24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 24:55–57

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے یہ وعدہ کرلیا ہے کہ وہ ان کو زمین پر اس طرح حکمران بنائے گا جس طرح ان لوگوں کو حکمران بنایا تھا جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں۔ اور اللہ نے ان کے لئے جس دین (دین اسلام) کو پسند کرلیا ہے وہ اس دین کو ان کے لئے مستحکم و مضبوط بنادے گا۔ اور ان کے خوف کو امن میں بد دے گا۔ لہٰذا وہ میری ہی عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اور اس کے بعد جو لوگ ناشکری کریں گے ویہ فاسق و نافرمان ہوں گے۔

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اور کافر یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہمیں زمین میں بےبس کردیں گے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 57 : وعد (وعدہ کرلیا) استخلف (پہلوں کا جانشین بنایا) ‘ یمکنن ( وہ ضرور جمادے گا) ‘ ارتضی (اس نے پسند کیا) ‘ لاتحسبن ( ہرگز گمان نہ کریں گے) ‘ معجزین ( عاجز کرنے والے۔ بےبس کرنے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 55 تا 57 : اعلان نبوت کے بعد کفارو مشرکین عرب نے دین اسلام ‘ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کا راستہ روکنے کے لئے ہر وہ کوشش کر ڈالی جس سے اسلام کے اس پودے کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ لیکن نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے ان تمام جار حانہ اور ظالمانہ کو ششوں کا نہایت صبر و استقلال ‘ حلم و تحمل اور برداشت سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اگر چہ تیرہ سال تک مکہ مکرمہ اور پھر ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ایسے حالات پیدا ہوگئے تھے جس سے خوف اور اندیشوں کے سائے ہر وقت سروں پر منڈلاتے رہتے تھے اور اکثر صحابہ کرام ہتھیار بند رہا کرتے تھے۔ مشرکین اور یہود و نصاری نے ایک طویل عرصہ تک خوف و دہشت کا ایسا ماحول تیار کردیا تھا کہ صوبر و استقلال کے پیکر صحابہ کرام یہ سمجھنے لگے تھے کہ ان کی یہ آزمائش کبھی ختم نہ ہوگی اور وہ کبھی سکون و اطمینان سے زندگی نہ گذار سکیں گے۔ چناچہ ایک مرتبہ آپ کے ایک جاں نثار صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم پر کوئی ایسا وقت بھی آئے گا جب ہم (اپنے ہتھیار کھول کر) امن و سکون کی زندگی گذار سکیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب ہم نہایت سکون و اطمینان سے رہ سکیں گے۔ دین اسلام غالب آجائے گا اور اہل ایمان کو کفار پر غلبہ عطا کیا جائے گا۔ یہ وہ حالات تھے جس میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ اور ایمان و عمل صالح اختیار کرنے والوں سے تین چیزوں کا وہدہ فرمایا ہے کہ اگر اللہ کے بندے اللہ کے نور ہدایت کی پیروی کریں گے تو آپ ﷺ کی امت کو زمین پر خلافت (حکومت و سلطنت) عطا کی جائے گی۔ (2) دین اسلام جو اللہ کا پسندیدہ اور محبوب دین ہے اس کو ہر دین و مذہب پر غلبہ عطا کیا جائے گا۔ (3) اور اہل ایمان کو اتنی طاقت و قوت دی جائے گی جس سے انہیں ہر دشمن سے خوف اور اندیشہ نہیں رہے گا اور وہ سکون سے زندگی گذار سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ اس طرح پورا ہوا کہ دنیاوی زندگی میں پورے جزیرۃ العرب کو آپ کا مطیع و فرماں بردار بنادیا گیا اور ہر طرف امن و سکون کی فضائیں عام ہوگئیں۔ آپ کے بعد آپ کے خلفاء راشدین نے اس قدر تیزی سے پیش قدمی فرمائی کہ قیصرو کسریٰ کے تاج و تخت ان کے پاؤں کی دھول بن کر رہ گئے۔ اور بڑی بڑی سلطنتیں اور ان کے حکمرانوں کو اس سچے اور آخری دین کے قدموں میں جھکنا پڑا۔ قرآن کریم کی یہ پیش گوئی پوری ہو کر رہی کہ پوری دنیا میں اسلام کا بول بالا ہوا۔ عدل و انصاف کا نظام قائم ہوا اور دنیا نے ظالم حکمرانوں سے نجات پاکر امن و سکون کا سانس لیا۔ اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے یہ بات بتادی کہ اگر مسلمان نماز کو قائم کرتے رہے ‘ زکوۃ ادا کرتے رہے ‘ رسول اللہ ﷺ کی فرماں برداری کرتے رہے تو ان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی رہیں گی۔ لیکن اگر انہوں نے اللہ و رسول کے راستے کو چھوڑ کر بےعملی کا راستہ اپنا یا تو پھر وہ اللہ کی ان رحمتوں کے مستحق نہ رہیں گے۔ فرمایا کہ اہل امیان کو کفار اور ان کی طاقتوں سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ کفار کتنی بھی طاقت و قوت حاصل کرلیں وہ دنیا کے مضبوط قلعوں میں بند ہو کر اپنے آپ کو محفوظ کیوں نہ سمجھ لیں۔ وہ دنیا کے کسی کونے میں چلے جائیں ان کو پناہ نہیں مل سکتی۔ اللہ کو وہ عاجز و بےبس نہیں کرسکتے۔ البتہ اللہ تعالیٰ ان کو کیفر کردار تک پہنچا کر چھوڑے گا۔ یہ سزا تو ان کی اس دنیا میں ہوگی اور آخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا جو بدترین جگہ ہے۔ ان تمام باتوں کی طرف اللہ نے آیات قرآنی میں یہ فرمایا ہے کہ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں سے اللہ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اس نور ہدایت کی اتباع و پیروی کریں گے جو اللہ کا پسندیدہ دین ہے تو ان کو زمین پر قوت و طاقت اور حکومت و سلطنت اسی طرح دی جائے گی جس طرح ان سے پہلی امتوں کو عطا کی گئی تھی۔ اور یہ پیغمبر ﷺ کے جانشین بن کر اس دین حق و صداقت کو مضبوط بنیادوں پر قائم کریں گے۔ خشکی ‘ تری اور ہواؤں پر ان ہی کا سکہ رواں ہوگا۔ انہیں سوائے ایک اللہ کے کسی کا خوف و اندیشہ نہ ہوگا۔ اور آج وہ جس خوف اور اندیشوں میں زندگی گذار رہے ہیں وہ امن و سلامتی سے تبدیل ہوجائے گا۔ فرمایا وہ صرف میری ہی عبادت و بندگی کریں گے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے ۔ میری نا شکری کرکے وہ فاسقین میں شامل نہ ہوں گے۔ فرمایا کہ اے مومنو ! تم نماز کو قائم کرو ‘ زکوۃ ادا کرتے رہو اور اس کے رسول کی اتباع و پیروی کرتے رہو تو امید ہے تم پر رحم و کرم کردیا جائے گا۔ کفار کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ کفار اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ وہ اپنی قوت و طاقت سے اللہ کو عاجز کردیں گے۔ ان کفار کا ٹھکانا جہنم ہے جو بد ترین ٹھکانا ہے۔
Ayahs 24:58–60

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہارے غلام اور وہ جو تم میں سے بالغ نہیں ہوئے تین وقت ایسے ہیں کہ اس میں انہیں تم سے اجازت لے کر آنا چاہیے۔ نماز فجر سے پہلے۔ اور دوپہر کو جب تم اپنے کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو اور عشاء کے بعد۔ یہ تین وقت تمہارے پردے کے اوقات ہیں۔ ان اوقات کے علاوہ تمہارے اوپر یا ان (غلاموں اور لڑکوں) پر کوئی الزام نہیں ہے کیونکہ وہ تمہارے پاس کثرت سے آتے جاتے رہتے ہیں۔ اس طرح اللہ نے تمہارے لئے اپنی آیات کو صاف صاف بیان کردیا ہے۔ اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تم میں سے لڑکے بالغ ہونے کی عمر تک پہنچ جائیں تو جس طرح ان سے پہلے بالغ مرد اجازت لیتے تھے اسی طرح یہ بھی اجازت حاصل کریں۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے آیات کو کھو کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور تمہاری وہ (بڑی بوڑھی) عوتیں جو (گھروں میں ) بیٹھ رہی ہیں۔ جنہیں نکاح کی (اب ) کوئی امید نہیں ہے ان پر کوئی گناہ نیں ہے کہ اپنے زائد کپڑے اتار رکھیں بشرطیکہ وہ اپنی زینت کا اظہار نہ کریں۔ اور اس سے بھی احتیاط رکھیں تو ان کے حق میں زیادہ بہتر ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 58 تا 60 : لم یبلغوا (نہیں پہنچے۔ بالغ نہیں ہوئے) ‘ الحلم (سمجھ۔ عقل۔ شعور) ‘ مرات (مرۃ) کئی مرتبہ ۔ بار بار ‘ (تضعون) تم اتار کر رکھ دیتے ہو ‘(ثیاب (ثوب) کپڑے ‘ عورت (عورۃ) چھپانے کی چیزیں ‘(طوافون) پھرا کرتے ہیں۔ آتے جاتے رہتے ہیں ‘(الاطفال) (طفل) بچے ‘(استاذن) اجازت مانگی (القواعد) (قاعدۃ) بیٹھ رہنے والیاں۔ بڑی بوڑھیاں ‘ لایرجون (وہ امید نہیں رکھتے۔ توقع نہیں رکھتے) ‘ غیر متبرجت (ظاہرنہ کرتی ہوں) ‘ ان یستعففن (یہ کہ وہ بچپن) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 58 تا 60 : قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اور احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے قاعدے طریقے مقرر فرمادیئے ہیں جن کی پابند کرنے سے انسان کو انتہائی پاکیزہ ‘ کامیاب اور پر سکون زندگی نصیب ہو سکتی ہے۔ اگر اللہ و رسول کے بتائے ہوئے مقررہ اصولوں کو تڑاجائے گا یا ان کی مخالفت کی جائے گی تو اس سے انسانی زندگی کے تمام معاملات بگڑ سکتے ہیں اور اس کو آخرت کی راحتوں سے محروم کرسکتے ہیں۔ چنانچہ سورة نور میں ابتداء ہی سے نہایت اہم احکامات ارشاد فرمائے گئے ہیں زنا ‘ اس کی سزا ‘ پاک دامن عورتوں پر تہمت اور الزام لگانے کی سزا ‘ لعان کے احکامات دوسروں کے گھروں میں داخل ہوتے وقت اجازت لے کر جانا ‘ مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے نگاہیں نیچی رکھنا ‘ زیب وزینت کا نامحرموں پر ظاہر نہ کرنا ‘ بےنکاحوں کا نکاح کرنا ‘ غلام اور باندیوں کے حقوق کا تحفظ ‘ ان کو زنا پر مجبور نہ کرنا ‘ نور ہدایت کی وضاحت ‘ مخلص مومنوں کی صفات ‘ کفار کے برے اعمال کی بدترین سزائیں وغیرہ احکامات بیان کرنے کے بعد دو اہم احکامات ارشاد فرمائے جارہے ہیں۔ (1) انسان جب تھکا ماندہ اپنے گھر کے اندر پہنچتا ہے تو وہ اپنے گھر میں اپنے معمولات اور پہننے اوڑھنے میں نہایت سادگی ‘ آزادی اور بےتکلفی سے رہنا چاہتا ہے۔ اگر کوئی شخص اچانک آجائے تو وہ اخلاقاتوں کچھ نہ کہے گا ملر دل میں محسوس ضرور کرے گا۔ اس لئے یہ حکم یدا گیا کہ جب کسی کیگھرجائیں تو اجازت لے کرجائیں۔ اگر وہ کسی وجہ سے اس وقت ملنا پسند نہیں کرتا تو اس کو واپس لوٹ جانے میں اپنی توہین محسوس نہ کرنا چاہیے۔ لیکن تین وقت ایسے ہیں جن میں ایک نا بالغ بچے یا لونڈی غلام کا بےتکلف چلے آنا بھی نا گوار گذرسکتا ہے۔ اس لء فرمایا کہ فجر کی نماز سے پہلے ‘ دن میں دوپہر کو اس وقت جب آدمی بےتکلف اپنے گھر میں زائد کپڑے اتار کر آرام کر کتا ہے یا نماز عشاء کے بعد اپنے گھر میں رہتا ہے فرمایا کہ ان تین اوقات میں گھر کے لونڈی ‘ غلاموں اور نا بالغ بچے بھ یا جازت لے کر آئیں کیونکہ یہ تین اوقات انسان کے لئے بےتکلفی اور آزادی سے رہنے کے اوقات ہیں۔ البتہ ان اوقات کے علاوہ دوسرے وقتوں میں نا بالغ بچے اور مملوک (غلام ‘ لونڈی) اگر گھر یلو کاموں سے آئیں جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن جب بچے بالغ ہوجائیں یعنی ان میں جنسی شعور بیدا ہوجائے تو ان کو دوسرے مردوں کی طرح اجازت لے کر آنا لازمی اور ضروری ہے۔ (2) دوسرا حکم یہ دیا گیا ہے کہ وہ عورتیں جنہیں نکاح کی امیدنہ رہی ہو یعین وہ اتنی بورڑھی ہوگئی ہوں کہ نہ تو ان کو ایام آتے ہوں نہ بڑھاپے کی وجہ سے عام طور پر ان کی طرف کسی کو رغبت ہوتی ہو تو ان بوڑھی عورتوں کے لئے جائز ہے کہ وہ گھر کے اندر یا باہر جاتے وقت اپنے زائد کپڑے یعنی اوپر کی چادر (اوڑھنی) نہ لیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ شرط ہے کہ وہ اس طرح نہ رہیں کہ ان کے بدن کی بنائوٹ ‘ بنائو سنگھار اور زیب وزینت کا اظہار ہوتا ہو۔ لیکن اس اجازت کے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا گیا کہ اگر وہ اس سے بچیں یعنی خوب پہن اوڑھ کر نکلیں تو یہ زیادہ بہتر ہے اور اس کا انجام بھی نہایت اعلیٰ ہے۔ بوڑھی عورتیں جن کی طرف عام طور پر کسی کی رغبت نہیں ہوتی جب ان کے لئے اتنے واضح احکامات ہیں تو وہ جوان لڑکیاں جو دوسری قوموں کی نقل میں بےپردگی کی انتہاؤں تک پہنچ گئی ہیں ان کو بےپردگی کی کیسے اجازت دی جاسکتی ہے۔ اصل میں اس بےپردگی نے ہمارے معاشرہ میں بھی ہزاروں وہ خرابیاں پیداکردی ہیں جن کی وجہ سے دوسری قومیں پریشان ‘ شرمندہ اور فکر مند ہیں۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اگر کہیں چند بوڑھی عورتیں جارہی ہوں اور ان کے ساتھ چند جوان لڑکیاں ہوں تو بوڑھی عورتیں پردے کی پابندی کرتی نظر آتی ہیں اور نوجوان لڑکیاں بےپردہ اور ایسے لباس میں نظر آتی ہیں جن کے دیکھنے سے آزاد مزاج کی عورتیں بھی شرماجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آفت سے محفوظ رکھے کیونکہ بےپردگی جتنی تیزی کے ساتھ عام ہورہی ہے نجانے وہ کس انجام تک پہنچا کر چھوڑے گی۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

اندھے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے اور نہ خود تمہارے اوپر کوئی گناہ ہے کہ تم اپنے گھروں سے کھائو یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں کے گھروں سے یا اپے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں سے یا اپنی پھویپوں کے گھروں سے یا اپنے ماموئوں کے گھروں سے یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالیا کرو۔ اور تمہارے اوپر اس بات کا گناہ نہیں ہے کہ تم سب مل کر کھائو یا الگ الگ کھائو۔ پھر جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرلیا کرو۔ یہ سلام برکت والا پاکیزہ تحفہ اور دعا ہے جو اللہ کی طرف سے ہے۔ اس طرح اللہ اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔

لغات القرآن آیت نمبر 61 : الاعمی (اندھے) ‘ حرج (گناہ۔ دل کی گھٹن) ‘ الاعرج (لنگڑا) ‘ ان تأ کلوا ( یہ کہ تم کھائو) امھات ( ام) (مائیں) ‘ اخوان (اخ) (بھائی) ‘ اخوات (اخت) بہنیں ‘ اعمام (عم) چچا ‘ عمات (عمۃ) پھوپیاں ‘ اخوال (خال) ماموں ‘ خالات (خالۃ) خالائیں ‘ ملکتم (تم مالک ہوئے) ‘ مفاتح (مفتاح) چابیاں ‘ صدیق (دوست) ‘ اشتات (الگ الگ) ‘ سلموا (سلام بھیجو) ‘ تحیۃ (دعا ۔ عبادت) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 61 : زندگی کی خوش گواری آپس کے میل جول اور تعلقات میں اصولوں کے تحت جتنی سادگی ہوگی زندگی اور اس کے معاملات میں اسی قدر لطف اور کیف پیدا ہوگا۔ ۔ نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت کے وقت عرب معاشرہ بہت زیادہ سادہ اور تکلفات سے دور تھا کھانے پینے ‘ آنے جانے اور ملنے جلنے میں کوئی پابندی نہ تھی۔ جہاں اس کے کچھ فائدے تھے وہاں حد سے بڑھی ہوئی بےتکلفی کے نقصانات بھی تھے جب دین اسلام نے ملنے جلنے میں کچھ پابندیاں لگائیں اور حکم دیا کہ ہر شخص منہ اٹھا کر دوسرے کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک صاحب خانہ اس کو اجازت نہ دے۔ خاص طور پر تین وقت ایسے ہیں جس میں چھوٹے نا بالغ بچوں اور گھر کے مملوک غلاموں اور باندیوں پر بھی یہ پابندی لگا دی کہ وہ ان اوقات میں کسی کی نجی زندگی میں کسی طرح کی مداخلت نہ کریں۔ اس کے ساتھ ہی پردے کے احکامات بھی نازل فرمائے گئے جس سے صحابہ کرام ؓ میں یہ احساس شدت اختیار کر گیا کہ اس طرح تو ان کی زندگیاں بےکیف ہو کر رہ جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بال کی واضح اور صاف انداز سے ارشاد فرمادیا کہ یہ احکامات تمہاری زندگیوں کی خوش گواریوں کو چھیننے کے لئے نہیں بلکہ تمہاری بےترتیب اور بےہنگم زندگی میں نکھار پیدا کرنے اور منظم کرنے کے لئے ہیں تاکہ تمہاری زندگیوں میں سچی محبت ‘ ہمدردی اور غم گساری کے حسین رنگ پیدا ہوجائیں۔ کھانے پینے ‘ ملنے جلنے اور رہنے بسنے میں اعتدال اور تو ازن سے معاشرہ میں خوش گواریاں اور ہمدردیاں پیدا ہوتی ہیں۔ نہ زیادہ بےتکلفی اچھی ہوتی ہے اور نہ تکلفات۔ دوسری بات یہ تھی کہ عرب معاشرہ میں غریب اور معذروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کو ناپسند کیا جاتا تھا۔ تیسری بات یہ تھی کہ قدیم عرب قبائل میں بعض قبائل کی تہذیب یہ تھی کہ وہ الگ الگ کھاتے تھے اور ایک جگہ بیٹھ کر کھانے کو پسند نہ کرتے تھے۔ کہیں یہ رواج تھا کہ جب تک کوئی اور کھانے والانہ ہوتا تو وہ بھوکا رہنا پسند کرتا مگر کھانا نہ کھاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام رواجوں کو توڑ کر چند بنیادی اصولوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے تاکہ شریعت کی پابندیوں کے باوجود بعض رشتے ایسے ہیں جہاں خود بھی بےتکلفی سے کھائے پئے اور غربی و معذور لوگوں کو بھی کھلائے۔ مل جل کر کھانا اچھی بات ہے لیکن اگر تنہا بھی کھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر کوئی نابینا ‘ لنگڑا یا بیمار شخص ہے اس کے ساتھ مل کر اپنے گھروں میں یا والدین ‘ بھائی ‘ بہنوں ‘ چچاؤں ‘ خالاؤں ‘ پھوپھیوں ' ماموؤں اور ان لوگوں کے گھروں میں جن کے اختیار میں تم اپنی کنجیاں دیدیتے ہو۔ اسی طرح اپنے دوستوں کے گھروں سے کھائو۔ تنہا یا الگ الگ کھائو۔ ان تمام باتوں میں کوئی حرج یا گناہ نہیں ہے۔ ایک ادب یہ سکھایا گیا کہ جب تم ان میں سے کسی کے بھی گھر میں داخ ل ہو تو ان کو سلام کرو کیونکہ سلام کرنا برکت ‘ پاکیزہ تحفہ اور دعا ہے جسے اللہ نے عطا فرمایا ہے۔ اس لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو سلام کیا کرو کیونکہ اس سے اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوتی ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے۔ فرمایا کہ اے انس ؓ (1) کامل وضو کرو اس سے تمہاری عمر بڑھے گی (2) میرا امتی ملے تو اس کو سلام کرو نیکیاں بڑھیں گی (3) گھر میں سلام کر کے جایا کرو اس سے گھر میں خیر و عافیت نصیب ہوگی (4) ضحی ( اشراق ‘ چاشت) کی نماز پڑھا کرو کیونکہ تم سے پہلے صالحین کا یہی طریقہ تھا (5) اے انس ؓ چھوٹوں پر رحم کرو ‘ بڑوں کی عزت و احترام کرو تو قیامت میں تم میرے ساتھ ہوگے۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ نے اپنی آیات کو واضح اور کھول کر بیان کردیا ہے تاکہ تم عقل و سمجھ حاصل کرسکو۔
Ayahs 24:62–64

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں انہیں جب کبھی رسول ﷺ کسی اہم کام کے لئے جمع ہونے کا حکم دیتے ہیں تو جب تک رسول ﷺ سے اجات نہیں لیتے وہاں سے نہیں جاتے۔ بیشک جو لوگ آپ ﷺ سے اجازت مانگتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ (اے نبی ﷺ جب وہ آپ سے کسی کام کے لئے جانے کی اجازت مانگیں تو آپ ان میں سے جس کو چاہیں اجازت دے دیجئے اور ان کے لئے بخشش کی دعاکیجئے۔ بیشک اللہ بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

اور تم رسول ﷺ کے بلانے کو ایسا نہ سمجھو جیسے تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو بیشک اللہ ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے جو تم میں سے کسی کی آڑ لے کر بغیر اجازت چپکے سے کھسک لیتے ہیں۔ وہ لوگ جو ان کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آفت نہ آن پڑے یا ان پر درد ناک عذاب نازل نہ ہوجائے۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

سنو ! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کی ملکیت ہے۔ اللہ تمہاری ہر اس حالت سے واقف ہے جس پر تم ہوتے ہو۔ اور وہ دن جب یہ لوگ اس (اللہ کی) کی طرف لوٹ کرجائیں گے تو وہ انہیں بتائے گا کہ انہوں نے کیا کیا۔ اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 62 تا 64 : امر جامع (اہم کام۔ اکٹھا کرنے والے کام) ‘ شأ ن (کام) ‘ دعاء الرسول (رسول کابلانا) یتسللون (تسلل) کھسک جاتے ہیں۔ چلے جاتے ہیں۔ لواذ (ایک دوسرے کے پیچھے چھپنا۔ آڑلینا۔ پناہ لینا ‘ (الا) سنو۔ غور سے سنو ‘ ینبیٔ(وہ بتادے گا۔ اگاہ کردے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 62 تا 64 : جب نبی کریم ﷺ کے سامنے کوئی اہم ‘ ضروری اور اجتماعی مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ مشورے کے لئے صحابہ کرام ؓ کو جمع فرماتے اور مشورے کے بعد کوئی فیصلہ فرمایا کرتے تھے اور صحابہ کرام ؓ کو یہ بتاتے تھے کہ فلاں کام کو اس طرح کرو۔ ادب یہ سکھایا گیا کہ جب لوگوں کو بلایا جائے تو وہ حاضر ہوجائیں اور اس وقت تک اسمحفل میں شریک رہیں جب تک بات مکمل نہ ہوجائے۔ اگر کسی شدید ضرورت کیوجہ سے جانا ہی پڑجائے تو اجازت لے کرجانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اجتماعی اور ملت کی ضروریات کے سامنے اپنی نجی اور ذاتی ضروریات کو ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ کچھ ایسے منافق بھی موجود تھے جو رسول اللہ ﷺ کے بلانے پر آجاتے تھے لیکن وہ موقع پا کر کسی کی آڑ لے کر بغیر اجازت کھسک لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے طرز عمل اور روش زندگی کو سخت ناپسند کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسے لوگ اللہ کی ناراضگی ‘ رسول کی نافرمانی اور اجتماعی ضروریات سے فرار کا جو راستہ اختیار کر رہے ہیں وہ کسی بڑی آزمائش اور اللہ کی طرف سے کسی درد ناک عذاب کا سبب بن سکتا ہے۔ ان ہی باتوں کو اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاچکے ہیں جب ان کو کوئی اجتماعی مہم درپیش ہو تو اطاعت رسول کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھیان کو بلایا جائے وہ اسی وقت حاضر ہوجائیں اور اس محفل سے اس وقت تک نہ جائیں جب تک اجازت نہ دیدی جائے۔ کیونکہ اپنی خواہش اور ذاتی ضروریات کا سہارا لے کر اٹھ جانا اول تو تہذیب ‘ شائستگی اور آداب محفل کے خلاف ہے لیکن اگر واقعی کوئی فوری اور شدید ضرورت ہو اور رسول اللہ ﷺ مناسب سمجھ کر ان کو جانے کی اجازت دیدیں تو اگر چہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن نافرمانی کی ایک شکل تو ہے اس لئے نبی کریم ﷺ سے فرمادیا گیا کہ آپ ان کے لئے بخشش کی دعا کرتے رہیں۔ اللہ بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ ان آیات میں امت کو ایک ادب یہ بھی سکھایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ادب و احترام کا ہمیشہ خیال رکھیں کیونکہ ان کا کسی محفل میں بلانا اور ذمہ داروں کو طلب کرنا عام لوگوں یا حکمرانوں کا بلانا یا طلب کرنا نہیں ہے۔ بلکہ آپ کی اطاعت وفرماں برداری ہی دین کی بنیاد ہے۔ فرمایا کہ وہ لوگ جو کسی کی آڑ میں یا بہانہ بنا کر آپکی محفل سے کھسک لیتے ہیں یا آپ کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس بات کا خوف رکھنا چاہیے کہ کہیں وہ کسی بڑی مصیبت یا آزمائش میں پڑ کر اللہ کے شدید عذاب کا شکار نہ ہوجائیں۔ کیونکہ اللہ کسی طاقت ور کے سامنے عاجز اور بےبس نہیں ہے بلکہ زمین و آسمان اور کائنات کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے۔ اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ ہر چیز سے پوری طرح واقف ہے۔ جب دنیا کے تمام انسان اللہ کی طرف لوٹ جائیں گے تو وہ ہر ایک کا کچا چٹھا کھول کر اس کے سامنے رکھ دے گا اور ہر ایک کو اس کے اچھے یا برے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیاجائے گا۔ ان آیات سے متعلق چند باتیں اور ان کی تفصیل دراصل مومن وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہوئے انہیں جب بھی کسی اجتماعی کام کے لئے بلایا جاتا ہے تو وہ اسی وقت حاضر ہوجاتے ہیں اپنے نجی اور ذاتی کاموں کو ملت کے اجتماعی کاموں پر قربان کرنے کا عظیم جذبہ رکھتے ہوں۔ (2) اور جب محفل میں حاضر ہوجائیں تو پوری دلچسپی اور دل جمعی سے کام لیتے ہوئے اس اجتماعی کام کو پوری پوری اہمیت دیتے ہیں اور اس میں بڑھ چڑھکر حصہ لیتے ہیں۔ منافقین کی طرح محض خانہ پری یا دکھاوے کی حاضری نہ لگوائیں کہ جہاں موقع ملا کسی کی آڑ لے کر یا کوئی بہانہ بنا کر کھسک لئے۔ البتہ اگر واقعی کوئی شدید یا اچانک ضرورت ہے تو رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر جاسکتے ہیں۔ لیکن اجتماعی کام کی اہمیت اتنی زیادہ ہے فرمایا کہ اگر چہ وہ اجازت لے کر جارہے ہیں مگر ظاہری طور پر یہ بھی نافرمانی کشل ہے اس لئے نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ ایسے صاحبان ایمان کے لئے بھی دعائے مغفرت فرمائیں تاکہ اللہ ان کی اس بات پر ان کی بخشش فرمادے۔ (3) اہل ایمان سے فرمایا گیا کہ اے مومنو ! تم رسول اللہ ﷺ کے بلانے یا طلب کرنے کو آپس میں ایک دوسرے جیسا بلانا مت سمجھو کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا بلانا درحقیقت ایک حکم کا درجہ رکھتا ہے اور اللہ و رسول کی اطاعت کرنے والے ہر وقت اس کا خیال رکھت ہیں کہ ان سے کوئی ایسا کام سرزد نہ ہوجائے جس سے اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری میں ذرا بھی فرق آجائے۔ نبی کریم ﷺ کا ادب و احترام ایمان اور عمل صالح کی بنیاد ہے۔ (4) آداب محفل میں سے اس بات کا ہمیشہ خیال رکھا جائے کہ اجتماعی کاموں میں بےدلی سے شرکت یا مخالفت برائے مخالفت کا طرز عمل اختیار نہ کیا جائے بلکہ محفل میں ہر طرح اللہ و رسول کی اطاعت کا حق ادا کیا جائے۔ جو اس فکر میں رہتے ہیں کہ موقع ملے تو اس محفل سے جان چھڑائی جائے۔ فرمایا کہ یہ طرز عمل منافقین کا ہوسکتا ہے لیکن صاحبان ایمان کا نہیں۔ جو لوگ ایسا کریں گے وہ کسی بڑی آزمائش یا اللہ کے غضب کا شکار ہو سکتے ہیں۔ (5) آخر میں فرمایا کہ زمین و آسمان کی ملکیت اللہ ہی کی ہے۔ وہ بندوں کے ہر حال اور کیفیات سے اچھی طرح واقف ہے۔ جب وہ لوگ قیامت کے دن اللہ کی طرف پلٹ کر جائیں گے تو وہ ان کے کئے ہوئے کاموں کو سامنے رکھ دے گا اور پھر وہ نیکی اور برائی سے کئے گئے کاموں کا بدلہ عطا فرمائے گا۔ اس سے کوئی چیز یا کسی چیز کا انجام پوشیدہ نہیں ہے۔ (6) اب اللہ کے رسول ﷺ دنیاوی حیات کے ساتھ ہمارے درمیان میں نہیں ہیں لہٰذا اب ان کے قائم مقام جو بھی لوگ ہیں اگر وہ کسی اجتماعی کام کے لئے بلائیں تو اس میں شرکت لازمی اور ضروری ہے تاکہ ملت اسلامیہ کے اہم کام صحیح طور پر سرانجام دیئے جاسکیں۔ الحمد للہ سورة النور کی آیات کا ترجمہ اور تشریح تکمیل تک پہنچی واخرو دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین