27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 27:67–82

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم (قبروں سے) نکالے جائیں گے۔

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یقیناً ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے اس سے پہلے بھی اسی طرح کے وعدے کئے گئے تھے۔ یہ تو گذرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ زمین پر چلو پھر و پھر دیکھو مجرموں کا انجام کیسا ہوا۔

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

آپ (ان کے حال پر) نہ تم غم کھائیں اور نہ ان کے مکرو فریب سے دل تنگ ہوں۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ تم جس (عذاب) کی جلدی کررہے ہو شاید وہ تم سے قریب آلگا ہے۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار لوگوں پر فضل و کرم کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ وہ ہیں جو شکر ادا نہیں کرتے۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور بیشک آپکا رب خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

(یاد رکھو) زمین اور آسمانوں میں جو کچھ پوشیدہ ہے وہ ایک روشن کتاب (لوح محفوظ) میں موجود ہے۔

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک (یہ قرآن) بنی اسرائیل کے لئے اکثر ان باتوں کو بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بیشک (یہ قرآن) ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت ورحمت ہے۔

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار اپنے حکم سے ان کے درمیان فیصلہ کردے گا۔ وہ زبردست اور علم رکھنے والا ہے۔

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

آپ اللہ پر بھروسہ کیجئے۔ بیشک آپ کھلی سچائی پر ہیں۔

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

بیشک آپنہ تو مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ ان بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں جو پیٹھ پھیر کر چلے جارہے ہیں۔

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راہ حق دکھا سکتے ہیں۔ آپ صرف ان لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں کا یقین کرنے والے ہیں۔ اور وہ فرماں بردار ہیں۔

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

او جب ان پر عذاب کا وعدہ پورا ہوجائے گا تو ہم زمین سے ایک چوپایہ جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا۔ کیونکہ بیشک یہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہ رکھتے تھے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ گذر گیا ہے وہ دوبارہ کیسے زندہ کئے جائیں گے ؟ ایسا لگتا ہے کہ یہ وہی باتیں ہیں جنہیں ہم اور ہمارے باپ دادا سنتے چلے آرہے ہیں اگر اس بات میں کوئی وزن ہوتا تو آخر اس دنیا سے جانے والا کوئی ایک آدمی تو آکر بتاتا کہ یہ سب کچھ ممکن ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کو کفار و مشرکین کہتے چلے آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مرتبہ کفار کے ان جملوں کو نقل کرکے جواب دیا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ عالم برزخ سے تو کوئی آکر وہاں کی کیفیات بیان نہیں کرسکتا البتہ اللہ و رسول کی نافرمانی کرنے والے مجرموں کی بنائی ہوئی عمارتیں اور ان کے کھنڈرات کو جا کر دیکھیں کہ وہ خود اس بات کے گواہ ہیں کہ اللہ ایسے مجرموں کو جڑ و بنیاد سے کھود ڈالتا ہے اور ان کی بلند وبالا عمارت اور مال و دولت کی کثرت انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتیں۔ کیونکہ وہ بھی یہی کہتے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہہ زندگی پر یقین نہیں رکھتے۔ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ جس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہ ان کو دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتا۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ اپنے مشن اور مقصد کو پھیلاتے رہیے اور ان کفار کے اعتراضات اور دشمنی کی نہ تو پروا کیجئے اور نہ آپ کسی طرح کا رنج اور افسوس کیجئے۔ کیونکہ وہ دن بہت دور نہیں ہے جب اللہ تعالیٰ اس دنیا کو ختم کر کے ایک نئی دنیا بنائے گا اور پھر ہر شخص سے اس کے کئے ہوئے اعمال کا حساب لے گا۔ یہ وعدہ الہٰی کب پورا ہوگا اس کا علم تو اللہ کو ہے البتہ ایسا لگتا ہے کہ اب اس وعدے کے پورا ہوے کا وقت بہت دور نہیں ہے بلکہ قریب آگیا ہے۔ ان آیات میں دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ یہ قرآن کریم ایک ایسی معیاری کتاب ہے جو اس سے پہلے نازل کی جانے والی کتابوں کے لئے کسوٹی کا درجہ رکھتی ہے یعنی بنی اسرائیل جنہوں نے اپنی کتابوں میں اپنی طرف سے اتنی جھوٹی باتوں کو گھڑ لیا تھا جس سے ان کی کتابیں تضاد اور اختلاف کا نمونہ بن کر رہ گئی ہیں لیکن قرآن کریم نے ان تمام اختلافات کو دور کر کے انسچائیوں کو بیان کیا ہے جو اصل حقائق ہیں۔ قرآن کریم اہل ایمان کے لئے ہدایت و رہنمائی اور رحمت کا سبب ہے۔ اگر قرآن کریم کی آیات نازل نہ ہوتیں تو ان بنی اسرائیل کی من گھڑت باتوں سے ساری دنیا گمراہ ہو کر رہ جاتی۔ قرآن کریم نے ہر سچائی کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے کیونکہ ان کے اختلافات کی قلعی تو اللہ نے کھول کر رکھ دی ہے وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور آپ کھلی ہوئی سچائی پر ہیں۔ یقیناً وہ لوگ جو آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے بنے ہوئے ہیں ان کو آپ راہ ہدایت دکھا نہیں سکتے۔ البتہ آپ اپنی کوشش کرتے رہیے۔ قیامت کب آئے گی اس کا تعین تو نہیں کیا گیا البتہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے قریب زمانہ میں دجال کا خروج ابتہ الارض کا ظہور ‘ دخان (دھواں) اور سورج کا مغرب سے نکلنا جب یہ سب علامتیں پوری ہوجائیں تو سمجھ لینا کہ قیامت بہت قریب ہے۔ دابتہ الارض زمین سے پیدا ہونے والا ایک خوفناک جانور ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے لوگوں سے باتیں کرے گا اور جو لوگ قیامت کا یقین نہ کرنے والے ہوں گے ان کو یقین آجائے گا۔ لیکن اس وقت کا یقین اور ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
Ayahs 27:83–86

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر ایک امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا نکالیں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔ پھر ان کو اکٹھا کرنے کی غرض سے جمع کیا جائے گا

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

پھر جب وہ حاضر ہوں گے تو اللہ فرمائیں گے ۔ کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا تھا جب کہ تم نے اس کو اچھی طرح جان لیا تھا۔ یا بتائو کہ تم کیا کرتے تھے ؟

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر وعدہ الہٰی پورا ہو کررہے گا۔ پھر وہ بات تک نہ کرسکیں گے۔

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بیشک ہم نے رات کو اس لئے بنایا ہے تاکہ وہ اس میں آرام کرسکیں اور دن کو دیکھنے کے لئے روشن بنایا ہے۔ بیشک ان آیات میں ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 83 تا 86 : نحشرو (ہم جمع کریں گے) ‘ یوزعون (جماعت بندی کی جائے گی) ‘ لم تحیطوا ( تم نے نہیں گھیرا تھا) ‘ لاینطقون ( وہ بات نہ کریں گے) ‘ لیسکنوا ( تاکہ وہ سکون حاصل کریں) مبصر (دیکھنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 83 تا 86 : گذشتہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ جب سارے انسانوں کو فنا کردیا جائے گا تو پھر صور بھونکاجائے گا ور اللہ کے حکم سے سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ پھر تمام امتوں میں سے ایسے لوگوں کے گروہ جمع کئے جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلایا کرتے تھے۔ اگلے پچھلے تمام لوگ جمع ہوجائیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ بتائو جب تمہارے پاس ہماری نشانیاں آگئی تھیں اور غور وفکر کا موقع بھی تھا پھر تم کس مشغلے میں پھنسے رہے کہ تم نے بےسو چے سمجھے ہماری آیات کا انکار کردیا تھا اور ہمارے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔ چونکہ انہوں نے زندگی بھر ظلم و زیادتی کے ساتھ زندگی گذاری ہوگی تو وہ جواب دینے کے قابل بھی نہ رہیں گے اور وہ اس کا کوئی جواب نہ دیں گے۔ فرمایا کہ ویسے تو ہم نے کائنات میں قدم قدم پر اپنی نشانیوں کو بکھیر دیا تھا جن پر غوروفکر ان کو کامیابی کی منزل تک پہنچا دیتا لیکن اگر وہ صرف رات اور دن کے آنے جانے ہی میں غورو فکر اور تدبیر سے کام لیتے جس کو وہ دیکھتے رہتے تھے تو وہ اللہ کی ذات اور پیغمبروں کی صداقت میں کبھی شک و شبہ نہ کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رات اس لئے بنائی ہے تاکہ اس میں راحت و سکون حاصل کرسکیں اور دن اس لئے بنایا ہے تاکہ اس میں دیکھ بھال کر اپنے لئے روزی پیدا کرسکیں۔ یہ رات دن کے الٹ پھیر پر ہی غور کرلیتے تو ان کی سمجھ میں آجاتا کہ کوئی ایسی ذات موجود ہے جو اس پورے نظام کائنات کو چلارہی ہے۔ یہ دنیا خود پیدا نہیں ہوگئی ہے بلکہ اس کا خالق ومالک اللہ ہے۔ ایمان لانے والوں کے لئے یہ بہت بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔
Ayahs 27:87–93

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تو جو بھی زمین و آسمان میں ہوں گے وہ گھبرا اٹھیں گے سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ چاہے۔ اور سب کے سب اس کے سامنے عاجز بن کر حاضر ہوں گے

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

(اے مخاطب تو) پہاڑوں کو اپنی جگہ جما ہوا خیال کرتا ہے حالانکہ وہ (قیامت کے دن) بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ یہ سب اس اللہ کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں جو نہایت مضبوط و مستحکم ہیں۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر حاضر ہوگا تو اس کو اس کی نیکی سے زیادہ بہتر بدلہ ملے گا۔ اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا۔

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو برائی کے ساتھ آئے گا اس کو اوندھے منہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ کہا جائے گا کہ تمہیں وہی بدلہ دیا گیا ہے جو کچھ تم کرتے تھے۔

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر (مکہ مکرمہ) کے پروردگار کی عبادت و بندگی کروں۔ وہ جس نے اس شہر کو) قابل احترام بنایا ہے۔ اور ہر چیز اسی کے لئے ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کے فرماں برداروں میں سے رہوں۔

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ) میں اس قرآن کی تلاوت کروں۔ جو صحیح راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے بھلے کے لئے کرتا ہے۔ اور جو راستے سے بھٹکتا ہے تو یقینا اس میں میرا کوئی نقصان نہیں کہ میں تو صرف خبردار کرنے والوں میں سے ہوں اور بس

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ۔ وہ بہت جلد تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا۔ اس وقت تم اس کو پہچان سکو گے۔ اور آپ کا پروردگار اس سے بیخبر نہیں ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 87 : 93 : ینفخ (پھونک ماری جائے گی) فزع (گھبرا گیا) داخرین (عاجزی کرنے والے) تحسب (تو گمان کرتا ہے) ‘ جامدۃ (جمع ہوجانے والی) تمر (وہ چلے گی) السحاب (بادل) صنع اللہ (اللہ کی کاری گری) کبت (اوندھا پھینک دیا گیا) ‘ ھل تجزون ( کیا تم بدلہ دیئے جائو گے) امرت ( میں حکم دیا گیا ہوں) البلدۃ (شہر) حرم ( قابل احترام بنایا) ان اتلو (یہ کہ میں تلاوت کروں گا) سیری (وہ بہت جلد دکھائے گا) ‘ تعرفون (تم پہچانتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 87 تا 93 : قرآن کریم میں متعدد مقامات پر قیامت اور اس دن کی ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے۔ یہاں پر ایک اصولی بات ارشاد فرمائی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس دن حضرت اسرافیل (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے صور پھونکیں گے تو صور کی ہیبت ناک آواز سے زمین و آسمان میں رہنے والی مخلوق پر دہشت طاری ہوجائے گی۔ اور ہر ایک کو اس کے سامنے دب کر اور عاجزی کے ساتھ حاضر ہونا ہے۔ فرمایا کہ سب پر بد حواسی اور گھبراہٹ طاری ہوگی لیکن وہ لوگ جنہوں نے نیکیوں اور بھلائیوں میں زندگی گذاری ہوگی وہ اس گھبراہٹ اور اس دن کی پریشانی سے محفوظ رہیں گے۔ قیامت کے دن ان کی چند کیفیات کو یہاں بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے۔ (1) ہر شخص کو نہایت عاجزی اور انکساری سے گردن جھکا کر اس کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا۔ (2) وہ پہاڑ جنہیں ہم جما ہوا محسوس کرتے ہیں صور پھونکے جانے کے بعد اس طرح چلے ‘ اڑتے نظر آئیں گے جس طرح آسمان پر بادل چلتے اور اڑتے نظر آتے ہیں۔ (3) فرمایا کہ یہ ساری دنیا اور اس کی بناوٹ سب اللہ کی کاریگری ہے اس میں ہر انسان جو کچھ کرتا ہے اس کی ایک ایک حرکت اور عمل سے وہ پوری طرح واقف ہے۔ (4) جو لوگ نیکیوں اور بھلائیوں کے ساتھ آئیں گے وہ اس دن کی گھبراہٹ ‘ پریشانی اور بد حواسی سے محفوظ رہیں گے اور وہ نہایت سکون سے اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے۔ (5) لیکن وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگی گناہوں اور خطاؤں ‘ کفر اور شرک میں گذاری ہوگی وہ نہایت گھبرائے ہوئے ہوں گے اور ان کو اوندھے منہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا اور کوئی کسی کا ساتھ نہ دے گا اور کوئی کسی کے حال کو پوچھنے والا نہ ہوگا۔ اور ان کو وہی بدلہ دیا جائے گا جس کو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔ یعنی ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے اعمال کے مطابق ان کو بدلہ دیا جائے گا۔ آخر میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ مجھے میرے اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں اس شہر یعنی مکہ مکرمہ کے مالک اور پروردگار کی عبادت و بندگی کروں جس نے اس شہر کو عزت و عظمت سے نوازا ہے۔ اور مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کے فرماں بردار بندوں میں شامل رہوں۔ اور میں اس قرآن کریم کی تلاوت کرتا رہوں جو اس نے نازل کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کا آنا برحق ہے۔ وہ بڑا ہیبت ناک دن ہوگا جہاں کوئی کسی کو نہ پوچھے گا۔ وہاں اگر کوئی چیز کام آنے والی ہے تو وہ اللہ کی رحمت اور انسان کے نیک اور بہتر اعمال ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اسکے مقدس گھر کا احترام کرنے والے اور اس کے فرماں بردار ہیں ان کو اس دن نہ صرف گھبراہٹ سے نجات عطا فرمائے گا بلکہ آخرت کی تمام بھلائیاں ان کا مقدر ہوں گی۔ آخر میں فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اس بات کا اعلان فرمادیجئے کہ جس نے ہدایت کا راستہ اختیار کیا اس نے اپنا فائدہ کیا لیکن جس نے گمراہی اختیار کرلی تو میرا کام خبردار کرنا تھا میں نے کردیا البتہ ہر انسان کو خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس کے لئے آخرت میں کام آنے والی چیز کیا ہے۔ تمام تعریفیں اور عظمتیں اللہ کے لئے ہیں وہ بہت جلد تمام سچائیوں کو کھلی آنکھوں سے دکھا دے گا۔ اور ہر شخص اس بات کو پیش نظر رکھے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے وہ ہر ایک کی ہر بات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ الحمد للہ سورة نمل کا ترجمہ و تشریح مکمل ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین