Ayahs 18:37–44لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 44
یح اور وہ بات کرتا ہے۔ تراب مٹی۔ سوی برابر کیا، مکمل کیا۔ ان ترن اگر تو مجھے دیکھتا ہے۔ ان یوتین یہ کہ مجھے دیدے۔ یرسل وہ بھیجتا ہے۔ حسبان آفت، مصیبت۔ صعید چٹیل میدان، نرم مٹی۔ زلق چکنی مٹی۔ غور گہرائی میں اتر جانا۔ احیط گھیر لیا گیا۔ یقلب وہ الٹتا پلٹتا ہے۔ کفیہ (کفین) اپنی دو ہتھیلیاں۔ انفقف اس نے خرچ کیا۔ خاویۃ او ندھی پڑی رہنے والی۔ عروش (عرش) بلندی، چھتیں فئۃ جماعت۔ گروہ ھنالک اسی جگہ۔ الولایۃ اختیار۔ عقب انجام، اجرت دینا۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 44
دنیا اور اس کی دولت کی خاصیت یہ ہے کہ اگر ایک شخص ایمان اور عمل صالح سے دور ہو تو وہ بےجا فخر و غرور اور ناشکری میں مبتلا ہو کر قارون بن جاتا ہے وہ اپنے علاوہ ہر شخص کو کم تر اور بےعقل سمجھنے لگتا ہے۔ اسے اس بات پر انتہائی فخر ہوتا ہے کہ اس کو جو کچھ ملا ہے وہ صرف اس کے علم تجربے اور محنت کا ثمر ہے۔ حالانکہ علم، تجربے اور محنت ہی کو سب کچھ مان لیا جائے تو ایک مال دار شخص کے مقابلے میں انتہائی قابل، عالم، تجربہ کار اور محنتی شخص زندگی بھر مفلسی اور غربت میں گذارنا نظر آتا ہے اور ایک وہ شخص جو صورت، شکل، علم، تجربے میں بہت کم ہے عیش و عشرت کے سامان اور مال و دولت کے ڈھیر رکھتا ہے وہ اسی میں مگن رہتا ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کا ایک نظام ہے جس کے تحت ہر شخص کو کچھ نہ کچھ عطا کیا جاتا ہے ۔ کسی کو کم کسی کو زیادہ۔ جس کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہو اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا رہے۔ اس پر فخر و غرور اور تکبر کا انداز اختیار نہ کرے۔ اللہ کا نظام یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرتا ہے تو اللہ اس سے سب کچھ چھین کر اس کو بےبس اور مجبور بنا دیتا ہے۔ چناچہ ایسے ہی دو آدمیوں کے واقعہ کو بطور مثال ارشاد فرمایا گیا ہے۔
ایک شخص مال دار اور دوسرا غریب و نادار تھا۔ مال دار رئیس آدمی کے انگوروں اور کھجوروں اور ہر طرح کے ثمرات سے بھرپور دو باغ تھے۔ ہر طرف سرسبزی و شادابی، خوش حالی، رشتہ داروں اور دوستوں کی بھیڑ اس کے گرد جمع رہتی تھی۔ ایک دن وہ مال دار شخص اپنے غریب اور مفلس شخص کو اپنے باغ میں لے گیا اور کہنے لگا کہ میرے پاس دھن دولت کی کمی نہیں ہے۔ میں معاشرہ کا قابل ترین اور با عزت شخص ہوں ایک آدمی جن چیزوں کی تمنا کرسکتا ہے وہ سب کچھ مجھے حاصل ہیں۔ اب یہ سلسلہ قیامت تک چلے گا۔ کہنے لگا کہ یہ قیامت، آخرت وغیرہ سب کہنے کی باتیں ہیں مجھے تو یقین نہیں ہے کہ قیامت آئے گی بہرحال اگر قیامت برپا ہوئی اور حساب کتاب ہوا تو جس طرح میں دنیا میں عیش و آرام کے ساتھزندگی گذار رہا ہوں آخرت میں بھی اسی طرح میں باعزت اور عیش و آرام کی زندگی گذار دوں گا۔ اس نے اپنے غریب بھائی سے کہا کہ مجھے تو اپنے علم اور تجربے سے سب کچھ مل گیا تو بم بتاؤ کہ تمہیں تمہاری نیکیوں، تقویٰ اور پرہیز گاری نے کیا دیا۔ تم تو یہاں بھی نقصان اور خسارے میں ہو۔ آخرت میں کیا ہوگا۔ اس کا اندازہ نہیں لگیا ا جاسکتا ہے۔ وہاں بھی تم اس حال میں رہوگے اور تمہیں کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا۔ جب وہ شخص اپنے غرور وتکبر کی باتیں کرچکا تو اس غریب و مفلس آدمی نے کہا کتنے افسوس کی بات ہے کہ تو ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے فخر و غرور کر رہا ہے۔ کبھی تو نے اس بات پر غور کرنے کی زحمت کی ہے کہ اللہ نے تجھے معمولی مٹی اور ناپاک خون کے ایک قطرے (نطفہ) سے پیدا کیا ہے اور تجھے صحیح سالم آدمی بنایا دیا ہے رہی میری بات تو میں عرض کروں گا کہ مجھے یقین کامل ہے کہ میرا رب صرف اللہ ہی ہے جو اپنی ذات میں یک و تنہا ہے۔ میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا اور نہ کوئی اس کا شریک ہے۔
مفلس آدمی نے مال دار سے کہا کہ اگر تو بےجا فخر و غرور کے بجائے ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ کہتا ” ماشاء اللہ ولاقوۃ الا باللہ “ یعنی جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور (اس کائنات میں) ساری طاقت و قوت اللہ ہی کی ہے۔ اگر تو شکر کا اندازاختیار کرتا تو شاید تجھے اس سے بھی دوگنا عطا کردیا جاتا۔ اللہ کی یہ قدرت و طاقت ہے کہ وہ آسمان سے کوئی آفت بھیج دے اور پھر تیرے یہ ہرے بھرے درخت سب کے سب تابہ ہو کر ایک چٹیل میدان بن جائیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس پانی سے تیرے باغوں کی یہ سرسبزی و شادابی ہے وہ پانی زمین کی گہرائیوں میں اتر جائے اور پھر ہزار کوشش کے باوجود اس پانی کو دوبارہ زین کے اوپر نہ لایا جاسکے۔ کیونکہ جب اللہ کا فیصلہ آجائے گا تو پھر کس میں یہ طاقتا ور قوت ہے کہ وہ اس کو اس کے عذاب سے بچا سکے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ایک دن اس کے باغوں پر آسمانی آفت آئی اور اس کے درختوں کے پھل اور سرسبزی و شادابی ختم ہو کر رہ گئی۔ جب سب کچھ ختم ہوگیا تو وہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔ اس کا سارا باغ اس کی چھتریوں اور دیواروں پر ڈھیر ہوچکا تھا۔ تب اس کو عقل آئی اور اس نے کہا کہ کاش میں فخر و غرور اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔ اس کی مکمل تباہی کے بعد وہی دوست احباب اور رشتہ دار جو اس کی خوشامد میں لگے رہتے تھے ایک ایک کر کے اس سے غائب ہونا شروع ہوگئے۔ وہ سب کے سب مل کر بھی اس کے کام نہ آسکے اور پھر اس کی جدوجہد اور کوشش بھی اس کے کام نہ آسکی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کائنات میں ساری طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی ہے جو سچا پروردگار ہے اسی کا سارا اختیار ہے ۔ جو اس کی طاقت و قوت کے سامنے جھکتا ہے وہی انعام و اکرام کا مستحق ہوتا ہے اور اس کا انجام بھی بہتر انجام ہوتا ہے۔
اس واقعہ سے چند باتیں سامنے آتی ہیں۔
1- اللہ تعالیٰ کو انسان کا فخر و غرور اور تکبرق طعاً ناپسند ہے۔ اگر اس کو کوئی چیز پسند ہے تو وہ انسان کی عاجزی و انکساری اور شکر گزاری کا جذبہ ہے۔ جو لوگ عاجزی و انکساری کا طریقہ اختیار کرتے ہیں اللہ ان لوگوں کو اپنے انعام و اکرام سے نوازتا ہے اور ان کا انجام بھی بہترین ہوتا ہے۔
2- اس کے برخلاف جو لوگ بےجا فخر و غرور کرتے ہیں اور دنیا کے مال و دولت کو سب کچھ سمجھ کر آخرت تک کا انکار کر بیٹھتے ہیں وہ وقتی طور پر تو بہت ترقی کرتے نظر آتے ہیں لیکن بہت جلد اپنے غرور کے سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں جہاں نہ تو خود اپنی مدد کرسکتے ہیں اور نہ کوئی دوسرا ان کو بچانے آسکتا ہے۔
3- ان آیات اور مثال میں کفار مکہ کو بھی آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ غریب اور مفلس مسلمانوں کا مذاق نہ اڑائیں اور اپنی دولت پر فخر و غرور نہ کریں کیونکہ وہ فکار برے انجام سے بہت قریب ہیں اور صحابہ رسول ﷺ بہت جلد کامیاب اور بامراد ہونے والے ہیں ۔ چناچہ تاریخ گواہ ہے کہ صحابہ کرام دنیا میں بھی کامیاب رہے اور آخرت میں ان کا کس قدر بلند مقام ہوگا۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
Ayahs 18:45–49لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 49
اختلط مل گیا۔ نبات الارض زمین کا سبزہ۔ اصبح ہوگیا۔ ہشیم چورہ چورہ۔ تذروا وہ اڑاتی ہے۔ الریاح (ریح) ہوائیں۔ مقتدر قدرت رکھنے والا۔ البنون (ابن) بیٹے۔ البقیت باقی رہنے والی۔ امل توقع، امید۔ نسیر ہم چلائیں گے۔ بار زۃ کھلی ہوئی۔ لم نغادر ہم نے نہیں چھوڑا۔ عرضوا پیش کیا گیا۔ صف قطار، صف۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ زعمتم تم نے گھمنڈ کیا، گمان کیا۔ وضع رکھ دیا گیا۔ مشفقین ڈرنے والے۔ احصی شمار کرلیا گیا۔ لایظلم وہ ظلم نہیں کرتا۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 49
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں چھوٹی چھوٹی مثالوں سے بڑی بڑی حقیقتوں کی طرف متوجہ کیا ہے۔ دنیا کی بےثباتی اور کمزوریوں کو ایک مثال کے ذریعہ بیان کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا اور اس کی چیزیں اس لئے پیدا کی گئی ہیں تاکہ ہر شخص ان کو استعمال کر کے اپنی زندگی کا سامان کرسکے ۔ یہ دنیا نہ تو دل لگانے کی چیز ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ہمیشہ رہنے والی چیز آخرت اور انسان کے نیک اعمال ہیں۔
فرمایا کہ جب زمین پر بارش برستی ہے تو مردہ زندگی میں ایک نئیزندگی اور سرسبزی و شادابی نظر آنے لگتی ہے۔ درخت، سبزہ، پھول، بوٹے اور لہلہاتے کھیت رونق دینے لگتے ہیں۔ لیکن پھر وہ موسم آتا ہے جس میں ہر چیز پر خزاں چھانے لگتی ہے۔ وہی درخت اور پنے جو اپنی سرسبزی و شادابی سے دلوں کو گرما رہے تھے بےرونق ہوجاتے ہیں۔ درختوں کے پتے رنگ بدلتے بدلتے جھڑنا شروع ہوجاتے ہیں اور وہ پتے ادھر ادھر بکھر کر ہواؤں کے رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک بچہ پیدا ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ بڑھ کر نو جوانی، جوانی میں قدم رکھتا ہے ۔ اس وقت اس میں ایک خاص ہمت، ولولہ اور شوق ہوتا ہے وہ خوب محنت کرتا ہے اور پھر ادھیڑ عمری سے گذر کر بوڑھا ہوجاتا ہے اور وہ خزاں میں بکھرے ہوئے پتوں کی طرح ادھر ادھر ڈولتا پھرتا ہے اور پھر وہ اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس دنیا پر نجانے کتنی مرتبہ بہاروں کے موسم آئے۔ یہ دنیا بھی ایک وقت تمام بہاروں سے گذر کر فنا ہوجائے گی اور صرف ایک اللہ کی حکمرانی رہ جائے گی۔ انسان دنیا میں اپنے چاروں طرف بہت سی چیزیں جمع کرتا ہے مال و دولت، گھر بار، کاروبار، اونچے اونچے مکان، سواریاں اور اولاد لیکن جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس میں سے کوئی بھی چیز اس کے ساتھ نہیں جاتی۔ یہ دنیا اور اس کی رونقیں یہیں رہ جاتی ہیں البتہ انسان کے وہ بہترین اعمال اور بلند کردار اس کے ساتھ جاتا ہے جو اس کی نجات کا ذریعہ ہے۔ انسان کے تمام اعمال کا ریکارڈ اللہ کے پاس محفوظ ہے۔ اگر بہتر اعمال کئے ہیں تو اس کی آخرت کی نجات کا ذریعہ بنج ائیں گے۔ برے اعمال ہوں گے تو وہ اس کے گلے کی مصیبت بن جائیں گے۔ جب آدمی دنیا اور اس کی رونقیں حاصل کرتا ہے تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ چیزیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گی لیکن موت کی نیند کے ساتھ ہی یہ چیزیں اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔ اس کے برخلاف اس کے نیک اعمال اس کی قبر سے لے کر میدان حشر تک اس کا ساتھ دیں گے اور اس کو آخرت کی زندگی اور اس کی راحتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عطا کی جائیں گے اسی لئے آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کے لئے محنت بھی زیادہ کرنا پڑتی ہے۔ درحقیقت اس دنیا سے تو ہر شخص کو ایک خاص مدت کے بعد جانا ہی ہے۔ خوش نصیب وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کی مختصر زندگی میں زیادہ سے زیادہ حسن عمل اور حسن کردار کی فکر میں لگے رہتے ہیں وہی ان کی دنیا اور آخرت میں عزت و سربلندی کا ذریعہ ہے۔
ہر شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو تو اس کا کردار دوسروں کے لئے بہترین مثال بن جائے۔ ہر شخص اس کو یاد کرنے والا، اس کے کے لئے کلمہ خیر کہنے والا، دعائیں کرنے والا ہو اور اس کے کردار کو ایک مثال بنا کر اس کی زندگی دوسروں کے لئے کوئی مثال ہو اور نہ اس کے لئے کوئی ایصال ثواب کرنے والا ہو۔ فرمایا کہ آخرت کی خوش حالی اور دنیا کی نیک نامی ان لوگوں کو ملتی ہے جو حسن عمل کا پیکر ہوتے ہیں۔ اگر کسی نے اس زندگی میں کسی کے ساتھ کوئی اچھا معاملہ کیا جو اس کے لئے صدقہ جاریہ بن جائے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہے اگر کسی کو عالم حافظ قاری بنا دیا، تعمیر مسجد و مدرسہ میں حصہ لیا تو یہ اس کے لئے انتہائی اعلیٰ صدقہ جاریہ ہے۔ انسان کا ایک بہت بڑا صدقہ جاریہ اس کی اپنی اولاد ہے جس کی صحیح تعلیم و تربیت سے وہ ان کو صحیح راستے پر ڈال کر جانے والا ہو تو اولاد کا ہر نیک عمل اس کے والدین کے لئے ثواب جاریہ ہے۔ اس کے والدین کے لئے ثواب جاریہ ہے۔ اس موقع پر میں یہ عرض کروں گا کہ صرف وہ اپنے بچوں کی ہی فکر نہ کرے بلکہ اپنی قوم کے غریب بچوں کی تعلیم و تربیت کی فکر بھی کرے تاکہ اس کے اجر وثواب میں اضافہ ہوتا چلا جائے اور یہ بھی اس کے لئے ثواب جاریہ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے کاموں کا بہترین اجر وثواب عطا فرماتے ہیں۔ فرمایا کہ ہر شخص کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ایک وقت اللہ اپنی قدرت و طاقت سے اس زمین کو ایک صاف اور چٹیل میدان بنا دے گا پھر قیامت قائم کی جائے گی اور انسان نے دنیا میں جو اعمال کئے ہیں ان کا حساب لیا جائے گا ان کے نامہ اعمال ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے جس میں ہر بات درج ہوگی وہ بات چھوٹی ہو یا بڑی۔ وہ وقت بھی عجیب ہوگا۔ جب ہر شخص اپنے نامہ اعمال پڑھ کر یہ محسوس کرے گا کہ اس میں زندگی کے ہر معاملے کو نوٹ کرلیا گیا ہے اور کسی بات کو چھوڑا نہیں گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح اس دنیا میں کسی کے ساتھ ظلم نہیں کیا اسی طرح آخرت میں بھی ہر شخص کو انصاف ملے گا اور اس پر ذرہ برابر ظلم و زیادتی نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو فکر آخرت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Ayahs 18:50–53لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53
فسق نافرمانی کی۔ ما اشھدت میں نے نہیں بلایا۔ متخذ بنانے والا۔ المضلین گمراہ کرنے والے۔ عضد مددگار، قوت وبازو۔ نادوا پکارو، آواز دو ۔ لم یستجیبوا انہوں نے جواب نہیں دیا۔ موبق تباہی و بربادی کا سامان، آڑ۔ مواقعون داخل وہنے والے۔ مصرف پناہ کی جگہ ۔
تشریح : آیت نمبر 50 تا 53
ابلیس اور شیطان دونوں ایک ہی فرد کے نام ہیں جس کا تعلق جنات کی قوم سے تھا۔ اللہ نے آدم کی پیدائش سے پہلے ہی اس کو تمام فرشتوں کا سردار بنایا ہوا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے سب کو یہ حکم دیا کہ وہ حضرت آدم کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے سامنے سجدہ کریں یعنی جھک جایئں۔ تمام فرشتوں نے حکم کی تعمیل میں حضرت آدم کو سجدہ کیا لیکن شیطان نے اس تکبر کے ساتھ سجدہ کرنے سے انکار کردیا کہ میں تو آگ سے بنایا گیا ہوں اور حضرت آدم مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں اور مجھے تو بظاہر ان میں کوئی ایسی عظمت والی بات نظر نہیں آتی کہ میں آدم کے سامنے جھک جاؤں۔ لہٰذا میں حضرت آدم کو سجدہ نہیں کروں گا۔
اللہ تعالیٰ کو تکبر کسی حال میں پسند نہیں ہے اس تکبر اور بڑائی کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے اس شیطان کو حکم دیا کہ وہ اس عظمت کے مقام سے دور ہوجائے۔ شیطان نے اس حکم کے مقابلے میں تکبر سے کہا کہ اگر مجھے مہلت دیدی جائے تو میں اس بات کو ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ جو کچھ میں نے کہا ہے وہی صحیح ہے اور انسان اس عزت و عظمت کے لائق نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے شیطان کو قیامت تک مہلت دیتے ہوئے فرمایا کہ جو میرے نیک اور لائق بندے ہوں گے وہ تیرے فریب کے جال میں کبھی نہ پھنسیں گے۔ البتہ وہ لوگ جو میرے نافرمان بندے ہوں گے ان پر تیرا قابو چل سکتا ہے۔ لیکن میرا بھی یہ وعدہ ہے کہ میں اپنے نیک اور فرماں بردار بندوں کو جنت کی ابدی راحتیں عطا کروں گا اور نافرمانوں سے جہنم کو بھر دوں گا۔ چناچہ یہیں سے خیر اور شر کا آغاز ہوگیا اور قیامت تک رہے گا۔
اس واقعہ کو قرآن کریم میں متعدد اور متعدد اور مختلف سورتوں میں بیان فرمایا گیا ہے جس سے ہر انسان کو اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے کہ شیطان دراصل انسان کا ازلی اور پکا دشمن ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہتا کہ کوئی شخص بھلائی اور خیر کا راستہ اختیار کر کے جنت کا مستحق بن جائے وہ ہمیشہ گناہ اور نافرمانی کی طرف بلانے کے لئے طرح طرح کے جال پھیلاتا رہتا ہے۔ نبی کریم ﷺ جو اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں وہ خیر و شر کی ہر بات کو کھول کھول کر بیان کرنے تشریف لا چکے ہیں۔ اگر کسی نے اس کھلی ہوئی اور واضح حقیقت کو تسلیم نہیں کیا تو پھر ان کو کبھی راہ ہدایت نہ مل سکے گی وہ ان کے دامن محبت و اطاعت سے وابستہ ہو کر حق و صداقت کا راستہ اختیار کرلیں ورنہ ان کو کبھی فلاح اور رشد و ہدایت کا راستہ نصیب نہ ہوگا ۔ یہ اللہ کے وہ محبوب نبی ہیں جن پر ایمان لانے والے اور عمل صالح کے ساتھ چلنے والے اس قدر بلند مقام تک پہنچ گئے ہیں کہ ساری دنیا کے تمام نیک انسان اگر مل جائیں اور ان کی نیکیاں جمع کرلی جائیں تو وہ سب مل کر ایک صحابی رسول کے قدموں میں لگی ہوئی خاک کے برابر بھی نہیں ہو سکتے۔ اس سے بڑھ کر صحابہ کرام کی عظمت اور کیا ہوگی کہ اللہ نے ان کے ایمان لانے کو معیار حق و صداقت بنا دیا ہے صحابہ کرام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر وہ (کفار و مشرکین) اسی طرح ایمان لائیں گے جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت پر ہیں۔ لیکن اگر وہ تمہاری طرح ایمان نہ لائے اور انہوں نے دوسرے راستے تلاش کئے تو ان سے زیادہ بدنصیب کوئی اور نہ ہوگا۔
آج ان صحابہ کرام کی عظمت اور شان یہ ہے کہ ان کی طرف نسبت کرنے کو قابل فخر سمجھا جاتا ہے لیکن وہ لوگ جو اللہ و رسول کی نافرمانی پر اڑے رہے آج ان کی اولاد بھی ان کی طرف نسبت کرنے کو پسند نہیں کرتیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں تمام کفار و مشرکین اور نافرمانوں سے ایک ہی سوال کیا ہے۔ کیا تم اس شیطان کے راستے پر چلو گے۔ اس کی پیروی کرو گے جو انسان کا ازلی دشمن ہے یا اللہ اور اس کے رسول کا راستہ اختیار کرو گے جس میں قدم قدم پر کامیابیاں اور آخرت کا ابدی سکون ہے ؟ فرمایا کہ شیطان کو یا اس کے چیلے چانٹوں کو اس زمین و آسمان کے بنانے میں ذرا بھی دخل نہیں ہے۔ بلکہ شیطان کا کام بگاڑنا ہے بنانا نہیں۔ وہ لوگوں کو گمراہ تو کرسکتا ہے لیکن نہ تو سیدھے راستے پر چلا سکتا ہے ہے اور نہ وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ کوئی صراط مستقیم پر چل کر کامیاب و بامراد ہو۔
اس شیطان نے انسان کو بہکا کر کائنات کی ہر چیز پر سجدے کرا دیئے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جیسے وہی چیزیں اس کائنات کی خالق ومالک ہیں۔ فرمایا کہ یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت و بندگی کرتا ہے جو اپنے پیدا ہونے میں بھی انسان کے محتاج ہیں۔ فرمایا کہ اسی لئے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا کہ ذرا ان معبودوں کو آواز تو دینا جن پر تمہیں بڑا ناز تھا چناچہ وہ گھبراہٹ میں اپنے معبودوں کو آوازیں دیں گے مگر ان کی طرف سے ایک مسلسل خاموشی ان کو شرمندہ کر دے گی اور وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔ فرمایا کہ ایسے معبودوں پر بھروسہ کر کے زندگی گذارنا سب سے بڑی حماقت ہے۔ یہ وقت ہے جہاں سوچ کر جھوٹے معبودوں سے توبہ کر کے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت قبول کرلی جائے اسی میں کامیابی ہے۔
Ayahs 18:54–56لغات القرآن آیت نمبر 54 تا 56
صرفنا ہم نے طرح طرح سے بیان کیا۔ جدل خوامخواہ کا جھگڑا۔ منع روکا۔ یستغفروا وہ معافی چاہتے ہیں۔ سنۃ طریقفہ، رسم۔ قبلاً سامنے۔ نرسل ہم بھیجتے ہیں۔ یدحضوا وہ ٹالتے ہیں۔ ھزوا مذاق۔
تشریح :- آیت نمبر 54 تا 56
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حق و صداقت، نیکی اور سچائی کی مثالوں کو بار بار بیان کیا ہے تاکہ ہر شخص سچائی کے راستے سے پوری طرح واقف ہو سکے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی اپنے حسن عمل اور طرز زندگی یعنی سنت کے ذریعہ ہر اس بات کی پوری طرح وضاحت فرما دی ہے جس سے ایک انسان کو صراط مستقیم پر چلنا آسان ہوجاتا ہے۔ جن لوگوں کو اللہ نے ایمان اور عمل صالح کی توفیق اور سعادت عطا فرمائی ہے انہوں نے نہ صرف اس پر ایمان لا کر بہترین عمل کیا بلکہ اس سچائی کو ساری دنیا تک پہنچانے میں اپنا سب کچھ قربان کر کے ایک ایسا انقلاب برپا کردیا جس سے ساری انسانیت کے اندھیرے دور ہوگئے۔ انہیں کفر و شرک اور نا فرمانیوں سے نجات مل گئی اور نور ہدایت کی روشنی میں انہوں نے دنیا اور آخرت کی تمام ابدی کامیابیاں حاصل کرلیں۔ اس کے برخلاف جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کا طرز عمل اختیار کیا اور اپنے کفر و شرک پر جمے رہے وہ زندگی کے اندھیروں میں گم ہو کر رہ گئے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو بتایا ہے۔ ارشاد ہے کہ ہم نے اکثر مثالوں کو بار بار اس لئے بیان کیا ہے تاکہ ہر شخص ان کو اچھی طرح سمجھ کر ان پر عمل کرسکے اور اپنی نجات کا سامان کرسکے۔ لیکن اکثر لوگ وہ ہیں جو پیغام ہدایت آنے کے باوجود اپنی ضد، ہٹ دھرمی، کج بحثی اور گناہوں کی زندگی پر اڑے ہوئے ہیں اور دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ حالانکہ اس پیغام حق اور ہدایت آجانے کے باوجود لوگوں محض ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے نافرمانیوں سے توبہ نہیں کرتے تو پھر ان لوگوں پر اللہ کا عذاب آ کر رہتا ہے جس سے بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ گھروں اور شہروں کی بربادی ، تہذیب و تمدن کی تباہی، زلزلے ، طوفان، وبائیں، ہوا کے سخت جھکڑ، باہمی اختلافات اور جھگڑے، طرح طرح کی تباہ کن مصیبتیں یہ سب اللہ کے عذاب کی مختلف شکلیں ہیں جو گزشتہ قوموں پر اتٓی رہی ہیں۔ فرمایا کہ ہم اپنے پیغمبروں کو بھیجتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے کلام کے ذریعہ اور اپنے طرز عمل سے اس بات کی وضاحت کردیں کہ اگر انہوں نے ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا تو ان کے لئے دنیا اور آخرت کی ابدی راحتیں ہیں لیکن اگر انہوں نے کفر و شرک اور اللہ کی نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا تو ان کا انجام گزشتہ قوموں سے مختلف نہ ہوگا ۔ کفار مکہ کو خاص طور پر اور قیامت تک آنے والے ہر شخص سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اللہ نے اپنے نبی اور رسول بھیجے لیکن اب اللہ نے اپنے اس آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ کو بھیج دیا ہے جن کے دامن محبت میں سب کچھ ہے۔ اگر ان کی اطاعت و فرماں برداری کی گئی تو ان کو دنیا و آخرت کی ہر کامیابی نصیب ہوگی۔ لیکن اگر ان کو اور اللہ کی آیات کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کی گئی تو پھر ان کی زندگیاں خود ایک مذاق بن کر رہ جائیں گی اور اپنے برے انجام سے نہ بچ سکیں گے۔
Ayahs 18:57–59لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 59
ذکر یاد دلایا گیا۔ اعرض اس نے منہ پھیر اپنی ۔ نسی وہ بھول گیا۔ قدمت آگے بھیجا۔ اکنۃ پردہ۔ ان یفقھوہ یہ کہ وہ اس کو سمجھے۔ اذا اس وقت۔ کسبوا انہوں نے کمایا۔ عجل اس نے جلدی کی۔ موئل بچنے کی جگہ۔ القریٰ بستیاں مھلک برباد ہونے۔ موعد وقت مقرر۔
تشریح :- آیت نمبر 57 تا 59
واقعی اس سے بڑھ کر زیادتی اور ظلم کیا ہوگا۔ کہ جب ایک خیر خواہ جس کی کوئی ذاتی غرض یا فائدہ نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اللہ کا کلام پورے خلوص سے پیش کر رہا ہے۔ اس کی بات نہ سنی جائے اور نہ اس پر توجہ کی جائے بلکہ اس سے منہ پھیر پھیر کر چلا جائے اور اس کو ایسا بےحقیقت سمجھا جائے کہ اس کو یاد کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی جائے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمیشہ سے اس کے نبی اور رسول حق و صداقت کا پیغام لے کر آتے رہے ہیں اور اب اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس سچے پیغام کو لے کر آگئے ہیں اس کے لئے جدوجد ان کے خلوص کا مظہر ہے۔ وہ امت کی خیر خواہی کے لئے طرح طرح کی تکلیفیں برداشت کر رہے ہیں ان کی باتوں اور پیغام حق سے انکار یا منہ پھیرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔
فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے اعمال کا نتیجہ ہے جو وہ کرتے رہے ہیں اور جو انہوں نے اپنے اعمال آگے بھیجے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ دین اسلام کے سچے اصولوں اور رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ سے دوری اللہ کی توفیق سے محرومی کی علامت ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے کرتوتوں کے سبب ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کے دلوں میں سمجھنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہی ہے ورنہ ایسی کھلی حیقت کو سمجھنے کی کوشش ضرور کرتے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سمجھنے سے ان کے درمیان ایک پردہ حائل کردیا ہے اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اب ان کی حالت یہ ہوچکی ہے کہ اگر ان کو راہ راست کی طرف بلایا بھی جائے تو یہ اس کی طرف کبھی نہیں آئیں گے کیونکہ جس سے اللہ تعالیٰ حسن عمل کی توفیق چھین لیتے ہیں تو پھر وہ ہر بھلائی سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ البتہ اگر اس نے سچے دل سے توبہ کرلی تو اس کو پھر سے توفیق مل سکتی ہے اور اس پر مغفرت اور رحمت کے سائے ڈالے جاسکتے ہیں۔
فرمایا کہ یہ اللہ کا کتنا بڑا کرم ہے کہ وہ ہر انسان کو اس کے ہر عمل پر فوراً ہی نہیں پکڑ لیتا بلکہ اس کو مہلت اور ڈھیل دی جاتی رہتی ہے۔ اگر اس نے فرصت سے فائدہ اٹھا کر توبہ کرلی تو اس کی خطاؤں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ ورنہ ایک خاص مدت کے بعد تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جاتا ہے۔ تاریخ انسانی اس پر گواہ ہے کہ اللہ نے ہر قوم کو سوچنے اور سمجھنے کی کافی مدت عطا کی تھی لیکن جب انہوں نے اس مہلت اور ڈھیل سے فائدہ نہیں اٹھایا تو ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ۔ ان کی دولت اور دنیا کی ترقیات ان کے کام نہ آسکیں۔
Ayahs 18:60–64لغات القرآن آیت نمبر 60 تا 64
فتی نوجوان، شاگرد۔ لا ابرح میں ہرگز نہ چھوڑوں گا۔ حتی ابلغ جب تک پہنچ نہ جاؤں۔ مجمع البحرین دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ۔ حقب (احقاب) طویل مدت۔ بلغا وہ دونوں پہنچے۔ حوث مچھلی۔ جاوزا دونوں گذر گئے۔ السخرۃ چٹان، پتھر نبغ ہم تلاش کر رہے ہیں۔ ارتدا وہ دونوں لوٹے۔ اثار نشان قدم۔ قصص ڈھونڈنا، تلاش کرنا۔
تشریح : آیت نمبر 60 تا 64
چونکہ نبی اور رسول اللہ کے بندے اور اللہ کے نمئاندے ہوتے ہیں اس لئے ان کی تعلیم و تربیت اور عرفت براہ راست اللہ کی طرف سے کی جاتی ہے تاکہ ان کی زندگی کا ہر عمل دوسروں کے لئے مثال، نمونہ اور اسوہ بن جائے۔ اللہ کے تمام نبی اور رسول گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ وہ نہ تو گناہ کرتے ہیں اور نہ گناہوں کی نسبت ان کی طرف کی جاسکتی ہے ۔ اس لئے ان کے رتبوں کی بلندی کی وجہ سے اللہ کی طرف سے ان کی چھوٹی سے چھوٹی بات پر گرفت کی جاتی ہے اور پھر اللہ کی طرف سے ان کی مکمل رہنمائی بھی کی جاتی ہے۔ اس کے لئے بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو انبیاء بنی اسرائیل میں افضل ترین رسول اور کلیم اللہ ہیں تقریر فرما رہے تھے۔ خطاب اس قدر دلنشین ، پر تاثیر اور پرجوش تھا کہ کسی شخص نے عقیدت و محبت کے جوش میں حضرت موسیٰ سے یہ پوچھ لیا کہ اے موسیٰ کیا آپ سے بڑھ کر بھی کوئی عالم ہے۔ حضرت موسیٰ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا ” نہیں “ یعنی مجھ سے بڑا کوئی عالم نہیں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اصول اعتبار سے یہ بات غلط نہ تھی کیونکہ اللہ کے رسول اپنے زمانہ میں نہ صرف صاحب کتاب ہوتے ہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ان کو وہ علوم سکھائے جاتے ہیں جو کوئی بھی نہیں جانتا۔ لہٰذا اس اصول کی بنا پر تو رسول کے زمانے میں اس سے بڑا کوئی عالم نہیں ہوتا۔ حضرت موسیٰ کا یہ کہنا اپنی جگہ درست تھا مگر حضرت موسیٰ کے رتبے اور مقام کا تقاضا یہ تھا کہ وہ صرف اتنا فرما دیتے کہ اللہ بہتر جانتا ہے میں نہیں جانتا۔ قرآن کریم کی ان آیات اور بخاری و مسلم کی معتبر ترین روایت کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا گیا کہ اے موسیٰ آپ دو سمندروں کے بیچ میں زمین کا ایک تنگ ٹکڑا ہے وہیں جائیے آپ کو ہمارا ایک بندہ ملے گا جس کو ایسی باتوں کا علم دیا گیا ہے جن کی مصلحتوں تک کو آپ نہیں سمجھ سکتے۔ فرمایا گیا کہ تم اپنے ساتھ ایک مچھلی پکا کرلے جانا۔ جہاں یہ مچھلی گم ہوجائے اس جگہ ہمارے اس بندے سے ملاقات ہوگی۔ بخاری و مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بندہ خصوصی کا نام ” خضر “ تھا۔ حضرت موسیٰ اپنے ساتھ اپنے ان خادم خاص یوشع کو لے گئے تھے۔ جن کو بعد میں نبوت عطا کی گئی اور حضرت موسیٰ کے وصال کے بعد ان کے قائم مقام بنائے گئے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع حضرت خضر کی تلاش میں روانہ ہوگئے۔ یہ دونوں تلاش کرتے کرتے تھک کر سو گئے۔ حضرت یوشع کی آنکھ کھلی تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے ناشتے دان کی مچھلی زندہ ہو کر سرنگ بناتی ہوئی سمندر میں اتر گئی۔ اس عجیب و غریب واقعہ پر حضرت یوشع بڑے حیران ہوئے۔ حضرت موسیٰ سو رہے تھے انہوں نے سوچا کہ حضرت موسیٰ بیدار ہوجائیں تو ان سے اس عجیب و غریب واقعہ کا ذکر کریں گے۔ مگر حضرت موسیٰ اٹھے اور فوری طور پر وہاں سے روانہ ہوگئے۔ حضرت یوشع کو یہ واقعہ سنانے کا موقع نہ مل سکا۔ جب چلتے چلتے تھک گئے تو حضرت موسیٰ نے حضرت یوشع سے کہا کہ اب ہم بہت تھک گئے ہیں بھوک لگ رہی ہے کھانا لاؤ۔ اس وقت حضرت یوشع کو مچھلی کا عیجب طریقے پر سمندر میں اتر جانے کا خیال آیا۔ انہوں نے کہا شیطان نے مجھے بھلا دیا تھا اصل میں وہ مچھلی تو عجیب طریقے پر سرنگ بناتے ہوئے سمندر میں اتر گئی تھی۔ یہ سن کر حضرت موسیٰ نے کہا کہ ہمیں اسی جگہ کی تلاش تھی۔ فوراً وہیں واپس چلو جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا کیونکہ اسی جگہ تو حضرت خضر سے ملاقات ہوگی۔ چناچہ وہ دونوں اپنے پاؤں کے نشانوں پر چلتے ہوئے اس جگہ پہنچ گئے جہاں مچھلی غائب ہوئی تھی۔ کچھ تلاش کے بعد دیکھا کہ ایک شخص چادر اوڑھے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جا کر سلام کیا یہ حضرت خضر (علیہ السلام) تھے جنہیں اللہ نے کائنات کا خصوصی علم دیا تھا اور وہ اللہ کی طرف سے بہت سے کاموں کے کرنے پر مامور تھے۔ وہ اللہ کے حکم سے لوگوں کی آنے والی مصیبتوں میں ان کے کام آتے تھے۔
جب حضرت موسیٰ نے سلام کیا تو انہوں نے حیرت سے حضرت موسیٰ کے سلام کا جواب دیتے ہوئے پوچھا کون موسیٰ ؟ کیا آپ بنی اسرائیل کے موسیٰ تو نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا جی ہاں میں بنی اسرائیل کا موسیٰ ہوں۔ پوچھا کیوں آئے ہو ؟ حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ اللہ نے آپ کو جو خصوصی علوم عطا فرمائے ہیں۔ آپ کے پاس رہ کر ان علوم کو حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت خضرعلیہ السلام نے کہا اے موسیٰ آپ جہاں سے آئے ہیں وہیں لوٹ جائیے۔ کیونکہ میں تو اللہ کے حکم سے ایسے ایسے کام کرتا ہوں جنہیں آپ برداشت نہ کرسکیں گے اور صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں گے حضرت موسیٰ نے کہا کہ میں صبر سے کام لوں گا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا کہ میرے ساتھ چلنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ جب تمہیں خود نہ بتا دوں اس وقت تک تم مجھ سے یہ سوال مت کرنا کہ ایسا کیوں ہوا اور ایسا کیوں نہیں ہوا۔
حضرت موسیٰ نے اس کا وعدہ کرلیا اور حضرت خضر ان کو ساتھ لے کر چل پڑے۔ اس واقعہ کی بقیہ تفصیل اگلے درس میں ملاحظہ فرمائیے گا۔
Ayahs 18:65–70لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 70
وجدا دونوں نے پایا۔ علمنا ہم نے سکھایا۔ علمت تجھے سکھایا گیا۔ رشد ہدایت۔ لن تستطیع تو ہرگز طاقت نہیں رکھتا۔ لم تحط گھیرتا نہیں ہے۔ لا اعصی میں نافرمانی نہیں کروں گا۔ لاتسئلنی مجھ سے نہ پوچھنا ۔ حتی احدث جب تک میں بیان نہ کردوں۔ ذکر ذکر، بات۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 70
جب حضرت موسیٰ اللہ کے حکم سے حضرت خضر (علیہ السلام) کی تلاش میں نکلے تو ان کی ملاقات ایک سنگم پر حضرت خضر سے ہوگئی۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ نے حضرت خضر سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے آپ کو جو خصوصی علوم و معارف عطا کئے ہیں میں آپ کے پاس رہ کر انہیں سیکھنا چاہتا ہوں۔ حضرت خضر نے کہا اے موسیٰ آپ جہاں سے آئے ہیں وہیں لوٹ جائیے کیونکہ میں تو اللہ کے حکم سے ایسے ایسے کام کرتا ہوں جنہیں دیکھ کر آپ صبر و برداشت نہ کرسکیں گے کیونکہ ایسی باتوں کو کیسے برداشت کرسکتے ہیں جن کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کی ہر بات میں اطاعت کروں گا۔ حضرت خضر نے کہا میرے ساتھ چلنے کی شرط یہ ہے کہ جب تک میں کسی بات یا کام کی مصلحت خود نہ بتا دوں اس وقت تک مجھ سے کوئی سوال نہ کرنا۔ حضرت موسیٰ نے وعدہ کرلیا اور اس طرح وہ حضرت خضر کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ اس واقعہ کی بقیہ تفصیلات تو اگلی آیات میں آجائیں گی۔ ان آیات میں چند باتوں کی وضاحت پیش ہے۔
حضرت موسیٰ نہ صرف کلیم اللہ ہیں، صاحب کتاب و شریعت ہیں بلکہ بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر ہیں اور قرآن کریم میں سب سے زیادہ ذکر حضرت موسیٰ ہی کا ہے۔ لہٰذا ایسے جلیل القدر پیغمبر کو جب حضرت خضر کے پاس بھیجا جا رہا ہے کہ وہ ان سے علم اور اس کی حکمتیں سیکھیں تو یقینا حضرت خضر کی بھی بڑی شان ہونا ظاہر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خضر کون ہیں ؟ ان کے ذمے کیا کام ہیں ؟ وہ زندہ ہیں یا نہیں ؟ ذہن میں ابھرنے والے ان سوالات کے جوابات خود قرآن کریم نے دیئے ہیں۔ فرمایا کہ حضرت خضر (1) ہمارے بندوں میں سے ایک بندے ہیں ۔ (2) انہیں خصوصی رحمتوں سے نوازا گیا تھا۔ (3) ان کے پاس جو بھی علم تھا وہ صرف اللہ نے ان کو عطا فرمایا تھا۔ (4) وہ جو کچھ کرتے تھے اس میں ان کا اختیار نہیں تھا بلکہ وہ سب کچھ اللہ کے حکم سے کرتے تھے۔ ان چاروں خصوصیات سے حضرت خضر کی عظمت سامنے آتی ہے یعنی جس طرح اللہ نے اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے بہت سے اپنے برگریدہ پیغمبروں کو بھیجا تھا اسی طرح اللہ نے کائنات میں ان کو خصوصی کاموں پر مقرر کیا تھا۔ وہ اللہ کے حکم سے ایسے کام کرتے ہیں جن کے کرنے کا اللہ نے ان کو حکم دیا ہے اور وہ کام بھی ایسے ہیں کہ نظر کچھ آتے ہیں مگر ان کی مصلحت اس وقت تک سمجھ نہیں آسکتی جب تک اس کو بیان نہ کردیا جائے۔ اسی لئے حضرت نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ میں تو ایسے کام کرتا ہوں جن کی مصلحت آپ کی سمجھ میں نہ آئے گی اور آپ پر صبر نہ کرسکیں گے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اس کائنات کا نظام اللہ کے حکم سے چل رہا ہے۔ کس کام میں کیا حکمت اور مصلحت ہے ؟ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ مثلاً آپ دیکھتے ہیں کہ ایک شخص ظالم و جابر ہے وہ اپنی حکومت اور طاقت کے گھمنڈ میں مظلوموں کو روندتا چلا جا رہا ہے۔ وہ بربریت اور ظلم کی انتہاؤں پر ہونے کے باوجود کامیاب ہے۔ خوب پھل پھول رہا ہے۔ اس کے برخلاف نیک، پرہیز گار، متقی اور مظلوم تباہ و برباد ہوتے جا رہے ہیں۔ اس وقت لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ اللہ کا کیسا نظام ہے جس میں نیکی کرنے اور حق و صداقت پر چلنے والا تو ذلیل و خوار ہو رہا ہے اور ظالم اور کمینہ شخص کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ظالم کی رسی کو اتنا دراز کیوں کیا جا رہا ہے۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ ایسا ہمیشہ ہوتا رہا ہے کہ مظلوم ظالم کے ظلم کی بھینٹ چڑھتا رہا ہے لیکن اللہ نے ظالم و جابر لوگوں کو کس طرح تباہ و برباد کیا وہ بھی ایک داستان عبرت ہے۔ اللہ کی لاٹھی بےآواز ہے جب وہ ظالموں سے انتقام لیتا ہے تو اس قدر بھیانک انتقام ہوتا ہے جس کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ اللہ کے ہاں دیر ہوتی ہے مگر اندھیر نہیں ہے۔
ان آیات سے دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ وہی غیب اور شھادۃ یعنی غائب اور موجود کا جاننے والا ہے۔ وہ انسانوں کو جتنا علم دینا چاہتا ہے وہ دیتا ہے لیکن اللہ کے علم کے مقابلے میں انسان کا علم بہت محدود ہے۔ اسی لئے حضرت خضر نے اس چڑیا کو دیکھ کر جو سمندر سے پانی پی رہی تھی کہا تھا کہ اللہ کا علم اس سمندر جیسا ہے اور چڑیا کی چونچ میں جتنا پانی ہے وہ انسان کا علم ہے یعنی جو نسبت سمندر اور چڑیا کی چونچ میں پانی کی ہے وہی نسبت اللہ کے علم اور انسان کو دیئے گئے علم کی ہے۔ فرمایا کہ حضرت خضر کا جو بھی علم تھا وہ ان کو اللہ نے عطا فرمایا تھا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو جو علوم عطا فرمائے ہیں وہ ان کی ذات میں نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے یدئے ہوئے علوم و معارف ہوا کرتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت خضر اللہ کے ایک بندے ہیں جن پر اللہ کا خصوصی فضل و کرم ہے اور اللہ نے ان کو اپنے پاس سے علوم عطا فرمائے تھے اور وہ اللہ کے حکم سے ایسے کام کرتے ہیں جن کی حکمت اور مصلحت کو سمجھنا ہر ایک کے بس کا کام نہیں ہے۔
اس موقع پر اس بحث کی ضرورت نہیں ہے کہ حضرت خضر زندہ ہیں یا نہیں ؟ اللہ بہتر جانتا ہے ہمیں نہیں بتایا گیا اور قرآن و سنت میں بھی اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔