Ayahs 16:77–83لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83
امرالساعۃ قیامت کا حال۔ لمح البصر آنکھ کا جھپکنا، آنکھ کا بند ہونا۔ اقرب زیادہ قریب۔ بطون (بطن) پیٹ۔ شیئاً کچھ بھی۔ السمع سننا، کان الابصار (بصر) آنکھیں۔ الافئدۃ دل، قلب۔ الطیر پرندہ۔ فی جو السمآء آسمان کی فضا میں۔ مایمسک نہیں تھامتا۔ سکن ٹھکانا، رہنے کی جگہ۔ جلود (جلد) کھالیں۔ تستخفون تم ہلکا پھلکا پاتے ہو۔ یوم ظعن سفر کے دن، کوچ کے دن۔ یوم اقامۃ ٹھہرنے کے دن۔ اصواف (صوف) اون۔ اوبار (وبر) اونٹ کا نرم رواں۔ اشعار (شعر) بال۔ اثاثاً سامان اسباب۔ متاعاً سامان۔ حین وقت ، زمانہ۔ ظلال سائے۔ اکنان صکن) چھپنے کی جگہ۔ سرابیل (سربال) کرتے۔ تقیکم تمہیں بچاتا ہے۔ باس لڑائی، جنگ۔ تسلمون تم فرماں برداری کرتے ہو۔ یعرفون وہ پہچانتے ہیں۔ ینکرون وہ انکار کرتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 77 تا 83
فرمایا کہ یہ لوگ پتھر اور لکڑیوں کے بےجان بتوں کو اپنا معبود بنا کر ان سے اپنی مرادیں مانگتے ہیں حالانکہ وہ نہایت بےبس عاجز اور کمزور ہیں جو اپنے وجود تک کے لئے انسانی ہاتھوں کے محتاج ہیں وہ کسی کے نفع اور نقصان کے مالک کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اس دنیا میں اور آخرت میں اس کے کوئی کام نہیں آسکیں گے۔ اس کے برخلاف اللہ کی قدرت و شان اور اختیار یہ ہے کہ اس نے کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے جو بھی اس کے تابع اور فرماں بردار ہے وہ ذرے ذرے کی حقیقت اس کے راز اور ہر بھید سے واقف ہے۔ وہی اللہ سب کا خالق ومالک اور محسن ہے۔ انسان کی یہ کتنی بڑی بھول ہے کہ وہ اپنے حقیقی محسن کو بھول کر غیر اللہ کے سامنے جھکتا ہے اور ان کو اپنا حاجت روا سمجھتا ہے حالانکہ حاجت روا صرف اللہ کی ذات ہے۔ اللہ کے سارے نبیوں اور رسولوں نے یہی بتایا کہ اس کائنات میں صرف ایک اللہ کا حکم چلتا ہے وہی سب کی حاجتیں پوری کرتا ہے۔ ہر چیز پر اس کو پوری قدرت کو طاقت حاصل ہے۔ اس نے سب لوگوں کو قیامت تک مہلت دی ہوئی ہے جب وہ قیامت آجائے گی پھر ہر شخص کو زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا ۔ اس وقت یہ پتھر کے بےجان بت کسی کی کوئی مدد نہ کرسکیں گے۔ نبی کریم ﷺ جو اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں آپ نے بھی سب سے پہلے مکہ والوں کو یہی بتایا کہ ساری قدرت و طاقت اللہ ہی کی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور بہت جلد قیامت آنے والی ہے وہ قیامت جس میں اس کائنات کو سمیٹ کر رکھ دیا جائے گا۔ چاند ، سورج بےنور ہوجائیں گے ستارے ٹوٹ کر ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے، زمین ایک شدید زلزلے کے جھٹکے سے ختم کردی جائے گی اور پھر اللہ ایک نئی زمین پیدا فرمائیں گے۔ میدان حشر قائم ہوگا۔ اور پھر سب کا حساب کتاب ہوگا ۔ کفار مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اے محمد ﷺ ! آخر قیامت جس کا آپ بار بار ذکر کرتے ہیں وہ کب آئے گی ؟ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین کے ہر بھید اور راز کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اللہ کو معلوم ہے کہ قیامت کب آئے گی لیکن جب وہ قیامت آئے گی تو اس کے آنے میں اتنی دیر بھی نہیں لگے گی جتنی دیر پلک جھپکنے میں لگتی ہے۔ اللہ اس پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ فرمایا کہ اس کائنات میں اللہ کی قدرت و طاقت کی سینکڑوں نشانیاں موجود ہیں مثلاً :
1) ہر انسان کا اپنا وجود ہی ایک نشانی ہے۔ جب اللہ کسی انسان کو نو مہینے ماں کے پیٹ میں رکھ کر اس کو اس دنیا میں لاتا ہے اس وقت وہ سننے، دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیت ہونے کے بوجود اپنی ان صلاحیتوں کو استعمال نہیں کرسکتا تھا وہ اللہ اس کو سننے دیکھنے اور سوچنے کی طاقتیں عطا کرتا ہے یہ چیز ہر انسان کے لئے مقام شکر ہے۔
2) اس نے ہزاروں قسم کے پرندے پیدا کئے جن کو ایسا ہلکا پھلکا جسم اور اڑنے کی صلاحیت عطا فرمائی کہ وہ فضاؤں میں بےتکلف اڑتے پھرتے ہیں۔ فضاؤں کو ہواؤں کو ان کے لئے ایسا مسخر کردیا کہ نہ ان کو زمین کی کشش اڑنے سے روک سکتی ہے اور نہ فضاؤں کی تیزی، ان پرندوں کو یہ صلاحیت کس نے دی ؟ یقینا اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو عطا فرمائی ہے۔
3) اللہ نے انسان کو عقل، فہم اور فراست کے ساتھ ساتھ ایسے ذرائع بھی عطا فرمائے جن سے وہ دنیا کی زندگی کو آرام اور سکون سے گذار سکے۔ فرمایا کہ ان کو گھر بنا کر اس میں سکون سے رہنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔ اسی اللہ نے جانوروں کی کھالوں سے خیمے بنا کر رہنے کی صلاحیت عطا فرمائی جن کو انسان نہایت آسانی اور سہولت سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرسکتا ہے۔ اللہ نے اس انسان کو ایسی صلاحیت عطا فرمائی جس سے وہ جانوروں کو اون، رویں اور بال حاصل کر کے سردی گرمی موسم کی سختی اور نرمی سے بچنے کا سامان بناتا ہے اور سکون حاصل کرتا ہے۔ انسان کا اپنا گھر اور لباس وغیرہ اللہ کی بڑی نعمت ہے جس پر اسے ہر آن شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔
4) اسی طرح اس لئے نے تپتے صحراؤں اور میدانوں میں درختوں، پہاڑوں اور بادلوں کا سایہ عطا فرمایا۔ اگر سایہ نہ ملے تو انسان جھلس کر رہ جائے۔ اسی طرح پہاڑوں کے غار بنائے جس میں آدمی رہ سکتا ہے وقت ضرورت ان کو اپنی پناہ گاہ بنا سکتا ہے۔ اس نے لوہا پیدا کیا جسے انسان زرہ تلواریں اور دوسرے ہتھیار بنا کر اپنی حفاظت کرسکتا ہے۔ فرمایا کہ اس طرح اللہ نے طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائیں یہ سب اس کی قدرت کاملہ کے نمونے اور نشانیاں ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اللہ کی یہ نشانیاں ہیں جو اس نے کائنات میں بکھیر دی ہیں اب ان سے فائدہ اٹھانا اور عبرت حاصل کرنا انسان کا اپنا کام ہے آپ اللہ کے اس پیغام کو پہنچا دیجیے کہ اس کائنات میں ساری قدرت و طاقت صرف اللہ کی ہے اس لئے یہ سب کچھ عطا فرمایا ہے۔ اسی کی عبادت و بندگی کرنا چاہئے۔ فرمایا کہ وہ لوگ اس کی قدر کریں یا نہ کریں وہ جانتے بوجھتے شرک کا راستہ اختیار کریں یا نا شکری اور کفر کا آپ کا کام ہے اللہ کا پیغام پہنچا دینا۔ آپ کو اکثر لوگ وہ ملیں گے جو سب کچھ دیکھنے اور جاننے کے باوجود انکار کریں گے لیکن آپ ان کی پرواہ نہ کریں۔ یہ اللہ کا دین ہے وہ اس کا خود ہی محافظ و نگراں ہے۔
Ayahs 16:84–89لغات القرآن آیت نمبر 84 تا 89
نبعث ہم اٹھائیں گے۔ شہید گواہ۔ لایوذن اجازت نہیں دی جائے گی۔ لایستعتبون نہ وہ راضی کرسکیں گے۔ لاینظرون نہ دیکھے جائیں گے، مہلت نہ دی جائے گی۔ کنا ہم تھے۔ ندعوا ہم بلاتے ہیں۔ القوا انہوں نے ڈالا (وہ ڈالیں گے) یومئذ اس دن۔ السلم اطاعت و فرماں برداری۔ زدنا ہم نے بڑھا دیا (ہم بڑھا دیں گے) تبیان کھلی بات، واضح بات۔ بشریٰ خوشخبری۔
تشریح :- آیت نمبر 84 تا 89
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے “ یعنی اس دنیا میں جس انسان نے اپنے عمل کا جیسا بیج بویا ہوگا۔ وہ اس کو آخرت میں جا کر کاٹے گا۔ یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت اس کے عمل کی جزا ہوگی جیسا بوئے گا ویسا ہی کاٹے گا۔ کانٹے بو کر پھولوں کی تمنا حماقت سے زیادہ کچھ نہیں ہے خلاصہ یہ ہے کہ قیامت آنے کے بعد اللہ تعالیٰ ایک نیا جہاں پیدا فرمائیں گے جس میں تمام انسانوں کو جمع کر کے ان کی پوری زندگی کے متعلق حساب پوچھا جائے گا جس کے اعمال درست ہوں گے وہ جنت کا اور جس کے اعمال خراب ہوں گے وہ جہنم کا مستحق ہوگا۔ وہاں کوئی عذر اور معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔ ان آیات میں اسی بات کو فرمایا جا رہا ہے کہ وہ کتنا ہیبت ناک دن ہوگا۔ جب ہر امت کا نبی اپنی امت کی گواہی دینے کے لئے کھڑا ہوگا۔ کہ ان میں کون نیک، اطاعت گذار اور دین پر چلنے والا تھا اور کون برائیوں، گناہوں اور نافرمانیوں کا پیکر بن چکا تھا۔ جب عذاب سامنے آئے گا تو کفار و مشرکین یہ عذر پیش کریں گے کہ الٰہی ہمیں سزا نہ دیجائے بلکہ ان معبودوں کو سزا دی جائے جنہوں نے ہمیں گمراہی کے راستے پر ڈالا تھا۔ وہ جھوٹے معبود جن کی وہ عبادت و بندگی کرتے تھے کہیں گے کہ اے اللہ ہمیں تو یہ معلوم ہی نہیں کہ یہ ہمیں اپنا معبود کیوں مانتے تھے اس میں ہمارا کیا قوصر ہے ” یعنی ہم تو بےجان پتھر اور لکڑی کے بنائے گئے بت تھے اس میں ہمارا کوئی اختیار نہ تھا۔ اس طرح اس برے وقت میں وہی جھوٹے معبود ان کو تنہا چھوڑ کر ان سے غائب ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم سب جھوٹے ہو۔ آج کا دن جزا کا دن ہے تمہاری شرمندگی اور معذرت پر تو کوئی رعایت ملے گیا ور نہ عذاب میں کمی کی جائے گی بلکہ دوگنا سزا ملے گی کیونکہ تم لوگ خود بھی گمراہی پر قائم تھے اور دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے گمراہ کرتے اور روکتے تھے۔
فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! وہ دن بھی کفار کے لئے کی اس عجیب اور دہشت ناک دن ہوگا۔ جب ہر امت میں سے ہر ایک نبی اپنی امت کے اعمال کی گواہی دے گا اور ان انبیاء کرام اور ان کی امتوں پر اے نبی ﷺ آپ گواہی دیں گے (اور اس دن یہ حقیقت پوری طرح کھل کر سامنے آئے گی کہ ) اللہ نے آپ پر قرآن کریم کو نازل فرمایا جس میں ہر چیز کو کھول کھول کر بیان فرمایا گیا ہے وہ قرآن کریم جو ہدایت، رحمت اور اللہ و رسول کے فرماں برداروں کے لئے خوش خبری ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ امت کے تمام اعمال نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں۔ خیر اور بھلائی کے اعمال پر آپ اللہ کا شکر ادا فرماتے ہیں اور امت کی برائی اور بد اعمالیوں سے آپ کو سخت تکلیف پہنچتی ہے اور آپ ان کے لئے دعائے مغفرت فرماتے ہیں (تفسیر عثمانی) نبی کریم ﷺ امت کے ان ہی اعمال کی گواہی دیں گے۔ اس مضمون کے سلسلہ میں احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ میدان حشر میں ہر نبی اور رسول اپنی امت پر اس بات کی گواہی دیں گے کہ اے اللہ ہم نے آپ کا پیغام ان کفار و مشرکین تک پہنچا دیا تھا لیکن سوائے چند لوگوں کے باقی لوگ اپنی گمراہی میں لگے رہے۔ اس پر وہ کفار و مشرکین جھوٹ کی انتہا کرتے ہوئے کہیں گے کہ اے اللہ ہمیں کوئی پیغام نہیں پہنچا تھا اس پر انبیاء فرمائیں گے کہ اے اللہ نبی کریم ﷺ کی امت سے پوچھ لیا جائے وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ ہم نے آپ کا پیغام پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی جب امت محمدیہ ﷺ گواہی دے گی وہ پھر کہیں گے کہ اے اللہ یہ امت تو ہمارے بعد یعنی آخر میں آئی ہے ان کو کیا معلوم۔ اس پر آپ ﷺ کی امت کہے گی کہ اے اللہ اس پر آپ کے محبوب نبی ﷺ گواہ ہیں کیونکہ یہ سب باتیں ہمیں انہوں نے ہی بتائی تھیں۔ نبی کریم ﷺ جب گواہی دیں گے تو کفار و مشرکین ڈھٹائی کی انتہا کرتے ہوئے کہیں گے کہ اے اللہ یہ تو بالکل آخر میں تشریف لائے ہیں ان کو کیا معلوم کہ ہمارے نبیوں نے آپ کا پیغام ہم تک پہنچایا تھا یا نہیں اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں اپنے محبوب نبی ﷺ کی بات پر وگاہ ہوں۔
اس طرح کفار و مشرکین اپنے اس جھوٹ پر شرمندہ ہوں گے اور پھر ان کو جہنم کی طرف ہنکا دیا جائے گا اور انبیاء کرام کی بات مان کر اطاعت گذاروں کو جنت کی ابدی راحتوں سے ہم کنار کردیا جائے گا۔
Ayahs 16:90–92لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 92
یا مر وہ حکم دیتا ہے۔ العدل انصاف۔ الاحسان نیکی کرنا۔ ایتاء دینا۔ ذی القربی رشتہ دار۔ ینھی وہ روکتا ہے۔ الفحشاء (فحش) بےحیائی۔ المنکر ناشائستہ کام۔ البغی سرکشی۔ یعظ وہ نصیحت کرتا ہے۔ افو وا پورا کرو۔ عھدتم تم نے وعدہ کیا، عہد کیا۔ لاتنقضوا تم نہ تو ڈرو۔ الایمان قسمیں۔ تو کیں۔ پکا کرنا۔ کفیل ذمہ دار۔ نقضت جس نے توڑا۔ غزل کا تا ہوا سوت۔ انکات ٹکڑے ٹکڑے۔ دخلابینکم آس میں مداخلت کا بہانہ کرنا۔ امۃ ایک جماعت۔ اربی زیادہ بڑھا ہوا۔ یبلو وہ آزماتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 90 تا 92
گزشتہ آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول حضرت مصطفیٰ ﷺ پر جس قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے وہ ہدایت ، رحمت اور بشارت و خوش خبری ہے۔ اسی طرح یہ بھی فرمایا گیا کہ قرآن کریم اپنے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے بہت واضح اور صاف صاف احکامات پر مشتمل ہے۔ اب فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ اپنے ان بندوں کو جنہوں نے اللہ و رسول کی اطاعت کرلی ہے اور وہ اس کے پابند ہیں حکم دیتا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں عدل و انصاف، احسان و کرم اور صلہ رحمی کا پوری طرح خیال رکھیں اور ہر بےحیائی اور ہر گناہ کی بات سے بچتے ہوئے ہر طرح کی بےاعتدالی اور ظلم کی راہ سے دور رہیں جب وہ اپنے کسی عہد اور معاہدہ پر اللہ کو ضامن اور گواہ بنا لیں تو نتائج سے بےپرواہ ہو کر سچائی کا پیکر بن جائیں اور ان معاہدات کی پابندی کریں جو انہوں نے اللہ سے یا اللہ کے بندوں سے کئے ہیں۔ فرمایا کہ اپنی قسموں اور معاہدوں کو فساد ڈالنے یا ایک دوسرے پر غالب آنے کا ذریعہ نہ بنائیں اور یہ اس عورت کی طرح نہ ہوجائیں جو دن بھر سوت کاتنے میں محنت کرتی رہی اور شام کو اس نے اپنی محنت کو اپنے ہاتھوں سے برباد کر ڈالا ہو۔ ان تین آیات میں شریعت اسلامیہ کی وہ مضبوط بنیادیں سامنے آتی ہیں جن پر انسانی معاشرہ قائم کرلیا جائے تو دنیا کی ہزاروں خرابیاں دور ہو سکتی ہیں بلکہ انسانوں کو جینے کا سچا راستہ مل سکتا ہے۔ ان آیات کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ لگیا ا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ سے جمعہ اور عیدین کے خطبے میں اس آیت کو پڑھنا امت کا متفقہ فیصلہ رہا ہے تاکہ حق و صداقت کی اس آواز سے دنیا کے تمام مسلمانوں کے کان آشنا ہوجائیں۔ ان آیات میں سات باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ جن کی تفصیل یہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا راستہ اختیار کیا جائے اور بےحیائی ، گناہوں کی ہر بات اور زیادتی و سرکشی سے بچتے ہوئے انسانی حقوق پر دست درازی نہ کی جائے۔ عہد و معاہدوں کی پابندی، اپنے اعمال کی حفاظت اور نامعقول روئیے سے باز رہا جائے۔
عدل :
بنیادی عقیدوں، عبادتوں، اخلاق و معاملات، جذبات و احساسات اور امن و جنگ ہر حالت میں اعتدال، تو ازن اور انصاف کا خیال رکھا جائے۔ یہی چیز انسان کو خیر و برکت اور فتح و نصرت سے ہمکنار کرنے والی ہے۔ زندی کے ہر معاملہ میں اعتدال کی بہترین مثال اور نمونہ زندگی نبی کریم ﷺ کی زندگی ہے۔ آپ نے اپنی سیرت و کردار کی بلندی سے زندگی کے ہر شعبہ کی نہ صرف تکمیل فرمائی ہے بلکہ تمام معاملات میں اعتدال ، عدل و انصاف اور تو ازن کی بہترین ترجمانی فرمائی ہے۔ آپ راتوں کو اللہ کی عبادت و بندگی کے لئے اگر مصلے پر بیٹھے ہیں تو دن میں آپ ایک عظیم مجاہد کی طرح گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر میدان جہاد میں بھی رہنمائی فرما رہے ہیں۔ اگر آپ اپنی گھریلو زندگی کو پرسکون بنانے کے لئے اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین حسن سلوک کا معاملہ فرما رہے ہیں تو دوسری طرف اہل ایمان کے ہر گھر میں محبت اور باہمی ہمدردی اور بہترین سلوک کی شمع روشن رکھنے کے لئے تاکید فرما رہے ہیں۔ اگر صحابہ کرام جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر اپنے پیٹ پر ایک پتھر باندھے ہوئے ہیں تو نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ تم نے اپنے پیٹ پر ایک پتھر باندھا ہوا ہے تو میں نے دو پتھر باندھے ہوئے ہیں۔
صحابہ کرام خندق کی کھدائی فرما رہے ہیں تو آپ بھ یکسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ مسجد نبوی کی تعمیر ہو رہی ہے تو آپ صحابہ کرام کیس اتھ مل کر مٹی، گار اور پتھر ڈھو رہے ہیں۔ غرضیکہ گھریلو زندگی آپ ہر جگہ اعتدال و تو ازن کو قائم کئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح آپ عدل و انصاف میں بھی ساری دنیا کے انسانوں کو یکساں سمجھتے ہیں اور فیصلے فرماتے ہیں۔ یہی وہ اسوہ حسنہ ہے جو ساری دنیا کے انسانوں کے لئے مشعل راہ اور نور ہدایت ہے۔
الاحسان :
احسان کے معنی نیکی بھلائی اور اخلاق کریمانہ کے آتے ہیں۔ حکم ہے کہ انسان بہترین اخلاق، کردار اور نیکیوں کا ایسا پیکر بن جائے جس میں اپنی ذات کے علاوہ ہر آن دوسروں کی بھلائی اور بہتری کے لئے سوچتا رہے۔ تاکہ نیک نامی، عزت اور سر بلندی اس کا مقصدر بن جائے۔ دوسروں کیلئے ہمدردانہ رویہ، روا داری، برداشت، خوش خلقی ، دوسروں کو معاف کردینے کا جذبہ اور ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا لحاظ کرنے والا بنا جائے۔ اخلاق کریمانہ یہ ہے کہ انیان دوسروں کو ان کے حق سے بھی زیادہ دینے والا بن جائے اور اس کے صلے میں کسی سے کوئی توقع نہ رکھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ” تم اس سے ملو جو تم سے ملنا نہیں چاہتا اور جو شخص قطع تعلق کرنا چاہتا ہے اور تم اس شخص کو معاف کر دو جو تم پر ظلم اور زیادتی کرنے والا ہے تو یہ بہت بڑی نیکی ہے اس حدیث میں ان ہی اخلاق کریمانہ کو اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے جو اعلیٰ ترین نیکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے احسان کو ایک بڑی نعمت بھی قرار دیا ہے۔ سورة رحمٰن میں ارشاد ہے کہ نیکی اور بھلائی کا بدلہ نیکی اور بھلائی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
ایتاء ذی القربیٰ :
یعنی رشتہ داروں کے ساتھ بہترین سلوک کرنا جس کو صلہ رحمی کہتے ہیں۔ صلہ رحمی خود اپنی جگہ ایک بہت بڑی نیکی ہے جس کے لئے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر حکم دیا گیا ہے اور احادیث میں نبی کریم ﷺ نے صلہ رحمی کرنے کو ایسی نیکی قرار دیا ہے جس سے خیر و برکت اور اللہ کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں جس سے باہمی انسیت و محبت، ہمدردی اور مروت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قرابت داروں کے جو حقوق رکھ دیئے ہیں ان کا ہر حال میں لحاظ رکھنا شرف انسانیت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ عدل و احسان اور رشتے ناتوں کا پاس ولحاظ کر کے اپنے لئے جنت کی ابدی راحتیں اور سعادتیں حاصل کرل ینا ہے۔
ان تین اعلیٰ ترین اخلاقی صفات کے بعد تین ایسی برائیوں کے متعلق ارشاد فرمایا جا رہا ہے جو انسانی اخلاق، معاشرہ ، فرد اور قوم کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں۔ بےحیائی ، ہر برائی کا کام اور اپنی حدوں سے آگے بڑھنا ان تین باتوں سے منع کیا گیا ہے جس کی تفصیل یہ ہے۔
فحشاء :
فحش کی جمع ہے یعنی تمام شرمناک مکروہ اور بےہودہ کام جن سے ہر مومن کو بچنا چاہئے۔ کیونکہ اس کا نتیجہ دنیا اور آخرت کی خرابی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہے، زنا، بدکاری، شراب نوشی، عریانیت، گانا بجانا، بدکلامی، بد زبانی اور کھلم کھلا بےحیائی کا ہر وہ کام جس سے جھوٹ فریب، تہمت اور دوسروں پر ناحق الزام تراشی پھیلنے کا اندیشہ ہو۔ اسی طرح بدکاریوں پر ابھارنے والے وہ تمام کام جو آج فیشن کے طور پر رائج ہوچکے ہیں۔ افسانے، ڈرامے، فل میں وغیرہ، یہ سب بھی شریعت کی نظر میں فحش اور برے کام ہیں۔ ان تمام کاموں سے بچنا ضروری ہے۔
منکر :
اس سے مراد ہر وہ برائی اور کام ہے جس کو ساری دنیا برا سمجھتی ہے اور ہمیشہ سے ہر قوم نے اس سے بچنے کی تاکید بھی کی ہے مثلاً جھوٹ ، دھوکہ ، فریب بداخلاقی بد لحاظی وغیرہ۔ اس سے دنیا کا وہ کونسا مذہب ہے جو اس کو برا نہیں کہتا۔ لیکن اس آیت میں فحش اور منکر کو ایک ساتھ بیان کرنے سے یہ بھی سمجھانا ہے کہ دنیا بھر کے لوگ منکر کو تو برا سمجھتے ہیں لیکن بےحیائیوں کے کاموں کو برا نہیں سمجھتے۔ شریعت اسلامیہ نے فرمایا ہے کہ صرف برائی کو برا نہ سمجھا جائے بلکہ ہر برائی کے ساتھ ہر بےحیائی اور بےغیرتی کے کاموں کو بھی برا سمجھنا ضروری ہے۔ یہ دونوں ایسی برائیاں ہیں جن سے صرف نماز روک سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء و المنکر “ یعنی نماز بےحیائی اور منکرات سے روکتی ہے۔ اگر ایک نماز پڑھنے والا نماز بھی پڑھتا ہے اور بےحیائی اور منکرات کے کام بھی کرتا ہے تو اس کو اپنی عبادت کا جائزہ لینا چاہئے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بےحیائی اور منکرات نماز کے ساتھ جمع ہوجائیں۔ ایسا شخص یقینا نماز کی روح تک نہیں پہنچا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نمازوں کو صحیح کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ہر طرح کے فحش اور منکرات سے محفوظ فرمائے ۔ آمین
البغی :
اللہ نے جو حدیں مقرر کی ہیں ان سے باہر نکلنا، سرکشی کرنا اور دورسوں کے حقوق مارنے کی کوشش کرن کو ” بغی “ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان پر بندوں کے حقوق ہوں یا اللہ کے ان کو پورے طور پر ادا نہ کرنا گناہ ہے۔ ان ہی میں سے بہ بڑے گناہ کی بات یہ ہے کہ کوئی شخص دوسروں کے حقوق مارنے اور دست درازی کرنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کرے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ عدل و احسان اور صلہ رحمی کا خیال کریں اور بےحیائی، برائی اور حد سے گذر جانے والی باتوں سے پرہیز کریں۔
ایفائے عہد :
وعدوں اور معاہدوں کو پورا کرنا ” ایفائے عہد “ کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کے عہد اور معاہدوں کو پورا کرنے پر زور دیا ہے اور ہر مومن کی یہ ذمہ داری قرار دی گئی ہے کہ اس نے
(1) اللہ تعالیٰ سے جو بھی عہد اور عدہ کیا ہو۔
(2) ایک انسان نے دوسرے انسان سے وعدہ اور عہد کیا ہے۔
ہر ایک عہد و معاہدے کو پورا کرنا ضروری ہے اگر ان معاہدوں پر قسم کھا کر اللہ کو گواہ بنا لیا ہو تب تو اس پر دوہری ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے ایک تو وعدہ کو پورا کرنے کی اور ایک اس قسم کی جس میں اللہ کو گواہ اور ضامن بنا لیا گیا ہو۔ دنیاوی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو وہی شخص اور افراد قوم عزت و احترام کا مقام حاصل کرتے ہیں جن کی زبان پر دوسروں کو اعتماد اور بھروسہ ہو۔ جس کی زبان ، عہد اور معاہدے کا اعتبار نہ ہو اس کی کوئی عزت نہیں کی جاتی۔ عربوں میں علاوہ اور بہت سی خرابیوں کے ایک بڑی خرابی اپنے وعدوں، معاہدوں اور قسموں سے پھرجانے کی عادت تھی مثلاً ایک شخص سے معاہدہ کرلیا۔ وہ شخص مطمئن ہوگیا۔ ادھر اس نے اطمینان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے سے اسی قسم کا وعدہ کرلیا۔ اس طرح چند پیسوں کی خاطر وہ اپنے عہد ومعاہدہ کو قربان کردیتے تھے اور مکاری، فریب اور دغا بازی کرنے کو اپنی ہوشیاری سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے عہد و معاہدوں کی پابندی کا بھی حکم دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہر اس طریقے کو آخرت کی ناکامی اور روسائی قرار دیا ہے جس میں دوسرے شخص کو کسی طرح کا بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے کہ اے مومنو ! جب تم کسی سے عہد و معاہدہ کرلو تو اس کو پورا کرو اور اپنی ان قسموں کو جن پر تم نے اللہ کو گواہ بنا اپنی ہو ان کو ہرگز نہ توڑو۔ فرمایا کہ اپنے دلی فریب اور معاہدے کی خلاف ورزی کو تم ساری دنیا سے چھپا سکتے ہو لیکن اس اللہ سے نہیں چھپا سکتے جس کو تمہاری ایک ایک بات کا علم ہے فرمایا کہ تم اس عورت کی طرح مت ہوجانا جو دن بھر سوت کات کر شام کو اپنے ہاتھوں سے برباد کر ڈالتی تھی۔ فرمایا کہ تم اپنی قسموں اور معاہدوں کو باہمی فساد ڈالنے کا بہانہ اور ایک دوسرے پر غالب آنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک بڑی آزمائش ہے۔ دنیا میں انسان وقتی طور پر بد عہدی کو چھپا سکتا ہے لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ ایک ایک بات کو کھول کر رکھ دے گا، فریب کار، بد کار اور معاہدوں کو توڑنے والے اللہ کے سامنے قیامت کے دن ذلیل و رسوا ہو کر رہ جائیں گے۔
Ayahs 16:93–96لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 96
شاء اللہ اللہ نے چاہا۔ لتسئلن البتہ تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔ ل اتتخذو تم نہ بناؤ۔ تزل پھسلج اتا ہے۔ تذوقوا تم چکھو۔ صددتم تم نے روکا۔ لاتشتروا تم نہ بیچو، فروخت کرو۔ ینفد ختم ہوجائے گا۔ باق باقی رہنے والا ۔ احسن زیادہ بہتر۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 96
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی نعمت عطا فرمائی ہے۔ عقل سے انسان خیر اور شر کو پہچانتا ہے اور ارادہ کی قوت سے ہدایت یا گمراہی میں سے کسی ایک راستہ کا انتخاب کر کے اس پر چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل حال ہوجائے تو وہ نجات حاصل کر کے جنت کی ابدی راحتوں سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ جب وہ صراط مستقیم پر چلنے کا پختہ عزم و ارادہ کرلیتا ہے اور اس کے نزدیک آخرت کی کامیابی ہی سب کچھ ہوتی ہے اس وقت دنیا کا بڑے سے بڑا لالچ بھی اس کو صراط مستقیم سے ایک قدم بھی ہلنے نہیں دیتا لیکن جب ایمان اور عزم و ارادہ میں پختگی نہیں ہوتی تو وہ جس طرح چند پیسوں کا فائدہ دیکھتا ہے اسی طرف چل پڑتا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت کچھ حضرات تو وہ تھے جنہوں نے آخرت کے ادھار پر اپنا سب کچھ راحت و آرام اور مال و دولت اللہ کے دین کے لئے وقف کردیا تھا لیکن بعض وہ لوگ تھے جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کر اپنی تھا یعنی اللہ سے پکا وعدہ اور عہد و پیمان کرلیا تھا لیکن جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ کفار قریش کو غلبہ حاصل ہو رہا ہے تو وہ ان کی طرف مائل ہونے لگے بعض روایات کے مطابق کفار مکہ ان نئے نئے مسلمانوں کو مال و دولت کا لالچ دے کر یہ کہتے تھے کہ اگر تم نے ہمارا دین اور طریقہ اختیار کیا تو ہم تمہیں مالا مال کردیں گے۔ ایسے لوگوں کے لئے فرمایا کہ :
اگر اللہ چاہتا تو ساری دنیا کے انسانوں کو ایک ہی امت اور جماعت بنا دیتا۔ ان میں کوئی اختلاف نہ ہوتا ایک طرح رہتے، سوچتے اور حکم کی تعمیل کرتے لیکن اللہ کی مشیت یہ ہے کہ خیر و شر، حق و باطل اور نور و ظلمت کو باقی رکھے تاکہ خیر، حق اور نور کی پہچان ہو سکے ۔ اگر دنیا میں خیر ہی خیر ہوتی تو اس کی قدر نہ ہوتی اور پہچان بھی نہ ہوتی لیکن ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے اسی لئے اللہ نے خیر و شر کو پیدا کیا تاکہ ہر شخص خیر اور شر کی حقیقت کو پہچان کر اس کو اختیار کرسکے۔ البتہ یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہئے کہ انسانوں کے دل اللہ کی انگلیوں کے بیچ میں ہوتے ہیں وہ جب چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جب چاہتا ہے ان کے دلوں کو اوندھا کردیتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے راہ ہدایت نصیب فرمائی ہے۔ بہرحال توفیق جو اللہ کی طرف سے ملتی ہے وہ تو ایک نعمت ہے لیکن عقل کے فیصلے اور عزم و ارادے کے ساتھ کئے گئے ہر طرح کے عمل سے متعلق ہی اللہ کے ہاں پوچھا جائے گا اور اللہ تعالیٰ جنت یا جہنم میں بھیجنے کا فیصلہ فرمائیں گے۔
ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جب تم پختہ عہد و پیمان کرلو تو اس پر پورے عزم و یقین کے ساتھ آگے بڑھاؤ، دنیا کا لالچ تمہارے قدم نہ روک لے اور تم نے جو اللہ و رسول ﷺ سے عہد کیا ہے اس پر جم جماؤ او اس عہد و پیمان کو دھوکے اور فریب کا ذریعہ نہ بناؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے قدم اکڑھنے سے دور سے بھی بد دل ہوجائیں اور اس طرح دنیا کے مال و دولت کے لالچ میں آ کر خود بھی گمراہیوں کیپ یچھے چل پڑو اور تمہیں دیکھ کر دور سے بھی تمہاری راہ پر چل پڑیں اس طرح تمہاری اپنی گمراہی کا جو وبال اور عذاب ہے وہ تو آ کر رہے گا لیکن دوسروں کو گمراہ کرنے کا گناہ بھی تمہارے سر پر آجائے گا اور اس طرح تم دوہری سزا کے مستحق بن جاؤ گے۔ فرمایا کہ دنیا کا وقتی مفاد انسان کے قدموں کو ڈگمگا دیتا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ دنیا کی دولت جس کے بدلے آدمی اپنے ایمان کو بیچ دیتا ہے کب تک اس کے پاس رہے گی۔ آخر کار ایک دن یہ مال و دولت اور زندگی ختم ہوجائے گی۔ یہ باقی رہنے والی چیزیں نہیں ہیں لیکن جو چیزیں اللہ کے پاس ہیں وہ ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں ان کو فنا نہیں ہے۔ وہ لوگ جو آخرت پر یقین رکھتے ہوئے صبر و تحمل اور ایثار و قربانی سیک ام لیتے ہیں آخرت کی ابدی راحتیں ان ہی لوگوں کے لئے ہیں۔ لیکن جو دنیاوی مفادات کیلئے اپنے ایمان کی دولت کو بیچ ڈالتے ہیں وہ آخرت میں ناکام بھی ہوں گے اور کسی طرف سے ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی۔
Ayahs 16:97–100لغات القرآن آیت نمبر 97 تا 100
صالح نیک، بہتر۔ ذکر مرد۔ انثیٰ عورت۔ نحیین ہم ضرور زندگی دیں گے۔ حیوۃ طیبۃ پاکیزہ زندگی۔ نجزین ہم ضرور بدلہ لیں گے۔ احسن زیادہ بہتر۔ قرات تم نے پڑھا، تلاوت کی۔ استعذ پناہ مانگ لے۔ سلطن زور، قوت۔ پتوکلون وہ بھروسہ کرتے ہیں۔ یتولون دوستی کرتے ہیں۔
تشریح آیت نمبر 97 تا 100
ان آیات میں اللہ نے فرمایا ہے کہ عورت ہو یا مردان میں سے جو بھی ایمان اور عمل صالح کا پیکر ہوگا۔ ہم اس کو نہ صرف حیاۃ طیبہ عطا کریں گے بلکہ اس نے جو بھی نیکی اور بھلائی کے کام کئے ہوں گے ان پر اس کے تصویر سے بھی بہتر اجر وثواب عطا کریں گے۔ دوسری بات یہ فرمائی گئی کہ یہ قرآن کریم جو ہر نیکی، ایمان اور عمل صالح کا سرچشمہ ہے اس کی تلاوت کے آداب یہ ہیں کہ جب بھی اس کی قرأت کی جائے تو پہلے ” استعاذہ “ کرلیا جائے یعنی شیطان جو ہر وقت مستعد اورت یار رہنا ہے کہ کسی طرح لوگوں کو نیکی اور بھلائی کے کاموں سے دور لے جائے اور ان کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈال کر ان پر حاوی ہوجائے فرمایا کہ تلاوت کلام اللہ کے وقت اللہ سے اس کی پناہ اور شیطان کے شر سے بچنے کی درخواست کرلیا کریں تاکہ شیطان کے کسی چکر میں نہ پھنس جائیں۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور ہر حال میں اسی پر بھروسہ کر کے زندگی کی راہوں میں چلتے ہیں ان پر شیطان کا زور نہیں چلتا۔ اس کا زور تو ان لوگوں پر چلتا ہے جو اللہ کے دین کی ہر بات سے منہ پھیر کر چلتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔
ان آیات کی مزید وضاحت کیلئے کچھ الفاظ کا ترجمہ اور مفوہم بھی پیش نظر رکھ لیجیے :
عمل صالح
ہر وہ کام جو اللہ او اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے احکامات کے تحت محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے کیا جائے ” عمل صالحذ ہے۔ قرآن کریم میں عموماً ایمان کے ساتھ عمل صالح کا حکم اسی اہمیت کے پیش نظر فرمایا گیا ہے۔ لہٰذا ہر وہ کام جس کو ہم بہتر سمجھتے ہیں ضروری نہیں ہے کہ وہ عمل صالح ہو۔ البتہ اگر اللہ و رسول کے حکم کے مطابق ہو تو وہ عمل صالح ہے۔
ذکر او انثی
یعنی ایمان اور عمل صلح جو بھی کرے گا اس کو اجر ملے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ کفار و مشرکین عورت ذات کو انتہائی کم تر اور گھٹیا درجہ دیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ایمان اور عمل صالح کے حق دار صرف مرد ہیں فرمایا کہ اعمال صالحہ میں ہر مرد اور ہر عورت برابر کا درجہ رکھتے ہیں جو جیسا عمل کرے گا اس کو ویسا ہی اجر وثواب دیا جائے گا۔
حیاۃ طیبۃ
پاکیزہ اور کامیاب زندگی جس میں نیکی سے کئے گئے کاموں اور اجر وثواب اس دنیا میں اور آخرت میں بھرپور طریقے سے ادا کیا جائے گا۔ ان کو دنیا میں رزق حلال، صبر و قناعت، تحمل اور برداشت، قلبی سکون و اطمینان، معاشی خوش حالی، گھریلو سکون، کامیاب مستقبل کا خوشنما تصور عزت و سربلندی، کامیابی اور کامران نصیب ہوگی۔ قبر میں اس کا ایمان اور عمل صالح اس پر سایہ کئے ہوں گے اور وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا۔ پھر آخرت میں جنت کی وہ راحتیں نصیب ہوں گی جن کی لذت اور کیفیت کا تصور اس دنیا میں ممکن ہی نہیں ہے۔ عرضی کہ دنیاوی زندگی، قبر کی منزل کی آسانی، حشر میں رسوائی سے حفاظت اور نجت کی ہمیشہ رہنے والی راحتیں اور لذتیں حیاۃ طیبہ ہیں۔
قرأت القرآن
قرآن کریم کو پڑھنا، تلاوت کرنا قرأت کرنا اس کے تمام آداب کا لحاظ کرنا قرأت قرآن کریم کہلاتا ہے۔ قرآن کریم اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ اس کی تلاوت کی جائے اس کو سمجھا جائے اور سمجھ کر ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ آخرت کی ابدی راحتیں نصیب ہو سکیں۔ لیکن قرآن کریم چونکہ سرچشمہ ہدایت ہے اس لئے اگر ایک شخص محض تلاوت قرآن کریم کرتا ہے اور اس کے معنی نہیں سمجھتا تب بھی اس کو ہر حرف پر دس نیکیوں کا ثواب عطا کیا جانے کا وعدہ ہے۔ اس لئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب قرآن کریم کے ایک حرف پر دس نیکیاں ہیں اگر اس کو سمجھ کر پڑھا جائے تو اس کے اجر وثواب کا کیا ٹھکانا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ صحابہ کرام جو قرآن کریم اور اس کی تشریح یعنی سنت رسول اللہ ﷺ میں اس طرح ڈھل گئے تھے کہ انہوں نے اس قرآن کریم کے ذریعہ ساری دنیا میں ایک صالح انقلاب برپا کردیا تھا۔ آج بھی اس کی ضرورت ہے کہ قرآن کریم کے نور سے ساری دنیا کو روشن کر کے اندھیروں کو سمیٹ دیا جائے۔
استعاذہ
اصل میں شیطان ہر آن اس فکر میں لگا رہتا ہے کہ وہ انسان کو صراط مستقیم سے بھٹکا کر اللہ کی رحمت سے دور لے جائے وہ اس کو بہت سے فضول کاموں کی طرف متوجہ کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح وہ قرآن کریم کی تلاوت کی طرف نہ جاسکے وہ اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے تاکہ وہ قرآن کریم کے نور سے دور رہ سکے۔ نبی کریم ﷺ جو اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور وہ ہر خطا سے معصوم ہیں اور براہ راست اللہ کی نگرانی میں ہیں آپ کو خطاب کرتے ہوئے درحقیقت پوری امت کے ہر فرد کو بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ جب بھی تلاوت قرآن فرمائیں تو سب سے پہلے اس بات کی درخواست کریں کہ اے اللہ مجھے شیطان کے ہر وسوسے سے محفوظ فرما۔ اس کے ہر شر سے بچاتے ہوئے اپنی پناہ اور حفاظت عطا فرما۔ چونکہ شیطان کا وارتو ان لوگوں پر چلتا ہے جو اللہ اور اس کی پناہ سے منہ پھیر کر چلتے ہیں یا اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو ایمان، عمل صالح اور توکل علی اللہ کے پیکر ہوتے ہیں ان پر شیطان کا بس نہیں چلتا۔
Ayahs 16:101–105لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 105
بدلنا ہم نے بدل دیا۔ ینزل وہ نازل کرتا ہے۔ مفتر گھڑنے والا۔ روح القدس پاکیزہ روح جبریل امین۔ لیثبت تاکہ وہ پکا کر دے۔ یعلم سکھاتا ہے۔ یلحدون (الحاد) اشارہ کرتے ہیں۔ عربی مبین واضح عربی، فصیح عربی زبان۔
تشریح : آیت نمبر 101 تا 105
حضرت عیسیٰ (جن کو اللہ نے آسمانوں کی طرف اٹھا لیا ہے) ان کے ساڑھے پانچ سو سال کے بعد جزیرۃ العرب میں مذہبی، تمدنی ، عاشرتی، اخلاقی، تہذیبی اور رسم و رواج میں اتنی تبدیلیاں آ چکی تھیں کہ کفار مکہ زبان سے تو یہ کہہ کر فخر کرتے تھے کہ ہم حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی اولاد یا ان کے ماننے والے ہیں لیکن اس نسبت کے باوجود وہ ہر طرح کی جہالت اور ظلم و ستم کے پیکر بن کر رہ گئے تھے۔ بد اخلاقی، بدکرداری، شراب نشوی جوئے بازی، سود خوری، رسم و رواج کی غلامی اور بتوں کی پرستش نے ان کے معاشرہ کو اس طرح تباہ کر کے رکھ دیا تھا کہ قتل و غارت گری کی وجہ سے کسی کی جان، مال اور آبرو تک محفوظ نہ تھی۔ سارے جزیرۃ العرب میں ہر قبیلہ ایک حکومت اور سلطنت تھا ایک دوسرے کے کسی اصول کی پابندی کو کسی طرح قبول نہیں کرتا تھا۔ ایسے معاشرہ میں اگر اس بات کی توقع کی جائے کہ جیسے ہی حکم دیا جائے گا لوگ اس کی اسی طرح پابندی کریں گے تو یہ ایک خلاف فطرت بات ہوتی۔ اسی لئے قرآن وحدیث کے مطالعہ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایسی بگڑی ہوئی قوم کو کچھ اصولوں کے دائرے میں لانے کے لئے حکمت و مصلحت کے ساتھ ہی پابند بنایا جاسکتا تھا چناچہ زیادہ تر احکامات میں تدریج ہے بعد میں ان احکامات کی تکمیل فرمائی گئی ہے اور اب قیامت تک کسی کو کسی تبدیلی کا اختیار نہیں ہے۔ وہ قوم جو شراب نوشی میں اس طرح مبتلا تھی کہ شراب ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی یعنی ادھر بچے نے دنیا میں قدم رکھا اور ادھر شراب اس کے حلق میں انڈیل دی گئی۔ اسی لئے شراب کو حرام قرار دینے کے لئے تین آیتیں نازل کی گئیں دو آیتوں میں ان کو بتایا گیا کہ شراب نوشی سب سے گھٹیا عادت ہے یہ اللہ کی عبادت و بندگی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی لہٰذا نشہ کی حالت میں نماز کے قریب بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔ غور کیجیے تو یہ معلوم ہوجائے گا کہ اس آیت میں پابندی بھی لگا دی اور آزادی بھی باقی رکھی گئی۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ اس میں دنیا کا نفع ضرور ہے لیکن آخرت کا گناہ اور نقصان اس کے نفع سے بڑھ کر ہے۔ جو لوگ بات کو اشاروں میں سمجھ لیتے ہیں وہ سمجھ گئے کہ شراب اللہ کی عبادت و بندگی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی اس میں دنیا کی عارضی زندگی کے کچھ منافع ضرور ہیں لیکن آخرت کی ابدی زندگی کا بہت بڑا اور شدید نقصان ہے۔ ان آیات کے نازل ہونے کے بعد بہت سے صحابہ نے شراب کے قریب جانے سے بھی توبہ کرلی پھر وہ آیت نازل فرمائی گئی جس میں صاف طور پر یہ بتا دیا گیا کہ شراب، جوا، بت پرستی اورق سمت کے تیر یہ سب ایک جیسی برائیاں اور شیطانی پھندے اور جال ہیں ان سے ” اجتناب “ کرو اسی میں فلاح و کامیابی ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام جو عربی زبان کی اس نزاکت و عظمت سے واقف تھے کہ اگر شراب کو صرف حرام کہا جاتا تو شاید بات میں اتنا زور نہ ہوتا اس کا مفہوم تو صرف یہ ہوتا کہ اب شراب سے ہاتھ روک لئے جائیں لیکن اجتناب کا مفہوم بہت وسیع ہے یعنی شراب سے صرف رکنا ہی نہیں ہے بلکہ اس سے متعلق ہر چیز کو توڑ پھوڑ کر رکھ دینا بھی ہے۔ چناچہ جو لوگ شراب نوشی کر رہے تھے انہوں نے نہ صرف اس ” ام الخبائث “ سے توبہ کرلی بلکہ ان برتنوں اور شراب کے مٹکوں کو بھی توڑ دیا جن میں شراب جمع کر کے رکھی جاتی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ اس دن شراب مدینہ کی گلیوں میں اس طرح بہہ رہی تھی جس طرح برسات میں پانی بہتا ہے۔ اس بات کو میں نے تفصیل سے اس لئے بیان کیا کہ ” تدریج اور تکمیل “ کا یہ عمل قرآن کریم کے احکامات میں بہت جگہ نظر آئے گا اسی طرح نماز، روزہ، زکوۃ حج، جہاد، وراثت، قبلہ وغیرہ میں بھی یہی تدریج اور تکمیل کا عمل نظر آئے گا جو ایک فطری اور صحیح عمل تھا لیکن یہ باتیں کفار کے نزدیک بڑی قابل اعتراض تھیں وہ بلا سوچے سمجھے یہ کہتے تھے کہ یہ کیسا قرآن ہے کہ جس میں آج ایک بات ہے دوسرے دن دوسری بات ہے وہ کہتے کہ (نعوذ باللہ) یہ سب گھڑی گھڑائی باتیں ہیں۔ ان کی زبانیں یہاں تک آزاد ہوگئی تھیں کہ وہ کہتے تھے کہ ہمیں معلوم ہے یہ قرآن آپ ﷺ کو کوئی سکھا جاتا ہے ان کی مراد ان رومی یا فارسی غلاموں سے تھی جو آپ کے پاس دین سیکھنے آتے تھے یا آپ ﷺ ان کے پاس ان کو دین سکھانے تشریف لے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کفار مکہ کے ان دونوں غیر سنجیدہ اعتراضات کے نہایت سنجیدہ اور اہم جوابات عنایت فرمائے ہیں۔
پہلے اعتراض کا جواب تو یہ ارشاد فرمایا کہ جس اللہ نے اپنا کلام روح القدس یعنی حضرت جبرئیل کے ذریعہ قلب مصطفیٰ ﷺ پر نازل کیا ہے یہ اس کا اپنا کلام ہے وہ جب چاہے جیسے چاہے اپنے علم اور مصلحت سے اپنے کلام کو تبدیل کرسکتا ہے کیونکہ اس بات کو اکثر لوگ نہیں سمجھتے لیکن وہ اللہ جو تمام انسانوں کا خالق ہے وہ جانتا ہے کہ انسان کی فلاح و بہبود کے لئے کب کیا بات ضروری ہے یا ضروری نہیں ہے۔ اعتراض اسی پر ہو سکتا تھا کہ کلام تو اللہ نے نازل کیا ہے اور اس میں تبدیلی کوئی اور کرتا ۔ لیکن اس میں کیا اعتراض کی گنجائش ہے کہ جس کا کلام ہے وہی نازل کرتا ہے وہی تبدیل کرتا ہے۔
کفار مکہ کے دوسرے اعتراض کا جواب یہ دیا گیا کہ قرآن کریم تو صاف واضح اور اعلیٰ ترین عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے جس کے سامنے سب گونگے بن کر رہ گئے ہیں کوئی اس کے چیلنج کا جواب تک دینے کے قابل نہیں ہے۔ اگر یہ کہتے کہ نبی کریم ﷺ کو نعوذ باللہ کوئی عربی زبان کا ماہر، ادیب یا شاعر سکھا جاتا ہے تو شاید بات سمجھ میں آسکتی تھی لیکن وہ شاعر و ادیب اور عربی زبان کے ماہرین کا یہ حال تھا کہ وہ خود قرآن کریم کے سامنے عاجز لاچار اور بےبس تھے وہ کیا کرسکتے تھے لیکن یہ بات کس قدر جاہلانہ اور عقل سے بعید تر ہے کہ ایسا کلام آپ ﷺ کو وہ عجمی غلام سکھائیں گے جو عربی زبان بھی صحیح نہیں جانتے۔ فرمایا کہ یہ کتنے بدقسمت لوگ ہیں جو قرآن کریم سے کچھ سیکھنے کے بجائے جاہلانہ اعتراض کر کے ابدی راحتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ اہل ایمان جو قرآن کریم اور رسول ﷺ پر ایمان لا کر اس قرآن کریم کے ذریعہ اپنی روح کی تسکین اور آخرت کی کامیابی حاصل کر رہے ہیں فرمایا کہ یہ قرآن کریم ان لوگوں کے دلوں کے جمانے کا اور اطمینان قلب کا ذریعہ ہے جو اللہ و رسول پر ایمان لے آئے ہیں۔ یہ ان کے لئے ہدایت بھی ہے اور فرماں برداروں کے لئے ابدی راحتوں اور آخرت کی کامیابیوں کے لئے بشارت بھی ہے۔ فرمایا کہ وہ لوگ جو ان آیات پر یقین نہیں رکھتے ان کو نہ دنیا میں رہبری و رہنمائی نصیب ہوگی اور نہ آخرت میں بلکہ آخرت میں تو درد ناک عذاب ان کا منتظر ہے۔ یہ قرآن کریم گھڑا ہوا کلام یا جھوٹا کلام نہیں ہے بلکہ وہ لوگ سب سے بڑے جھوٹے اور جھوٹ کے پجاری ہیں جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔
اس موقع پر ایک بات کی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کے بنیادی اصولوں میں تدریج اور تکمیل کا عمل اس وقت تک تھا جب تک دین کے احکامات مکمل نہیں ہوگئے جب اللہ نے یہ فرما دیا کہ دین اسلام مکمل ہوگیا ہے۔ نعمت نبوت مکمل ہوگئی ہے اور اللہ بھی دین اسلام پر راضی ہے تو اب تدریج کا ہر عمل ختم ہوگیا اور دین درجہ تکمیل تک پہنچ گیا ہے یعنی دین اور اس کے تمام اصول مکمل ہوگئے ہیں اب اس میں کسی تبدیلی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور نہ کسی تدریج پر عمل کرنے کی ضرورت ہے سوائے اللہ و رسول کے حکم کے، یہ بات میں نے اس لئے عرض کی ہے کہ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اب حالات پھر اسی طح پر پہنچ گئے ہیں جہاں نزول قرآن کے وقت تھے۔ معاشرہ تباہ ہوچکا ہے لہٰذا احکامات میں پہلے والی سہولتیں دی جائیں تاکہ عام آدمی دین کی طرف آسکے۔ میں یہ عرض کروں گا کہ جب دین کے تمام اصول مکمل ہوگئے ہیں تو اب خیر و برکت کا ذریعہ یہی ہے کہ ان اصولوں کو نافذ کیا جائے۔ مثلاً اللہ کا یہ حکم ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور اسی معاملہ میں کسی کی کوئی رعایت نہ کی جائے تو اب حکم یہ ہوگا۔ کہ اس کو پوری قوت سے نافذ کردیا جائے گا تو دنیا سے چوری کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے۔ کسی کا یہ کہنا کہ پہلے ایسے معاشی حالات پیدا کئے جائیں تاکہ کوئی چوری نہ کرے پھر احکامات نافذ کئیج ائیں۔ میرے نزدیک یہ بہت غلط انداز فکر ہے صحیح فکریہ ہے کہ اسلام کے جو قوانین ہیں ان کو نافذ کردیا جائے گا تو ان کی برکتوں سے مسائل حل ہوں گے اور معاشی حالات بھی درست ہوتے چلے جائیں گے ورنہ ان ہی فلسفوں میں الجھ کر دین کبھی نافذ نہ ہو سکے گا۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں جن کے پاس زبردست وسائل موجود ہیں ہر گھر اور کارخانے اور آفسوں میں الارم فٹ کئے گئے ہیں لیکن وہ معاشرے انسان کی جان و مال کی حفاظت میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں جبکہ ان کو معاشی سکون بھی حاصل ہے اس کے برخلاف سعودی عربیہ میں چور کا ہاتھ کاٹنے کا قانون نافذ ہے وہاں یہ عالم ہے کہ اگر ایک شخص اپنا گھر، کاروبار اور آفس کھلا چھوڑ جائے تو کسی کی مجال نہیں ہے کہ کسی کے مال کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی دیکھ لے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا قانون بنا بنا کر تھک گئی ہے ہر روز اپنے قوانین میں تبدیلیاں کرتی رہتی ہے چونکہ قانون انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں تو انسان ہی ان قوانین کا توڑ بھی نکال لیتے ہیں اور اس طرح قانون سازوں اور قانون شکنوں کی جنگ جاری رہتی ہے اور صورتحال یہی رہی تو یہ جنگ جاری رہے گی۔ اس کا حل صرف ایک ہی ہے کہ آج دنیا اگر پرسکون رہنا چاہتی ہے تو اس کو اللہ و رسول ﷺ کے قوانین کو نافذ کردینا چاہئے کیونکہ یہ وہ قوانین ہیں جن کو اللہ نے بنایا ہے انسان اس کو توڑ نہیں سکتے۔ چونکہ یہ قوانین اس خالق ومالک نے بنائے ہیں جو انسانوں کی فطرت سے واقف ہے لہٰذا یہی قانون فطرت انسانوں کی نجات کا ذریعہ ہے۔ اس سے ہٹ کر جو بھی قوانین نافذ کئے جائیں گے ان سے انسان کو کبھی سکون صنیب نہیں ہوگا۔ اور انسان اپنے خلاق سے جنگ کر کے آخر کار ہار کر بیٹھ جائے گا۔