28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 28:76–78

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

بیشک قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا۔ اس نے سر کشی اختیار کی۔ ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور لوگوں کی جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ جب قارون کی قوم نے اس سے کہا کہ تو (اپنی دولت پر) اترایا مت کر۔ کیونکہ اللہ کو وہ لوگ پسند نہیں ہیں جو اترایا کرتے ہیں۔

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور تجھے جو اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی کوشش کر اور دنیا میں بھی اپنا حصہ لینا مت بھول۔ اور جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان کیا ہے تو بھی (لوگوں سے) نیکی کا معاملہ کر اور زمین میں فساد مت پھیلا۔ بیشک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

کہنے لگا کہ یہ جو کچھ مجھے دیا گیا ہے یہ میرے علم و ہنر (کا نتیجہ) ہے جو میرے پاس ہے۔ (اللہ نے فرمایا) کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اللہ نے اس سے پہلے قوموں میں سے ایسے لوگوں کو بھی ہلاک کیا ہے جو قوت اور مال جمع کرنے کے اعتبار سے اس سے کہیں بڑھے ہوئے تھے۔ اور گناہ گاروں سے ان کے گناہ پوچھ کر (معاملہ) نہیں کیا جاتا۔

لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 78 ) ۔ بغی (اس نے زیادتی کی) ۔ الکنوز (کنز) (خزانے) ۔ مفاتیح (مفتاح) (چابیاں۔ کنجیاں) ۔ تنوء (بھاری ہوئیں) ۔ العصبتہ (جماعت) ۔ لا تفرح (مت اترا ۔ مت اکڑ) ۔ لاتنس (تومت بھول ) ۔ نصیب (حصہ) ۔ احسن (بھلائی کر ۔ نیکی کر ) ۔ لا تبغ (تلاش نہ کر) ۔ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ۔ تشریح : آیت (76 تا 78 ) ۔ ” مال و دولت اور تجارت اگر اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے اصولوں اور طریقوں کے مطابق حاصل کرکے اس کو صرف کیا جائے یا جمع کیا جائے تو وہ ہر ایک کے لئے خیر و برکت اور سلامتی کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے مجبور و بےکس بندوں کی مدد پر خرچ کیا جائے تو وہ دنیا اور آخرت میں کامیابی اور نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اسی لئے۔ قرآن کریم میں مال کو خیر اور تجارت کو اللہ کا فضل قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بر خلاف اگر مال و دولت، ظلم و زیادتی اور ناجائز طریقوں سے کمائی جائے اور اس کو اپنی محنت، علم اور قابلیت کا نتیجہ سمجھ کر فخر و غرور اور تکبر کا اندازا ختیار کیا جائے اور اس دھن دولت پر سانپ بن کر بیٹھا جائے نہ اللہ کا حق ادا کرے اور نہ بندوں کا تو یہی دھن، دولت اس کی دنیا اجاڑنے اور آخرت کی بربادی کا سبب بن جایا کرتی ہے۔ قرآن کریم میں ایسے مال و دولت کو ” کنز “ (خزانہ) فرمایا گیا ہے۔ آپ نے سورة القصص کی گذشتہ آیات میں پڑھا ہے کہ جب کفار مکہ کے سامنے نبی کریم ﷺ دین اسلام کی دعوت پیش کر کے ان کو دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے پکارتے تو وہ یہ عذر پیش کرتے تھے کہ اگر ہم نے دین اسلام کو قبول کرلیا تو اس سے ہمارے گھر بار، کاروبار، دھن، دولت سب کے سب اچک لئے جائیں گے اور ہمارا اس زمین پر رہنا مشکل ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قارون کا واقعہ سنا کر عبرت دلائی ہے کہ قارون کے پاس دولت کے انبار تھے۔ اس کی ظاہری چمک دمک دیکھ کر دنیا داروں کے منہ میں پانی آجاتا تھا اور وہ اس کی تمنا کرتے ہوئے کہتے تھے کہ کاش یہی مال و دولت ہمیں بھی مل جاتاتو ہم بھی قارون کی طرح عیش و آرام کی زندگی گذارتے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس کے کفر و شرک، نافرمانیوں اور غرور وتکبر کی وجہ سے قارون، اس کے ساتھیوں اور اس کے تمام خزانوں کو زمین میں دھنسا دیا تب لوگوں کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے کہنا شروع کیا کہ اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ہم بھی قارون کے ساتھ زمین میں دھنسا دیئے جاتے۔ مفسرین نے قرآن کریم اور مختلف روایات کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے کہ قارون بنی اسرائیل ہی کا ایک فرد تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور توریت کا حافظ تھا۔ چونکہ وہ نبی اسرائیل کا باغی تھا تو فرعون کے دربار میں اس کو عزت کا ایک خاص مقام حاصل تھا۔ فرعون نے بنی اسرائیل کی نگرانی ان کے اندرونی حالات کی جاسوسی، ہر طرح کے ظلم و ستم اور دیکھ بھال پر اسے اپنا نمائندہ مقرر کر رکھا تھا اس لئے اس نے نہایت چالاکی سے ہر طرف سے دولت سمیٹنا شروع کردی اور وہ غیر معمولی دولت کا مالک بن گیا جس کے خزانوں کی چابیاں ہی اتنی زیادہ تھیں کہ ایک مضبوط جماعت بھی انہیں مشکل سے اٹھاسکتی تھی۔ فرعون کی تباہی کے بعد قارون بنی اسرائیل کے ساتھ لگا رہا ۔ چناچہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ستر منتخب آدمیوں کو لے کر کوہ طور تشریف لے گئے تو قارون بھی ان لوگوں میں شامل تھا۔ قارون کو اس کی دولت کی کثرت، فرعوں کے قرب اور خوشامدیوں کی بھیڑ نے ضرورت سے زیادہ غرور وتکبر کا پتلہ بنا دیا تھا اور وہ اپنے سوا سب کو حقیرو ذلیل سمجھتا تھا۔ چناچہ جب قوم کے کچھ سمجھ دار لوگوں نے اس سے یہ کہا کہ تو اس مال و دولت پر مت اترا کیونکہ اللہ کو ایسے لوگ سخت ناپسند ہیں۔ اللہ نے تجھے جو کچھ دیا ہے اس سے آخرت میں گھر بنانے کی فکر کر۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ تو دنیا کی راحتوں کو چھوڑ دے۔ ان سے فائدہ حاصل کر اور جس طرح اللہ نے تیرے اوپر فضل کیا ہے تو بھی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کر۔ اور اپنی دولت کے بل بوتے پر دنیا میں فساد مت پھیلا کیونکہ اللہ کو فساد کرنے والے ناپسند ہیں۔ قارون نے ان نصیحتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے جو کچھ ملا ہے وہ میری محنت، قابلیت اور علم کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر اس کے پاس علم تھا تو اس کے علم نے اسے یہ کیوں نہیں بتایا کہ اس سے پہلے بہت سی قوموں کو اللہ نے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے تباہ و برباد کردیا تھا جو اس سے بھی زیادہ طاقت وقوت اور لوگوں کی بھیڑرکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب لوگ گناہ پر گناہ کرتے چلے جائیں اور توبہ نہ کریں تو وہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں یا نہ کریں اللہ جب ان کو پکڑتا ہے تو ان سے پوچھ کر نہیں پکڑتا بلکہ وہ اپنے فیصلے کو اچانک نافذ کردیتا ہے۔ قارون کے واقعہ کی بقنہ تفصیل اس کے بعد کی آیات میں ارشاد فرمائی گئی ہے۔
Ayahs 28:79–82

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر وہ (ایک دن) اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ وہ لوگ جو دنیاوی زندگی کے خواہش مند تھے کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہ سازو سامان ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ بلا شہ وہ تو بہت خوش نصیب ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہیں (صحیح اور سچا ) علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا افسوس ہے تم پر اللہ تعالیٰ کا وہ ثواب زیادہ بہتر ہے (جو اس کی بارگاہ سے) ان کو ملتا ہے جو ایمان لائے۔ اور انہوں نے عمل صالح کئے۔ اور (یہ مقام) صرف ان لوگوں کو ملتا ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہیں۔

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پھر ہم نے قارون کو اور اس کے مکان کو زمین میں دھنسا دیا ۔ کوئی ایسی جماعت نہ تھی جو اس کو اللہ (کے عذاب سے) بچا لیتی ۔ اور نہ وہ خود ہی اپنے آپ کو بچانے والا بن سکا۔

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور گذشتہ کل جو لوگ اس جیسا بننے کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے ہائے افسوس ! اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو بڑھا دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے گھٹا دیتا ہے۔ اگر اللہ کا ہم پر احسان نہ ہوتا تو ہم بھی (اسی طرح قارون کے ساتھ) دھنسا دیئے جاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ کافروں کو فلاح نہیں ملتی۔

لغات القرآن آیت نمبر (79 تا 82 ) ۔ خرج (وہ نکلا) ۔ زینتہ (زیب وزینت۔ خوبصورتی) ۔ یلیت (اے کاس ایسا ہوتا) ۔ ذوحظ (نصیب والا۔ جوش نصیب) ۔ ویلکم (تمہاری خرابی۔ تم پر افسوس ہے) ۔ لا یلقی (وہ نہیں ملتا۔ نصیب نہیں ہوتا) ۔ خسفنا (ہم نے دھنسادیا) ۔ فئتہ (جماعت۔ گروہ ) ۔ تمنوا (تمنا کی تھی) ۔ ویکان (ہائے شامت۔ ہائے افسوس) ۔ من (اس نے احسان کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (79 تا 82 ) ۔ ” اگر ایمان اور عمل صالح نہ ہو تو مال و دولت کا نشہ آدمی لو دیوانوں جیسی حرکتیں کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ قارون جو نہایت چالاک، عیار اور دولت پرست آدمی تھا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ہر ممکن سازشیں کرتا رہتا تھا تاکہ ان کو نیچا دکھائے۔ اس نے نہایت نازیباحرکتیں کرنا شروع کردیں۔ اس نے کسی فاحشہ عورت کو کچھ دے دلا کر اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر بھرے مجمع میں زنا کا الزام لگا دے۔ چناچہ جب اس عورت نے سب کے سامنے اتنا الزام لگایا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو قسم دے کر پوچھا کہ وہ بتائے کیا ان سے یہ گناہ ہوا ہے۔ اس عورت کو اللہ نے ہدایت دی اس نے بتا دیا کہ قارون نے اس کو یہ الزام لگانے پر مجبور کیا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی وقت اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا دیئے۔ اللہ تعالیٰ نے قارون کو سزا دینے کا فیصلہ فرمالیا۔ ایک دن وہ اپنے مال و دولت کا رعب جمانے کے لئے اپنے مال و دولت اور اپنے لا تعداد خادموں کو لے کر بڑہ شان و شوکت سے اتارتا اکڑتا نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ان ہی میں سے دنیا پسندوں نے بڑی حسرت اور رشک کی نگاہوں سے قارون اور اس کے خزانوں کو دیکھ کر اس تمنا کا اظہار کیا۔ کاش ان کے پاس بھی اسی طرح دولت کے ڈھیر ہوتے۔ واقعی قارون بہت ہی جوش نصیب آدمی ہے۔ اس کے بر خلاف اللہ نے جن لوگوں کو علم و بصیرت اور دین کی سمجھ عطا فرمائی تھی جو وقتی چمک دمک کو دیکھ کر بےقابو نہیں ہوجاتے انہوں نے قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم پر بڑا افسوس ہے کہ تم اس سامان زندگی کو بھلا بیٹھے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے تیار کر رکھا ہے جو ان بےحقیقت چیزوں سے کہیں بہتر ہے اور یہ ان کو نصیب ہوتا ہے جو صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بد دعا کو قبول کر کے قارون کو تباہ و برباد کرنے کا فیصلہ فرمالیا تھا۔ چناچہ اللہ نے قارون، اس کے خادموں، ساتھیوں اور اس کے زبردست خزانوں سمیت ان کو زمین میں دھنسادیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کو نچانے کے لئے کوئی جماعت اس کی مدد کے لئے آئی اور نہ وہ خود اپنے آپ کو اور اپنی دولت کو بچا سکا اور اس طرح اس کا مال و دولت بھی اس کے کام نہ آسکا۔ جب دنیا پسندوں نے قارون کا یہ حشر اور انجام دیکھا تو لینے لگے کہ کھا رزق یا نپا تلا رزق یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو جتنا دینا چاہے دیتا ہے اگر اس اللہ کا ہم پر کرم اور احسان نہ ہوتا تو ہم بھی قارون کے ساتھ اسی طرح زمین میں دھنسا دیئے جاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ جو کفر کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں ان کو کبھی فلاح و کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔
Ayahs 28:83–88

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کو دیتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں کرتے اور فساد نہیں کرتے۔ اور بہتر انجام ان ہی لوگوں کا ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر حاضر ہوگا اس کے لئے اس سے بہتر (بدلہ) ہوگا اور جو برائی لے کر حاضر ہوگا اس کو وہی سزا ملے گی جو وہ کیا کرتا تھا۔

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

بیشک جس اللہ نے آپ پر قرآن (کی تبلیغ اور عمل) کو فرض کیا ہے وہ آپ کو ضرور لوٹنے کی جگہ (مکہ مکرمہ) پھیر لائے گا۔ آپ فرما دیجئے کہ میرا رب اچھی طرح جانتا ہے کہ کون ہدایت لے کر آیا ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ آپ کو اس کی توقع نہ تھی کہ آپ کی طرف یہ کتاب (قرآن مجید) نازل کی جائے گی۔ بلکہ محض آپ کے رب کی رحمت سے (یہ کتاب نازل کی گئی) تو آپ ہر گز ان نافرمانوں کے مددگار نہ بنیں۔

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ کافر آپ کو ان احکامات سے روک دیں جو آپ کی طرف نازل کئے گئے ہیں۔ (اے نبی ﷺ آپ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیے۔ اور آپ مشرکین میں سے نہ ہوں۔

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور آپ اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ پکاریئے (کیونکہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے سوائے اس کی ذات کے ہر چیز ختم ہوجائے گی۔ اسی کی حکمرانی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔

لغات القرآن آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔ علو (بڑائی ۔ برتری) ۔ العاقبتہ (انجام۔ نتیجہ) ۔ فرض (فرض کردیا۔ لازم کردیا) ۔ راد (وہ لوٹ گیا) ۔ معاد (لوٹنے کی جگہ ) ۔ لا یصدن (وہ ہرگز نہ روکیں گے) ۔ ھالک (ہلاک ہونے والا) ۔ وجہ (چہرہ۔ ذات) ۔ تشریح : آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔ ” سورة القصص میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو عبرت و نصیحت کے لئے تفصیل سے بیان کرنے کے بعد بنی اسرائیل ہیہ کے ایک فرد قارون کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو اپنی دولت کی کثرت، خوشامدیوں کی بھیڑ اور فخر و غرور کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگانے سے باز نہیں آیا تو اللہ نے اس کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ اس کی دولت اور اس کے آگے پیچھے دوڑنے بھاگنے والے لوگ بھی اس کی مدد کر کے اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے۔ مکہ کے وہ کافر جو یہ کہتے تھے کہ اگر ہم نے اپنے باپ دادا کے مذہب کو چھوڑ کر دین اسلام قبول کرلیا تو عرب کے لوگ ہمارا جینا دوبھر کردیں گے اور ہمیں اپنے بال بچوں، گھر بار اور مال و دولت سے محروم کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قارون کا واقعہ سنا کر بتا دیا کہ قارون کے پاس بےپناہ اور بےحساب دولت تھی جس کے خزانوں کی چابیاں ہی طاقت ور جماعتیں اٹھانے سے قاصر تھیں جب اس پر اللہ کا عذاب آیا اور زمین میں دھنسا دیا گیا تو اس کی دولت اور اس کے لوگ اس کے کام نہ آسکے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا کا دھن و دولت ‘ چمک دمک ‘ زیب وزینت اور رونقیں سب عارضی اور وقتی چیزیں ہیں جو موت کے ساتھ ہی اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔ اس کے برخلاف آخرت کا گھر یعنی جنت ‘ اس کا سکون ‘ راحت و رآام ہمیشہ کے لئے ہے۔ لیکن اس آخرت کے گھر کے مستحق وہی لوگ ہوتے ہیں جو زمین پر اپنی برائی قائم کرنے کے خواہش مند نہیں ہوتے بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں۔ غرور وتکبر سے بچتے ہیں اور زمین پر فساد نہیں مچاتے۔ اللہ سے ڈرنے والوں کا انجام ہی بہترین انجام ہوتا ہے۔ اللہ کا قانون اور دوستور یہ ہے کہ جو آدمی نیکی اور بھلائی لے کر آخرت میں پہنچے گا وہ اس کی نیکی کا اجر اور بدلہ اس سے بہتر عطا فرمائے گا جو اس نے کی ہوگی۔ لیکن جو لوگ گناہوں کے ڈھیر لے کر پہنچیں گے تو ان کو ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسا انہوں نے کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! جس ذات نے آپ کو قرآن کریم جیسی عظیم کتاب دی ہے تاکہ آپ اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچا کر ان کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کردیں تو وہی اللہ آپ کو اس مقام تک پہنچائے گا جہاں ان کا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس سے مراد جنت اور اس کی راحتیں بھی ہیں اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ مکہ مکرمہ کی وہ سرزمین جس میں اہل ایمان پر مکہ کی زمین کو تنگ کردیا گیا تھا اس میں نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو عزت و عظمت کے ساتھ کامیاب وبامراد کرکے واپس لایا جائے گا۔ بہر حال بتایا یہ جارہا ہے کہ دنیا ہو یا آخرت کی ابدی راحتیں وہ سب کی سب اہل ایمان کو عطا کی جائیں گی۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کون ہدایت اور سیدھے راستے پر ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔ سورۃ القصص کی آیات کو اس مضمون پر مکمل فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس بات کی امید تک نہ تھی کہ قرآن کریم جیسی عظیم کتاب آپ پر نازل کی جائے گی یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل وکرم ہے جس نے آپ کو قرآن کریم جیسی شان دار اور با عظمت کتاب عطا فرمادی ہے۔ اب آپ کی اور آپ کی امت کی یہ ذمہ داری ہے کہ (1) آپ کسی طرح کفار کے مدد گار نہ بنیں۔ (2) جب قرآن کریم نازل کردیا گیا ہے تو آپ اسکی پابندی کیجئے اور لوگوں کو اس قرآن مجید کی طرف بلایئے۔ (3) کفار و مشرکین (کی زیادتیوں) کا خیال چھوڑ دیجئے۔ (4) اللہ کی ہستی کے ساتھ کسی اور کو نہ پکاریئے کیونکہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور سوائے اللہ کی ذات کے کسی چیز کو بقا نہیں ہے۔ (5) سارے فیصلوں کا اختیار اسی کا ہے۔ (6) اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ الحمد للہ سورة القصص کی آیات کا ترجمہ و تفسیر و تشریح تکمیل تک پہنچی واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین