Ayahs 16:106–110لغات القرآن آیت نمبر 106 تا 110
اکرہ مجبور کردیا گیا، زبردستی کی گئی۔ شرح کھل گیا۔ صدر دل ، سینہ۔ استحبو انہوں نے پسند کرلیا۔ طبع مہر لگا دی۔ الغفلون بیخبر رہنے والے۔ ھاجروا انہوں نے ہجرت کی۔ فتنوا آزمائش میں ڈالے گئے۔ جاھدو انہوں نے جہاد کیا۔
تشریح : آیت نمبر 106 تا 110
جب نبی کریم ﷺ نے کفار و مشرکین مکہ کے سامنے اللہ کے پیغام کو رکھا تو ابتداء میں آپ کی باتوں پر زیادہ غور نہیں کیا گیا
پھر مذاق اڑانا شروع کیا، اس کے بعد شدید مخالفت کا آغاز ہوا۔ نبی کریم کی تعلیمات کو جو بھی قبول کرتا اس پر انسانیت سوز ظلم و ستم کئے جاتے اور کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ حضرت عمار بن یاسر کی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین کو سخت اذیتیں دے کر شہید کردیا گیا حضرت عمار بن یاسر کو بھی بہت سخت تکلیفیں اور اذیتیں دی گئیں اور ان سے کہا گیا کہ وہ اللہ و رسول کی توہین میں الفاظ ادا کریں۔ اس وقت حضرت عمار بن یاسر نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو کفار کہلوانا چاہتے تھے۔ اس طرح حضرت عمار کو چھوڑ دیا گیا حضرت عمار نے اپنی جان تو بچا لی مگر شرمندگی کا یہ عالم تھا کہ روتے ہوئے سرکار دوعالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوری صورتحال کو بیان فرما دیا اور اس کلمہ کفر کا بھی ذکر کیا جو کفار نے آپ سے کہلوائے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ اس وقت تمہارے دل میں کیا تھا ؟ عرض کیا یا رسول ﷺ اس وقت میرا دل ایمان کے جذبوں سے معمور تھا۔ آپ نے بڑا حکیمانہ جواب دیا کہ اے عمار ایسی صورت میں اگر وہ ظالم تم سے پھر کہلوانا چاہیں تو کہہ دینا۔ قرآن کریم میں یہی ارشاد ہے کہ ایمان لانے کے بعد اگر کسی کو زبردستی کفر کہنے پر مجبور کردیا جائے لیکن اس کا دل ایمانی جذبوں سے بھرپور ہو تو ظاہری طور پر جان بچانے کے لئے کلمہ کفر کہہ دینے سے وہ شخص کافر نہیں ہوجاتا۔ البتہ اگر وہ دل کی خوشی سے کلمہ کفر ادا کرے گا تو اس پر نہ صرف اللہ کا قہر نازل ہوگا۔ بلکہ قیامت میں اس کو زبردست عذاب دیا جائے گا کیونکہ اس نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو زیادہ محبوب بنا لیا اور دنیا کے وقتی عیش و آرام کے لئے آخرت کی ابدی راحتوں کو ٹھکرا دیا۔ اس آیت سے اور صحابی رسول کے عمل اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق اگر کوئی اپنی جان بچانا چاہتا ہے تو اس کو اس کی اجازت ہے کہ وہ اوپری دل سے کلمہ کفر کہنا پڑے تو کہہ دے مگر اپنے دل میں ایمان کے جذبے کو برقرار رکھے۔ ایک تو شکل یہ ہے کہ آدمی اپنی جان بچا لے لیکن اگر کوئی شخص دنیا کی ہر سختی، پریشانی، اذیت اور آزمائش کے باوجود اپنے ایمان پر بھی قائم رہے اور اگر اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑے تو پیش کر دے تو ایسے شخص کا مقام اور اس کی قربانی نہایت باعظمت ہے چناچہ اکثر صحابہ کرام کی زندگی میں ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ انہوں نے دنیا کی ہر تکلیف اور ظلم برداشت کیا لیکن کلمہ کفر ادا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی جان دیدی لیکن وہ سب کچھ نہ کہا جو کفار کہلانا چاہتے تھے۔
حضرت بلال حبشی جو موذن رسول ﷺ کے لقب سے پکارے جاتے ہیں جب انہوں نے کلمہ توحید پڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت کا اقرار کرلیا۔ تو ان کو ان کے مالک کی طرف سے ایسی تکلیفیں دی گئیں جن کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ عرب کی سخت گرمی میں تپتی ہوئی ریت پر ان کو لٹا دیا جاتا اور اوپر سے سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا جاتا۔ ہاتھ پاؤں پر کوڑے برسائے جاتے۔ رات کو زنجیروں میں باندھ کر کوڑے برسائے جاتے۔ مشرکین ان کے گلے میں رسی باندھ کر ان کو پہاڑیوں پر کھینچتے جاتے اور کہتے کہ تم اس کلمہ توحید سے توبہ کرلو تو تمہاری جانب خش دی جائے گی مگر حضرت بلال حبشی زخموں کی تکلیف کے باوجود ” احد احد “ کہتے جاتے یعنی اللہ ایک ہے۔ اللہ ایک ہے ہر طرح کی اذیتوں کے باوجود وہ حضرت بلال حبشی کے عزم و ایمان کو شکست نہ دے سکے۔
حضرت عمار کے والدین کو اتنی شدید تکلیفیں پہنچائی گئیں کہ جو ناقابل تصور ہیں پھر ان دونوں کو صرف اس لئے شہید کردیا گیا کہ وہ ایک اللہ کے ماننے کا اقرار کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا سچا نبی اور رسول مانتے تھے۔ اسی طرح حضرت سمیہ اسی سال کی بوڑھی خاتون تھیں جب ابوجہل کو معلوم ہوا تو اس نے حضرت سمیہ کو سمجھایا۔ جب انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ میں جان تو دے سکتی ہوں مگر جس ایمان کا اقرار کرچکی ہوں اس سے میں نہیں پلٹوں گی ابوجہل نے ان کی شرم گاہ پر اتنی زور سے برچھا مارا کہ ان کا وہیں انتقال اور اس طرح دین اسلام کی عظمت کے لئے سب سے پہلے حضرت سمیہ نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کر کے وہ عظمت حاصل کی جو کسی کو اس سے پہلے نصیب نہیں ہوئی تھی۔ یہ اسلام کی عظمت و شان کے لئے پہلی شہید ہیں جنہوں نے دین اسلام کے لئے اپنا خون بہایا۔
حضرت خباب بن الارث ایک کافرع ورت کے غلام تھے۔ جب آپ نے دین اسلام کو قبول کیا اور اس عورت کو معلوم ہوا تو اس نے لوہا گرم کرایا اور اس سے ان کے جسم کو داغنا شروع کیا کبھی لوہے کی زرہ پہنا کر ان کو باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا جاتا۔ کبھی گرم ریت پر لٹا دیا جاتا جس سے ان کی کمر کا گوشت گل گیا تھا۔ ایک دفعہ تو ظلم کی یہ انتہا ہوگئی کہ ان کو باندھ کر آگ کے انگاروں پر لٹا دیا گیا۔ آپ کی کمر کی چربی اور خون سے وہ آگ بجھ گئی لیکن ان تمام تر تکلیفوں کے باوجود حضرت خباب بن الارت نے اپنی زبان سے کلمہ کفر نہیں کہا اور اپنے ایمان کو بچانے کے لئے ہر طرح کیی ایثار و قربانی سے کام لیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر ایک شخص کلمہ کفر کہہ کر اپنی جان بچا سکتا ہے تو بچا لے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا دل جذبہ ایمانی سے سرشار ہو اور اگر اس نے اپنی جان تو بچا لی اور کفر پر راضی ہو کر اس نے اپنا ایمان نہ بچایا تو اس کو مرتد کہا جائے گا جس کی سزا جہنم ہے دنیا میں بھی اس کے مرتد ہونے کی سزا دی جائے گی اور آخرت میں تو جہنم کے انگارے ہی اس کا مقدر ہیں۔ البتہ اگر وہ اپنے ارتداد سے توبہ کرلے تو اس کے لئے معافی ہے۔
وہ لوگ جو مرتد ہوجاتے ہیں اور آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھ کر ایمان کی دولت تک سے محروم ہوجاتے ہیں اور اسی پر جم جاتے ہیں تو اللہ ایسے لوگوں کو راہ ہدایت نصیب نہیں فرماتا اللہ ان کے دلوں پر اور سماعت و بصارت پر اس طرح مہریں لگا دیتا ہے کہ ان کا شمار غافلوں میں ہونے لگتا ہے اور آخر کار وہ آخرت کا شدید نقصان اٹھاتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ جنہوں نے اذیتوں اور پریشانیوں کے باوجود ہجرت کی اور نہایت صبر و شکر سے دین کی سربلندی کے لئے کوششیں، جہاد اور جدوجہد کرتے رہے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ دیکھیں گے کہ آپ کا پروردگار بہت ہی معاف کردینے والا نہایت مہربان ہے اور وہ اپنے بندوں کی بڑی سے بڑی غلطی کو معاف کردیتا ہے اور وہ شخص جس نے ایمان قبول کرلیا اس کے گزشتہ تمام گناہوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
Ayahs 16:111–113لغات القرآن آیت نمبر 111 تا 113
تاتی آئے گا۔ تجادل جھگڑتا ہے۔ توفی پورا دیا جائے گا۔ عملت عمل کیا۔ لایظلمون زیادتی نہ کیا جائے گا۔ ضرب اللہ اللہ نے بیان کیا۔ قریۃ بستی، شہر۔ کانت امنۃ مطمئن تھی۔ رغد سہولت سے، بافراغت۔ انعم اللہ اللہ کی نعمتیں۔ اذاق چکھایا۔ لباس الجوع بھوک کا لباس (بھوک مسلط ہوگئی) آ یصنعون وہ بناتے ہیں۔ کذبوا انہوں نے جھٹلایا۔ اخذ پکڑ لیا۔
تشریح : آیت نمبر 111 تا 113
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر قیامت کے ہولناک دن کے متعلق بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا ہے کہ اس دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ ہر ایک طرح طرح کے عذر و معذرت پیش کر کے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرے گا۔ لیکن اس دن ہر طرح کی معذرت کرنا بےکار ہوگی کیونکہ عمل کا وقت تو گذر گیا ہوگا۔ اب تو ہر ایک کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوگی۔ نہ عذاب میں کمی کی جائے گی اور نہ زیادتی کی جائے گی۔ سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرما دے تو اور بات ہے ورنہ اللہ کے اصولوں کے مطابق ہر شخص کو اپنے کئے ہوئے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ جس نے اللہ کے دین اور نعمت کی قدر کی ہوگی اس دن وہ خوش اور مسرور ہوگا۔ لیکن جو اس دنیا میں اپنے گھر والوں اور بچوں میں تو بڑی خوشیاں مناتا ہوگا۔ اور اس کو فکر آخرت نہ ہوگی تو وہ اس دن بےچین اور بےقرار ہوگا ۔ اس آیت میں اشارہ اس طرف کیا گیا ہے کہ اس دن کے آنے سے پہلے ہی کفر و شرک سے توبہ کرلی جائے ورنہ جب وہ قیامت کا دن آجائے گا تو پھر عمل کا وقت نکل جائے گا۔ اس آیت کی مناسبت سے ایک پرسکون و اطمینان والی بستی کا ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور اللہ کی نعمت یعنی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی قدر نہ کی تو اللہ نے اسی دنیا میں دکھا دیا کہ ان پر سات سال تک اتنا شدید قحط پڑا کہ وہ گھاس پھونس، پتے اور غلاظت و گندگی تک کھانے پر مجبور ہوگئے۔ فرمایا کہ یہ تو دنیا میں نافرمانی کا نتیجہ ہے کہ کوئی کسی کو نہیں پوچھ رہا ہے۔ ابھی تو توبہ کرنے اور عمل کرنے کا وقت ہے لیکن جب نتیجہ کا وقت ہوگا۔ تو وہاں عمل کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
فرمایا کہ ایک ایسی بستی تھی جس میں امن، چین، سکون اور اطمینان تھا ہر طرف سے ہر طرح کا رزق پہنچ رہا تھا۔ کھانے پینے کی چیزوں کی کمی نہ تھی۔ لیکن امن و چین نے اس شہر کے لوگوں کو اس قدر مغرور اور متکبر بنا دیا تھا کہ وہ اللہ کو بالکل بھول گئے تھے اور انہوں نے ہر نصیحت کرنے والے کی ہر نصیحت کو برا محسوس کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت انبیاء کرام ہیں ان کی بھی ناقدری کی گئی تو اللہ نے ان پر ایسا عذاب مسلط کیا جس نے ان کے اطمینان و سکون کو بےچینی، خوف اور ڈر سے تبدیل کردیا گیا۔ خوش حالی کی جگہ بھوک، قحط اور آپس کے جھگڑوں کا عذاب مسلط ہوگیا دشمن کے خوف، فقر و فاقہ اور بےسکونی کے ساتھ ساتھ قحط نے ان کی کمر دوہری کردی تھی۔
یہ کونسی بستی تھی اس کو متعین کر کے کچھ کہنا تو مشکل ہے۔ ہر ایک وہ بستی ہو سکتی ہے جہاں کے رہنے والوں نے اللہ کی نعمت کی ناشکری اور ناقدری کی جس کے نتیجے میں ان پر اللہ کا عذاب آیا۔ لیکن حضرت عبداللہ ابن عباس کی روایت یہ ہے کہ اس آیت میں اگرچہ کسی بستی کا نام نہیں لیا گیا۔ لیکن نام لئے بغیر اس بستی سے مراد ” مکہ مکرمہ “ ہے اس صورت میں جس بھوک اور خوف کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد وہ قحط ہوگا۔ جو نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت ایک مدت تک قحط کی شکل میں مکہ مکرمہ پر مسلط رہا۔
اس روایت کی تائید میں تفسیر مظہری کے مطابق یہ واقعہ بھی ہے کہ مکہ کے سرداروں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ کفر و نافرمانی تو ہم نے کی ہے۔ ہم قصور وار ہیں عورتیں اور بچے تو بےقصور ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے مدینہ طیبہ سے کھانے وغیرہ کا سامان بھجوایا۔ قرطبی میں یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ ابوسفیان نے بحالت کفر نبی کریم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ تو صلہ رحمی اور عفو و درگزر کی تعلیم دیتے ہیں۔ آپ کی قوم (قحط سے) ہلاک ہوئی جا رہی ہے۔ اللہ سے دعا کیجیے کہ یہ قحط ہم سے دور ہوجائے ۔ اس پر رسول اللہ نے ان کے لئے دعا فرمائی اور قحط دور ہوا۔
ان تمام حقائق و روایات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کفار مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما گئے اور تمام صحابہ کرام بھی مدینہ منورہ پہنچ گئے تب مکہ مکرمہ میں مسلسل سات سال تک ایسا شدید قحط پڑا کہ لوگ کتے، بلی اور گندگی تک کھانے پر مجبور ہوگئے۔ جب قحط نہایت شدید ہوگیا جو ان کے برے اعمال اور نبی کریم ﷺ جیسی عظیم شخصیت و نعمت کی ناقدری کی وجہ سے ان پر مسلط کیا گیا تھا۔ اس وقت حضرت ابوسفیان جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے ان کی قیادت میں مکہ کا ایک وفد مدینہ منورہ آیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کو ان حالات سے آگاہ کیا اور دعا کی درخواست کی تو آپ نے کفار مکہ کے سارے ظلم و ستم کو بھلا کر نہ صرف ان دشمنوں کے لئے بھلائی کی دعا کی بلکہ ان کی امداد بھی فرمائی۔ پیغمبر انسانیت حضرت محمد ﷺ کی سیرت کا یہ عظیم پہلو ہے کہ آپ کے سامنے جب بھی انسانوں کی ظاہری تکلیفوں کا ذکر کیا گیا تو آپ اپنے مخالفوں اور دشمنوں کے لئے بےچین ہوگئے اور آپ نے دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کر کے امت کے لئے یہ اسوہ حسنہ چھوڑا ہے کہ ایک مومن کو انسانیت کا سچا خادم ہونا چاہئے۔
Ayahs 16:114–119لغات القرآن : آیت نمبر 114 تا 119
کلوا کھاؤ۔ رزق اس نے رزق دیا۔ ایاہ اس کی۔ تعبدون تم عبادت کرتے ہو۔ حرم حرام کردیا، روک دیا۔ المیتۃ مردار۔ الدم خون۔ الحم الخنزیر خنزیر کا گوشت۔ اھل پکارا گیا۔ اضطر مجبور کردیا گیا، مجبور ہوگیا۔ غیر باغ بغاوت کا ارادہ نہ ہو۔ لاعاد نہ زیادتی کا ارادہ ہو۔ لاتقولوا تم نہ کہو۔ تصف بنا لی ہے۔ قصصنا ہم نے بتایا، بیان کیا۔ یظلمون وہ ظلم کرتے ہیں۔ بجھالۃ نادانی۔ تابو توبہ کرلی۔ اصلحوا اصلاح کرلی۔
تشریح : آیت نمبر 114 تا 119
جس شخص کو بات بات پر اعتراض اور کج بخشی کرنے کی عادت پڑجاتی ہے اس کے سامنے کتنی ہی معقول سے معقول حقیقت کو پیش کردیا جائے تب بھی وہ اس میں کوئی نہ کوئی ایسی بات نکال لیتا ہے جس سے ایک نئی بحث چھڑ جائے اور سچائی کی شمع مدہم پڑجائے۔ بنی اسرائیل دنیا کی وہ قوم ہے جس نے اسی روش کو اختیار کیا اور اپنے نبیوں سے طرح طرح کے سوالات کر کے نہ صرف اپنے اوپر سینکڑوں پابندیاں لگوا لیں بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایمان کی دولت ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ کی امت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب قرآن کریم نازل ہو رہا ہے اس وقت بہت سے وہ سوالات نہ کریں کہ اگر ان کو ظاہر کردیا گیا تو وہ مشکل میں پڑجائیں گے۔ اسی طرح فرمایا کہ ” اے مومنو ! کیا تم بھی اپنے نبی سے ایسے ہی سوالات کرو گے جس طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰ سے سوالات کئے گئے تھے۔ “ (البقرہ) ان احکامات کی روشنی میں صحابہ کرام بہت ہی کم سوالات کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے اسی مزاج کو یاں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ہر روز ایک نیا سال لے کر آجاتے تھے۔ جب یہ کہا گیا کہ جو لوگ بھی اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں تو بطور سزا وہ نعمت ان سے چھین لی جاتی ہے۔ حلال چیزیں بھی اللہ کی نعمت ہیں۔ اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ جو حلال اور پاکیزہ اور ستھری چیزیں انہیں دی گئی ہیں وہ ان میں سے کھائیں اور حرام چیزوں کے قریب نہ جائیں فرمایا کہ کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام ہے اس کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ اللہ کے سوا کسی شخص کو حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کا حق نہیں ہے۔ بنی اسرائیل کو دو باتوں پر اعتراض تھا۔
(1) ایک تو یہ کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں تو اور بہت سی چیزیں بھی حرام تھیں لیکن شریعت مصطفیٰ ﷺ میں وہ چیزیں حلال ہیں کیا حضرت موسیٰ اور حضرت محمد ﷺ کی شریعتیں الگ الگ تھیں ؟ یا ایک تھیں۔ اگر وہ شریعت اللہ کی طرف سے تھی تب تو اس کی مخالفت کر کے گناہ میں مبتلا ہونے کی بات کی جا رہی ہے ہو اور اگر دونوں شریعتیں ایک تھیں تو پھر ایک ہی اللہ کی اتاری ہوئی شریعتوں میں یہ اختلاف کیوں ہے ؟
(2) دوسرا اعتراض یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں ” سبت “ کی حرمت کا قانون تھا اہل ایمان نے اس قانون کو بالکل ختم کردیا ہے یعنی ہفتہ کا دن جو یہودیوں کے نزدیک اتنا قابل احترام تھا کہ اس دن یہودی کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ مسلمانوں نے ہفتہ کا دن جو یہودیوں کے نزدیک اتنا قابل احترام تھا کہ اس دن یہودی کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ مسلمانوں نے ہفتہ کے دن کے بجائے جمعہ کے دن کو پورا احترام دیدیا۔ کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے یا مسلمانوں نے خود ہی جس چیز کو چاہا حلال کرلیا اور جس چیز کو چاہا حرام قرار دے لیا ؟
ان دونوں اعتراضات کے اللہ نے جوابات ان آیات میں عطا فرمائے ہیں۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شریعتیں ایک ہی اللہ کے حکم سے تھیں لیکن بعد میں لوگوں نے اپنی مرضی سے بعض حلال چیزوں کو حرام کرلیا اور خود ہی ہفتہ کے دن کو مقدس و محترم بنا لیا تھا اور جو چیزیں ان پر حرام کی گئی تھیں وہ ان بنی اسرائیل کی شرارتوں اور نافرمانیوں کا نتیجہ تھا یعنی سزا کے طور پر ان کو ان چیزوں کے استعمال سے روکا گیا تھا۔
مثلاً ناخون والا یعنی کھر رکھنے اوالا ہر وہ جانور جس کی انگلیاں پھٹی ہوئی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ بطخ، خرگوش وغیرہ ان کا کھانا حرام قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح گائے بکرے کی جو چربی پشت یا انتڑیوں یا ہڈی پر لگی ہوئی نہ ہو۔ وہ ان کے لئے حرام تھی۔ لیکن یہ ان پر بطور سزا کے حرام قرار دی گیء تھی۔ اسی طرح ہفتہ کا دن جب انہوں نے منع کرنے کے باوجود شکار کیا تھا ان پر اللہ نے عذاب نازل کیا اور ان کو شرف انسانیت سے محروم کر کے بندر بنا دیا گیا جو سارے کے سارے بندرتین دن کے اندر اندر مر کھپ گئے۔ فرمایا کہ شریعت موسیٰ اور شریعت مصطفوی ﷺ دونوں ہی اللہ کی طرف سے ہیں ان میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ جو چیزیں بطور سزا دی گئی تھیں وہ قیامت تک سارے انسانوں کے لئے حرام نہیں ہیں اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ خود اپنی طرف سے گھڑتا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اللہ نے کن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اس کے متعلق بھی ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ :
اے مومنو ! اللہ نے تمہیں جو بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں عطا کی ہیں وہ کھاؤ اور اگر تم اس ایک ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرتے ہو تو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔
فرمایا کہ تمہارے اوپر چار چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
1) مردار 2) خون 3) خنزیر کا گوشت 4) اور ہر وہ چیز جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
اگر کوئی شخص انتہائی شدید مجبور ہوجائے تو (جان بچانے کے لئے) ان چیزوں کو استعمال کرسکتا ہے شرط یہ ہے کہ اس کا مقصد نہ تو شریعت سے بغاوت ہو اور نہ زیادتی ہو تب جائز ہے۔ وہ اللہ بڑا ہی مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
فرمایا کہ اس جھوٹ میں اپنی زبانوں کو ملوث نہ کرو کہ یہ حلال ہے اور وہ حرام ہے کیونکہ ایسا کہنا اللہ پر جھوٹ گھڑنا ہے جس کی قطعات اجازت نہیں ہے کیونکہ جو لوگ ایک جھوٹی بات کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ کبھی فلاح اور کامیابی حاصل نہیں کرسکتے وجہ یہ ہے کہ اس جھوٹ سے ممکن ہے وہ کچھ دنیاوی فائدے حاصل کرلیں لیکن یہ فائدے ان کے اس دنیا ہی میں کچھ دیر کام آسکتے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کے لئے آخرت کا درد ناک عذاب تیار ہے۔ فرمایا کہ یہودیوں کی نافرمانی کی وجہ سے جو چیزیں ان پر حرام کی گئی تھیں وہ ان پر اللہ کا ظلم اور زیادتی نہ تھا کیونکہ اللہ تو کسی بندے پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا یہ تو انسان ہی ہے جو اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار کر اپنے آپ کو نقصان پہنچتا ہے ۔ وہ رب العالمین تو ایسی شان والا ہے کہ اس کا کوئی بندہ زندگی بھر گناہ کرنے کے بعد بھی اگر احساس شرمندگی اور انداز ندامت ہے اس کے سامنے آ کر توبہ کرلیتا ہے اور اپنی اصلاح کرلیتا ہے تو وہ رب بہت ہی مغفرت کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔
Ayahs 16:120–124لغات القرآن آیت نمبر 120 تا 124
امۃ پیشوا، رہنما، مقتدا۔ قانت فرماں بردار۔ حنیفا سب سے کٹ کر ایک اللہ کا ہونے والا۔ لم یک نہ تھا۔ شاکر شکر کرنے والا۔ انعمہ اس کی نعمتوں کا۔ اجتبی اس نے منتخب کیا۔ اوحینا ہم نے وحی کی۔ اتبع پیروی کیجیے، پیچھے چلیے۔ ملۃ ملت ، دینی طریقہ۔ جعل مقرر کیا گیا ہے۔ السبت ہفتہ کا دن۔
تشریح :- آیت نمبر 120 تا 124
اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں ہے کہ جو قوم ، سست، کاہل اور بےعمل ہوجاتی ہے اس میں بعض ایسی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں جو ان کو دوسروں کی نظروں میں حقیر و ذلیل کردیتی ہیں مثلاً
(1) بات بات پر بحث و مباحثہ، کٹ حجتی ، کج بحثی کرنا۔
(2) اور اپنے بزرگوں اور محترم شخصیات کی طرف نسبت کر کے فخر و غرور کرنا۔
مکہ کے کفار و مشرکین اور خصوصاً بنی اسرائیل کو اس بات پر بڑا ناز تھا کہ وہ ابراہیمی ہیں وہی اللہ کے محبوب، پیارے اور سچے مسلمان ہیں ان کے علاوہ سب کے سب کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم جن کی عظمتوں پر انہیں ناز ہے وہ واقعی توحید کے پیکر اپنی ذات میں ایک امت، ایک جماعت اور ایک انجمن تھے۔ دین و دنیا کی وہ کونسی خوبی اور بھلائی ہے جو ان میں موجود نہ تھی۔ ابراہیم خلیل اللہ ، ابو الانبیا اور اللہ کے فرماں بردار بندے ہیں، ہر طرف سے کٹ کر وہ صرف ایک اللہ کو خلاق ومالک ماننے والے اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے والے۔ صراط مستقیم پر گامزن ۔ اللہ کے منتخب بندے۔ حق و صداقت کے لئے خاندان کے عزت و عظمت ، راحت و آرام کو قربان کرنے والے۔ آخرت میں تمام عظمتوں کے مستحق تھے اور ہیں۔ ان ہی طریقوں پر وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو چلایا اور ان کو ملت ابراہیمی کو اپنانے کا حکم دیا۔ حضرت محمد نے اسی توحید کے راستے کو اپنایا اور ہر طرح کے کفر و شرک سے نفرت کا اظہار فرمایا۔ ارشاد ہے کہ یہ تو حضرت ابراہیم خلیل اللہ تھے اور دوسری طرف ان کے راستے پر چلنے والے ان کے پیروکار نبی کریم ﷺ اور ان کے جاں نثار صحابہ ہیں۔ فرمایا کہ تیسری طرف وہ ہیں جنہوں نے ہفتے کے دن کی عظمت کو خود ہی متعین کر کے اس کو دین کا جزو بنا لیا اور اس میں بھی طرح طرح کے اختلافات ہیں۔ ان اختلافات کا فیصلہ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرما دیں گے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ کس منہ سے اپنے آپ کو دین ابراہیمی کا پیکر اور متبع کہتے ہیں جب کہ ان میں حضرت ابراہیم جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ اس کے برخلاف حضرت محمد ﷺ اور آپ کے ماننے والے مومنین حضرت ابراہمی کی ملت اور دین کے پیروکار ہیں۔ فرمایا کہ نجات درحقیقت ان کی نسبتوں پر فخر کرنے سے حاصل نہ ہوگی بلکہ ان جیسے طریقے اختیار کرنے میں ہوگی۔ اب جب کہ وہ تبی تشریف لے آئے ہیں جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے پیروکار ہیں تو ان کا راستہ ہی کامیابی کا راستہ ہے آپ کے علاوہ جس راستے کو بھی اختیار کیا جائے گا وہ نجات اور کامیابی کا راستہ نہ ہوگا۔ ۔
Ayahs 16:125–128لغات القرآن آیت نمبر 125 تا 128
ادع بلا، پکارا۔ سبیل راستہ۔ الحکمۃ سمجھ، دانئای۔ الموعظۃ نصیحت۔ جادل بحث کرو۔ احسن زیادہ بہتر ہے ۔ اعلم بہت زیادہ جانتا ہے ۔ ضل بھٹک گیا۔ عاقبتم تم نے بدلہ لیا۔ غو قبتم تمہیں تکلیف دی گئی۔ لاتخزن رنجیدہ نہ ہو۔ ضیق دل میں تنگی محسوس کرنا۔ یمکرون وہ مکرو فریب کر رہے ہیں۔
محسنون نیکی کرنے والے۔
تشریح آیت نمبر 125 تا 128
سورۃ النحل میں بہت سے بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گی ہے۔ اس سورت کو جن آیات پر ختم فرمایا گیا ہے اس میں اس بات کی نصیحت کی جا رہی ہے کہ کائنات کی سچائیاں وہی ہیں جو اس سورت میں اور اس سے پہلی سورتوں میں بیان کی گئی ہیں۔ ان کو سمجھانا اور ہر شخص کے دل میں اتارنے کا طریقہ کیا ہے اس کی تفصیل ارشاد فرمائی جا رہی ہے۔ کسی بھی نصیحت کے لئے چند بنیادی باتوں کو سمجھنا ضروری ہے ورنہ ہر نصیحت بےکار ہو کر رہ جاتی ہے۔
1) نصیحت کے لئے حکمت و دانئیا بہت ضروری چیز ہے۔ حکمت کیا ہے ؟ حکمت یہ ہے کہ جس کو نصیحت کی جا رہی ہے وہ کس عمر رتبہ اور مقام کا آدمی ہے اگر ایک عقل و فکر والے کو دیہاتی انداز سے سمجھایا جائے گا تو اس پر نصیحت کا اثر ہونے کے بجائے الٹا اثر ہوگا ۔ اسی طرح ایک کم سمجھ اور کم علم اور کم عمر والے کو اگر ایسی باتیں بتائی جائیں گی جو اس کی عقل و فکر سے بہت اونچی تھی تو اس کے سر سے گذر جائیں گی اور نصیحت کرنے والے کی نصیحتیں بےکار ہوجائیں گی۔ اس لئے بات کہنے سے پہلے اس بات کا پوری طرح لحاظ کیا جائے گا کہ ہم کس سے بات کر رہے ہیں۔
2) پھر یہ کہ جس سے بات کی جا رہی ہے اس کا اصل مرض اور خرابی کیا ہے دنیا میں وہی ڈاکٹر اور طبیب کامیاب سمجھا جاتا ہے جو مرض کی تشخیص کرنے کے بعد اس کا مناسب علاج کرسکتا ہو۔ نصیحت کرنے والا بھی ایک ڈاکٹر کی طرح ہوتا ہے۔ اگر اس کو یہی نہیں معلوم کہ میں جس نصیحت کر رہا ہوں وہ کس بات میں الجھا ہوا ہے اس کا مضر اور کمزوری کیا ہے تو یقینا اس کی نصیحت کارگر نہ ہوگی۔
3) نصیحت کرنے والے کو خوش اخلاق ہونا چاہئے تاکہ سننے والا یا جس کو خاص طور پر نصیحت کی جا رہی ہے وہ یہ محسوس نہ کرے کہ مجھ پر زبردستی ایسی بات کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر اس کا دل آمادہ نہیں ہے۔ غرضیکہ حکمت و دانئای بڑی بنیادی چیز ہے۔ اگر ایک آدمی نے نہایت خلوص سے نصیحت کی لیکن دوسرا آدمی بجائے سننے کے مرنے مارنے پر اترتا ہے تو فرمایا کہ اگر وہ جاہل و نادان ہے تو یہ کہہ کر اٹھ جاؤ کہ اللہ تجھے سلامت رکھے یہی اس کی کج بختی کا بہترین جواب ہے۔ لیکن خود اس کو اس طرح اپنے مقابل نہیں لے کر آنا چاہئے کہ اس کی رہنمائی کے بجائے وہ خود کسی گمراہی میں مبتلا ہوجائے۔ نصیحت کرنا انسان کا کام ہے لیکن دلوں کا پھیردینا ہدایت دینا یا گمراہ کرنا یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کا کام صرف سیدھی راہ دکھانا ہے۔ اس میں نہایت خلوص احترام اور محنت کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی شخص زیادتی کرتا ہے تو فرمایا کہ اس کو اسی طرح جواب دینا جائز ہے لیکن اگر صبر کر کے اللہ پر چھوڑ دیا جائے تو پھر یہ بات صبر و برداشت کرنے والوں کے حق میں بہت ہی بہتر ہے۔
نبی کریم ﷺ ان ہی آیات کی روشنی میں لوگوں کو اللہ کی راہ کی طرف نہایت حکمت و دانئای سے بہترین نصیحتوں سے اور نرمی سے بلاتے تھے اور ان کی خیر خواہی میں کسر نہ اٹھا رکھتے تھے۔ صحابہ کرام بھی آپ کے طریقے پر چلتے ہوئے اللہ کا دین پہنچانے میں ہر طرح کی محنتیں فرماتے تھے مگر کفار و مشرکین اور اسلام اور سچائی کے دشمن ایسا دل شکن رویہ اختیار کرتے تھے کہ جس سے آپ ﷺ کو سخت اذیت اور تکلیف پہنچتی تھی اور آپ رنجیدہ ہوجاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ :
اے نبی ﷺ ! آپ اللہ کا دین پہنچاتے رہیں اگر وہ ظلم اور زیادتی کرتے ہیں تو اس پر صبر کیجیے نہ آپ رنجیدہ ہوں اور نہ اپنے دل میں کوئی تنگی پیدا کریں ۔ اللہ ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی اختیار کرتے ہیں اور ہر حال میں دوسروں کی بھلائیا ور خیر خواہی کے متمنی رہتے ہیں۔
الحمد للہ ان آیات پر سورة النحل تکمیل تک پہنچ گئی ہے۔ میں اس پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ اللہ قبول و منظور فرمائے۔ (آمین)
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین