33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 33:28–34

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ْ ! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت چاہتی ہو تو آئو میں تمہیں کچھ دے دلا کر اچھے طریقے پر رخصت کردوں ۔

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ ، اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیک بیویوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے ۔

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے نبی ﷺ کی بیویو ! اگر تم میں سے کوئی کھلی بےحیائی کرے گی تو اس کو دو ہرا عذاب دیا جائے گا اور ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور عمل صالح کرے گی تو اس کو دوگنا اجر وثواب ہے اور ہم نے ان کے لئے عزت کا رزق تیار کر رکھا ہے۔

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو ( غیر مردوں سے ) گفتگو میں لوچ (ملائمت ) نہ پیدا کرو کیونکہ اگر کسی کے دل میں کوئی مرض ہے تو لالچ میں پڑھا جائے گا۔ ہمیشہ قاعدے طریقے کی بات کرو۔

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہا کرو اور جاہلیت کی جیسی سج دھج نہ کھاتی پھرا کرو ۔ نماز قائم کرو ، زکوۃ دیتی رہو۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اے اہل بیت اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر آلودگی کو دور کردے اور تمہیں پوری طرح پاک و صاف کردے۔

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اللہ کی آیات اور حکمت کی باتیں جو تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ بیشک اللہ بہت لطیف وخبیر ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 34 کنتن : تم ہو تعالین : تم سب آجاؤ امتع : میں سامان دوں گا اسرح : چھوڑ دوں گا۔ رخصت کردیتا ہوں یضعف : وہ دو گنا کردے گا یقنت : اطاعت کرے گی، جھکے گی مرتین : دو مرتبہ۔ دوھرا۔ دوگنا اتقیتن : تم پرہیزگاری اختیار کرو لا تخضعن : نرمی نہ کرو۔ لوچ پیدا نہ کرو یطمع : وہ لالچ کرے گا قرن : ٹکی رہیں۔ جمی رہیں تبرج : ابھر کر آنا۔ جسم اور چہرہ کی نمائش کرنا الرجس : گندگی ۔ آلودگی اھل البیت : گھر والے۔ اہل خانہ یتلی : تلاوت کیا گیا خبیر : خبر رکھنے والا۔ اللہ کی صفت تشریح آیت نمبر 28 تا 34 اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو ” احسنہ “ فرمایا ہے یعنی آپ کی زندگی کا ہر عمل امت کے لئے رہبر و رہنما ہے۔ آپ کے فیض صحبت اور تربیت سے آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کی زندگیاں بھی دوسروں کے لئے بھی منیارہ نور بن گئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ازواج مطہرات کو براہ راست خطاب فرما کر ان کو ایک ایسا اعزاز عطا فرمایا ہے جو کسی نبی اور رسول کی ازواج کو بھی نصیب نہ ہوسکا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ازواج مطہرات کو اہل بیت رسول فرما کر ان کی شان میں چار چاند لگا دیئے ہیں ۔ چونکہ آپ کی ازواج مطہرات کی زندگیاں بھی ساری امت کے لئے مثال تھیں اس لئے اللہ نے چاہا کہ ان کی زندگیوں کے اس میل کچیل کو دور فرما کر پاک صاف کردیں جس سے ان کے کردار میں کہیں بھی کمزوری باقی نہ رہے۔ قرآن کریم کی آیات سے توبہ بات بالکل واضح ہے کہ امت کی ان ماؤں کو رسول اللہ ﷺ کا اہل بیت قرار دیا گیا ہے لیکن معتبر احایث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت فاطمہ ، حضرت حسن ؓ ، اور حضرت حسین ؓ کو ایک چادر میں لے کر فرمایا کہ اے اللہ آپ گواہ رہیے گا یہ بھی میرے اہل بیت میں سے ہیں۔ اب ہم سب اہل سنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تمام ازواج مطہرات اور حضرت علی ؓ ، حضرت فاطمہ ؓ ، حضرت حسن ؓ ، اور حضرت حسین ؓ یہ سب اہل بیت رسول ہیں۔ ان تمام آیات کی مزید وضاحت سے پہلے اس پس منظر کو ذہن میں کھئے گا کہ جب بنو قریظہ کو بری طرح شکست ہوگئی اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مسلسل فتوحات عطا فرمائیں۔ خاص طور پر خیبر فتح ہونے کے بعد وہاں کی تمام زمینوں اور مال و دولت کو صحابہ کرام ؓ میں تقسیم کردیا گیا تو ایک طویل عرصہ تک فقر و فاقہ کی زندگی گذارنے والے صحابہ کرام ؓ کے گھروں میں رونق آگئی اور ایک خوش حالی کا دورہ شروع ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ جن کی پوری زندگی ایک عظیم مشن کو حاصل کرنے کے لئے انتہائی غربت و افلاس اور فقر و فاقہ میں گذری تھی اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کی ایک روایت کے مطابق کہ ہمارے گھروں میں کبھی کبھی آگ جلائے ہوئے ایک ایک مہینہ گذر جاتا تھا ہم صرف کھجوریں ، ستو اور پانی پر گذارہ کیا کرتے تھے ۔ اگر کہیں سے ہدیہ کے طور پر گوشت آجاتا تو اس کو پکا لیا جاتا تو کھجوریں اور پانی پر ہی گذارا لیا جاتا تھا۔ جب صحابہ کرام ؓ کی زندگیوں میں خیبر کی زرخیز زمینوں اور فتوحات سے کچھ خوش حالی کا دور شروع ہوا تو ایک دن تمام ازواج مطہرات جن کی تعداد اس وقت چار تھی حضرت عائشہ ؓ ، حضرت حفصہ ؓ ، حضرت سودہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ آج جب نبی کریم ﷺ تشریف لائیں گے تو ان سے یہ درخواست کریں گی کہ اس خوش حالی میں سے ان کو بھی کچھ حصہ دیا جائے تاکہ وہ بھی کچھ فراغت کے ساتھ اپنی زندگی گذارسکیں۔ جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو ان تمام ازواج مطہرات نے آپ کی خدمت اقدس میں عرض کردیا کہ ہمارے لئے بھی خوش حالی کا سامان کردیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے یہ سنا تو آپ کی طبیعت پر کچھ گرانی چھاگئی اور آپ علیحدہ ایک کمرے میں ایک مہینے کے لئے قیام پذیر ہوگئے ۔ اس صورتحال سے صحابہ کرام ؓ خاص طور پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، اور حضرت عمر ؓ نے اپنی بیٹیوں کو ہر طرح سمجھا یا ، ڈانٹ ڈپٹ بھی کی مگر وہ اپنے اس مطالبہ پر قائم رہیں۔ اس موقع پر سورة پر سورة الاحزاب کی یہ آیات ناز ل ہوئیں۔ جن میں اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کے لئے صاف صاف اعلان فرمادیا تھا کہ دو راستوں میں سے ایک راستہ اختیار کرلیں۔ اگر دنیا کی راحت ، اس کا آرام و دولت کی طلب گار رہیں تو اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ میرا اور تمہار راستہ الگ الگ ہے ۔ میں تمہیں کچھ دے دلا کر نہایت عزت سے رخصت کردیتا ہوں اور اگر اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی اور آخرت کی ابدی زندگی اور اس کی راحتیں مطلوب ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت میں اجر عظیم عطا فرمائے گا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ان آیات کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم سے ایک بات کا ذکر کرنے والا ہوں تم جواب میں جلدی نہ کرنا اپنے والدین سے بھی مشورہ کرلینا اس کے بعد جواب دینا۔ پھر آپ نے مذکورہ آیات پڑھ کر سنائیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے فوراً جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اس میں والدین سے مشورہ کا کیا سوال ہے ؟ مجھے اللہ ، اس کا رسول اور آخرت کا گھر پسند ہے ۔ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کا جواب سنا تو خوش ہوگئے اور آپ ہنس پڑے۔ پھر اس بقیہ تینوں ازواج کے پاس بھی تشریف لے گئے۔ سب کا جواب وہی تھا جو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا تھا ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو تم میں سے جو بھی اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی اطاعت اور عمل صالح اختیار کرے گی تو اس کو دوگنا اجر وثواب دیا جائے گا۔ چونکہ اے ازواج النبی تمہاری زندگیاں دوسروں کے لئے مثال ہیں اس لئے تمہاری ایک غلطی بھی اللہ کے نزدیک دوہری سزا کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے بعد ازواج مطہرات اور قیامت تک آنے والی تمام خواتین کے لئے جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ (1) سب سے پہلے آپ کی ازواج کو خظاب کرتے ہوئے فرمایا اے ازواج النبی ﷺ ! تمہاری حیثیت عام عورتوں کی طرح نہیں ہے ۔ تمہارے ہر عمل کو دوسرے دیکھ کر اس کی نقل کرتے ہیں لہذا اگر حسن عمل پیش کیا جائے تو اس پر دو ہرا اجر وثواب دیا جائے گا اور اگر کسی کمزوری کا مظاہرہ کیا گیا تو اس کی سزا بھی دوگنی دی جائے گی۔ (2) دوسری ہدایت یہ دی گئی کہ اگر تم اپنے دلون میں اللہ کا خوف رکھتی ہو تو غیر مردوں سے بات کرتے وقت تہذیب و شاستگی کے ساتھ ایسا رو کھا اور غیر جذباتی انداز اختیار کرو جس میں ایسی نرمی اور بےتکلفی نہ ہو جس سے بعض ذہنی مریض کیس غلط فہمی میں مبتلا ہوجائیں۔ چونکہ اللہ نے عورت کی آواز میں نرمی اور بےتکلفی نہ ہو جس سے بعض ذہنی مریض کسی غلط فہمی میں مبتلا ہوجائیں ۔ چونکہ اللہ نے عورت کی آواز میں نرمی اور خوبصورتی رکھی ہے اس لئے عبادات میں بھی حکم دیا ہے کہ وہ اپنی آواز کو دھیما رکھیں ۔ (ا) فرمایا کہ عورتیں اذان اور اقامت نہ کہیں۔ (2) آواز سے تلاوت کرنے کو منع کیا گیا ہے اس لئے عورت کو امامت کی اجازت نہیں ہے۔ (3) نامحرم مرد کو سلام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ (4) اگر نماز کے دوران امام قرات میں یا کسی رکن ادا کرنے میں کوتاہی کر جائے تو مرد زور سے اللہ اکبر ، سبحان اللہ کہ کر امام کو صحیح کرنے کا اشارہ کرسکتے ہیں لیکن اگر تصیح کرنے والی عورت ہو تو وہ اپنے ہا تھ کی پشت پر دوسرا ہاتھ ما رکر امام کو آگاہ کرے گی مگر زبان سے نہ کہے گی۔ (5 ) حج اور عمرہ میں عورتوں کو تلبیہ زور سے پڑھنے کی اجازت نہیں ہے آہستہ آہستہ پڑھیں۔ ان کے علاوہ اور بہت سے احکام ہیں جن کو فقہ کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ (3) تیسری ہدایت یہ دی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ٹک کر رہیں ۔ بلا کسی شدید ضرورت کے گھروں سے نہ نکلیں۔ اگر نکلنا ہو تو شریعت کی تمام پابندیوں کے ساتھ باہر نکلیں ۔ خواتین فرض نمازیں اپنے گھروں میں ادا کریں کیونکہ ان کے لئے اسی میں بہت اجروثواب رکھا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ عورت کا گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں جاکر نماز پر ھنے سے زیادہ افضل ہے ۔ حضرت ام حمید ساعد یہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کے ساتھ (جماعت سے مسجد میں ) نماز ادا کروں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں میرے ساتھ یعنی میرے پیچھے نماز پڑھنے کی خواہش ہے مگر تمہاری وہ نماز جو تم اپنے گھر کے اندر کے حصے میں پڑھو وہ اس نماز سے افضل ہے جو تم اپنے باہر کے دلان میں پڑھتی ہو اور باہر کے دلان میں تمہارا نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم اپنے گھر کے صحن میں پڑھو اور پنے گھر کے صحن میں تمہارا نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے جو تم اپنے قبیلے والی مسجد میں (جو گھر سے قریب ہے ) نماز پڑھو اور اپنے قبیلے والی مسجد میں تمہارا نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم میری مسجد میں آکر نماز ادا کرو۔ (معارف القرآن) (4) چوتھی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ دور جاہلیت کی طرح بےپردہ اور بنائو سنگھار کرکے باہر نہ نکلیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ” تبرج جاہلیت “ پسند نہیں ہے۔ یعنی ابھر کر سامنے آنا۔ اپنے جسم ، زیور ، کپڑے اور چہرے کی نمائش کرنا ، اس طرح چلنا جس سے خوامخواہ بھی لوگ متوجہ ہوجائیں اس کو ” تبرج جاہلیت ــ“ فر ما یا گیا ہے جس میں اسلام آنے سے پہلے لوگ مبتلا تھے اور عورتیں بےپردہ بےبا کانہ انداز سے اپنے جسم و لباس کی نمائش کرتی پھرتی تھیں۔ (5) پانچویں ہدایت یہ دی گئی ہے کہ خاص طور پر ازواج مطہرات اور تمام خواتین نمازوں کی پابندی کریں کیونکہ نماز دین کا ایک مضبوط ستون ہے ۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر ساری روحانی، اخلاقی ، معاشرتی، ، معیشی، اور تہذیبی و تمدنی زندگی کی عمارت تعمیر کی جاتی ہے۔ (6) چھٹی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ اگر وہ صاحب نصاب ہوں تو زکواۃ ادا کریں یعنی وہ زکواۃ سے مشتنیٰ نہیں ہیں ان کو بھی عام مسلمانوں کی طرح زکواۃ ادا کرنا ہوگی۔ (7) ساتویں ہدایت یہ دی گئی ہے کہ شریعت کے جتنے احکامات ہیں ان میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ساتوں ہدایات دے کر فرمایا کہ اے اہل بیت رسول اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کامل اتباع کی تو اللہ تمہارے گھرانے کو ظاہری اور باطنی ہر اعتبار سے پاک و صاف فرمادے گا اور ہر طرح کی آلودگی سے تمہیں بچا لے گا ۔ ان آیات میں اگر چہ خطاب نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات سے کیا گیا ہے لیکن یہ تمام احکامات پوری امت کی تمام خواتین کے لئے ہیں کیونکہ جب ازواج مطہرات بھی اللہ کے احکامات کی پابند ہیں تو پھر عام مسلمان عورتیں اس سے مستشنیٰ کیسے ہوسکتی ہیں ؟ احکامات پر پوری طرح عمل کرنا ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت پر فرض ہے۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، مومن مرد اور مومن عورتیں ، فرماں بردار مرد اور فرما بردار عورتیں، سچائی اختیار کرنے والے مرد اور سچائی اختیار کرنے والی عورتیں ، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں ، عاجزی و انکساری اختیار کرنے والے مرد اور عاجزی و انکساری اختیار کرنے والی عورتیں ، صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور خوب اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور خوب اللہ کو یاد کرنے والی عورتیں ۔ اب سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 35 قنتت : فرمانبرداری اختیار کرنے والیاں صادق : سچ بولنے والا۔ سچا خاشع : ڈرنے والا متصدق : صدقہ دینے والا صائع : روزہ رکھنے والا حافظ : حفاظت کرنے والا اعد اللہ : اللہ نے تیار کر رکھا ہے تشریح آیات نمبر 35 اللہ تعالیٰ نے عورت اور مرد دونوں کو اکثر انسانی حقوق میں برابر قرار دے کر یکساں اصول مقرر فرما دیئے ہیں ۔ البتہ عورتوں پر مردوں کو ایک درجہ فضیلت دیا گیا ہے ۔ حسن عمل اور کردار کی بلندیوں میں بھی جو بھی آگے بڑھ کر کام کرے گا اللہ تعالیٰ نے اس سے مغفرت ، درگذر اور فضل و کرم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ سورۃ الاحزاب کی زیر مطالعہ آیات میں اللہ نے فر دیا ہے کہ عورت ہو یا مرد کسی کی محنت اور کمائی کو ضائع نہیں کرتا۔ وہ دونوں اجروثواب میں ایک جیسے ہیں ۔ عورتوں اور مردوں کی ایسی دس صفات کو بیان کیا گیا ہے جن پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اجر عظیم عطا فر مائے گا۔ اسلام ، ایمان ، اللہ و رسول کی فرما برداری ، صدق و سچائی ، صبروتحمل ، عاجزی و انکساری ، روزہ، عزت و آبرو کی حفاظت اور خوب اللہ کا ذکر کرنا ۔ ان دس عنوانوں میں دین اسلام کی عظمت اور حسن عمل کے تمام پہلوؤں کو سمیٹ دیا گیا ہے ۔ ان دس باتوں کی تفصیل یہ ہے۔ (1) اسلام۔ اسلام کے معنی ہیں گردن جھکادینا، اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے سپرد کردینا۔ اللہ نے جتنے بھی احکامات عطا فرمائے ہیں ان کی پابندی کرنا اور اس دستور زندگی کو دین و دنیا کی بھلائی اور کامیابی کا ذریعہ بنا لینا۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے ان اللہ کے فرماں بر داروں اور اللہ کے سامنے گردن جھکانے والوں کا نام مسلم رکھا تھا۔ اب یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اپنے اس عظیم الشان اعزاز کو چھوڑ کر او و فرقوں میں تقسیم ہو کر اپنے طرح کے نام رکھ لئے ہیں۔ (2) ایمان ۔ ایمان کے معنی یقین کرنے کے ہیں یعنی زبانوں سے اس بات کا اقرار کرنا اور دل سے تصدیق کرنا کہ وہ تمام احکامات جو مختلف زمانوں میں مختلف پغمبروں کے ذریعے بھیجے گئے ہیں وہ سب برحق ہیں ۔ ان پر ایمان اور تصدیق کرنے والا مومن کہلاتا ہے۔ (3) قا نت ۔ فرما برداری اختیار کرنے والا، اللہ اور اس کے رسول کی مکمل اطاعت و فرماں برداری اختیار کرنے والے مردوں اور عورتوں کے لئے اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے۔ (4) صادق۔ سچ بولنے والا ، سچائی کو اختیار کرنے والا ، قول ، عمل ، اور نیت کی سچائی جس کی زندگی ہو اور وہ جھوٹ ، فریب ، بدنیتی ، بد دیانتی اور دغابازی کے قریب بھی نہ پھٹکتا ہو اس کو صادق کہتے ہیں۔ (5) ۔ صابر ۔ صبر کرنے والا ، جم جانے والا، حالات کے سامنے ڈٹ جانے والا ، ساری قوتوں اور طاقتوں کو اللہ کے لئے ماننے والا اور حق و صداقت کے راستے میں کسی سے خوف نہ کھانے والا، اور اس راستے میں جو بھی تکلیفیں آئیں ان کو برداشت کرنے والے کو صابر کہیتے ہیں ۔ اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے صبرو تحمل اور برداشت سے کام لینے والوں کے لئے اجر عظیم ہے اور اللہ ایسے صابروں کے ساتھ ہے۔ (6) خاشع۔ خشوع و خضوع اور عاجزی و انکساری اختیار کرنے والا یعنی ایک ایسا نیک دل مومن جس میں غرور ، تکبر، ضد اور ہٹ دھرمی نہ ہو اپنی، اپن قوم اور اپنے خاندان کی بڑائی اور برتری کا کوئی جذبہ نہو ۔ ایسے عاجزی اور انکساری اختیار کرنے والوں کو اللہ بہت پسند ہے اور قیامت کے دن ایسے لوگوں کو خوب نوازا جائے گا۔ (7) المتصدق۔ صدقہ و خیرات کرنے والا۔ یعنی اس کے حالات تنگ ہوں یا اس کو مال دولت میں فراخی حاصل ہو وہ مناسب طریقے پر اللہ کے راستے میں اس کے بندوں پر اپنا مال خرچ کرتا ہو۔ اپنے سے کمزور یا حالات کی چکی میں پسے ہوئے لوگوں کا خیال رکھتا ہو وہ بھی اللہ کی بےانتہا رحمتوں کا مستحق ہے (8) صائم ۔ روزہ رکھنے والا، ان تمام باتوں سے رک جانے والا جن اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اسے رکنے کا حکم دیا ہو۔ ایسی صفات کے مالک کو صائم کہتے ہیں جو عظیم اجر کا مستحق ہے ۔ (9) حافظ ۔ حفاظت کرنے والا ۔ جو مرد اور عورتیں اپنی عزت وآبرو یعنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اور جس حد تک شریعت ان کو جانے کی اجازت دی ہے اس سے آگے وہ نہیں بڑھے۔ ہر طرح کے گناہوں اور برے کاموں سے بچنے کی مخلصانہ جدو جہد کرتے ہیں وہ حافظین لفرو جھم ہیں جو اپنے صبر و ضبط کی وجہ سے اللہ کی طرف وے عظیم اجر کے مستحق ہیں۔ (10) ذاکر ۔ ذکر کرنے والا ۔ یعنی وہ لوگ جو نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے مغفرت اور اجر وعظیم کے حق دار ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر وقت اللہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے ۔ اور یہ بھی روایات سے ثابت ہے کہ رسول ﷺ کثرت سے ذکر کرنے کو پسند فر ماتے تھے چناچہ ایک دن کسی صحابی رسول ﷺ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجاہدین میں سب سے زیادہ اجرو ثواب کا مستحق کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو بھی سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنیوالا ہے۔ پھر پوچھا کہ روزے داروں میں سب سے زیادہ کس کو ثواب ملے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کو جو کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے ۔ پھر اسی طرح نماز ، زکوٰۃ ، حج اور صدقات کے متعلق پوچھا تو آپ نے ہر سوال کے جواب میں یہی جواب دیا کہ جو کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے وہ زیادہ اجر وثواب کا حق دار ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام عبادتوں کی اصل روح کثرت ذکر اللہ ہے۔ وہ لوگ جو کھڑے ، بیٹھے چلتے ، پھرتے لیٹتے ، بیٹھتے ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ لوگ ہیں۔ اہل ایمان مردوں اور اہل ایمان عورتوں کی ان دس صفات کا خلاصہ یہ ہے کہ ان مٰ ن سے جو بھی نیکیوں اور بھلائیوں میں آگے بڑھ کر کام کرے گا وہ اللہ کے ہاں اجر عظیم اور مغفرت کا مستحق ہوگا اس میں یہ فرق نہین کیا جائے گا کہ اس عمل کو مرد نے کیا ہے یا عورت نے۔ جو بھی اپنا حسن عمل پیش کرے گا اس کو اس کے اعمال اور نیت کے مطابق دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی کامیابیاں نصیب ہوں گی اور اس کے ہر کام میں برکتیں نازل ہوں گی۔
Ayahs 33:36–40

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

کسی مومن مرد اور عورت کے حق میں جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کردیں تو پھر ان کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا ۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں جا پڑا ۔

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ اور جب آپ اس سے جس پر اللہ نے آپ نے احسان کیا تھا یہ کہا کہ تو اپنی بیوی (زینب ؓ کو اپنے پاس روک کر رکھ (طلاق نہ دے) اور خوف الٰہی اختیار کر۔ اور آپ نے اپنے دل میں اس بات کو چھپایا ہوا تھا جس کو اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا اور آپ لوگوں کے طعنوں سے ڈر رہے تھے۔ حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسی سے ڈرا جائے ۔ پھر جب زید نے ( زینب ؓ سے) اپنی حاجت پوری کرلی (طلاق دے دی ) تو ہم نے اسے آپ کے نکاح میں دے دیا تاکہ مومنوں پر منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں کوئی تنگی نہ رہے جب کہ وہ ان سے اپنی حاجت پوریہ کرلیں (طلاق دے دیں ) اور یاد رکھو اللہ کا حکم پورا ہو کر رہنے والا ہے ۔

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

نبی پر کسی ایسے کام میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے جس کو اللہ نے ان کے لئے مقرر کردیا ہو۔ آپ سے پہلے جو پغمبر گذرے ہیں ان کے ساتھ بھی اللہ کا یہی دستور رہا ہے۔ اور اللہ کا حکم صحیح اور قطعی فیصلہ کن ہوتا ہے ۔

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

وہ پغمبر جو اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں وہ اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں رکھتے ۔ اور حساب لینے کے لئے تو اللہ ہی کافی ہے۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

(حضرت ) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ۔ وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبین ہیں ( سب نبیوں پر مہر۔ آخری نبی) اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40 الخیرۃ : اختیار امسک : روک لے مبدی : ظاہر کرنے والا وطر : حاجت زوجنا : ہم نے نکاح کردیا ادعیاء : بلاتے ہیں۔ پکارتے ہیں یبلغون : وہ پہنچاتے ہیں یخشون : وہ خوف رکھتے ہیں۔ ڈرتے ہیں حسیب : حساب لینے والا تشریح : آیت نمبر 36 تا 40 ان آیات میں حضرت زید ؓ ابن حارثہ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح ، طلاق ، پھر اس کے بعد نبی کریم ﷺ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح ، منہ بولے بیٹوں کی شرعی حیثیت کے اہم ترین مسئلوں کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔ حضرت زید ؓ ابن حارثہ بنو کلب کے حارثہ ابن شراحیل کے بیٹے تھے ۔ والد کا نام سعدٰی بنت ثعلبی تھا اور ان کا تعلق قبیلہ طے کی شاخ بنی معن سے تھا ۔ جب حضرت زید آٹھ دس سال کے تھے تو ان کو والدہ ان کو ساتھ لے کر اپنے میکے روانہ ہوئیںَ راستے میں بنی قین ابن جسر نے حملہ کرکے ان کا تمام مال وا سباب لوٹ لیا اور مردوں ، عورتوں اور بچوں کو اپنا غلام بنالیا۔ ان ہی میں حضرت زید ؓ کو بھی انہوں نے اپنا غلام بنالیا تھا۔ جب عکاظ کے میلے میں ان کو فروخت کرنے کے لئے لایا گیا تو حضرت خدیجہ ؓ کے بھتیجے حکیم اب حزام نے ان کو خرید کر اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کو تحفہ کے طور پر پیش کیا۔ جب نبی کریم ﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوا تو ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبری ؓ نے حضرت زید ؓ کو ایک غلام کی حیثیت سے آپ ﷺ کو ہبہ (Gift) کردیا۔ اس طرح حضرت زید کو حضور اکرم ﷺ کی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے بھی حضرت زید ؓ کی تربیت فرمائی اور آپ کی صلاحتیوں کو دیکھ کر ان سے محبت فرمائی۔ جب حضرت زید کے والدین کو یہ معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا مکہ مکرمہ میں ہے تو ان کے والد اور چچا حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ار کہا کہ زید ہمارا بیٹا ہے آپ جو بھی معاوضہ طے کریں گے وہ ہم پیش کردیں گے۔ آپ زید کو آزاد کر دیجئے اور ہمارے ساتھ بھیج دیجئے۔ بنی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آپ لوگ خود زید سے پوچھ لیں اگر وہ جانا چاہتا ہے تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے لیکن اگر وہ میرے پاس رہنا چاہتا ہے تو میں ایسا آدمی ہوں کہ میرے پاس رہنا چاہے تو میں اس کو نکا دوں ۔ حضرت زید کے ولاد اور چچا نے کہا یہ تو آپ نے بہت اچھی بات کہی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس رہنا چاہتے ہو تو تمہاری مرضی۔ حضرت زید ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں آپ کو چھوڑ نہین جاسکتا ۔ والد اور چچا نے کہا کیا تم آزادی کے مقابلے میں غلامی پسند کرتے ہو۔ حضرت زید نے کہا میں نے آپ ﷺ کے اندر وہ کمالات ، اوصاف اور عظمتیں دیکھی ہیں کہ اب میں کسی اور کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ حضرت زید ؓ نے کہا میں نے آپ ﷺ کے اندر وہ کمالات ، اوصاف اور عظمتیں دیکھی ہیں کہ اب میں کسی اور کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ حضرت زید ؓ کا یہ جواب سن کر ان کے والد اور چچا واپس چلے گئے۔ آپ نے اسی وقت حضرت زید کو آزاد کر کے قریش کے بھرے مجمع میں اعلان کردیا کہ لوگو ! تم گواہ رہنا میں نے زید کو اپنا بیٹا بنا لیا ہے یہ مجھ سے وراثت پائے گا اور میں اس سے۔ اس کے بعد سب لوگ ان کو زید ابن محمد کہنے لگے کیونکہ اس زمانہ میں منہ بولابیٹا حقیقی اور صلبی بیٹا سمجھا جاتا تھا جو وراثت کا حق دار بھی ہوا کرتا تھا۔ اگر چہ اس دور میں یہ ایک عام بات تھی جس کا رواج تھا مگر اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ تھے۔ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے ذریعہ اس رسم کو مٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جو دنیا سے رنگ و نسل اور آقا و غلام کے ہر فرق کو مٹانے کے لئے مبعوث فرمائے گئے تھے آپ نے حضرت زید کا نکاح بنو قریش کی ایک آزاد ، خود مختار اور معزز خاتون جو آپ کو پھوپھی امیمہ بنت عبدالطیف کی صاحبزادی حضرت زینب تھیں ان سے کرنے کا فیصلہ فرمالیا۔ جب حضرت زینب ؓ ، ان کے گھر والوں اور قریش کو معلوم ہوا تو انہوں نے اس پر سخت اعتراض کیا کہ حضرت زید ایک آزا اد کردہ غلام تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کرکے فرمایا کہ جب اللہ اور اس کے رسو ل کسی مومن مرد یا عورت کے لئے کوئی فیصلہ کردیں تو پھر کسی کا اختیار باقی نہیں رہتا کیونکہ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ کھلی ہوئی گمراہی میں جاپڑے گا۔ اس حکم کے آنے کے بعد حضرت زینب، ان کے بھائی اور خاندان کے لوگ اس نکاح پر راضی ہوگئے۔ حضور اکرم ﷺ نے ان دونوں کا نکاح خود پڑھایا اور حضرت زید کی طرف سے مہر ادا کیا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ مہر دس دینار سرخ (چار تولے سونا) اور ساٹھ درہم (اٹھارہ تولے چاندی) ایک بار برداری کا جانور ، ایک زنانہ جوڑا، پچاس مد آٹا (پچیس کلو آٹا) اور دس مد (پانچ کلو ) کھجوریں دے کر رخصت کیا۔ (ابن کثیر) یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر میاں بیوی کے درمیان مزاجوں میں ہم آہنگی نہ ہو تو زندگی بےمزہ اور بےرونق ہو کر رہ جاتی ہے۔ حضرت زید بن حارثہ کا نکا 4 ھ میں ہوا تھا۔ مگر زیادہ عرصہ نہ گذرا تھا کہ دونوں میں بات بات پر اختلاف اور جھگڑے شروع ہوگئے یوں طلاق تک نوبت پہنچ گئی ۔ حضرت زید نے روانہ کے جھگڑوں سے تنگ آکر جب طلاق دینے کا فیصلہ کرلیا اور نبی کریم ﷺ کو ان حالات کا علم ہوا تو آپ نے ان دونوں کو اچھی طرح سمجھایا اور اللہ کے خوف سے ڈرایا مگر دونوں میں خلیج بڑھتی چلی گئی اور ایک دن حضرت زید ؓ نے حضرت زینب ؓ کو طلاق دے دی۔ اس وقت آپ کے دل میں طرح طرح کے اندیشے پیدا ہونا شروع ہوگئے جس کو ظاہر کرنا بھی مشکل تھا۔ آپ سوچتے تھے کہ جب آپ نے بنو قریش کی ایک لڑکی کا نکاح آزاد غلام سے کیا تھا اور پورے خاندان نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے آگے اپنا سر جھکا دیا تھا مگر طلاق کے بعد یقینا پورے خاندان پر اس کا گہرا اثر پڑے گا اور سب اپنی توہین محسوس کریں گے ۔ دوسری طرف اللہ نے یہ فیصلہ فرمادیا تھا کہ اب اس رنج و غم سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ نبی کریم ﷺ عدت گذرنے کے بعد حضرت زینت ﷺ سے خود نکاح کرلیں تاکہ بنو قریش جس غم سے نڈھال ہیں وہ اس باہر آسکیں۔ لیکن اس میں ایک زبردست دشواری یہ تھی کہ آپ نے حضرت زید کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا جو اس زمانے کے دستور کے مطابق حقیقی بیٹوں کی طرح ہوتا تھا۔ اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرنے میں کفار مشرکین کی طرف سے زبر دست پروپیگنڈے کا اندیشہ تھا۔ یہ تمام فکریں تھیں لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم یہ تھا کہ اس رسم کو آپ کے ذریعے ہی ختم کرایاجائے۔ چناچہ حضرت زینب ؓ کی عدت گذرتے ہی آپ نے حضرت زینب سے نکاح کرلیا۔ بنو قریش تو خوش تھے مگر منافقین ، کفار و مشرکین نے آپ کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک طوفان برپا کرکے رکھ دیا کہ (حضرت ) محمد ﷺ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ پروپیگنڈہ اس قدر شدید تھا کہ پرانے رسم و رواج کے دل دادہ لوگوں نے طرح طرح کی باتیں بنانا شروع کریں اس پر اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرمائیں اور حکم دیا کہ جب اللہ کا حکم آجائے تو پھر آپ کسی کی پرواہ نہ کریں کیونکہ آپ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ آپ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں ۔ اگر آپ اس رسم کو نہ مٹائیں گے تو پھر قیامت تک کوئی اور نبی نہیں آئے گا جو اسی بری رسم کو مٹا سکے گا ۔ اللہ تعالیٰ تمام باتوں کی حقیقت اور اس کے انجام سے پوری طرح واقف ہے۔ گویا یہ فرمایا گیا ہے کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے آ خری نبی اور رسول ہیں جن پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے لہذا اگر قانون اور معاشرہ میں کوئی اصلاح آپ کے زمانہ میں نہ ہوئی تو پھر آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے جو اس کمی کو پورا کرسکے گا۔ لہذا آپ اپنے اوپر برداشت کرکے اس جاہلیت کی رسم کو مٹالیں ڈالیں اور کسی کے کہنے سننے کی پر واہ نہ کریں۔ ان آیات کے سلسلہ میں چند ضروری باتیں (1) اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ ایک مومن مرد یا ایک مومن عورت کو جب اللہ اور اس کا رسول کوئی حکم دیں تو اس کے بعد سرتابی یا انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ اختیار صرف اللہ اور اس کے رسول کو حاصل ہے اور کسی کو حاصل نہیں ہے لہذا اللہ و رسول کے سامنے اپنے آزادانہ اختیار کو چھوڑ دینا سب سے بڑی سعادت ہے۔ (2) قرآن کریم میں بہت سے پغمبروں کا نام لے کر ان کا ذکر کیا گیا ہے ۔ بڑے بڑے اکا صحابہ ؓ کا اشاروں میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ لیکن ان کا نام نہیں لیا گیا صرف حضرت زید ؓ ابن حارثہ کا نام لے کر ان کا ذکر فرمایا گیا ہے جو ان کی عظمت کا بہترین اظہار ہے۔ (3) حضرت زید ؓ ابن حارثہ رسول اللہ ﷺ کا یہ احسان تھا کہ آپ نے ان کی تعلیم و تربیت فرمائی۔ آپ نے ان کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ خاندان کی شدید مخالفت کے باوجود آپ نے ان کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب ؓ سے کر کے حضرت زید ؓ کی طرف سے ان کا مہر ادا کیا۔ جب دونوں میاں بیوی میں اختلاف شدت اختیار کر گئے تو آپ نے ان دونوں کو اچھی طرح سمجھایا، اللہ کے خوف سے ڈرایا اور ہر اونچ نیچ کو سمجھانے کی کوشش کی حضرت زید ؓ پر اللہ کا یہ احسان تھا کہ اس نے ان کو دولت ایمان سے مالا مال کیا۔ قرآن کریم میں ان کا نام لے کر ذکر کرنے سے ان کی عزت کو چار چاند لگا دیئے ۔ (4) جب حضرت زید ؓ نے حضرت زینب کو طلاق دے دی تو حضرت زینب کی ذہنی الجھنوں اور خاندان کی رسوائی سے آپ سخت پریشان تھے۔ جب اللہ کی طرف سے آپ کو اشارہ مل گیا کہ حضرت زینب کی عدت گذرتے ہی آپ ان سے نکاح کرلیں تو آپ کو اس سے بھی زیادہ فکر پیدا ہوگئیں کیونکہ آپ کو اس کا ڈر تھ کہ کفار و مشرکین اس نکاح پر یہ کہہ کر طعنے دیں گے کہ آپ نے اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب اللہ نے ایک چیز کا فیصلہ کردیا ہے اور آپ کا نکاح حضرت زینب ؓ سے کردیا تو آپ کی شان کے خلاف ہے کہ آپ اس کے بعد لوگوں کے طعنوں اور باتوں سے پریشان ہوں کیونکہ جس دل میں خوف الٰہی ہوتا ہے اس دل میں کسی دوسرے کا کوئی خوف نہیں ہوا کرتا۔ (5) آپ اگرچہ روحانی اعتبار سے ہر ایک کے باپ سے بڑھ کر ہیں مگر مردوں میں سے آپ کسی کے باپ نہیں ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے حضرت زید ؓ کو زید ابن محمد کہنا چھوڑ دیا اور آپ کو پھر سے زید ؓ ابن حارثہ کہا جانے لگا۔ (6) حضرت زید کو یہ بھی شرف حاصل ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو حضرت خدیجہ ؓ ، حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت علی مرتضیٰ کے بعد سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں۔ (7) قرآن و حدیث اور اجماع امت کا یہ متفقہ فیصلہ اور عقیدہ ہے کہ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ہر طرح کی نبوت و رسالت کی تکمیل ہوچکی ہے۔ لہذا آپ کے بعد کسی دوسرے نبی کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اور اس کے ماننے والے تمام لوگ قطعاً کافر ہیں اور ملت اسلامیہ سے خارج ہیں اس پر تمام محدثین مفسر ین اور علماء امت متفق ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے سلسلہ میں امت کی کبھی دورائے نہیں رہی ہیں بلکہ پوری امت آج بھی اور اس سے پہلے بھی اس بات پر متفق ہے کہ آپ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ کے بعد میں کوئی کسی طرح کا نبی آیا ہے اور نہ آئے گا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے ” خاتم النبین “ کی غلط تعبیر اور تشریح کر کے جس طرح لوگوں کو جہنم کا ایندھن بنا رہے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ خاتم کا لفظ اسٹیمپ کیلئے نہیں بلکہ سیل کردینے کے لئے آیا ہے ۔ جس طرح کسی لفافے کو سیل کردیا جائے تو اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اب یہ لفافہ بند ہوچکا ہے اور اس پر سیل لگ گئی ہے اب کوئی چیز نہ تو باہر سے اندر جاسکتی ہے اور نہ اندر سے باہر آسکتی ہے۔ ختم نبوت پو پوری امت کا پختہ یقین ہے اور وہ ان لوگوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں جو مرزا غلام قادیانی یا اس جیسے کسی شخص کو نبی مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پوری امت کو اس عظیم فتنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین
Ayahs 33:41–44

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کو خوب کثرت سے یاد کرو

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اسی کی پاکیزگی بیان کرو

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائے۔ اور وہ ایمان والوں پر بہت مہربان ہے ۔

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

اور جس دن اس سے ملیں گے تو ( ایک دوسرے کو) سلام کرنا ان کی دعا ہوگی ۔ اور اس نے ان کے لئے بڑا اجر وثواب تیار رکھا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 41 تا 44 اذکروا : یاد کرو سبحوا : تسبیح کرو۔ پاکیزگی بیان کرو بکرۃ : صبح اصیل : شام یصلی : وہ رحمتیں بھیجتا ہے تحیت : دعا اجر کریم : بڑا عزت والا اجر تشریح : آیت نمبر 41 تا 44 نبی کریم ﷺ کا نکاح حضرت زینب ؓ سے ہوتے ہی کفار و مشرکین اور منا فقین نے ہر طرف زبر دست ہنگامہ کھڑا کردیا۔ انہوں نے اپنی تیز زبانوں سے ا اس طرح پر پیگنڈہ کیا تا کہ اہل ایمان کے دلوں میں شک و شبہ پیدا ہوجائے ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ایمان والو ! کفار و مشرکین جس طرح اسلام اور نبی کریم ﷺ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کررہے ہیں تم پنے عمل سے اس کا جواب اس طرح پیش کرو کہ رسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا احسان اور کرم مان کر ان کا بےانتہا ادب و احترام کرو اور خوب کثرت سے اللہ کا ذکر کر کے اپنی زبانوں کو اللہ کی یاد سے ترو تازہ رکھو تا کہ اللہ کی رحمتیں بھی نازل ہوں اور فرشتے بھی تمہارے لئے دعائیں کرتے رہیں ۔ اس طرح تم نہ صرف دنیا میں کامیاب و بامراد ہو جائو گے بلکہ تمہاری زندگی کے اندھیرے دور ہو کر عشق و محبت کے چراغ روشن ہوتے چلے جائے گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور کرم کرنے والا ہے ۔ اللہ کے ذکر کی کثرت سے یہ تو دنیا میں فائدہ ہوگا اور آخرت میں ان کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جہاں ہر طرف سلامتی اور محبت کی صدائیں سنائی دیں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر سلامتی بھیجیں گے۔ فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے ان کو سلام کریں گے اور مومن جب بھی آپس میں ملیں گے تو وہ ایک دوسرے کو سلام کرتے اور سلامتی بھیجتے رہیں گے اور ان کو جنت میں عزت و احترام کا مقام تیار ملے گا۔ قرآن کریم اور احادیث میں کثرت سے ذکر اللہ کرنے کی بڑی فضیلتیں آئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم پڑھنے ، کلمہ طیبہ کا ورد کرنے اور اس کی حمد ثنا سے زبانوں کو تروتازہ رکھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ چونکہ آپ ہر وقت اللہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے اس لئے ” ذکر اللہ “ کے لئے کوئی خاص شرط نہیں ہے۔ آدمی پاک ہو یا نہ ہو ، صحت مند ہو یا بیمار دن ہو یا رات لیٹے، بیٹھے ، چلتے پھرتے ، صبح و شام اللہ کا ذکر کرتا رہے اور اس کی پاکیزگی بیان کرتا رہے ۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں گی اور فرشتے بھی دعا کریں گے جس کی برکت سے علم و ہدایت کا نور نصب ہوجائے گا اور آخرت میں تو ساری رحمتیں اللہ کے نیک بندوں کے لئے مخصوص کردی جائیں گی۔ ایک دفعہ ایک صحابی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اسلام کے اعمال ، فرائض اور واجبات تو بہت ہیں مجھے آپ کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس کو میں آسانی سے اختیار کرسکوں ۔ آپ نے فرمایا کہ تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے ترو تازہ رہنی چاہیے۔ (مسند احمد۔ ابن کثیر)
Ayahs 33:45–48

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! بیشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا ، خوش خبر سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور اس کے حکم سے اللہ کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ (بنا کر بھیجا ہے)

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ مومنوں کو خوش خبری سنا دیجئے کہ بیشک اللہ کا ان پر بڑا فضل وکرم ہے

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور آپ کافروں اور منافقوں سے نہ دبیں اور نہ ان کی ایذار سانی کا خیال کریں۔ اللہ پر بھروسہ کیجئے اور کام بنانے کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 48 شاھد : گواہی دینے والا مبشر : خوشخبری دینے والا نذیر : ڈرانے والا۔ آگاہ کرنے والا داعی : بلانے والا ۔ پکارنے والا سراج : سورج۔ چراغ منیر : روشن کرنے والا لا تطع : پیچھے نہ چل۔ نہ کسی سے دبو دع : چھوڑ دے اذی : تکلیفیں تشریح : آیات نمبر 45 تا 48 امہات المومنین ؓ اور ان کے بعد تمام اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ پوری طرح اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری کرتے رہیں۔ کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے رہیں اور دشمنان اسلام کے غلط اور بےبنیاد پرو پیگنڈے سے کسی شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔ اب ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو کفار و مشرکین کی طرف سے دی گئی ذہنی اور فکری اذیتوں کے جواب میں تسلی دیتے ہوئے خطاب کیا گیا ہے کہ آپ ان باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ ہر وہ شخص جو اپنے مقصد اور مشن کو پھیلانے میں پر خلوص ہوتا ہے اس کو اسی طرح کی تکلیفوں اور اذیتوں سے گذرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گویا یہ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اے ہمارے حبیب اللہ نے آپ کو انتہائی بلند مقام، رتبہ اور اعلیٰ صفات کا پیکر بنایا ہے۔ یہ کفار، مشرکین اور منافقین کتنی ہی سازشیں کر ڈالیں آپ کو انتہائی بلند مقام ، رتبہ اور اعلیٰ صفات کا پیکر بنایا ہے۔ یہ کفار مشرکین اور منافقین کتنی ہی سازشیں کر ڈالیں آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا آخری رسول بنا کر بھیجا ہے ۔ آپ کی شان یہ ہے کہ جب سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتیں سخت پریشانی میں ہوں گی تو قیامت کے دن آپ سب پر گواہی دینے والے ہوں گے ۔ ہر نیک عمل کرنے والے کو خوش خبری دینے والے اور بدکاروں کو ان کے برے انجام سے ڈرانے والے، اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے اور سورج کی طرح چمک کر روشنی بکھیر نے والوں میں سے ہیں۔ نہ تو آپ کفار و مشرکین سے دبیں نہ ان کی ایذارسانیوں پر رنجیدہ ہوں ۔ آپ اللہ پر بھروسہ کیجئے کیونکہ وہی ایک ذات ہے جو ہر ایک کی مشکل کو حل کرنے والی اور ہر ایک کا کام بنانے والی ذات ہے ۔ اللہ وہ جو کسی کے سہاروں کا محتاج نہیں ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اہل ایمان کو اس بات کی خوش خبری سنا دیجئے کہ ان کا اللہ ان پر بہت ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ یوں تو قرآن کریم اور احادیث میں آپ کے بہت سے صفائی نام آئے ہیں بعض علماء نے تو ان کی تعداد ایک ہزار تک بتائی ہے لیکن ان آیات میں آپ کی چند صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے جس کی تفصیل یہ ہے۔ شاہد : گواہی دینے والا۔ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہی کرتے ہیں اور اپنے عمل سے اس کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ چونکہ آپ کو ہر روز امت کے احوال کا علم دیا جاتا ہے اس لئے آپ اپنی امت کے حالات بھی کے بھی گواہی دینے والے ہیں۔ احادیث میں آتا ہے کہ آپ قیامت کے دن سارے پغمبروں اور ان کی امتوں کی گواہی دینے والے ہوں گے تمام پغمبروں نے اللہ کا پیغام اپنی امتوں تک ٹھیک ٹھیک پہنچادیا تھا۔ (بخاری و ترمذی) ۔ آپ اپنی امت کے لئے اس بات پر گواہی دیں گے کہ کون سیدھے راستے پر تھا اور کون کھلی ہوئی گمراہی میں بھٹکتا رہا تھا۔ غرضیکہ اللہ کی طرف سے دی گئی تمام معلومات کی بنیاد پر گواہی دینے والے ہوں گے۔ مبشرا : خوش خبری دینے والا۔ وہ لوگ جو دنیا میں ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کریں گے ان کو جنت کی ابدی راحتوں اور بہترین انجام کی خوش خبری دینے والے ہیں اور آپ ﷺ ان کو اس بات کی خوش خبری دینے والے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے نیک اعمال کے سبب اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائیں گے۔ نذیرا : ڈرانے والا۔ یعنی آپ ﷺ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ کفار ، مشرکین ، منافقین اور بدکاروں کو ان کی نا فرمانیوں پر جو بد ترین سزائیں دی جائیں گی ان کے برے انجام سے ڈرانے والے بھی ہیں۔ اور جو لوگ اس دنیا میں اپنے برے انجام سے بیخبر آنکھیں بند کئے ہوئے چل رہے ہیں آپ ان کو اس بات سے آگاہ کرنے والے ہیں کہ اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو ان کو جہنم کا ایندھن بننے سے کوئی روک نہ سکے گا۔ داعی الی اللہ : اللہ کی اجازت سے اللہ کی طرف بلانے والا۔ یعنی آپ ﷺ لوگوں کو اللہ کے دین اور آخرت کی طرف بلانے اور بہترین انجام کی خوش خبری دینے والے ہیں ۔ اس کا مفہوم یہ بھی ہے کہ آپ اگر لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے ہیں تو وہ اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اللہ کی طرف بلا رہے ہیں ۔ سراجا منیرا : روشن چراغ ، چمکتا سورج، یعنی آپ کی ذات اس روشن چراغ یا چمکتے سورج کی طرح ہے جو زندگی کے اندھیرو میں بھٹکنے والوں کو روشنی کی طرف بلاتے اور راہ ہدایت دکھاتے ہیں۔ ان تمام صفات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو لا تعداد صفات کا مالک بنایا ہے جو اپنے مقصد اور مشن میں انتہائی مخلص ہیں لہذا ان کی اتباع اور پیروی کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا ہے کہ آپ اہل ایمان کو خوش خبری سنا دیجئے کہ ان کا مالک اللہ ہے اور وہ انتہائی مہربان اور رحم وکرم کرنے والا ہے ۔ دوسرے یہ کہ کفار مشرکین سے دب کر بات نہ کریں ان کی اذیتوں اور تکلیفوں پر پریشان ہوں بلکہ آپ اپنے اللہ پر بھروسہ کیجئے جو سب کے کام بنانے والا ہے اور ہر ایک کی مشکل کو دور کرنے والا ہے ۔ تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جب آپ اللہ پر بھروسہ کر کے آگے قدم بڑھائیں گے تو وہ وقت بہت دور نہیں ہے جب یہی کفار و مشرکین آپ کے قدموں میں جھکنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
Ayahs 33:49–50

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے ایمان والوں ! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور انہیں ہاتھ لگانے (صحبت کرنے) سے پہلے ہی طلاق دے دو تو تمہارے طرف سے ان پر کوئی عدت نہیں ہے جس کے پورا کرنے کا تم (ان سے) مطالبہ کرسکو ۔ انہیں کچھ دے دلا کر نہایت اچھے طریقے سے رخصت کردو۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کے لئے ان بیویوں کو حلال کردیا ہے جن کا مہر آپ نیا ادا کردیا ہے ۔ اور آپ کی وہ کنیزیں جو آپ کو مال غنیمت میں دی گئی ہیں (وہ بھی حلال ہیں) اور آپ کی چچا زاد، پھوپھی زاد ، ماموں زاد، خالہ زاد بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے۔ اور وہ مومن عورت جس نے خود اپنے آپ کو حوالے کردیا ہو اگر آپ اس سے نکاح کرنا چاہیں (تو حلال ہے) لیکن یہ رعایت خاص آپ کے لئے ہے دوسرے مومنوں کے لئے نہیں ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ مومنوں پر ان کی بیویوں اور کنیزوں کے بارے میں ہم نے کیا اصول مقرر کئے ہیں تاکہ آپ پر تنگی نہ رہے ۔ اور اللہ مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہے ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 49 تا 50 نکحتم : تم نے نکاح کرلیا طلقتم : تم نے طلاق دے دی تمسوا : تم نے ہاتھ لگایا (صحبت کی) تعتدون : تم نے عدت کی متعوا : تم سامان دے دو سرحوا : تم چھوڑ دو اجور (اجر) : مہر افآء : مال غنیمت حاصل ہوا ۔ بغیر جنگ حاصل ہونے والا مال وھبت : سپرد کردیا۔ ہبہ کردیا تشریح آیت نمبر 49 تا 50 اسی سورت میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ کی رحمتوں اور آخرت کی زندگی پر یقین رکھتے ہوئے اللہ کا ذکر کرنے والا ہے اس کے لئے رسول اللہ ﷺ کی بےمثال زندگی اسوہ حسنہ ہے۔ آپ کی زندگی وہ مبارک و پاکیزہ زندگی ہے جس کی اتباع اور پیروی ضروری ہے ۔ اسی میں دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ جو لوگ رسول اللہ کا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستوں پر چلتے ہیں ان کو زندگی کی راہوں میں سوائے بھٹکنے کے اور کچھ نصیب نہین ہوگا۔ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ دونوں جہانوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے اعلیٰ اور برتر رتبہ و مقام صرف سرکار دو عالم خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حاصل ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ اور اللہ کے بعد رتبہ و مقام سب سے بلند ہے تو پھر آپ کی زندگی ہی اتباع و پیروی کے لائق ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ پر ان تمام کیفیات اور حالات کو طاری فرمایا جو امت کی رہبری و رہنمائی کے لئے ضروری ہیں ۔ مثال کے طور پر (1) نبی کریم ﷺ کے لئے کتابیہ عورت (یہودی یا عیسائی) سے نکاح ممنوع تھا جب کہ قرآن کریم کے ارشادات کے مطابق عام مسلمانوں کے لئے کتابیہ عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ (2) آپ کے لئے اور آپ کے خاندان کے ہر فرد کے لئے صدقہ لینا حرام تھا اور ہے جب کہ دوسرے مومنوں کے لئے حرام نہ تھا اور نہ ہے۔ (3) جب تک پانچ وقت کی نمازیں فرض نہ تھیں اس وقت تک مومن پر نماز تہجد فرض کا درجہ رکھتی تھی لیکن جب پانچوں وقت کی نمازیں فرض کردی گئیں تو تمام اہل ایمان مسلمانوں کے لئے نماز تہجد نفل اور سنت بن گئی جب کہ نبی کری ﷺ پر فرض ہی رہی۔ (4) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج (بیویاں) امت کی مائیں ہیں۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کی ازواج سے کوئی مسلمان نکاح نہیں کرسکتا یہاں تک جو کنیز (باندی) آپ کے حلال کی گئی ہے آپ کے وصال کے بعد بھی وہ بھی کسی امتی کے لئے حلال نہیں ہے یعنی جس طرح آپ کے وصال کے بعد آپ کی ازواج مطہرات کا نکاح کسی سے جائز نہیں ہے اسی طرح ان باندیوں سے نکاح کرنا بھی جائز نہیں رکھا گیا جن کو آپ نے اپنی زوجیت میں لیا تھا۔ (5) اگر کوئی مسلمان عورت نبی کریم ﷺ کے لئے آپ کو ہبہ کردے یعنی بغیر مہر کے آپ کے سے نکاح کرنا چاہے اور آپ بھی اس سے نکاح کے خواہش مند ہوں تو بغیر نکاح کے نکاح جائز ہے حالانکہ اوروں کے لئے نکاح میں مہر باندھنا شرط لازم ہے۔ یہ بھی آپ کی ایک خصوصیت ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر مہر کے نکاح کرنے کی اجازت دی تھی مگر آپ نے نکاح میں آنے والی ہر زوجہ کا مہر نقد ادا فرمایا ہے۔ (6) عام مسلمانوں کے لئے بیویوں کی تعداد کو چار تک محدود کردیا گیا ہے یعنی چار بیویوں کی موجودگی میں پانچویں کی اجازت نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اس اصول کا پابند نہیں بنایا کہ بلکہ آپ کو چار سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت کے ساتھ فرمایا کہ آپ کو بعض دینی مصلحتوں کی بنا پر تنگی محسوس نہ ہو اور اس سلسلہ میں وسعت حاصل ہوجائے۔ دشمنان اسلام نے اس آخری خصوصیت کو ایک یسا رنگ دینے کی کوشش کی ہے جس سے آپ کی شخصیت پر کیچڑ اچھالا جاسکے ۔ حالانکہ ان شادیوں کی کثرت سے دین اسلام کے بنیادی اصولوں کی عظمتوں کو چار چاند لگ گئے ہیں ۔ یہ موضوع تو بہت زیادہ وضاحت طلب ہے جس کے لئے بڑی کتابیں بھی نا کافی ہیں اس سلسلہ میں چند موٹی موٹی باتیں عرض ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان شادیوں کی کثرت میں کیا مصلحتیں پوشیدہ تھیں۔ عربوں میں دامادد بنانے کو برا سمجھا جاتا تھا اور بعض قبیلے تو اپنی بیٹیاں کو پیدا ہوتے ہی اس لئے قتل کردیا کرتے تھے کہ اگر یہ بیٹیاں زندہ رہیں گی تو داماد آئے گا۔ اور داماد کا آنا ان کے لئے تو توہین کا سبب تھا۔ اس دور میں قبیلوں کے دستور کے مطابق قبیلے کے کسی بھی فرد کا داماد پورے قبیلے کا داماد کہلاتا تھا اس لئے اس میں پورے قبیلے کی توہین سمجھی جاتی تھی مگ آپ نے عرب کے اکثر اہم قبیلوں میں شادیاں کرکے دامادیت کی کراہیت کے تصور کو عظمت سے تبدیل فرما دیا اور پیدا ہونے والی لڑکیوں کے ساتھ اس درندگی کو ہمیشہ کے لئے ختم فرمادیا۔ ان شادیوں کے ذریعہ آپ نے بہت حد تک خاندانوں اور قبیلوں کی باہمی دشمنی اور جاہلانہ رسموں کا زور توڑ کر رکھ دیا تھا تاکہ انسانی معاشرہ کی عملی اصلاح ہو سکے۔ چناچہ آپ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینت ؓ کا نکاح اپنے ایک آزاد غلام حضرت زید ؓ ابن حارثہ سے کرکے آقا اور غلام کو مٹا کر رکھ دیا اور جب حضرت زینب ؓ اور حضرت زید ؓ میں باہمی شیدید اختلافات کی وجہ سے طلاق ہوگئی تو آپ نے اللہ کے حکم سے ان کی عدت گذرنے کے بعد ان سے نکاح کرلیا۔ چونکہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت زید کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا اور اس زمانہ میں منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹوں کی طرح سمجھا جا اتا تھا اس لئے حضرت زینب ؓ ؓ سے نکاح پر کفار و مشرکین نے بہت زہریلا پر پیگنڈہ کیا اور یہ کہنا شروع کہ کہ آپ ﷺ نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے شادی کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ اب قیامت تک کے لئے اس رسم کو مٹا دیا گیا ہے کہ جس کو منہ سے بیٹا کہہ دیا جائے وہ حقیقی بیٹا بن جاتا ہے۔ اس طرح حضرت زینب ؓ سے نکاح کے ذریعہ اس رسم کو ختم فرمادیا گیا۔ حضرت صفیہ ؓ حضرت جویریہ ؓ اور حضرت ریحانہ ؓ یہودیوں کے مشہور قبیلوں کی بیٹیاں تھیں۔ جنگ میں گرفتار ہو کر آئیں۔ جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو آپ نے ان کو آزاد کر کے ان سے نکاح فرمالیا۔ اس سے سب سے پہلے بڑافائدہ یہ ہوا کہ آپ کے خلاف یہودیوں کی شازشیں اور سرگرمیاں ٹھنڈی ہونا شروع ہوگئیں۔ آپ نے حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ سے نکاح فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق سے آپ کا تعلق اور گہرا ہوگیا ۔ حضرت امہ سلمہ ؓ اور حضرت ام حبیبہ سے نکاح کیا تو حضرت خالد بن ولید ؓ اور حضرت ابوسفیان ؓ جو اسلام لانے سے پہلے بنی کرم ﷺ کے سب سے بڑے دشمن تھے ان کی مخالفین دم توڑ گئیں۔ آپ نے آزاد کردہ باندیوں کو اپنی ازواجی زندگی میں شامل کرکے اس تصور کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیا کہ باندیوں سے نکاح کرنا کوئی بری بات ہے بلکہ آپ نے آزاد خواتین کے ساتھ ساتھ باندیوں کو بھی انسانیت کے رتبہ میں برابر کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور خالہ زاد بہنوں سے یعنی بنی قریش میں سے جو ماں اور باپ کی رشتہ دار ہوں نیز انہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت بھی کی ہو تو آپ کو ان سے نکاح کی اجازت دے دی گئی چناچہ 7 ھ میں آپ کا نکاح حضرت ام حبیبہ ؓ سے ہوا ور اس طرح چچا زاد، پھوپھی زاد اور خالہ زاد بہنوں کے ساتھ تمام مسلمانوں کو نکاح کی اجازت دے دی گئی۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے علاوہ آپ کی جتنی بھی ازواج مطہرات ہیں وہ سب کی سب بیوہ تھی بلکہ ان میں سے اکثر تو وہ تھیں جن کے کئی کئی نکاح ہوچکے تھے۔ آپ نے اس سنت کے ذریعہ ہر مومن کو اس بات کی تلقین فرمادی ہے کہ وہ عورتیں جو کسی وجہ سے اپنے شوہروں سے علیحدہ ہوجائیں تو ان کو معاشرہ میں اس طرح بےسہارا نہ چھوڑا جائے بلکہ بیوہ عورتوں سے نکاح کرنے کو ایک عظیم نیکی اور سنت بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی جوانی کے دنوں میں بیوہ خاتون حضرت خدیجہ ؓ سے شادی کی اور جب اسلامی جنگوں میں بڑے پیمانے پر مسلمان شہید ہوئے تو آُنے متعدد نکاح فرمائے جس پر دوسرے اہل ایمان نے بھی عمل کیا اور اس طرح بےسہارا اور بیوہ عورتوں کو عزت کی چھت اور ان کی اولاد کو نسب حاصل ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے پچیس سا ل کی عمر میں ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ سے نکاح فرمایا۔ اس وقت عام رروایتوں کے مطابق حضرت خدیجہ ؓ کی عمر مبارک چالیس سال تھی۔ حضرت خدیجہ ؓ آپ ﷺ کے نکاح میں ستائیس سال رہیں۔ اس عرصہ میں آپ نے کسی بھی عورت سے شادی نہیں کی۔ اللہ نے حضرت خدیجہ ؓ ہی سے آپ ﷺ کو اولاد عطا فرمائی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کے وصال کے بعد آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ اور سودہ بنت زمعہ سے نکاح کیا۔ چار سال تک حضرت عائشہ اور حضرت سودہ ؓ کی علاوہ کوئی بیوی نہ تھیں۔ اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو چھپن سال کی عمر تک آپ کے گھر میں صرف دو بیویاں تھیں لیکن چھپن سال اور تیسٹھ سال کی عمر میں آپ ﷺ کے گھر متعدد بیویاں تھیں کیونکہ یہی وہ زمانہ ہے جب جنگوں سے بہت سی خواتین کے سروں سے ان کے شوہروں کا سایہ اٹھ چکا تھا۔ آپ ﷺ نے اور اصحابہ کرام ؓ نے کئی کئی شادیاں کر کے بیواؤں سے نکاح کئے۔ زیر مطالعہ آیات میں ان تمام باتوں سے پہلے ایک مسئلہ کی طرف بھی متوجہ فر مایا گیا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے نکاح کرے اور پھر (صحبت یا خلوت صحیحہ سے پہلے) اس کو طلاق دیدیے تو اس صورت میں عورت پر کوئی عدت واجب نہیں ہے اور نہ ہی مرد کو پورا مہر دینا پڑے گا۔ (خلوت صحیحہ تنہائی میاں بیوی کی ایسی ملاقات کو کہتے ہیں جس میں صحبت کرنا ممکن ہو) اگر مہر مقرر ہوچکا تھا تو مرد پر واجب ہے کہ وہ آدھا مہر اس لڑکی کو ادا کرے لیکن اگر اپنے حسن اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورا مہر ہی ادا کردے تو بہتر ہے۔ اگر نکاح کے وقت کوئی مہر مقرر نہیں ہوا تھا اور ایسی صورت میں طلاق ہوجائے تو کوئی مہر نہیں دیا جائے گا البتہ اپنی حیثیت کے مطابق مرد پر واجب ہے کہ کم از کم کپڑوں کا ایک جوڑا دے کر ہی احسن طریقے سے اس کو رخصت کردے تا کہ جس تعلق کی ابتداء محبت اور پیار سے ہوئی تھی وہ فضا زیادہ خراب نہ ہونے پائے۔