27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 27:38–44

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

(سلیمان (علیہ السلام) نے ) کہا اے سردارو ! تم میں سے وہ کون ہے جو اس کا (ملکہ بلقیس) تخت میرے پاس لے آئے۔ اس سے پہلے کہ وہ فرماں بردار بن کر یہاں آئے۔

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنات میں سے ایک نہایت مضبوط اور قوی جن نے کہا بیشک میں اس کو اس سے پہلے لے کر آسکتا ہوں کہ آپ اپنی جگہ سے کھڑے ہوں۔ اور بیشک میں اس پر یقیناً قوت والا امانت دار ہوں۔

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہا کہ میں اس تخت کو آپ کی خدمت میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کرسکتا ہوں۔ پس جب سلیمان (علیہ السلام) نے (اچانک) اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا یہ سب کچھ میرے رب کے فضل وکرم سے ہے۔ تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں یا نا شکری کرتا ہوں۔ کیونکہ جس نے شکر ادا کیا اس نے اپنے ہی فائدے کے لئے شکرادا کیا۔ اور جس نے نا شکری کی تو بیشک میرا پروردگار بےنیاز ہے اور کرم کرنے والا ہے۔

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس کے تخت میں تبدیلی پیدا کردو۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کو پتہ لگتا ہے یا اس کا ان لوگوں میں شمار ہے جن کو (ایسی باتوں کا ) پتہ نہیں لگتا۔

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پھر جب (ملکہ بلقیس) حاضر ہوئی تو پوچھا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ جواب دیا کہ ہاں ! ہے تو کچھ ایسا ہی۔ (اور یہ بھی کہ ) ہمیں تو اس سے پہلے ہی ( آپ کی عظمت کا) اندازہ ہوچکا تھا۔ اور ہم تو فرماں بردار (بن کر ہی) آئے ہیں۔

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور اس کو (ایمان لانے سے) جس بات نے روک رکھا تھا وہ ان معبودوں کی عبادت و بندگی تھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی۔ کیونکہ وہ کافروں کی قوم سے تھی۔

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

(ملکہ بلقیس سے) کہا گیا کہ محل میں داخل ہو جائو۔ جب اس نے (محل کے ) فرش کو دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھا اور اس نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان (علیہ السلام) نے کہا یہ ایک محل ہے جس میں شیشے جڑے ہوئے ہیں۔ اس (پر ملکہ بلقیس نے ) کہا اے میرے پروردگار میں نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا تھا۔ اور اب میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ ہو کر رب العالمین پر ایمان لے آئی۔

لغات القرآن : آیت نمبر 38 تا 44 : ایکم (تم میں سے کون ؟ ) ‘ مسلمین (فرماں برداری اختیار کرنے والے) عفریت (قوت و طاقت والا) ان یرتد (یہ کہ وہ پلٹے) طرف (پلک۔ آنکھ کا گوشہ) ‘ مستقر (رکھا ہوا) ‘ نکروا (شکل بد ل دو ۔ تبدیلی کردو) اھکذا (کیا ایسا ہی ہے ؟ ) کانہ ھو (جیسے اسی جیسا ہو) صد (اس نے روکا) ‘ الصرح (محل) لجۃ (گہرا پانی ) ‘ ساق (پنڈلی (ساقین) ممرد (جڑا ہوا) قواریر (شیشے۔ آیئنے) اسلمت (میں نے فرماں برداری اختیار کرلی) ۔ تشریح : آیت نمبر 38 تا 44 : جب ہدہد پرندے نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط سبا کی ملکہ بلقیس کو پہنچایا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اتنی بڑی اروطاقت ور شخصیت سے ٹکرائو کسی طرح مناسب نہیں ہے۔ اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو آزمانے اور کچھ وقت لینے کے لئے نہایت قیمتی تحفے بھیجے۔ لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کے تحفے واپس کرکے فرمایا کہ وہ یا تو فرماں بردار بن کر حاضر وہ جائیں یا اس عظیم لشکر کا مقابلہ کرے کے لئے تیار ہوجائیں جو اس کے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دے گا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے اس طرز عمل سے ثابت کریدا کہ ان کا مقصد دنیا کی دولت ‘ حکومت و سلطنت نہیں ہے بلکہ ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت دینا ہے۔ جو لوگ ملکہ بلقیس کی طرف سے تحفے لے کر گئے تھے جب انہوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علم و کمالات ‘ شان نبوت ‘ اخلاق کریمانہ ‘ عظیم سلطنت اور اس میں عدل و انصاف کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو وہ دنگ رہ گئے اور انہوں نے ملکہ بلقیس کو تمام حالات سے مطلع کیا۔ ملکہ بلقیس یہ سب کچھ سن کر اس قدر متاثر ہوئی کہ اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مکمل اطاعت کا فیصلہ کرلیا اور ملک سبا (یمن) سے فلسطین کے لئے روانہ ہوگئی۔ اسی دوران حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے درباریوں سے کہا کہ کیا تم میں کوئی ایسا ہے کہ جو ملکہ بلقیس کے اطاعت و فرماں برداری اختیار کر کے آنے سے پہلے اس کا شاہی تخت (جس پر اسے بڑا ناز ہے) لے کر آجائے۔ شاید اس بات کا مقصد یہ ہوگا کہ اس کا فر اور سورج کو اپنا معبود سمجھنے والی ملکہ کو یہ دکھا دیا جائے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) عام بادشاہوں کی طرح ایک باشاہ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کی طرف سے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اور ان کو معجزا نہ کام کرنے کی توفیق دی گئی ہے۔ چنانچہ درباریوں میں سے ایک نہایت مضبوط اور قوی جن نے کہا کہ میں اپن اندر ایک ایسی طاقت و قوت رکھتا ہوں کہ نہایت دیانت و امانت کے ساتھ آپ کے اس دربار کے برخاست ہونے پر پہلے لے کر آسکتا ہوں۔ ایک دوسرے شخص یا جن نے کہا کہ میں پلک جھپکنے سے پہلے اس تخت کو حاضر کرسکتا ہوں۔ اس شخص کا نام آصف بن برخیا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اجازت دی تو اسی لمحے ملکہ بلقیس کا حسین ترین اور ہیرے جواہرات سے جڑا ہوا تخت ان کے سامنے تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فخر و غرور کرنے کے بجائے فوراً ہی اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا یہ سب کچھ میرے اللہ کا فضل و کرم ہے اور اس بات کا امتحان بھی ہے کہ ہم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں کیونکہ جو شخص اللہ کا شکر ادا کرتا ہی اس کا فائدہ خود اسکو پہنچتا ہے او جو کفر و ناشکری کرتا ہے اس کا نقصان خود اسی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے وہ بےنیاز ذات ہے اور ہر شخص پر رحم و کرم کرنے والا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس تخت کے رنگ و رونغن میں معمولی سی تبدیلی کا حکم دیا تاکہ ملکہ کی ذہانت کا امتحان لیا جاسکے۔ اور یہ معجزہ دکھاکر یہ ثابت کردیا جائے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں جو صرف یہ چاہتے ہیں کہ ملکہ سورج کی عبادت و بندگی کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرے جس نے ان کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازرکھا ہے۔ جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچی تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پوچھا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ ملکہ حیران ہو کر کہنے لگی کہ ہاں ‘ ہے تو کچھ ایسا ہی۔ کہنے لگی کہ واقعی اللہ نے آپ کو اپنے خصوصی فضل وکرم سے نوازا ہے۔ اور میں تو پہلے ہی آپ کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کا فیصلہ کرچکی ہوں۔ اب سورج کی عبادت و بندگی میرے اس جذبہ میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتی کیونکہ میں نے ہر سچائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کو اپنے عالی شان محل میں آنے کی دعوت دی۔ جب وہ محل میں داخل ہوئی تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے محل کے اندر پہنچنے کا راستے ایک بہتے ہوئے دریا میں سے گذرتا محسوس ہورہا تھا۔ ملکہ بلقیس نے یہ سوچ کر کہ پانی میں اتر کر دوسری طرف پہنچنا ہے اپنے پائنچے اٹھائے جس سے اس کی پنڈلیاں بھی ظاہر ہوگئیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ پانی نہیں ہے بلکہ خوبصورت فرش ہے تم ایسے ہی آگے آسکتی ہو۔ ملکہ بلقیس نے حکومت و سلطنت اور ان کے محل کی خوبصورتی کو دیکھ کر اس بات کا اچھی طرح اندازہ کرلیا تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کو کسی دنیاوی لالچ یا غرض سے نہیں بلوایا تھا کیونکہ اللہ نے ان کو اتنا کچھ دے رکھا ہے کہ اس کے سامنے دنیا کا مال و دول کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ بلکہ انہوں نے دین اسلام کو سکھانے اور بتانے کے لئے بلوایا ہے۔ یہ وہ تمام اسباب تھے جن کو سامنے رکھ کر ملکہ بلقیس نے سورج کی پرستش اور عبادت و بندگی سے توبہ کر کے دین اسلام کو قبول کرلیا۔ روایات کے مطابق ملکہ بلقیس اور اس کے تمام لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ بعد میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا نکاح ملکہ بلقیس سے ہوا۔ جنہیں حضرت سلیمان نے یمن کے اندر ہی کئی محل بنا کردیئے تھے۔
Ayahs 27:45–53

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ (اے لوگو ! ) تم اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ پس اچانک وہ لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے اور آپس میں جھگڑنے لگے۔

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صالح نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم بھلائی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کررہے ہو۔ تم اللہ سے گناہوں کی معافی کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ ہم نے تجھے اور ساتھیوں کو منحوس قدم پایا ہے۔ صالح نے کہا تمہاری بد شگونی اللہ کی طرف سے ہے۔ بلکہ تم لوگ آزمائش میں مبتلا کردیئے گئے ہو۔

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں ایسے نو آدمی تھے جو فساد کرتے تھے اور اصلاح کی بات نہ کرتے تھے ۔

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

قوم کے لوگ کہنے لگے کہ تم سب اللہ کی قسم کھائو کہ رات کو اچانک ہم اس پر اور اس کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہ تھے اور بیشک ہم سچے ہیں۔

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور انہوں نے خفیہ سازش کی اور ہم نے بھی ان کے خلاف تدبیر کی جس کی انہیں خبر بھی نہ تھی۔

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ دیکھئے کہ ان کی سازش کا انجام کیا ہوا۔ بیشک ہم نے ان سب کو اور ان کی قوم کو برباد کر ڈالا۔

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

اب یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے کفر کی وجہ سے ویران پڑے ہیں۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو علم رکھنے والے ہیں ۔

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دیدی جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقویٰ کا طریقہ اختیار کیا تھا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 53 : فریقن (دو جماعتیں) یختصمون ( وہ آپس میں جھگڑتے ہیں) لم تستعجلون ( تم کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ) اطیرنا ( ہم نے برا شگون لیا) رھط ( لوگ ۔ اشخاص) تقاسموا (تم آپس میں قسم کھائو) ۔ (نبی تن (ہم رات کو حملہ کریں گے) ماشھدنا ( ہم موجود نہ تھے) ‘ مکر (فریب۔ دھوکہ) ‘ خاویۃ (گرپڑنے والے) ‘ انجینا (ہم نے نجات دی) ۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 53 : بد عمل قوموں کی بد نصیبی یہ ہوتی ہے کہ جب ان کے سامنے حق و صداقت اور فکر آخرت کی بات کی جاتی ہے اور اس پر عمل نہ کرنے سے ان پر اللہ کے عذاب کی مختلف شکلیں سامنے آتی ہیں تو وہ اپے برے اعمال پر غور کرنے کے بجائے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور نیک لوگوں کے قدموں کو منحوس قراردیتے ہوئیے کہتے ہیں کہ جب اسے انہوں نے دین کی باتیں کرنا شروع کی ہیں اس وقت سے ہم اور ہمارے خاندان گروہوں میں بٹ کر رہ گئے ہیں۔ اور جب اسے انہوں نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنا شروع کیا ہے وہ ہم سے ناراض ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ہماری زندگیوں کا عیش و آرام اور سکون جاتارہا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جب فرعون کو کوئی اچھی بات پہنچتی یا اس کی قوم کو کوئی دنیاوی فائدہ مل جاتاتو وہ اس کو اپناحق سمجھتا تھا اور جب اللہ کے عذاب کی کوئی شکل سامنے آتی تو کہتا کہ یہ سب موسیٰ کی نحوستیں ہیں۔ اسی طرح کفار مکہ نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے متعلق بھی کہتے تھے کہ جب سے یہ آئے ہیں اس وقت سے ہمارے قبیلوں اور گھروں میں نحوستوں نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔ حالانکہ یہ ساری نحوستیں ان کفار کے برے اعمال کا نتیجہ تھیں جن کو وہ بھگت رہے تھے ۔ زیر مطالعہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) نے جب اللہ کا پیغام اپنی قوم کے سامنے رکھا تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اللہ کے دین کو قبول کرلیا اور اکثریت ان لوگوں کی تھی جنہوں نے اس پیغام حق و صداقت کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔ اس طرح پوری قوم نظریاتی طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ جب بات کا فی بڑھ گئی تو قوم ثمود کے نافرمان لوگ کہنے لگے کہ ” اے صالح اگر واقعی تم اللہ کے رسولوں میں سے ایک رسول ہو تو (ہم روز روز کی اس دھمکی سے عاجز آچکے ہیں) اس عذاب کو لے ہی آئو تاکہ قصہ تمام ہوجائے۔ “ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے خیر اور سلامتی مانگنا چاہیے تھی لیکن تم اس اللہ سے عذاب مانگ رہے ہو ؟ ۔ اگر تم توبہ اور استغفار کا راستہ اختیار کرتے تو اللہ تعالیٰ تمہارے حال پر رحم و کرم کردیتا۔ کہنے لگے کہ ہم بڑے عیش و آرام سے رہا کرتے تھے لیکن اے صالح یہ تمہاری نحوست ہے جس کی وجہ سے ہم میں پھوٹ پڑگئی ہے اور ہم دو گروہوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہاری اس نحوست کا سبب تو اللہ کے علم میں ہے لیکن میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنے برے اعمال کی وجہ سے اللہ کے عذاب میں گرفتارہو۔ یہ سب کچھ سننے کے باوجود قوم ثمود اپنی نافرمانیوں میں لگی رہی اور انہوں نے مخالفتوں کا طوفان برپا کردیا تھا۔ ، اص طور پر ان میں سے نو ایسے بڑے بڑے سردار تھے جو قوم کی اصلاح کرنے کے بجائے شرارت اور فساد مچایا کرتے تھے ۔ چناچہ انہوں نے مل یہ فیصلہ کیا کہ آج رات ہم سب مل کر اس بات پر قسم کھائیں گے کہ آج کی رات حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین اور گھر والوں کو قتل کردیں گے تاکہ یہ روز روز کا جھگڑا ختم ہوجائے۔ اس زمانہ میں یہ رواج تھا کہ اگر کسی قبیلے کا آدمی مار دیا جاتا تو وہ قبیلہ اس کے خون کا قصاص اور بدلہ مانگا کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب رات کے اندھیرے میں اس طرح قتل کریں گے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا قبیلہ ہم سے خون کا بدلہ نہ مانگ سکے ۔ یہ ان کفار و مشرکین کی خفیہ تدبیریں اور سازشیں تھیں لیکن وہ قدرت کی خفیہ تدبیروں سے ناواقف تھے۔ کفار کی کوشش تھی کہ پہلے اس اونٹنی کو ذبح کریں گے جو اس قوم کے مطالبہ پر ان کو معجزاتی طور پر دی گئی تھی۔ پھر حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں اور ماننے والوں کو قتل کردیں گے۔ لیکن دوسری طرف اللہ کا فیصلہ آگیا اور پوری قوم کو تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا۔ جس طرح قوم ثمود کے سرداروں نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے گھروالوں کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھی بالکل اسی طرح کفار مکہ نے بھی نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کی اسی طرح منصوبہ بندی کی تھی لیکن جس طرح اللہ نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں اور متعلقین کو بچا کر ان سازشیوں کو تباہ و برباد کردیا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اس سازش سے محفوظ رکھا۔ اور آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور آہستہ آہستہ آپ کے گھر والوں اور صحابہ کرام ؓ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اللہ نے ان کو نجات عطافرمائی اور کفار کا برا انجام ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی خفیہ تدبیروں کے سامنے انسانی سازشوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اللہ ان لوگوں کا انجام بخیر فرماتا ہے جو اللہ کی فرماں برداری کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عبرت دلاتے ہوئے فرمایا کہ آج بھی قوم ثمود کے کھنڈرات اور عظیم الشان بلڈنگیں عبرت کا نمونہ بنی ہوئی ہیں جن کو مکہ والے ملک شام جاتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا چاہیے کہ اللہ کس طرح اہل ایمان اور اہل تقویٰ کو نجات عطا فرماتا ہے اور کس طرح کفار و مشرکین اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔
Ayahs 27:54–59

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور یاد کرو جب لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ تم دیکھتے بھالتے بےحیائی پر اتر آئے ہو۔

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ ) تم جہالت میں مبتلا ہو۔

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

ان کی قوم کا جواب یہ تھا کہ لوط (علیہ السلام) اور اس کے ماننے والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو کیونکہ یہ بہت پاک باز بنتے ہیں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

پھر ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دے دی سوائے ان کی بیوی کے ‘ ہم نے ان کی (بیوی کو) پیچھے رہ جانے والوں میں طے کردیا تھا۔

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور ان پر ہم نے (پتھروں کی ) بارش کردی جو بہت بری بارش تھی ان لوگوں پر جن کو (اس عذاب سے) ڈرایا گیا تھا۔

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اللہ کی سلامتی (ان لوگوں پر ناز ل ہوتی ) ہے جنہیں اس نے منتخب کرلیا ہے۔ کیا ایک اللہ بہتر ہے یا وہ جنہیں یہ اس کا شریک ٹہراتے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 54 تا 59 : اناس (انس) (لوگ۔ انسان) یتطھرون (پاک باز بنتے ہیں) ‘ قدرنا (ہم نے ٹھہرادیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ امطرنا ( ہم نے برسایا) ‘ سلام (سلامتی) اصطفی (چن لیا۔ منتخب کرلیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 54 تا 59 : اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اس کا دستور یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کرتا ہے اور اس سے توبہ نہیں کرتا تو اس کو اسی دنیا میں مختلف شکلوں میں سزادی جاتی ہے اور آخرت کا نقصان تو واضح ہے لیکن اگر ساری قوم ایک گناہ پر راضی ہوجائے اور گاہ کو گناہ نہ سمجھا جائے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ اسی لئے شاعر نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ قدرت افراد سے اغماض تو کرلیتی ہے نہیں کرتی کبھی ملت کے گناہوں کو معاف یعنی جب تک خطاؤں کا دائرہ افراد تک محدود رہتا ہے تو قدرت بھی ان کے معافی مانگنے پر ان کو معاف کرسکتی ہے لیکن جب پوری قوم مل کر بڑی ڈھٹائی سے گناہوں میں اجتماعی طور پر مبتلا ہوجاتی ہے تو پھر اللہ کا عذاب آکررہتا ہے۔ دنیا بھرکے انسانوں کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کے بعد اب دنیا پر وہ عذاب تو نہ آئیں گے جو گذری ہوئی امتوں پر آئے تھے لیکن زلزلے ‘ طوفان ‘ قحط سالی ‘ خون خرابہ اور آپس کے شدید اختلافات وغیرہ آتے رہیں گے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے اور اللہ کے نبی تھے۔ وہ اس قوم کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے جو ایک گھنائو نے اور شرمناک فعل یعنی ہم جنس پرستی کے فعل میں مبتلا تھے۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی قوم کے لوگوں کو اس فعل بد سے روکنے اور دنیا وآخرت میں اس کے شدید ترین نقصانات سے آگاہ کرتے تو آپ ؐ کی قوم اس کی شدید مخالفت کرتی یہاں تک کہ پوری قوم آپ کی دشمن ہوگئی اور کہنے لگی کہ لوط کو اور اس کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو کیونکہ یہ اپنے آپ کو بہت پاک باز اور نیک سمجھتے ہیں۔ ہم جیسے ناپاک لوگوں میں ان جیسے پاک باز لوگوں کا کیا کام ہے ؟ حضرت لوط (علیہ السلام) پھر بھی اپنی قوم کے لوگوں کو ہر طرح نصیحت کرتے رہے۔ جب وہ قوم ہم جنس پرستی سے باز نہیں آئی تو اللہ کا عذاب اس قوم کی طرف متوجہ ہوا ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا ‘ اوپر سے پتھروں کی بارش کی گئی اور ان کی بستیاں زمین کے اندر دھنسادی گئیں اور ان بستیوں پر سمندر کا پانی چڑھ گیا۔ آج وہ سمند جس کے نیچے قوم لوط کی بستیاں ڈبو دی گئیں اسی کو بحر میت (DeadSea) کہتے ہیں۔ اس پانی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کوئی کشتی بھی نہیں چل سکتی اور کسی جاندار کو وہ اپنے اندر برداشت نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے پوری قوم کو ان کے برے اعمال کے سبب تابہ و برباد کردیا لیکن حضرت لوط ؐ اور ان کے گھر والوں (سوائے ان کی بیوی کے جو کافرہ تھی) اور ان کے اوپر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمادی ۔ قرآن کریم کی ان آیات اور قوم لوط کے برے انجام کو سامنے رکھ کر میں یہ سوچتا ہوں کہ آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے نہ صرف اس ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ دے رکھا ہے بلکہ میڈیا کے ذریعہ اس کی بےانتہا ہمت افزائی کی جاتی ہے۔ ان کے اپنے کلب ہیں ‘ انجمنیں ہیں اور یہ بات بہت تیزی سے آگے جارہی ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ دنیا پھر سے ہم جنس پرستی کے سمندر میں غرق ہونے کے قریب ہے۔ اللہ رحم فرمائے۔
Ayahs 27:60–66

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ؟ اور کس نے تمہارے لئے بلندی (آسمان) سے پانی برسایا۔ پھر ہم نے اس کے ذریعہ حسین منظر باغات اگائے۔ ورنہ یہ تمہارے بس کا نہ تھا کہ تم ان باغات کو اگا سکتے۔ تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہے ؟ بلکہ یہ لوگ ہیں جو دوسروں کو اللہ کے برابر ٹہراتے ہیں۔

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا ؟ اور اس کے درمیان نہریں بہادیں اور اس (کا تو ازن قائم رکھنے) کے لئے بوجھ (پہاڑ) بنائے۔ اور دودریائوں کے درمیان روک بنائی۔ کیا اللہ کے سوا کوئی معبود ہے ؟ بلکہ اکثر لوگ وہ ہیں جو سمجھتے نہیں ہیں۔

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

وہ کون ہے جو بےقرار کی پکار سنتا ہے جب وہ پکارتا ہے ؟ برائی کو دور کرتا ہے۔ اور کس نے زمین میں تمہیں نائب بنایا ہے ؟ کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے ؟ تم میں سے بہت تھوڑے سے لوگ ہیں جو (اس پر) دھیان دیتے ہیں۔

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

وہ کون ہے جو تمہیں خشکی اور دریا کے اندر اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے ؟ وہ کون ہے جو بارش (برسنے) سے پہلے خوش خبری دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے ؟ کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے ؟ اللہ اس سے بہت بلندو بر تر ہے جن چیزوں کو وہ ( اللہ کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جس نے مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اور کون ہے جو آسمانوں اور زمین سے تمہیں رزق دیتا ہے ؟ کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے ؟ (اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی (مضبوط ) دلیل لے کر آئو۔

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ جو بھی آسمانوں اور زمین میں غیب ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ انہیں نہیں معلوم کہ وہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ ) آخرت کے بارے میں ان کا علم تھک کر رہ گیا ہے۔ یہ لوگ اس سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ وہ آخرت سے اندھے بنے ہوئے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 60 تا 66 : امن (کون ہے وہ ؟ ) انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ حدائق (حدیقۃ) باغات ‘ ذات بھجۃ (رونق والے) ‘ ان تنبتوا (یہ کہ تم اگائو) ‘ یعدلون (وہ برابر کرتے ہیں) ‘ قرار (ٹھہرنے کی جگہ) ‘ خلل (درمیان) ‘ رواسی (بوجھ۔ پہاڑ) ‘ حاجز (آڑ ۔ رکاوٹ) ‘ یجیب (وہ قبول کرتا ہے) ‘ المضطر (بےقرار۔ بےچین) ‘ یکشف (وہ کھولتا ہے) ‘ ھاتوا (آئو۔ (لے آئو) ‘ برھان (دلیل) ‘ ایان (کب) ادرک (تھک گیا) عمون ( وہ اندھے بن رہے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 60 تا 66 : جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات اور قدرت میں دوسروں کو شریک کرتے اور ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ان کے سامنے کائنات کی بیشمار نشانیوں کو رکھ کر اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا ہے کہ کیا ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی ہے جس کے پیدا کرنے میں تمہارے یہ بت اور جن کی تم پیروی کرتے ہو وہ شریک ہوں ؟ فرمایا (1) عظیم الشان آسمان اور وسیع زمین جس کے لاتعداد فائدے ہیں ان کو کس نے بنا یا ؟ (2) پانی کو آسمان (بلندی) سے کس نے برسایا جس سے حسین اور خوبصورت باغات بنائے۔ کیا تم اور تمہارے معبود ان کے اگان میں شریک تھے۔ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبود ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو اس کے برابر قرار دے رہے ہیں۔ (3) اس زمین کو کس نے ٹہرا رکھا ہے جس سے وہ کانپنے کے بجاء اپنے اوپرکروڑوں اربوں انسانوں اور ان کے وسائل اور بلڈنگوں کو سنھبالے ہوئے ہے ؟ (4) وہ کون ہے جس نے اس زمین کے اندر سے نہریں بہادیں ‘ اس کا تو ازن برقراررکھنے کے لئے (پہاڑوں کے) بوجھ رھ دیئے اور (کھارے ‘ میٹھے پانی کے) دو دریاؤں کے درمیان پر دے حائل کردیئے ۔ کیا ان کے پیدا کرنے اور بنانے میں کوئی دوسرا معبود بھی ہے (یقیناً نہیں ہے) اکثر لوگ وہ ہیں جو اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ (5) وہ کون ہے جو مصیبت کے وقت بیقرار اور بےجن کی پکار کو سنتا اور اس کی فریاد کو پہنچتا ہے۔ (6) وہ کون ہے جو لوگوں کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ہر طرح کی راحتوں کے سامان عطا کرتا ہے۔ (7) وہ کون ہے جو ایک کے بعد دوسرے کو اور ایک قوم کی جگہ دوسری قوم کو ابھارتا ہے اور یہ سلسلہ ابتدائے کائنات سے جاری ہے۔ یقیناً وہ اللہ کی شان اور قدرت ہے۔ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبود ہے جو یہ سب کچھ کرتا ہے۔ یقیناً اس حقیقت پر بہت کم لوگ توجہ کرتے ہیں۔ (8) وہ کون ہے جو تمہیں خشکی اور دریا و سمندر کے اندھیروں میں ستاروں کے ذریعہ راستہ دکھاتا ہے ؟ (9) وہ کون ہے جو بارش (برسنے سے) پہلے خوش خبری دینے والی ٹھنڈی ہواؤں کو بھیجتا ہے۔ یقیناً یہ سب اسی ایک اللہ کی شان ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے بہت بلندو برتر ہے جن چیزوں کو وہ اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔ (10) اللہ نے ان مشرکوں سے پوچھا ہے کہ بتائو وہ کون ہے جس نے اپنی ساری مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور پھر وہی قیامت کے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ (11) وہکون ہے جو آسمانوں اور زمین سے تمہیں رزق دیتا ہے۔ یقیناً وہ ایک اللہ ہے۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے جو یہ سب کچھ عطا کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ صاف اعلان کردیجئے کہا گر تم سچے ہو تو کوئی مضبوط دلیل لے کر آئو جس سے یہ ثابت کرسکو کہ تمہارے یہ جھوٹے معبود بھی کوئی حقیقت رکھتے ہیں۔ آخر میں نبی کریم ﷺ سے فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ غیب کا علم صرف اللہ کو ہے اس کے علاوہ کوئی عالم الغیب نہیں ہے۔ فرمایا کہ کہہ دیجئے مجھے اس کا عل نہیں ہے کہ وہ لوگ جو مرجائیں گے کب زندہ کئے جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں وہ آخرت کی فکر سے اندھے بنے ہوئے ہیں اور وہ اس شک میں مبتلا ہیں کہ آخرت واقع ہوگی بھی یا نہیں ؟