24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 24:27–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک کہ تم اجازت حاصل نہ کرلو اور اس کے گھر والوں کو سلام نہ کرلو۔ اس میں تمہارے لئے بہتری ہے تاکہ تم دھیان دے سکو۔

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر تم ( ان گھروں میں) کسی کو نہ پائو تب بھی اس وقت تک تم ان میں داخل نہ جب تک تمہیں اجازت نہ دے دی جائے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ تم لوٹ جائو تو تم لوٹ جائو۔ پس تمہارا لوٹ جانا تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

البتہ ایسے مقامات پر تمہیں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے جس میں کوئی رہتا نہ ہو اور اس میں تمہاری کوئی چیز ہو اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 29 : لاتدخلوا (تم داخل نہ ہو) بیوت (بیت) گھر ‘ حتی تستأ نسوا (جب تک تم اجازت نہ لے لو) ‘ حتی یئو ذن ( جب تک اجازت نہ دی گئی ہو) ‘ ارجعوا (تم لوٹ جائو۔ پلٹ جائو) ‘ ازکی (ستھرائی پاکیزگی) ‘ غیر مسکونۃ ( جہاں کوئی رہتا نہ ہو۔ جیسے ہوٹل وغیرہ) متاع (سامان) ‘ تشریح : آیت نمبر 27 تا 29 : شریعت نے ناجائز جنسی تعلق (زنا) اور اس کی سزا ‘ لعان اور حد قذف کے احکامات بیان کرنے کے بعد چند ایسے بنیادی اصول ارشاد فرمائے ہیں جن سے معاشرہ میں فتنہ و فساد ‘ بےحیائی ‘ بےپردگی پھیلنے کے امکانات ختم کئے جاسکتے ہیں کیونکہ دین اسلام نے جہاں بد ترین گناہوں کی سخت ترین سزائیں متعین کی ہیں وہیں ان اسباب کو ختم کرنے پر بھی پوری طرح زور دیا ہے جن سے انسان ان برائیوں کے قریب جاسکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو موجودہ دور میں ہر حکومت ناجائز جنسی تعلق اور دوسروں کی عزت آبرو پر تہمت و الزام لگانے والوں کی برائیوں کو بیان کرتی ہے لیکن ان برائیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش نہیں کرتی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر برائی پہلے سے زیادہ طاقت ور بن کر معاشرہ کو دیمک کی طرح چاٹتی چلی جارہی ہے۔ شراب ‘ زنا ‘ بدکاری اور سگریٹ نوشی کی برائیوں کو بیان کیا جاتا ہے مگر ان چیزوں سے چونکہ حکومت کو ٹیکس ملتا ہے اس لئے اس کی برائیوں میں ایک منافقت کا انداز اختیار کیا جاتا ہے مثلاً سگریٹ فروخت کی جاتی ہے۔ اس کے کارخانے چلانے کے لئے بنکوں کے منہ کھول دیئے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے اشتہارات کے بورڈ لگانے کی اجازت دی جاتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک معمولی سا اشتہار بھی دیا جاتا ہے کہ ” سگریٹ نوشی صحت کے لئے مضر ہے۔ وزارت صحت “۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو چیز صحت کے لئے اس حد تک نقصان دینے والی ہے کہ اس سے کینسر جیسا موذی مرض پیدا ہوتا ہے اور لوگوں کی صحت برباد ہو کر رہ جاتی ہے جس سے لاکھوں انسان ہر روز اسی کی وجہ سے مرتے ہیں۔ آخر ایسی مضر اور خراب چیز کو بند کیوں نہیں کیا جاتا ؟ اس خرابی کو جڑ و بنیاد سے کھود کر کیوں پھینک نہیں دیا جاتا ؟ وجہ یہ ہے کہ اس کہ اس کے ذریعہ کروڑوں اور اربوں روپے کا ٹیکس اور فائدے جو حاصل ہوتے ہیں۔ شریعت اس منافقت کو پسند نہیں کرتی بلکہ جس چیز کو برا کہتی اور سمجھتی ہے اس کو بنیادوں سے اجھاڑ کر پھینک دیتی ہے۔ چناچہ یہاں کچھ ایسے بنیادی اصول بیان کئے جارہے ہیں جن سے گناہوں کا راستہ بند ہوجاتا ہے مثلاً آپس میں ملنا جلنا ایک دوسرے کی خبر گیری کرنا ایک تمدنی اور معاشرتی ضرورت ہے لیکن اس میں بھی کچھ ایسے پہلو ہیں کہ اگر ان کا خیال نہ کیا جائے تو اس سے بہت سی معاشرتی خرابیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ لہٰذا شریعت اسلامیہ نے گناہوں کی سزا مقرر کرنے کے بعد ان کی طرف جانے والے ہر راستے کو بند کردیا ہے۔ اس کا سب سے پہلا اصول یہ مقرر فرمایا کہ ایک دوسرے سے ملنے جلنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اس میں ایک خاص اصول کا خیال رکھا جائے تاکہ نہ کسی کو تکلیف ہو اور نہ بےحیائی کا راستہ کھل سکے۔ مثلاً عربوں میں طریقہ یہ تھا کہ وہ صبح بخیر اور شام بخیر کہہ کر کسی کے بھی گھر میں بےتکلف داخل ہوجایا کرتے تھے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ ایک شخص اس کو پسند نہیں کرتا کہ فلاں وقت اس کے گھر میں کوئی بھی آئے مگر معاشرتی طریقوں کی وجہ سے وہ مجور ہوجاتا تھا کہ وہ دوسروں کا لحاظ کرے اور آنے والے کا خیر مقدم کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوء فرمایا کہ اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے علاوہ دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک اس گھر میں رہنے والوں کی طرف سے مناسب اجازت نہ لے لو اور ان کو سلام نہ کرلو۔ اگر وہ خوشی سے اجازت دیدیں تو ان کے گھروں میں داخل ہو جائو لیکن اگر وہ سلام کا جواب نہ دیں یا وہ اس وقت ملنا نہ چاہیں تو دل میں تنگی محسوس نہ کرو اور واپس لوٹ جائو کیونکہ ہو سکتا ہے وہ شخص جس سے آپ ملنا چاہتے ہیں وہ کسی خاص کام یا آرام میں مصروف ہو اور وہ اس وقت ملنا نہ چاہتاہو۔ اگر وہ انکار کردے تو اس بات کو برا محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخ صتم سے ملاقات کے لئے آئے تو اس کو اپنے گھر آنے کی اجازت دو کیونکہ تمہارے اوپر اس آنے وال کا بھی ایک حق ہے۔ اس کو پاس بلائو یا باہر جا کر اس سے ملاقات کرو۔ اس کا اکرام و احترام کرو۔ اس کی بات سنو بغیر کسی شدید مجبوری کے کسی سے ملنے سے انکار نہ کرو۔ نبی کریم ﷺ نے اسی سلسلہ میں چند ارشادات فرمائے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ (1) آپ جس سے ملنے جارہے ہیں اس گھر کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں داخل ہونا گناہ ہے۔ (2) گھر کے باہر ایک طرف کھڑے ہو کر سلام کرو۔ اگر وقفہ وقفہ سے تین مرتبہ سلام کرنے کے باوجود کوئی جواب نہ آئے تو دل میں کسی طرح کی تنگی محسوس کئے بغیر لوٹ جائو۔ (3) اگر گھر کی بناوٹ ایسی ہو کہ وہاں تک آپ کی آواز اور سلام کی آواز نہیں پہنچ سکتی تو گھنٹی بجا کر بھی اپنی بات پہنچائی جاسکتی ہے جب کوئی شخص باہر آئے تو سلام کرکے اور اپنا نام بتا کر داخلے کی اجازت مانگی جائے۔ (4) اگر ٹیلی فون کی سہولت حاصل ہے تو کسی کے گھر جانے سے پہلے اس کو فون کرلیا جائے لیکن اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ فون ایسے وقت نہ کیا جائے جو کسی کے راحت و آرام کا وقت ہو۔ (5) گھر میں داخل ہونے کے لئے والدہ اور بہنوں سے بھی اجازت لینے کی ضرورت ہے یا کم از کم اپنے گھر میں داخل ہونے کے لئے ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے گھر والوں کو پتہ چل جائے کہ آپ گھر میں داخل ہورہے ہیں۔ ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ کیا میں اپنی والدہ کے پاس جاتے وقت بھی اجازت لوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ان سے بھی اجازت لو۔ عرض کیا یا رسول اللہ میں تو اسی گھر میں رہتا ہوں دن رات والدہ کی خدمت کرتا ہوں میرے سوا ان کے پاس کوئی بھی نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ والدہ کے پاس بھی جائو تو اجازت لے کر جائو۔ فرمایا کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ اپنی ماں کو برہنہ دیکھو۔ اس سلسلہ میں حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ کا قول ہے کہ ” علیکم ان تستاذ نوا امھاتکم احواتکم “ یعنی اپنی والدہ اور بہنوں کے پاس بھی جائو تو اجازت لے کر جائو (ابن کثیر) حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں کے پاس بھی جائو تو کم از کم کھنکار دو ۔ ان کی بیوی حضرت زینب ؓ کی روایت ہے کہ جب حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ گھر میں داخل ہوتے تو کچھ ایسی آواز پیدا کرتے جس سے معلوم ہوجاتا کہ وہ آ ہے ہیں۔ وہ اس کو پسند نہ کرتے تھے کہ کوئی بھی شخص اچانک آن کھڑا ہو۔ (ابن جریر طبری) (6) البتہ اگر کسی کے گھر میں آگ لگ جائے یا چور گھس آئیں تو اس وقت اجازت کا انتظار نہ کرے کیونکہ یہ ایک ایسا وقت ہے کہ جس میں فوراً مدد کی ضرورت ہے۔ (7) اسی طرح جو گھر کسی کی ملکیت نہ ہوں اور نہ کوئی خاص آدمی یا فیملی وہاں رہتی ہو اور داخلے کی بلاروک ٹوک عام اجازت ہو تو وہاں بغیراجازت کے داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسے مساجد ‘ خانقاہیں یا ہوٹل وغیرہ۔ (8) البتہ اگر مساجد ‘ خانقاہوں یا ہوٹلوں میں کچھ ایسی جگہیں مخصوص ہوں جو کسی وجہ سے خاص طور پر متعین ہیں تو ان میں بغیر اجازت داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ ان تمام اصولوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر شخص ایک دوسرے سے میل ملاقات رکھے مگر کوئی شخص بھی اس سے ملاقات کے وقت ایسا انداز اختیار نہ کرے جس سے دوسرے کو کسی طرح کی بھی تکلیف یا کسی کے معاملے میں بےجامداخلت ہو۔ قل للمئو منین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔ ۔ لعکم تفلحون (30 تا 31):
Ayahs 24:30–31

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ مومن مردوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ اس میں ان کے لئے بڑی پاکیزگی ہے۔ بیشک اللہ اس سے (اچھی طرح) واقف ہے جو وہ کرتے ہیں۔

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ آپ مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت (بنائو سنگھار ‘ آرائش) کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو کھلا ہی رہتا ہے۔ اور اپنے دو پٹوں کو سینے پر ڈالے رہا کریں اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ پر یا اپنے شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر یا اپنے (حقیقی ‘ علاتی اور اخیانی) بھائیوں پر یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی (حقیقی ‘ علاتی اور اخیانی) بہنوں کے بیٹوں پر یا اپنی ( ہم مذہب) عورتوں پر یا اپنی لونڈیوں پر یا ان خدمت گذار مردوں پر (جو خواہشات سے خالی ہوں) اور جن کو عورتوں کی طرف ذرا توجہ نہ ہو۔ یا ان بچوں پر جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف نہ ہوں۔ اور اپنے پائوں کو زور سے (زمین پر) مار کر نہ چلا کریں کہ وہ زیور جسے وہ چھپاتی ہیں ظاہر ہوجائے۔ اہل ایمان تم سب مل کر اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم فلاح و کامیابی حاصل کرسکو۔

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 31 : یغضوا (نیچے رکھیں) فروج (فرج) شرم گاہیں) ‘ لایبدین (ظاہر نہ کرے) ‘ ظھر (کھلا رہتا ہے) ‘ خمر (دوپٹے۔ اوڑھنیاں) ‘ جیوب (سینے) بعولۃ (شوہر) ابنائ (بیٹے) اخوان (اخ) بھائی ‘ نسائ (عورتیں) ملکت ایمان (دائیں ہاتھ کی ملکیت ۔ باندیاں) ‘ تابعین (پیچھے چلنے والے) ‘ غیر اولی الاربۃ (جوعورتوں سے کام نہیں رکھتے) ‘ لم یظھروا ( واقف نہیں ہوئے) عورت (چھپانے کی چیز) لا یضربن (نہ مارے) ‘ تو بوا (توبہ کرو) ‘ تشریح : آیت نمبر 30 تا 31 : دین اسلام نے ایک ایسے صاف ستھرے ‘ پاکیزہ اور تقویٰ سے بھر پور معاشرہ کا تصور عطا فرمایا ہے۔ جس میں ہر شخص ایک دوسرے کی جان ‘ مال ‘ عزت اور آبرو کا محافظ ہوتا ہے۔ اسلامی معاشرہ میں ہر چھوٹے بڑے گناہ سے بچنے کا عظیم جذبہ موجزن ہوتا ہے جس سے ہر شخص اطمینان و سکون کی زندگی بسر کرتا ہے۔ قرآن کریم اور سنت رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ بڑے بڑے گناہ ہمیشہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے شروع ہوتے ہیں۔ اگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں احتیاط برتی جائے تو انسان ہر بڑے گناہ سے بچ سکتا ہے۔ ان آیات میں نامحرموں پر بری نظر ڈالنا اس بڑے گناہ کی ابتدا ہے جس سے دنیا اور آخرت تباہ و برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔ کسی نامحرم کے چہرے پر نگاہیں ڈالنے اور اس میں احتیاط نہ کرنے سے انسان بدکاری میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اسی لئے غیر ارادی طور پر اگر کوئی نظر پڑجائے تو پہلی نظر معاف ہے لیکن ارادہ کرکے دوسری مرتبہ نامحرموں کے چہرے پر نگاہ ڈالنا جائز نہیں ہے۔ ایسے موقعوں پر اہل ایمان کو اپنی نظریں پھیر لینی چاہئیں۔ نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے نظر شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ جو شخص خواہش اور دلی تقاضے کے باوجود اپنی نظر پھیر لے گا تو میں اس کے بدلے میں اس کو ایک ایسا مضبوط ایمان عطا کروں گا جس کی حلاوت اور لذت کو وہ اپنے قلب میں محسوس کرسکے گا۔ (ابن کثیر) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے مردوں کو ان کی ذمہ داریوں پر آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ (1) وہ اپنی نظروں کو نیچے رکھیں (2) اور اپنے ستر ڈھانپ کررکھیں۔ مراد یہ ہے کہ جب مردوں اور عورتوں کا سامنا ہو تو مرد اپنی نظروں کو نیچے رکھیں۔ اگر مرد کی نگاہ کسی نامحرم پر پڑجائے تو وہ اس کو فوراً چہرے سے ہٹا لے اور ارادہ کر کے دوبارہ نہ دیکھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مردوں کا ستر ناف سے گھٹنے تک ہے ( بیقی۔ دارقطنی) ستر کو اپنی بیوی کے علاوہ کسی کے سامنے کھولنے کی کی اجازت نہیں ہے۔ اسلامی معاشرہ میں جہاں مردوں کی یہ ذمہ داریاں ہیں وہیں عورتوں سے اس سے بھی زیادہ باتوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ (1) پہلی بات یہ ہے کہ جس طرح مردوں کونا محرم عورتوں پر نگاہ ڈالنا جائز نہیں ہے اسی طرح عورتوں کو بھی یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نامحرموں پر نہ ڈالیں۔ چناچہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھی تھیں۔ اسی وقت نا بینا صحابی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ بھی آگئے۔ آپ نے دونوں ازواج مطہرات سے فرمایا کہ ان سے پردہ کرو بیویوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ نا بینا نہیں ہیں ؟ یہ نہ تو ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ پہچان سکتے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا عبد اللہ تو نا بینا ہیں لیکن تم تو نا بینا نہیں ہو ؟ کیا تم ان کو نہیں دیکھتیں ؟ حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب پردے کے احکامات آچکے تھے ۔ (ترمذی۔ ابو دائود۔ مسند احمد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح مردوں کو نامحرموں پر نگاہ ڈالنے کی ممانعت ہے سی طرح عورتوں کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ نا محرموں پر نگاہیں دوڑائیں۔ (2) دوسرا حکم یہ دیا گیا ہے کہ وہ سوائے شوہر کے اپنے چھپے ہوئے اعضاء کی حفاظت کریں۔ کسی کے سامنے ان اعضاء کو کھولنے اور ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ (3) تیسرا حکم یہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی زینت کی کسی چیز کو بھی ظاہر نہ ہونے دیں۔ البتہ کام کاج میں یا نقل و حرکت میں عادتاً جو اعضاء کھل جاتے ہیں جیسے چہرہ ‘ ہتھیلیاں ‘ بازو اور پاؤں وغیرہ تو محرموں کے سامنے ان کا کھولنا جائز ہے۔ یا باہر نکلتے وقت ہاتھ ‘ پاؤں اور چہرہ جو ہوا سے یا غفلت سے کھل جاتا ہے وہ جائز ہے۔ اصل یہ ہے کہ عورتیں ہر وقت اوڑھنیوں اور دو پٹوں سے اپنی زینت کو چھپائے رہیں۔ اسی لئے فرمایا گیا کہ اپنے سینوں پر دو پٹوں کا آنچل ڈالے رکھیں۔ (جن سے سینہ ‘ کان اور بال ڈھکے رہیں) زمانہ جاہلیت میں عورتیں اپنی زینت کو چھپانے کے لئے نہیں بلکہ فیشن کے طور پر دوپٹہ گلے میں اس طرح ڈال لیتی تھیں کہ دو پٹے کے دونوں کنارے اپنی پشت پر چھڑ دیا کرتی تھیں جن سے گلا ‘ سینہ ‘ کان اور بال کھلے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان خواتین کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ دو پٹے یا چادر کے دونوں پلو ایک دوسرے پر اس طرح الٹ لیا کریں جس سے زینت کے تمام اعضاء چھپ جائیں۔ (4) چوتھا حکم یہ دیا ہے کہ بعض وہ رشتے ہیں جن سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہے ان کو محرم کہا جاتا ہے۔ محرموں کے سامنے ستر کھولنے یا ظاہر کرنے تو اجازت نہیں ہے لیکن بقیہ جسم پر نگاہ ڈالنے کی ممانعت نہیں ہے۔ اگر محرموں کے سامنے ہاتھ ‘ بازو ‘ پاؤں ‘ ہتھیلیاں کھلی رہیں تو وہ جائز ہے۔ سوائے شوہر کے کسی کے سامنے ستر کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔ شوہر سے بیوی کے کسی عضو کا پردہ نہیں ہے بقیہ محارم میں مندرجہ ذیل لوگ شامل ہیں۔ (1) باپ ‘ دادا ‘ پردادا ‘ نانا ‘ پرنانا (2) سسر اور ان کے باپ دادا (3) اپنے لڑکے جو اپنی اولاد ہیں۔ ان میں پوتے ‘ نواسے سب شامل ہیں۔ (4) شوہر کے وہ لڑکے جو کسی دوسری بیوی سے ہوں یعنی سوتیلے بیٹے ‘ پوتے ‘ نواسے (5) اپنے سگے بھائی ‘ باپ شریک بھائی یا ماں شریک بھائی (6) بھائیوں کے لڑکے (بھتیجے ) حقیقی بھائی یا ماں یا باپ شریک بھائیوں کے بیٹے (7) بہنوں کے لڑکے (بھانجے) اس میں حقیقی ماں یا باپ شریک بہنوں کے لڑکے مراد ہیں ۔ یہ مذکورہ سب کے سب پردے اور حجاب کے احکامات سے مستثنیٰ ہیں۔ مگر ستر اس سے بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔ (ان رشتوں کی بقیہ تفصیل فقہ کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے) (پانچواں حکم یہ دیا گیا ہے کہ لونڈی اور غلام سے بھی پردہ نہیں ہے۔ دین اسلام کی برکت سے اب دنیا میں لونڈی اور غلام کا وجود نہیں ہے۔ لیکن جب یہ آیات نازل ہوئی تھیں اس وقت تک لونڈی ‘ غلام کارواج تھا اسی لئے ان کے احکامات کو بیان کیا گیا ہے۔ (6) چھٹا حکم ان لوگوں کے سلسلہ میں بیان کیا گیا ہے جو عورتوں سے یا ان کی پوشیدہ باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے جو محض کھانے پینے کے واسطے طفیلی کے طور پر گھروں میں آتے جاتے ہیں ان سے بھی پردہ نہیں ہے۔ (7) ساتواں حکم دیا گیا ہے کہ عورتیں عورتوں سے پردہ نہ کریں یعنی ان کے لئے پردے کی پابندی نہیں ہے۔ (8) آٹھواں حکم ان نا بالغ بچوں کے لئے دیا گیا ہے کہ ان سے بھی پردہ نہیں ہے جو لڑکے ابھی تک ان باتوں سے ناواقف ہیں جو مردوں اور عورتوں کے چھپے ہوئے بھید ہیں۔ لیکن فقہا نے لکھا ہے کہ اگر نابالغ لڑکے بھی عورتوں مردوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہوں تو ان سے بھی پردہ کیا جائے گا۔ (9) نواں حکم یہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پاؤں یا ان میں پہنے ہوئے زیور یا جوتوں کو اتنی زور سے نہ چھنکائیں جن سے خواہ مخواہ بھی غیر مرد متوجہ ہوجائیں اور برائیکا دروازہ کھل جائے۔ (10) دسواں حکم یہ دیا گیا ہے کہ جو بھی صاحبان ایمان ہیں وہ اگر حقیقی فلاح اور کامیابی چاہتے ہیں تو ان کو ہر وقت اللہ سے توبہ کرتے رہنا چاہیے۔ ان احکامات کے علاوہ نبی کریم ﷺ کی احادیث سے چند اور بھی احکامات سامنے آتے ہیں جن کی پابندی کرنا ہر مسلم خاتون کی ذمہ داری ہے۔ مثلا وہ خوشبو لگا کر گھر سے باہر نہ نکلیں۔ ایسے بھڑک دار ‘ چست اور خوبصورت برقعے استعمال نہ کریں جن سے دیکھنے والے خواہ مخواہ بھی متوجہ ہوجائیں اور گناہ گار ہوں۔ اسی طرح اتنا باریک لباس نہ پہنیں جس سے جسم جھلکتا ہو۔ وہ اپنی آواز کا بھی پردہ رکھیں کیونکہ عورت کی آواز سے بھی اکثر فتنے جنم لیتے ہیں۔ یقیناً جو مرد اور خواتین مذکورہ قوانین کی پابندی کریں گے وہی دنیا اور آخرت کی حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں گے۔
Ayahs 24:32–34

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور تم میں سے (جو مرد اور عورتیں) بےنکاح ہیں ان کے نکاح کردیا کرو۔ اور تمہاری لونڈیوں اور غلاموں میں سے جو نکاح کے لائق ہوں ان کا نکاح بھی کردیا کرو۔ اور اگر وہ غریب و مفلس ہوں گے تو اللہ اپنے فضل و کرم سے ان کو غنی (بےنیاز) کردے گا۔ اللہ بہت وسیع علم رکھنے والا ہے۔

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جن لوگوں میں نکاح کی طاقت نہ ہو وہ اپنے آپ کو اس وقت تک قابو میں رکھیں جب تک اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل و کرم سے مال دار نہ کردے۔ اور (لونڈی غلاموں میں سے) جو مکاتب (غلامی سے نکلنے کے لیے لکھنا پڑھنا) ہونا چاہتے ہیں اگر تم ان میں بہتری پاتے ہو تو ان کو مکاتب بنادو۔ اور اللہ نے تمہیں مال دے رکھا ہے اس میں سے ان کو بھی دو اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کیا کرو، بالخصوص جب کہ وہ خود پاک دامن رہنا چاہتی ہوں اور تم یہ ذلیل حرکت محض اس لیے کرو کہ تم دنیا کا کچھ مال حاصل کرسکو پھر یاد رکھو کہ جو ان کو مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہونے کے بعد ان کی بخشش فرما دے گا کہ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تمہاری طرف کھلی کھلی آیات نازل کی ہیں اور تم سے پہلے جو لوگ گذر گئے ہیں ان کے حالات (بیان کئے گئے ہیں) اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 32 تا 34 : انکحوا (نکاح کردو) ‘ الایامی (ایم) بےنکاح مرد یا عورت ‘ عباد (عبد) غلام ‘ امائ (امۃ) لونڈیاں۔ غلام عورتیں ‘ یستعفف (وہ بچتا ہے) ‘ اتو (تم دو ) ‘ لاتکرھوا (تم زبردستی نہ کرو) ‘ فتیت (جوان۔ (جوان لونڈیاں) ‘ البغاء (بدکاری) تحصنا (پاکدامنی) ‘ مثلا (کچھ حالات واقعات) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 32 تا 34 : قرآن کریم اور متعدد و احادیث میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر شخص نکاح کے ذریعہ اپنا گھر بسا کر صحیح راستہ اختیار کرے جو نسل انسانی کی بقا کا سبب بن سکے۔ بےنکاحی کی زندگی گذارنا ایک غلط طریقہ زندگی ہے جس سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اسی لئے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ پورے اسلامی معاشرہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے درمیان ایسے لوگوں کو نکاح پر آمادہ کریں جو اس قابل ہیں کہ زندگی کی ذمہ داریوں کو اٹھا سکتے ہیں۔ غربت و افلاس کا بہانہ بنا کر وہ اس فرض زندگی سے فرار کے راستے تلاش نہ کریں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ زندگی کی اس اہم تبدیلی سے اللہ دونوں میاں بیوی کے حالات کو اس درجہ تبدیل فرمادیں کہ فقرو فاقہ کی جگہ خوش حالی نصیب ہوجائے۔ اس حکم میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے ابھی تک نکاح نہیں کیا اور وہ بھی شامل ہیں جو شوہر کی وفات کی وجہ سے بےنکاحی کی زندگی گذاررہی ہیں۔ اس مضمون کی وضاحت درج ذیل احادیث سے بخوبی ہوجاتی ہے۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نکاح کرو ‘ بےنکاحی کی زندگی گارنا سخت منع ہے۔ ایک حدیث میں فرمایا کہ جس کے پاس (بقدر ضرورت) مال ہو اور وہ نکاح نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایسی عورتوں سے نکاح کرو جن میں کثیر النسل ہونے کی قابلیت و صلاحیت ہو۔ نسل بڑھائو کیونکہ میں تمہاری کثرت سے گذشۃ امتوں پر فخر کروں گا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے علی ! تین کاموں میں کبھی دیر نہ کرو (1) فرض نماز ‘ جب اس کا وقت ہوجائے (2) جنازہ ‘ جب بھی موجود ہو (3) بیوہ عورت جس کا ہم کفو (ہم پلہ) مل جائے۔ ایک اور جگہ نوجوانوں کے گروہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تم میں سے جس میں نکاح کی طاقت ہو وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح سے حرام نظر کی بندش و رکاوٹ اور نہایت احسن طریقہ پر شرم گاہ کی حفاظت ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے وہ شخص جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو وہ نکاح کی درخواست کرے تو نکاح کردو ورنہ زمین پر بڑا فتنہ و فساد ہوگا۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے تین آدمی ایسے ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں (1) وہ شخص جو پاک دامن رہنے کے لئے نکاح کرتا ہے (2) دوسرے وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلتا ہے (3) تیسرے وہ مکاتب جو مال کتابت ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے۔ (ابن کثیر۔ ابو دائود۔ ترمذی) مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس نے اپنے آقا سے یہ معاہدہ کرلیا ہے کہ جب وہ آقا کی طرف سے مقرر کی ہوئی رقم ادا کر دے گا یا آقا کی طرف سے متعین خدمت سرانجام دے لے گا تو وہ آزاد ہوجائے گا اسی معاہدہ کی لکھت پڑھت کو مکاتبت کہا جاتا ہے ۔ عرب میں لونڈی اور غلاموں کو مال تجارت اور مال کمانے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ وہ انسان ہیں نہوہ ان سے انسانوں جیسا معاملہ کیا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ اپنی لونڈیوں کو اس بات پر مجبور کرتے تھے کہ وہ کسی طرح اور کسی بھی طریقے سے مال کما کر لائیں جس سے وہ غلام عورتیں جن کو لونڈی کہا جاتا ہے پیشہ تک کرنے پر مجبور وہ جای کرتی تھیں۔ رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی کے پاس چند لونڈیاں تھیں جن سے وہ پیشہ کراتا تھا اور ان کی کمائی پر گذارا کرتا تھا۔ جن میں سے ایک لونڈی کو اللہ نے ہدایت نصیب فرمادی اور اس نے اسلام قبول کرلیا تو عبد اللہ ابن ابی نے اس پر ناقابل تصور تشدد کرنا شروع کردیا۔ جب نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے ایک رقم دے کر اس کو خرید کر آزاد کردیا۔ یہ اور اس طرح کے بیشمار واقعات تھے جن میں یہ مظلوم عورتیں زندگی گذار رہی تھیں لیکن نبی کریم ﷺ نے امت کو ایسے طریقے عطا فرمائے کہ جس سے کسی کی نجی ملکیت بھی متاثر نہیں ہوئی اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں غلام اور باندیاں آزاد ہوتی چلی گئیں۔ روایات کے مطابق خلافت راشدہ کے اختتام تک تقریباً غلاموں اور باندیوں کا رواج دم توڑ چکا تھا۔ دین اسلام نے غلاموں اور باندیوں کو انسانوں کا اعلیٰ درجہ دے کر ان کے انسانی حقوق متعین فرمادیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مظلوم غلاموں اور باندیوں کی آزادی کو عبادت کا درجہ عطا فرمایا اور ہر زکوۃ ادا کرنے والے کی یہ ذمہ داری لگادی کہ وہ اور مصارف زکوۃ کے ساتھ ” گردنیں چھڑانے “ یعنی غلاموں ‘ باندیوں کا آزاد کرانے میں زکوۃ اور صدقات کی رقموں کو خرچ کرسکتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے (1) غلاموں اور باندیوں کو انسانی درجہ اور مقام عطا کیا۔ ان کے حقوق متعین فرمائے۔ (2) اگر کوئی محنت مزدوری کر کے اپنے آپ کو غلامی کی لعنت سے چھڑانا چاہتا ہے اور اپنے مالک سے کوئی معاہدہ کرلیتا ہے تو اسلامی معاشرہ کی یہ دمہ داری ہے کہ زکوۃ ‘ صدقات اور عطیات کے ذریعہ اس مکاتب غلام کی آزادی کی فکر کی جائے تاکہ وہ بھی آزاد ہو کر زندگی کی دوڑ میں شریک ہوجائے۔ البتہ غلاموں کے مالکوں کی یہ ذمہ داری بھی لگائی گئی ہے کہ وہ یہ دیکھ لیں کہ اگر اس غلام کی آزادی سے اسلامی معاشرہ کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو سوچ سمجھ کر قدم بڑھایا جائے ورنہ عام حالات میں غلاموں کے مالکوں کو مہربانی اور ہمدردی کا معاملہ کرنا چاہیے۔ (3) اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر ایک پاک دامن باندی اپنی پاکیزگی اور پاک دامنی کے لئے فکر مند ہو تو اس کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ یہ تو انتہائی شرمناک بات ہے کہ ایک لڑکی پاک دامن رہنا چاہتی ہے اور مالک اس کو بدکاری اور حرام کمائی پر مجبور کرتا رہے۔ بدکاری کی کسی حال میں اجازت نہیں ہے لیکن وہ لڑکی جو پاک دامن رہنا چاہتی ہے اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرنا چاہتی ہے اس میں معاشرہ کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ وہ ایسی لڑکیوں کی آبرو کی حفاظت کے لئے جدوجہد کرے۔ (4) ان آیات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو لوگ نکاح پر قدرت نہیں رکھتے وہ صبر و تحمل اور برداشت سے کام لیں اور مناسب وقت کا انتظار کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ کثرت سے روزے رکھا کریں تاکہ ان کے شہوانی جذبوں کو سکون مل سکے۔ آخر میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے کھلی کھلی اور واضح آیات اور گذشتہ قوموں کے واقعات کو بیان کیا ہے تاکہ ہر مومن اور متقی ان احکامات اور گذرے ہوئے واقعات سے عبرت و نصیحت حاصل کرسکے ۔
Ayahs 24:35–40

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ( ہدایت ) ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق۔ جس طاق میں ایک چراغ ہو۔ وہ چراغ ایک شیشے کی (قندیل میں) ہو اور وہ شیشہ ایک چمکتا ہوا تارہ ہو۔ وہ روشن کیا جاتا ہو ایک مبارک درخت زیتون سے جسکا رخ نہ مشرق ہے نہ مغرب۔ قریب ہے اس کا تیل خود ہی وشنی دینے لگے اگر چہ اس کو آگ نے چھوا بھی نہ ہو۔ وہ سراسر نور ہی نور ہے۔ اللہ اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اللہ نے لوگوں (کو سمجھانے ) کے لئے مثالیں بیان کی ہیں۔ اور اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

یہ چراغ ان گھروں میں روشن کیا جاتا ہے جن کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کی قدر و منزلت کی جائے۔ ان میں اس کا نام لیاجائے اور ان مکانوں میں صبح و شام اس کی پاکی وہ لوگ بیان کرتے ہیں

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

جنہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے ‘ نماز کو قائم کرنے سے اور زکوۃ دینے سے غافل نہیں کرتی ( یہ وہ لوگ ہیں) جنہیں اس دن کا خوف ہے جس دن بہت سے دل اور آنکیں الٹ پلٹ دی جائیں گی۔

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ اللہ ایسے لوگوں کو بہتر سے بہتر بدلہ اور اپنے فضل و کرم سے اور بھی زیادہ عطا فرمائے۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال ایک چٹیل میدان کے سراب (چمکتے ریت کے دھوکے) کی طرح ہیں۔ جسے پیاسا پانی سمجھ کر اس کے قریب جاتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں ملتا۔ اور اس نے اللہ کو اپنے پاس پایا تو اللہ نے اس کا حساب برابر کردیا اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

(یا ان کے اعمال ایسے ہیں) جیسے گہرے دریا میں اندھیرا ایک موج دوسری موج پر چھائی ہوئی ہے اس کے اوپر بادل ہے۔ تاریکی پر تاریکی مسلط ہے۔ اگر وہ اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی دیکھنے نہ پائے (سچ ہے) جسے اللہ ہی روشنی نہ دے اس کو کہیں روشنی نہیں ملتی۔

لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 40 : مسکوۃ (طاق) ‘ مصباح (چراغ) ‘ زجاجۃ (شیشہ۔ قندیل) ‘ کو کت (ستارہ) ‘ دری (موتی کی طرح چمک دار) یوقد (روشن کیا جاتا ہے) ‘ زیت (تیل) یضیء (روشن کیا جاتا ہے) ‘ لم تمسس (نہ چھوا ہو) ‘ یضرب (بیان کرتا ہے۔ مارتا ہے) ‘ اذن (اجازت دی ہے) ‘ ترفع (بلند کیا جاتا ہے۔ کیا جائے) ‘ الغدو (صبح) ‘ الاصال (شام) لاتلھی (غافل نہیں کرتی) ‘ بیع (تجارت۔ لین دین) ‘ قیعۃ (قاع) چٹیل کھلا ریت کا میدان) ‘ الظمان (پیاسا) ‘ لجی (گہرپانی) ‘ سحاب (بادل) ‘ لم یکد (قریب نہیں ہے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 35 تا 40 : آسمانوں ‘ زمین اور کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ کی ہدایت کا نور موجزن ہے۔ جہاں بھی اس کی ہدایت و رہنمائی کا نور نہیں پہنچتا وہیں اندھیرا ‘ ظلمت اور تاریکی ہے۔ اللہ جسم اور جسمانیت سے پاک ہے اسی لئے اس کے ہدایت کے نور کو دیکھنا ہو تو اس کے مراکز وہ گھر (مساجد) ہیں جو نہایت قابل احترام ہیں جو ہر طرح کی غلاظت و گندگی اور خرابیوں سے پاک ہیں۔ انسان کی یہ سب سے بڑی سعادت ہے کہ ان مسجدوں کو اللہ کی یاد سے ‘ اس کے ذکر اور عبادت و بندگی سے آباد کرنے کی جدوجہد کرے کیونکہ جسم انسانی میں جو مقام دل کا ہے وہی مقام انسانی بستیوں میں مسجد کا ہے۔ جس طرح انسان کا دل ایمان سے روشن ومنور ہوتا ہے اسی طرح مسجدیں اللہ کی عبادت و بندگی آباد ہوتی ہیں۔ جو لوگ اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ان مساجد کی تعمیر کرتے اور صبح و شام (یعنی فجر سے عشاء تک) جمع ہوتے ہیں۔ اپنے کاروبار اور اس کی مشغولیتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ ان گھروں (مساجد) کی طرف دوڑ کر آتے ہیں۔ نمازوں کو قائم کرتے اور زکوۃ دیتے ہیں اور اس دن کی تیاری میں لگے رہتے ہیں جب انہیں اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینے کے لئے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ جنہیں اس بات کا یقین کامل ہوتا ہے کہ وہ جس پروردگار کی عبادت و بندگی کررہے ہیں وہی برحق ہے اور اس سوا دوسرا کوئی خالق ومالک اور معبود نہیں ہے تو اللہ کا ان سے وعدہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو ان کی توقع سے زیادہ بےحدو حساب اجرو ثواب عطا فرمائے گا اور وہ جنت کی ابدی راحتوں سے ہم کنار ہوں گے۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو اس نور ہدایت سے دور ہیں اور وہ اندھیروں میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں بھٹک رہے ہیں اور ایک اللہ کو چھوڑ کر اپنے ہاتھوں سے گھڑے ہوئے معبودوں کے سامنے سر جھکا رہے ہیں وہ ایک ایسے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں جہاں حسرتوں اور ناکامیوں کے سوا کچھ بھی نصیب نہ ہوگا۔ یہ اس پیاسے شخص کی طرح ہوں گے جو دوپہر کو صحرا میں چمکتے ریت کو پانی سمجھ کر اس کی طرف لپک رہا ہے لیکن قریب جانے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہاں تو سوائے چمتی اور تپتی ہوئی ریت کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ جو کچھ دیکھ رہا تھا وہ فریب نظر کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ فرمایا اسی طرح یہ لوگ جو دنیا کی وقتی چمک دمک کو دیکھ کر خوش ہورہے ہیں اور اپنی بد اعمالیوں پر بڑے مطمئن نظر آرہے ہیں جب موت آجنے کے بعد سفر آخرت پر روانہ ہوں گے اور دنیا کی ہر چیز ان سے چھوٹ جائے گی تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ زندگی بھر جس سائے اور سراب کے پیچھے دوڑتے رہے ہیں وہ فریب نظر اور دھوکے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ جب یہ حقیقت ان کے سامنے کھل کر آجائے گی تو اس وقت ان کی حسرت ویاس انکے کچھ کام نہ آسکے گی۔ ان آیات میں ایک اور مثال دی گئی ہے اور فرمایا ہے کہ اگر ایک اندھیری رات ہو ‘ بادلوں سے آسمان ڈھکا ہوا ہو ‘ موجوں اور پانی کی گہرائیوں کا اندھیرا اتنا شدید ہو کہ خود اپنا ہاتھ بھی اندھیرے میں سجھائی نہ دیتا ہو ‘ ہر طرف ایسا اندھیرا ہو کہ کہیں سے بھی روشنی کی کوئی کرن نظر نہ آرہی ہو۔ اس وقت اس اندھیرے میں بھٹکنے والے کا کیا حال ہوگا۔ فرمایا کہ اسی طرح وہ شخص جو اپنے اعمال کی سیاہی کے اندھیروں کو بڑھاتا چلا رہا ہو وہ آخرت میں سوائے بھٹکنے اور دھکے کھانے کے کچھ بھی حاصل نہ کرسکے گا۔ ایسے لوگوں کو اسی دنیا میں فکر ہونی چاہیے کہ ان کی زندگی کے یہ گہرے اندھیرے کیسے دور ہو سکتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ اندھیرے صرف اللہ کے نور ہدایت سے دور ہو سکتے ہیں۔ اگر اس کا نور ہدایت نہ ہو تو پھر سوائے تاریکیوں اور اندھیروں کے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ زندگی کے اندھیروں میں بھٹکنے والوں کے لئے اس نے اپنے نور اور روشنی سے بھر پور کلام کو نازل کیا ہے جس میں سچی رہنمائی کے سچے اصول بیان فرمادیئے ہیں۔ انسان کے دلوں پر اگر بری خواہشات اور گناہوں کا اندھیرا چھایا ہوا نہ ہو تو یہ اللہ کا کلام اس کی زندگی کے اندھیروں سے اس کو نجات دلا سکتا ہے۔ اللہ نے اپنے کلام کے ساتھ پاکیزہ نفوس انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھیجا جنہوں نے اللہ کے کلام کے ذریعہ انسانوں اور دنیا کے اندھیروں کو دور کرکے انسانوں کو ان کی سچی منزل سے آثنا کیا او اب اللہ نے اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیجا ہے جن کی زندگی نور علی نور ہے جن کا دامن تھامنے سے ہی کائنات اور انسانوں کے دلوں سے اندھیر دور ہو سکتے ہیں۔ سورئہ نور کی ان آیات سے متعلق چند ضروری باتوں کی وضاحت بھی پیش نظر رکھیئے۔ (1) علماء مفسرین نے سورة نور کی ان آیات کی تشریح نہایت وضاحت سے فرمائی ہے اور کافی بحثیں بھی کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اس جگہ نور سے مراد اللہ کی ہدایت کا نو ہے جو کائنات کے ذرے ذرے میں موجزن ہے اور ہر طرف اسی کی روشنی بکھری ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ایک ایسے صاف شفاف اور چمک دار اور روشن چراغ کی طرح ہے جس سے ہدایت و رہنمائی لئے بغیر انسان جہالت کی تاریکیوں سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نور ہدایت کو ایک محسوس مثال کی ذریعہ سمجھا یا ہے ۔ فرمایا ہے کہ ایک طاق ہے جس میں ایک ایسا چراغ جل رہا ہے جو ایک شیشے کے اندر ہے اور یہ چراغ زیتون جیسے مبارک تیل سے مسلسل جل رہا ہے اور روشن ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا زیتون کا وہ درخت جو نہ تو مشرقی رخ پر ہے اور نہ مغربی سمت میں۔ اسی طرح ہر انسان کا بدن ایک طاق کی مانند ہے اور اس کا دل ایک قندیل کی طرح جس میں اگر قرآن کریم جیسی کتاب کا نور ہو اور اس نور کو بڑھانے وال سراپا نور حضرت محمد ﷺ ہوں تو اس قندیل کی روشنی کا کیا ٹھکانا ہے تو درحقیقت نور علی نور ہے۔ پھر کائنات میں بکھری ہوئی حقیقتوں اور اس کے علوم کا سمجھنا بھی آسان اور صراط مستقیم پر چلنا بھی سہل ہوئے گا۔ اس کے بر خلاف جو لوگ اس روشنی سے محروم ہیں وہ اس دنیا میں بھی جہالت اور نادانی کی تاریکیوں میں ہیں اور آخرت میں تو ان کو سوائے ٹھوکروں اور جہنم کی آگ کے کچھ بھی نہ سکے گا۔ یہ دنیا کی زندگی اور اس کی راحتیں ان کے لئے صحرا کے اس چمکتے ریت سے زیادہ ثابت نہ ہوں گی جو دور سے پانی نظر آتا ہے مگر قریب پہنچنے پر وہ فریب نظر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ (2) ان آیات میں دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ اللہ کے اس نور ہدایت کے مراکز وہ گھر (مساجد) ہیں جو ہر اعتبار سے قابل احترام اور عظمت کی بلندیوں پر واقع ہیں جہاں صبح و شام اللہ کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ نے اسی لئے فرمایا ہے کہ اللہ کے ان گھروں کو بلند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان گھروں (مساجد) کی تعظیم اور احترام کیا جائے۔ اور ہر اس کلام سے بچا جائے جو لغو اور فضول ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے ان گھروں کی تعظیم یہ ہے کہ ان کو ہر طرح کی ظاہری اور باطنی گندگیوں سے پاک رکھا جائے۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب ان مساجد میں کوئی نجاست لائی جاتی ہے تو مسجد اس طرح سمٹتی اور سکڑتی ہے جس طرح انسان کی کھال آگ سے سکڑتی اور سمٹتی ہے۔ بعض حضرات نے بلند کرنے کا مفہوم یہ لیا ہے کہ اگر مساجد کو بلند اور خوبصورت بنایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ اگر محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے مساجد کی عمارتوں کو بلند بنایا جائے جس میں نام و نم ود اور شہرت کا کوئی پہلو نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے نور ہدایت کا ذریعہ یہ مساجد ہیں جن کو اللہ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ ان کو صاف ستھرارکھنا اور ان سے محبت رکھنا ایمان کی علامت اور قلب کی حلاوت ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ جو شخص اللہ سے محبت رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ مجھ سے محبت کرے اور جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ میرے صحابہ سے محبت کرے اور جو صحابہ سے محبت رکھنا چاہے اس کو چاہیے کہ وہ قرآن مجید سے محبت کرے اور جو قرآن سے محبت رکھنا چاہے اس کو چاہیے کہ وہ مسجدوں سے محبت کرے کیونکہ وہ اللہ کے گھر ہیں اللہ نے ان کی تعظیم کا حکم دیا ہے اور ان میں برکت رکھی ہے ۔ وہ بھی بابرکت ہیں اور ان کے رہنے والے بھی بابرکت ہیں اور وہ اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ وہ لوگ اپنی نمازوں میں مشغول ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے کام بناتا ہے اور انکی حاجتیں پوری کرتا ہے وہ مسجدوں میں آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے پیچھے ان کی چیزوں کی حفاظت کرتا ہے۔ (3) تیسری بات یہ فرمائی کہ وہ لوگ جو اللہ کے گھروں کی تعظیم اور احترام کرتے ہیں تو ان کی تجارت اور لین دین ان کو اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتی بلکہ وہ اللہ کا ذکر کرتے ‘ نماز قائم کرتے اور زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ اور وہ ایک ایسے سخت دن (قیامت) سے ڈرتے رہتے ہیں جب لوگوں کے دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے گھروں کے اس احترام اور خوف کی وجہ سے ان لوگوں کو خوب نواز تے ہیں اور ان کو ان کے تصور سے زیادہ اس دنیا میں اور آخرت میں جزائے خیر عطا فرمائیں گے۔ لیکن وہ لوگ جو اپنے کفر و شرک سے باز نہیں آتے اور اسی میں سرگرداں رہتے ہیں ان کو اس دنیا میں اور آخرت میں کچھ بھی ہاتھ نہ لگے گا۔ ان کی اس دنیا کی راحتیں قیامت کے دن سراب سے زیادہ حیثیت نہ رکھیں گی جس طرح ایک پیاسا شخص دور سے چمکتی ریت (سراب) کو پانی سمجھ کر اس کی طرف بےقراری سے دوڑتا ہے مگر وہاں سوائے چمکتی ریت کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا اسی طرح جب یہ لوگ قیامت کے ہولناک دن اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو دنیا کے اسباب اور عیش و آرام ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے۔
Ayahs 24:41–46

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور پر پھیلائے ہوئے پرندے ہیں ان سب نے اپنی عبادت کا طریقہ اور اپنی تسبیح کو جان رکھا ہے اور جو کچھ وہ کرتے ہیں ان سب باتوں کا علم اللہ کو ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ کے لئے ہے اور اللہ ہی کی طرف (سب کا ) ٹھکانا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بادلوں کو اللہ ہی چلاتا ہے پھر وہی ان کو آپس میں ملادیتا ہے۔ پھر وہ انہیں تہہ بہ تہہ کرتا ہے پھر ان کے درمیان سے بارش کو برستے دیکھتے ہو۔ اور آسمان میں جو اولوں کے پہاڑ ہیں پھر جس پر چاہتا ہے ان کو گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہسیہٹا دیتا ہے۔ اور اس کی بجلی کی چمک ایسی ہے جیسے آنکھوں کو اچک کرلے جائے گی۔

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے۔ بشیک ان میں عقل رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے ہار جاندار کو اپنی سے پیدا کیا ہے بعض ان میں سے اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں بعض ان میں سے دو پائوں پر چلتے ہیں اور بع ضان میں سے چار پائوں پر چلتے ہیں۔ اور جو وہ چاہتا ہے وہ پیدا کرتا ہے۔ بیشک اللہ ہی قدرت رکھنے والا ہے۔

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

یقینا ہم نے آیتوں کو صاف صاف نازل کیا ہے اور اللہ جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت عطا کردیتا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 41 تا 46 : صفت (صافۃ) (صفیں بنانے والے۔ پر پھیلانے والے) ‘ یزجی (ازجائ) وہ ہانکتا ہے۔ چلاتا ہے) ‘ یئولف (ملادیتا ہے) ‘ رکاما (تہہ در تہہ ایک کے اوپر دوسرا) ‘ الودق (بارش) ‘ خلال (درمیان) ‘ برد (اولے۔ برف) ‘ یصرف (وہ پھیر دیتا ہے۔ پلٹا دیتا ہے) ‘ مسنا (چمک) ‘ یقلب (وہ بدلتا ہے) اولی الا بصار (آنکھوں والے۔ عقل رکھنے والے) ‘ دابۃ (جان دار۔ زمین پر رینگنے والا) ‘ بطن (پیٹ) رجلین (دونوں پاؤں ) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 41 تا 46 : اس سے پہلے آیات میں نہایت وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے کہ اس کائنات میں صرف ایک اللہ کا نور ہدایت ہے جس کی روشنی اور رہنمائی میں سارا نظام کائنات چل رہا ہے۔ اسی بات کو ذرا اور تفصیل سے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اس کائنات میں جتنی بھی ملوقات ہیں وہ اسی کے نور ہدایت سے فیض حاصل کر کے اسی کی عبادت و بندگی ‘ حمد وثناء اور تسبیح میں مشغول ہیں۔ جس کی جو ذمہ داری لگادی گئی ہے وہ اس کو نہایت احسن طریقہ پر انجام دے رہا ہے۔ لیکن وہ انسان جس کے لئے اس پوری کائنات کا نظام بنایا گیا ہے اور اس کی رہبری و رہنمائی کے لئے صراط مستقیم پر چلنے کے لئے واضح آیات اور نشانیوں کو بھیجا گیا ہے وہ ان پر نہ تو عمل کرتا ہے اور نہ عبرت ونصیحت حاصل کرتا ہے۔ زمین ‘ آسمان ‘ چاند ‘ سورج اور ستارے چرند ‘ پرند ‘ درند ‘ خشکی ‘ تری ‘ ہوا اور پانی میں بسنے والی بیشمار مخلوقات ہیں جو ہر وقت اللہ کی حمد وثناء اور عبادت و بندگی میں لگی ہوئی ہیں۔ جو اپنی ذمہ داری کو پہچانتی اور عمل کرتی ہیں لیکن انسان ان باتوں سے بےپرواہ غفلت اور غیر ذمہ داری کا انداز اختیار کئے ہوئے ہے۔ فرمایا کہ انسان اگر ذرا غور و فکر اور تدبر سے کام لے تو اس پر یہ حقیقت پوری طرح کھل کر سامنے آجائے گی کہ اس کا رخانہ قدرت کو اللہ رب العالمین اپنی لامحدود طاقت و قوت سے چلا رہا ہے اور اس نے قدم قدم پر عبرت و نصیحت کے ہر پہلو کو اجاگر کردیا ہے اور اس نے اپنی نعمتوں کو ساری کائنات میں بکھیر دیا ہے۔ وہ نعمتیں کیا ہیں ؟ ان میں سے چند چیزوں کو بطور مثال بیان کردیا گیا ہے۔ فرمایا کہ تم دن رات اپنی آنکھوں سے پرندوں کو پر پھیلائے اور صفیں بنائے ہوئے اڑتے دیکھتے ہو۔ ان کو فضا میں کون سنبھالے ہوئے ہے۔ یقیناً ایک اللہ کے سوا دوسرا کون ہے۔ فرمایا کہ وہ پرندے ہر وقت اس کی تسبیح اور عبادت و بندگی میں مشغول ہیں ۔ ان کے منہ سے نکلنے والی آوازیں درحقیقت اللہ کی حمد و ثنا کی گونج ہیں جنہیں عام آدمی سمجھنے سے قاصر اور مجبور ہے۔ البتہ اگر اللہ کسی کو اس بات کی صلاحیت عطا فرمادے کہ وہ ان کی تسبیح کو سمجھ سکے تو یہ ممکن ہے۔ جس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ نے تمام جان داروں کی بولیاں سمجھنے کی صلاحیت دی تھی۔ اسی طرح رسو ل اللہ ﷺ کے دست مبارک میں کنکریوں کا تسبیح کرنا جس کو صحابہ کرام ؓ نے بھی اپنے کانوں سے سنا۔ فرمایا کہ غور کرے کی بات ہے کہ اللہ نے ان پرندوں کو پیدا کیا اور ان کی مناسب رہنمائی فرمائی جس سے وہ اپنی غذا حاصل کرتے ‘ گھونسلے بناتے اور پانا ٹھکانا تلاش کرلیتے ہیں۔ اللہ نے ان کی فطرت میں یہ صلاحیت عطا فرمائی اور اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرمایا ہے۔ بادلوں اور بارشوں کی مثال دے کر فرمایا کہ اللہ نے کیسا عجیب نظام بنایا ہے کہ سمندر سے مون سون اٹھتا ہے اور وہ بادلوں کی شکل میں تہہ درتہہ پہاڑروں جیسے بن جاتے ہیں۔ جو فضا میں تیرتے پھرتے ہیں۔ زیادہ گہرے ہوں تو وہ کالی گھٹابن کر چھا جاتے ہیں۔ ان ہی میں بجلی کی تیز چمک او ہیبت ناک کڑک ہوتی ہے۔ کبھی وہ بادل بوندیں بن کر برستے ہیں اور کبھی موسلادھار بارش بن کر۔ کبھی وہ اولوں کی شکل میں اور کبھی وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر جم جاتے ہیں جن سے پورے سال انسان اور جانور اپنی زندگی کا سامان حاصل کرتے ہیں۔ یہ سب اللہ کی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح دن اور رات کا آنا جانا بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ کبھی دن ہے کبھی رات۔ انسان دن کی روشنی میں اپنارزق حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتا ہے اور سخت محنت کے بعد وہ رات کو آرام کر کے تازہ دم ہوجاتا ہے۔ اگر ہر وقت دن ہی دن ہوتا یا رات ہی رات ہوتی تو انسان نہ صرف یکسانیت سے اکتا جاتا بلکہ وہ محنت اور آرام بھی نہ کرسکتا۔ اسی طرح اللہ نے موسموں کو بھی مختلف بنایا ہے کبھی گرمی کبھی سردی کبھی خزاں اور کبھی بہار یہ سب کچھ اللہ کی نشانیوں میں سے بڑی نشانیاں ہیں۔ جانوروں کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ اس نے ہزاروں لاکھوں قسم کے خشکی اور تری پر جان دار پیدا کئے کوئی پیٹ کے بل چل رہا ہے گھسٹ رہا ہے۔ کوئی دو ٹانگوں پر چل رہا ہے کوئی چار ٹانگوں پر ان میں سے بعض جانور ایسے بھی ہیں جو سواری کے کام آتے ہیں جو انسانوں کو اور ان کے بھاری سامانوں کو لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں۔ یہ سواریوں کا ہونا بھی ایک نعمت ہے اور قیامت تک نجانے اللہ کیسی کیسی سواریاں بنائے گا۔ غرضیکہ سانپ ‘ کیڑے مکوڑے ‘ سمندر اور دریاؤں کے جانور ‘ انسان ‘ گائے ‘ بھینس ‘ گھوڑا یہ سب اپنے اپنے پاؤں پر چلتے ہیں اپنی اپنی غذا حاصل کرتے ہیں اور اپنے رہنے کے ٹھکانے بناتے ہیں۔ کائنات میں بکھری ہوئی یہ وہ حقیقتیں ہیں جن کو ہر شخص ہر آن دیکھتا اور برتتا ہے۔ لیکن ان سے عبرت و نصحیت حاصل نہیں کرتا۔ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ فرمایا کہ دنیا کے جانور تو وہ ہیں جن کی فطری رہنمائی کی گئی ہے لیکن انسان پر تو اللہ کا دہراکرم ہے کہ اس نے اس کو فطری صلاحیتوں سے بھی نوازا ہے اور صراط مستقیم پر چلنے کے لئے اپنی آیات کو اپنے نیک اور برگزیدہ بندوں کے ذریعہ اس تک پہنچایا ہے۔ کائنات میں ہر چیز اللہ کے حکم کے مطابق چل رہی ہے لیکن انسان اس قدر نا شکرا ہے کہ وہ راستہ بھٹک کر اپنی منزل سے بہت دور نکل جاتا ہے اور اس بات کو بھول جاتا ہے کہ ایک اللہ ہی ہے جس نے اس سارے کارخانہ کائنات کو پیدا کیا ہے۔ وہی سب کا مالک اور خالق ہے اور سچی رہنمائی صرف وہی ہے جو اس نے انسانوں کو عطا فرمائی ہے۔
Ayahs 24:47–54

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لے آئے اور ہم نے فرماں برداری قبول کرلی۔ پھر ان میں سے ایک فریق اس کے بعد پھرجاتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں رکھتے ہیں

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو اللہ اور رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو ان میں سے ایک فریق منہ پھیر لیتا ہے۔

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر ان کے لئے حق (پہنچتا) ہو تو وہ اس کی طرف گردن جھکائے ہوئے چلے آتے ہیں۔

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں کوئی مرض ہے یا وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں یا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول ان پر ظلم کریں گے (نہیں) بلکہ وہی ظالم لوگ ہیں۔

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

ایمان والوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کردیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں اللہ کی نافرمانی اور ناراضگی سے ڈرتے ہیں پس یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور وہ لوگ بڑی تاکید سے اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر انہیں حکم دیا گیا تو وہ (جہاد ‘ ہجرت کرنے) نکل پڑیں گے۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم قسمیں نہ کھائو کیونکہ تمہاری فرماں برداری معلوم ہے ۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ کو اس کا علم ہے۔

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم نے منہ پھیرا تو رسول پر اس قدر ذمہ داری ہے جو ان پر ڈالی گئی ہے۔ اور تم پر وہ (لازم ہے) جو تمہارے ذمے کیا گیا ہے۔ اگر تم اطاعت کرو گے تو ہدایت پالو گے اور رسول پر صاف صاف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 47 تا 54 : دعوا (بلایا گیا) ‘ مذعنین (گردن جھکانے والے) ارتابوا (شک میں پڑگئے) یحیف (ظلم کرے گا) یخش (وہ ڈرتا ہے) ‘ یتقہ (نافرمانی سے بچتا ہے) ‘ الفائزون (کامیاب ہونے والے) ‘ جھد ایمان ( مضبوط قسمیں) ‘ معروفۃ ( مشہور۔ معلوم) ‘ حمل (بوجھ ڈالا گیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 : جب نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا تو ایمان و عمل صالح کے پیکر ایسے لاتعداد صحابہ کرام ؓ تھے جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے اللہ ‘ اس کے رسول ‘ آخرت اور دین اسلام کی تمام تعلیمات کو قبول کرکے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابیوں کی سعادت حاصل کرلی تھی لیکن ان مخلص مسلمانوں کے بر خلاف ہمیشہ سے ایک طبقہ رہا ہے جس نے دنیا دکھا وے اور ذاتی مفادات کے لئے اسلام قبول کرلیا تھا مگر وہ اسلام کے بارے میں کبھی مخلص نہیں رہا تھا بلکہ ایسے لوگوں کو جب بھی موقع ملا انہوں نے دین اسلام کے سچے اصولوں کو اپنے ذاتی مفادات ‘ لالچ اور خود غرضی پر قربان کردیا تھا۔ شریعت کی زبان میں ایسے لوگوں کو ” منافق “ کہا جاتا ہے جن کا کام یہ ہے کہ وہ زبانی طور پر تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ‘ اس کے رسول اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ ہر موقع پر لمبی چوڑی قسمیں کھا کر اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جو بھی حکم دیا جائے گا وہ اس کی تعمیل کریں گے۔ اور گھر بار ‘ کھیتی باڑی تو کیا چیزیں ہیں۔ اگر جان و مال اور قیمتی سے قیمتی اشیاء کو چھوڑنے کے لئے بھی کہا جائے گا تو وہ کسی قربانی اور ایثار میں پیچھے نہ رہیں گے۔ یہ تو ان کی زبانی باتیں ہیں لیکن جب عمل کرنے کا وقت آتا تو وہ طرح طرح کے حیلے بہانے اور جھوٹی قسموں کے سہارے ادھر ادھر کھسک جاتے تھے۔ ایمان اور عمل صالح کے دعوے کرنے کے باوجود وہ سرکشی ‘ ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہ آتے تھے۔ جب ان کو اللہ اور رسول کی طرف سے لانے کا حکم دیا جاتا کہ آئو جس کلام اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس کے مطابق زندگی کے ہر معاملے کا فیصلہ کرلیا جائے تو وہ لوگ چالاکی اور مکاری سے اپنا پہلو بچاجاتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگ مومن کیسے ہو سکتے ہیں کیونکہ اگر ایمان و یقین کے نور سے ان کے دل روشن ومنور ہوتے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کرتے۔ فرمایا کہ ان کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ ویسے تو وہ قرآن کریم پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن جہاں دین کے اصول ان کے مفادات سے ٹکراتے ہوں اور انہیں اندیشہہو کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم ماننے میں ان کا دنیاوی نقصان ہوجائے گا تو وہ اللہ و رسول کے فیصلوں کو چھوڑ کر کفار مشرکین کے دربار میں حاضری دینے سے بھی شرم محسوس نہیں کرتے تھے۔ علماء مفسرین نے احادیث کی روشنی میں تحریر فرمایا ہے کہ بشر نامی ایک منافق شخص تھا اس نے کسی یہودی کی زمین ہتھیالی اور اس پر قبضہ رک لیا جس کی وجہ سے آپس میں جھگڑا بڑھ گیا تو یہودی نے کہا کہ تم اس بات کا فیصلہ کرانے کے لئے اپنے پیغمبر (حضرت محمد ﷺ کے پاس چلو وہ جو بھی فیصلہ دیں گے میں اس کو مان لوں گا۔ یہودی اس بات کو اچھی طرح جانتا تھا کہ اللہ کے یہ پیغمبر جو بھی فیصلہ کریں گے۔ وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے گا اور وہ فیصلہ دینے میں مسلم غیر مسلم کی طرف داری نہ کریں گے۔ اس بات کا یقین اس منافق کو بھی تھا کہ نبی کریم ﷺ عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے اسی لئے بشر کا اصرار یہ تھا کہ کعب ابن اشرف یہودی سردار کے پاس چلتے ہیں اور اس سے فیصلہ کر الیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع ہیں ہمیں جیسا کرنے کا حکم دیا جائے گا ویسا ہی کریں گے لیکن جب معاملہ کی بات آئی تو وہ لوگ اپنے ذاتی فائدے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر اتر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں کی منافقت کا اس سے بڑھ کر ثبوت اور کیا ہوگا کہ اگر ان کے فائدے کی بات ہوتی تو یہ گردن جھکا کر چلے آتے لیکن جب ان کے مفاد پر ضرب پڑتی نظر آتی ہے تو پھر وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے اطاعت و فرماں برداری کا عہد کیا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ یہ سب کچھ یا تو اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے دلوں میں منافقت کا مرض پل رہا ہے یا ان کو دین اسلام کے سچے اصولوں پر یقین نہیں ہے اور وہ شک و شبہ میں مبتلا ہیں یا وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول ان کے ساتھ زیادتی اور ظلم کریں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم و زیادتی کررہے ہوں اللہ کو یکا پڑی ہے کہ ان پر مزید ظلم کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک طرف تو یہ نام نہاد مسلمان ہیں جن کے عمل سے ان کی منافقت کھلی آنکھوں سے نظر آتی ہے دوسری طرف وہ مخلص صاحبان ایمان ہیں کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ ان کے درمیان جو بھی جھگڑے اور اختلافات ہوں وہ دور کرد یئے جائیں اور مناسب فیصلے کئے جائیں تو وہ اہل ایمان دوڑ کر اللہ اور رسول کے احکامات کی تعمیل کرتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے ہی لوگ وہ ہیں جن کو دنیا میں عزت و سربلندی اور آخرت میں ہمیشہ کی راحتیں عطا کی جائیں گی یہ دنیا کے کامیاب ترین لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرمادیا کہ جو لوگ بڑی بڑی قسمیں کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ انہیں جہاد ‘ ہجرت اور ہر طرح کی قربانیاں دینے کے لئے کہا جائے گا تو وہ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ وہ بڑی بڑی قسمیں کھا کر اللہ اور رسول کی اطاعت کی باتیں نہ کریں کیونکہ ان کا عمل ان کے ہر دعوے کی تردید کررہا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ حق و صداقت کی ہر بات کو پہنچانے کی ذمہ داری پوری فرماتے رہیں آگے ان کا کام ہے کہ وہ اس پر عمل کر کے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہیں یا نہیں۔ بہر حال آخرت کی کامیابی ان ہی لوگوں کا مقدر ہے جو ایمان و عمل صالح کے پیکر ہیں۔ اگر انہوں نے عمل نہ کیا تو ان کی زندگیاں عبرت کا نمونہ بن کر رہ جائیں گی۔