28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 28:36–42

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کھلی نشانیوں کے ساتھ ( فرعون کے پاس) آئے تو کہنے لگا کہ یہ تو ایک گھڑا ہوا جادو ہے۔ اور ہم نے ایسی بات اپنے گذرے ہوئے باپ دادا سے بھی نہیں سنی۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب خوب جانتا ہے کون اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور کس کے لئے آخرت کا بہتر انجام ہے۔ بیشک ظالم فلاح و کامیابی حاصل نہیں کرتے۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا کہ میں تمہارے لئے اپنے سوا کسی کو (تمہارا) معبود نہیں جانتا۔ اے ہامان ! تو میرے لئے مٹی ( کی اینٹوں پر) آگ جلا۔ پھر ان (پکی اینٹوں) سے میرے لئے ایک بلند محل تعمیر کر تاکہ میں وہاں سے موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں۔ اور میں تو اس کو جھوٹے لوگوں میں سے سمجھتا ہوں۔

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اس نے (فرعون نے ) اور اس کے لشکر نے زمین پر ناحق تکبر اختیار کر رکھا تھا۔ اور وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے۔

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑا اور انہیں دریا میں غرق کردیا۔ دیکھو ظالموں کا انجام کیسا (برا) ہوا۔

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

ہم نے ان کو پیشوا (رہنما) بنایا تھا مگر وہ لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے رہے۔ اور قیامت کے دن وہ مدد نہ کئے جائیں گے۔

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

ہم نے اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت مسلط کردی اور وہ قیامت کے دن بدترین حال میں ہوں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 42 : مفتری (گھڑا گیا۔ بنایا گیا) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ عاقبۃ الدار (آخرت کا گھر) اوقد ( بھڑکادے۔ جلادے) الطین (مٹی۔ گارا) ‘ صرح ( بلند محل۔ اونچی بلڈنگ) ‘ اطلع (میں جھانکتا ہوں) نبذنا ( ہم نے پھینک دیا) ‘ المقبوحین ( بد حال لوگ) ۔ تشریح : آیت نمبر 36 تا 42 : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلی نشانیوں یعنی معجزات کے ساتھ فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو معجزات کو دیکھ کر فرعون کہنے لگا کہ یہ معجزات نہیں ہیں بلکہ خود سے گھڑا ہواوہ جادو ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کے دل جیتنا چاہتا ہے۔ حالانکہ ایسی باتیں ہم نے پہلے تو کبھی بھی نہ دیکھیں نہ سنیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے جتنی نشانیاں پیش کی ہیں ان پر میرا پروردگار گواہ ہے۔ وہ رب خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے۔ البتہ ایک بات مجھے معلوم ہے کہ اے فرعون تو جس تکبر اور غرور کے راستے پر چل رہا ہے وہ ظلم ہے اور اللہ کا دستور یہ ہے کہ ظالم کو کبھی فلاح اور کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔ تکبر اور غرور سے فرعون کہنے لگا کہ اے درباریو ! مجھے تو زمین پر اپنے سوا کوئی دوسرا معبود معلوم نہیں ہے۔ مذاق اڑاتے ہوء کہنے لگا شاید آسمان پر ہو تو اے ہامان پکی اینٹوں کی ایک ایسی مضبوط اور اونچی بلڈنگ بنادے جس پر چڑھ کر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے معبود کو دیکھ سکوں۔ میرا خیال یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ جھوٹ ہے اور یہ جھوٹے لوگوں میں سے ہیں۔ فرعون اور اس کے لشکریوں کا غرور و کتبر بڑھتا چلا گیا اور وہ اس تصرو سے بےنیاز ہو کر چلتے رہے کہ ان کو آخر کار ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ فرمایا جب فرعون اور اس کے ماننے والوں کا ظلم و ستم اور نافرمانی حد سے بڑھ گئی تب ہم نے فرعون اور اس کے لشکریوں کو سمندر میں غرق کردیا اور قیامت تک آنے والی نسلوں کو بتادیا کہ ظالموں کا انجام کس قدر بھیانک ہوا کرتا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے ان ظالموں کو پیشوائی اور عظمت کا مقام عطا کیا تھا مگر انہوں نے لوگوں کو عدل و انصاف کے بجائے کفر اور ظلم کی طرف بلایا جس نے ان کو جہنم کے کنارے تک پہنچادیا جس سے ان کے چہرے بگڑ کر رہ گئے۔ چہر سیاہ اور آنکھیں نیلی پڑگئیں اور ایسے قابل لعنت بن گئے کہ اس دنیا میں اور آخرت میں وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوگئے اور ہر ایک کے نزدیک لعنت و ملامت کا نشان بن کر رہ گئے۔
Ayahs 28:43–50

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

بیشک ہم نے پہلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (توریت) عطا کی جس میں بصیرت ‘ ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ( کوہ طور کے) مغربی جانب موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دیئے تھے اور آپ اس واقعہ کے دیکھنے والوں میں سے بھی نہ تھے۔

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم نے بہت سی امتیں پیدا کیں۔ پھر ان پر ایک لمبی مدت گذر گئی۔ اور آپ مدین والوں میں سے بھی نہ تھے کہ ان پر ہمارے احکام پڑھ کر سناتے۔ بلکہ ہم رسول بنا کر بھیجتے رہے۔

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور جب ہم نے کوہ طور کے کنارے پر (موسیٰ (علیہ السلام) کو) آواز دی۔ اس وقت بھی آپ موجود نہ تھے بلکہ یہ سب کچھ آپ کے پروردگار کی رحمت سے تھا۔ تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اگر ہم رسول نہ بھیجتے اور کبھی ان کے ہاتھوں کی کمائی (کرتوتوں کے) سبب ان پر عذاب نازل ہوجاتا تو وہ کہنے لگتے کہ اے ہمارے رب ! آپ نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیج دیا کہ ہم آپ کی آیتوں کی پیروی کرتے۔ اور ہم ایمان لانے والوں میں سے ہوجاتے ۔

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق پہنچ گیا تو کہنے لگے کہ جیسی موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی گئی تھی ویسی ہی کتاب اس پیغمبر کو کیوں نہیں دی گئی۔ کیا (یہ حقیقت نہیں ہے کہ ) اس سے پہلے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی گئی تھی تو انہوں نے اس کا انکار کردیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دو جادو ہیں جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہر ایک کا انکار کرنے والے ہیں

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کی طرف سے (قرآن و توریت کے علاوہ) دوسری کوئی کتاب آئو جو ہدات کرنے میں ان دونوں سے بہتر ہو تاکہ میں اس کتاب کی پیروی کرسکوں اگر تم سچے ہو۔

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ آپ کو جواب نہ دیں تو بلاشبہ آپ جان لیجئے کہ یہ لوگ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور ایسے شخص سے زیادہ گمراہ اور کون ہوگا جو بغیر اللہ کی ہدایت کے صرف اپنی نفسانی خواہشات پر چلتاہو۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 43 تا 50 : القرون الاولی (گذری ہوئی جماعتیں۔ زمانہ) بصائر (آنکھیں کھولنے والی باتیں) ‘ الشھدین ( دیکھنے والے) انشا نا ( ہم نے اٹھایا۔ ہم نے پیدا کیا) تطاول (طویل ہوگئی) العمر (مدت) ثاوی (رہنے والے) قدمت ایدی (آگے بھیجا۔ دونوں ہاتھوں کے آگے) ‘ سحران ( دو جادو) ‘ تظھرا (ایک دوسرے کے موافق) ‘ اھدی (زیادہ ہدایت) ‘ لم یستجیبوا (جواب نہ دیا) ‘ اھواء (ھوائ) خواہشیں۔ تمنائیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 43 تا 50 : سورۃ القصص کی گذشتہ آیات اور قرآن کی متعدد سورتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو کسی جگہ تفصیل سے اور کہیں مختصر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم ﷺ کے حالات زندگی میں بہت زیادہ مناسبت اور مطابقت پائی جاتی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا دین پہنچانے میں شدید ترین مشکلات کے باوجود بھر پور کامیابیاں عطا کی گئیں اسی طرح نبی کریم ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کو حق و صداقت کی راہوں میں فقرو فاقہ ‘ تنگ دستی اور ظلم و زیادتی کا سامنا ہے لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب ان کو دنیا اور آخرت کی ہر طرح کی کامیابیاں نصیب ہوں گی۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو چند برسوں میں ہر طرح کی عزت و سربلندی اور خوش حالی عطا کی گئی اور آپ کے دشمنوں کو ذلت اور رسوائی سے دو چار ہونا پڑا۔ سورۃ القصص کی آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو تفصیل سے بیان کرنے کے بعد فرما یا جارہا ہے کہ قوم نوح ‘ قوم ہود ‘ قوم صالح ‘ اور قوم لوط کو ان کی نافرمانیوں کی شدید ترین سزائیں دینے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی کتاب دی گئی جو ان کی قوم کے لئے عبرت و نصیحت ‘ ہدایت اور رحمت کا ذریعہ تھی تاکہ وہ اپنے بھولے ہوئے سبق کو یادررکھ سکیں۔ اور اب اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر قرآن کریم جیسی عظیم کتاب کو نازل کیا ہے جو ساری دنیا کی ہدایت کے لئے ایک روشن کتاب ہے جس کی سچائی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ گذشتہ قوموں کے وہ واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ حالانکہ آپ وہاں موجود نہ تھے۔ آپ کے پاس ان علوم کا ذریعہ صرف اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی وحی ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ فرمایا کہ جب کوہ طور کے مغربی کنارے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت کی شکل میں احکامات دیئے جارہے تھے یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے مدین کی طرف تشریف لے گئے تھے اور وہاں ان کو بہت سے واقعات پیش آئے اور جب ان کو وادی مقدس میں اللہ نے پکارا اور ان کے سر پر تاج نبوت و رسالت رکھ کر معجزات عطا کئے۔ فرمایا کہ آپ ان میں سے کسی جگہ بھی موجود نہ تھے بلکہ صرف اللہ کی رحمت اور وحی تھی جس کے ذریعہ آپ بیان کررہے ہیں جس کی بنیاد یہ ہے کہ آپ ان کو اللہ کے خوف سے ڈرائیں جو اپنے انجام سے بیخبر ہیں ۔ فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسولوں کا یہ سلسلہ ابتدائے کائنات سے رکھا ہوا ہے تاکہ یہ لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ ہمارے پاس تو کوئی بتانے والا رسول آیا ہی نہیں۔ اگر ہمیں راہ ہدایت دکھائی جاتی تو ہم ضرور حق و صداقت کے راستیکو اختیار کرلیتے۔ فرمایا کہ اب ہماری طرف سے یہ آخری رسول اور آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لاچکے ہیں ان پر ایمان لانا نجات کی بنیاد ہے ۔ اگر اللہ کے ان آخری نبی کو نہ مانا گیا تو پھر قیامت تک انہیں راہ ہدایت نصیب نہ ہوگی۔ فرمایا کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ قرآن کریم پر ایمان لے آتے۔ اس کے برخلاف انہوں نے وہی حرکتیں اور غلط سلط باتیں شروع کردیں جو پہلے لوگوں نے کرکے اپنی آخرت تباہ کرلی تھی۔ فرمایا کہ جب ہماری طرف سے یہ سچائی پہنچ چکی ہے تو اب کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ ! آپ پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ایک دم سے کتاب نازل کیوں نہ کی گئی ؟ اللہ تعالیٰ نے سوال کیا ہے کہ اگر قرآن کریم بھی ایک ساتھ نازل کردیا جاتا تو کیا یہ اسکو مانتے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جب توریت کو نازل کیا گیا تھا تو ان لوگوں نے اس پر ایمان لانے سے انکار کردیا تھا۔ بعض کہتے کہ قرآن ہو یا توریت یہ دونوں (نعوذ باللہ) جادو (کی کتابیں) ہیں جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں ۔ کبھی کہتے کہ ہم تو کسی کو بھی ماننے والے نہیں ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے صاف صاف کہہ دیجئے کہ اللہ نے اس قرآن کو ہدایت و رہنمائی کے لئے بھیجا ہے۔ اگر تمہارے اختیار میں ہے تو کوئی دوسری کتاب لے آئو جو ان دونوں سے زیادہ بہتر ہو۔ اگر تم سچے ہو تو ایسی کتاب لے آئو میں بھی اس کی پیروی کروں گا۔ اللہ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کی باتوں کو سن کر رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ اگر یہ لوگ اس چیلنج کا جواب نہیں دیتے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ اسکا جواب دے بھی نہ سکیں گے تو آپ یہ جان لیجئے کہ یہ لوگ صرف اپنی خواہشات کے غلام ہیں جن کی یہ پیروی کررہے ہیں۔ یہ وہ بد نصیب اور گمراہ لوگ ہیں جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ بھی ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
Ayahs 28:51–55

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

ہم نے اس کلام کو ( ان لوگوں کے لئے) تھوڑا تھوڑا بھیجا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جنہیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس (قرآن) پر یقین رکھتے ہیں۔

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے۔ بیشک وہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے۔ ہم تو درحقیقت اس کے آنے سے پہلے ہی اس کو مانتے تھے۔

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں انکا دوگنااجر دیاجائے گا۔ اس لئے کہ انہوں نے صبر کیا اور برائی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں۔ اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور وہ جب کوئی بےہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں۔ تم سلامت رہو۔ ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 55 : وصلنا (ہم نے ایک دوسرے سے ملایا) یئو تون ( وہ دیئے گئے ہیں) ‘ مرتین (مرۃ) دو مرتبہ ‘ یدرءون ( وہ دور کرتے ہیں) ‘ الحسنۃ (بھلائی ۔ خیر) السیئۃ (برائی) اللغو (بیکار۔ فضول) اعرضوا (انہوں نے منہ پھیرلیا) ‘ لانبتغی (ہم نہیں چاہتے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 55 : قرآن کریم میں اس مضمون کو کئی مرتبہ بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ اپنی دنیا اور آخرت کو بنانا اور سدھارنا ہوتا ہے وہ طرح طرح کے بہانے اور اعتراضات نہیں کرتے لیکن جو بد نصیب لوگ ہیں ان کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی بھر ایمان اور عمل صالح سے بھاگنے کے لئے بےتکی اور غیر سنجیدہ باتیں کرتے ہیں۔ چناچہ کفار مکہ نبی کریم ﷺ سے ہر روز کوئی نہ کوئی سوال کرتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چند روز میں تو ریت کی تختیاں دے دی گئی تھیں آپ کو پورا قرآن کریم کسی کتابی شکل میں ایک ہی وقت میں کیوں نہ دیا گیا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم کو موقع کی مناسبت سے تھوڑا تھوڑا اس کئے نازل کیا جا رہا ہے تاکہ اچھی طرح سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی سہولت مل جائے اور اس پر پورا دھیان دیا جاسکے۔ فرمایا کہ قرآن کریم سے پہلے جن لوگوں کو اللہ کی کتابیں دی گئی تھیں ان میں بعض لوگ تو وہ ہیں جو جانتے بوجھتے حق و صداقت کا راشتہ اختیار نہیں کرتے کیونکہ اس سچائی کے راستے پر چلنے سے ان کے دنیاوی مفادات پر چوٹ پڑتی ہے لیکن ان ہی میں سے بعض وہ لوگ بھی ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ صرف اس کا اقرار کرتے ہیں بلکہ ان کی زبانوں پر یہی ہوتا ہے کہ ہماری کتابوں میں جو پیش گوئیاں کی گئے تھیں ان کی بنیادپرہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بالکل برحق کلام ہے اور ہمارے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اور ان باتوں پر ہمیں پوری طرح یقین ہے اور ہم اس کے ” مسلم “ یعنی فرماں بردار ہیں۔ فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کی نیکیوں اور صبر پر دوگنا اجر عطا کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ لوگ گذشتہ انبیاء اور ان کی باتوں پر بھی یقین رکھتے ہیں اور نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم پر بھی انہیں یقین کامل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو برائی کا جواب شرافت سے دیتے ہیں اللہ نے ان کو جو کچھ عطا کیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ جب وہ کسی لغو اور فضول بات کو سنتے ہیں تو نہ صرف اس سے منہ پھیر لیتے ہیں بلکہ فضول باتیں اور اعتراض کرنے والوں سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تم جو کچھ کرتے ہو وہ اعمال تمہارے لئے ہیں اور تم ان کے ذمہ دار ہو۔ ہم جہالت کی باتوں میں الجھنا نہیں چاہتے۔ تم پر سلامتی ہو۔ ان آیات کے پس منظر میں علماء مفسرین نے لکھا ہے کہ جب کچھ صحابہ کرام ؓ نے ملک حبش کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں کے عیسائیوں کے سامنے دین اسلام کی سچائی آگئی تو وہ اس کی پوری تحقیق کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آئے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کچھ سوالات کئے اور قرآن کریم کی اس عالم گیر تحریک کا غور سے جائزہ لیا۔ جب نبی کریم ﷺ نے ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہر گئے۔ انہوں نے اس کلام کی تصدیق کی اور انہوں نے ایمان قبول کرلیا۔ جب ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کو اس کا علم ہوا تو اس نے ان سب لوگوں کو جو ایمان لے آئے تھے بہت برا بھلا کہا اور ملامت کی اور کہنے لگا کہ تم حالات معلوم کرنے آئے تھے مگر تم نے تو بہت جلد بازی کی اور ایمان بھی قبول کرلیا۔ ایمان قبول کرنے والوں نے کہا کہ جب سچائی ہمارے سامنے آچکی ہے تو ہم ایمان لانے میں دیر کیوں کریں۔ لہذا ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں ۔ ہم جاہلانہ باتوں میں الجھنا نہیں چاہتے۔ تم پر سلامتی ہو۔ ابوجہل کو اس جواب کی بالکل توقع نہ تھی اور وہ تلملا کر رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جو اپنے ایمان پر صبر و تحمل سے جم گئے تھے اور انہوں نے کفار مکہ کے منہ پر جوتا مار دیا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دوگنا اجر وثواب ہے کیونکہ وہ حجرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی ایمان لائے تھے اور نبی مکرم ﷺ پر بھی ان کو مکمل ایمان و یقین حاصل ہوچکا تھا۔ ان کی شان یہ ہے کہ انہوں نے کفار مکہ کی شرارتوں کا جواب نہایت شرافت سے دیا ہے اور دور دراز جگہ سے آکر اللہ کی راہ میں خرچ کر کے انہوں نے اللہ کے نزدیک ایک اہم مقام حاصل کرلیا ہے۔ ان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ جب انہوں نے ابو جہل کی لغو باتوں کو سنا تو ان باتوں سے منہ پھیرلیا اور کہا کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں ۔ تم پر سلامتی ہو۔ ہم جہالتوں کی باتوں میں الجھنا نہیں چاہتے۔
Ayahs 28:56–61

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ بیشک آپ جسے (ہدایت دینا) چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت پانے والے ہیں۔

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہو کر ہدایت پر چلنے لگیں تو ہم اپنی سر زمین سے اچک لئے جائیں گے۔ (اللہ نے فرمایا) کیا ہم نے ان کو امن والے حرم میں ٹھکانا نہیں دیا۔ جس کی طرف ہماری جانب سے رزق کے طورہر طرح کے ثمرات کھنچے چلے آتے ہیں۔ لیکن اکثر لوگ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم نے کتنی ہی ایسی بستیوں کو ہلاک کردیا جو اپنی معیشت (سامان عیش و آرام) پر اترایا کرتی تھیں۔ اب یہ ان کے مکانات (ویران) پڑے ہیں جن میں ہلاک ہونے والوں کے بعد کچھ لوگوں کے سوا کسی کو بسنا نصیب ہی نہ ہوسکا۔ اور آخر کار ہم ہی اس کے وارث رہے۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کا پروردگار کسی بستی والوں کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک ان بستیوں کے مرکز میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو ان پر ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا ہے۔ اور (اسی طرح) ہم کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتے جب تک کہ وہاں کے رہنے والے شرارت (میں انتہا) نہ کردیں۔

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وہ محض دنیاوی زندگی کا سامان اور اس کی زیب وزینت ہے۔ اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

کیا پھر وہ شخص جس سے ہم نے بہترین وعدہ کر رکھا ہے اور جو اس کو مل کر رہے گا کیا اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جس کو ہم نے دنیاوی زندگی کا کچھ سامان (برتنے کے لئے) دے رکھا ہو اور وہ قیامت کے دن (ایک مجرم کی حیثیت سے) حاضر ہونے والوں میں ہوگا۔

لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 61 ) ۔ لا تھدی (تو ہدایت نہیں دیتا ) ۔ احببت (تو نے چاہا۔ تو نے پسند کیا ) ۔ نتخطف (ہم اچک لئے جائیں گے ) ۔ لم نمکن (ہم نے ٹھکانا نہیں دیا ) ۔ یجبی (کھنچے آتے ہیں ) ۔ ثمرات (ثمرۃ) (پھل، پھول، سبزہ۔ سبزی ) ۔ لدنا (ہمارے پاس ) ۔ بطرت (اترائی ۔ (ناز کیا) ۔ معیشتہ (زندگی گذارنا) ۔ لم تسکن (آباد نہ ہوئے) ۔ یبعث (وہ بھیجتا ہے۔ اٹھاتا ہے) ۔ لا قیہ (اس کو پانے والا ) ۔ متعنا (ہم نے سامان دیا ) ۔ المحضرین (حاضر کئے گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر (56 تا 61 ) ۔ ” سورة القصص کی گذشتہ آیات کی تشریح میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ملک حبش سے بیس آدمیوں کی ایک جماعت دین اسلام، نبی کریم ﷺ کی سیرت و کردار اور اس ابھرتی ہوئی تحریک کا جائزہ لینے مکہ مکرمہ آئی ان لوگوں کا تعلق نصاری اہل کتاب سے تھا۔ جب انہوں نے اس حق و صداقت کا اچھی طرح جائزہ لے لیا تو دین اسلام اور نبی کریم ﷺ کی سیرت و کردار سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ابوجہل جیسے لوگوں کے طعنوں اور اعتراضات کے باوجود ایمان کے نور سے ان کے دل روشن ومنور ہوگئے۔ اور انہوں نے اللہ کے ایک ہونے پر ایمان لا کر نبی کریم ﷺ کے دامن رسالت سے وابستگی اختیار کرلی۔ قریش کے ظلم و ستم اور ان کی پھیلائی ہوئی دہشت میں جہاں کفار مکہ اس واقعہ سے ہل کر وہ گئے وہیں اہل ایمان کو بھی ایک نیا حوصلہ مل گیا۔ تمام اہل ایمان اور نبی کریم ﷺ اس واقعہ سے بہت خوش بھی تھے لیکن اس بات سے رنجیدہ اور غم گین رہا کرتے تھے کہ باہر کے لوگ تو دین اسلام کی سچائیوں کو قبول کرنے کے لئے کھنچے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن مکہ مکرمہ کے وہ لوگ جن کے سامنے آپ ﷺ کو پوری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح تھی وہ ایمان کی روشنی اور دولت سے محروم ہیں۔ آپ کو اس بات کا بھی افسوس تھا کہ آپ ﷺ کے سگے چچا ابو طالب جو آپ ﷺ کو بےانتہا چاہتے تھے اور ہر آڑے وقت میں آپ کے لئے ڈھال بن جاتے تھے جب آپ ﷺ نے ان کی وفات کے وقت کہا کہ اے چچا آپ صرف ایک مرتبہ زبان سے ” لا الہ الا اللہ “ کہہ لیجئے۔ میں آپ کے لئے دعائے مغفرت کروں گا۔ حضرت ابو طالب شاید اس کلمہ کو پڑھنا چاہتے تھے مگر ابو جہل، عتبہ اور ولید کے غیرت دلانے سے وہ اس سے رک جاتے تھے اور اسی حالت میں حضرت ابو طالب دنیا سے رخصت ہوگئے۔ یہ اور اسی طرح کے بہت سے واقعات سے آپ بہت رنجیدہ رہتے تھے۔ دوسری طرف آپ ﷺ کی دلی تمنا، خواہش اور جدوجہد یہ تھی کہ دنیا کا ہر آدمی دین اسلام کی سچائیوں کو قبول کرلے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل کر کے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے چند بنیادی اصول ارشاد فرمائے ہیں۔ فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اللہ کے دین کو پھیلانے اور ہر شخص کے کانوں تک اس کا پیغام پہنچانے کی مسلمل جدوجہد اور کوششیں کرتے رہیں اور اس جدوجہد میں کمی نہ کریں۔ لیکن کسی کو ہدایت دینا یا نہ دینا یہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس کے مقدر میں سیدھا راستہ اختیار کرنا ہے اور کون اس نعمت سے محروم رہے گا۔ کس کو توفیق دی جائے گی اور کون کفر و شرک کی نحوست کو اپنے گلے میں ڈال کر اللہ کے سامنے ایک مجرم کی حیثیت سے حاضر ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ نے مزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ کفار مکہ کے ایمان لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ خوف، اندیشہ اور ڈر ہے کہ اگر انہوں نے ایمان کا راستہ اختیار کرلیا تو سارا عرب ان کا دشمن بن جائے گا۔ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے رہنے کے قابل نہ رہیں گے اور ان کو نکال باہر کیا جائے گا ان کو ہر وقت یہ فکر کھائے جاتی تھی کہ ایمان لانے کے بعد ان کا، ان کے بال نچوں کا ، گھر بار، جائیداد ، مکانات اور دھن دولت کا کیا ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس بدامنی اور بےسکونی کے دور میں جب کہ ہر طرف لوٹ مار، قتل و غارت گری اور بےرحمی کا بازار گرم ہے کس نے اس مقام یعنی بیت اللہ اور حرم محترم کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنا رکھا ہے۔ ہر طرح کا رزق ان کی طرف کھنچا چلا آرہا ہے۔ سیکڑوں سال سے یہ شہر دنیا بھر کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عرب کا بچہ بچہ اس جگہ کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہے اور دنیا بھر سے لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آرہے ہیں۔ ان سب چیزوں میں سوائے اللہ کے اور کس کی تدبیر اور کوشش کو دخل ہے۔ یہ سب کچھ بیت اللہ شریف اور حرم محترم کی برکتیں ہیں۔ ان آیات میں اس طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے کہ بیت اللہ اور حرم کی برکتوں سے اگر مکی کے سب لوگوں کو امن و سلامتی اور احترام کا درجہ حاصل ہے۔ اگر وہ اس کے مالک پر ایمان لے آئیں تو کیا اللہ ان کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا اور ان کی بھر پور مدد کرے گا۔ یقینا اللہ تو اپنے بندوں کی معمولی معمولی باتوں کی بھی قدر کرتا ہے۔ فرمایا کہ اس سطحی قوم کی سوچ سے انہیں آگے بڑھ کر اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اگر انہوں نے اپنی روش زندگی کو تبدیل نہ کیا اور اسی طرح وہ لوگ اللہ کی نافرمانیوں میں لگے رہے تو پھر اللہ کا وہ فیصلہ آنے میں دیر نہین لگے گی جس سے قومیں تباہ و برباد ہوجایا کرتی ہین۔ فرمایا کہ مکہ والوں نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ یہ دھن، دولت اور دنیا کے بےپناہ اسباب تو قوم عاد، قوم ثمود جیسی عظیم اور ترقی یافتہ قوموں کے پاس بھی تھے۔ لیکن جب انہوں نے اللہ کی نافرمانیوں اور کفر و شرک کی انتہا کردی تو کیا ان کی دھن، دولت، بلند وبالا بلڈنگیں، تہذیب و تمدن ان کے کام آسکا ؟ آج ان عظیم قوموں کے خوبصورت محلات خاک کا ڈھیر بن چکے ہیہں۔ ان کے آبادشہروں کے کھنڈرات اس قدر ویران اور غیر آباد ہوچکے ہیں کہ دن کی روشنی مین بھی جاتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے۔ اگر وہ اللہ کی فرماں برداری کرتے تو دنیا کے یہ سارے اسباب ان کے لئے قوت و طاقت بن جاتے اور آخرت میں نجات مل جاتی۔ اللہ کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا بلکہ لوگ جب خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارلیں تو یہ ان کا اپنا قصور ہوا کرتا ہے۔ فرمایا کی اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ کسی قوم اور ان کی بستیوں کو اس وقت تک تباہ نہیں کرتا جب تک اس قوم کو ان کے برے انجام سے ڈرانے والے رسولوں کو نہیں بھیج دیتا۔ لیکن جب وہ قوم اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کرتی ہے اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی اور ظلم و زیادتی پر جم جاتی ہے تو پھر قوم کو اور ان کی ترقیات کو جڑ اور بنیاد سے کھو کر پھینک دیا جاتا ہے۔ کفار مکہ سے کہا جارہا ہے کہ اللہ نے اپنی رحمت خاص سے اپنے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیج دیا ہے۔ ان کی فرماں برداری ہی میں ان کی نجات ہے لیکن اگر انہوں نے گذشتہ قوموں کی طرح نافرمانی کا راستہ اختیار کیا تو ان کی دنیا اور آخرت خراب ہو کر وہ جائے گی اور قیامت تک ان کو اور ان کی نسلوں کو ہدایت دینے والا کوئی نبی اور رسول نہ آئے گا۔ آخر میں فرمایا کہ اصل چیز فکر آخرت ہے کیونکہ وہم زندگی حقیقی اور مستقل زندگی ہے۔ یہ دنیا اور اس کے مال اسباب، دھن دولت اور مکان و جائیداد، بیوی بچے اور رشتہ داراسی وقت تک کام دیتے ہیں جب تک اس دنیا میں وہ سانس لیتا ہے لیکن جیسے ہی موت آتی ہے تو انسان کے ساتھ سوائے اس کے نیک اور بہتر اعمال کے اور کوئی چیز نہیں جاتی۔ ہر شخص خالی ہاتھ اور مال و اسباب کو اسی دنیا میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ فرمایا کہ ہر شخص کو اپنی آخرت کی فکر کرنا چاہیے کیونکہ وہاں کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی خیر ہے اور باقی ہر چیز کو فنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے آخر مین فرمایا کہ ایک وہ شخص ہے جس نے ہماری اطاعت کی اور وہ ہمارے انعام و کرم کا مستحق بن گیا، جس کی نجات کا اللہ نے وعدہ فرمالیا ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جسے اللہ نے دنیاوی زندگی کا کچھ سامان برتنے اور استعمال کرنے کے لئے دیا ہے اور وہ قیامت کے دن اپنی نافرمانیوں کے سبب اللہ کے سامنے ایک مجرم کی حیثیت سے حاضر ہوگا ۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہو سکتے ہیں ؟ کیا ان دونوں کا انجام ایک جیسا ہوگا ؟ ہر انسان کا ضمیر بکاراٹھے گا کہ نہیں۔ اللہ کے انعام وکرم کا مستحق تو وہی ہو سکتا ہے جو اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کر کے اپنی نجات کا سامان کر گا۔
Ayahs 28:62–67

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس دن وہ پکارے گا اور پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے شریک جنہیں تم میرا شریک سمجھتے تھے ؟

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

وہ جن پر عذاب ثابت ہوگیا ہے وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار یہ ہیں وہ جنہیں ہم نے بہکایا ہم نے انہیں اس طرح گمراہ کیا جس طرح خود گمراہ ہوئے۔ ہم آپ کے سامنے ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ ہماری بندگی تو نہ کرتے تھے۔

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ تم اپنے شریکوں کو پکارو۔ چناچہ وہ ان کو پکاریں گے۔ لیکن وہ کوئی جواب نہ دیں گے۔ وہ عذاب کو آتا دیکھیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کاش وہ لوگ صحیح راستے پر ہوتے۔

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس دن اللہ ان کو پکار کر پوچھے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

پھر اس دن ان کی سمجھ میں کچھ نہ آئے گا اور وہ آپس میں بھی سوال نہ کرسکیں گے۔

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی، ایمان لائے اور عمل صالح کئے تو امید ہے کہ وہ کامیابی حاصل کرنے والے ہوں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 62 تا 67) ۔ ینا دی (وہ آواز دیتا ہے ) ۔ این (کہاں ) ۔ شرکاء ی (میرے شریک ) ۔ تزعمون (تم گھمنڈ کرتے ہو۔ تم گمان کرتے ہو ) ۔ حق علیھم (جن پا ثابت ہوگیا ) ۔ اغوینا (ہم نے بہکایا ) ۔ تبرءنا (ہم نے بیزاری کا اظہار کیا ) ۔ عمیت علیھم ( ان پر اندھی ہوگئی۔ ان کو نہ سوجھی ) ۔ تشریح : آیت نمبر (62 تا 67 ) ۔ ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کی بےچارگی اور حسرت و افسوس کی تفصیل بیان کی ہے جو قیامت کے ہولناک دن بری طرح ذلیل و خوار ہوجائیں گے اور مجرم کی حیثیت سے اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ آج کے دن اپنے ان معبودوں کو پکارو جنہیں تم میر شریک بنا کر گھمنڈ کرتے تھے ان کو اپنا مشکل کشا مانتے تھے۔ اس دن سب سے آگے بڑھ کر وہ جھوٹے معبود بولیں گے جن پر عذاب کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہوگا کہ اے ہمارے پروردگار یہ وہی ہیں جن کو ہم نے بہکایا اور گمراہ کیا تھا کیونکہ ہم تو خود ہی گمراہ تھے۔ اگر ہم نے ان کو گمراہ کیا تو اس میں تنہا ہمارا قصور نہیں ہے کیونکہ ہم نے ان کو گمراہی پر مجبور نہیں کیا تھا۔ اس گمراہی میں ان کی اپنی مرضی بھی شامل تھی۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکین سے فرمائیں گے کہ اب تم اپنے معبودوں کو اپنی مدد اور چائو کے لئے پکارو۔ جب وہ ان کو اپنی مدد کے لئے پکاریں گے تو انہیں کوئی جواب نہ ملے گا کیونکہ وہ خود مصیبت اور مشکل میں پھنسے ہوئے ہوں گے۔ اس وقت جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تہ کہہ اٹھیں گے کہ کاش ہم دنیا میں کسی سیدھے راستے پر ہوتے تو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ ابھی وہ مشرکین اپنے معبودوں سے مایوسی پر افسوس کر رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھیں گے کہ بتائو تم نے اللہ کے پیغمبروں کی بات کیوں نہ مانی اور جو پیغام وہ سنانے آئے تھے اسے کیون نہ سنا ؟ اس سوال سے ان پر ایسی گھبراہٹ طاری ہوجائے گی کہ ان کے ہوش اڑ جائیں گے اور انہیں کچھ بھی یاد نہ آئے گا اور ایسا لگے گا جیسے ان کے منہ پر تالے پڑگئے ہیں وہ اس حالت میں ایک دوسرے سے اس سوال کا جواب پوچھنے کے قابل بھی نہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے اسی دنیا میں توبہ کرلی وہ گی اور ایمان لا کر عمل صالح کا راستہ اختیار کرلیا ہوگا وہ اس بات کی امید رکھ سکتے ہیں کہ انہیں آخرت میں ہر طرح کی کامیابیاں عطا کی جائیں گی۔
Ayahs 28:68–75

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ آپ کا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے (اپنی رسالت کے لیے) پسند کرلیتا ہے۔ لیکن ان لوگوں کو (اپنے معبودوں کی) پسندیدگی کا اخیتار نہیں ہے۔ اللہ کی ذات پاک بےعیب ہے اور اس سے بلندو بر تر ہے جنہیں وہ شریک کرتے ہیں۔

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کا رب ان تمام باتوں سے واقف ہے جو انہوں نے دل میں چھپا رکھی ہیں اور جنہیں وہ ظاہر کرتے ہیں۔

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور دنیا میں اور آخرت میں تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔ اسی کی فرماں روائی ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے یہ تو بتائو اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ رات ہی رکھے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہارے لئے (دن کی) روشنی لے کر آئے گا۔ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے بتائو اگر اللہ قیامت کے دن تک تمہارے اوپر ہمیشہ دن ہی رہنے دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لئے رات لے آئے گا تاکہ تم اس میں آرام و سکون حاصل کرسکو۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اس اللہ نے اپنے فضل و کرم سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ تم اس میں آرام و سکون حاصل کرو اور دن میں اس کا فضل (رزق) تلاش کرو اور تم شکر ادا کرسکو۔

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور وہ دن جب اللہ ان کو پکار کر فرمائیں گے۔ وہ تمہارے شرکاء کہاں ہیں جنہیں تم میر شریک خیال کرتے تھے ؟

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر ایک جماعت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے۔ پھر ہم ان سے کہیں گے کہ تم اپنی دلیل لے کر آئو۔ پھر وہ جان لیں گے کہ سچی بات تو اللہ کی ہے۔ اور وہ سب (جھوٹے) معبود ان سے گم ہوجائیں گے جنہیں وہ (اللہ کے مقابلے پر) گھڑا کرتے تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر (68 تا 75 ) یختار (وہ پسند کرتا ہے۔ منتخب کرتا ہے) ۔ الخیرۃ (اختیار ۔ پسند ) ۔ تکن (چھپتا ہے) ۔ سرمد (ہمیشہ ) ۔ ضیاء (روشنی۔ چمک ) ۔ تسکنون (تم سکون حاصل کرتے ہو) ۔ تبتغوا (تم تلاش کرتے ہو) ۔ نزعنا (ہم نے کھینچ لیا۔ نکال لیا) ۔ ھاتوا (لے آئو۔ (تم آئو) ۔ برھان (دلیل۔ پسند) ۔ ضل (بھٹک گیا۔ گم ہوگیا) ۔ یفترون (وہ گھڑتے ہیں۔ بناتے ہیں ) ۔ تشریح : آیت نمبر (68 تا 75 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ہر شخص کو بتایا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اس کائنات میں ساری قدرت، طاقت، ہر چیز کی خوبی اور عبادت و بندگی صرف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنا پیغام پہنچانے کے لئے اپنی مرضی اور مشیت سے کچھ پاکیزہ نفس پیغمبروں کو منتخب کیا جس کا فیصلہ صرف وہی کرسکتا تھا اس کے اس فیصلے کا اختیار کسی کو نہیں ہے نہ کسی کے بس کا یہ کام ہے۔ اس کے کاموں اور اس کی ذات میں کوئی شریک نہیں ہے اور بادان لوگ جو اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں انہیں اپنی غلطی کا پوری طرح احساس ہوجائے گا کیونکہ اللہ کی ذات ان تمام چیزوں سے بلندو برتر ہے۔ وہ ہر شخص کے ظاہر اور باطن سے اچھی طرح واقف ہے وہ جانتا ہے کہ کون شخص زبان سے کیا بات کہہ رہا ہے اور کون کس بات کا اپنے سینے میں چھپائے بیٹھا ہے۔ وہی معبود حقیقی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور اس دنیا میں اور آخرت میں جو بھی خوبی اور بھلائی ہے وہ اسی کے لئے ہے۔ اور تمہیں اسی کر طرف لوٹ کر جانا ہے۔ فرمایا کہ اللہ کی یہ قدرت ہے کہ اس نے زمین کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ سورج کے گرد چوبیس گھنٹے میں اپنی ایک گردش پوری کرتی ہے جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ اگر اللہ زمین کی اس گردش کو روک دے اور مسلسل قیامت تک رات کا اندھیرا چھایا رہے تو اس اللہ کے سوا اور کون سی ذات ہے جو دن کی روشنی کو واپس لے آئے گی کیا سچائی کی یہ بات انین سنائی نہیں دیتی اور اگر اسی طرح قیامت تک دن کی روشنی ہو اور رات نہ آئے جس میں آدمی دن بھر تھک کر سوتا اور سکون و اطمینان حاصل کرتا ہے تو اللہ کے سوا اور کان سی ذات ہے جو رات اور اس کے اندھیرے کو لوٹا کر لاسکتی ہے۔ کیا تمہیں اتنی سی بات نہیں سوجھتی۔ اگر اتنی بڑی سچائی اور سامنے کی حقیقت کو دیکھ کر بھی اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا شریک بنایا جاتا ہے تو اس سے زیادہ ظلم و زیادتی اور کیا ہوگی۔ فرمایا کہ یہ اللہ کی کتنی بڑی رحمت ہے کہ اس نے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم سکون و اطمینان حاصل کرسکو۔ دن میں اس کا فضل و کرم اور رزق حاصل کر کے اس کا شکر ادا کرو۔ فر مایا کہ اس دن ایسے مشرکین کی حسرت کا کیا علم ہوگا جب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ آج تم اپنے معبودوں کو پکارو جن پر تمہیں بڑا ناز اور گھمنڈ تھا کہ وہ قیامت کے دن تمہارے کام آئیں گے۔ مگر آج وہ تم سے کہ ان گم ہوگئے ہیں ؟ پھر ہر جماعت میں سے ان لوگوں کو سامنے لایا جائے گا جو شرک کرتے تھے اور کہا جائے گا کہ اگر ان کے معبود ہونے پر کوئی دلیل ہے تو وہ آج پیش کرو۔ مگر وہ کیا پیش کریں گے کیونکہ ان کے پا کوئی دلیل بھی نہ ہوگی اور اس طرح وہ جان لیں گے کہ سچی بات صرف وہی تھی جو اللہ نے فرمائی تھی اور اس طرح جن کو انہوں نے اپنا معبود بنا رکھا تھا وہ سب کے سب غارت ہوجائیں گے۔