Ayahs 16:41–42لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 42
ھاجروا جنہوں نے ہجرت کی۔ ظلموا ظلم کیا گیا۔ نبوء ہم ٹھکانا دیں گے۔ اکبر بڑا، بڑھ کر۔ یتوکلون وہ بھروسہ کرتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 41 تا 42
نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی دلی خواہش اور تمنا تھی کہ تمام کفار و مشرکین اس غلط راستے کو چھوڑ کر ایمان قبول کرلیں۔ اس کے لئے آپ دن رات جدوجہد فرماتے تھے صبح ہو یا شام آپ کو جہاں اور جیسے موقع ملتا آپ ہر ایک کو سمجھاتے رہتے۔ دوسری طرف کفار عرب اپنی ضد ، ہٹ دھرمی اور شیطانی اعمال میں اس قدر آگے جا چکے تھے کہ وہ حق و صداقت کی کسی بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے شروع شروع میں تو آپ ﷺ کا مذاق اڑایا۔ جملے کسے، ہر طرح کی غلط فہمیاں پیدا کیں۔ اس کے بعد طرح طرح سے ستانا شروع کیا وہ نبی کریم ﷺ کو ہر طرح کی اذیتیں پہنچاتے اور طرح طرح کے سوالات کرتے رہتے تھے۔ صحابہ کرام پر انہوں نے ناقابل برداشت مظالم کرنے شروع کردیئے۔ جب ان کے ظلم و ستم کی انتہا ہوگئی تب آپ کے جاں نثار صحابہ نے اپنے دین کی حفاظت کے لئے آپ ﷺ کی اجازت سے مکہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ سب سے پہلے سولہ مردوں اور عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پہلے قافلے میں حضرت عثمان غنی کے علاوہ حضرت رقیہ بنت رسول ﷺ بھی شریک تھیں۔ اس کے بعد ایک سو افراد پر مشتمل ایک اور قافلے نے ہجرت فرمائی جس میں آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر طیار بھی شریک تھے۔ ان تمام صحابہ و صحابیات نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنوید کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا ایسی پسند آئی کہ قرآن کریم میں ان ہی حضرات کی شان میں یہ آیات نازل ہوئیں فرمایا کہ :
1) جن لوگوں نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور دین اسلام کی سربلندی کے لئے اپنا گھر بار کاروبار اور رشتہ داریوں کو چھوڑ کر ہجرت کی اور ہر طرح کے ظلم و ستم کو برداشت کیا ان کے لئے دنیا میں بہترین ٹھکانا ہے اور آرت میں تو ان کو بہت عظیم انعامات عطا کئے جائیں گے۔ کاش اس حقیقت کو یہ منکرین اور مشرکین جان لیتے فرمایا کہ وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا۔ حالات کی سختی کو برداشت کیا اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر نتائج سے بےپرواہ اللہ کی ذات پر بھروسہ کیا ان کے لئے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مقدر کردی گئی ہیں ۔ صحابہ کرام اسی طرح ہجرت فرماتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملتے ہی نبی کریم ﷺ نے بھی مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس ہجرت میں صرف سیدنا ابوبکر صدیق آپ کے ساتھ تھے۔ جیسے ہی نبی کریم ﷺ کے متعلق معلوم ہوا کہ آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کرلی ہے تو صحابہ کرام بھی حبشہ سے مدینہ منورہ کی طرف آنا شروع ہوگئے۔ اللہ نے مدینہ منورہ کے بہت سے لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائی اور انہوں نے صحابیت رسول ﷺ کی عظمت حاصل کی۔ اس طرح مہاجرین و انصار کو اللہ نے بہترین ٹھکانا عطا فرمایا اور اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہا۔
Ayahs 16:43–50لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 50
نوحی ہم وحی کرتے ہیں۔ اسئلوا تم پوچھ لو۔ اھل الذکر یاد رکھنے والے، علم والے۔ البینت (البینۃ) کھلی نشانیاں۔ الزبر (زبور) لکھی ہوئی کتابیں، صحیفے۔ الذکر دھیان دینے کی چیز (قرآن کریم) نزل نازل کیا گیا۔ افامن کیا پھر وہ مطمئن ہوگئے۔ یخسف وہ دھنساتا ہے۔ تقلب چلنا، پھرنا، بھاگ دوڑ معجزین عاجز کرنے والے، بےبس کرنے والے۔ تخوف ڈرنا۔ یتقیوا (فی) ڈھلتے ہیں۔ ظلال (ضل) سائے ۔ الیمین داہنی جانب۔ الشمائل بائیں جانب۔ داخرون ذلیل ہونے والے، عاجزی کرنے والے۔ یسجد سجدہ کرتا ہے۔ دابۃ زمین پر رینگنے ، چلنے والے جان دار۔ لایستکبرون وہ بڑائی، تکبر نہیں کرتے ہیں۔ یخافون وہ خوف رکھتے ہیں۔ یفعلون وہ کرتے ہیں۔ یومرون حکم دیئے جاتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 43 تا 50
انبیاء کرام کی بشریت کا انکار یہ ایک ایسا عام مرض ہے جس کو قرآن کریم نے بار بار بیان فرمایا ہے۔ یوں تو کفار ہر طرح کے اعتراضات کرتے تھے لیکن ان کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ اللہ کا نبی وہ کیسے ہو سکتا ہے جو ہماری طرح سے زندگی گذارتا ہو۔ نبی تو ایسا ہونا چاہئے تھا کہ جس کو زندگی کے معاملات سے کوئی تعلق نہ ہو۔ فرشتے اس کے آگے پیچھے ہوں غیب کی خبریں بتاتا ہو۔ اس کے ساتھ ایسا خزانہ ہو جس کو وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے لٹاتا ہوا آئے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے اس اعتراض کے جواب میں ایک ہی بات ارشاد فرمائی ہے کہ جتن بھی نبی اور رسول بھیجے گئے ہیں وہ انسان ہی ہوتے ہیں کوئی اور مخلوق نہیں ہوتے اور ان کے ساتھ بشریت کے تمام تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ اسی لئے تو ان کی زندگی دوسرے ان جیسے انسانوں کے لئے قابل عمل ہوتی ہے۔ اگر کسی فرشتے کو بھیج دیا جاتا تو اس کی زندگی میں بسنے والے انسانوں کے لئے کوئی مثالی زندگی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر وہ شخص واقف ہے جسے گزشتہ کتابوں کا علم دیا گیا ہے کفار سے فرمایا کہ اگر تمہیں اس بات کو جاننا ہو تو ان اہل کتاب سے پوچھ لو جن پر تم بہت زیادہ اعتماد کرتے ہو جن کے انبیاء کرام کو معجزات اور کتابیں دی گئی تھیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف جس کلام کو نازل کیا ہے آپ اس کو کھول کھول کر بیان کردیں تاکہ وہ غور و فکر کرسکیں۔ فرمایا کہ اگر اس وضاحت سے وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی طرف آجائیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے ان ہی کے لئے فائدہ مند ہے۔ اللہ کسی کی عبادت و بندگی کا محتاج نہیں کیونکہ زمین و آسمان میں جو بھی مخلوق ہے آسمان پر جتنے بھی فرشتے ہیں اور زمین پر ہر طرح کے جان دار ہیں وہ اللہ کے فرماں بردار ہیں اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں جس طرح ان کو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کے سائے کبھی دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف ڈھلتے جاتے ہیں وہ نہایت عاجزی اور اطاعت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں تو یہ ان کے لئے دنیا و آخرت کی کامیابی ہے لیکن اگر انہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہی طریقہ اختیار کیا اور وہ لوگ جو اللہ و رسول کی اطاعت کرنے والے ہیں ان کو اسی طرح ستاتے رہے تو ان پر گذشتہ قوموں کی طرح کوئی بھی عذاب آسکتا ہے۔ زمین میں دھنسا دیا جائے۔ آسمان سے آگ برسا دی جائے، تیز آندھی یا طوفان سے ہلاک کردیا جائے چلتے پھرتے ان پر عذاب آجائے یا زندگی بےسکون اور ویران ہو کر رہ جائے۔ فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر بہت ہی مہربان اور کرم کرنے والا ہے وہ کسی کو گناہ کرتے ہی نہیں پکڑ لیتا بلکہ اس کو مہلت دیتا چلا جاتا ہے تاکہ اس کو سنبھلنے کا پورا پورا موقع مل جائے۔ مہلت کے باوجود اگر کوئی بھی اپنی بری روش پر قائم رہتا ہے تو اس کو کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔
ان آیات کی چند باتوں کی وضاحت ضروری ہے تاکہ ان آیات کو سمجھنا آسان ہوجائے۔
1) تمام انبیاء کرام بشر ہی ہیں لیکن ایسے بشر جن پر بشریت ناز کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو سب سے بڑی عظمت کا مقام عطا فرماتا ہے، ان کی طرف اللہ کے کلام کی وحی کی جاتی ہے اور وہ اللہ کے نمائندہ خصوصی ہوتے ہیں جن کا ہر فعل اور عمل قابل تقلید ہوتا ہے کیونکہ ان پر بشریت کے تمام تقاضے طاری کئے جاتے ہیں جس سے وہ دوسروں کے لئے قابل عمل مثال ہوتے ہیں۔
2) دوسری بات یہ ہے کہ اس جگہ اگرچہ اہل کتاب کے لئے فرمایا گیا ہے کہ جس قوم کے لئے معجزات اور کتابیں نازل کی گئی ہیں کہ ان سے تم پوچھ سکتے ہو کہ انبیاء کرام بشر ہوتے ہیں یا نہیں ؟ ان کا جواب یہی ہوگا۔ کہ وہ بشر ہی ہوتے ہیں۔ اس آیت میں بہت سادہ سا اصول بتایا گیا ہے جو بہت اہمیت رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک شخص جس بات کو نہیں جانتا وہ جاننے والوں سے جان لے کسی چیز کے جاننے میں کوئی عیب نہیں ہے۔ بعض لوگ زندگی بھر چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں اسی لئے الجھے رہتے ہیں کہ وہ کسی سے پوچھنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں قرآن کریم سے یہ اصول بھی مل گیا کہ جس بات کو آدمی نہیں جانتا اس کو جاننے والوں سے جان لینا چاہئے جس مسئلہ کا اس کو علم نہ ہو اس کو کسی عالم سے پوچھ لینا کوئی عیب نہیں ہے۔
3) چونکہ انبیاء کرام بشر ہوتے ہیں اس لئے ان کی زندگی کے طریقوں کو اختیار کرنے میں نہ مشکل ہوتی ہے نہ دشواری کیونکہ ان پر زندگی کے معاملات کو جس طرح طاری کیا جاتا ہے اور وہ اس پر عمل کرتے ہیں وہی ان کے امتیوں کے لئے مثال ہوتے ہیں۔
4) اللہ کا کلام جس رسول پر بھی نازل کیا جاتا ہے وہ اپنے عمل اور کردار سے اس کی وضاحت کرتا ہے۔ اللہ کے رسول اور نبی کی یہ شان نہیں ہوتی کہ وہ اللہ کا کلام کسی کتابی شکل میں دے کر چلا جاتا ہو کہ میں نے یہ کتاب تم تک پہنچا دی ہے تم جس طرح چاہو اس کی تشریح کرلو اور جس طرح چاہے عمل کرلو۔ ایسا نہیں ہوتا بلکہ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے اس کتاب کو نازل کیا ہے اب اس کی وضاحت کرنا اور اس پر عمل کر کے دکھانا یہ آپ کی ذمہ داری ہے تاکہ لوگ اس پر عمل کرسکیں۔ اس سے ان لوگوں کی تردید ہوجاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بس قرآن کریم پہنچا گئے ہیں اب ہم اس قرآن کو لغت کے ذریعہ خود سمجھ لیں گے ہمیں اس کی وضاحت کے لئے رسول ﷺ کی احادیث کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ نعوذ باللہ ان احادیث کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ یقین کیجیے جب کوئی میرے سامنے یہ کہتا ہے کہ ہمیں قرآن کافی ہے احادیث رسول ﷺ کی ضرورت نہیں ہے۔ تو میں اس تصور سے کانپ اٹھتا ہوں کہ یہ کیسے گستاخ اور بےہودہ لوگ ہیں جن کے نزدیک ایک شاعر یا جھوٹے افسانے لکھنے والوں کی بےسروپا باتوں میں تو اس کا ایک ایک جملہ بھی جو اس کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ اس کے بیان کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں لیکن اللہ کے جس نبی نے سال دو سال نہیں بلکہ پورے تئیس سال تک رات دن پوری محنت سے اللہ کا دین پہنچایا ہو ایک ایک آیت کو سکھایا اور اس کے عمل کی وضاحت فرمائی ہو نعوذ باللہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ میں تو یہ عرض کروں گا کہ اگر قرآن کریم کی وضاحت کو لوگوں نے اپنی مرضی پر ڈھال لیا تو یہ نہ صرف رسول اللہ ﷺ کے عظیم جذبے، آپ کے بےمثال عمل اور کردار کی توہین ہے بلکہ توہین قرآن اور توہین رسالت بھی ہے ایسے لوگ اللہ کے عذاب سے کیسے بچے رہتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ محض اللہ کا حلم، برداشت اور اس کی مہربانی ہے ورنہ ایسے لوگ کسی معافی کے مستحق نہیں ہیں۔ نعوذ باللہ ہم یہ نہیں کہتے کہ قرآن کریم نامکمل ہے اور حدیث رسول اس کو مکمل کرتی ہے۔ بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن کریم ایک کامل ترین کتاب ہے اس کو اور اس کے نور کو کوئی چیز مکمل نہیں کرتی۔ لیکن احادیث رسول قرآن کریم کے نور کو کھولنے والی اور اللہ کی مراد کی وضاحت کرنے والی ہیں۔
اگر احادیث رسول ﷺ کو نظر انداز کر کے کوئی تشریح کی جائے گی تو وہ اس تشریح کرنے والے کی اپنی ذاتی رائے ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ کی مراد اور منشا ہرگز نہیں ہو سکتی۔ جس طرح کسی آیت کی تشریح رسول ﷺ نے فرما دی ہے وہی تشریح ایک سچائی ہے اس پر ہمارا ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حدیث رسول ﷺ کی عظمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
5) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑنے والے ہیں ان پر عذاب کی چار شکلیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
٭… اللہ ایسے لوگوں کو زمین میں دھنسا دے۔ زمین پھٹ جائے اور یہ اس میں سما جائیں۔ جس طرح قارون کو اس کی تمام دولت کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا گیا تھا اور زمین نے اس کو اور اس کے خزانوں کو نگل لیا تھا۔
٭… اچانک کوئی عذاب یا آفت آجائے۔ آسمان سے آگ، پتھر یا اولے برسنے لگیں تیز آندھی یا شدید بارش سے سرکش ہلاک کردیئے جائیں۔
٭… جب یہ لوگ اپنے کاروبار زندگی میں لگے ہوئے ہوں، بازاروں میں چل پھر رہے ہوں اور ان پر اچانک عذاب آجائے۔
٭… یہ بھی عذاب ہے کہ مرنے سے پہلے ان پر ایسی بےچینی، بےسکونی اور ویرانی طاری ہوجائے، قحط سالی، وبا، بیماریاں اور دشمن کا غلبہ ہوجائے کہ اس سے وہ ہلاک ہوجائیں۔ بہرحال اللہ کا عذاب آنے کی کوئی ایک شکل نہیں ہے بلکہ وہ جب اور جہاں اور جیسے چاہے نافرمانوں پر عذاب نازل کرسکتا ہے۔ لیکن وہ رؤف و رحیم ہے اس لئے ان کو مہلت اور ڈھیل دیئے ہوئے ہے جس سے ان کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔
6) اللہ تعالیٰ کسی کی عبادت و بندگی کا محتاج نہیں ہے کیونکہ کائنات کی ہر چیز اس کی اطاعت میں اس کے سامنے سرنگوں ہے۔ انسان اگر عبادت و بندگی کرتا ہے تو یہ اس کی سعادت کی بات ہے۔ وہ اللہ کسی کی نیکی اور عبادت کا محتاج نہیں ہے۔ اگر دنیا کے سارے انسان اللہ کی نافرمانی کرنے لگیں یا سب مل کر اس کی عبادت و بندگی کریں اللہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، تمام جاندار اور ہر چیز کے سائے اس کو ہر وقت سجدے کرتے اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ ساری کائنات اس کے ایک اشارے کی منتظر ہے۔ جب وہ کن کہتا ہے تو وہ چیز ہوجاتی ہے۔ وہ نہ انسانوں کی کسی نیکی کا محتاج ہے اور نہ دنیاوی اسباب کا ۔
Ayahs 16:51–56لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 56
لاتتخذوا تم نہ بناؤ۔ الھین (الہ) دو معبود۔ اثنین دو ۔ واحد ایک۔ ایای مجھ سے ہی۔ رھبوا تم ڈرو۔ واصباً ہمیشہ رہنے والا۔ مابکم جو کچھ تمہارے پاس ہے۔ تجئرون تم فریاد رتے ہو تم چلاتے ہو۔ کشف کھل گیا، دور گیا۔ فریق ایک جماعت ۔ یشرکون وہ شرک کرتے ہیں، شریک کرتے ہیں۔ تمتعوا تم فائدہ حاصل کرو۔ نصیب حصہ۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ تسئلن تم پوچھے جاؤ گے۔ تفترون تم گھیرتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 56
قرآن کریم میں سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ اللہ کو ایک ماننا اور ان تمام غیر اللہ کی عبادت و بندگی سے منہ موڑنا جن کو کچھ نادانوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ۔ کفار و مشرکین کا یہ حال تھا کہ انہوں نے اپنے بہت سے دیوی دیوتا بنا رکھے تھے جن کے متعلق مختلف بتوں کی طرف مختلف طاقتوں کو منسوب کر رکھا تھا کسی بت کے متعلق ان کا یہ گمان تھا کہ یہ اولاد دیتا ہے، کوئی رزق دیتا اور کوئی بارش برساتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یہ انسانی ہاتھوں کے بنائے ہوئے بت درحقیقت خود اپنے وجود کیلئے دوسروں کے ہاتھوں کے محتاج ہیں یہ انسان کو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ کسی طرح کا نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ یہ خود اپنے کسی نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ فرمایا کہ انسان کی فطرت بھی اسی بات کو سچا مانتی اور جانتی ہے کہ مشکل کے وقت اس کو اپنے بت یاد نہیں آتے بلکہ وہ اللہ کو یاد کرتا ہے، روتا ہے، چلاتا ہے اور اسی کو پکار کر اپنی مصیبت کو دور کرنے کے لئے فریاد کرتا ہے لیکن جب اس کو اس مصیبت سے نجات مل جاتی ہے تو شکر کرنے کے بجائے وہ پھر سے شرک کرنے لگتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم توحید خاص پر زور دیتے ہوئے کفر اور شرک سے نفرت سکھاتا ہے وجہ یہ ہے کہ انسان کے اعمال، اقوال اور اخلاق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک وہ اللہ کی وحدانیت اور فکر آخرت پر نہ آجائے۔ اسی بات کو ان آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اے لوگو ! تم ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سے معبود نہ بناؤ اور ان سے ڈرنے کے بجائے صرف مجھ سے ڈرو کیونکہ اس کائنات میں زمین و آمان اور ہر چیز اس کی ملکیت ہے وہ بغیر کسی شریک کے ان سب چیزوں کا مالک ہے کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے سامنے عبادت و بندگی میں جھکا ہوا ہے۔ اب انسان کی بھی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرنے والا بن جائے۔ کیونکہ وہی ایک اللہ ہے جس نے اس کائنات کے ذرے ذرے کو ایک نعمت کے طور پر انسان کا خادم بنا دیا ہے وہی نعمت دینے والا ہے اور وہی ہر آفت سے بچانے والا ہے۔ انسان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ایک اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو پکارے اور غیر اللہ کی عبادت و بندگی میں لگا رہے۔ اور ان بتوں کے نام پر اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں کچھ حصہ مقرر کر دے جن کو وہ جانتا تک نہیں کہ انہوں نے جن کو اپنا معبود بنا رکھا ہے وہ کون ہیں۔ یہ صرف بچوں کو بہلانے والے قصے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ فرمایا کہ پتھر کے بتوں کو انسانی شکل میں تراش لیا ہے اور ان کو اپنا معبود سمجھتے ہی۔ یہ اپنے گمان کی پیروی ہے اپنے معبود کی نہیں کیونکہ جو تصویریں ان کے سامنے ہیں نہ ان کو کسی نے دیکھا اور نہ ان کا کوئی ثبوت موجود ہے۔ فرمایا کہ ہمارا دیا ہو رزق ہے کسی کو اس کا اختیار کیسے مل گیا کہ وہ اس رزق کو غیر اللہ کے لئے وقف کر دے۔ فرمایا کہ اللہ کے ہاں اس کا سوال ضرور کیا جائے گا جس کا یقینا انسان جواب نہ دے سکے گا اللہ تعالیٰ ہمیں وحدانیت کو مانتے ہوئے اس کی ہر نعمت کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Ayahs 16:57–60لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 60
یجعلون وہ بناتے ہیں۔
البنت (البنت) بیٹیاں یشتھون وہ خواشہ رکھتے ہیں، چاہتے ہیں۔ بشر خوش خبری دی گئی۔ الانثیٰ لڑکی۔ ظل گیا۔ وجھ چہرہ۔ مسودا تاریک، سیاہ۔ کظیم وہ کھولنے والا ہے، دم گھٹنے لگتا ہے۔ یتواری (تواری) وہ چھپتا پھرتا ہے۔ سوء برائی۔ ایمس کہ کیا اس کو روکے رکھے۔ ھون توہین، ذلت۔ یدس وہ دباتا ہے۔ التراب مٹی۔ الا سنو، خبردار رہو۔ یحکمون وہ فیصلہ کرتے ہیں۔ مثل السوء بری مثال، بری حالت۔ الاعلیٰ بلندو برتر
تشریح : آیت نمبر 57 تا 60
کفار و مشرکین عرب کے اس معاشرہ میں ہاں نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تھا لڑکیوں کو نہایت کم تر، حقیر اور باعث رسوائی سمجھتے تھے اور اپنے لئے لڑکوں کی تمنا رکھتے تھے اور ان کو اپنی زندگی کا سہارا سمجھتے تھے۔ بعض قبائل تو لڑکیوں کو اتنا برا سمجھتے تھے کہ ان کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالتے تھے۔ چناچہ مکہ مکرمہ میں آج بھی وہ قبرستان موجود ہے جہاں وہ کفار اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے۔ جب کسی کے گھر میں لڑکی پیدا ہوتی اور اس کی اطلاع اس کے باپ کو کی جاتی تو نفرت اور غم سے اس کی تیوریاں چڑھ جاتیں۔ غم سے نڈھال ہوجاتا اور چہرہ پر اداسی اور بےنقی چھا جاتی۔ اور وہ رنج و غم سے بےحال ہو کر یہ سوچنے لگتا کہ اب میں لوگوں کا سامنا کیسے کروں گا۔ لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا اور یہ سوچتا کہ یہ مصیبت کہاں سے گلے پڑگئی۔ اب میں اس ذلت و رسوائی کو برداشت کروں یا اس کو مٹی گاڑ دوں۔ آخر کار وہ برا فیصلہ کر کے اپنی زندہ لڑکی کو زمین میں گاڑ دیتا تھا۔ اس سنگ دلی کے بہت سے واقعات ہوتے تھے۔ اس دور پر کیا منحصر ہے آج بھی ہندوؤں کے گھر میں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو خوشی کے بجائے رونا دھونا شروع ہوجاتا ہے اور نفرت سے اس لڑکی کو اور اس کی ماں کو دیکھا جاتا ہے۔ ہماری بےعملی کا یہ عالم ہے کہ بعض مسلمانوں میں بھی لڑکی کی پیدائش پر خوشی نہیں کی جاتی بلکہ اگر ان کو مبارکباد پیش کی جائے تو وہ برا محسوس ہیں۔ لیکن سب ہی ایسے نہیں ہیں۔ الحمد اللہ صحیح عقیدہ و فکر رکھنے والے لڑکی اور لڑکی کی پیدائش کو اللہ کی نعمت سمجھتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ عرب کے معاشرہ میں لڑکی سب سے بدترین چیز سمجھی جاتی تھی۔ یہ تو دین اسلام کا فیض ہے کہ دنیا سے یہ رسم ختم ہوئی ورنہ وہ کفار تو اپنی سنگ دلی میں کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ اس جگہ یہ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ کفار و مشرکین اپنے لئے تو لڑکی کو بدترین سمجھتے ہیں اور لڑکوں کی خواہش کرتے ہیں لیکن اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں چناچہ بنو خزاعہ اور دوسرے کچھ قبائل یہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ فرمایا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ تم اپنے لئے تو بیٹوں کی خواہش کرتے ہو اور اللہ کی طرف اس چیز کی نسبت کرتے ہو جس کو تم برا سمجھتے ہو یعنی اس کے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بناتے ہو یہ کتنی خود غرضی اور بےوقوفی کی بات ہے۔ اللہ جس کے لئے ہر عمدہ سے عمدہ صفت اور مثال ہونی چاہئے تھی جس کا وہ حق دار ہے اس کے لئے بری مثالیں گھڑتے ہو اور ہر اچھی چیز کی نسبت اور صفت اپنی طرف کرنا چاہتے ہو۔ فرمایا یہ انداز خود ایک بدترین مثال ہے۔ فرمایا کہ وہ اللہ جو زبردست ہے اور تمام کائنات کا مالک ہے وہ تمہیں فوراً ہی اس گستاخی پر سزا نہیں دیتا لیکن اگر وہ سزا دینے پر آئے تو اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
Ayahs 16:61–65لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65
یواخذ وہ پکڑتا ہے۔ ماترک اس نے نہ چھوڑا (وہ نہ چھوڑے گا) یوخر وہ مہلت دیتا ہے، تاخیر کرتا ہے۔ اجل مدت، موت۔ لایستاخرون نہ پیچھے ہٹ سکیں گے۔ لایستقدمون نہ وہ آگے بڑھیں گے۔ یکرھون وہ ناپسند کرتے ہیں۔ تصف ملوث ہوتے ہیں، کہتے ہیں۔ السنۃ (لسان) زبانیں۔ مفرطون آگے بڑھا رہے ہیں۔ زین خوبصورت بنا دیا۔ احیا اس نے زندگی دی۔ یستمعون وہ سنتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 61 تا 65
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کفار و مشرکین اللہ کی شان میں گستاخی کر گزرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ اللہ ہر عیب سے پاک ہے وہ بیٹا، بیٹی کا محتاج نہیں یہ خود ان کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں اور ستم تو یہ ہے کہ اپنے لئے تو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ان کے ہاں لڑکے پیدا ہوں، لڑکیوں سے نفرت کرتے ہیں لیکن دیویوں سے لے کر فرشتوں تک اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرتے ہیں یعنی لڑکے ان کفار کے لئے اور لڑکیاں اللہ کے لئے ۔ اس بات کو گزشتہ آیات میں تفصیل سے فرما دیا گیا ۔ اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کی شان میں اتنی بڑی گستاخی کی سزا تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ اللہ فوراً ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا لیکن یہ اللہ کا لطف و کرم اور حلم و برداشت ہے کہ وہ ان کو اسی وقت اسی وقت سزا نہیں دے رہا ہے کیونکہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ کفار و مشرکین اور گناہگاروں کو ایک خاص مدت تک مہلت اور ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ توبہ کر کے اپنے اعمال و اخلاق کی اصلاح کرلیں۔ لیکن اگر وہ اس مہلت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تب اللہ کا وہ فیصلہ آجاتا ہے جس کے آنے اور واقع ہونے میں گھڑی بھر نہ دیر ہوتی ہے نہ جلدی ۔ فرمایا کہ یہ ان لوگوں کی سخت غلطی اور ناانصافی ہے کہ وہ ہر اچھی بات کو اپنے لئے خاص کرتے ہیں اور ہر بری چیز کی نسبت وہ اللہ کی طرف کرتے چلے جاتے ہیں۔ ان کو اس ذہنی گستاخانہ روش سے باز آجانا چاہئے۔ ورنہ اللہ کے فیصلہ آنے میں دیر نہیں لگی گی۔ جس طرح وہ اللہ کی شان میں گستاخی کرتے تھے اسی طرح وہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں بھی کسی گستاخی کے کرنے سے پیچھے نہیں رہتے تھے۔ کبھی آپ کا مذاق اڑاتے۔ دین کی سربلندی اور کوششوں میں رکاوٹ بنتے اور جو لوگ ایمان لے آئے تھے ان کو طرح طرح سے ستاتے تھے۔ نبی کریم ﷺ ان حالات سے سخت رنجیدہ ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! یہ کیؤ نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول اور نبی آئے ہیں ان کو اسی طرح ستایا گیا ہے۔ شیطان نے ان کا ساتھی بن کر ان کے برے عمل کو ان کی نگاہوں میں بہت خوبصورت بنا کر پیش کیا تھا جس سے ان کو یقین ہوجاتا تھا کہ وہ سیدھی راہ پر ہیں۔ یہی صورتحال آپ کے ساتھ بھی ہے کہ شیطان نے اپنے جال پھیلا رکھے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کر کے ان کو گمراہ کرتا رہتا ہے فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ اللہ کے دین کو ان تک پہنچاتے رہئے۔ ہر اصول کی وضاحت پیش کرتے رہئے کیونکہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائے گا ان کے لئے یہ قرآن ہدایت و رحمت بن جائے گا۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اللہ کا دین ان تک پہنچاتے رہئے، شیطان کی ہر چال ناکام ہو کر رہے گی اور جس طرح بارش کے پانی سے مردہ زمین میں ایک نئی زندگی پیدا ہوجاتی ہے اسی طرح یہ قرآن کریم اہل ایمان کے لئے ہدایت و رحمت بن کر ان کو ایک نئی زندگی اور اس کی بہاریں عطا فرمائے گا جو ان کی دنیا اور آخرت کو سنوار دے گا۔ فرمایا کہ جو لوگ اس قرآن کریم اور آپ کے ارشادات کو سن کر عمل کریں گے ان کے لئے یہ بڑی نشانی ہے۔
Ayahs 16:66–67لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 67
الانعام چوپائے، مویشی جانور۔ نسقیکم ہم تمہیں پلاتے ہیں، سیراب کرتے ہیں۔ بطون (لبطن) پیٹ۔ بین درمیان۔ فرث گوبر، جانور کی لید۔ دم خون۔ لبن دودھ، لسی۔ سائغ (سوغ) خوش گوار۔ شاربین پینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 66 تا 67
کتاب و سنت میں اللہ تعالیٰ کی بےانتہا صفتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان ہی میں سے یہ صفت بھی ہے کہ وہ ” حی وقیوم “ ہے یعنی وہ زندہ ہے اور ہر چیز کو تھامے ہوئے ہے۔ اس کائنات میں انسان جتنا بھی غور کرتا ہے وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس حی وقیوم ذات نے اس پورے نظام کائنات کو سنبھالا ہوا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے اپنی اس کائنات اور اس کے نظام کو چلاتا ہے۔ چاند، سورج، ستارے، فضائیں، ہوائیں، بادل، بارش، شجر و حجر، جانور اور بدلتے موسم، یہ سب اس کی قدرت کے نمونے ہیں۔
ان آیات میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ انسان نے کبھی ان مزیدار اور خوشبو دار غذاؤں اور پھلوں کی پیدائش پر غور کیا ہے کہ وہ ان چیزوں کو نعمتیں بنا کر کس طرح انسانوں کی غذا بنا دیتا ہے اور اس نے کس طرح ان کو سنبھالا ہوا ہے۔ ایک جانور ہر طرح کی غذا کھاتا ہے۔ اس کے ذریعہ وہ دودھ جیسی نعمت کو پیدا کرتا ہے۔ جاندار کے جسم میں ان غذاؤں سے خون بھی پیدا ہو رہا ہے۔ گوبر جیسی گندگی بھی پیدا ہو رہی ہے لیکن یہ اللہ کی کتنی بڑی قدرت ہے کہ وہ اس فضلے (گوبر) اور خون کے درمیان سے دودھ جیسی غذا کو پیدا کرتا ہے۔ نہ اس میں خون کی رنگت کا اثر ہوتا ہے نہ گوبر کی بدبو ہوتی ہے وہ ایک ایسی خالص غذا بنتی ہے جس کو حلق سے اتارنے میں نہ ان کے بچے کو تکلیف ہوتی ہے نہ بوڑھے اور جوان کو کوئی زحمت ہوتی ہے۔ دودھ جیسی پاکیزہ صحت مند اور مزیدار غذا پیدا کردی جاتی ہے جس سے انسان دودھ، دہی، چھاچھ کے علاوہ بہترین اور صحت مند اصلی گھی بھی حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت ہے کہ وہ بدبو دار اور گندی کھاد جو درختوں، پودوں اور کھیتوں میں ڈالی جاتی ہے اس سے انسان کو ہر طرح کا اناج، طرح طرح کے پھل، پھول، سبزہ، سبزی ملتی ہے اس کے مزے مختلف کردیئے تاکہ انسان ان غذاؤں کی یکسانیت سے اکتا نہ جائے۔ فرمایا کہ ان تمام چیزوں میں عقل و فہم رکھنے والوں کے لئے زبردست عبرت و نصیحت کے پہلو پوشیدہ ہیں۔ انسان دودھ اور اور غذائیں استعمال کرتا ہے لیکن کبھی اس محسن و منعم ذات کا شکریہ بھی ادا کیا جس نے اپنی قدرت کا ملہ سے اتنی عظیم نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ یقینا اللہ کے نیک بندے اپنے پروردگار کا احسان مانتے ہوئے اس کا شکر ادا کرتے ہیں یہی لوگ کامیاب و بامراد ہیں۔
Ayahs 16:68–70لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 70
اوحی وحی کی ، الہام کیا۔ النخل شہد کی مکھی۔ اتخذی تو بنالے۔ بیوت گھر۔ یعرشون وہ لوگ اونچا اٹھاتے ہیں۔ کلی (مونث) تو کھالے اسلکی تو چل۔ سبل (سبیل) راستے۔ ذلیل آسان کئے ہوئے، ہموار۔ شفاء شفا ہے، صحت ہے۔ یتوفی وہ موت دیتا ہے۔ یرد لوٹایا جاتا ہے۔ ارذل العمر نکمی عمر، بےفائدہ زندگی ۔ لکی لایعلم تاکہ وہ نہ جانے۔
تشریح آیت نمبر 68 تا 70
گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ انسان اگر اس کائنات کی ایک ایک چیز پر غور کرے گا تو اس کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کائنات خود بخود نہیں چل رہی ہے بلکہ اس کو چلانے والا اور اس کا انتظام کرنے والا ایک اللہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ ہر چیز میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو چیز جیسی نظر آتی ہے اس کی تاثیر اللہ کے ہاتھ میں ہے مثلاً ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سمندر جس کا پانی انتہائی کڑوا ہے اور اس کا استعمال بظاہر ناممکن ہے اس میں پلنے والی مچھلیاں بھی اپنے گوشت میں کڑواہٹ لئے ہوئے ہوں لیکن ہر شخص جانتا ہے کہ سمندر کی مچھلی کے گوشت میں پانی کی کڑواہٹ کا اثر تک نہیں ہوتا اس طرح خون اور گوبر (گندگی) کے درمیان سے اس نے دودھ کو پیدا کیا۔ لیکن دودھ میں خون کی رنگت یا گوبر کی بدبو نہیں ہوتی۔ آدمی دن رات دیکھتا ہے کہ گندگی سے بنا ہوا کھاد درختوں پودوں اور کھیتوں میں ڈالا جاتا ہے لیکن اس کھاد کا اثر اس کے اناج اور پھلوں پر نہیں پڑتا۔ فرمایا سی طرح شہد کی ایک مکھی جو بڑی زہریلی ہوتی ہے ۔ اگر کسی کے کاٹ لے تو آدمی تلملا کر رہ جاتا ہے لیکن اللہ نے اس شہد کی مکھی کو ایک خاص عقل، سمجھ اور حسن انتظام کا مادہ عطا فرمایا ہے جس سے وہ فطرت کی اس رہنمائی میں جو اللہ نے اسے عطا فرمائی ہے پھولوں، پھولوں اور پودوں کی مٹھاس کو چوس کر اپنے معدے میں ڈالتی ہے تو وہ رنگ برنگ کا ایک ایسا مفید مرکب بن جاتا ہے جس میں اللہ نے شفاء اور صحت رکھ دی ہے۔
ان آیات میں دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جس طرح ہر چیز کی تاثیر اللہ کی طرف سے ہے اسی طرح زندگی اور موت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس اللہ نے انسان کو پیدا کیا، وہی موت دیتا ہے یا کسی کسی کو اس نکمی عمر تک پہنچا دیتا ہے جہاں سب کچھ جاننے کے باوجود سب کچھ بھول جاتا ہے اور اس میں اور ایک بچے میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ یہ پوری کائنات کیا ہے ؟ اس کا نظام کیا ہے ؟ اس کو وہی جانتا ہے اور ساری قدرتیں اور طاقتیں اللہ ہی کی ہیں۔ ان آیات کی چند باتوں کی وضاحت بھی ملاحظہ کر لیجیے :
اوحی ۔ اس نے وحی کی … قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے وحی کا لفظ بہت سی جگہوں پر ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے وحی کی۔ قرآن کریم اور کتب آسمانی بھی وحی کے ذریعہ آئی ہیں۔ لیکن اس وحی میں اور جو اللہ نے کائنات کی مختلف چیزوں کی طرف وحی کی ہے اس میں کیا فرق ہے ؟ اگر غور کیا جائے تو یہ فرق بہت واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی طرف بھی وحی کی ہے اور فرشتوں کی طرف بھی۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کی طرف، حضرت موسیٰ کی والدہ کی طرف حضرت مریم کی طرف بھی وحی کی ہے۔ اس لئے وحی کیا ہے ؟ اس کو سمجھ لیا جائے، اصل میں تو خفیہ اور خاموش اشارے کو وحی کہا جاتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ جہاں بھی وحی کا لفظ آئے اس سے وہی مراد ہو جو فرشتے کے ذریعے انبیاء کو عطا کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ اپنی قدت کا اظہار فرما رہے ہیں اس لئے اس وحی کا منشا اس فطری رہنمائی کا بھی ہو سکتا ہے جو اللہ نے ہر مخلوق کی طرف میں رکھ دی ہے۔ مثلاً انسان کا اور جانور کا بچہ اس دنیا میں قدم رکھتے ہی اپنے غذا حاصل کرنے کا طریقہ جانتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ وہ کس طرح تھنوں کو منہ میں لے کر دبائے گا تو اس کی غذا دودھ اس کو حاصل ہوگی۔ یہ اس کی فطرت میں شامل ہے تو اس کو بھی وحی کہہ دیا گیا ہے لیکن درحقیقت وحی حقیقی وہی ہے جس میں اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ جو اللہ کی طرف سے اس کی وحی لانے پر مقرر ہے جس کلام کو لے کر آتا ہے اس کو وحی حقیقی کہتے ہیں اس کے علاوہ فطرت کا جو بھی خاموش اشارہ ہے اس کو ہم مجاز وحی کہہ سکتے ہیں یا اس کو الہام کا نام دے سکتے ہیں۔
النحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں۔ شہد کی یہ چھوٹی سی مکھی جس کو اللہ نے ایسی انتظامی صلاحیت دی ہے جس کی تفصیلات سے آدمی حیران ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ شہد کی مکھیوں کا ایک ایسا اعلیٰ ترین نظام ہے جس پر جتنا بھی غور و فکر کیا گیا انسان حیران رہ گیا۔ شہد کی مکھیوں میں باقاعدہ پولیس، فوج، نگران اور حکومت کرنے والی ملکہ متعین ہے۔ اس پر بہت سے حضرات نے اور مفسرین نے شہد کی مکھیوں پر جتنی بھی تحقیق کی ہے وہ بڑی حیرت انگیز ہے اور اس سے اللہ کی قدرت اور شان نمایاں ہے ۔ وہی ایک اللہ ہے جس نے اپنی مخلوق کو بنایا ہے تو ان کی ہدایت کے بھی پورے سامان فراہم کردیئے ہیں۔ یہ شہد کی مکھی اللہ کے حکم اور فطری رہنمائی میں درختوں، شاخوں اور اونچے گھروں میں اپنا چھتا تیار کرتی ہے اور ہر طرح کے پھلوں اور پھولوں سے رس نچوڑ کر ایسا شہد بناتی ہے کہ انسانی عقل حیران ہو کر رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس زہریلے جانور میں جو شہید بنایا ہے وہ انسانوں کی بہت سی بیماریوں میں شفا دیتا ہے اور اس کے زہریلے پن کا کوئی اثر شہد میں نہیں آتا بلکہ بہت سے زہروں کا علاج شہد میں رکھ دیا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ ابن عمر کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ اگر ان کے پھوڑا بھی نکل آتا تو آپ اس پر شہد کا لیپ لگا لیا کرتے تھے۔ بعض حضرات صحابہ نے ان سے اس کی وجہ معلوم کی تو آپ نے جواب میں کہا کہ تم نے قرآن کریم میں نہیں پڑھا ” فیہ شفاء للناس “ یعنی اس میں لوگوں کے لئے شفاء رکھی گئی ہے (قرطبی)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ کا یہ بھی اظہار فرمایا کہ زندگی، موت، مختصر یا طویل زندگی سب اس کے اختیار میں ہے یہاں تک کہ وہ بعض لوگوں کو اس نکمی عمر تک پہنچا دیتا ہے جہاں پہنچ کر وہ سب کچھ بھول جاتا ہے ایک بچے میں اور اس میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے اس ” ار ذل العمر “ یعنی نکمی عمر سے پناہ مانگی ہے۔ اس موقع پر ایک بات میں عرض کروں گا کہ بعض لوگ جو لمبی عمر کی دعائیں ماگنتے ہیں ان کو اس طرح دعا مانگنی چاہئے کہ اے اللہ اپنے فضل و کرم سے صحت و عافیت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرماتا کہ میں زیادہ سے زیادہ آپ کے دین کو دنیا میں پھیلا سکوں۔ اس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ طویل عمری عطا فرمائے گا تو انشاء اللہ وہ عمر پانے والا نکمی عمر تک نہ پہنچے گا۔ اس بات کو حضرت عکرمہ نے فرمایا ہے کہ قرآن پڑھنے والے کی یہ حالت نہیں ہوگی۔ بعض حضرات طویل عمری کی دعا کرتے ہیں اور کچھ بزرگ بھی طویل عمری کی دعا دیتے ہیں لیکن نامکمل دعا کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اللہ قبول کرلیتا ہے لیکن اس طرح سے کہ وہ دوسروں کے ہاتھوں کا کھلونا بن جاتا ہے۔ فرض کیجیے کہ زندگی کے آخری حصے میں اللہ نے اس کی زندگی بڑھا دی مگر اس کو فالج ہوگیا۔ کوئی حادثہ پیش آگیا اور وہ نابینا ہوگیا یا اعضا سے محروم ہوگیا تو وہ زمین پر رہتا ہے مگر دوسروں کا محتاج۔ اس لئے ہمیشہ یہ دعا کرنی چاہئے کہ اے اللہ ایمان کی سلامتی کے ساتھ جتنی بھی عمر عطا فرمائے اس میں ہم آپ کے دین کی سربلندی کے لئے کام کرتے رہیں اور کسی کے محتاج نہ ہوں۔ سوائے اللہ کی محتاجی کے۔ انشاء اللہ ایسی دعا مکمل دعا ہوگی اور اللہ عافیت کے ساتھ قبول و منظور فرمائے گا۔
Ayahs 16:71–73لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 73
فضل بڑائی دی۔ فضلوا بڑھائے گئے۔ رادی لوٹانے والے۔ ملکت ایمان داہنے کی ملکیت، غلام۔ سواء برابر۔ یجحدون وہ انکار کرتے ہیں۔ ازواج جوڑے، بیویاں۔ بنین بیٹے۔ حفدۃ پوتے۔ لایستطیعون وہ قدرت طاقت نہیں رکھتے۔
تشریح : آیت نمبر 71 تا 73
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت کاملہ اور اپنی ان نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے انسانوں کے فائدہ کیلئے عطا فرمائی ہیں۔ ان آیات میں چند اور نعمتوں کا بھی ذکر کر کے توحید کا اثبات اور باطل کے بےحقیقت ہونے کا اظہار فرمایا ہے۔
فرمایا کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے کہ اس نے اپنی حکمت اور قدرت کا ملہ سے سب کو ایک درجہ کا نہیں بنایا بلکہ کسی کو امیر کسی کو غریب کسی کو نہایت سمجھ دار اور کسی کو بیوقوف بنایا ہے۔ اگر ساری دنیا کے انسان ایک ہی جیسے رتبے اور مقام کے ہوتے تو اس کائنات کا نظام کیسے چلتا۔ اس میں اللہ نے اپنی توحید کو نہایت شان کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ اس غریبی اور امیری کے فرق میں تم اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہو کہ اللہ نے جن لوگوں کو خوب عطا فرمایا ہے وہ بہت خوش حال ہیں۔ دوسری طرف غریب، مفلس، غلام اور نوکر چاکر ہیں لیکن کوئی آقا، مالک اور صاحب حیثیت آدمی اپنا سب کچھ دے کر غریبوں کو اپنے برابر کی سطح پر لانا نہیں چاہتا۔ اپنی عزت، رتبے اور مال و دولت کے نشے میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ فرمایا کہ تم تو اپنی دولت، ملکیت اور رتبے میں کسی کو شریک کرنا پسند نہیں کرتے مگر تمہاری یہ کتنی بڑی بھول ہے کہ تم پتھر کے بےجان بتوں اور غیر اللہ کو اللہ کے برابر کرتے ہو اور اس کا شریک بناتے ہو۔ فرمایا کہ جس چیز کو تم اپنے لئے پسند نہیں کرتے اپنے اس لئے کیلئے کیسے پسند کرتے ہو جس کی عظمت کی کوئی مثال دینا بھی دشوار ہے۔ جس کی یہ ساری کائنات ہے اور اس کا ذرہ ذرہ اس کی ملکیت ہے فرمایا کہ کیا تم اللہ کی نعمتوں کا انکار کرسکتے ہو۔ اللہ نے تو تم پر یہ کرم فرمایا کہ تمہاری جنس سے تمہیں وہ بیویاں اور زندگی کی ساتھی عطا کی ہیں جو تمہارے گھر کے انتظام کو سنبھالتی ہیں جو تمہارے دکھ سکھ کی شریک، تمہارے مال و دولت اور بچوں کی نگراں ہیں جو تمہارے لئے سکون قلب اور انسیت و محبت کا ذریعہ ہیں ۔ وہ اللہ جس نے تمہیں اولاد بھی دی اور اولاد کی اولاد یعنی پوتے اور نواسے بھی عطا فرمائے جس سے تمہاری نسل چلتی ہے اور تمہارے آڑے وقت میں کام آتے ہیں۔ فرمایا کہ تمہیں تو اسی کی عبادت و بندگی کرنی چاہئے تھی اور غیر اللہ کو اس کے برابر کرنے کے بجائے توحید کا پیکر ہونا چاہئے تھا کیونکہ اللہ نے اپنی قدرت سے ہر چیز کو پیدا کیا ہے یہ پتھر کے بت اور مورتیاں جو خود اپنے وجود کے لئے تمہارے ہاتھوں کی محتاج ہیں زمین و آسمان میں نہ تو کسی کو رزق پہنچا سکتی ہیں اور نہ ان میں طاقت و قوت ہے۔
واللہ فضل بعضکم علی بعض
اللہ کی حکمت اور مشیت ہے کہ اس نے اس دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کو برابر نہیں کیا بلکہ رزق ، ملکیت ، دولت اور صلاحیتوں میں بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ کسی کو اتنا دیا کہ وہ خوب عیش و آرام سے رہتا، بستا کھاتا اور پیتا ہے وہ اپنی مرضی سے اپنی زیر ملکیت چیزوں کو استعمال کرتا ہے اور دوسروں کو بھی دیتا ہے۔ اس کے برخلاف بعض وہ لوگ ہیں جو نہایت تنگی اور عسرت کی زندگی گذارتے ہیں اور اپنے بنیادی اخراجات میں بھی تنگی ترشی سے گذارا کرتے ہیں اور کچھ لوگ وہ ہیں جو متوسط اور درمیانہ حال کے مالک ہیں۔ دنیا میں ہمیشہ سے یہی تین طبقے رہے ہیں۔ اللہ نے تو اپنی اس کائنات میں کسی کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں رکھی جو شخص بھی چاہے محنت اور اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیاوی زندگی کے ہر عیش و آرام کو اپنے اردگرد جمع کرسکتا ہے لیکن بعض لوگ وہ ہیں کہ سب کچھ محنت اور ان تھک محنت کے باوجود پوری زگندی عسرت و تنگی کی زندگی گذارت یہیں۔ بہرحال دنیا میں یہی تین طبقے رہے ہیں۔ یہ ایک فطری تقسیم ہے جو ہمیشہ سے رہی ہے۔ سرمایہ داروں کے ظلم و ستم اور جبر و تشدد کے ہاتھوں تنگ آجانے والوں میں سے کچھ لوگوں نے ایک ایسا نظام بنانے کی کوشش کی جس میں سب لوگ برابر ہوجائیں اور ان میں وسائل زندگی برابر تقسیم کئے جائیں۔ اس نظریہ میں بڑی جاذبیت تھی اور اسی (80) سال کی محنت کے بعد کمیونزم کا نظام قائم کرنے کے لئے چند مملکتیں بن گئیں مگر یہ غیر فطری تقسیم کا نظام بھی سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی طرح انسانوں کے مسائل کو حل نہ کرسکا، پہلے تو لوگ سرمایہ داروں کے غلام تھے لیکن کمیوزنزم میں لوگ ایک ایسی سلطنت کے غلام بن گئے جس میں انسانی آزادی بھی چھین لی گئی اور غیر فطری تقسیم کا نظام آخر کار چند برسوں ہی میں ناکام ہوگیا اور ہمارے زمانہ تک جو ملک ابھی تک اس شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں وہ بھی بہت جلد آزاد ہوجائیں گے۔ گزشتہ کوئی سو برسوں سے انسان نے طرح طرح کے تجربات کئے لیکن انسان کو سکون میسر نہ آسکا کیونکہ جب تک دنیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ پر آمادہ رہے گی اس وقت تک انسان کو اس کی سچی منزل نصیب نہیں ہوگی اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مکمل اطاعت و محبت پر نہیں آئے گی اور خوش نما نعروں کو زندگی سمجھے گی اس وقت تک اس کو زندگی کا حقیقی سکون حاصل نہیں ہوگا۔ ۔
افبنعمتہ اللہ یجحدون …… ترجمہ…… کیا پھر بھی وہ اللہ کی نعمت کا انکار کریں گے۔
آیت کے اس حصے میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف متوجہ فرمایا ہے کہ انسان پر اللہ کی ہزاروں نعمتیں ہیں ایک نعمت یہ فطری تقسیم بھی ہے فرمایا کہ انسان تو اس بات پر جتنا بھی غور رکے گا شکر اور احسان مندی کے جذبے سے اس کا سر تو اٹھ ہی نہیں سکتا بلکہ ان احسانات کے سامنے اس کو اپنا سر جھکانا ہی پڑے گا کیونکہ وہ اللہ اپنے بندوں کا خیر خواہ ہے۔ اس کے برخلاف شیطان انسان کو ناشکری کی راہ پر ڈالنا چاتہا ہے جو انسان کی سب سے بڑی بھول ہے۔
من انفسکم ازوجاً …… ترجمہ…… اللہ نے تمہارے لئے تم ہی میں سے تمہاری بیویوں کو بنایا۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیوی بچے ، پوتے، نواسے عطا فرمائے جن کے ذریعہ اس کی نسل چلتی ہے بہت بڑی نعمت ہیں۔ انسان کو اپنی رفیقہ حیات سے جو سکون، اطمینان اور اعتبار ملتا ہے وہ بیوی کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ پھر جب ان میاں بیوی کے ذریعہ اللہ اولاد اور پھر اولاد کی اولاد عطا فرماتا ہے۔ تو یہ اور بھی بڑی نعمت بن جاتی ہے کیونکہ انسان کے لئے یہ تصور ہی بڑا حسین ہے کہ اب آگے اس کی نسل چلتی رہے گی۔ بیوی جو ایک مرد کی محنت اور مزدوری سے اس کے گھر کا نظام چلاتی ہے اس کے مال کی حفاظت کرتی ہے۔ اس کو اس کے خاندان میں عزت کا مقام دلواتی ہے۔ اس کے بچوں کی تعلیم و تربیت اور نگہداشت کرتی ہے اور اس مرد کے لئے قلبی اور جذباتی انس، سکون اور محبت کا ذریعہ بنتی ہے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جو لوگ زندگی کی اس ذمہ داری سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بڑے ہی بدنصیب ہیں۔ ہم نے ترقی یافتہ ملکوں میں دیکھا ہے کہ اکثر لوگ زندگی کی اس ذمہ داری سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں کسی ایک عورت کے ساتھ کچھ وقت گذارتے اور اولاد کی ذمہ داریوں سے دور رہنے کے لئے ایسے مصنوعی طریقے اختیار کرتے ہیں جس سے ان کے ہاں اولاد نہ ہو۔ ہزاروں لاکھوں انسان ایسے ہیں جو اسی عیاشی میں اپنی زندگی گذارتے ہیں اور بےنام و نشان اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ جب یہ صورتحال سامنے آتی ہے تو قرآن کریم میں بتائی گئی اس نعمت حقیقی کا اندازہ ہوتا ہے کہ بیوی، بچے پوتے، نواسے یعنی ایک خاندانی زندگی کتنی بڑی نعمت ہے۔
رزقکم من الطیبت … ترجمہ… اور اس نے تمہیں بہت پاکیزہ رزق عطا کیا ہے۔
اصل میں رزق طیب یعنی رزق حلال بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے جس میں سات گنا زیادہ برکت ہے اس کے برخلاف رزق حرام میں ہزاروں نحوستیں ہیں۔ اس آیت کے حصے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو محنت کی صلاحیت دی ہے اور رزق حلال کے ہزاروں راستے کھول دیئے ہیں اب یہ انسان کی بھول ہے کہ وہ اپنی جلد بازی میں اور فوری نتیجہ حاصل کر کے چکر میں اپنی حلال روزی کو اپنے لئے حرام بنا لیتا ہے اور اس طرح وہ باطل اور جھوٹ کو اپنی زندگی کی کامیابی سمجھ کر اللہ کی اس نعمت کو اپنے لئے حرام بنا لیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تمام نعمتیں تمہارے پروردگار نے تمہیں بخشی ہیں۔ ان نعمتوں کے بخشنے میں ان بےجان پتھروں کو کوئی دخل نہیں ہے جنہیں تم نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ نہ ان میں اس کی طاقت ہے نہ قوت ہے لیکن ایک انسان اپنے حقیقی اللہ کو بھول کر بےجان پتھروں کو اس کا شریک معبود بنا لیتا ہے تو یقینا وہ بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔
Ayahs 16:74–76لغات القرآن آیت نمبر 74 تا 76
لاتضربوا تم نہ مارو، تم نہ گھڑو۔ ضرب بیان کیا۔ عبد غلام۔ مملوک کسی کی ملکیت۔ لایقدر قدرت نہیں رکھتا۔ ینفق وہ خرچ کرتا ہے۔ سر چھپ کر۔ جھر کھل کر۔ ھل یستون کیا وہ دونوں برابر ہیں۔ رجلین دو آدمی۔ ابکم گونگا۔ لایقدر قدرت نہیں رکھتا، اختیار نہیں رکھتا۔ کل بوجھ۔ مولیٰ مالک، آقا۔ اینما جہاں بھی۔ یوجھہ اس کو بھیجا جاتا ہے۔ لایات نہیں لاتا۔ بخیر بھلائی سے۔ یامر حکم کرتا ہے۔ العدل انصاف
تشریح : آیت نمبر 74 تا 76
اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اے لوگو ! تم ایک اللہ کو چھوڑ کر ان غیر اللہ کی عبادت و بندگی نہ کرو جو آسمان و زمین میں نہ تو کچھ پیدا کرتے ہیں نہ وہ رزق پہنچاتے ہیں اور نہ ان میں اس کی طاقت و استطاعت ہے۔ وہ ایک اللہ ہے جو اس ساری کائنات کے نظام کو چلانے والا ہوے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ دنیاوی حکمرانوں اور افسروں کی طرح نہیں ہے جن کو اپنا کام چلانے کے لئے بہت سے مددگاروں کی ضرورت پڑتی ہے بلکہ وہ ایسا حاکم مطلق ہے کہ جس چیز کو کرنا چاہتا ہے اس میں وہ اسباب کا محتاج نہیں ہے۔ چیز کے موجود ہونے کا حکم دیتا ہے اور وہ چیز موجود ہوجاتی ہے۔ ایسی ذات کو دنیاوی مثالوں سے سمجھنا سمجھانا سب سے مشکل اور ناممکن ہے۔ چونکہ اللہ کو کسی نے دیکھا نہیں لہٰذا اس کی قدرت، شان اور ذات عظیم کے لئے اپنے تصور اور گمان کے مطابق تصوراتی شکل بناتا ہے تو یہ اس کا اپنا خیال ہے۔ اگر وہ اس خیالی تصویر کی عبادت کرتا ہے اور ان سے اپنی مرادوں کے پورا ہونے کی توقع رکھتا ہے تو یہ اس کی نادانی اور اپنے خیال اور گمان کی عبادت و بندگی کہلائے گی اس لئے فرمایا کہ اے لوگو ! تم اللہ کے لئے مثالیں نہ گھڑ و اور جو کائنات میں مثالیں تمہارے سامنے موجود ہیں جن کو تم آسانی سے سمجھ سکتے ہو ان پر غور کرسکتے ہو، دیکھ سکتے ہو تو یقینا تم اس نتیجے تک پہنچ سکتے ہو کہ اللہ اپنی ذات میں یکتا ہے اور ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کی حقیقت سامنے آتی ہے جس میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے لوگو ! تم اللہ کی ذات میں غور نہ کرو بلکہ اس کی مخلوقات میں غور و فکر کرو۔ کیونکہ غور کرنے سے وہ اس فرق کو صاف اور واضح طریقہ پر سمجھ سکتا ہے کہ جب دو آدمی جو ایک ہی جنس سے مختلف صلاحیتوں کی بنا پر ایک جیسے نہیں ہو سکتے تو وہ خلاق جو ہر چیز پر ہر طرح کی قدرت و طاقت رکھتا ہے اس کے برابر وہ بندر کیسے ہو سکتا ہے جس کا اپنے وجود پر بھی پورا اختیار نہیں ہے۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے دو مثالوں سے واضح کیا ہے۔ فرمایا کہ تم اس بات میں غور کرو کہ دو شخص ہیں ایک تو وہ ہے جو کسی کا غلام ہے کوئی اس کا مالک ہے اور اس غلام کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہے دوسرا وہ شخص ہے جس کو اللہ نے خوب بہترین رزق اور اسباب عطا کئے ہیں وہ اس میں سے اپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہتا ہے کھلے عام یا خاموشی سے خرچ کرتا ہے۔ اللہ نے سوال کیا ہے کہ یہ بتاؤ ایسے دو آدمی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یقینا اس کا جواب یہی ہوگا۔ کہ ایک بےاختیار شخص ایک بااختیار کے برابر کیسے ہو سکتا ہے۔
اسی طرح دو شخص ہیں ایک تو ان میں سے بہرا گونگا ہے جو نہ تو سنتا ہے نہ اپنی بات کا اظہار کرسکتا ہے کسی چیز پر اس کا کوئی اختیار بھی نہیں ہے۔ کسی کام کا نہیں اس کا مالک اس کو جو کام بھی سپرد کرتا ہے وہ اس کو ٹھیک سے کر نہیں سکتا۔ دوسرا شخص وہ ہے جو عدل و انصاف کرنے کا خوگر ہے اور وہ راہ مستقیم پر ہے۔ اللہ نے سوال فرمایا ہے کہ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ فرمایا کہ اگر عام زندگی کی اس مثال کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے تو کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ اگر یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے جو ایک ہی جنس سے ہیں تو پھر یہ کیسی بےانصافی ، جہالت اور نادانی کی بات ہے کہ ان اندھے بہرے، گونگے بےاختیار پتھروں کے وہ بت جو کسی کے نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں ان کو اس اللہ کے برابر سمجھا جائے جو ساری دنیا کو عدل و انصاف عطا فرماتا ہے جو کالم اختیار رکھتا ہے اپنے اختیار میں کسی کا محتاج نہیں ہے وہ اپنے اختیار سے جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے اس کو ان بےبس اور عاجز معبودوں کے برابر سمجھنا انسان کی سب سے بڑی غلطی ہے۔