18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 18:71–78

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

پھر وہ دونوں روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب وہ دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) اس میں سوراخ کردیا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے سوراخ کردیا کہ اس میں سوار لوگوں کو غرق کردیں آپ نے بڑی عجیب بات کی ہے۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

(خضر نے ) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

(موسیٰ نے ) کہا آپ اس بھول پر میری گرفت نہ کیجیے جسے میں بھول گیا تھا اور میرے معاملہ میں سختی سے کام نہ لیجیے۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک لڑکا ملا۔ (خضر نے) اس کو مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ کو (جان کے بدلے کے) بغیر قتل کردیا۔ یہ تو آپ نے بڑی ناپسندیدہ بات کی ہے۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

(خضر نے ) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ بیشک آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے۔

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

(موسیٰ نے ) کہا اگر اس کے بعد میں آپ سے کچھ بھی پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے۔ اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا ہے۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ وہ ایک بستی میں پہنچے۔ وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا مگر ان لوگوں نے ان کی مہمان داری سے انکار کردیا۔ وہاں ان دونوں ایک دیوار کو دیکھا جو گرنے کے قریب تھی (خضر نے) اس کو ٹھیک کردیا۔ (موسیٰ نے) کہا ۔ اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے سکتے تھے۔

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

(خضر نے) کہا کہ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے۔ میں آپ کو ان باتوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جس پر آپ نے صبر نہیں کیا۔

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 78 السفینۃ کشتی، جہاز۔ خرق سوراخ کردیا۔ لتغرق تاکہ تو غرق کر دے۔ امر ناپسندیدہ بات ، عجیب بات۔ نسیت میں بھول گیا۔ لاترھقنی نہ ڈال مجھ پر۔ عسر مشکل ، تنگی۔ زکیۃ پاک، ستھری۔ نکر بےجابات۔ لا تصاحبنی مجھے ساتھ نہ رکھنا۔ بلغت تو پہنچ گیا۔ استطعما دونوں نے کھانا طلب کیا۔ ابوا انکار کردیا۔ یضیفوا وہ مہمان بنائیں گے۔ جدار دیوار۔ ینقص وہ ٹوٹ جائے گا۔ اقام درست کردیا۔ فراق جدائی۔ انبی میں بتاؤں گا۔ تاویل حقیقت، انجام۔ تشریح :- آیت نمبر 71 تا 78 ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے جب حضرت موسیٰ نے یہ وعدہ کرلیا کہ وہ حضرت خضر سے کسی کام یا بات پر سوال نہیں کریں گے تب وہ دونوں سفر پر روانہ ہوگئے۔ راستے میں ایک دریا آگیا۔ دوسرے کنارے پہنچنے کے لئے کشتی پر سوار ہوگئے۔ کشتی والا جانتا ہوگا۔ یا ان کو نیک اور بزرگ سمجھ کر انتہائی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے کرایہ لینے سے انکار کردیا۔ یہ دونوں جب کنارے پر اترے تو حضرت موسیٰ نے دیکھا کہ حضرت خضر نے اترتے اترتے اس کشتی کو ادھر ادھر سے توڑ پھوڑ دیا یا اس کا کوئی تختہ وغیرہ نکال کر اس کشتی کو عیب دار بنا دیا۔ حضرت موسیٰ یہ دیکھ کر بےچین ہوگئے ۔ کہنے لگے کہا آپ بھی عجیب آدمی ہیں اس کشتی والے نے تو ہمارے ساتھ احسان اور نیکی کا معاملہ کیا اور آپ نے اس کے احسان کا جواب یہ دیا کہ اس کشتی کا ستیاناس کردیا۔ حضرت خضر نے کہا موسیٰ ! میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ برداشت نہیں کرسکتے۔ حضرت موسیٰ کو اپنا وعدہ یاد آیا اور وہ اس وعدے کیساتھ کہ اب میں سوال نہ کروں گا دوبارہ روانہ ہوگئے۔ ایک جگہ کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے ان بچوں میں سے ایک کی ٹانگیں پکڑیں، زمین پر دے مارا جس سے وہ بچہ مر گیا۔ یہ ایسا واقعہ تھا کہ حضرت موسیٰ بےحال ہوگئے اور تڑپ کر پوچھا کہ آپ نے ایک بےگناہ کو بغیر کسی جان کے بدلے قتل کردیا یہ تو آپ نے بڑی ہی ناپسندیدہ بات کی ہے۔ حضرت خضر نے کہا موسیٰ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ ان باتوں کو برداشت نہیں کرسکتے۔ حضرت موسیٰ کو اپنا وعدہ یاد آگیا کہنے لگے کہ اس کے بعد اگر میں آپ سے کوئی سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ مت رکھئے گا کیونکہ اب تو میرے طرف سے آپ کو عذر مل گیا ہے۔ پھر وہ دونوں چلے ۔ وہ ایک ایسی بستی میں پہنچے جہاں کے لوگوں نے اجنبیوں کو دیکھنے کے باوجود مہمان نوازی سے انکار کردیا۔ بھوک سے برا حال تھا۔ حضرت موسیٰ نے دیکھا کہ ایک دیوار گرنے والی ہے حضرت خضر کاندھا لگا کر اس کو سیدھا کردیا بس اب حضرت موسیٰ سے صبر نہ ہوسکا۔ کہنے لگے کہ اگر آپ اس محنت مزدوری پر کچھ اجرت لے لیتے تو کم از کم ان بےمروت لوگوں کے شہر میں کھانے کو تو مل جاتا اور کہنے لگے کہ یہ لوگ تو کسی رعایت کے مستحق بھی نہ تھے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے موسیٰ ! میں تو اللہ کے حکم سے ایسے ہی کام کرتا رہتا ہوں لہٰذا اب آپ اپنی دنیا کی طرف لوٹ جائیے۔ جس میں شریعت کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں اور اب حسب وعدہ ہمارے اور آپ کے درمیان جدائی ہوچکی ہے۔ لیکن وہ تمام باتیں جن پر آپ صبر نہ کرسکے ان کی مصلحتیں ضرور بیان کروں گا۔ چناچہ اگلی آیات میں حضرت خضر نے ان تمام باتوں کی پوری طرح وضاحت فرما دی ہے کہ انہوں نے اللہ کے حکم سے یہ کام کیوں کئے تھے ان میں حکمت اور مصلحت کیا تھی ؟ ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کیا اچھا ہوتا کہ حضرت موسیٰ کچھ تھوڑا سا اور صبر کرلیتے تاکہ اللہ کی بہت سی وہ حکمتیں ظاہر ہوجاتیں جو اللہ کے حکم سے ہوتی رہتی ہیں۔
Ayahs 18:79–82

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

بہرحال وہ کشتی چند غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر (اچھی) کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں۔

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

رہا وہ لڑکا (جس کو مار ڈالا تھا) اس کے والدین مومن تھے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو (والدین کو) سرکشی اور کفر میں عاجز نہ کر دے۔

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

پس ہم نے ارادہ کیا کہ ان دونوں (والدین) کو ان کا رب بدلہ دے جو اس (بچے) سے بہتر اور شفقت سے زیادہ قریب ہو۔

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

دیوار کو (صحیح کرنے کا مسئلہ یہ ہے) کہ وہ شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے مال گڑا ہوا تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔ تو تمہارے رب نے چاہا کہ وہ جوان ہوں اور وہ دونوں (یتیم بچے) آپ کے رب کی رحمت سے گڑا ہوا مال نکال لیں اور یہ سب کچھ میں نے اپنی مضری سے نہیں کیا (بلکہ اللہ کے حکم سے کیا) یہ ہے (ان واقعات کی) حقیقت جس پر آپ صبر نہ کرسکے۔

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 82 السفینۃ کشتی، جہاز۔ یعملون وہ محنت مزدوری کرتے ہیں۔ اردت میں نے چاہا۔ اعیب عیب دار کر دوں۔ وراء پیچھے۔ غصب زبردستی۔ یرھق ڈھانپ لیتا ہے۔ زکوۃ پاکیزگی۔ کنز خزانہ، مال گڑا ہوا۔ امری میرا اختیار۔ تشریح : آیت نمبر 79 تا 82 یہ کائنات اور اس کا نظام کیا ہے ؟ وہ کس طرح چل رہا ہے کبھی یہ سوچتے ہوئے ذہن الجھ سا جاتا ہے کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اگر ایسا ہوجاتا تو اچھا تھا لیکن زیادہ عرصہ نہیں گذرتا کہ ہر کام کی حقیقت سامنے آجاتی ہے اور اس کام میں جو حکمت و مصلحت پوشیدہ تھی اس کے کھلنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اچھا ہوا فلاں کام نہ ہو اور نہ اس سے مجھے بہت نقصان پہنچ جاتا۔ یہی صورتحال اس وقت پیش آئی جب حضرت موسیٰ کی موجودگی میں حضرت خضر نے بعض وہ کام کئے جن کی مصلحت اور حکمت سمجھ سے بالاتر تھی لیکن جب حضرت خضر نے وضاحت فرمائی تب پوری بات سمجھ میں آسکی۔ حضرت خضر نے بتایا کہ (1) وہ کشتی جس میں انہوں نے عیب پیدا کردیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ دریا کے دوسرے کنارے پر ایک ظالم و جابر بادشاہ کے لوگ ہر اس کشتی کو چھین رہے تھے جو بالکل نئی ہو۔ میں نے اللہ کے حکم سے اس نیک شخص کی نیکی کی وجہ سے اس کشتی میں ایسی تبدیلی کردی جس سے وہ کشتی کو چھین رہے تھے جو بالکل نئی ہو۔ میں نے اللہ کے حکم سے اس نیک شخص کی نیکی کی وجہ سے اس کشتی میں ایسی تبدیلی کردی جس سے وہ کشتی بالکل نئی معلوم نہ ہو اور دور سے عیب دار نظر آئے۔ (2) فرمایا کہ اللہ کے حکم سے میں نے جس لڑکے کو مار ڈالا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس بچے کے والدین بہت ہی نیک اور صالح تھے اللہ پر کامل ایمان رکھتے ہوئے اسی کی عبادت و بندگی کرتے تھے۔ ان کا یہ لڑکا فطرت اور مزاج کے اعتبار سے ایسا اٹھ رہا تھا کہ آئندہ زندگی میں وہ اپنے ماں باپ کے لئے عذاب اور مصیبت بن جاتا۔ لہٰذا اللہ کے فیصلے کے مطابق اس کا مرجانا اس کے زندہ رہنے سے بہتر تھا۔ کہتے ہیں کہ اللہ نے اس لڑکے کی جگہ ایک نیک اور پارسا لڑکی عطا فرمائی جس سے ایک نبی پیدا ہوئے اور اس طرح اللہ نے والدین کی نیکی کا یہ صلہ ان کو عطا فرمایا۔ (3) تیسرے واقعہ کی مصلحت بتاتے ہوئے فرمایا کہ بغیر کسی معاوضہ اجرت کے جس گرتی ہوئی دیوار کو درست کیا گیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس دیوار کے نیچے نیک والدین کی محنت سے کمایا ہوا خزانہ چھپا ہوا تھا اگر وہ دیوار گر جاتی اور خزانہ ظاہر ہوجاتا تو یتیم بچوں کے وارث اس کے مالک بن بیٹھتے اور یہ بچے محروم رہ جاتے اس لئے اللہ نے چاہا کہ دیوار اس وقت تک نہ گرے جب تک یتیم بچے اپنے شعور اور سمجھ کی عمر تک نہ پہنچ جائیں اور ان کے والدین کی جو خواہش تھی وہ پوری نہ ہوجائے۔ حضرت خضر نے حضرت موسیٰ کو اپنے کاموں کی مصلحت بتاتے ہوئے اس بات کو واضح کردیا کہ میں جو کچھ کرتا ہوں اس میں میرا اختیار اور مرضی شامل نہیں ہوتی بلکہ یہ سارے کام میں اللہ کے حکم سے کرتا ہوں۔
Ayahs 18:83–91

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ وہ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ میں تمہیں ان کا حال بتاتا ہوں۔

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو روئے زمین پر اقتدار و قوت عطا کیا تھا اور ہر طرح کے وسائل دیئے تھے۔

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

وہ ایک راستے پر ہو لئے

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گئے۔ انہوں نے سورج کو کالے پانی میں ڈوبتا محسوس کیا۔ وہاں انہیں ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین تمہیں اختیار ہے کہ ان کو سزا دو یا ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو۔

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ جو ان میں سے ظالم ہوگا ہم اس کو سز دیں گے۔ پھر وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیا جائے گا اور وہ اس کو اس سے بھی سخت سزا دے گا۔

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اس کے لئے اچھا بدلہ ہوگا اور اس سے ہم نرم برتاؤ کریں گے۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر انہوں نے دوسری مہم کی تیاری شروع کر دی

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ ظلوع افٓتاب کی حد تک پہنچ گئے وہاں انہوں نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لئے ہم نے دھوپ سے بچنے کا سامان نہیں کیا ہے۔

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

یہ حال تھا ان کا اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اسے ہم خوب جانتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 91 یسئلون وہ سوال کرتے ہیں۔ ذوالقرنین بہت طاقتور۔ ساتلوا بہت جلد میں بتاؤں گا۔ مکنا ہم نے جمایا، اقتدار دیا تھا۔ سبب سامان۔ اتبع وہ پیچھے گیا۔ اس نے تیاری کی۔ حمئۃ دلدل، کیچڑ، سیاہ۔ یرد لوٹایا جائے گا۔ الحسنی بہترین، بھلا۔ یسر آسان۔ ستر پردہ، رکاوٹ، احطنا ہم نے گھیر لیا۔ لدیہ اس کے پاس ۔ خبر علم، خبر۔ تشریح :- آیت نمبر 83 تا 91 تاریخ انسانی کے ہر دور میں اچھے اور برے کردار کے لوگ گذرتے رہتے ہیں۔ بہترین کردار کے لوگوں کی زندگی دوسروں کے لئے مشعل راہ، نمونہ عمل اور نشان راہ ہوتی ہے۔ جب کہ برے اور بدکردار لوگ کسی عزت کے مستحق نہیں ہوتے۔ یوں تو ہر قوم اور اس کے افراد کا اپنا ایک کردار ہوتا ہے جس کو ادا کرنے کے بعد وہ اس دنیا سے گذر جاتے ہیں۔ لیکن انسان کے اچھے یا برے کردار کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کے ہاتھ میں ہر طرح کی طاقت و قوت ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنی طاقت و قوت، حکومت و سلطنت اور مال و دلوت کو مجبوروں بےکسوں اور مظلوموں کو تباہ و برباد کرنے پر لگاتا ہے تو اس کا شمار فرعون، نمرود، شداد اور قارون جیسے ظالموں اور فخر و غرور کے پیکروں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اگر وہ اپنی تمام صلاحیتوں کو مظلوموں کی ہمدردی، ان کی امداد و اعانت اور فریاد رسی پر صرف کرتا ہے تو اس سے نہ صرف انسانیت کو آبرو ملتی ہے بلکہ ہر شخص ان کے ادب و احترام میں اپنی گردن جھکا دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ذوالقرنین بھی اللہ کے ان نیک اور برگزیدہ بندوں میں سے تھے جنہوں نے مشرق و مغرب کے فاتح اور ایک عظیم سلطنت میں خود مختار ہونے کے باوجود ظلم ، زیادتی اور بےانصافی کے بجائے عدل و انصاف اور امن و محبت کا ایک ایسا نظام قائم کیا اور مظلوموں، بےکسوں اور مجبوروں کے ساتھ ایسی ہمدردی کا رویہ اختیار کیا جو تاریخ انسانی میں ساری دنیا کے انسانوں کے لئے ایک بہترین نمونہ عمل بن گیا۔ قریش مکہ کو یہودیوں نے یہ سکھادیا تھا کہ وہ نبی کریم ﷺ کی صداقت کا امتحان لینے کے لئے تین سوالات کریں۔ روح کیا ہے ؟ اصحاب کہف کون تھے ؟ ذوالقرنین کا واقعہ اور خصوصیات کیا تھیں ؟ یہودی اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ عرب کے لوگ اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے واقعات اور روح کی حقیقت سے بیخبر ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ سے سوال کیا جائے گا تو وہ اس کا جواب نہ دے سکیں گے اور ہمیں مذاق اڑانے کا ایک اور موقع مل جائے گا۔ کیونکہ نعوذ باللہ ان کا گمان یہ تھا کہ قرآن کریم اللہ کی کتاب نہیں ہے بلکہ حضرت محمد ﷺ اپنی طرف سے خود ہی گھڑ کر اور بنا کر پیش کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اصحاب کہف اور روح کے متعلق تفصیل سے ارشاد فرما کر اب ذوالقرنین کے متعلق ارشاد فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کا واقعہ سنا کر قریش مکہ کو شرم دلائی ہے کہ ذوالقرنین کے پاس سب کچھ تھا لیکن انہوں نے غرور اور تکبر کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے غریبوں، محتاجوں اور مجبوروں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کر کے اپنی عظمت کو چار چاند لگا دیئے تھے اور قریش مکہ معمولی سی سرداریوں اور مال و دولت پر اس قدر اترا رہے ہیں کہ اللہ کا نام لینے والے کمزور اور بےبس مسلمانوں پر ایسے ایسے ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں جن سے انسانیت بھی شرما جاتی ہے۔ فرمایا کہ ذوالقرنین ایک نیک دل اور انصاف پسند حکمران تھے جو ایک عظیم سلطنت اور صاحب اقتدار ہونے کے باوجود ہر شخص کے ساتھ بہترین سلوک کرنے کو سب سے بڑی نیکی تصور کرتے تھے۔ فرمایا کہ ذوالقرنین جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے تھے انہوں نے پوری زندگی دنیا کے کونے کونے کا سفر کیا اور جس کو بھی ضرورت مند سمجھا اس کی پوری مدد فرمائی اور کسی کے ساتھ زیادتی اور ظلم نہیں کیا۔ انہوں نے مغرب، مشرق اور شمال و جنوب کے متعدد سفر کئے اور فتح کے جھنڈے گاڑتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ انہیں اللہ نے تمام مادی وسائل، ذرائع اور مال و اسباب عطا فرما رکھے تھے۔ وہ تمام تر وسائل کے ساتھ سب سے پہلے مغرب کی سمت روانہ ہوئے۔ وہ چلتے چلتے اس مقام تک پہنچ گئے۔ جہاں حد نظر تک دلدل تھی۔ نہ تو آگے جانے کا پیدل راستہ تھا اور نہ کوئی انسان وہاں تک پہنچ سکتا تھا۔ وہ اپنے لشکر کے ساتھ وہاں ٹھہر گئے سورج غروب ہوتے ہوئے ایسا لگا جیسے وہ سیاہ پانی میں ڈوب رہا ہے۔ وہاں ذوالقرنین نے ایک ایسی قوم کو دیکھا جو بالکل الگ تھلگ ایک بستی میں رہتی تھی۔ ایک فاتح بادشاہ اور حکمران کے اعتبار سے اس زمانہ کے رواج کے مطابق ان کے لئے دوراستے کھلے ہوئے تھے کہ وہ ایک ظالم فاتح کی طرح ان کا مال و اسباب لوٹ کر ان کو اپنا غلام بنا لے یا ایک عادل بادشاہ کی طرح ان کے ساتھ بھلائی، ہمدردی اور عدل و انصاف کا معاملہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اگر اللہ کسی کو اقتدار، طاقت اور قوت عطا کرتا ہے تو اس کو کمزور کے ساتھ بہترین معاملہ کرنا چاہئے۔ چناچہ ذوالقرنین نے عدل و انصاف اور امن و سلامتی کے راستے کا انتخاب کرتے ہوئے اعلان عام کردیا کہ وہ ہر شخص کے ساتھ بہترین معاملہ کرے گا۔ البتہ اگر کوئی اپنی حدود سے آگے بڑھنے اور زیادتی کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کو سخت سزا دی جائے گی۔ مغرب کا سفر کرنے کے بعد ذوالقرنین نے مشرقی سمت کا رخ کیا۔ راستے میں چلتے ہوئے کچھ ایسے لوگوں کی آبادی پر نظر پڑی جو حیوانوں جیسی جنگلی زندگی گذار رہے تھے۔ نہ ان کے پاس رہنے کے گھر تھے۔ نہ دھوپ سے بچنے کا سامان تھا۔ نہ ایسا ڈھنگ کا لباس تھا جس سے وہ اپنے بدن کو پوری طرح ڈھانپ سکیں۔ سورج اور دھوپ کی شدت نے ان کے بدن جھلسا کر رکھ دیئے تھے۔ ذوالقرنین نے حکم دیا کہ ان کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ بہترین سلوک اور احسان و کرم کا معاملہ کیا جائے۔ ذوالقرنین کے یہ دو سفر مشرق و مغرب کی طرف کئے گئے تھے۔ انہوں نے ہر جگہ ایسا عدل و انصاف قائم کیا جس سے پوری دنیا میں خیر و بھلائی پھیل گئی۔ قرن کے معنی زمانہ، صدی، سینگ و قوت کے آتے ہیں۔ چونکہ ذوالقرنین نے مشرق و مغرب کے ملکوں کو کھنگال ڈالا تھا شاید اسی لئے ان کو ذوالقرنین کہا جانے لگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ذوالقرنین نہ صرف دنیا بھر کے فاتح تھے بلکہ انہوں نے عدل و انصاف کا ایک ایسا بہترین کردار پیش کیا تھا جو ساری دنیا کے لئے ایک بہترین مثال ہے۔ ذوالقرنین چونکہ اللہ کو ایک ماننے والے ، اس کے فرماں بردار اور اطاعت گذار تھے لہٰذا ان کے متعلق یہ کہنا کہ ذوالقرنین اور سکندر اعظم ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں اس لئے غلط ہوجاتا ہے کہ سکندر اعظم توحید پرست نہ تھا جب کہ ذوالقرنین توحید خالص کے ماننے والے اور اللہ کے شکر گزاربندے تھے۔ بعض حضرات نے تو ان کی نیکیوں اور توحید کی بنا پر یہاں تک فرما دیا کہ وہ نبی تھے۔ بہرحال ذوالقرنین کے نبی ہونے میں تو علماء کا اختلاف ہے مگر مومن صالح ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ اس پر قرآن کی آیات بھی گواہ ہیں۔ مشرق و مغرب کے اس فاتحانہ سفر کے بعد ذوالقرنین نے تیسرا سفر بھی کیا جس کی تفصیل اگلی آیات میں آرہی ہے۔
Ayahs 18:92–101

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر وہ ایک راہ پر چل پڑے۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو انہوں نے ایک ایسی قوم کو پایا جو بات کو مشکل سے سمجھتی تھی۔

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے ذوالقرنین یا جوج اور ماجوج نے (چاروں طرف) تباہی مچا رکھی ہے۔ تو کیا ہم آپ کے لئے کچھ رقم مہیا کردیں تاکہ آپ ان کے اور ہمارے درمیان مضبوط دیوار بنا دیں۔

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا میرے رب نے جو مال میرے اختیار میں دیا ہے وہ بہت ہے۔ اگر تم محنت (ہاتھ پاؤں) سے میری مدد کرو تو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک دیوار قائم کرسکتا ہوں۔

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تم لوگ میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ یہاں تک کہ جب (دونوں پہاڑوں) کے سرے برابر ہوجائیں تو اس وقت تم آگ دہکاؤ تاکہ وہ لوہا لال انگارا بن جائے۔ جب وہ آگ بن گیا تو کہا کہ میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ اور اس پر انڈیل دو ۔

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

یاجوج ماجوج نہ تو اس پر چڑھ کر آسکیں گے اور نہ سوراخ کرسکیں گے۔

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا کہ یہ سب میرے پروردگار کی رحمت ہے۔ پھر جب میرے پروردگار کا وعدہ آجائے گا تو اس کو ڈھا کر برابر کر دے گا۔ اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا) ہم اس دن ان کی یہ حالت کردیں گے کہ وہ ایک دوسرے میں رل مل جائیں گے۔ پھر صور پھونکا جائے گا۔ پھر ہم سب کو جمع کر کے لے آئیں گے

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور اس دن جہنم کو ان کافروں کے سامنے لایا جائے گا

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھوں پر ہماری یاد سے (غفلت کے) پردے پڑے ہوئے تھے اور وہ (حق بات) سن نہ سکے تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر 92 تا 101 السدین دو دیواریں، دو پہاڑ۔ لایکادون قریب نہ تھے۔ یفقھون وہ سمجھتے ہیں۔ خرج کچھ مال۔ سد دیوار۔ مکنی مجھے اختیار دیا۔ اعینوا مدد کرو۔ ردماً آڑ، رکاوٹ۔ زبر الحدید لوہے کے تختے۔ ساوی برابر کردیا۔ صدفین دونوں پہاڑ۔ انفخوا دھونکو، پھونکو۔ افرغ ڈال دو ۔ قطر پگھلا ہوا تانبہ ۔ ان یظھروا یہ کہ وہ چڑھیں۔ نقب سوراخ۔ دکاء برابر کیا۔ عرض سامن۔ غطاء پردہ۔ سمع سننا تشریح : آیت نمبر 92 تا 101 مشرق و مغرب کے سفروں کے بعد ذوالقرنین نے تیسری سمت بھی سفر کیا۔ اکثر مفسرین اور مورخین کے ارشاد کے مطابق یہ سفر شمال کی طرف تھا۔ چلتے چلتے ذوالقرنین ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں کے لوگ نہ تو تہذیب و تمدن سے آشنا تھے اور نہ اپنی مقامی زبان کے علاوہ کسی اور زبان سے واقف تھے۔ ذوالقرنین نے ان کے ساتھ بھی نہایت احسان اور کرم کا معاملہ کیا۔ جب انہوں نے ایسے عادل و منصف بادشاہ کو دیکھا تو کسی ترجمان کے ذریعے انہوں نے ذوالقرنین کو اپنی سب سے بڑی مشکل اور مصیبت بتائی انہوں نے کہا کہ ان کے اور پہاڑوں کے درمیان دوسری طرف ایک ایسی قوم رہتی ہے جن کو یاجوج ماجوج کہا جاتا ہے وہ پہاڑی درے سے نکل کر ان کی بستیوں میں آجاتے ہیں اور ان کے تمام مال و اسباب کو لوٹ کرلے جاتے ہیں۔ ہم اونچے اونچے پہاڑوں اور یاجوج ماجوج کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے ذوالقرنین سے درخواست کی کہ اگر وہ یاجوج ماجوج اور ان کے درمیان اس درہ پر کوئی زبردست دیوار کھڑی کردیں جہاں سے یاجوج ماجوج آتے ہیں تو ہم نہ صرف ان کے ظلم و ستم سے بچ جائیں گے بلکہ ہم احسان مند بھی ہوں گے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کام کے لئے اگر کسی رقم کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ دینے کو تیار ہیں۔ ذوالقرنین نے ان کی فریاد سنی اور ان کی بےبسی پر بڑا ترس آیا۔ ذوالقرنین نے دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنانے کا وعدہ کرلیا اور کہا مجھے تمہارے مال و دولت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ نے مجھے سب کچھ دیا ہے۔ البتہ تم سب مل کر ہاتھ پاؤں سے میری مدد کرو ۔ یہ سن کر وہ پوری قوم محنت مزدروی کے لئے تیار ہوگئی۔ ذوالقرنین نے حکم دیا کہ لوہے کے بڑے بڑے تختے منگوائے جائیں اور ان کو دونوں پہاڑوں کے درمیان تہہ در تہہ بچھا دیا جائے۔ چناچہ کام شروع کردیا گیا ۔ جب اس دیوار کی اونچائی دونوں پہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچ گئی تو انہوں نے لوگوں سے کہا کہ لوہے یا تانبے کے نیچے بہت تیز آگ جلائی جائے جب لوہا یا تانبا پگھل جائے تو اس کو ل ہے کے تختوں کے اوپر سے اس کی دروزوں میں ڈالا جائے تاکہ وہ دیوار انتہائی مضبوط اور لوہے کی طرح بن جائے۔ جب یہ دیوار تیار ہوگئی تو وہ پوری قوم یاجوج ماجوج کے ظلم و ستم سے محفوظ ہوگئی۔ ذوالقرنین کا یہ اتنا بڑا اور عظیم کارنامہ تھا کہ ذوالقرنین اس پر فخر کرسکتے تھے لیکن انہوں نے فخر و غرور کرنے کے بجائے یہ کہا کہ یہ جو کچھ ہے وہ سب اللہ کا فضل کرم ہے جو ایک خاص مدت تک اسی طرح باقی رہے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ذوالقرنین محض ایک بادشاہ نہیں بلکہ اللہ کے نیک اور پارسا بندوں میں سے تھے۔ اس تمام واقعہ سے اور علماء مفسرین کی وضاحتوں سے چند حقائق سامنے آتے ہیں۔ (1) علماء نے لکھا ہے کہ ذوالقرنین حضرت ابراہیم کے زمانے میں گذرے ہیں اور حضرت خضر ان کے وزیر تھے۔ وہ نہایت ذہین، نیک دل، صاحب تدبیر، رعب اور دبدبے کے آدمی تھے۔ وہ اللہ کو ایک مانتے تھے اور مشرک ہرگز نہ تھے۔ اللہ نے ان کو دنیا کے تمام مال و اسباب عطا فرمائے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے مشرق و مغرب اور شمال کے ملکوں کے سفر کئے اور حیرت انگیز طریقے پر تمام ملکوں کو فتح کرتے چلے گئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کو یہ سب کچھ بیت اللہ شریف اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی دعا سے نصیب ہوا تھا۔ جب کہ ذوالقرنین پیدل چل کر حرم کعبہ کی زیارت کے لئے آئے۔ حضرت ابراہیم کو ان کے آنے کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے مکہ مکرمہ سے باہر نکل کر ان کا استقبال کیا۔ حضرت ابراہیم نے ان کو دعائیں بھی دیں اور کچھ نصیحتیں بھی فرمائیں (البدایہ ص 108 ج 2) ذوالقرنین نے حضرت ابراہیم کے ساتھ طواف کیا اور قربانی بھی دی (ابن کثیر) (2) ذوالقرنین نے جس دیوار کو تعمیر کیا تھا وہ کہاں ہے اور کس حالت میں ہے اس کا صحیح علم کسی کو بھی نہیں ہے البتہ بعض حضرات نے اس سلسلہ میں مختلف علاقوں کی نشان دہی کی ہے جو تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ البتہ کفار مکہ نے یہودیوں کے کہنے پر ذوالقرنین کے متعلق پوچھا تھا تو اللہ نے اس کا جواب دے کر کفار کو بتا دیا تھا کہ تم اپنی معمولی سرداریوں، مال و دولت پر جس طرح اترا رہے ہو وہ ذوالقرنین کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ جب کہ انہوں نے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کیا ایسے لوگ جو جنگلیوں جیسی زندگی گذار رہے تھے ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کیا۔ کفار مکہ سے فرمایا جا رہا ہے تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے ہی بھائی بندوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم کر رہے ہو اور اس ظلم و زیادتی پر شرمندہ بھی نہیں ہوتے ہو۔ میری ناقص رائے یہ ہے کہ اگر اس دیوار کے بنانے کی بات کو اسی حد تک رہنے دیا جائے کہ اللہ کو معلوم ہے تو بہتر ہوگا۔ کیونکہ جب کسی کو معلوم ہی نہیں ہے اور اس سلسلہ میں ایک رائے بھی نہیں ہے تو اس کو تاریخ کا ایک حصہ سمجھ کر چھوڑ دینا چاہئے اور اسے مضمون کی روح کو سامنے رکھنا چاہئے۔
Ayahs 18:102–108

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

کیا ان کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کار ساز بنا لیں گے۔ بیشک ہم نے ان کافروں کی مہمان داری کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے۔

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ ہم تمہیں بتائیں گے کہ اپنے اعمال کے لحاظ سے کون زیادہ نقصان اٹھانے والا ہے۔

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ دنیا کی زندگی میں ان کی کوششیں برباد ہوگئیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں بہت اچھا کر رہے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا ہے۔ (اس لئے) ان کے سارے اعمال غارت ہوگئے۔ پس ہم ان کے اعمال کو قیامت کے دن کوئی وزن نہ دیں گے (اہمیت نہ دیں گے۔ )

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

ان کے کفر کی وجہ سے ان کا یہ بدلہ ہے اور وہ کہ انہوں نے ہماری آیات کا اور ہمارے رسولوں کا مذاق اڑایا تھا (یہ بدلہ ہے) ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے تو ان کی مہمان داری کے لئے بہشت کے باغ ہوں گے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی وہ ان سے نکلنا نہ چاہیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 108 اولیاء دوست، کام بنانے والے۔ نزل مہمان داری۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ صنع کام۔ حبطت ضائع ہوگئی۔ لانقیم ہم قائم نہ کریں گے۔ ھزو مذاق۔ الفردوس جنت ، بہشت۔ لایبغون وہ نہ چاہیں گے۔ حول تبدیل کرنا۔ تشریح :- آیت نمبر 102 تا 108 اللہ تعالیٰ نے کہف میں اصحاب کہف، حضرت موسیٰ خضر اور ذوالقرنین کے واقعات سنانے کے بعد فرمایا ہے کہ اتنا کچھ بتانے اور سنانے کے باوجود کیا اس بات کی ذرا بھی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر دوسری بےحقیقت چیزوں کو اپنا حمایتی، مددگار اور رب بنا لیا جائے۔ فرمایا کہ یہ بات بنیادی طور پر غلط سوچ کا نتیجہ ہے کہ قیامت کے ہولناک دن یہ جھوٹے معبود ان کا سہارا بن سکیں گے یا ان کے کام آسکیں گے۔ فرمایا کہ ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ کیونکہ وہاں اللہ کی مدد اور حمایت کے بغیر کسی کا کام نہ چل سکے گا۔ طنز کے طور پر فرمایا کہ ایسے لوگوں کی مہمان نوازی بھڑکتی آگ اور جہنم کے شعلوں سے کی جائے گی۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ان کو صاف صاف بتا دیجیے کہ جس طرح تمہارے جھوٹے معبود تمہارے کسی کام نہ آسکیں گے اسی طرح دنیاوی مال و دولت اور عیش و عشرت میں پڑے ہوئے لوگوں کے ان کی دولت اور دنیاداری کام نہ آسکے گی۔ کیونکہ یہ دنیا بڑی بےوفا ہے۔ یہ اس دنیا میں اور اس کے بعد بھی وفا نہیں کرتی۔ ادھر آنکھ بند ہوئی اور ادھر تمام چیزوں سے تعلق ہوجاتا ہے۔ لیکن جو صراط مستقیم سے بھٹکا ہوا ہوتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ بالکل صحیح اور درست راستے پر چل رہا ہے۔ اس کا یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے وہی صحیح راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا حالانکہ یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو دیکھ کر بھی اس کا انکار کیا ہے اور وہ اس سے قطعات بیخبر ہیں کہ بہت جلد آخرت میں ان کی ملاقات اس اللہ رب العالمین سے ہوگی جو ہر بات سے بخوبی واقف ہے۔ یہ وہ بدنصیب لوگ ہیں جنہوں نے سب کچھ کر کے بھی کئے کرائے پر پانی پھیر دیا ہے۔ قیامت کے دن اس وقت ان کی حسرتوں کی انتہا ہو جائیگی جب ان کے اعمال بےوزن ہو کر رہ جائیں گے کیونکہ انہوں نے دنیا میں نہ صرف اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا تھا بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو مذاق سمجھ رکھا تھا۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کی روش اختیار کی ان کے لئے جنت الفردوس کی ابدی راحتیں، اللہ کی طرف سے مہمان داری اور محبت سے استقبال ، یہ ان کا سرمایہ ہوگا۔ وہ ہمیشہ جنت کی راحتوں میں رہیں گے وہ ایک ایسی عیش و عشرت ہوگی جس میں سے نہ کوئی نکلنا پسند کرے گا اور نہ اس کو نکال جائے گا۔ فرمایا کہ وہاں حالات کی یکسانیت بھی نہ ہوگی جس سے وہ اکتا جائیں بلکہ وہاں کا ہر دن ایک نئی خوشی، راحت اور آرام کا پیغام لے کر آئے گا۔
Ayahs 18:109–110

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اگر میرے رب کے کلمات (لکھنے کے لئے) ایک سمندر و روشنائی بنج ائے تو میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے وہ سمندر (کا پانی) ختم ہوجائے گا۔ اگرچہ ہم اس جیسا (ایک سمندر) اور لے آئیں۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ میں تم ہی جیسا ایک بشر ہوں۔ (البتہ ) میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم سب کا پروردگار ایک ہی ہے۔ پس جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ عمل صالح کرے اور عبادت و بندگی میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔

لغات القرآن آیت نمبر 109 تا 110 مداد روشنائی، لکھنے کی سیاہی۔ نفد ختم ہوگیا۔ یوحی وحی کی جاتی ہے۔ یرجوا امید رکھتے ہیں۔ لقآء ملاقات، ملنا۔ لاتشرک شرک نہ کرے۔ عبادۃ عبادت، بندگی۔ تشریح :- آیت نمبر 109 تا 110 کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے یہودیوں کے بہکاوے میں آ کر روح، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق پوچھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ قریش مکہ کے ہر سوال کا جواب عنایت فرما کر ثابت کردیا کہ اللہ کے علم و حکمت کی باتیں اس قدر زیادہ ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ایک محسوس مثال کے ذریعہ سے بتایا گیا ہے کہ اگر سارے سمندر بلکہ ان جیسے اور بہت سے سمندروں کا پانی سیاہی بن جائے اور پھر اس سے اللہ تعالیٰ کے کلمات، باتوں اور حکمتوں کو لکھا جائے تو وہ سیاہی ختم ہوجائے گی لیکن اس کی باتیں اور حکمتیں ختم نہ ہوں گی۔ اللہ کا علم ایک گہرے سمندر کی طرح ہے جس کی گہرائی اور وسعت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس کے برخلاف انسان و بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ لہٰذا اللہ نے انسان کو جتنا علم بھی عطا کیا ہے اس پر پوری طرح عمل کیا جائے وہ عمل ہی علم کے راستوں کو کھولتا چلا جائے گا اور اللہ کی طرف سے علوم ملتے چلے جائیں گے۔