پردہ نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔ (2) قرآن کریم میں لفظ صلوۃ آیا ہے جس کا ترجمہ ہم فارسی زبان کے ایک لفظ ” درود “ سے کرتے ہیں اور عام طور پر اس آیت کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو ! تم بھی ان پر خوب درود سلام بھیجو۔ یہ ترجمہ ہم اس لئے کرتے ہیں کہ ہمارے نزدیک صلوۃ کا ترجمہ صرف درود شریف ہے حالانکہ لفظ صلوۃ اپنے اندر بہت سے معنی کی وسعت رکھتا ہے ۔ رحمت، دعا ، نماز ، درود وغیرہ ۔ اس لفظ کی نسبت اگر عبادت کی طرف کی جائے گی تو اس سے نماز مراد ہوگی۔ اسی طرح اگر اس لفظ کی نسبت اللہ کی طرف ہوگی تو اس سے مراد رحمتیں بھیجنا ، فرشتوں کی طرف ہوگی تو اس کے معنی دعائے رحمت کے ہوتے ہیں اور جب اس لفظ کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف ہوگی تو اس سے مراد درود شریف ہوگا اور اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا جائے گا کہ بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی کریم ﷺ پر رحمتیں بھیجتے اور فرشتے دعائے رحمت کرتے ہیں اے مومنو ! تم بھی نبی کریم ﷺ پر خوب کثرت سے سے درود وسلام بھیجو۔ یہ کہ ترجمہ اللہ اور اس کے فرشتے حضور اکرم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں یہ ترجمہ مناسب نہیں ہے کیونکہ اس سے فائدہ اٹھا کر اہل بدعت نے رسول اللہ ﷺ کا مقام اللہ سے بھی بڑھا کر پیش کرنا شروع کردیا ہے۔ (3) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی عظمت ، شان اور رتبہ کا اظہار کرنے کے لئے فرمایا کہ اللہ آپ پر بہت مہربان ہے اور آپ کی تعریف فرماتا ہے لہذا اب ہر مومن پر یہ واجب ہے کہ وہ آپ کے لئے صلوۃ یعنی دعا اور ان کی مدح و ثنا جتنی کرسکتا ہو وہ کرے اور آپ پر خوب سلام بھیجنے کی سعادت حاصل کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنا بلند رتبہ اور عظیم مقام عطا فرمایا ہے کہ اکثر نماز ، اذان ، اقامت اور کلمہ طیبہ وغیرہ میں آپ کا ذکر مبارک شامل فرمایا ہے۔ اللہ نے آپ کو دین اسلام کے وہ زرین اصول عطا فرمائے ہیں جنہیں آپ نے تمام مذاہب پر غالب کر کے دکھایا اور ان اصولوں کو پھیلانے میں آپ نے دن رات جدو جہد فرمائی اور کفار و مشرکین کی شدید مزاحمت کے باوجود آپ نے صحابہ کرام ؓ کی ایک ایسی پاکیزہ جماعت تیار فرمائی جن پر کائنات کی تمام طاقتوں کو ناز ہے۔ اللہ نے آپ کو قرآن کریم کے ذریعہ جن زرین اصولوں کی تعلیم دی ہے اس کی حفاظت کا خود ہی ذمہ لیا ہے اور آپ کی برکت سے شریعت کے تمام اصولوں پر قیامت کے دن تک عمل ہوتا رہے گا۔ آپ ﷺ کو سارے رسولوں اور نبیوں کے آخر میں بھیج کر آپ کر سر پر ختم نبوت کا تاج سجادیا ہے جس سے آپ کا رتبہ و مقام اللہ کے بعد ساری مخلوق سے زیادہ ہوگیا ہے ۔ قیامت کے ہولناک دن جب ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی اور کوئی کسی کو نہ پوچھے گا اس وقت آپ نہ صرف اپنی امت کی بلکہ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتوں کی اللہ کی بارگاہ میں شفاعت فرمائیں گے۔ اللہ نے آپ کو مقام محمود عطا فرمایا ہے جہاں آپ اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔ ایسے پیارے اور محبوب رسول ﷺ کی دن رات تعریف و توصیف نہ کرنا ایک بہت بڑی محرومی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کے رتبہ اور مقام کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ان آیات کے آخر میں فرمایا کہ جو لوگ نبی کریم ﷺ کا ادب و احترام نہیں کرتے اور اپنے طرز عمل سے ان کو دکھ پہنچاتے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ نہ صرف دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجتا ہے بلکہ ان کے لئے ایک ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ان کو دنیا اور آخرت میں ذلیل و رسوا کر کے چھوڑ گا۔ اسی طرح وہ مومن مر اور مومن عورتیں جو بےقصور ہیں جن کو یہ کفار ستاتے ، ان پر تہمتیں لگاتے اور انہیں دکھ پہنچاتے ہیں اور انہیں اپنی جھوٹی اور من گھڑت باتوں سے نیچا دکھانا چاہتے ہیں تو ایسے لوگ در حقیقت اپنی گردن پر گناہوں کے بوجھ رکھتے چلے جا رہے ہیں ۔ دنیا اور آخرت میں ایسے لوگوں کی سزا مقرر کردی گئی ہے جس سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ (4) نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ شخص ذلیل و رسوا ہوجائے جس کے سامنے میرا ذکر آئے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔ (ترمذی) اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا کہ وہ شخص کنجوس ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پر ہے۔ (ترمذی) پوری زندگی میں ایک مرتبہ درود شریف پڑھنا فرض اور واجب ہے۔ اور جب بھی آپ کا نام مبارک آئے تو اسی وقت آپ پر درود بھیجنا مستحب ہے ۔ ” ﷺ “ کہنے سے بھی حکم کی تعمیل ہوجائے گی۔ جو شخص نماز پڑھتاوہ التحیات میں سلام بھیجتا ہے اور آخر میں درود شریف پڑھتا ہے لہذا جو شخص بھی نماز ادا کرتا ہے وہ اس حکم کی تعمیل کر کے درود سلام بھیجتا ہے اور جو نماز نہیں پڑھتا یا نماز کا منکر ہے وہی درود سلام کا منکر ہے۔
Ayahs 33:59–62

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنے اوپر اپنی چادریں ڈال لیا کریں۔ یہی بہتر طریقہ ہے جس سے وہ پہچان لی جائینگی اور ستائی نہ جائیں گی اللہ مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہے ۔

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور مدینہ میں جھوٹی افواہیں پھیلانے والے ہیں اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں ان پر مسلط کردیں گے ۔ پھر وہ چند دنوں کے سوا تمہارے پاس نہ رہ سکیں گے۔

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

یہ لعنتی پھٹکارے ہوئے لوگ ہیں جہاں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بری طرح مارے جائیں گے ۔

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

ان سے پہلے جو لوگ گذرے ہیں اللہ کا یہ طریقہ ان کے ساتھ بھی یہی رہا ہے اور (اے نبی ﷺ آپ اللہ کے اس دستور میں ہرگز تبدیل نہیں پائو گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 59 تا 62 یدنین : لٹکا لیں ۔ قریب کرلیں جلابیب (جلباب) چادریں ۔ لباس پر اوڑھی جانے والی چادر المرجفون : افواہیں پھیلانے والے نغرین : ہم چھوڑ دیں گے۔ ہم مسلط کردیں گے لا یج اور : ساتھ نہ رہیں گے ثقفوا : پائے گئے اخذوا : پکڑے گئے لن تجد : تو ہرگز نہ پائے گا تشریح : آیت نمبر 59 تا 62 دین اسلام کے تقریباً تمام احکامات میں ایک خاص تدریج ہے جو آہستہ آہستہ تکمیل تک پہنچتے ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت عرب کا پورا معاشرہ جہالتوں ، تاریکیوں ، زندگی کی بےاعتدالیوں اور کفر و شرک میں ڈوبا ہوا تھا۔ ان کو اصول زندگی سکھانے کے لئے تھوڑا تھوڑا کرکے قرآن کریم نازل کیا گیا جس کی وضاحت نبی کریم ﷺ نے اپنی عمل سے فرمائی تاکہ مسلمان دین اسلام کی سچائیوں کے خوگر بن جائیں مثلاً عرب معاشرہ میں عام طور پر عورتوں مردوں کا باہمی میل جول ، ایک دوسرے کے گھروں میں بےتکلف آنے جانے ، کھانے پینے اور ہر طرح کی محلفوں میں شرکت کو برا نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ اس طرح کی بری عادتوں سے معاشرہ میں زندگی اور بےشرمی عام تھی۔ اللہ تعا لیٰ نے اس برائی کو ختم کرنے کے لئے سب پہلے نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور اگر کسی اجنبی غیر کو محرم کو ازواج مطہرات سے کچھ پوچھنا ہو یا مانگنا ہو تو پر دے کے پیچھے سے مانگا کریں۔ اس حکم آجانے کے بعد تمام ازواج مطہرات نے اپنے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹا لئے۔ چونکہ تمام مسلم خواتین جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہونے والے ہر حکم کی تعمیل پر دل و جان سے عمل کرنے کے لئے بےچین رہتی تھیں جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ ازواج مطہرات نے اپنے گھروں پر پردے لٹا لئے ہیں تو انہوں نے بھی اپنے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹکا لئے اور سوائے محرم مردوں تمام لوگوں کے آنے جانے اور تلنے جلنے پر پابندی لگادی اور اس طرح مسلم خواتین نے اپنے گھروں میں رہنا شروع کر یا۔ پھر آہستہ آہستہ پردے کا تمام احکامات آتے چلے گئے ۔ قرآن کریم کی سات آیات اور ستر سے زیادہ صحیح ترین احادیث میں تمام خواتین کو پردے کا حکم دے کر عادی بنا یا گیا ۔ زیر مطالعہ آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں ۔ (1) پہلی بات تو یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اپنی تمام ازواج مطہرات، اپنی تمام بیٹیوں اور مومن خواتین سے کہ دیجئے کہ وہ جب باہر نکلیں تو اپنی چادروں کو اچھی طرح اورھ لپیٹ کر باہر نکلیں اور اپنی چادر کے ایک پلو کو اپنے چہروں پر لٹا لیا کریں تاکہ وہ پنچانی جائیں اور ان کو ستا یا نہ جائے اور اگر ان سے اس سلسلہ میں کبھی کوئی کوتاہی ہوجائے توا للہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اول تو خواتین کو اپنے گھروں میں رہنا چاہیے لیکن اگر کسی ضرورت کے تحت اپنے گھروں سے باہر نکلیں تو وہ اپنی چادروں سے اپنے جسم اور چہرے کو اس طرح چھپا کر نکلیں کہ کوئی بد نظر اور ذہنی مریض ان کو ستانہ سکے۔ اسے اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ یہ ایک شریف زادی ہے جو اپنے کپڑوں ، زیورات اور جاہلیت کی سج دھج کے لئے نہیں بلکہ اپنی کسی ضرورت کے تحت باہر نکلی ہے اس طرح اوباش قسم کے لوگوں کو چھیڑ چھاڑ کی ہمت نہ ہوگی کیونکہ اس زمانہ میں کچھ یہودی اپنے مزاج کی گندگی کا اظہار کرتے تھے اور ہر آنے جانے والی بندیوں اور گھروں میں کام کرنے والیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے جس سے روکا گیا ہے ۔ (2) ان آیات میں دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ فساد کرنے اور غلط سلط افواہیں پھیلا کر اہل ایمان میں افرا تفری پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کو اپنی روش زندگی کو بدلنا ہوگا ورنہ اللہ کا یہ اٹل قانون اور دستور ہے کہ جو لوگ اپنی گندی ذہنیت اور شرارتوں سے باز نہیں آتے اللہ ان کے لئے سخت سزائیں مقرر کررکھی ہیں۔ اگر انہوں نے اپنی حرکتوں کو نہ چھوڑا تو ان کے لئے سخت سزا مقرر کردی گئی ہے جس سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ فرمایا کہ ایسے شرپسندوں اور فسادیوں کو اپنے سے پہلے گذری ہوئی قوموں کے بدترین انجام سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا چاہیے ۔ جس طرح ان لوگوں کو اللہ نے سخت سزائیں دے کر نشان عبرت بنادیا ہے اسی طرح وہ بھی اپنے برے انجام سے نہ بچ سکیں گے کیونکہ اللہ کا دیہ دستور ہے کہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس میں کبھی بھی تبدیلی نہ آئی ہے اور نہ آئے گی۔ یہ لعنتی پھٹکار ہوئے لوگ پھر جہاں پائے جائیں گے ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی اور وہ بہت عرصہ تک اپنے گھروں میں نہ رہ سکیں گے۔
Ayahs 33:63–68

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

اے نبی ﷺ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے ۔ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ قیامت (کی گھڑی ) قریب ہی ہو ؟

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے بھرکتی آگ تیار کر رکھی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں ہمیشہ رہیں گے وہ نہ تو کوئی دوست پائیں گے اور نہ مددگار۔

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کو چہروں کے بل جہنم میں اوندھا ڈالا جائے گا تو کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کی ہوتی۔

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سر داروں اور اپنے بڑوں کا کہا مانا پھر انہوں نے ہمیں راستہ سے بھٹکا دیا ۔

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ان کو دھرا عذاب دیجئے اور ان پر زبردست لعنت بھیجئے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 63 تا 68 ما یدری : (تجھے) کیا خبر ہے ؟ سعیر : جہنم۔ بھڑکتی آگ تقلب : الٹ پلٹ دی جائے گی یلیتنا : اے کاش کہ ہم اطعنا : ہم نے اطاعت کی سادتنا : ہمارے بڑے ۔ ہمارے سردار ضعفین : دوگنا۔ دوہرا العن : لعنت کر۔ رحمت سے دور کردے کبیر : بڑا تشریح : آیت نمبر 63 تا 68 کفار ومشرکین کو جب قیامت کے ہولناک دن سے ڈرایا جاتا تھا وہ قیامت کا کچھ علم رکھنے کے باوجود ڈھیٹ بن کر نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑانے کے لئے کہتے تھیے کہ تم جس قیامت کا بار بار ذکر کرکے ہمیں ڈراتے ہو وہ قیامت آخر کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ قیامت کب آئے گی کیونکہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔ ممکن ہے کہ وہ قیامت بہت رور نہ ہو اور قریب آگئی ہو۔ یہ سوال کرنے والے منافقین اور یہودی لوگ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت قریب ہو یا دور بہر حال ایک دن آکر رہے گی ۔ اس کی فکر کی ضرورت نہیں ہے جس بات پر غور کرنا چاہیے وہ یہ کہ ان کفار و مشرکین نے اس دن کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے کیونکہ وہ دن بہت ہی ہیبت ناک ہوگا جس میں اپنے بھی غیر بن جائیں گے ۔ کوئی کسی کی مدد نہ کرسکے گا ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی بلکہ وہ گمراہ سردار اور معاشرہ کے بڑے لوگ جن پر انہیں ناز تھا اور وہ ان کے کہنے پر چلتے تھے وہ بھی اپنے ماننے والوں کی مدد سے صاف انکار کردیں گے اور اس کے بعد ان کو اوندھنے منہ گھسیٹ کر جہنم کی بھڑکتی آگ میں پھینک دیا جائے گا ۔ اس وقت انہیں افسوس ہوگا کہ کاش ہم اللہ اور اس کے رسول کی بات مانتے ان کی اطاعت کرتے تو یہ بد ترین دین دیکھنا نصیب نہ ہوتا اور ہم ہر طرح کی کامیابیاں حاصل کرلیتے ۔ جب سار حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی تو وہ اللہ کی بار گاہ میں عرض کریں گے کہ اے اللہ ہمارے سردار اور بڑے لوگ وہیں جنہوں نے ہمیں راہ حق سے بھٹکا کر سچائیوں سے دور کردیا تھا۔ الہی ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا اور ان کو رحمت سے دور کرکے ان پر لعنتیں بر سائی جائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ وہ لوگ کہیں یا نہ کہیں اللہ کے دوگنے عذاب سے نہ یہ سردار بچ سکیں اور نہ وہ لوگ جو انکا کہا مان کر کفر و شرک میں بتلا تھے۔
Ayahs 33:69–73

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے ایمان والوں ! ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (الزام لگا کر ) ستایا تھا پھر اللہ نے ان کو ان باتوں سے بری کردیا تھا جو انہوں نے الزام لگایا تھا اور وہ اللہ کے نزدیک بہت با عظمت تھے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سیدھی سچی بات کہو۔

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

وہ تمہارے اعمال کو سنواردے گا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو یقیناً اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی۔

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

بیشک ہم نے ایک امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی۔ انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کردیا اور وہ اس کے (اٹھانے سے) ڈر گئے۔ اور اس کو انسان نے اٹھالیا۔ بیشک وہ بڑا ظالم اور نہایت جاہل تھا۔

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور مومن مردو اور مومن عورتوں پر وہ متوجہ ہو ( ان کی توبہ قبول کرلے) اور اللہ بہت مغفرت کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 73 لا تکونوا : تم نہ ہوجانا اذوا : تکلیف پہنچائی برا : اس نے بری کردیا وجیہ : باعزت و عظمت سدید : سیدھا فاز : کامیاب ہوگیا عرضنا : ہم نے پیش کردیا ابین : (سب نے) انکار کردیا ان یحمل : یہ کہ وہ اٹھائے اشفقن : (سب) ڈر گئے حمل : اٹھا لیا ظلوم : بہت ظالم جھول : بہت زیادہ جاہل یتوب : وہ متوجہ ہوتا ہے تشریح : آیت نمبر 69 تا 73 سورۃ الاحزاب جس میں زیادہ تر نبی کریم ﷺ کے آداب واحترام کے اصول سکھائے گئے ہیں اس سورت کے آخر میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح یہودوں نے حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو ستا یا تھا اور طرح طرح کی اذیتیں پہنچائی تھیں ان پر جھوٹے الزامات اور بےتکی تمہتیں لگائی تھیں تم اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ایسا معاملہ مت کرنا۔ کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت آبرومند اور معزز تھے اسی طرح حضرت محمد ﷺ بھی اللہ کے نزدیک بہت عظیم مقام رکھتے ہیں جن لوگو نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ستا یا تھا اس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تو کچھ نہیں بگڑا البتہ اس طرح کے لوگوں نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ و برباد کر ڈالا تھا۔ مفسرین نے ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے ایک واقعہ کا حوالہ دیا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے پاس کہیں سے کچھ مال آیا تا آپ نے ہمیشہ کی طرح اس سارے مال کو صحابہ کرام ؓ میں تقسیم کردیا تھا ۔ جو لوگ اس محروم رہ گئے تھے ان میں سے کسی انصاری صحابی کے منہ سے یہ نکل گیا کہ اللہ کی قسم آپ نے اس تقسیم میں اللہ تعالیٰ اور آخرت کا لحاظ نہیں رکھا ۔ یہ بات حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے سن لی اور جا کر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کردیا کہ آج آپ پر یہ باتیں بنائی جارہ ہیں کہ آپ نے یہ سن کر فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہوا نہیں اس سے زیادہ تکلیفیں دی گئی مگر انہوں نے اس پر صبر کیا ۔ (ترمذی ۔ ابو دائود ، مسند احمد ) نبی کریم ﷺ جو ہر ایک کے ساتھ ہمدردی اور عدل و انصاف کا معاملہ کیا کرتے تھے اس واقعہ سے آپ کو اذیت پہنچی اس پر اللہ تعالیٰ نے اپ کی تسلی کے لئے یہ مذکورہ آیات ناز ل فرمائیں اور اہل ایمان سے فرمایا کہ وہ ان یہودبنی اسرائیل جیسی روش اختیار نہ کریں جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزامات لگا کر انہیں ستایا تھا۔ حالانکہ وہ تمام الزمات غلط تھے اس لئے اللہ نے ان کو ان الزامات سے بری کردیا تھا کیونکہ وہ اللہ کے نزدیک نہایت با عظمت تھے۔ ان آیات میں دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ ایمان والوں صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے اور ہمیشہ ایسی بات کہا نا چاہیے جو سیدھی اور سچی ہو محض جذبات میں آکر ایسی بات منہ سے نکالنا جو بےبنیاد ہو وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرما برداری کے خلاف ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ سیدھی سچی بات کریں گے ان کے نہ صرف اعمال درست کردیئے جائیں گے بلکہ اگر ان کچھ گناہ سر زرد ہوگئے ہوں گے تو وہ ان کو معاف فر مادے گا ۔ اصل چیز اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا ہے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ ان آیات میں تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے رکھ کر فرمایا کہ یہ ہماری ایک امانت ہے کیا تم اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے نہ صر انکار کردیا بلکہ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے لیکن جب انسان کے سامنے اس بار امانت کو پیش کیا گیا تو اس نے اس کو اٹھالیا۔ یہ بار امانت کیا ہے ؟ اس کے لئے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اس امانت کو انسان (آدم ) کے سامنے رکھاتو اس نے عرض کیا کہ امانت کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اچھا کرو گے تمہیں اس کا ثواب ملے گا اور گر تم نے برا کیا تو اس پر تمہیں سزا ملے گی۔ (تفسیر ابن کثیر) قرآن کریم میں امانت کا ذکر ہے لیکن امانت کیا ہے اس کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اچھے برے اعمال مراد ہیں ۔ بعض کے نزدیک اس امانت سے مراد ” خلافت “ ہے جس کی ذمہ داری انسان پر رکھی گئی ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ اس مراد وہ اختیار ہے جو انسان کو اس دنیا میں وقتی طور پر امانت کے طور پر دیا گیا ہے تاکہ انسان اپنے اختیار سے نیکی اور برائی کے دونوں راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے۔ بہر حال جو مضامین اس سورت میں بیان کئے گئے ہیں وہ زیادہ تر نبی کریم ﷺ کے ادب و احترام اور آپ کی اطاعت و فرماں برداری سے متعلق ہیں اس لئے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کا مفہوم ان آیات میں بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ بارا مانت جو انسان کے کاندھوں پر رکھا گیا ہے۔ اس سے مراد ” علم و عدل “ ہے۔ علم ایک روشنی ہے اور عدل ایک راستہ ہے جو انسان کو علم کی روشنی میں منزل تک پہنچاتا ہے ۔ یا یوں کہئے کہ قرآن کریم علم ہے اور نبی کریم ﷺ کی زندگی عدل و اعتدال کا نام ہے اس لئے ہر وہ شخص جو آخرت کی حقیقی کامیابی چاہتا ہے اس کے لئے قرآن کریم کی تعلیمات اور نبی کریم کی پاکیزہ زندگی ایک امانت کے طور پر اہل ایمان کو دی گئی ہے جو بھی قرآن و سنت پر چلنے والا ہوگا وہی کامیاب و امر ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو بنی کریم ﷺ سے ایک والہانہ محبت اور ان کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین الحمد للہ سورة الاحزاب کا ترجمہ اور تشریح مکمل ہوئی۔ واخر دعوا نا ان الحمدللہ رب العالمین